علت میں اجتہاد ہونے کے اعتبار سے اس کی تقسیم

ابوعکاشہ نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏فروری 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    علت میں اجتہاد ہونے کے اعتبار سے اس کی تقسیم

    اس اعتبار سے علت کی تین قسمیں ہیں:

    ۱۔علت کی تحقیق
    ۲۔اس کی تنقیح
    ۳۔اس کی تخریج

    اصولیوں کی یہ عادت چلی آرہی ہے کہ وہ ان تینوں مصادر کو علت کے القاب میں سے ایک لقب ’مناط‘ کی طرف مضاف کردیتے ہیں۔مناط ’نوط‘ سے مشتق ہے اور نوط کا مطلب ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ جوڑ دینا۔ اسی وجہ سے فقہاء نے مناط پر حکم کے متعلق کا اطلاق کیا ہے اور وہ اصل اور فرع کے درمیان علت جامعہ ہے۔

    1۔ تحقیق المناط: اس کا مطلب ہے کہ فرع میں علت کے وجود کو ڈھونڈنا اور تلاش کرنا اور اس فرع میں علت کی تحقیق میں اجتہاد کرنا، اس پر نص کے آجانے کے بعد یا اس کی ذات پر اتفاق ہونے کے بعد۔

    اس کی دو قسمیں ہیں:
    ۱۔ یہ کہ کوئی قاعدہ کلیہ نص سے ثابت ہو یا بدیہی ہو اور مجتہد کسی ایک صورت میں علت کی تحقیق کرے اور اسے جزئیات پر منطبق کرے۔ نص میں قاعدہ کلیہ کی مثال اللہ رب العالمین کا یہ فرمان گرامی ہے:
    ﴿ فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ [المائدة:95]
    ترجمہ :: تو اس شکار کرنے کا بدلہ اسی جیسا جانور ہے جیسا اس نے مارا ہے۔
    اور وہ جزئی جس میں محرم کو جنگلی گدھے کا شکار کرنے کے بدلے ایک گائے دینا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں مجتہد کی نظر میں برابر ہیں۔اس قسم پر سب کا اتفاق ہے اور یہ قیاس نہیں ہے۔

    ۲۔ اصل کی ذات میں علت پر اتفاق ہونے کے بعد فرع میں علت کو تلاش کرنا ، جیسا کہ اس بات کا معلوم ہونا کہ ہاتھ کاٹنے کی وجہ اور علت چوری ہی ہے تو مجتہد کفن چور میں کفن چوری کرنے کی وجہ سے اسی علت کو ثابت کرکے یہی حکم لگائے گا کیونکہ اس نے بھی چور کی طرح حفاظت میں رکھی ہوئی چیز کو خفیہ انداز میں چرایا ہے۔

    2۔ تنقیح المناط: لغت میں تنقیح کانٹ چھانٹ اور صفائی ستھرائی کو کہتے ہیں تو تنقیح المناط ان چیزوں کو ختم کرکے علت کی کانٹ چھانٹ اور صفائی ستھرائی کرنے کو کہتے ہیں جو علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور ان کا علت میں کوئی اعتبار نہیں ہوسکتا۔
    اس کی مثال اس اعرابی کا قصہ ہے جو نبی کریمﷺ کے پاس اس حال میں آیا کہ اپنا سینہ پیٹ رہا تھا اور بال نوچ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ : ہائے میں ہلاک ہوگیا، میں رمضان کے دن میں اپنی بیوی پر جا پڑا ، ہائے میں ہلاک ہوگیا۔ تو نبی کریمﷺ نے اسے حکم دیا کہ ایک گردن کو آزاد کرو۔
    تو اس آدمی کا دیہاتی ہونا، اور اس کا اپنی بیوی پر واقع ہونا، اور اس کا سینہ پیٹتے اور بال نوچتے ہوئے آنا، یہ سب اوصاف علت بننے کے لائق نہیں ہیں ، لہٰذا ان کو لغو قرار دیا جائے گا۔
    تو اگر کوئی شہری آدمی اپنی بیوی پر رمضان کے کسی دن میں صحبت کربیٹھےاور پھر بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ فتوی پوچھنے کےلیے آئے تو اسے بھی کفارہ ادا کرنے کا ہی فتوی دیا جائے گا۔

    3۔ تخریج المناط:ا س کا مطلب یہ ہے کہ شارع کسی حکم پر علت بیان کیے بغیر نص بیان کردے تو مجتہد اپنے اجتہاد کے ذریعے اس سے علت تلاش کرے اور حکم کا محل دیکھے۔
    مثال کے طور پرگندم کو دیکھیں کہ اس پر سود کی حرمت کا حکم بیان کردیا گیا ہے ، علت بیان نہیں کی گئی۔ تو اب مجتہد غوروفکر کے بعد یہ رائے قائم کرتا ہے کہ مثال کے طور پر اس کی علت پیمانہ ہے تو وہ اس پر چاول وغیرہ کو قیاس کرلیتا ہے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں