تم کرتی ہی کیا ہو گھر میں

بنت واحد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏جون 9, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    [​IMG]


    السلام علیکم

    ایک عورت سے کسی نے پوچھا: آپ گھر میں ہوتی ( ہاؤس وائف) ہیں یاکوئی نوکری کرتی( ورکنگ لیڈی) ہیں
    اس عورت نے جواب دیا: میں سارے وقت کے لئے ورکنگ ہاؤس وائف ہوں
    میں 24 گھنٹے کام کرتی ہوں،ایک ماں، ایک بیوی، ایک بیٹی، ایک بہن اور ایک بہو کے طور پر۔
    میں ایک وقت میں آلارم کلاک ، آیا ، استانی ،باورچن،نرس، درزن ، اکاؤنٹینٹ، وارڈن، تسلی دینے والی اور آرام پہنچانے والی ہوں
    مجھے چھٹیاں نہیں ملتیں چاہے میں بیمار ہوں یا نہیں
    میں دن رات کام کرتی ہوں
    میں ایک آواز پر سب کی پہنچ میں ہوتی ہوں
    پھر بھی یہ جملہ سننے کو ملتا ہے تم کرتی ہی کیا ہو گھر میں

    ایسا جملہ بہت سے بھائی اور شوہر بولتے ہیں جب ان کو ان کی مطلوبہ چیز ان کے ہاتھ میں وقت پر نا دی جائے ایسا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔؟
    کیوں تھوڑی سی دیر ہونے پر سارے کاموں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے؟
    کیوں گھر میں ایک ماں، ایک بیوی، ایک بیٹی، ایک بہن اور ایک بہو کو اس جملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

    [​IMG]
     
  2. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    میرے اندر چُھپا ایک سوال، ایک آنسو،، آپ نے بیان کردیا سوئیٹی سسٹر!!
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعليكم السلام
    بہت عمدہ سوال!
    :00024:


    ايك اور جملہ بھى تو سننے كو ملتا ہے : " جب ديكھو بيمار ، تم كبھی ٹھيک بھی ہوئى ہو ؟ " ۔ :00024: اس جملے سے بچنے كے ليے انسان بخار ميں بھی كام كرتا رہتا ہے۔
     
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    لیکن میرے میاں تو کہتے ھیں بچوں سے ماں سارا دن کم کر دی ریندی اے کجھ توسی وی کر لےآ کرو -میرے خیال میں تو صحیع گھریلو عورت کبھی بلاوجہ کام میں سستی نہیں کرتی اگرطبیعت زیادہ ھی خراب ھوتو آرام کرتی ھے اس لیے طبیعت خرابی پر گھر والوں کو اس کے جذبات کاخیال رکھنا چاھیےآخر وہ بھی انسان ھےاور حق رکھتی ھے کہ اس کی خدمت کی جائے ۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    برادران سے معذرت ، ميں سمجھی تھی يہ خواتين كا كارنر ہے۔
     
  6. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    :00013::00039:
     
  7. حجاب

    حجاب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2010
    پیغامات:
    666
    بہت خوب سوئیٹی
    جب ایسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں نا تو دل کرتا ہے کہ بسسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بس سے آگے ؟
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    :00002:
     
  10. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    بس سے آگے دو ہی صورتیں ہیں :00010: اور :00008:
     
  11. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    اپنی والدہ کے اس فقرے کے خلوص کو میں نے تب محسوس کیا جب مجھےیہ فقرہ بولنے کی ضرورت پیش آئی ایک ماں اپنی بیٹی کو ھر کام میں ماھر دیکھنا چاھتی ھے تا کہ کوئی اور باتیں نہ سنائے ۔کسی اور کے تو نہیں ماں کےاس فقرے کی قدر کیجیے۔
     
  12. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    ہمم ٹھیک کہا۔۔ مگر ہم اس وقت نہیں سوچتے یہ۔
     
  13. مریم

    مریم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2012
    پیغامات:
    844
    تم۔۔۔۔۔۔۔؟

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛
    گھر میں روز لڑائی ھوتی تھی۔۔۔"تم کرتی ھی کیا ھو؟"کا نعرہ روز گھر کی دیواروں سے ٹکراتا اور خاموشی کو تسلیم جرم سمجھ لیا جاتا۔
    ایک دن صاحب دفتر سے واپس آئے،گھر میں داخل ھوئے۔۔۔گھر بکھرا پایا۔۔۔بچوں کو گندے حلیوں میں دیکھا۔۔۔کسی کا منہ تک دھلا نہ تھا۔۔چھوٹا بچہ فیڈر کے لیے رو رہا تھا۔۔نہایت حیران ھو کر کچن میں جھانکا ۔۔۔سنک ناشتے کے برتنوں سے بھرا ھوا تھا۔۔۔شلفوں پر سامان کا ڈھیر تھا۔۔اور چولہے خالی۔۔۔کمرے میں داخل ھوئے تو اہلیہ کو ناول پڑنے میں مشغول پایا۔۔۔غصے کی لہر جسم میں دوڑ گئی"کیا ھے یہ سب کچھ؟"
    اہلیہ نے اطمینان سے سر اٹھایا اور بولی"وہی کچھ جو میں کرتی نھیں۔۔۔"
     
  14. مریم

    مریم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2012
    پیغامات:
    844
    جزاک اللہ خیرا میں نے اسی لیے متفرقات میں تھریڈ لگایا تھا تا کہ سب حصہ لے سکیں۔۔۔بہرحال اب یہاں سہی!
    میں نے تو تھریڈ کو ایک اور طرف لیکر جانا تھا جو شائد یہاں ممکن نھیں۔۔۔اب؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 31, 2013
  15. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    میرے شوہر نے مجھے کبھی نہیں کہا کہ" تم کرتی ہی کیا ہو گھر میں"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    691
    ویسے ہمارے سرتاج جی نے بھی کبھی ہمیں یہ الفاظ نہیں کہے ، نہ کبھی کام کا زیادہ بوجھ ڈالا کہ یہ بھی کیا کرو وہ بھی کیا کرو ، وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اُتنا کام کرو جتنا صحت اجازت دیتی ہے
     
  17. mahs

    mahs --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2012
    پیغامات:
    332
    کیسا دکھ دیتا ہے یہ سوال، تم کرتی کیا ہو سارا دن؟؟؟

    ایک بات بتا دوں‌یہاں‌پر کہ بنت واحد کا مضون آیا ہے لیکن وہ مختلف ہے اس سے

    خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔
    تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔
    کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔
    گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔
    گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،
    مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔
    کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔
    ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔
    کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔
    فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔
    ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو،

    سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔
    دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔

    اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟

    خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟
    بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟
    خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔
    بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔

    ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔
    زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔
    ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہم یز کا کام دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نہ دیکھیئے۔
     
  18. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    691
    ایک اور انٹری
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں