قبول اور رد کے اعتبار سے اخبار آحاد کی اقسام

ابوعکاشہ نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏جنوری 28, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    قبول اور رد کے اعتبار سے اخبار آحاد کی اقسام:​


    یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ خبر متواتر تو قطعی طور پر مقبول ہے۔ رہی خبر واحد تو وہ صحیح بھی ہوتی ہے اور حسن بھی ہوتی ہےاور یہ دونوں اقسام ہی مقبول ہیں۔ اسی طرح خبر واحد ضعیف بھی ہوتی ہے اور یہ مردود ہوتی ہے۔ اور ایسا صحت اور تحسین کے قرائن اور رد کرنے کے اسباب کی بنیاد ہوتا ہے ؛ ان میں سے ہر ایک قاعدہ کلیہ درج ذیل ہے:

    1۔ صحیح لذاتہ: وہ خبر واحد ہے جس کی سند عادل اور ضابط راوی کے ذریعے متصل ہو جس کا ضبط کامل ہو، ، اور اس خبر واحد میں نہ تو شذوذ پایا جائے اور نہ علت۔
    اور صحیح لغیرہ: وہ خبر واحد ہے جس کے اندر صحیح لذاتہ کی شروط تھوڑی سی کم ہوں لیکن یہ کمی کثرت طرق کی بناء پر پوری ہوجائے۔

    2۔ حسن لذاتہ: وہ خبر واحد ہے جس میں صحیح لذاتہ کی شروط کچھ کم ہوں اور اس کمی کی تلافی کثرت طرق کی بناء پر نہ ہوسکے۔
    اور حسن لغیرہ: وہ خبر واحد ہے جس پر اس وقت تک توقف کیا جائے جب تک کوئی ایسا قرینہ نہ مل جائے جو اس کی قبول والی جانب کو راجح قرار دے دے۔ جیسا کہ مستور الحال کی حدیث جب اس کی طرق زیادہ ہوجائیں۔
    (مستور الحال کی روایت اپنے ہی جیسوں کے تعدد طرق کی بناء پر حسن لغیرہ نہیں بنتی کیونکہ یہ ضعف شدید ہے ۔ طاہر )

    3۔ ضعیف: وہ خبر واحد ہے جس کے اندر نہ تو صحیح کی صفات جمع ہوسکیں اور نہ حسن کی۔
    خبر واحد کو رد کرنے اسباب یا تو سند میں سقوط کی وجہ سے ہوتے ہیں یا کسی راوی میں طعن کی وجہ سے، ان سب کی تفصیل علم اصول حدیث میں موجود ہے۔
    علم اصول حدیث والے ایک راوی یا زیادہ راویوں کے گرنے کے درمیان فرق ڈالتے ہیں ، اسی طرح سند کے شروع ، درمیان یا آخر میں سقوط کے مختلف جگہ پر ہونے کی وجہ سے بھی مختلف اقسام بناتے ہیں۔

    رہے اصولی تو وہ خبر واحد کو سند کے متصل ہونے یا منقطع السند ہونے کے اعتبار سے دو قسمیں میں تقسیم کرتے ہیں:
    ۱۔ مسند
    ۲۔ مرسل

    1۔ مسند: إسناد کے باب سے اسم مفعول کا صیغہ ہے ۔ مسند کہتے ہیں ایک جسم کو دوسرے میں ملا دینا۔ پھر یہ دوسرے معانی میں استعمال ہونے لگا، جیسا کہ کہا جاتا ہے: أسند فلان الخبر إلى فلان ۔ یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اسے اس کی طرف منسوب کرے۔
    اصطلاح میں: اس خبر واحد کو کہتے ہیں جس کی سند شروع سے آخر تک متصل ہو، اس حیثیت سے کہ شروع والا راوی حدیث کو اپنے شیخ سے ایسے الفاظ سے روایت کرے جس سے یہ ظاہر ہو کہ واقعتاً ہی اس نے اپنے شیخ سے یہ روایت لی تھی، پھر اسی طرح اس کا شیخ اپنے شیخ سے اور وہ اپنے شیخ سے ، یہاں تک کہ سند صحابی سے ہوتی ہوئی رسول اللہﷺ تک پہنچ جائے۔

    2۔ مرسل: إرسال کے باب سے مفعول کا صیغہ ہے۔
    اصطلاح میں: وہ خبر واحد ہے جس کو راوی ایسے شخص سے بیان کرتا ہے جس سے اس نے یہ حدیث سنی نہیں ہوتی۔ تو اس اعتبار سے ظاہری طور پر بعض راویوں کے سقوط کی وجہ سے اس حدیث کی سند متصل نہیں ہوتی ، یہ بات برابر ہے کہ گرنے والے راوی ایک ہوں یا زیادہ اور اس بات کی بھی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ سند کے کس حصہ سے گرے ہیں۔

    یہ تعریف اہل اصول کے ہاں ہے جس میں انہوں نے محدثین کی تعریف سے اختلاف کیا ہوا ہے۔ محدثین مرسل کا نام صرف اس حدیث کو دیتے ہیں جس میں صحابی کا واسطہ چُھوٹا ہوا ہو، خواہ صرف صحابی کا واسطہ نہ ہو یا پھر اس کے ساتھ اور صحابی یا تابعی بھی گرا ہوا ہو۔ تو صحابی کی بھی مرسل روایت ہوتی ہے اور تابعی کی بھی۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں