دلائل کی ترتیب اور بعض کی بعض پر ترجیح

ابوعکاشہ نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏فروری 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    دلائل کی ترتیب اور بعض کی بعض پر ترجیح

    دلائل کی ترتیب:
    ادلۃ ، دلیل کی جمع ہے اور یہاں پر اس سے مراد کتاب وسنت، اجماع، قیاس، قول صحابی اور استصحاب میں سے وہ چیز ہے جس کے ذریعےشرعی احکام ثابت ہوتے ہیں۔
    لغت میں ایک یا ایک سے زیادہ چیزوں کو اس جگہ رکھنا، جہاں رکھے جانے کی وہ مستحق ہیں ترتیب کہلاتا ہے ۔اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ دلائل شرعیہ قوت میں مختلف ہوتے ہیں ، تو ضرورت اس بات کی ہے ان میں سے سب سے طاقتور کی پہچان رکھی جائے تاکہ تعارض کے وقت اسے باقیوں کی نسبت آگے کیا جاسکے۔

    دلائل شرعیہ کے درجات حسب ذیل ترتیب کے مطابق ہیں:
    1۔ اجماع: کیونکہ یہ قطعی اور غلطی سے معصوم ہوتا ہے اور منسوخ نہیں ہوتا۔ یہاں پر اجماع سے مراد وہ اجماع قطعی ہے جو اجماع قولی ہو اور دیگر اجماعوں کے خلاف تواتر یا مشاہدے کے ذریعے منقول ہو۔

    2۔قطعی نص: اس کی دو قسمیں ہیں:
    ۱۔کتاب (یعنی قرآن مجید)
    ۲۔سنت متواترہ جو کتاب کی قوت میں ہوتی ہے کیونکہ یہ علم قطعی کا فائدہ دیتی ہے۔

    3۔خبر آحاد: اس میں سب سے پہلے صحیح لذاتہ کو ترجیح دی جاتی ہے، پھر صحیح لغیرہ کو ، اس کے بعد حسن لذاتہ کو اور آخر میں حسن لغیرہ کوسامنے لاتے ہیں۔

    4۔ قیاس: امام احمد کے نزدیک قول صحابی کو قیاس پر مقدم کیا جائے گا، یہ بات ان سے مروی دو روایتوں میں سے ایک میں ہے۔

    اگر ان دلائل میں سے کوئی بھی دلیل کام نہ آئے تو اصل کو کام میں لایا جائے گا اور اصل یہ ہے کہ بندہ تکالیف سے بری الذمہ ہے ۔ تو جب ان دلائل میں تعارض آجائے گا تو قوی کو دوسروں پر مقدم کیا جائے گا۔

    تنبیہ: دو قطعی دلیلوں کے درمیان کبھی تعارض آہی نہیں سکتا الا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو منسوخ کرنے والی ہو، یا اس کی تخصیص کرنے والی ہو، وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر قطعی دلیل علم وعمل کا فائدہ دیتی ہے تو جب یہ متعارض ہوں گی تو متضاد ہوں گی اور شریعت کبھی بھی متضاد باتوں کی حامل نہیں ہوتی۔

    اسی طرح قطعی اور ظنی دلیل میں بھی کوئی تعارض نہیں ہوتا کیونکہ ظنی دلیل کبھی بھی قطعی دلیل کے آڑے نہیں آسکتی ۔بلکہ اگر ظنی ، قطعی کی تخصیص کرنے والی نہ ہوتو ہمیشہ قطعی کو ہی اس پر مقدم کیا جائے گا ۔ اگر ایسا ہو تو اس کا تعلق عام کی تخصیص والےمسئلہ سے ہوگا، جیسا کہ یہ بحث پیچھے گزرچکی ہے۔ ایسی صورتحال میں قطعی کی وجہ سے ظنی دلیل کو ترک نہیں کیا جائے گا۔اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گرامی ہے:

    ﴿ حُرِّمَتْ عَلَيكُمُ الْمَيتَةُ وَالدَّمُ ﴾ [المائدة:3]
    ترجمہ :: تم پر مردار اور خون حرام کردیا گیا ہے۔

    تو یہ قطعی الثبوت نص ہے جوہر مردار اور ہر خون پر دلالت کرنے کے عام ہے ، اس فرمان الہٰی کو اس حدیث کے ساتھ ملا کرعمل کیا جائے گا: «أحلت لنا ميتتان ودمان، أما الميتتان فالجراد والحوت، وأما الدمان فالكبد والطحال» ''ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں، مردار تو مچھلی اور ٹڈی دَل ہیں اور خون جگر اور تلی ہیں۔''

    اسی طرح سمندر کے مردار کے بارے میں حدیث ہے ، جو کہ نبیﷺ کا سمندر کے بارے میں فرمان ہے: «هو الطهور ماؤه الحل ميتته» ترجمہ :: ''سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلا ل ہے''

    اس طرح خبر واحد کے ذریعے ، جو کہ ظنی ہے، کتاب کے عموم کی تخصیص کی گئی ہے جو کہ قطعی ہے۔ تو یہاں پر قطعی کو ظنی پر مقدم نہیں کیا گیا۔جب یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ دو قطعیوں اور ایک قطعی اور ظنی کے درمیان تعارض نہیں ہوسکتا تو اب صرف دو ظنیوں کی بات ہی رہ گئی ہے۔ تو جب دو ظنیوں کے درمیان تعارض ہوجائے تو اس میں ان دو میں سے ہی کوئی ایک حالت پائی جائے گی:

    ان میں جمع کا امکان ہوگا۔
    جمع کا امکان نہیں ہوگا۔

    جمع کے امکان کی حالت میں ان کوجمع کیا جائے گا چاہے ان کی تاریخ معلوم ہوجائے ،چاہے معلوم نہ ہو۔ اس کی مثال نبی کریمﷺ کا میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا ہے۔بعد میں جب انہوں نے نبی کریمﷺ کو بتایا کہ وہ جنبی تھیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ: «إن الماء لا يجنب» ''پانی جنبی نہیں ہوتا''اس کے ساتھ وہ حدیث بھی ملائی جائے کہ آپﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا کوئی مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے۔ تو ان دونوں کو اس طرح جمع کیا جائے گا کہ اس نہی کو کراہت پر محمول کرلیا جائے اور فعل کو اباحت پر۔ اس تطبیق کی تائید بئر بضاعۃ والی حدیث سے ہے ، جس میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ : « أن الماء طهور لا ينجسه شيء إلا ما غلب على ريحه وطعمه ولونه» ''پانی پاک ہی ہوتا ہے، اس کو کوئی چیز پلید نہیں کرسکتی مگر یہ کہ کوئی چیز اس کی بو، ذائقہ اور رنگ پر غالب آجائے''

    اور اگر جمع وتطبیق ممکن نہ ہوتو پھراس کی دو حالتیں ہیں:

    ۱۔ تاریخ کو دیکھا جائے گا اور بعد والی حدیث کو ناسخ اور پہلی کو منسوخ کہا جائے گا۔ اس کی مثال طلق بن علی رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ جب وہ مدینہ آئے، اس وقت مسجد نبویﷺ چھپر والی تھی تو انہوں نے ایک دیہاتی کو رسول اللہﷺ سے اس آدمی کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا جو وضو کے بعداپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے، کیا اس پر وضو کرنا واجب ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ: «وهل هو إلا بضعة منك؟» ''وہ تو تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے''
    اب اس کے ساتھ بسرہ بنت صفوان اور ابوہریرۃ رضی اللہ عنہما والی حدیث کو ملایا جائے تو تعارض بنتا ہے، وہ حدیث یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: «من مس ذكره فليتوضأ» جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے ، اس پر وضو کرنا لازمی ہے۔
    اب ان حدیثوں میں موجود تعارض کو ختم کرنا اور ان کے درمیان تطبیق دینا ممکن نہیں ہے لیکن یہ معلوم ہے کہ طلق والی حدیث پہلے کی ہے اور بسرہ اور ابوہریرۃ رضی اللہ عنہماوالی حدیث بعد کی ہے ۔ یہ پتہ یوں چلا کہ طلق والی حدیث اس وقت کی ہے جب مسجد نبوی ﷺ ابھی چھپر والی تھی اور یہ مدینہ میں رسول اللہﷺ کے آنے کے بعد پہلی تعمیر کے موقع پر تھا ، اور ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سات ہجری میں مسلمان ہوئے تھے ۔ تو اسی لیے بعض علماء نے پہلی حدیث کو منسوخ قرار دیا ہے۔

    ۲۔اگر تاریخ معلوم نہ ہو تو کسی خارجی امر کی وجہ سے ان میں سے ایک کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کی مثال وہ احادیث ہیں جو اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، ان حدیثوں کے ساتھ جو روشنی میں نماز پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں۔تو اب چونکہ ان میں تطبیق ممکن نہیں ہے اور نہ ہی تاریخ کا علم ہے اس لیے اندھیرے والی احادیث کو اللہ رب العالمین کے اس فرمان کے عموم کی وجہ سے راجح قرار دیا جائے گا: ﴿ وَسَارِعُوا إلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ﴾ [آل عمران:133] ترجمہ :: اپنے رب کی طرف سے مغفرت کی طرف لپکو۔

    اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ کی نبی کریمﷺ کی میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بارے میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے احرام کی حالت میں شادی کی ، ابو رافع کی حدیث کے ساتھ کہ آپﷺ نے ان کے ساتھ حلال ہونے کی حالت میں شادی کی۔ ابورافع کا یہ بھی بیان ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان سفیر تھے۔ تو یہ ایک ہی واقعہ ہے اور دونوں حدیثوں کے زمانہ میں بھی فرق نہیں ہے۔تو یہاں پر نہ تو نسخ کا دعویٰ ممکن ہے اور نہ ہی بیک وقت حلال ہونے اور مُحرم ہونے کی حالت کے درمیان تطبیق دینا ۔ تو یہاں ہم ترجیح دیں گے اور ابورافع کی حدیث کو ابن عباس کی حدیث پر چند امور کی وجہ سے ترجیح دیں گے ،
    چند ایک یہ ہیں:
    ۱۔ابورافع رسول اللہﷺ اور میمونہ رضی اللہ عنہا کے درمیان سفارت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ، لہٰذا وہ واقعہ کی حقیقت کو ابن عباس سے زیادہ جانتے تھے کیونکہ وہ اس قصہ کو براہ راست دیکھنے والے تھے۔

    ۲۔خود ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے جو اس واقعہ کا ایک حصہ ہیں، ایک روایت ملتی کہ رسول اللہﷺ نے ان نے حلال ہونے کی حالت میں شادی کی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    ترجیح

    ترجیح:


    تعریف: دو متعارض طرفوں میں سے ایک کو دوسرے پر تقویت دینا۔ تو یہ طرف اس ترجیح کی بدولت دوسری طرف پر بلند ہوجائےگی۔

    ترجیح کا طریقہ: ترجیح یا تو دوسری سند والے طریقہ سے ہوتی ہے یا کسی اور خارجی امر کی وجہ سے۔

    پہلی قسم: سند والے طریقہ سے ترجیح کا بیان :
    ۱۔ زیادہ راویوں کو تھوڑے راویوں والی روایت پر مقدم کیا جائے گا ، اسی طرح عالیٰ سند کو نازل سند پر مقدم کیا جائےگا۔
    ۲۔ احفظ ، اضبط کی روایت کو حافظ ، ضابط کی روایت پر مقدم کیا جائےگا۔
    ۳۔ مسند (متصل)کو مرسل پر مقدم کیا جائے گا۔
    ۴۔ واقعہ کے ایک کردار اور اس کو براہ راست دیکھنے والے کی راویت کو اجنبی کی روایت پر مقدم کیا جائےگا۔
    ان کی مثالیں: ام المؤمنین میمونہ اور ابورافع رضی اللہ عنہما کی حدیث کو ابن عباس کی روایت پر مقدم کیا جائے گا جیسا کہ ابھی پیچھے گزرا ہے۔وجہ اس کی یہ تھی کہ میمونہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کا ایک کردار تھیں اور ابورافع رسول اللہﷺ اور میمونہ رضی اللہ عنہا کے درمیان سفیر تھے۔
    اسی طرح سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ جو فجر کے وقت جنابت کی حالت میں بیدار ہواور سحری کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا ، کو ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث پر مقدم کیا جائے گاجو ان دونوں کی حدیث کے خلاف حدیث بیان کیا کرتے تھے۔کیونکہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے زیادہ اس بات کو جانتی تھیں وجہ اس کی یہ ہے کہ غسل جنابت اور اس کے ہم مثل گھر میں طے پانے والے امور کے بارے میں گھر والیاں ہی مشاہدہ کرسکتی ہیں ان لوگوں کے برخلاف جو گھر میں نہیں رہتے۔

    دوسری قسم: متن والے طریقہ سے ترجیح کا بیان:
    یعنی نص کو ظاہر پر مقد م کیا جائے گا او ر ظاہر کو مؤول پر اور مؤول کو کسی صحیح قرینہ کی وجہ سے ان روایات پر مقدم کیا جائے گا جن پر کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ، یا اگر موجود ہے تو باطل ہے۔

    تیسری قسم: کسی خارجی امر کی وجہ سے ترجیح کا بیان:
    ۱۔ ا س روایت کو مقدم کیا جائے گا جس کی دوسری نصوص گواہی دیں اس روایت کے برخلاف جن پر گواہی موجود نہ ہو۔ جیسا کہ صبح کے وقت اندھیرے میں نماز پڑھنے والی احادیث، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
    ۲۔ مثلا اصل کے حکم سے نقل کرنیوالی اور عبادت کو واجب کرنیوالی خبر کو اسکی نفی کرنیوالی خبر پر مقدم کیا جائے گا ۔ کیونکہ نفی تو عقل کے مقتضی کے مطابق آتی ہے اور دوسری روایت بعد میں آتی ہے تو گویا وہ ناسخ ہوتی ہے، مثال کے طور پر بسرۃ اور ابوہریرۃ کی حدیث کہ مس ذکر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو اسے طلق بن علی والی حدیث پر مقدم کیا جائے گا کیونکہ یہ اصل کے تقاضہ کے مطابق آئی ہے۔
    ۳۔ اثبات والی روایت کو نفی والی روایت پر مقدم کیا جائے کیونکہ اثبات والے کے پاس زیادہ علم ہوگا جو نفی کرنے والے سے مخفی رہ گیا ہوگا۔
    ۴۔ ممانعت کا تقاضا کرنے والی روایت کو اباحت والی راویت پر مقدم کیا جائے گا کیونکہ احتیاط اسی میں ہے۔

     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں