تفہیم اسلام-2 - ہر رسول کے زمانہ میں کافر خوش حال تھے

ابو عبیدہ نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مارچ 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    مندرجہ ذیل آیات کو ملاحظہ فرمایئے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

    وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَۃٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآ۝۰ۙ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ كٰفِرُوْنَ۝۳۴ (سورہ سبا)
    ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا تو اس بستی کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے

    وَقَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا۝۰ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ۝۳۵ (سورہ سبا)
    اور کہا کہ ہمارے پاس مال و اولاد کی کثرت ہے اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔

    قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۳۶ۧ (سورہ سبا)
    اے رسول کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
     
  2. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    ایک شبہ اور اس کا ازالہ:
    یہاں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں کی جو حالت بیان کی گئی ہے وہ ابتدائی دور کی ہے لیکن جب انہوں نے اللہ کے راستہ میں قدم رکھا اور صبر و استقامت کو ملحوظ رکھا تو پھر مالدار ہو گئے۔ یہ شبہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسلمانوں کو مال و دولت کی فراوانی بخشی گئی پھر بھی یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب میں سے ہر شخص کو اتنا ہی مال مل گیا تھا جتنا قارون کو، بلکہ مومن ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ۔ یا رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب میں سے ہر شخص اتنا ہی مالدار ہو گیا تھا جتنا اس زمانہ کے یہودی تھے، یا اسلامی حکومت اسی جاہ و حشمت کی مالک ہو گئی تھی جو سلاطین روما اور ایران کے ہاں تھی۔ اگر یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ مومن کی آخرت بھی اچھی ہونی چاہیے تھی اور آپ کے پاس عیش و راحت، ساز و سامان کی اتنی فراوانی ہونی چاہیے تھی کہ کسی انسان کو اتنی میسر نہ ہوتی لیکن حقیقت اس کے خلاف ہے۔ آنحضرت ﷺ کی عسرت کا جو نقشہ آیت بالا میں کھینچا گیا ہے، یہ ابتدا کی بات نہیں ہے بلکہ اس زمانہ کی بات ہے جب پورا عرب فتح ہو چکا تھا اور اسلامی فوجیں حدودِ عرب کو عبور کر کے تبوک پر یلغار کر رہی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں سے صرف ڈیڑھ سال باقی رہ گیا تھا۔ اب اگر کوئی شخص اس معیار پر کہ مسلمانوں کے پاس دنیاوی سامان کی کمی ہے، مسلمانوں کو گمراہ سمجھ بیٹھتا اور عہد رسالت ہی میں اس کا انتقال ہو جاتا تو بتایئے کیا آپ کہہ سکتے تھے کہ اس کا معیارِ حق و باطل صحیح تھا؟ ہرگز نہیں۔ نوح علیہ السلام کی قوم کی گمراہی کا ہی سبب اوپر بیان ہو چکا ہے لیکن کیا وہ قوم اس معاملہ میں حق بجانب تھی؟ ہر زمانہ میں مسلمانوں کی اکثریت کافروں کی طرح مالدار نہ ہو سکی۔ نہ یہ حدیث کو ماننے کا نتیجہ اس وقت تھا نہ اب ہے۔
     
  3. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    دنیا کی مذمت اور قرآن:
    کیونکہ برق صاحب کی غلط فہمی کی سب سے بڑی وجہ حدیث زیر بحث ہی ہے لہذا میں نے بھی قدرے تفصیل سے روشنی ڈال رہاہوں۔ حدیث کا اصل مطلب تو آگے بیان ہو گا۔ آیاتِ بالا ے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ دنیا ایک بے حقیقت شے ہے۔ انبیائ کے پاس نہ ابتدائی دور میں اس کی فراوانی ہوئی، نہ آخری دور میں بلکہ بعض انبیائ تو ابتدائی دور ہی میں بے نیل مرام دنیا سے رُخصت ہو گئے اور بہت سے شہید بھی کر دیئے گئے اور اس پر قرآن شاہد ہے:

    فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ۝۰ۡوَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ۝۸۷ (البقرۃ)
    قارون کے قصہ میں اللہ تعالی نے دنیا کے طالبین کو اہل علم میں شمار نہیں کیا بلکہ دنیا کو حقیر سمجھنے والوں کے لئے اہل علم کا لقب استعمال کیا۔ اس سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوا کہ دنیا اچھی چیز نہیں اس کی مزید برائی کے لئے چند آیات ملاحظہ فرمائیں:

    (۸) لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِي الْبِلَادِ۝۱۹۶ۭ مَتَاعٌ قَلِيْلٌ۝۰ۣ ثُمَّ مَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ۝۰ۭ وَبِئْسَ الْمِھَادُ۝۱۹۷
    شہروں میں کافروں کی آمد و رفت سے آپ دھوکہ میں نہ آجائیں یہ ساز و سامان بہت تھوڑا ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

    ایک اور جگہ ارشاد ہے:

    (۹) وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُہُمْ وَاَوْلَادُہُمْ۝۰ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّعَذِّبَہُمْ بِہَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُہُمْ وَہُمْ كٰفِرُوْنَ۝۸۵ (التوبہ)
    اور کافروں کے اموال اور کافروں کی اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے بلکہ ان کے ذریعہ اللہ تعالی ان کو دنیاوی عذاب دینا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کی جانیں ایسی حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔

    نتیجہ: شہروں میں کافروں کا تجارت کی غرض سے آنا جانا اور ان کی تاجرانہ چہل پہل ان کی فوجوں کا شہر در شہر مظاہرہ و جلوس۔ مال اور اولاد کی کثرت ایک بےحقیقت شے ہے اس سے دھوکہ نہ کھانا چاہیے۔ حق اور ہی چیز ہے جس کا معیار اس دنیا کی زیب و زینت نہیں۔

    (۹) وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۥۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِيْہِ۝۰ۭ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰي۝۱۳۱ (طہ)
    کافروں کو جو مال ہم نے دے رکھا ہے، اس کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو یہ محض دنیاوی جاہ و حشمت ہے تاکہ اس میں ان کی آزمائش کرے اور تمہارے رب کا رزق بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

    نتیجہ: آیت سے ظاہر ہے کہ دنیا کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا بھی اللہ کو پسند نہیں۔ اگر یہ دنیا اچھی چیز ہوتی تو اللہ تعالی اس کی طمع سے کیوں روکتا اور مسلمان کیوں کافروں کے مقابلہ میں دنیا سے محروم ہوتے، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کی ایمانی قوت کی مناسبت سے ان کی دنیا بھی اتنی ہی اچھی ہونی چاہیے تھی کافروں کے مقابلہ میں پسماندہ تھے تو آج پسماندگی کا سبب حدیث کو قرار دینا کہاں تک صحیح ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ صحابہ کرام کی محرومی کا سبب قرآن تھا، جس نے ان کو دنیا کی طرف نظر اٹھانے کی بھی ممانعت کر رکھی تھی تو آخر اس الزام کا کیا جواب ہو گا کیا آپ انصاف سے کہہ سکتے ہیں کہ جو جواب قرآن کی طرف سے دیا جائے گا وہی جواب حدیث کی طرف سے نہیں دیا جا سکتا۔

    جنگ اُحد میں مسلمانوں کی عارضی شکست کے اسباب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا اصل سبب یہ تھا کہ تم دنیا کی طرف مائل ہو گئے۔ ارشادِ باری ہے:

    (۱۰) وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِـاِذْنِہٖ۝۰ۚ حَتّٰٓي اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ۝۰ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِـيَبْتَلِيَكُمْ۝۰ۚ (سورہ آل عمران ۱۵۲)
    اللہ تعالیٰ نے تو البتہ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قلع قمع کر رہے تھے اسی اثنا میں تم نے بددلی کا مظاہرہ کیا اور حکم کی تعمیل میں اختلاف کیا اور حسب دالخواہ فتح آجانے کے بعد نافرمانی کی ۔ بات یہ ہے کہ بعض تم میں سے دنیا کے طالب ہیں اور بعض تم میں آخرت کے طالب ہیں۔ پھر اللہ نے تم کو کافروں سے روک لیا تاکہ تم کو مبتلائے مصیبت کرے۔ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ پھر تم کو غم پر غم پہنچا (سورۃ آل عمران:۱۵۳)

    نتیجہ: آیت بالا میں دنیا کے طالبین کی کتنی سخت مذمت ہے۔ کیا اب بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی طلب اچھی چیز ہے۔
     
  4. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    ازواج مطہرات کے متعلق ارشادِ باری ہے:

    لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ (الاحزاب:32)
    یعنی ہر عورت سے تمہارا مرتبہ بالا ہے۔

    یہ آیت ازواجِ مطہرات کی فضیلت کے لئے نص قاطع ہے مگر یہ فضیلت ہے کس سبب سے؟ دینی شغل اور انہماک، تقوی اور پاکیزگی کی وجہ سے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی نسبت سے ان کی دنیا بھی دنیا کی ہر عورت سے بہتر ہوتی لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ان کو دنیا ملتا تو کجا، دنیا کی طلب سے بھی روکا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

    (۱۱) يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَہَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۝۲۸ (سورۃ الاحزاب)
    اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی بہار کی طالب ہو تو آؤ میں تم کو مال و متاع دے کر اچھی طرح سے رُخصت کر دوں۔

    (۱۲) وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا۝۲۹ (سورۃ الاحزاب)
    اور اگر تم کو اللہ تعالی اور اس کا رسول اور دارِ آخرت مطلوب ہے تو پھر تم میں سے نیک کرداروں کے لئے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

    نتیجہ: دنیا اگر اچھی چیز ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو اس سے کیوں روکا جاتا۔ ظاہر اور بالکل ظاہر ہے کہ دنیا میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہے کہ اللہ تعالی اس چیز کو ازاواجِ مطہرات کے لئے ناپسند فرماتا ہے اور ان سے صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یا تو دنیا لے لو اور رسول ﷺ سے علیحدہ ہو جاؤ یا اللہ ، رسول اور آخرت چاہیے تو پھر دنیا سے کوئی واسطہ نہ رکھو۔

    برق صاحب حدیث ہی کو الزام نہ دیجیے، قرآن کو غور سے پڑھیے جو بات وہاں ہے وہی یہاں ہے۔ کیا یہ آیت اس بات کی ترجمانی نہیں کرتی کہ مسلمانوں کے لئے آخرت اور کافروں کے لئے دنیا۔ مسلمانوں کو آخرت کی طرف نظر رکھنی چاہیے اور دنیا کی طلب سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے اللہ والوں کے لئے یہ جگہ عیش و راحت کی نہیں۔

    (۱۳) مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَہَا نُوَفِّ اِلَيْہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِيْہَا وَہُمْ فِيْہَا لَا يُبْخَسُوْنَ۝۱۵ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ۝۰ۡۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْہَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۶ (سورہ ھود)
    جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی عیش و راحت کا طالب ہے ہم ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیتے ہیں۔ اور ان کے لئے دنیا میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں کچھ نہیں سوائے آگ کے جو کچھ عمل انہوں نے کئے تھے وہ سب ناکارہ کر دیئے گئے اور جو کچھ وہ کرتے تھے وہ باطل تھا۔

    (۱۴) مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِيْ حَرْثِہٖ۝۰ۚ وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِيْبٍ۝۲۰ (سورۃ الشوری)
    جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو ہم اس کو اس میں سے دے دیں گے لیکن آخرت میں اس کا کچھ بھی حصہ نہیں۔

    نتیجہ: آیات بالا سے ثابت ہوا کہ ہر شخص کے لئے دنیا کی طلب مذموم ہے برخلاف اس کے آخرت کی طلب محمود ہے۔ طالب دنیا کے لئے سوائے دوزخ کے کچھ بھی نہیں۔ پھر بھی اگر دنیا مردار نہیں تو اور کیا ہے۔ اور اس کا طالب کتا نہیں تو پھر کیا ہے۔ کہ آخرت میں اس کے لئے سوائے آگ کے کچھ نہیں۔ ایسا شخص تو کتے سے بھی بدتر ہے کہ آگ کی خاطر دنیا کی طلب میں لگا ہوا ہے جس کا نتیجہ سوائے دوزخ کے اور کچھ نہیں۔ کیا یہ آیتیں حدیث زیر بحث کی تائید نہیں کرتیں۔ کیا مسلمانوں کی زبوں حالی کی ذمہ دار یہ آیتیں تو نہیں؟ اگر نہیں تو حدیث نے کیا قصور کیا ہے؟ برق صاحب انصاف کیجیے
    ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    769
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں