قبروں کی زیارت کا مفصد

ateequr rahman نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 16, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ateequr rahman

    ateequr rahman -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 23, 2007
    پیغامات:
    53
    آخرت کی یاد، دلوں میں رقت پیدا کرنا، مردوں کے لئے دعائے مغفرت و رحمت کرنا، عبرت حاصل کرنا، فوت ہونے والے سے احسان کرنا، تاکہ زندہ اسکو لمبا عرصہ چھوڑ کر بھول نہ جائیں، اور زیارت کرنے والے کا سنت کے مطابق دُعا کر کے اپنے ساتھ نیکی کرنا ہے،

    عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا منع ہے اسکی دلیل امام ترمزی کی سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
     
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    ویسے اس میں ایک بات ہے .... کہ پہلے منع کیا تھا بعد میں اجازت دی گئ ....
    اگر پردے کا اہتمام ہو اور شرکیات اور بدعات کا احتمال نہ ہو تو مردے کے لیے دعا اور اس کی قبر سے نصیحت اور موت کیا یاد تازہ کرنے کے لیے جواز ہے .
    واللہ اعلم باالصواب.
     
  3. ateequr rahman

    ateequr rahman -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 23, 2007
    پیغامات:
    53
    آفریدی بھائی نے لکھا “کہ پہلے منع کیا تھا بعد میں اجازت دی گئ“ اگر وہ اسکی دلیل دے دیں تو ہم موصوف کے ممنون و مشکور رہیں گے ویسے میں نے بطور دلیل امام ترمزی کی سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ وہ حدیث پیش کی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
    اور اس لئے بھی کے عورتوں میں رقتِ قلب اور جزع فزع بکثرت ہوتی ہے اور وہ مصیبت کی متحمل بہت کم ہوتی ہیں ، اگر پتہ چلے کہ وہ حرام کام کی مرتکب ہوں گی تو ان کے لے قبروں کی زیارت حرام ہو جائے گی- اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ان پر لعنت اسی حال پر محمول ہوگی واللہ اعلم
    البتہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دلیل پر عمل کرے، اور دلیل کے مخالف قول پر نہ چلے۔
     
  4. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    باب قبروں زیارت کا
    (صفحہ نمبر343،جلد 2 صحیح بخاری)

    (1283) ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا،کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا،ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہچان نہ سکی تھی۔پھر جب لوگوں نے اسے بتایاکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تھے، تو اب وہ (گھبرا کر)آنحضورصلی اللہ علیہ و سلم کے دروازہ پر پہنچی۔وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔پھر اس نے کہاکہ میں‌آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہچان نہیں‌سکی تھی۔(معاف فرمائے)تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ صبر توجب صدمہ شروع ہو اسوقت کرنا چایئے ہے۔(اب کیا ہوتا ہے)

    تشریح:مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ “میں‌نے تمھیں‌قبر کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ،لیکن اب کر سکتے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں‌ممانعت تھی اور پھر بعد میں اسکی اجازت مل گئ۔“دیگر احادیث میں بھی یہی ہے کہ قبروں پر جایا کرو کہ اس سے موت یاد آتی ہے یعنی اس سے آدمی کے دل میں‌رقعت پیدا ہوتی ہے۔ایک حدیث میں‌ ہے کہ “اللہ نے ان عورتوں ہر لعنت کی ہے جو قبروں کی بہت زیارت کرتی ہیں۔“اس کی شرح میں‌قرطبی نے کہا کہ یہ لعنت ان عورتوں پر ہے جو رات دن قبروں ہی میں‌پھرتی رہیں اور خاوندوں‌کے کاموں‌کا خیال نہ رکھیں، نہ یہ کہ مطلق زیارت عورتوں‌کو منع ہے۔کیونکہ موت کو یاد کرنے میں‌مرد وعورت دونوں‌برابر ہیں۔لیکن عورتیں اگر قبرستان میں‌جاکر جزع فزع کریں اور خلاف شرع امور کی مرتکب ہوں‌تو پھر ان کے لیے قبروں‌کی زیارت جائز نہ ہوگی۔

    علامہ عینی حنفی فرماتے ہیں : یعنی حالات موجودہ میں عورتوں کے لیے زیارت قبور مکروہ بلکہ حرام ہے خاص طور پر مصری عورتوں کے لیے۔یہ علامہ نے اپنے حالات کے مطابق کہا ہے ورنہ آجکل ہر جگہ عورتوں کا یہی حال ہے۔

    مولانا وحید الزمان صاحب مرحوم فرماتے ہیں۔امام بخاری نے صاف نہیں‌بیان کیا کہ قبروں کی زیارت جائز ہے یا نہیں۔۔کیونکہ اسمیں اختلاف ہے اور جن حدیثوں میں‌زیارت کی اجازت آئی ہے وہ ان کی شرط پر نہ تھیں، مسلم نے مرفوعاً نکالا “ میں‌نے تم کو قبروں‌کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارت کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔“ (وحیدی)

    حضرت امام بخاری نے جو حدیث یہاں‌نقل فرمائی ہے اس سے قبروں کی زیارت یوں ثابت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عورت کو وہاں رونے سے منع فرمایا ۔مطلق زیارت سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی تعرض نہیں‌فرمایا۔اسی سے قبروں کی زیارت ثابت ہوئی۔مگر آج کل اکثر لوگ قبرستان میں‌جا کر مردوں کو وسیلہ تلاش کرتے ہیں اور بزرگوں سے حاجت طلب کرتے ہیں۔ان کی قبروں پر چادر چڑھاتے ہیں پھول ڈالتے ہیں وہاں جھاڑو بتی کا انتظام کرتے اور فرش فروش بچھاتے ہیں۔شریعت میں‌یہ جملہ امور ناجائز ہیں۔بلکہ ایسی زیارات قطعا حرام ہیں جن سے اللہ کی حدود کو توڑا جائے اور وہاں خلاف شریعت کام کیے جایئں۔

    میرا مقصد بحث کو بڑھانا نہیں‌ہے بلکہ یہ حدیث ہے صحیح‌بخاری سے۔جسمیں عورتوں‌اور مردوں‌دونوں‌کو قبر کی زیارت کی اجازت ہے لیکن جو امور ممنوعہ ہیں‌انکا بیان بھی ہے۔
     
  5. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    جزا ک اللہ خیرا . دلکش باجی.
     
  6. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    ماشااللہ جزاک اللہ خیر۔
     
  7. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    جزاک اللہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں