نہی , لغوی و اصطلاحی تعریف

رفی نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏فروری 4, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    نہی:

    تعریف: لغت میں نہی کے معنی روکنے کے ہیں ، اسی وجہ سے عقل کو "نہیۃ " کہا جاتا ہے کیونکہ یہ آدمی کو ان چیزوں سے روکتی ہے جو اس کی شان کے لائق نہ ہوں۔

    اصطلاح میں نہی کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہےکہ : حاکمانہ انداز میں کسی (شخص)سے کسی کام سے رکنے کا مطالبہ کرنا ، کف، ذر وغیرہ جیسے الفاظ کے استعمال کے علاوہ۔

    اس کی مثال رب کائنات کے یہ دو فرامین گرامی ہیں:
    ﴿ لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَينَكُم بِالْبَاطِلِ ﴾ [النساء:29]
    ترجمہ: اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔

    ﴿ يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ [الأنفال:27]
    ترجمہ: اے ایمان والو! نہ تو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے خیانت کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو اس حال میں کہ تم (اس کی سزا)جانتے ہو ۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    نہی کے صیغے


    نہی کے صیغے:​


    مضارع کا ہر وہ صیغہ جو لا ئےنہی کی وجہ سے مجزوم ہو۔ یاد رہے کہ نہی کے صیغوں میں ’کف‘، ’ذر ‘یا ’دع‘ وغیرہ شامل نہیں ہیں اگرچہ ان میں بھی فعل سے رکنے کا مطالبہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر :
    ﴿ وَذَرُوا ظَاهِرَ الإثْمِ وَبَاطِنَهُ ﴾ [الأنعام:120]
    ظاہری اور باطنی (ہر قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔
    ﴿ وَدَعْ أَذَاهُمْ ﴾ [الأحزاب:48]
    ان کی تکلیفوں کو چھوڑ دیجئے
    ﴿ فَخَلُّوا سَبِيلَهُم ﴾ [التوبة: 5]
    ان کا راستہ چھوڑ دو۔

    یہ الفاظ فعل سے رکنے کا مطالبہ اپنے اندر رکھنے کے باوجود نہی سے اس لیے خارج ہیں کہ یہ امر کے صیغے ہیں۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    نہی کس چیز (حکم)کا تقاضا کرتی ہے؟

    نہی کس چیز (حکم)کا تقاضا کرتی ہے؟​


    نہی حقیقتا ًکسی چیز کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔ فرمان رسولﷺ:
    «وما نهيتكم عنه فاجتنبوه»
    جس چیز سے میں تمہیں روک دوں ، اس سے رک جاؤ۔
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    ان صیغوں کا بیان جو "نہی " کا فائدہ دیتے ہیں


    ان صیغوں کا بیان جو "نہی " کا فائدہ دیتے ہیں:


    درج ذیل صیغ حرمت کے فائدہ دینے میں نہی کے ساتھ شامل ہیں :

    ۱۔ تحریم کے لفظ سے وضاحت ۔
    ۲۔ کام کرنے سے منع، روک اور ڈانٹ کا ہونا۔
    ۳۔ کام کرنے پر فاعل کی مذمت کرنا۔
    ۴۔ کام کرنے پر کفارے کا واجب ہونا۔
    ۵۔ ان الفاظ کا ہونا کہ ان کےلیے ایسا کرنا جائز نہیں تھا۔
    ۶۔ کام کرنے پر حد کا واجب ہونا۔
    ۷۔ لا یحل کے الفاظ کا ہونا۔
    ۸۔ کام کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ فساد ہے یا شیطان کی تزئین اور اس کےکاموں میں سے ہے۔
    ۹۔ کام کے متعلق یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بندوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔
    ۱۰۔ ان الفاظ کا ہونا کہ کام کرنے والے کو اللہ رب العزت (گناہوں سے)پاک نہیں کریں گے ، نہ ان سے کلام کریں گے اور نہ ہی اس کی طرف دیکھیں گے۔
    اسی طرح چند اور صیغے بھی ہیں۔
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    نہی کے صیغے کا حرمت کا فائدہ دیئے بغیر کلام میں وارد ہونا


    نہی کے صیغے کا حرمت کا فائدہ دیئے بغیر کلام میں وارد ہونا:​


    کبھی نہی کا صیغہ کلام میں آتا ہے لیکن کام کے حرام ہونے کا فائدہ نہیں دیتا۔ مثلاً
    ۱۔ ناپسندیدگی کے معنوں میں نہی کا صیغہ آتا ہے جیسے مشکیزہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی نہی۔
    ۲۔ جب چھوٹا بڑے کےلیے نہی کا صیغہ استعمال کرے تووہاں نہی کا صیغہ دعا کےلیے ہوتا ہے ، جیسے:
    ﴿ ربَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأنَا ﴾ [البقرة:286]
    اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کربیٹھیں تو ہماری پکڑ نہ کرنا۔
    ۳۔ کبھی یہ رہنمائی کےلیے بھی وارد ہوتا ہے ، جیسے اللہ رب العالمین کا یہ فرمان عالی شان ہے:
    ﴿ لا تَسْأََلُوا عَنْ أََشْياءَ إن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ﴾ [المائدة:101]
    کچھ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری محسوس ہوں۔

    اسی طرح نہی ان تمام معنوں کےلیے بھی استعمال ہوتی ہے جن کےلیے امر استعمال ہوتا ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ امر فعل طلب کرنے کےلیے ہوتاہے اور نہی فعل سے رکنے کو طلب کرتا ہے۔
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    نہی کی حالتیں


    نہی کی حالتیں:


    نہی کی درج ذیل چار حالتیں ہیں:

    1۔ یہ کہ نہی صرف ایک چیز کی ہو، جیسے زنا کی نہی۔ اور یہ حالت اکثر ہوتی ہے۔
    2۔ یہ کہ متعدد کو جمع کرنے کی نہی ہو۔ جس کام سے روکا گیا ہو وہ اگر بندہ علیحدہ علیحدہ کرے تو اس کےلیے جائز ہو، جیسے ایک نکاح میں دوبہنوں کو ، خالہ اور اس کی بھانجی کو یا پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو جمع کرنا۔
    3۔ یہ کہ جمع شدہ چیزوں کو علیحدہ کرنے کی نہی ہو، چاہے وہ دو ہوں یا زیادہ۔ جیسے ایک جوتی اتار کر اور دوسری پہن کر چلنا، لہٰذا جس کو روکا گیا ہے اسے چاہیے کہ یا تو دونوں جوتے پہنے یا دونوں ہی اتار دے۔
    4۔ یہ کہ متعدد چیزوں کی نہی ہو، چاہے ان کو اکٹھا کرلیا جائے یا علیحدہ ہی رکھا جائے۔جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ذیشان ہے:
    ﴿ وَلا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا ﴾ [الإنسان:24]
    اور آپﷺ ان میں سےنہ گناہگار کی بات مانیے اور نہ ہی ناشکرے (کافر) کی۔

    تو نہ تو ان دونوں کی اکٹھے اطاعت جائز ہے اور نہ ہی علیحدہ علیحدہ۔
    اور اس نہی کی مختلف حالتوں کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے:
    ” لا تأكلِ السمكَ وتشربِ اللبنَ “ دونوں فعلوں پر اگر جزم ہوتو چوتھی حالت کی مثال ہوگی۔یعنی نہ تو مچھلی اور دودھ کو اکٹھا کرکے کھانا پینا جائز ہے اور نہ ہی علیحدہ علیحدہ۔ اور اگر دوسرے فعل کو نصب دی جائے تو یہ دوسری حالت کی مثال بن جائے گی” لا تأكلِ السمك وتشربَ اللبن “ یعنی کہ آپ مچھلی اور دودھ کو اکٹھا استعمال نہیں کرسکتے ،البتہ علیحدہ علیحدہ استعمال کرسکتے ہیں۔ اور اگر دوسرے فعل کو رفع دے دیا جائے تو یہ پہلی حالت کی مثال بن جائے گی ” لا تأكلِ السمك وتشربُ اللبن “ یعنی صرف مچھلی کھانے کی ممانعت ہوگی۔
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جس چیز سے روکا گیا ہو، نہی اس کے فاسد ہونے کا تقاضا کرتی ہے


    جس چیز سے روکا گیا ہو، نہی اس کے فاسد ہونے کا تقاضا کرتی ہے:


    جن چیزوں سے روکا جاتا ہے ، ان کی دوقسمیں ہوتی ہیں:
    ۔ پہلی وہ قسم ہے کہ اس میں جن چیزوں سے روکا جاتا ہے ان کا کبھی بھی مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان عبرت نشان ہے:
    ” ﴿ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَى ﴾ [الإسراء:32] “
    زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔
    اسی طرح یہ فرمان عالی مقام:
    ” ﴿ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيئًا ﴾ [النساء:36] “
    اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔

    یہ وہ نہی ہے جو اپنی ذات کی وجہ ممنوع ہے ، یعنی فی نفسہٖ قباحت ہونے کی وجہ سے منع کیا گیا ہے۔تو یہ قطعی طور پر حرام اور لازمی طور پر باطل ہے۔ اوراس پر جو بھی مترتب ہوگا وہ بھی باطل ہو گا، جیسے ولد الزنا کہ اس کو اس کے باپ سے لاحق نہیں کیا جائے گا، اسی طرح مشرک کے اعمال کہ ان کا اس کا کو ئی ثواب نہیں ملے گا۔

    2۔ دوسری قسم وہ ہے کہ جس سے ایک اعتبارسے تو روکا گیا ہے اور دوسرے اعتبارسے اس کا حکم بھی دیا گیا ہوتا ہے ۔ اس قسم کی تین صورتیں ہیں۔
    ۱۔ جس سے کسی صفت کی وجہ سے روکا گیا ہو۔
    ۲۔ کسی ایسی چیز کی وجہ سے روکا گیا ہو جو اس کے ساتھ لازم ہو۔
    ۳۔ کسی خارجی امر کی وجہ سے جس سے روکا گیا ہو۔

    1۔ جس سے کسی صفت کی وجہ سے روکا گیا ہو:

    1۔ عبادات میں: حائضہ اور نشہ باز کا نماز پڑھنے سے ممانعت۔
    2۔ معاملات میں: بیع ملاقیح سے ممانعت مبیع کے مجہول ہونیکی وجہ سے ۔

    2۔ کسی ایسی چیز کی وجہ سے روکا گیا ہو جو اس کے ساتھ لازم ہو:

    1۔ عبادات میں: عید کے دن روزے رکھنے کی ممانعت کیونکہ اس طرح اس دن میں اللہ تعالیٰ کی مہمانی سے اعراض لازم آتا ہے ۔
    2۔ معاملات میں: کسی مسلمان غلام کو کسی کافر کے ہاتھ بیچنا جب آزادی لازم نہ آئے , کیونکہ اس طرح کافر کی مسلمان مبیع پر ولایت ثابت ہوتی ہے ۔

    3۔ کسی خارجی امر کی وجہ سے جس سے روکا گیا ہو:

    1۔ عبادات میں: غصب شدہ پانی سے وضو کرنا یا غصب شدہ زمین پر نماز پڑھنا۔

    یہاں پر ممانعت کی وجہ ایک خارجی امر ہے ، نہ کہ وضو کرنے کی ممانعت ہی ہے بلکہ یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ کسی غیر کا حق اس کی اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا یوں بغیر اجازت وضوکرکے پانی ختم کرنا یا اسے ویسے ہی گرادینا برابر ہے۔

    جس چیز سے اس کی ذات کی وجہ سے منع کیا گیا ہو اور جسے کسی خارجی امر کی وجہ سے منع کیا گیا ہو ، ان کے درمیان فرق کو واضح طور پر دیکھنے کےلیے نجس پانی اور غصب شدہ پانی پر غور فرمالیں۔

    2۔ معاملات میں: جمعہ کی نماز کے لیے اذان کے بعد خریدوفروخت کی ممانعت۔

    اس کی ممانعت کی وجہ ایک خارجی امر ہے کیونکہ تجارت کی تمام شروط تو اس میں پوری ہیں لیکن نماز کے فوت ہونے کے اندیشے کی بناء پر اس وقت تجارت ممنوع ہے۔ اگرچہ بسا اوقات نماز کے فوت ہونے کے اور بھی مختلف اسباب ہوتے ہیں۔

    جمہور کا کہنا ہے کہ اس صورت میں نہی تجارت کے فساد کا تقاضا نہیں کرتی کیونکہ جس چیز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی تجارت ہے جو تمام مبطلات (باطل کرنے والی چیزوں) سے خالی ہے، لہٰذا اس میں ممانعت اسی خارجی امر کی وجہ سے ہے۔اس بیع کے صحیح ہونے کی جہت اس کی ممانعت والی جہت سے واضح ہے۔ اور امام احمد کے نزدیک یہ نہی فساد کا تقاضا کرتی ہے ، کیونکہ نہی سزا کا تقاضا کرتی ہے اورصحت (یعنی بیع کا صحیح ہونا) ثواب کا تقاضاکرتی ہے۔ توایک ہی چیز کے سبب ثواب اور عقاب بیک وقت نہیں ہوتے۔

    اس بات کے بہت سے دلائل موجود ہیں کہ نہی فساد کاتقاضا کرتی ہے ۔ ان میں سے ایک دلیل نبی کریمﷺ کا یہ فرمان مبارک ہے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ:
    «من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد»
    جس نے کوئی ایسا عمل کیا ، جس پر ہمارا حکم موجود نہیں تھا تو وہ عمل رد ہے یعنی مردود ہے۔

    اور جو کام فاعل پر رد کردیا گویا کہ وہ عدم سے وجود پذیر ہی نہیں ہوتا۔اگر عبادت کی طرف ردکرنے کی نسبت کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس عبادت کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ اور جب اس رد کرنے کی نسبت معاملات کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ معاملہ فاسد ہے اور نافذ نہیں ہوسکتا۔

    ایک اور دلیل نبی کریمﷺ کا سیدنا بلالکو اچھی کھجوریں لوٹانے کا حکم دینا اور بتانا کہ یہ واضح سود ہے جب انہوں نے دو صاع گھٹیا کھجوریں دے کر ایک صاع اچھی کھجوریں خریدی تھیں۔

    تیسری دلیل زیر بحث قاعدے کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ صحابہ کرام بھی نہی کو فساد کا موجب جانتے تھے ، جیسا کہ انہوں نے سودی کاروبار کے فاسد ہونے پر نبی کریمﷺ کے اس فرمان سے استدلال کیا تھا کہ :
    ” «لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلاً بمثل» “
    تم سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر۔

    اور مُحرم (احرام باندھے ہوئے) شخص کے نکاح کے فاسد ہونے پر انہوں نے نبی کریمﷺ کی نہی سے استدلال کیا تھا۔
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کا بیان


    خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کا بیان:


    خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی احکام میں طلب کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کی طرح ہوتے ہیں۔ دونوں قسموں کی مثالیں آپ کے حضور پیش کی جارہی ہیں:

    1۔ خبر کے لفظ کے ذریعے امر کی مثال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان عالی مقام ہے:
    ﴿ وَالْمُطَلَّقَاتُ يتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ ﴾ [البقرة:228]
    اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے نفسوں کے ساتھ تین حیض تک انتظار کریں۔ (یعنی عدت گزاریں)

    اسی طرح اللہ رب العالمین کا یہ فرمان عالی شان ہے:
    ﴿ وَالْوَالِدَاتُ يرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَينِ كَامِلَينِ ﴾ [البقرة:233]

    مائیں اپنے بچوں کو مکمل دو سال دودھ پلائیں۔

    نبی کریمﷺ کا یہ فرمان مبارک بھی اسی قاعدہ کی مثال ہے:
    «من مات وعليه صيام صام عنه وليه»
    جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے کچھ روزے رکھنے باقی تھے ، تو اس کی طرف سے اس کا ولی (وارث) روزے رکھے۔

    2۔ خبر کے لفظ کے ذریعے نہی کی مثال: اللہ رب العزت کا یہ فرمان ذیشان ہے:
    ﴿ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ﴾ [البقرة:197]
    تو حج کے دنوں میں نہ تو اپنی عورتوں کی مائل ہونا ہے، نہ گناہ کرنا ہے اور نہ ہی جھگڑا کرنا ہے۔

    اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان عالی ہے:
    «لا ضرر ولا ضرار»
    نہ نقصان دینا ہے اور نہ نقصان اُٹھانا ہے۔

    اسی کی ایک مثال نبی کریمﷺ کا وہ فرمان مبارک بھی ہے جو آپ ﷺ نے عمروبن حزم کی خط میں لکھ کر بھیجا تھا کہ :
    «وأن لا يمس القرآن إلا طاهر»
    اور یہ کہ قرآن مجید کو پاک صاف آدمی کے علاوہ کوئی نہ چھوئے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں