پاکستان، فلسطین اور اسرائیل، اسرائیلی اخبار

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏مارچ 6, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اسرائیلی اخبار ”اسرائیل ٹو ڈے“ لکھتا ہے کہ سابق فوجی صدور ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ٹیلی گرام بھیجا تھا لیکن قائد اعظم نے اس ٹیلی گرام کا جواب نہیں دیا۔

    اسرائیلی اخبار”اسرائیل ٹو ڈے“ اپنی تفصیلی رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسرائیل اور پاکستان دوست بن سکتے ہیں؟ اس کو مشکل قرار دیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ گزشتہ سال ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملے کے اسرائیلی بیان اورغزہ کی پٹی پر اسرائیلی حالیہ کارروائیوں کی پاکستان نے مذمت کی اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائی کے خلاف اقدام کرے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسرائیلی اور یہودی قوم کے متعلق شدید نفرت پائی جاتی ہے، جس میں پاکستانی میڈیا بھی پیش پیش ہے۔ اخبار نے تھنک ٹینک رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی ریاست اور معاشرے کے مسائل کی سب بڑی وجہ اسرائیل، امریکا اور بھارت ہے۔ اخبار نے تجزیہ کار کے حوالے سے لکھا کہ پاکستانی معاشرے کی روح میں اسرائیل کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ اسرائیل کے خلاف نفرت کی حد یہ ہے کہ اسے پاکستان کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

    ایک تجزیہ کار کے حوالے سے اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں سوائے یہ کہ دونو ں ممالک نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئے۔ پاکستان میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی بڑی وجہ تنازعہ فلسطین ہے۔ پاکستان، فلسطین کی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنا غیر مقبول فیصلہ ہو گا۔ اگرچہ پاکستان کے دو سابق فوجی آمر ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجویز سامنے آئی تاہم انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ نفرت کے باوجود دونوں اطراف کئی بار تعلقات کو استوار کرنے کی کوششیں کی گئی۔

    پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سب سے پہلا رابطہ قیام پاکستان کے فوری بعد ہوا۔ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ٹیلی گرام بھیجا تھا لیکن قائد اعظم نے اس ٹیلی گرام کا جواب نہیں دیا۔ سن 1953 میں امریکی سفارت کار نے پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ محمد ظفراللہ خان اور امریکا میں اسرائیلی سفیر ابا ایبان کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا تھا۔ تاہم ظفراللہ نے ایبان کو بتایا کہ پاکستانی حکومت اسرائیل کی خاطر کسی نفرت کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔ تاہم انہوں نے دو طرفہ ماہرین، طلباء اور پروفیسرز کے تبادلے کا گرین سگنل دیا تھا۔

    نوے کی دہائی میں اسرائیل ایشیاء میں دوستانہ ریاست کی تلاش میں تھا جب پاکستان معاشی بدحالی کا شکار تھا۔ نیوکلیئر پروگرام پر امریکا سے تعلق خراب تھے اور عالمی برادری میں پاکستان اپنا امیج بہتر کرنا چاہتا تھا۔ اس صورت حال میں پاکستان میں اس تحریک نے جنم لیا کہ وہ اسرائیل کی طرف ہاتھ بڑھائے جس میں اسرائیل ان کے حالات بہتر کرسکتا ہے۔ اس وقت کے اسرائیلی صدر ایزر ویزمن اور پاکستانی صدر محمد رفیق تارڑ کے درمیان ملاقاتوں کا انتظام کیا گیا۔

    دو ہزار کی دہائی میں تعلقات بہتری کی طرف آئے جب اسرائیل کے سابق وزیر خارجہ سلون شالوم پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملے اس کے فوری بعد امریکی دورے کے دوران جنرل مشرف امریکی جیوش کانگریس کے ڈنر میں مہمان خصوصی بننے کو تیار ہوئے۔ کئی ملاقاتوں کے علاوہ دونوں ممالک میں تعاون بھی رہا جس میں سب سے بڑی مثال جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر اسرائیلی ملٹری انڈسٹری نے پاکستان کے ٹی 55 ٹینک اپ گریڈ کیے۔ اخبار کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے منصوبے صرف خیال ہیں جنہیں دور دورتک کوئی حقیقت ملتی نظر نہیں آتی۔

    العربيہ.نیٹ
    اشاعت: جمعہ 12 ربيع الثاني 1434هـ - 22 فروری 2013م
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں