پاکستانیوں کا ایک اور کارنامہ

منہج سلف نے 'خبریں' میں ‏جولائی 24, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم!
    یوں تو ہمارے پاکستانی بھائی بیرون ملک (برطانیا) میں دھوکہ، جھوٹ، جرائم ، سیکس اسکینڈل، سٹے بازی اور دھشتگردی میں ملوث ہیں۔ اب جعلی
    پاسپورٹ بنا کر لوگوں کو اولمپک گیمز میں بھی بھیجنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اس بارے میں اصل اخبار کی خبر اور وڈیو ریکارڈنگ بھی دیکھیے۔

    Olympic ‘terror visas’ racket

    اللہ ایسے لوگوں کے شر و فتنہ سے امت مسلمہ اور پوری انسانیت کو محفوظ فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    السلام علیکم
    بھائی ! پاکستانی تو مفت میں ہی بدنام ہیں ۔ دراصل ان بے چاروں کو '' کارنامے '' سرانجام دینا ہی نہیں آتا ۔ بس اپنوں پرشیر ہیں اور دوسروں کے سامنے ۔ ۔ ۔ بیروں ملک دھوکہ، جھوٹ، جرائم ، سیکس اسکینڈل، سٹے بازی اور دھشتگردی کے کارنامے سرانجام دینے کے لیے وہیں کہ لوگوں کو خریدا جاتا ہے ۔ یا پھر کسی پڑوسی ملک میں جاکر میں جاکر اس طرح کے کارناموں کا پایہءتکمیل تک پہنچایا جائے
    جس طرح کہ ہمارے بنگالی بھائی اور ہندی بھائی ہیں ۔جب بنگالیوں کےویزے بند ہوتے ہیں تو ہندوستان سے جعلی آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا کرخلیجی ممالک میں‌پہنچ جاتے ہیں اور جب ہندوستان کے ویزے بند ہوتے ہیں بنگلہ دیش سے جعلی پاسپورٹ بنوا کرسعودیہ پہنچ جاتے ہیں ۔ افسوس یہ ہے کہ پاکستانیوں کو صحیح طریقے سے جعل سازی بھی نہیں آتی ۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہو گا :00003:
     
  4. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    صحیح کہ رہے ہو یار، میں آپ کی باتوں کی تائید کرتا ہوں مگر یہاں یورپ میں یہ لوگ بہت ہی بدنام ہیں، کیونکہ یہاں ان لوگوں کی اکثریت ہے اور وہ لوگ یہاں کے نیشنل ہیں تو ان کو رہا سہا بھی ڈر ختم ہوجاتا ہے اور اوپر سے یہاں کے قوانین کی نرمی کا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور قانونی پیچیدگیوں سے کھلتے ہوئے سر عام بچ جاتے ہیں مگر جب قانون کے ہاتھ ان تک پہنختے ہیں تو یہ چند لوگ پوری پاکستان اور ساری کمیونٹی کے لیے داغ بن جاتے ہیں۔
    اللہ ہم سب سمیت ان کو ہدایت نصیب فراما‏ئے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  5. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ
    اَللہُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۰ يُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۰ۥۭ (سورة آل عمران)
    اس آیت میں موجود اگلے ٹکڑے کا خود مطالعہ کر لیں اور پھر دیکھیں کہ ہمیں کس چیز نے ’’اللہ کی ولایت‘‘ سے روکا ہے؟ اور ہم مسلم ممالک میں اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر ’’جدید تہذیب و تمدن‘‘ والے ممالک میں کیونکر آئے یا آباد ہوئے؟۔ مال و دولت کے لیے؟ اسٹیٹس کے لیے؟ یا کسی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
     
  6. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    یورپ جانے کے خواہش مند ھر حد سے گزر جانے کے لیے تیار رہتے ھیں۔ یہ لوگ کسی بھی قیمت پر ویزا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے چاھے اس کے لیے پاکستان کی عزت پے حرف یا ان کے مذہب پر۔
     
  7. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    جی اسحاق بھائی!
    یہ لوگ پاکستان میں اپنا سب کچھ بیچ کر اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر یورپ جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں مگر ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟
    کیا عرب ملکوں میں خصوصی طور پر سعودی عرب میۂ لوگ صرف دین سیکھنے کے لیے آئے ہیں، نہیں میرے بھائی وہ سب لوگ اپنے معاشی مسائل کی وجہ سے اپنے ملکوں سے نکلے ہیں اور ایسے ہی یورپ بھی آئے ہیں، جن کو جس ملک تک باآسانی رسائی ملی وہ وہیں نکل گیا، بات کہیں آنے جانے کی نہیں ہے، بات ہے اپنے دین کی حفاظت اور اپنے ملک کا امیج بہتر کرنے اور صحیح مسلمان ہونے کا ثبوت دینے کی۔
    والسلام علیکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جی بھائی آپ کی بات سے میں بالکل متفق ہوں کہ طلب روزگار کے لیے گھر سے تو نکلنا ہی پڑتا ہے. بات ہو رھی ہے یورپ جا کر سیٹل ہونے کی. اس کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، کبھی سیاسی پناہ تو کبھی مذہبی پناہ. یہ شاید آپ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہوں کہ لوگ کس قسم کی مذہبی پناہ لیتے ہیں. بہر حال سبھی لوگ ایسے نہی ہیں. یورپ میں بڑھتی ہوئی مساجد اس بات کا ثبوت ہیں کہ اچھے مسلمان بھی ہیں .جن کو اپنی اقدار کا مکمل فکر ہے.
    مگر اپنی ملکی اور اسلامی اقدار سے دور ہو جانا بھی بعید از قیاس نہی ہے. اس کی مثال میں اپنے جاننے والے کی دوں گا جس کا اٹلی میں ہوٹل ہے. آفیشل  وزٹ پر وہاں جانا ہوا تو کولیگز کو لے کر اس کے ھوٹل پہنچ گیا. کہ کھانا تو حلال ملے گا. اس سے جب پوچھا کہ چکن حلال ہے، ہنس کر بولا کہ چکن تو حلال ہی ہوتا ہے. پھر پوچھا کہ حلال ذبیحہ ہے، کہا کہ نہی. آپ نہ ہی کھاؤ تو بہتر ہے. ہم کسی اور ھوٹل کی تلاش میں نکل گئۓ.
    میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ایسی چیزیں شاید نارمل بنتی جا رھی ہوں. مثل ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس.
    اللہ ، اپنے ملک اور دیار غیر میں رہنے والوں سب مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرے. آمین.
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں