تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول:: فہرست مع روابط

رفی نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏جنوری 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

    تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول

    شیخ عطیہ محمد سالم ، شیخ عبدالمحسن بن حمد العباد اور شیخ حمود بن عقلا، اساتذہ مدینہ یونیورسٹی کی مشہور تالیف!

    مترجم
    أبو عبد الرحمان محمد رفيق الطاهر

    ناشر :
    مکتبہ اسلامیہ
    © حقوق الطبعة محفوظة۔

    ذيقعده 1432؁
    قیمت : ‪150/-‬ روپے


    ۝۝۝۝۝۝۝۝۝۝
    تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول ڈاؤن لوڈنگ روابط :

    زپ فائل کا نام : TasheelUlWasoolUrduFainal.pdf
    زپ فائل سائز : 1۔۔MB1.94
    زپ فائل مواد : 1 عدد pdf فائل
    تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول -ڈاؤن لوڈ لنک
    ۝۝۝۝۝۝۝۝۝۝
    ایک اور ڈاؤن لوڈ لنک

    تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول -ڈاؤن لوڈ لنک
    ۝۝۝۝۝۝۝۝۝۝
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    [table="head"]ترتیب | محتویات| صفحہ
    1| عرض ناشر| 3
    2| عرض مترجم|4
    3| اصول فقہ کی تعریف|6
    4| مرکب اضافی ہونے کے اعتبار سے تعریف| 6
    5| لفظ " اصول " کی لغوی و اصطلاحی تعریف|6
    6| لفظ " فقہ" کی لغوی و اصطلاحی تعریف|7
    7| فقہ کی تعریف کی شرح| 7
    8| اصول فقہ کی تعریف بطور لقب|8
    9| اس تعریف کی وضاحت|8
    10| اس علم کا موضوع , فائدہ اور ماخذ|8
    11| اس علم کو حاصل کرنے کا حکم|9
    12| احکام شرعیہ| 10
    13| حکم کی تعریف| 10
    14| حکم شرعی کی اقسام| 10
    15| حکم تکلیفی اور حکم وضعی میں فرق| 10
    16| حکم تکلیفی کی اقسام|11
    17| واجب| 11
    18| واجب کی اقسام|12
    19| فاعل کے اعتبار سے|12
    20| وقت کے محدود ہونے کے اعتبار سے| 12
    21| فعل کے اعتبار سے|13
    22| مندوب| 13
    23| محظور|14
    24| مکروہ|15
    25| مباح|15
    26| حکم وضعی کی اقسام| 16
    27| سبب| 16
    28| شرط|16
    29| مانع|16
    30| صحیح اور فاسد|17
    31| رخصت اور عزیمت| 18
    32| کلام کی اقسام| 20
    33| کلام کی تعریف|20
    34| سب سے کم وہ چیز جس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے| 21
    35| کلام کی خبر اور انشاء میں تقسیم| 21
    36| خبر کی سچ اور جھوٹ میں تقسیم| 22
    37| انشاء کی تعریف| 22
    38| حقیت اور مجاز میں کلام کی تقسیم|24
    39| حقیقت| 25
    40| حقیقت لغویہ|25
    41| حقیقت عرفیہ| 25
    42| حقیقت عرفیہ عامہ|25
    43| حقیقت عرفیہ خاصہ|26
    44| حقیقت شرعیہ|26
    45| مجاز|26
    46| مجاز لغوی|27
    47| تعلق اور اسکی غرض|27
    48| تعلق کا مقصد| 27
    49| تعلق کی اقسام| 27
    50| مجاز لغوی مفرد|28
    51| مجاز لغوی مرکب|29
    52| استعارہ تمثیلیہ کی مثال|29
    53| مجاز مرکب مرسل کی مثال|29
    54| مجاز عقلی|29
    55| امر , لغوی و اصطلاحی تعریف| 30
    56| امر کے لیے استعمال ہونے والے صیغے|31
    57| امر کے صیغوں کا فائدہ دینے والے چند مزید صیغے| 31
    58| جب مطلق امر کا صیغہ بولا جائے تو اس کا کیا حکم ہوتا ہے؟| 33
    59| کسی چیز کا حکم نہ صرف اسی چیز کا حکم ہے بلکہ جس پر وہ چیز موقوف ہو ، اس کا بھی ہے۔|34
    60| امر کے صیغوں کا اپنے اصلی معنوں کے علاوہ دوسرے معانی میں استعمال| 35
    61| جس کام کا حکم دیا گیا ہو اسے بار بار کیا جائے گا یا نہیں؟|36
    62| امر مطلق کام کے فوری سرانجام دیئے جانے کا تقاضا کرتا ہے|37
    63| شریعت کے احکامات کا مکلف کون ہے اور کون نہیں ہے۔| 39
    64| نہی , لغوی و اصطلاحی تعریف| 41
    65| نہی کے صیغے| 41
    66| نہی کس چیز (حکم)کا تقاضا کرتی ہے|41
    67| ان صیغوں کا بیان جو "نہی " کا فائدہ دیتے ہیں| 42
    68| نہی کے صیغے کا حرمت کا فائدہ دیئے بغیر کلام میں وارد ہونا| 42
    69| نہی کی حالتیں| 43
    70| جس چیز سے روکا گیا ہو، نہی اس کے فاسد ہونے کا تقاضا کرتی ہے |44
    71| خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کا بیان|47
    72| عام , لغوی و اصطلاحی تعریف|48
    73| عام کے صیغے|48
    74| نکرہ کاعموم میں نص اور ظاہر ہونا| 50
    75| عام کے لفظ کی دلالت اور اس کے استعمالات| 51
    76| نبی ﷺ کے ساتھ خاص خطاب کے حکم کا عموم| 52
    77| اعتبار الفاظ کے عموم کا کیا جائے گا ، اسباب کے خصوص کا نہیں |53
    78| مفرد پر عام کا حکم لگانے سے اس عام کا عموم ختم نہیں ہوگا|54
    79| وہ الفاظ جو عام کے درجے پر ہوتے ہیں یا عام کے قائمقام ہوتے ہیں |55
    80| خاص| 56
    81| تخصیص , لغوی و اصطلاحی تعریف| 56
    82| مخَصِّصات| 57
    83| مخَصِّصَات متصلہ| 57
    84| استثناء کے ذریعے تخصیص| 58
    85| استثناء کے صحیح ہونے کی شرائط| 58
    86| جملہ ہائے معطوفہ کے بعد استثناء کا آنا| 59
    87| شرط کے ذریعے تخصیص|60
    88| صفت کے ذریعے تخصیص| 61
    89| غایت کے ذریعے تخصیص| 62
    90| بدل بعض کے ذریعے تخصیص| 63
    91| مخَصِّصَات منفصلہ| 63
    92| کتاب وسنت کی کسی نص کے ذریعے تخصیص کرنا| 63
    93| اجماع کے ذریعے تخصیص کرنا|66
    94| قیاس کے ذریعے تخصیص کرنا| 66
    95| حس کے ذریعے تخصیص کرنا| 66
    96| عقل کے ذریعے تخصیص کرنا| 67
    97| دلالت کے اعتبار سے لفظ کی اقسام |67
    98| ان اقسام کا حکم|68
    99| مجمل اور مُبَيَّن| 69
    100| مجمل , لغوی اور اصطلاحی تعریف|69
    101| اجمال کی اقسام|69
    102| مرکب میں اجمال| 69
    103| مفرد میں اجمال| 70
    104| حرف میں اجمال| 70
    105| محذوف حرف کے تعین میں اختلاف کی وجہ سے اجمال| 70
    106| مجمل میں عمل| 71
    107| ان نصوص کا بیان جو مجمل نہیں ہیں| 71
    108| مبین , لغوی و اصطلاحی تعریف| 72
    109| اس چیز کا تذکرہ جس میں بیان واقع ہوتا ہے|73
    110| قو ل کے ذریعے بیان|73
    111| فعل کے ذریعے بیان|73
    112| ترک ِ فعل کے ذریعے بیان|74
    113| بیان کے مراتب| 74
    114| بیان کوضرورتکے وقت سے مؤخر کرنا اور بوقت ضرورت واضح کرنا| 74
    115| اتنی تاخیر کرنا کہ عمل کا وقت آپہنچے| 74
    116| اتنی تاخیر کرنا کہ وقت ِ ضرورت ہی گزر جائے|75
    117| مُبَیِّن کا مبَیَّن کے مقابلے میں درجہ|75
    118| سنت کےذریعےکتاب کا بیان| 76
    119| مفہوم کے ذریعےمنطوق کا بیان| 76
    120| بیان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اسے ہر انسان جان لے| 77
    121| نسخ , لغوی واصطلاحی تعریف|78
    122| نسخ کا جائز اور واقع ہونا| 79
    123| تحریر اور حکم کا منسوخ ہوجانا| 80
    124| آیت کی تحریر کا منسوخ ہوجانا لیکن حکم باقی رہنا|80
    125| آیت کے حکم کا منسوخ ہوجانا اور تحریر باقی رہنا| 80
    126| آیت کے حکم اور تحریر دونوں کا منسوخ ہوجانا| 80
    127| بغیر کسی بدل کے نسخ| 81
    128| کسی بدل کے ساتھ نسخ| 81
    129| ہلکے حکم کے بدلےپہلے حکم کا منسوخ ہونا|81
    130| مساوی حکم کے بدلے پہلے حکم کا منسوخ ہونا| 82
    131| بھاری حکم کے بدلے پہلے حکم کا منسوخ ہونا|82
    132| کتابیا سنت کا کتاب یا سنت کے ذریعہ نسخ| 82
    133| قرآن مجید کا قرآن مجید کے ذریعہ نسخ| 82
    134| سنت کا کتاب کے ذریعہ نسخ| 83
    135| کتاب کا سنت کے ذریعہ نسخ|83
    136| سنت کا سنت کے ذریعہ نسخ|83
    137| اجماع , لغوی و اصطلاحی تعریف| 85
    138| اجماع کی مثالیں| 86
    139| اجماع کی حجیت کے دلائل|87
    140| اجماع کا زمانہ|88
    141| کیا اجماع کے منعقد ہونے کےلیے یہ شرط ہے یا نہیں کہ اجماع کرنے والوں کا زمانہ ختم ہوجائے ؟| 89
    142| اجماع کی بنیاد| 90
    143| اجماع کی اقسام|91
    144| اخبار , لغوی و اصطلاحی تعریف|93
    145| خبر کی سچ اور جھوٹ ہونے کے اعتبار سے تقسیم|93
    146| خبر کی متواتر اور آحاد میں تقسیم| 94
    147| متواتر , لغوی و اصطلاحی تعریف|94
    148| متواتر کی شروط|95
    149| خبر متواتر کی اقسام| 95
    150| متواتر لفظی| 95
    151| متواتر معنوی|95
    152| علم کی اس نوع کا بیان جس کا خبر متواتر فائدہ دیتی ہے|95
    153| آحاد|96
    154| اخبار آحاد کے ذریعے عبادت کرنا|96
    155| راویوں کی قلت اور کثرت کے اعتبار سے خبر واحد کی تقسیم|97
    156| قبول اور رد کے اعتبار سے اخبار آحاد کی اقسام|99
    157| صحیح لذاتہ , صحیح لغیرہ , حسن لذاتہ , حسن لغیرہ , ضعیف| 99
    158| مسند , مرسل| 100
    159| مرسل کی اقسام| 100
    160| صحابی کی مرسل روایت| 101
    161| تابعی کی مرسل روایت| 101
    162| غیر صحابی اور غیر تابعی کی مرسل روایت|102
    163| مرسل کا حکم| 102
    164| راوی کا خبر نقل کرتے وقت اپنے اختیار سے کام لینا|103
    165| ان معتبر شروط کا بیان جو راوی میں ہونا ضروری ہیں|103
    166| روایت کرنے کے صیغے اور الفاظ |104
    167| رسول اللہﷺ کے افعال اور آپﷺکی تقریرات|107
    168| نبی کریمﷺ کے افعال| 107
    169| نبی کریمﷺ کی تقریرات| 109
    170| قیاس , لغوی و اصطلاحی تعریف| 111
    171| قیاس کا انکار کرنے والوں پر قیاس کے اثبات کے دلائل|111
    172| قیاس کے ارکان اور ہر رکن کی تعریف|112
    173| قیاس کی شرائط| 113
    174| اصل کی شروط| 113
    175| فرع کی شروط|114
    176| اصل کے حکم کی شرائط|114
    177| پر علت کی شرائط|114
    178| قیاس کی قطعی وظنی میں یا جلی اور خفی میں تقسیم| 115
    179| قیاس قطعی یا جلی| 115
    180| قیاس ظنی یا خفی| 116
    181| علت کی تصریح ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے قیاس کی تقسیم |116
    182| قیاس علت| 116
    183| قیاس دلالت|116
    184| اصل کے معنی میں قیاس|116
    185| قیاس شبہ| 117
    186| علت میں اجتہاد ہونے کے اعتبار سے اس کی تقسیم|117
    187| تحقیق المناط|118
    188| تنقیح المناط|118
    189| تخریج المناط|119
    190| علت کے مسالک| 119
    191| دلائل کی ترتیب اور بعض کی بعض پر ترجیح|123
    192| دلائل کی ترتیب|123
    193| ترجیح , اور اسکا طریقہ|127
    194| اجتہاد اور تقلید| 129
    195| اجتہاد , لغوی واصطلاحی تعریف اور اسکا حکم| 129
    196| اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے| 130
    197| مجتہد بننے کی شرائط کا بیان| 130
    198| مجتہدین کی اقسام اور ہر قسم کے مجتہد کا مرتبہ| 131
    199| مجتہد مطلق , مجتہد مذہب اور مجتہد فتوى و ترجیح| 131
    200| ایک وقت میں ایک مجتہد ہی درستگی کو پہنچنے والا ہوتا ہے|132
    201| اجتہاد کی تقسیم|133
    202| نبی کریمﷺ کے اجتہادات|133
    203| زمانہ نبوت میں اجتہاد کا ہونا|134
    204| تقلید , لغوی و اصطلاحی تعریف| 135
    205| کس کے لیے تقلید کرنا جائز ہے اور کس کےلیے نہیں؟| 135
    206| مفتی اور مستفتی|137
    207| کتاب وسنت میں افتاء کا لفظ کسی کی طرف منسوب ہوکر آیا ہے؟ |137
    208| مقلد کس سے فتوى طلب کرے ؟|138
    209| جب کسی جگہ پر کئی مفتی ہوں تو مقلد آدمی کس سے فتوی طلب کرے؟|138
    210| مفتی اور مستفتی کے آداب| 138
    211| مفتی کے آداب| 138
    212| مستفتی کے کے آداب| 139


    [/table]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں