مگر مچھ کی کھال سے بنی اشیاء

اہل الحدیث نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏مارچ 19, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,051
    السلام علیکم

    شیخ محترم، مگر مچھ کی کھال سے بنی اشیاء‌ کے استعمال کے بارے میں‌ شرعی حکم درکار ہے۔
    اس کے علاوہ
    1- اس بات کی بھی وضاحت کر دیں کہ اس کی کھال سے بنی اشیاء‌ کا استعمال کیوں‌ ممنوع/جائز ہے
    2-مگر مچھ کی کھال کیوں دباغت سے پاک نہیں ہوتی؟
    3-جو مویشی حرام ہیں، ان کی پہچان کتاب و سنت آ گئی ہے۔ لیکن مگر مچھ میں‌ کیا کوئی ایسی نشانی موجود ہے جو واضح طور پر اس کے حلال یا حرام ہونے میں‌تمیز کر سکے؟
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    مگر مچھ ایک حرام جانور ہے اور حرام جانور سے کسی بھی قسم کا انتفاع حرام ہوتا ہے , الا کہ کسی خاص انتفاع کی کوئی دلیل موجود ہو ۔ لہذا مگرمچھ اور اسکی کھال سے بنی اشیاء کا استعمال شرعا ممنوع ہے ۔
    ۱۔ اسکی قدرے وضاحت کر چکا ہوں , اور اس پر دلیل کہ جو چیز حرام ہو اس سے کسی بھی طور فائدہ اٹھانا حرام ہوتا ہے , نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : اللہ تعالى کی یہودیوں پر لعنت ہو جب اللہ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا اور اسے بیچا اور اسکی قیمت کھانے لگ گئے ۔ (صحیح بخاری:۲۲۲۳,۲۲۲۴) ۔ یعنی چربی کو کھانا حرام تھا تو چربی کو استعمال کرنا اسے بیچنا بھی اسے خریدنا بھی حرام تھا , لیکن انہوں نے کھانے سے تو پرہیز کر لیا مگر اسے گھی بنا کر لوگوں کو فروخت کرنا شروع کر دیا ۔ اس وجہ سے نبی صلى اللہ علیہ وسلم ان پر لعنت فرما رہے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حرام جانور کا صرف کھانا ہی حرام نہیں بلکہ اس کے جسم کے کسی بھی حصہ سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہوتا ہے ۔
    ہاں بعض حرام جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی شریعت نے رخصت دی ہے , مثلا: کتا , اسے سکھلا کر اس سے شکار کروانا , مویشیوں یا کھیتی کی حفاظت کے لیے رکھنا شریعت نے جائز قرار دیا ہے ۔ اسی طرح : گدھا, اس پر سواری کرنا بوجھ لادنا اسلام نے مباح رکھا ہے , اور اس طرح دیگر بھی کچھ جانور ہیں جن سے مخصوص قسم کا فائدہ اٹھانے کی کتاب وسنت میں واضح دلیلیں موجود ہیں ۔
    ۲۔ کسی بھی حرام جانور کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہوتی , نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے صرف اورصرف "إھاب" کے بارہ میں فرمایا ہے کہ دباغت سے وہ پاک ہو جاتی ہے ۔ اور لفظ "اہاب" حلال جانوروں کے چمڑے پر بولا جاتا ہے ۔ حرام جانوروں کے چمڑے کو "اہاب" نہیں بلکہ "جلد" وغیرہ کہتے ہیں ۔ لفظ اہاب کا یہ ترجمہ لغت عرب کی معروف کتابوں مثلا لسان العرب وغیرہ میں موجود ہے ۔
    ۳۔ مگر مچھ کے نوکیلے دانت کیا کسی کو دکھائی نہیں دیتے ؟؟؟ حدیث میں تو ہر نوکیلے دانت والا جانور (ذی ناب من السباع) حرام قرار دیا گیا ۔ جبکہ مگر مچھ کے کی دانت ذی ناب (کچلی والے) ہوتے ہیں , جو کہ اسکے سخت حرام ہونے کی دلیل ہیں ۔
    فتدبر !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں