مری کی سیر

مشکٰوۃ نے 'دیس پردیس' میں ‏مارچ 8, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    یوں ساڑھے دس بجے شروع ہونے والا سفر یوں اختتام پذیر ہوا کہ سوا تین بجے ہم گھر میں استراحہ فرما رہے تھے۔ ۔ ۔
    [​IMG]
    لیجئے اترئے گاڑی سے ۔ ۔ اتنی سیر ہی کافی ہے مزید کیلئے خود زحمت فرمائیں۔ ۔ ۔
    رہی بات گاڑی میں‌بیٹھنے کی تو معاف کیجئے ہم محض انسان ہیں۔ ۔ ایک یہی تو ہماری خوبی ہے کہ ہم ہر جگہ آسانی سے سما جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ جیسا کہ مجلس میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    جاتے ہوئے تو بھیا فرنٹ سیٹ پر تھے اور ہم تینوں بہنیں بھابھی اور امی جان پچھلی سیٹ پر تھے اور بھانجے اور آپی کو ہم نے آڈیو پلیئر میں فٹ کیا ہوا تھا۔ ۔ ۔ واپسی پر ابو جان کو اپنی لاڈلی کے چپ رہنے کے راز کو جانتے ہوئے اسے اور بھیا کو فرنٹ پر بیٹھنے کا کہاتو وہ محترمہ تو آرام سے بیٹھ گئیں اور بھیا نے یہ سوچتے ہوئے کہ اس نے پھر جو چپ رنا ہے تو میں ڈگی میں بیٹھ جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ابتسامہ
    ازراہ مذاق بات کی ہے ورنہ یہ بھیا کو ہی نا جانے کیا شوق چڑھا تھا کہ ابو جان کے منع کرنے کے باوجود وہ "ڈگی پسند" ہوگئے۔غالبا انہیں اپنا بچپن یاد آ رہا تھا۔ ۔
    ۔ گھر کے قریب پہنچ کر ابو نے ہمیں مین روڈ ہر اتارا اور خود بھیا کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر جاننے والوں کی تلاش میں چلے گئے۔ ۔ اب کے جو ابو نے بھیا کو ڈگی سے نکالا تو۔ ۔ ۔ ۔اچانک غیر ارادی طور پر چھوٹی بہن کی نظر سامنے کھڑے افراد پر پڑی جو اس نئی مخلوق کی دریافت پر حیرت زدہ تھے۔ ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 8, 2013
  2. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    بہت خوب مری کی سیر گھر بیٹھے ہو گئی ناران کاغان گلگت اسکردوں کی سیروں کے احوال کا انتظار ہے امید ہے ضدی بچے جلد ہی فرما ئش کر دے گے :)
     
  3. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    ہی ہی ہی ۔ ۔ اگر ہم اتنے ہی ضدی ہوتے تو کل ہی ہمارے ابوسوات گئے تھے ہم سوات تک ہوہی آتے۔ ۔ ویسے بھی ہمارے ابو جان کے بقول"ضدی بچے گندے ہوتے ہیں تم ضدی نہیں‌ہو بس خنساء‌ضدی ہے اور اچھی بچی ہے۔ ۔"ابتسامہ
    مانسہرہ کی سیر ٹھیک رہے گی؟؟؟؟؟؟؟؟لیکن تصویریں نہیں ہیں میرے پاس ۔ ۔ ۔
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    مزہ آیا پڑھ کر سسٹر
     
  5. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بہت زبردست ۔۔ ماشااللہ
     
  6. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001
    اللہ تعالی شیخ کو اپنی حفظ و امان میں‌رکھے آمین
     
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    بہت خوب۔ سسٹر اپنی سیر کا احوال مع تصاویر اور تبصروں کے، ہمارے ساتھ شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔ مزہ آیا!
    لیکن اتنے مختصر دورانیے کی سیر وہ بھی مری کی : ( مجھے تو مری کی سیر سے زیادہ یہ لونگ ڈرائیو لگی : ) اس معاملے میں آپ کے ابو بھی ہمارے ابو کے بھائ ہی لگتے ہیں۔۔۔! پچھلے سال بڑی مشکل سے لیک ویو پارک کا پلان بنا، وہاں پارک کا ایک گول چکر کٹوا کے فوراً کہنے لگے بس اب واپس چلو ہوگئ سیر!
     
  8. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    کتنی خوبصورت زمین ہے اللہ تعالیٰ کی۔۔۔، جنت نشاں
    ماشااللہ
    بہت ہی خوبصورت۔
    جزاک اللہ خیرا۔
    واقعی بہت ہی خوبصورت، پرکشش اور حسین وادیاں اور مناظر ہیں۔
    سبحان اللہ۔
     
  9. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    بہت خوب مشکوٰۃ سسٹر، آپ کی شاعری کے بعد نثر اور وہ بھی سفر نامہ، بہت بہت بہت بلکہ بہت ہی زیادہ عمدہ ہے (پلس پوائنٹس)
     
  10. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    وایاک اخی!
    پسند کرنے کا شکریہ۔ ۔ امید ہے انتظار ختم ہو گیا ہوگا۔
    وایاک
    جی ضرور سسٹر جی!
    بس ہم بھی کچھ آپ کی طرح لاہور کی سیر کرتے کرتے رک جاتے ہیں عرصہ چھ سات سال سے لاہور کی تمام تفریحی مقامات دیکھنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہر بار کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔غصے والا آئیکون ۔ ۔ لاہور سے ہو آتے ہیں اور سیر۔ ۔ ۔ آنسوؤں والا آئیکون
    ایک دفعہ تو گھر سے نکلتے ہوئے پکا پروگرام تھا لیکن لاہور پہنچتے پہنچتے ہمارے محترم بہنوئی ارادہ بدل چکے تھے سو ہمیں ننیھال کی طرف روانہ کر کے خود اپنے دوستوں کی زیارت کے لئے چل دئے اور بہانہ بنایا تو " اتنا سامان لے کر کون گھومتا پھرے"۔ ۔
    یہ اور بات ہے کہ بچپن میں سارا لاہور چھان مارا ہے لیکن بڑے ہو کر۔ ۔ ۔ ۔ انتظار ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    پسند کرنے کا شکریہ
    آمین یا رب!
    ہاہاہا سسٹر مجھے تو صرف آپ کے ابو اور اپنے ابو ہی نہیں سب ابو ہی بھائی بھائی لگتے ہیں! ۔ ۔ ۔ابتسامہ
    لیکن ہمارے ابو کو بس گھر سے لیجانے کیلئے راضی کرنے کا مسئلہ ہے۔ ۔ ۔ اور پھر گاڑی میں بیٹھنے کی دیر ہے۔ ۔۔ ۔ ۔
    صبح 9 بجے گھر سے لے کر نکلیں گے دوائی لینے کیلئے اور دونوں جڑواں شہروں کی سیر کروانے کے بعد(ساتھ میں کام بھی نمٹانے کے ساتھ ساتھ( شام چار بجے گھر پہنچیں گے۔ ۔ ۔اور گھر میں موجود افراد کا حال تو ۔ ۔ ۔ کانا آئیکون
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    وایاک
    ہمممممممممممم۔ ۔ ۔شکریہ رفی بھائی!
    مجھے تو پہلے ہی اندازہ تھا۔ ۔ ۔ ابتسامہ
    پہلا پہلا تجربہ ہے حوصلہ افزائی کرنے کا شکریہ۔ ۔ ۔
     
  11. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    یوں تو مری کی سیر کر کے بڑا لطف آیا مگر ایک چیز مسنگ لگی وہاں کے رسیلے تازہ لال لال ہوتے سیب گلنار ہوتے انار اور زرد پڑتے کیلے کہیں
    نہیں دکھے۔یوں تو ہم بھی بچپن سے ہی مری جانے کے لئے مرے جا رہے تھے ۔مگر وہ کیا ھے نا کہ وہاں جانے سے پہلے دل کو تھوڑا دلیر کرنا
    پڑتا ہے خدانخواستہ کہیں چیئر لفٹ کی کیبل ٹوٹ گئ یا پھر اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر پاؤں اپنا توازن کھو بیٹھا تو اس سے بہتر ہے نا کہ یہ ارمانوں
    کے غنچے بن کھلے ہی مرجھا جائیں ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 10, 2013
  12. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    ہممم سسٹر جی پہلا تجربہ تھا بہت سی کمیاںکتہائیاں توں ہوں گی نا۔ ۔ ۔
    ویسے واقعی میں یہ موسم سیبوں والا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟ مجھے تو آپ کے ذکر کردہ درختوں کی کوئی بھی قسم نظر نہیں آئی۔ ۔البتہ نارنگیوں‌سے لدا ایک درخت ضرور دریافت ہوا تھا۔ ۔
    اوہ اچھا یاد دلایا چار سال قبل اگست کے مہینے میں بھوربن جانے کا اتفاق ہوا۔ ۔ وہاں ناشپاتیاں اور سیب لگے ہوئے تھا۔ ۔ ۔بھیا کو ساتھ لے کر جانے والی مخلوق نے کہا کہ یہ درخت کسی کے ذاتی نہیں ہیں "ایویں" لگے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ پھر کیا تھا بھیا کے ساتھ بچوں کا پورا لاؤ لشکر تھا اور درختوں پہ "بندرنگ" جاری تھی کی اچانک ہی ان ایویں درختوں کی مالکن آنٹی ڈنڈا لئے آن پہنچی ، ، ، اور پھر بچے آگے آگے اور آنٹی پیچھے پیچھے۔ ۔ اور اسی افرا تفری میں خالہ کی بیٹی کا پاؤں پھسلا اور وہ پہاڑی سے نیچے نیچے اور نیچے جا رہی تھی کہ اچانک ہی اس کی اس پھسلن سیڑھی میں ایک بہت بڑا روڑا اٹک گیا۔ ۔ الحمدللہ
    بس پھر تو سب بچے گھر سے نکلتے ہوئے بھی ڈرتے تھے اور اسی ڈر کی بدولت ہی سرشام جب بچے قریبی پہاڑی پر چشمہ دیکھنے گئے تو آنٹی بھی وہاں پانی بھرنے پہنچ گئیں۔ ۔۔ڈر کے بھاگتے ہوئے خنساء کی جوتی چشمے میں جا گری اور بچے ہانپتے کانپتے گھر آگئے۔ ۔ اور گھر پہنچ کر سب ہی ہنسنے لگے۔ ۔ مجھے توغصہ آگیا بھلا اب ہنسنے کا فائدہ مزا تو تب تھا جب ان آنٹی کے سامنے دانت نکالتے۔ ۔
    تو سسٹر جی جب ایک ایک سیب اور ناشپاتی کے پیچھے یہ حال تھا تو درختوں کے درخت لا کر ہم نے کسی نئی مصیبت کو آواز دینی تھی کیا۔ ۔ ۔ ۔؟
    آپ مری ضرور جائیے لیکن کسی ایکسپرٹ بندے کے ساتھ۔ ۔ اور ڈر شر کو ذہن سے نکالیں۔ ۔ ہمیں تو جس چیز سے ڈر لگے اس سے کچھ زیادہ ہی پنگے لینے لگتے ہیں۔۔ ۔ابتسامہ
    اللہ نہ کرے۔ ۔ اگر پاؤں پھسل بھی گیا تو کیا ہوا
    گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    ڈئیر سسٹر اگر پاؤں پھسل کر ڈائریکٹ مرنے کے چانسز ہوں تو بات بھی بنے مگر اگر خدانخواستہ کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ گئی تو
    جہاں تک ایکسپرٹ بندے کے ساتھ جانے کی بات ہے تو محمد کے بابا مھا ایکسپرٹ ہیں اس معاملے میں کیونکہ ان کا تعلق پہاڑی علاقے
    سے ہی ہے۔ لیکن اس میں بھی رسک پوشیدہ ہے کیا پتادل میں کوئی پرا نی حسرت دبائے بیٹھے ہوں ادھر چانس ملا ادھر میں انا للہ وانا الیہ راجعون
    بس ایک ہلکے سے دھکے کی ہی تو دیری ہو گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. مخلص1

    مخلص1 -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 25, 2010
    پیغامات:
    1,038
    ماشاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔۔سسٹر جی آپ نے مری میں گذرے لمحات یاد دلا دیا۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا
     
  15. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    بہت خوب مشکوۃ کیا خوب آپ نے سیر کی اور کیا خوب ہمیں دکھائی -
    مجھے پہاڑی علاقے بہت پسند ہیں لیکن ان کے سفر سے بہت ڈر لگتا ہے-
    تسلی رکھیے بنت مکہ رفی بھائی ایسے تو نہیں لگتے-
     
  16. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جی سسٹر اصل ڈر تو پرسراریت سے ہی لگتا ہے ۔ جو نہیں دکھ رہا ہو سکتا ہے وہ ہو
    بندی بشر ہوں من شکوک و شبہات میں ڈبکیاں لگا ہی لیتا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 11, 2013
  17. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    مشکاتہ سسٹر بہت بہت مزا آیا دیکھ کر بھی اور پڑھ کر بھی ۔۔ ھر سال پاکستان جاتے ھیں سب کہتے ھیں اس دعفہ مری ضرور جانا ھے لیکن آے دن اخباروں کے قصے پڑھ کر جانے کی ھمت نہیں ھوتی
     
  18. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    مشکاتہ سسٹر اور بنت مکہ سسٹر بہت زبردست دونوں کے لئیے پلس پوائینٹ
     
  19. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    ہاہاہاہاہا۔ ۔ ۔ میری مانیں تو سسٹر اب آپ مری ضرور جائیں تاکہ آپ کا ڈر تو ختم ہو بس ایک دو دفعہ گرنے کی دیر ہے سارا ڈر ختم ہو جائے گا۔ ۔ ۔ بس ذرا جان بچا کے۔ ۔ ۔ ابتسامہ
    رفی بھائی تو مھا ایکسپرٹ ہیں اسی لئے تو میں نے فقط ایکسپرٹ بندے کی بات کی تھی۔ ۔ ۔ کہیں وہ دھویں والی چائے نا رفی بھائی کو یاد آجائے۔ ۔ ۔ ۔ کانا آئیکون۔ ۔ ۔ ابتسامہ ابتسامہ ابتسامہ
    وایاک
    منہ پہ ٹیپ والا آئیکون
    ابتسامہ
    جی۔ ۔ ی۔ ی۔ ۔ ی ۔ ۔ !
    ہائے اللہ سسٹر مینوں نئیں پتا سی تسی وی ایڈے ڈرپوک او۔ ۔ ۔ ابتسامہ
    شکریہ جی!
     
  20. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    ویسے مجھے سفر کا بہت بُرا فوبیا تھا جو کہ دو ٹورز میں ختم ہو گیا، لائف میں فسٹ ٹائم کبھی باہر گھومنے پھرنے کا شوق ہوا ، تو پلان بنا تھا صرف مری کا ، مگر مری پہنچے تو مری اچھا نہ لگا جیسا سُنا تھا ویسا پایا نہیں شاید آبادی بہت زیادہ ہو چُکی ہے لیکن ہاں جیسے جیسے آگے بڑھتے تو سیر کا لُطف دوبالا ہونے لگا ، ہم سیدھے شوگران گئے جو کہ سری پائے تو نیچے ہے اور اُس کی اونچائی 7500 فٹ ہے ، زبردست روڈ مگر سائیڈز پر سیفٹی بلاک نہ تھے جو کہ کئی بار گاری ادھر اُدھر ہونے پر دل کا ہلا دیتے تھے ، پھر رات شوگران گزاری اور صبح کے منظر دیکھنے والے تھے شوگران کے اور پھر اُس صبح صبح سری پائے گئے جو کہ 10،300 فٹ کی بلندی پر تھا ، وہاں کا موسم ایسا تھا کہ ایک پل میں‌جیکٹ اتار دیتے اور ایک پل میں جیکٹ پہن لیتے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں