کلام کی اقسام

رفی نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏جنوری 27, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399

    کلام کی اقسام:

    یہ بات معلوم ہے کہ کتاب وسنت ہی دین کی اصل اور اس کی بنیاد ہیں اور یہ بات بھی سب لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دونوں (کتاب وسنت) فصیح عربی زبان میں ہیں تو ان دونوں کا علم حاصل کرنا خود عربی کلام اور اس کی متعدد اقسام کی واقفیت حاصل کرلینے پر موقوف ہے۔

    کلام کی اقسام جاننے سے پہلے خود کلام کی تعریف کا جاننا زیادہ مناسب ہے کیونکہ کسی چیز کی اقسام کی معرفت خود اس کی اپنی معرفت (پہچان) کی فرع (شاخ )ہے۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    کلام کی تعریف


    کلام کی تعریف:


    کلام اطلاق دوچیزوں کے مجموعے پر ہوتا ہے:
    ۱۔ لفظ ۲۔ معنی

    جیسا کہ قرآن مجید، تمام نازل شدہ آسمانی کتابیں اور احادیث قدسیہ، یہ سب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، الفاظ اور معنی دونوں اعتبار سے۔

    یہی اہل حق کا قول ہے۔ اور بدعتیوں کے ایک گروہ نے اس (کلام)کا اطلاق دل میں موجود معنی پر کیا ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تصریحات کی بناء پر مردود ہے۔

    اگر بسا اوقات دل میں موجود معنی پر کلام کا اطلاق کیا جائے تو اس وقت اس کے ساتھ قید لگانا ضروری ہے جو اس بات پر دلالت کرے (کہ یہاں پر کلام سے مراد دل میں موجودمعنی ہے) جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
    ﴿ وَيقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلا يعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ﴾ [المجادلة:8]
    ترجمہ: اور وہ لوگ دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کی وجہ سے ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟

    تو اگر یہاں ﴿ فِي أَنفُسِهِمْ ﴾ کی قید نہ ہوتی تو اس سے زبان سے کہنا مراد لیا جاتا۔ اور کبھی کبھی لفظ کلام کا اطلاق ہر اس چیز پر کیا جاتا ہے جو مرادی معنی پر دلالت کرے (یا جس سے قائل کی مراد سمجھ میں آجائے) بقول شاعر:
    إذا كلمتني بالعيون الفواتر ۔۔۔۔۔ رددت عليها بالدموع البوادر
    ترجمہ: جب اس (محبوبہ)نے مجھ سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے کلام کی تو میں اس کو تیزی کے ساتھ بہتے ہوئے آنسوؤں سے جواب دیا۔

    نحویوں کے ہاں کلام کا اطلاق اس مرکب لفط پر ہوتا ہے جس کی ترکیب ایسی مفید ہو کہ (سامع کا)اس پر خاموشی اختیار درست ہو، جیسا کہ ” مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ “ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    سب سے کم وہ چیز (یعنی کلام)جس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے:


    سب سے کم وہ چیز (یعنی کلام)جس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے:

    ہر اس کلام سے فائدہ حاصل ہوتا ہے جو نسبت اسنادی پر مشتمل ہو اور کم ازکم یہ چیز آنے والی تراکیب میں سے ہر ایک میں پائی جاتی ہے:

    1۔ دو اسموں پر مشتمل ترکیب، جیسا کہ مبتدا اور خبر سے مل کر بننے والی ترکیب، اس کی مثال ”الله أحد، الله الصمد“ ہے۔

    2۔ ایک فعل اور ایک اسم پر مشتمل ترکیب، جیسا کہ فعل اور فاعل سے مل کر بننے والی ترکیب، اس کی مثال ”جاء الحق وزهق الباطل“ ہے۔

    3۔ ایک اسم اور ایک حرف پر مشتمل ترکیب ، جیسے ”يا الله“ ہے۔

    صحیح بات یہ ہے کہ تیسری ترکیب اصل میں دوسری ترکیب ہی ہے کیونکہ اس میں موجود حرف فعل کا قائمقام ہے ۔اسی طرح وہ اکیلا لفظ جو اپنے ضمن میں مفید کلام کا معنی لیے ہوئے ہوتا ہے ، اس سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جیسے حروف ایجاب ہیں، مثلاً نعم، بلی، اسی طرح حرف نفی ’لا‘ اور جیسا کہ فعل امر ہے، مثلاً: استقم۔

     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    کلام کی خبر اور انشاء میں تقسیم

    کلام کی خبر اور انشاء میں تقسیم:


    کلام کی دو قسمیں ہیں:
    ۱۔ خبر ۲۔ انشاء

    1۔ خبر کی تعریف:
    جس کلام میں ذاتی طور پر سچ اور جھوٹ کا احتمال ہو، اسے خبر کہتے ہیں۔

    ہمارا « سچ اور جھوٹ کا احتمال ہو » کہنا دراصل انشاء سے بچنا ہے کیونکہ اس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور ہم نے « ذاتی طور » اس لیے کہا ہے تاکہ اس تعریف میں کلام اللہ اور بدیہی امور بھی شامل رہیں۔

    کلام اللہ کی مثال:
    ﴿ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ﴾ [التكاثر:1، 2]
    ترجمہ: تمہیں کثرت کی چاہت نے غافل کردیا یہاں تک کہ تم نے قبریں دیکھ لیں۔

    بدیہی امور کی مثال: ایک ، دو کا آدھا ہوتا ہے اور کل ،جزءسے بڑا ہوتا ہے۔
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    خبر کی سچ اور جھوٹ میں تقسیم:


    خبر کی سچ اور جھوٹ میں تقسیم:​


    خبر سچ اور جھوٹ میں منقسم ہوتی ہے۔لہٰذا اگر کلام کا مضمون واقع کے مطابق ہو تو وہ خبر سچ ہوگی خواہ نفی میں ہو یا اثبات میں ۔

    نفی کی مثال: جن کا سردار نہ ہو ، ان کے جھگڑےلوگ طے نہیں کر پاتے۔

    مثبت کی مثال: لوگ کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر ہیں۔

    اور اگر کلام کا مضمون واقع کے خلاف ہو تو جھوٹ ہوتا ہے خواہ نفی میں ہو ، جیسے : نفع بخش ایجادات کا علم سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، خواہ اثبات میں ہو، جیسے: گھوڑا ہوائی جہاز سے زیادہ تیز دوڑتا ہے۔
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    انشاء کی تعریف



    انشاء کی تعریف:


    وہ کلام جس میں ذاتی طورپر سچ اور جھوٹ کا احتمال نہ ہو ، جیسے ﴿ أَقِمِ الصَّلَاةَ ﴾ [لقمان : 17] ”نماز قائم کر“ اور ﴿ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ﴾ [لقمان : 13] ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا“

    اس کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ طلبی ۲۔ غیر طلبی

    1۔ طلبی: یہ انشاء کی وہ قسم ہے جس میں مطلوب کو طلب کیا جاتا ہے اور بوقت طلب مطلوب حاصل نہیں ہوا ہوتا۔

    اس کی چند اقسام ہیں:

    1۔ امر: اس میں چیز کے پیدا کرنے کا مطالبہ ایسے صیغے کے ساتھ کیا جاتا ہے جو اس پر دلالت کرے ، جیسے : «أطع والديك» اپنے والدین کی اطاعت کر۔

    2۔ نہی: اس میں کسی فعل سے رکنے کا مطالبہ ایسے صیغے سے کیا جاتا ہے جو اس پر دلالت کرے، جیسے: «لا تقصر في واجبك» اپنے کام (ذمہ داری) میں کوتاہی نہ کر۔

    3۔ استفہام: اس میں کسی چیز کے بارے میں سمجھانا طلب کیا جاتا ہے، جیسے : «هل ذاكرت درسك؟» کیا آپ نے اپنے سبق کو دہرا لیا ہے؟

    4۔ تمنی: یہ ایسے کام کے طلب کرنے پر دلالت کرتا ہے جس کا ہونا یا تو ناممکن ہوتا ہے یا بہت مشکل، اس صیغے کے ساتھ جو اس بات پر دلالت کرے۔

    ناممکن کی مثال: ”ليت شبابًا بيع فاشتريت“ کاش کہ جوانی بکتی تو میں اسے خرید لیتا۔

    مشکل کی مثال: ”ليت المسلمين يتحدون“ کاش کہ مسلمان متحد ہوجائیں۔

    5۔ ترجی: جس میں مطلوب ممکن بھی ہو اور پسندیدہ بھی، ایسے صیغے سے طلب کیا جائے جو اس پر دلالت کرے، جیسے: «لعل شباب المسلمين يتجهون إلى النهل من معين دينهم الحنيف» ہوسکتا ہے کہ مسلمان نوجوان اپنے یکسو دین کے جاری چشمے سے سیراب ہونے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔

    6۔ عرض: مطلوب کو نرمی سے طلب کرنے کوکہتے ہیں ، جیسے آپ کا اپنے دوست سے کہنا: «ألا تزور صديقك؟!» کیا آپ اپنے دوست کی زیارت نہیں کریں گے؟

    7۔ تحضیض: جس میں مطلوب کو ابھارکر اور ترغیب دے کر طلب کیا جائے، جیسے: ﴿ أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ [التوبة:31]
    ترجمہ: تم ایسی قوم سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنے وعدوں کو توڑ دیا اور رسولﷺ کو نکالنے کا ارادہ کیا، حالانکہ شرانگیزی کی ابتداء کرنے والے بھی وہی ہیں۔

    2۔ غیرطلبی: جیسے عقود (معاملات) کے صیغے، مثلاً :بعت واشتریت وزوجت وغیرہ ، جب ان سے معاملات کو جاری کرنا مراد ہو، اسی طرح قسم کے صیغے، مثلاً: «والله لأصدقن في الحديث» اللہ کی قسم! میں سچ بولوں گا ۔ اور مدح (تعریف بیان کرنے)کے صیغے، مثلاً: «نعم الطالب المجد» مجد کتنا ہی اچھا طالب علم ہے۔ اور اسی طرح ذم (مذمت بیان کرنے )کے صیغے، مثلاً: «بئست الصفة الحسد» حسد کتنی ہی بری عادت ہے۔
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    حقیقت اور مجاز میں کلام کی تقسیم



    حقیقت اور مجاز میں کلام کی تقسیم:


    سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ حقیقت اور مجاز میں کلام کی تقسیم کے بارے میں لوگوں کی تین آراء ہیں:

    ۱۔ پہلی رائے ان لوگوں کی ہے جو کہتےہیں کہ مجاز نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی لغت عربی میں۔ گویا ان کے نزدیک حقیقت او ر مجاز کی تقسیم ہی غلط ہے۔ یہ ابو اسحاق الاسفرائینی کا مذہب ہے اور اسی کی تائید شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کتاب الایمان میں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ : ”حقیقت اور مجاز کی اصطلاح ہی نئی ہے جو پہلی تین صدیاں گزر جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے جس کے بارے میں نہ تو صحابہ نے کلام کیا ہے ، نہ نیک نیتی سے ان کی پیروی کرنے والے تابعین نے اور نہ ہی علم مشہور ائمہ جیسے امام مالک، ثوری، اوزاعی، ابوحنیفہ اور شافعی نے ,بلکہ اس کے بارے میں تو لغت اور نحو کے اماموں جیسے خلیل، سیبویہ، ابوعمرو بن العلاء اور ان جیسے دوسرے ائمہ میں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی۔“ یہاں تک کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا کہ: ”امام شافعی نے سب سے پہلے اصول فقہ کو مدون کیا ہے لیکن انہوں نے نہ تو اس طرح کی کوئی تقسیم کی ہے اور نہ ہی حقیقت اور مجاز کا لفظ استعمال کیا ہے“

    ۲۔ دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں تو مجاز نہیں ہے البتہ لغت میں موجود ہے۔ اس بات کو (شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے )کتاب الایمان میں حنابلہ میں سے ابوالحسن الجزری او ر ابن حامد، مالکیہ میں سے محمد بن خویز منداد اور ظاہریوں میں سے داؤد بن علی الظاہری اور ان کے بیٹے ابوبکر کی طرف منسوب کیا ہے۔

    ۳۔ تیسری رائے ان لوگوں کی ہے جو کہتےہیں کہ مجاز قرآن میں بھی ہے اور لغت میں بھی۔ یہ رائے حنابلہ میں سے ابویعلی، ابن عقیل ، ابوالخطاب اور ان کے علاوہ چند دوسرے لوگوں کی ہے۔ اسی رائے کو ابن قدامہ نے روضۃ الناظر میں راجح قرار دیا ہے اور اسی رائے کو امام زرکشی نے اپنی کتاب ’البرہان فی علوم القرآن ‘میں جمہور کی طرف منسوب کیا ہے۔

    کلام کی حقیقت اور مجاز میں تقسیم سے متعلقہ مختصر گفتگو آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے، ان لوگوں کی طرف سے جو اس تقسیم کو جائز سمجھتے ہیں۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں