فنِ سماعت

ساجد تاج نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    فنِ سماعت


    زندگی سے لُطف اُٹھائیے!از محمد العریفی -مکمل کتابچہ (یونیکوڈ) - URDU MAJLIS FORUM


    لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ان کے دل موہ لینے کی مختلف مہارتیں اور طریقے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کچھ کام کرنے پڑتے ہیں اور چند کاموں سے پرہیز برتنا ہوتا ہے۔ شناچہ مسکراہٹ لوگوں کے لیے جاذب نظر ہقتی ہے۔ اس کے برعکس درشتی اور پیوست سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ خوب صورت بایتں اور لطیفے لوگوں کو اچھے لگتے ہیں۔ لوگوں کی باتیں سننا اور سنتے چلے جانا اور اُن سے ہم آہنگی کا اظہار کرنا بھی انھیں بہت پسند آتاہے۔

    اس صبحت میں ہم آپ سے “پُرکشش اطمینان“ کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔

    جی ہاں! بعض لوگوں‌کی عادت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ تر خاموش رہتے ہیں ۔ محفلوں میں اپ کو اُن کی آواز سنائی نہیں دے گی۔ بلکہ آپ محفل یا کسی مجلس میں‌اُن کی حرکتیں نوٹ کریں تو دیکھیں گے کہ اُن کا سر ہلتا ہے، آنکھیں بولتی ہیں لیکن زنان خاموش رہتی ہے۔ اس کے باوجود لوگ انھیں پسند کرتے ہیں اور ان کے پاس بیٹھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
    جانتے ہیں کیوں ؟

    اس لیے کہ یہ لوگ “پُرکشش اطمینان“ کی مہارت پر عمل پیرا ہوتےہیں۔ تین آدمیوں کا موازنہ کیجیئے ۔ ایک آدمی سے آپ اپنا کوئی واقعہ بیان کرےتہیں۔ وہ آغاز ہی میں آپ کی بات کاٹ کر کہتا ہے:“ارے ارے! میرے ستاھ بھی ایک ایسا واقعہ پیش ایا تھا۔“آپ اس سے کہتے ہیں:“صبر کرو۔ میری بات پوری ہو لینے دو۔“

    وہ کچھ دیر خاموش رہتا ہے۔ آپ اپنی بات کے نقطہ عروج پر ہوتے ہیں تو وہ پھر بول پڑتا ہے:

    “ہاں ہاں!یہی واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

    آپ اس سے کہتے ہیں:“بھائی ، ذرا ٹھہرو۔“

    وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سے صبرنہیں ہوتا اور وہ قطع کلامی کرتے ہوئے کہتا ہے:“جلدی کرو۔ جلدی کرو۔“
    دوسرا آدمی آپ کی بات کے دوران ادھر ادھر دیکھتا رہتا ہے یا جیب سے موبائل نکال کر اس میں مشغول ہو جاتا ہے۔
    تیسرا آدمی جو فطِ سماعت سے واقف ہے آپ کی بات کے دوران نظریں آپ کے چہرے پر گاڑے رکھتا ہے۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپ سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ کبھی وہ آپ کی تائید میں‌سر ہلاتا ہے، کبھی مسکراتا ہے اور کبھی تعجب کرتےہوئے کہتا ہے:“سبحان اللہ!بڑی عجیب بات ہے۔“

    ان تینوں میں سے کس آدمی کے ساتھ بیٹھ کر آپ خوشی محسوس کریں گے؟
    یقینا تیسرے آدمی کے ساتھ!

    معلوم ہوا کہ جہاں لوگوں سے اچھی باتیں کرکے ان کے دل موہ لیے جاتے ہیں وہیں ان کے مومن پسند موضوع پر ان کی باتیں‌سن کر بھی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    ایک معروف مبلغ جسے اللہ نے زبان دانی کا ملکہ عطا کی اتھا، ظاہر ہے کہ اسے اپنے مشغلے کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بہت بولنا پڑتا تھا۔ کبھی جمعہ کے وعظ میں ، کبھی فتوی کی مسند پر، یونیورسٹی کے لیچکر میں اور جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ، وہ ہمیشہ بولتا تھا۔

    لوگ اسے منبر پر اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں پر دیکھتے ، اس کی گفتگو پسند کرتے اور اس کی باتیں توجہ سے سنتے۔ اس کی بیوی کے علاوہ سبھی لوگ اسے چاہتے تھے۔ گھر میں بیوی کے ساتھ وہ ہی ہاتھ رکھتا، یعنی اس کی کوئی بات نہ سنتا اور اپنی ہانکے جاتا۔ بیوی اس کی اس عادت سے تنگ آچکی تھی، چنانچہ بیوی کے سوا سب کا اکرام کرےت اور اس کی تعریف میں رطب اللسان ریتے تھے۔ ایک دن مبلغ نے سوچا کہ اپنے کسی خطاب میں بیوی کو بھی ساتھ لے جائے تاکہ وہ بھی لوگوں کی طرح اس کی شعلہ بیانی سے متاثر ہو اور احترام بجا لایا کرے ۔ اس نے بیوی سے کہا:

    “میرے ساتھ چلو گی؟“
    “کہاں؟“
    “ایک داعی کی تقریر ہے۔استفادہ کرنے چلتے ہیں۔“

    وہ اس کے ساتھ گاری میں سوا ہو گئی۔ مسجد پہنچے تو وہاں خاصا رش تھا۔ سب لوگ اس بے مثال مقرر کی تقیر سننے آئے تھے۔ اس کی بیوی عورتوں کی طرف چلی گئی جو الگ پردے میں بیٹھی تھی۔ مبلغ مسجد کے اندر گیا اور منبر کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ کر خطاب کرنے لگا۔لوگ خاموشی اور خوشی سے سنتے رہے۔ بیوی بھی خاصی متاثر ہوئی ۔ تقریر ختم ہوئی۔
    مبلغ فتح کے نشے میں

    چور اپنی گاڑی کی طرف آیا۔اس کی بیوی بھی آگئی۔دونوں گاری میں سوار ہو کر چلے دیے۔
    مبلغ اپنی عادت کے مطابق بولنے لگ گی:“رش بہت تھا۔مسجد کیسی خوبصورت تھی!!باتوں باتوں میں اس نے بیوی سے پوچھا:
    “تقریر کیسی تھی؟“‌
    بیوی نے کہا:“تقریر اچھی اور مثر تھی۔مقرر کون تھا؟“
    مبلغ کہنے لگا:“تعجب ہے!تم نے اس کی آواز نہیں پہچانی؟“
    بیوی نے کہا:
    “ایک تو لوگ بہت تھے۔دوسرے اسپیکر ٹھیک نہیں تھے۔آواز کم آرہی تھی۔“
    مبلغ نے سرشاری سے کہا:“میں، میں تھا وہ مقرر۔“
    بیوی نے جلدی سے کہا:
    “ارے!تبھی میں دل میں کہتی کہ یہ بولتا بہت ہے۔“

    پتا چلا کہ صبر واطمینان سے لوگوں کی باتیں سننا بھی ایک فن ہے ۔ اللہ نے انسان کو ایک زبان اور دو کان دیئے ہیں اکہ وہ سنے زیادہ اور بولے کم ، اس لیے دوسروں کی باتیں‌خاموشی اور اطمینان سے سننے کی عادت ڈالیے۔

    نتیجہ

    “لوگوں کی باتیں توجہ اور خاموشی سے سننا سیکھیں ۔ لوگ آپ کے قریب آجائیں گے۔“

    زندگی سے لُطف اُٹھائیے! (تبصرے ) - URDU MAJLIS FORUM
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں