راوی کا خبر نقل کرتے وقت اپنے اختیار سے کام لینا

ابوعکاشہ نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏جنوری 28, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    راوی کا خبر نقل کرتے وقت اپنے اختیار سے کام لینا:

    خبر نقل کرنے کی کیفیت میں راوی کی چار حالتیں ہیں:
    1۔ یہ کہ راوی انہی الفاظ کے ساتھ روایت کرے جو اس نے سنے تھے۔ روایت کرنے میں یہی حالت اصل ہے۔ اور یہ حالت سب حالتوں سے افضل ہے۔

    2۔ یہ کہ راوی سنی ہوئی خبر کا معنی روایت کردے۔ یہ حالت صرف اسی کےلیے جائز ہے جو الفاظ کے مدلولات اور مختلف معانی پر عبور رکھتا اور انہیں جانتا ہو۔

    3۔ یہ کہ راوی خبر کے بعض الفاظ حذف کردے۔ اگر محذوف کا مذکور سے کوئی تعلق ہو تو ایسا کرنا ممنوع ہے اور اگر محذوف کا مذکور سے کوئی تعلق نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بہت سے اسلاف نے اسی طریقہ کو اپنایا ہے اور وہ روایت کے جتنے حصہ سے دلیل پکڑنا چاہتے تھے ، اسی کو بیان کرتےتھے ، خصوصاً لمبی لمبی حدیثوں میں۔

    4۔ یہ کہ راوی نبی کریمﷺ سے سنی ہوئی خبر میں کچھ الفاظ کا اضافہ کردے۔ یہ بات اس وقت جائز ہے جب زیادتی حدیث کے سبب کا بیان یا اس کے معنی کی تفسیر میں ہو۔ اس زیادتی کرنے میں شرط یہ ہے کہ راوی اس اضافہ کردہ حصہ کو واضح کرکے بتلائے تاکہ سامعین یہ سمجھ لیں کہ یہ حصہ نبی کریمﷺ کا کلام نہیں ہے۔
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    ان معتبر شروط کا بیان جو راوی میں ہونا ضروری ہیں

    ان معتبر شروط کا بیان جو راوی میں ہونا ضروری ہیں:

    حدیث روایت کرنے والے راوی کےلیے چار شرطوں پرپورا اترنا ضروری ہے:


    اسلام: لہٰذا کافر کی روایت قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ دین میں تہمت زدہ ہے ، ہاں اگر اس نے کفر کی حالت میں حدیث سنی اور اسلام کی حالت میں بیان کی تو وہ قابل قبول ہوگی جیسا کہ ابوسفیان کا ہرقل کے ساتھ قصہ ہے۔

    روایت بیان کرتے وقت شریعت کا مکلف ہونا: لہٰذا بچے کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ البتہ جو کچھ اس نے چھوٹی عمر میں عقل وشعور کی حالت میں سنا اور اسے بالغ ہونے کے بعد بیان کیا تو وہ روایت قبول ہوگی۔ ایسا صحابہ کے صغار صحابہ مثلاً ابن عباس، ابن زیبر،محمود بن ربیع ، حسن ، حسین وغیرہ کی روایات قبول کرنے پر اجماع کی وجہ سے ہے ۔

    عادل ہونا: لہٰذا فاسق کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ کہا گیا کہ اس فاسق کی قبول ہوسکتی ہے جو ایک تو تاویل کرنے والا ہو اور دوسرا اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے والا نہ ہو۔

    اس کے اندر ضبط کا ہونا: چاہےوہ ضبط صدر ہو یا ضبط کتاب۔ کیونکہ جو شخص احادیث لیتے وقت ان کو اس طرح محفوظ نہ رکھ سکا کہ انہیں اسی طرح سے بیان کردے جیسا اس نے سنی تھی تو اس کی روایت پر بھی اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ فاسق نہ بھی ہو۔

    راوی کےلیے یہ شرطیں نہیں لگائی گئیں کہ وہ مرد ہو، آزاد ہو، بینا(دیکھنے والا) ہو یا فقیہ ہو۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    روایت کرنے کے صیغے اور الفاظ

    روایت کرنے کے صیغے اور الفاظ:

    نبی کریمﷺ سے روایت کرنے میں صحابی کےلیے چند الفاظ ہیں۔ قوت کے اعتبار سے ان کی ترتیب درج ذیل ہے:


    1۔ یہ کہ صحابی یوں کہے :میں نے رسول اللہﷺ سے سنا یا آپﷺ نے مجھے حدیث بیان کی یا آپﷺ مجھ سے ہم کلام ہوئے یا میں نے آپﷺ کو اس طرح کرتے دیکھا یا اس طرح مزید الفاظ۔ ان الفاظ کے استعمال میں کسی قسم کے واسطہ کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اور اس طرح کی روایت بلا اختلاف حجت ہے۔

    2۔ یہ کہ صحابی یوں کہے: اللہ کے رسولﷺ نے یوں فرمایا۔ اس میں واسطہ ہونے کا احتمال ہے ۔ ظاہراً اتصال پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔

    3۔ یہ کہ صحابی یوں کہے: اللہ کے رسولﷺ نے اس بات کا حکم دیا اور اس بات سے روکا۔ اس میں واسطہ کا احتمال ہونے کے ساتھ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ صحابی اس چیز کو امر یا نہی خیال کرلے جو امر یا نہی نہیں ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ یہ گزشتہ صورت کی طرح ہے۔ اور یقیناً کوئی بھی صحابی یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے رسولﷺ نے اس کا حکم دیا یا اس سے منع کیا،مگر سننے کے بعد ہی ایسا کرتا ہے جو حقیقتا امر یا نہی ہوتا ہے ۔

    4۔ یہ کہ صحابی یوں کہے کہ: ہمیں اس بات کا حکم دیا جاتا تھا یا ہمیں اس کام سے روکا جاتا تھا۔ اگرچہ اس میں بھی سابقہ دونوں احتمال پائے جاتے ہیں کہ اس میں حکم دینے والے اور منع کرنے والے کی تعیین نہیں ہے کہ کیا وہ نبی کریمﷺ ہیں یا ان کے علاوہ کوئی اور ہے؟ صحیح بات یہ ہے کہ اسے نبی کریمﷺ کے حکم دینے اور آپﷺ کے منع کرنے پر ہی محمول کیا جائے گا۔ صحابی کا یوں کہنا کہ: ”یہ بات سنت میں سے ہے “ بھی اسی معنی میں ہے۔

    5۔ یہ کہ صحابی یوں کہے کہ: ہم ایسا کرتے تھے یا صحابہ کرام ایسا کیا کرتے تھے ۔ تو اگر اس کی اضافت نبی کریمﷺ کے زمانے کی طرف ہوتو یہ حجت ہوگا کیونکہ اس پر آپﷺ کی سکوت لازم ہوگا اور وہ سنت تقریری بن کر سنت میں شامل ہوجائے گا۔ابو الخطاب نے کہا: صحابی کا یہ کہنا کہ وہ لوگ ایسا کیا کرتے تھے اجماع کےلیے نقل کیا گیا ہے۔

    صحابہ کے علاوہ باقی لوگوں کی روایت کے الفاظ کے بھی کچھ مراتب ہیں ، جن میں چند دوسروں سے زیادہ قوی ہیں۔ اور وہ درج ذیل ہیں:

    پہلا مرتبہ: شیخ کا اپنے شاگرد کے سامنے حدیثیں بیان کرنا تاکہ وہ انہیں اس شیخ سے روایت کرسکے۔ حدیث بیان کرنے میں یہی مرتبہ سب سے اونچا ہے اور یہی رسول اللہﷺ کا طریقہ ہے۔ شاگرد کو چاہیے کہ وہ روایت بیان کرتے وقت ان الفاظ کو استعمال کرے:
    فلاں نے مجھے حدیث بیان کی یا مجھے خبردی یا فلاں نے کہا اور میں نے اسے کہتے ہوئے سنا اور اسی جیسے دوسرے الفاظ استعمال کرے۔

    دوسرامرتبہ: شاگرد کا استاد کے سامنے حدیث پڑھنا اور استاد کا سنتے وقت ’جی ہاں‘ کہنا یاپھر خاموش رہنا۔تو اس طرح بھی شاگرد کےلیے روایت کرنا جائز ہوجائے گا۔ اس میں بعض ظاہریہ نے اختلاف کیا ہے ۔
    اس مرتبہ کی روایت بیان کرتے وقت شاگرد یہ الفاظ کہہ سکتا ہے:
    مجھے خبر دی یا مجھے حدیث بیان کی ،اس حال میں کہ وہ اس پر پڑھی جارہی تھی۔ شاگرد کےلیے «قراءة عليه»کے الفاظ کو چھوڑنا جائز ہے یا نہیں، اس بارے میں دو قول ہیں اور دونوں ہی امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہیں۔

    تیسرا مرتبہ : مناولہ ہے۔
    مناولہ یہ ہے کہ شیخ اپنے شاگرد کو اپنی اصل کتاب یا اصل کتاب سے مقابلہ کردہ نسخہ دے دے یا شاگرد اپنے شیخ کی اصل یا اصل سے مقابلہ شدہ کتاب کو دیکھ لے ۔ اور شیخ یہ کہے کہ : یہ میری فلاں سے روایت کردہ احادیث ہیں تو ان کو مجھ سے روایت کر۔
    جمہور کا مذہب اس طرح روایت کرنے کے جواز کا ہے۔
    اس مرتبہ کی روایت بیان کرتے وقت شاگرد یوں کہے گا:
    مجھےکتاب دی، یا مجھے خبر دی یا مجھے حدیث بیان کی کتاب دے کر۔ بعض اصولیوں نے «مناولة»کا لفظ ترک کردینے کی اجازت دی ہے۔

    چوتھا مرتبہ: اجازۃ ہے۔
    اوراجازۃ یہ ہے کہ شیخ اپنے شاگرد سے یوں کہے: میں تجھے فلاں کتاب روایت کرنے کی اجازت دیتا ہوں یا تیرے پاس مجھ سے سنی ہوئی جو بھی روایات ہیں، ان کے روایت کرنے کی میں تجھے اجازت دیتا ہوں۔
    جمہور کا مذہب اس بارے میں یہ ہے کہ اس طرح روایت کرنا جائز ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ اگر اس طریقہ کو باطل قرار دیا جاتا تو علم ضائع ہوجاتا۔
    بعض نے یہ کہا ہے: اس طرح روایت کرنے کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر طالب علم طلب علم کےلیے سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے۔
    اس مرتبہ کی روایت بیان کرتے وقت شاگرد یوں کہے گا: مجھے اجازت دی یا وہ کہے کہ اس نے مجھے خبر دی یا مجھے حدیث بیان کی اجازت کے طور پر۔بعض نے «إجازة»کا لفظ چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں