ظلم

بنت واحد نے 'ادبی مجلس' میں ‏اگست 13, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962

    [​IMG]

    ظلم


    [​IMG]

    ظلم کا تعلق مظلوم کے احساس سے ہے ۔ کسی ظالم کا کوئی عمل اس وقت تک ظلم نہیں کہلائے گا جب تک مظلوم اس عمل سے پریشان نہ ہو ۔ دنیا میں ہونے عوالے بیشتر مظالم ، مظلوم کی پسند کا حصہ بنا دیے جاتے ہیں ۔بعض اوقات تو مظلوم اس ظلم کو برداشت کرنا ایمان کا ھصہ سمجھ لیتا ہے ۔ ظالم کا سب سے بڑا ظلم یہی ہےکہ وہ مظلوم کو ظلم سہنے ، ظلم میں رہنے کی تعلیم دے چکا ہوتا ہے۔ امیر بادشاہ غریب رعایا کو تسلیم ، صبر اور رضا کی تعلیم دے کر اپنے مال کو محفوظ کرتا ہے۔ غریب کو صبر کی تلقین کرنےوالا خود امیر رہنا پسند کرتا ہے۔ ظلم ہوتا رہتا ہے اور کسی کو خبر تو کیا، احساس تک نہیں ہوتا، حکمران اپنے بچوں کو انگریزوں کے اسکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں اور غریب عوام کو دین کا حوالہ دے کر سمجھایا جاتا ہے کہ ان کے بچے دارالعوم میں تعلیم حاصل کریں۔ درسِ نظامی سے فارغ التحصیل ہو کر غریبوں کے بچے کسی مسجد کے امام بن کر اس حجرے میں زندگی بسر کرتے ہیں اور امیروں کے بچے افسر بن کر حکومت کرتے ہیں۔ ظلم ہوتا رہتا ہے اور کسی کو محسوس نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی دانش ور اس ظلم کی نشان دہی کرتا ہے تو اسے ملحد و زندیق کہہ کر بدنام کر دیا جاتا ہے ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ظلم سہنے والا، ظلم میں رہنے والا ، خود بھی ظالم کے ساتھ مل کر ، اس انسان کے خلاف ہو جاتا ہے ، جو اسے اس پر ہونے والے ظلم کی نشان دہی کرتا ہے۔ ظالم اپنے ظلم کو برقرار رکھنے کے لئے بڑے بڑے روپ دھارتا ہے ۔ کبھی مسیحائی کا روپ، کبھی رہنمائی کا بہروپ ، کبھی آشنائی کا انداز ، کبھی محبت کا طلسم ، کبھی تعریف کرنے والے کی شکل میں۔۔۔۔۔۔۔ ظلم بہرحال جاری رہتا ہے۔
    ( واصف علی واصف کی کتاب قطرہ قطرہ قلزم سے اقتباس)

    [​IMG]
     
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    میں نے ایک تھریڈ لگایا تھا:

     
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,613
    نائس شیرنگ
     
  4. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,580
    بہترین اقتباس
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں