نائن الیون کے بعد امریکی مسلمانوں کی سیاست میں دلچسپی

ام اقصمہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏فروری 9, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    وائس آف امریکہ

    مسلمان امریکی آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں اور مذہبی اعتبار سے یہ امریکہ کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ امریکی مسلمانوں کی اکثریت تارکین وطن پر مشتمل ہے جن میں بہت سے افراد ایسے ہیں جن کی یہا ں پر اب دوسری یا تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ امریکی مسلمان زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں ۔ ان میں سے کئی پیشہ ورانہ شعبوں میں اعلیٰ مناصب پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ امریکی مسلمان ماضی میں بالعموم سیاست سے دور رہے ہیں مگر نائین الیون کے بعد بدلے ہوئے حالات میں ان میں سیاست میں حصہ لینے اور امریکہ کی سیاسی جماعتوں تک اپنی آواز پہنچانے، انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کا احساس بڑھ رہا ہے۔

    اب اکثر امریکی مسلمان ڈیموکریٹ اور ری پبلکن پارٹیوں کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں اور کئی ایک ان پارٹیوں کے صدارتی امیدواروں کی انتخابی مہموں میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق امریکہ کے رجسٹرڈ مسلمان ووٹروں میں 73 فی صد کی عمریں 30 سے 54 برس کے درمیان ہیں۔ وہ یا تو پیدائشی امریکی ہیں یا پھر کم ازکم 20 سال پہلے امریکہ میں آکر آباد ہوئے تھے۔ان میں 43 فی صد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور امریکہ کے متوسط طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔

    امریکہ میں مسلمان کچھ خاص علاقوں میں نسبتاً زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔ ان میں سے19 فی صد کیلی فورنیا میں، 13 فی صد نیویارک ،الی نوائے میں 10 فی صد، ٹیکساس میں 9 فی صد اور ورجینیا میں 7 فی صد آباد ہیں۔ اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ49 فی صد مسلمان ووٹرڈیموکریٹ پارٹی کے حامی ہیں جبکہ ری پبلکن نواز مسلم ووٹر صرف 9 فی صد ہیں۔36 فی صد مسلم ووٹر ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ وہ کس پارٹی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    کاش یہی کام کچھ عرصہ پہلے کیا جاتا، بہر حال دیر آئے درست آئے کے مصداق ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیئے کہ کسی بھی سسٹم سے لا تعلق رہ کر اسے آپ تبدیل نہیں کر سکتے اس کے لیے آپکو اپنے انداز میں سسٹم کا حصہ بننا لازمی ہے۔
     
  3. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    جی بلکل بجا فرمایا رفی بھائی۔اس میں تھوڑا سا اضافہ کرتی چلوں کے کینیڈا میں سکھ بہت بڑی تعدار میں رہتے ہیں اور کینیڈین حکومت میں‌بھی موجود ہیں۔جس وقت پہلی بار سکھ منتخب ہوئے حکومت کے لیے انہیں اجلاس میں ان کے پگھڑوں کے بغیر شرکت کرنے کی تاکید کی گئی لیکن انہوں نے اس کے خلاف بھی سینٹ میں مہم چلائی اور آخر کار یہ بات منوا کر ہی چھوڑی کے وہ اجلاس میں‌اپنے پگھڑوں سمیت ہی آیئنگے۔سسٹم کا حصہ بنتے ہوئے بھی انہوں‌نے اپنے تشخص کو قائم رکھا۔اللہ تعالی یہی اسپرٹ مسلمانوں کو بھی عطا فرمائے کہ وہ جہاں کہیں بھی جایئں اپنے تشخص کوباعث تفخر سمجھیں چہ جایئکہ باعث تمسخر۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 11, 2008
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں