مجاز

رفی نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏جنوری 28, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    مجاز:


    لغت میں مجاز جواز کی جگہ کہتے ہیں یا اگر اسے مصدر میمی مان لیا جائے توصرف جواز کو کہتے ہیں۔

    اصطلاح میں اس کی دو قسمیں ہیں:
    ۱۔ لغوی ۲۔ عقلی
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    مجاز لغوی

    1- مجاز لغوی: ایسا لفظ جسے کسی قرینہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس معنی ، جس کےلیے اسے وضع کیا گیا تھا کےعلاوہ دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے ۔

    اس کی مثال : لفظ ’اسد‘ کا بہادر آدمی کےلیے استعمال ہونا ہے کیونکہ یہ اس معنی کےعلاوہ میں استعمال ہوا ہے جس کےلیے اس کو پہلی مرتبہ بنایا گیا تھا۔ دراصل اس لفظ کو چیر پھاڑ کرنے والے درندے کےلیے بنایا گیا تھا ، پھر اس کے پہلے محل سے گزار کر اس کو بہادر آدمی کےلیے استعمال کیا گیا۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    تعلق اور اس کی غرض


    تعلق اور اس کی غرض:

    مجاز میں علاقہ یعنی تعلق کی شرط اس لیے لگائی گئی ہےتاکہ اگر لفظ کو بھول کر یا غلطی سے اس معنی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے تو اس بھول یا غلطی کو مجاز کی تعریف سے نکالا جاسکے۔ مثال کے طورپر آپ کہیں کہ قلم پکڑاؤ اور اشارہ کتاب کی طرف کریں۔ اسی طرح اگر جان بوجھ کر بھی لفظ کو غیر ما وضع لہ استعمال کیا جائے اور ان دونوں معنوں میں کوئی تعلق اور مناسبت نہ ہوتو اسے بھی مجاز کی تعریف سے نکالا جاسکے۔ مثال کےطورپر آپ کہیں کہ اس کتاب کو پکڑ لو یا میں نے کتاب خریدی حالانکہ آپ کے کہنے کا مقصد سیب یا کپڑا تھا، تو یہاں نہ تو کتاب اور سیب کے درمیان کوئی مناسبت ہے اور نہ کتاب اور کپڑے کے درمیان۔
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    تعلق کا مقصد



    تعلق کا مقصد:

    اس طریقے سے ذہن کو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل کرنا تعلق کا مقصد ہے ، گویا کہ یہ ذہن کےلیے ایک پل کی مانند ہے جسے ذہن عبور کرتا ہے، مثال کے طورپر آپ کا کہنا کہ: میں نے شیر کو تیر اندازی کرتے ہوئے دیکھا۔ یہاں پر ذہن کے منتقل ہونے کا پل شجاعت ہے جو ذہن کو چیرپھاڑ کرنے والے درندے سے بہادر آدمی کی طرف لے جاتی ہے ، اور یہ شجاعت ہی ہے جو چیر پھاڑ کرنے والے درندے اور بہادر آدمی دونوں معنوں میں ربط کا کا م دے رہی ہے۔
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    تعلق کی اقسام


    تعلق کی اقسام:​

    تعلق یا تو مشابہت والا ہوتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا مثال میں بہادر آدمی شیر سے شجاعت میں مشابہ ہے کیونکہ یہ معنی دونوں میں مشترک ہے۔
    یا پھر مشابہت والا نہیں ہوتا جیسے لوگوں کا کہنا ہے کہ : امیر نے شہر میں اپنی آنکھیں پھیلا دی ہیں، یعنی اپنے جاسوس پھیلا دیئے ہیں۔
    ہر وہ مجاز جس کا تعلق مشابہت والا ہو، اسے استعارہ کہتے ہیں کیونکہ پہلے آپ نے تشبیہ دی ، پھر مشبہ بہ والے لفظ کو ادھار لے کر مشبہ پر فٹ کردیا۔

    اور ہر وہ مجاز جس کا تعلق مشابہت والا نہ ہو ، اسے مجاز مرسل کہتے ہیں، کیونکہ وہ مشابہت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔

    بغیر مشابہت والے تعلق بہت سارے ہیں کیونکہ یہ ہر قسم کی مناسبت کوشامل ہے جو دو معنوں کے درمیان ہوتی ہے اور لفظ کو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل کرنا صحیح قراردیتی ہے۔جیسے کہ کلی اور جزئی کا تعلق ہے کہ بولا تو ’کل‘ جاتا ہے لیکن مراد’ جزء ‘لیا جاتا ہے، مثال کے طور پرآپ کہیں کہ: پولیس نے چور پکڑ لیا ہے۔ یہاں پر مراد یہ ہے کہ پولیس والوں میں سے کسی ایک پولیس والے نے چور کو پکڑ لیا ہے۔ دوسری مثال یہ ہے کہ لفظ ’جزء ‘کا بولا جائے اور مراد ’کل ‘لیا جائے، جیسے کہ گزشتہ مثال میں آنکھ کا لفظ بول کر پورا انسان مرادلیا گیا تھا۔

    اسی طرح سبب اور مسبب کا تعلق ہے کہ سبب بول کر مسبب مراد لیا جاتا ہے ، مثال کے طور پر: ہم پر بادل برسے۔

    اور کبھی مسبب بول کر سبب مراد لیا جاتا ہے ،جیسے: آسمان نے بہار برسائی۔

    اسی طرح حال اور محل کا تعلق ہے کہ کبھی آپ ’حال‘ بول کر ’محل‘ مراد لیتے ہیں اور کبھی ’محل‘ بول کر ’حال‘ مراد لیتے ہیں۔
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    مجاز لغوی مفرد بھی ہوتا ہے اور مرکب بھی



    مجاز لغوی مفرد بھی ہوتا ہے اور مرکب بھی:​


    1۔ مجاز لغوی مفرد: وہ مجاز لغوی ہے جو ایک لفظ میں ہو جیسے کہ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

    2۔ مجاز لغوی مرکب: وہ مجاز لغوی ہے جو جملوں میں ہو، اگر اس میں تعلق مشابہت والا ہو تو اس کا نام استعارہ تمثیلہ رکھتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا نام مجاز مرکب مرسل رکھتے ہیں۔

    استعارہ تمثیلہ کی مثال: ایک صورت کو دوسری صورت سے تشبیہ دینا، اور مشبہ بہا صورت پر جو چیز دلالت کررہی ہو اسے نقل کرکے مشبہ کی صورت پر چسپاں کردینا، جیسے آپ کا کسی معاملہ میں متردد شخص کو کہنا: میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم ایک قدم آگے کرتے ہو اور دوسرا پیچھے کرلیتے ہو۔

    مجازمرکب مرسل کی مثال: آپ کا اس شخص سے کہنا جس نے دو بری عادتوں ،مثلاً سگریٹ پینا اور داڑھی منڈوانا کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہو: کھجوریں بھی گھٹیا اور تول بھی نکما !
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    مجاز عقلی


    2۔ مجاز عقلی: مجاز عقلی اس وقت ہوتا ہے جب الفاظ تو اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوں لیکن نسبت مجازی ہو ، جیسےآپ کا یہ قول کہ : امیر نے محل بنایا۔

    تو یہاں[بنایا]، [امیر] اور [محل] کے الفاظ اپنی حقیقت میں ہی استعمال ہوئے ہیں لیکن بنانے کی نسبت امیر کی طرف مجازی ہے کیونکہ حقیقت میں تو محل مزدوروں نے بنایا ہے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں