رخصت اور عزیمت

رفی نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏جنوری 26, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399

    رخصت اور عزیمت:​


    عزیمت: لغت میں عزیمت ’پختہ ارادے‘ کو کہتے ہیں۔

    اصطلاح میں اس حکم کو عزیمت کہتے ہیں جو کسی شرعی دلیل سے ثابت ہو اور اپنے سے معارض (مخالف) راجح دلیل سے خالی ہو۔ جیسا کہ زناکا حرام ہونا منہیات (جن سے روکا گیاہو)میں سے عزیمت ہے اور نماز کا واجب ہونا مامورات (جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو)میں سے عزیمت ہے۔

    رخصت: لغت میں نرمی اور سہولت کو کہتے ہیں، کہا جاتا ہے :شیء رخص یعنی نرم چیز

    اصطلاح میں رخصت اس حکم کو کہتےہیں جو کسی راجح معارض کی وجہ سے شرعی دلیل کے خلاف ثابت ہو۔جیسا کہ مریض کا اپنے مرض کی وجہ سے پانی کی موجودگی کے باوجودتیمم کرنا اور مجبوری کے وقت مردار کھانا (یہ رخصت ہے )۔

    تیمم شرعی دلیل کے خلاف ثابت ہے ۔شرعی دلیل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
    ﴿ يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا إذَا قُمْتُمْ إلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ ﴾ [المائدة:6]
    ترجمہ: اے ایمان والو! تم جب نماز پڑھنے کےلیے کھڑے(ہونے کا ارادہ کرو) تو اپنے چہروں کودھو لو۔

    اس کے خلاف جو راجح معارض ہے وہ اللہ رب العالمین کا یہ فرمان ہے:
    ﴿ وَإن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مِّنكُم مِّن الْغَآئِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَيَمَّمُواْ صَعِيداً طَيِّباً فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَفُوّاً غَفُوراً ﴾ [النساء:34]
    ترجمہ: اور اگر تم مریض ہو یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو یا عورتوں سے مباشرت کی ہو اور پانی نہ ملے تو پاکیزہ گردوغبار سے تیمم کرلو , یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرلو , اللہ تعالى یقینا بہت درگزر کرنیوالا اور بہت زیادہ مغفرت کرنیوالا ہے ۔

    اسی طرح مجبور آدمی کا مردار کھانا بھی شرعی دلیل کے خلاف ثابت ہے ۔ شرعی دلیل اللہ مالک الملک کا یہ فرمان گرامی ہے:
    ﴿ حُرِّمَتْ عَلَيكُمُ الْمَيتَةُ ﴾ [المائدة:3]
    ترجمہ: تم پر مردار حرام کردیا گیا ہے۔

    اس (مردار) کو کھانے کی اجازت اس کے خلاف راجح دلیل کی وجہ سے دی گئی ہے جو رب ذوالجلال والاکرام کا یہ فرمان ہے:
    ﴿ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ [المائدة:3]

    ترجمہ: تو جو بھوک کی وجہ سے مجبور ہوجائے , گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو( اس کےلیے مرداروغیرہ کھانا جائز ہے۔کیونکہ) یقینا اللہ تعالى خوب بخشنے والا اور نہایت رحم کرنیوالا ہے ۔

    ایک مجبور شخص کا مردار کھا کر اپنی ذات سے موت (ہلاکت) کی طرف لے جانی والی بھوک کو دور کرلینا ، مردار کی خباثت کی بناء پر حاصل ہونے والے نقصان کی نسبت کہیں زیادہ راجح (یعنی بہتر )ہے۔

     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں