مقدمه سنن ابو داود - از ڈاکٹر فریوائی

نعیم یونس نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مارچ 25, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    مقدمه سنن ابو داود


    مقدمہ
    از: ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی​

    الحمدلله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، أما بعد:
    فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، {خَلَقَ الإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ} [سورة العلق: 1-5]، وقال تعالى: {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لايَعْلَمُونَ} [سورة الزمر: 9]۔

    اللہ رب العزت کی بے پایاں حمد وثنا ہے کہ اس نے ہمیں دینی اور دنیوی نعمتوں کے ساتھ ایک عظیم نعمت عطا فرمائی جو آپ کے سامنے ہے، یہ ہمارے ’’تعارفِ اسلام‘‘ کے عظیم منصوبے کی پہلی کتاب ہے، جو ہم اُردو داں طبقے کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ اس کتاب اور اس سلسلے کی دوسری کتابوں کو قبول عام بخشے، اس کا فیض عام ہو اور اسلام کا صحیح تعارف ہم سب کے لئے آخرت میں کامیابی و کامرانی کی دلیل بن جائے، آمین۔

    اسلام کے فہم وتعارف کے بنیادی مراجع و مآخذ مندرجہ ذیل ہیں:

    ۱- کتاب اللہ العزیز اور اس کی وہ تفاسیر جو قرآن واحادیثِ صحیحہ وآثار سلف کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہیں
    ۲- احادیثِ صحیحہ وآثارِ صحابہ وتابعین وسلف صالحین
    ۳- سیرتِ نبویہ شریفہ
    ۴- ائمۂ دین وفقہاء اسلام کی مؤلفات

    برصغیر میں اردو زبان میں (۲۰۰) سال سے اسلام کے تعارف کا کام ہو رہا ہے، دعوت وتبلیغ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ سے متعلق مساعی کا ایک طویل سلسلہ ہے، ادارے اور افراد اپنی بساط ، اپنے منہج ومطمحِ نظر اوراہداف ومقاصد کے مطابق حسب توفیق اس خدمت کو انجام دے رہے ہیں (شکر اللہ سعیہم وأجزل لہم المثوبۃ)، لیکن برصغیر میں ہونے والی اِن مساعی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بلا خوف ِتردید کہی جاسکتی ہے کہ اسلام کے صحیح تعارف کے سلسلے میں ہمیں بڑی مشکلات کا سامنا ہے، ہماری مساجد ، ہمارے مدارس وجامعات، ہمارے دعوتی وتبلیغی مراکز، ہماری صحافت گروہ بندی، تحزب،تقلید، اور تصوف کے اثراتِ بد سے اسلام کے تعارف کی ذمہ داری سے حقیقی معنوں میں عہدہ برآ ہونے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
    ملک کا حکمراں اور اکثریتی طبقہ اور اس کے رجحانات ، خیالات ،منصوبوں اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات سے ملتِ اسلامیہ اس وقت تک نبرد آزما نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنی صحیح صف بندی اور صحیح بنیاد پر اصلاح وتربیت کے عمل سے نہ گزرے۔
    دعوتی و تعلیمی کاموں کے تجزیئے کے بعد جو بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ صرف اس ملک ہی میں نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی ان میدانوں میں ہونے والے تجربات کو نقد ونظر کی کسوٹی پر پرکھنا بے حد ضروری ہوگیا ہے ۔
    ہماری اساسِ دین کتاب اللہ اور سنتِ صحیحہ ہے، جس کی تبلیغ ودعوت ہم پر فرض ہے ، اور فہمِ اسلام میں سلف کے فہم وتعامل کی پابندی کلیدی اہمیت کی حامل شرط ہے ۔
    ہندوستان میں شاہ ولی اللہ دہلوی (رحمہ اللہ) (م ۱۱۷۶؁ھ) نے فارسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ اور موطا امام مالک کی شرح اور فنِ اصول تفسیر میں ایک مختصر جامع ’’الفوز الكبير‘‘ نامی رسالہ تحریر فرما کر عام مسلمانوں کی ان کی مادری زبان میں رہنمائی کا کام شروع کیا، اس کام کو آپ کے علم کی وارث اولاد نے آگے بڑھایا ، شاہ عبدالعزیز(رحمہ اللہ) کی تصنیفات بالخصوص تفسیرِقرآن، اور شاہ عبدالقادر(رحمہ اللہ) کا اردو ترجمۂ قرآن پھر شاہ ولی اللہ(رحمہ اللہ) کے نامور پوتے امامِ عصر ومجدد ِ دین شاہ اسماعیل (رحمہ اللہ )کی مصلحانہ اور مجاہدانہ کوششوں نے دعوت وتبلیغ کے کام کو گھر گھر پہنچا دیا، اور عملاً اردو زبان مسلمانوں کی دینی زبان قرار پائی۔
    علامہ نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی (رحمہ اللہ ) (م ۱۳۰۷؁ ھ) نے عربی اردو اور فارسی زبانوں میں خود سینکڑوں کتابیں تصنیف فرمائیں اور کتاب وسنت اور منہجِ سلف صالحین کی اشاعت فرمائی، نیز ائمہ حدیث وفقہ کی کتابوں کی اشاعت فرما کر انہیں سارے عالم میں پھیلایا اور علماء حق کی جماعت کی ہمت افزائی فرمائی ، چنانچہ آپ کی رہنمائی سے علامہ نواب وحید الزمان حیدرآبادی اورعلامہ بدیع الزمان حیدرآبادی (رحمہما اللہ ) نے صحاح ستہ اور موطاکو اردو کا جامہ پہنایا ۔
    میاں نذیر حسین محدث دہلوی (رحمہ اللہ) (م ۱۳۲۰؁ھ) اور ان کے با کمال مشاہیر تلامذہ نے کتاب وسنت کی اشاعت اور منہجِ سلف کی ترویج، احیاء سنت اور ردّ بدعات وشرکیات کا کام مختلف انداز سے کیا، جن میں کتابوں کی تصنیف وتالیف اور ان کی اشاعت کا کام دین کی مؤثر اور مفید خدمت ہے۔
    اگر ہم اسلام کے تعارف میں ہونے والی خدمات کا جائزہ مذکورہ بالا معروضات کے حوالے سے لیں تو اسلام کے صحیح تعارف کا حجم اور وزن واضح ہوجائے گا۔
    اس وقت ہمارا دینی، تعلیمی اوردعوتی ڈھانچہ تقلیدوتحزب پر قائم ہے ، نیز عربی زبان سے ناآشنائی اور دعوت کے کام میں نااہل لوگوں کی شرکت بھی ایک بڑا مرض ہے ، دعوت،تعلیم اور صحافت سے متعلق لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے مآخذ ومصادر سے استفادے میں کوتاہی کا شکار ہے،مشہور مراجع اور مستند مآخذ میں اس کے یہاں فرق وتمییز نہیں ، صحیح وضعیف احادیث وآثار کا اس کو پتہ نہیں،فقہی مسالک کی پابندی سے مزید بُعد پیدا ہورہا ہے،معاشرتی پابندیوں کا خوف اور بائیکاٹ کا ڈر بھی صحیح اسلام پر عمل کی راہ میں رکاوٹ ہے ، لوگوں کی ایک بڑی تعداد حق کی تلاش میں ہے، لیکن اسے یا توحق مل ہی نہیں رہا ہے، یا یہ کہ حقیقت وخرافات کے گڈ مڈ ہونے سے صحیح اسلام تک پہنچنا ایک بڑا مسئلہ ہوگیا ہے،صحیح مراجع بھی لوگوں کو دستیاب نہیں ہیں ، علماء حق کے تعاون کے بغیر اسلامی مراجع ومآخذ سے استفادہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ، ایسی حالت میں عربی مراجع سے استفادہ میں بھی بڑے اشکالات ہیں چہ جائیکہ عربی زبان واسلامیات سے نابلد افراد اردو یا ہندی کتابوں سے اسلام سیکھیں ۔
    اگر اردو مؤلفین کی ایک فہرست تیار کی جائے اور ان کی مؤلفات سے ان کی صلاحیت وقابلیت کا چارٹ تیارکیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس شعبہ میں قابل اعتماد افراد کی بڑی کمی ہے۔
    بازار میں حدیث کی کتابوں کے تراجم موجود ہیں جن میں اسلام کے صحیح تعارف میں صحیح بخاری وصحیح مسلم صحت وجامعیت کے اعتبار سے سب سے بہتر کتابیں ہیں ۔
    سنن اربعہ (سنن ابو داود،سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ ) کی بیشتر احادیث میں صحیح وضعیف کی نشاندہی نہیں ہے اس لئے ان سے استفادہ میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے ،تفسیری مواد میں تراجم کی حد تک زیادہ تحریف وتاویل کی گنجایش نہیں ہے، لیکن تفسیر وحواشی میں قرآن کی تعلیمات کو اپنے مذہب وعقیدہ کے مطابق بنانے کی کوششوں کا حال پڑھے لکھے لوگوں پر مخفی نہیں ۔
    اسلامی علوم ومعارف کی اردو اور دوسری زبانوں میں
    اشاعت کا عظیم علمی ودعوتی منصوبہ
    اگست ۱۹۹۷؁ء میں دار الدعوۃ (نئی دہلی) کے قیام اور اس کے مقاصد پر دہلی ہی میں ایک سیمینار کے ذریعہ اس کا تعارف کرایا جا چکا ہے، سیمینار کا عنوان تھا ’’ عصر حاضرمیں اسلام کا صحیح تعارف‘‘ ، فاضل شرکاء نے اپنے مقالات اور تجاویز کے ذریعے اس منصوبے کی تصویب وتائید فرمائی جس سے ہمارے عزائم کو تقویت ملی اور عملی طور پر اس کام کے لئے جد وجہد کا آغاز ہوا، فالحمد للہ۔
    دار الدعوۃ نے صحیح اسلام کے تعارف کے عنوان سے جو پروگرام مرتب کیا ہے وہ مختصراً اس طرح ہے:
    * تفسیر میں:
    ۱- علامہ شیخ عبدالرحمن سعدی کی تفسیر (تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان) کا اردو اور ہندی ترجمہ، (الحمد للہ اُردو ایڈیشن زیرِ طباعت ہے )
    ۲- تفسیر وحیدی ، تألیف علامہ وحید الزمان حیدرآبادی ۔ (زیرطباعت)
    ۳- تفسیر شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تفسیر امام ابن القیم کی اشاعت (زیر تالیف وترجمہ)۔
    * حدیث میں:
    ’’حدیث انسائیکلوپیڈیااُردو‘‘ کی تدوین واشاعت ،اس منصوبے میں مندرجہ ذیل آٹھ کتابیں ہیں:
    (۱) صحیح بخاری
    (۲) صحیح مسلم
    (۳) سنن نسائی
    (۴) سنن ابی داود
    (۵) سنن ترمذی
    (۶) سنن ابن ماجہ
    (۷)موطا مالک
    (۸) سنن دارمی

    (الحمد للہ یہ منصوبہ پایہ ٔ تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور سنن ابوداود کا یہ ایڈیشن اس منصوبہ کی پہلی کتاب ہے )

    * سیرت نبویہ وتاریخ اسلام میں:
    محدثین کے اصول جرح وتعدیل اور تنقیدی اصول کی بنیاد پر ہونے والے قدیم وجدید علمی کام سے استفادہ کرکے ایسی کتابوں کی تیاری واشاعت کا کام جس سے اس میدان میں اردو میں ایک مفید اضافہ ہوگا، ان شاء اللہ۔
    * معارف شیخ الاسلام ابن تیمیۃ وعلامہ ابن القیم وامام محمد بن عبدالوہاب(رحمہم اللہ ):
    اسلام کی شرح وتفسیر اور صحیح ترجمانی کے باب میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ، امام ابن القیم، اور مجددِ دین شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب -رحمہم اللہ- کے علوم ومعارف کی اہمیت وافادیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، ان کی تاثیر اور افادیت میں بھی کسی کو کلام نہیں، آج عالم اسلام میں حقیقی دینی بیداری کی بنیاد یہی کتابیں ہیں، اس لئے اردو داں طبقے کے لئے ان افادات کی اہمیت پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
    مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں مولانا ابو الکلام آزاد (رحمہ اللہ ) کی جدوجہد اور سوچ کا ذکر بے جا نہ ہوگا، موصوف کے نزدیک اسلامیان ہند کے لئے معارف ابن تیمیہ وابن قیم کو اردو میں منتقل کرنے کی بڑی اہمیت تھی، چنانچہ آپ کی ہمت افزائی پرمولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے بعض رسائل کو اردو کا جامہ پہناکر شائع کیا ،جب مولانا محمد بن ابراہیم جوناگڈھی (رحمہ اللہ )نے تفسیر ابن کثیر اور اِعلام الموقعین لابن القیم کو اردو کا جامہ پہنایا اور اس کی اشاعت کرکے اردو لٹریچرمیں مفید اضافہ فرمایا تو مولانا ابو الکلام آزاد ؒ نے دو خط لکھ کر انہیں ہدیۂ تبریک پیش کیا، اس کام کی اہمیت کو واضح کیا اور اپنے تعاون کی بھی پیشکش کی۔
    بر صغیر کی متنوع دعوتی ودینی اورتعلیمی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ اسلامی لیٹریچر میں بوجوہ چند وہ صلاحیت نہیں نظر آتی جو اس وقت امت کی ضرورت کو پوری کرسکے۔
    اردو ہندی اور علاقائی زبانوں میں دار الدعوۃ کے اس علمی ودعوتی منصوبے کودعوت اسلامی کی حقیقی ضروریات کی تکمیل میں اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہوگی، ان شاء اللہ۔
    مذکورہ سیمینار کے سال ڈیڑھ سال کے بعد ابتدائی طور پر ’’حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو‘‘ پر کام شروع ہوا، چونکہ صحیحین (بخاری، مسلم )کی احادیث اور موطا امام مالک کی اکثر احادیث صحیح اور ثابت شدہ ہیں ، اور امت کے ہر طبقے میں مقبول ومستند ، اس لئے ان کے تراجم اور تعلیق وحواشی کا کام مؤخر کر دیا گیا اور سنن اربعہ پر کام شروع کیا گیا، سب سے پہلے مجلس علمی دار الدعوۃ نے ’’سنن ابن ماجہ‘‘ پر کام شروع کیا اور سارے مراحل سے گزر کر یہ کام بالآخر مکمل ہوا،اس کے بعد مجلس نے سنن ابی داود کا کام مکمل کیا ، اور الحمدللہ ’’سنن نسائی‘‘ اور ’’سنن ترمذی‘‘ پر بھی کام مکمل ہو چکا ہے اور بقیہ کتابوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔
    چونکہ ابتدا ہی سے یہ بات طے کر لی گئی تھی کہ اس نئی اشاعت میں ہر حدیث کی مختصر تخریج بھی شامل رہے گی یعنی اس بات کی نشاندہی کی جائے گی کہ یہ حدیث دوسری حدیث کے مستند مآخذ ومراجع میں اور کہاں کہاں پائی جاتی ہے، نیز اس حدیث کا صحت اور ضعف کے اعتبار سے کیا رتبہ اور درجہ ہے، اردو ترجمہ میں عصر حاضر کے ہندوستانی مسلمانوں کی اردو فہمی کے معیار کو بھی مد نظر رکھنا ہے اور دورِ جدید کی ٹیکنالوجی ( کمپیوٹروانٹرنٹ) کے ذریعہ اس کی اشاعت کا کام بھی ہونا ہے، اس لئے بظاہر کام کی تکمیل میں کافی وقت لگا، لیکن الحمدللہ اب تک ادارہ کی پالیسی یہ رہی ہے کہ جب تک موجودہ امکانات ووسائل کے مطابق مطلوبہ ہدف پورا نہ کر لیا جائے کام کو فائنل نہ کیا جائے، اور اب تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے، اور اب ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ایک ایک کتاب قارئین تک پہنچاتے جائیں۔ (والحمدلله الذي بنعمته تتم الصالحات).
    اردو زبان میں علمی وتحقیقی کتابوں کی اشاعت کی اہمیت:

    تحقیق وتخریج اور علمی مباحث کے لئے عربی زبان کو اولیت حاصل ہے اور سارا کام اسی زبان میں صدیوں سے ہورہا ہے ،خود ہندستانی علماء کی اہمیت کی حامل تصنیفات عربی زبان ہی میں ملک وبیرون ملک پڑھی جاتی ہیں، اور آج بھی زوروں پر یہ سلسلہ جاری ہے، راقم الحروف کا سارا کام خود عربی زبان ہی میں ہے، لیکن تہذیب وتمدن اور ثقافت وعلم کے میدان میں بے انتہا ترقی کے اس دور میں جب کہ مختلف زبانوں میں اسلامی علوم وثقافت کی منتقلی کا کام جاری ہے اور یہ دینی معلومات مختلف اورتیز وسائلِ ابلاغ کے ذریعہ ہر طرح کی استعداد وصلاحیت والوں تک پہنچ رہی ہیں، اس لئے اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ اسلام کے مستند مآخذ ومراجع اور پختہ کار ائمۂ اہلِ سنت کی تالیفات کو اُردو اور علاقائی زبانوں میں اس انداز سے منتقل کیا جائے کہ اختصار وایجاز کے ساتھ علمی مباحث کا خلاصہ بھی قارئین کے سامنے آ جائے، بالخصوص عام انسانوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے سلسلہ میں مطلوبہ صحیح اور مفید معلومات اس انداز سے فراہم کردی جائیں کہ جس سے علمی طور پر ذہن اور قلب کو اطمنان حاصل ہو جائے، اس لئے کہ کتاب وسنت میں کتاب اللہ کے ثبوت کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی کوئی اختلاف کی بات مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی، جبکہ قرآن کی شرح وتفسیر کی حامل احادیث نبویہ کے بارے میں ہمیشہ سے صحت وضعف کے مسائل میں اختلاف رہاہے۔
    ہم نے اپنے اس منصوبے میں مذکورہ بالا بات کی اہمیت کے پیش نظر ہر حدیث پر صحت وضعف کا حکم لگا کر اور حسب ضرورت اس کی توجیہ وتعلیل کر کے اِن احادیث پر ائمۂ محدثین کے اقوال کا خلاصہ عام قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے، جبکہ سو سال سے زیادہ کے عرصہ سے حدیث کی متعدد کتابیں پبلک میں رائج ہیں اور ان میں صحیح وضعیف کی نشاندہی نہیں ہے، جس سے عوام ہی نہیں بلکہ خواص بھی استفادہ نہیں کر سکتے ۔
    اس کے ساتھ ساتھ متن حدیث کی صحت اور حدیث کے دوسرے مآخذ ومراجع میں اس حدیث کے موجود ہونے سے کتاب کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے، ضرورت پر مفید حواشی کے اضافہ سے قارئین کرام کے دینی فہم میں اضافہ ہوگا ، ان شاء اللہ۔
    احادیث کی تصحیح وتضعیف کا فائدہ اور مقصد:
    علماء حدیث نے اصول حدیث کی کتابوں میں صاف لفظوں میں یہ تحریر فرمادیا ہے کہ محدثین نے علم حدیث کے قواعد وضوابط اور جرح وتعدیل کے مسائل کو مرتب ہی صرف اس واسطے کیا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مقصداور فائدہ حدیث کی صحت وضعف کی تشخیص ہے تاکہ ثابت شدہ احادیث پر عمل کیا جائے اور غیر ثابت شدہ ضعیف ،منکر اورموضوع احادیث سے اعراض واجتناب کیا جائے۔
    حافظ عراقی فرماتے ہیں : ’’بيان صحته أو حسنه أو ضعفه فإن ذلك هو المقصود الأعظم عند أبناء الآخرة، بل وعند كثير من المحدثين‘‘ (مقدمة كتاب المغني عن حمل الأسفار، 1 / 2). یعنی : ’’ آخرت کے طلبگاروں کے نزدیک بلکہ اکثر محدثین کے یہاں حدیث کا صحیح یا حسن یا ضعیف ہونا ہی علمِ اصولِ حدیث کا سب سے بڑا مقصد ہے‘‘۔
    حافظ سیوطی نے (الفیۃ الحدیث) کے مقدمہ میں فرمایا ہے:
    علم الحديث ذو قوانين تحد يدرى بها أحوال متن وسند
    فذانك الموضوع والمقصود أن يعرف المقبول والمردود

    ’’علم حدیث جس کے قوانین اور اصول محدَد ہیں، ان کے ذریعہ متن حدیث اور سند حدیث کے احوال کا پتہ چلایا جاتا ہے، اور ان قوانین کا موضوع اور مقصد بس یہی ہوتا ہے کہ اس سے حدیث کے قبول اور ردّ کا علم حاصل ہوجائے‘‘۔
    حافظ سیوطی فرماتے ہیں: ’’علم حدیث کی غرض وغایت اور اس کا اصلی مقصود یہ ہے کہ احادیث کے قبول یا ردّ ہونے کا علم حاصل ہو جائے تاکہ صحیح اور ثابت احادیث پر عمل کیا جائے اور ضعیف اور ساقط احادیث کو چھوڑ دیا جائے‘‘ (تدریب الراوی ، ۱؍۲۶)۔
    ائمۂ حدیث نے انتہائی بالغ نظری سے ان اصول وضوابط کو بنایا اور ان کے ذریعہ سے متن احادیث اور رجالِ احادیث کی تحقیق کا کام کیا، اور شروع زمانہ سے آج تک یہ کام برابر جاری ہے، اور ان عظیم کوششوں سے نہ یہ کہ علم حدیث زندہ ہے بلکہ اسلام کی حقانیت پر یہ ایک واضح اورمسلسل دلیل ہے،{إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون}.
    ہم نے انتہائی اختصار سے ایک یا دو لفظوں میں ہر ہر حدیث کی صحت اور ضعف کی نشاندہی کی ہے، اہل علم جانتے ہیں کہ ایک ایک حدیث پر ایک ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے ، ہم نے تو نئے اور پرانے ناقدین حدیث اور حاذقین فن کے علوم کا خلاصہ پیش کر دیا ہے، جس سے ہر سطح اور صلاحیت کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور اہل علم تخریج میں مذکورمآخذ کی طرف رجوع کر کے اس کی تفصیل بھی معلوم کر سکتے ہیں۔
    حدیث کی تصحیح وتضعیف کی نشاندہی در حقیقت اتمام حجت کی ایک اہم کڑی ہے، اب یہ ناظرین کا کام ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو حرز جان بناتے ہیں یا اپنی پرانی روش ہی پر قائم رہتے ہیں، وما علينا إلا البلاغ.

    کیمیائے سعادت: اللہ رب العزت نے دنیا وآخرت میں کامیابی کو ایمان اور عمل صالح سے مشروط کردیا ہے ، سورہ (العصر) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَالْعَصْرِ، إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ، إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ}.
    ( زمانے کی قسم! بے شک انسان سراسرنقصان اور گھاٹے میں ہے ،سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت وتلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی )
    فلاح ونجات کے لئے کتاب وسنت کی اتباع اور اللہ و رسول کی اطاعت واجب ہے، اس موضوع کو کتاب وسنت میں طرح طرح سے واضح کیا گیا ہے، کہیں اطاعت واتباع کا حکم دے کر، کہیں اتباع اور اطاعت کی مخالفت کے عواقب بتا کر، کہیں دوسری قوموں کے انحراف اور اس کے نتیجے میں ان کے قعر مذلت میں چلے جانے کی بات بتا کر، کہیں صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لئے سعادت دارین کی خوش خبری دے کر۔

    خلاصہ یہ کہ دین اسلام کا اصل ماخذ کتاب اور سنت صحیحہ ہے، نیز کتاب وسنت کو جس نہج پر سلف صالحین نے سمجھا اور جس طرح ان تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاری ہم اسی طریقہ پر چل کر اپنے آپ کو کامیاب وکامران کر سکتے ہیں۔
    اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: {فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} (توجسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے)، (سورۃکہف:۱۱۰)
    تابعی جلیل فضیل بن عیاضؒ نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد اخلاص و للہیت اور اتباعِ سنت ہے، یعنی کسی بھی عمل کی عند اللہ قبولیت کی دو شرطیں ہیں: پہلی یہ کہ وہ کام اللہ کی رضاجوئی کے لئے کیا جائے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ سنتِ محمدیہ کے مطابق ہو، اسی کو موصوف نے ’’أخلصه وأصوبه‘‘ کی تعبیر سے واضح کیا۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب وسنت پر چلنے کو ہمارے لئے نسخہ ٔکیمیا بتایا : « تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما: كتاب الله وسنتي»، (اے مسلمانو! میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ ے جارہا ہوں، اگر ان دونوں کو پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت اور میرا طریقہ)۔
    ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑا تحفہ یہی ہے کہ عقیدۂ توحید کے ساتھ اس کی رہنمائی سنت صحیحہ کی طرف کردی جائے،ہماری اِن کتابوں کے ذریعہ ان شاء اللہ توحید اور سنت کی شاہراہ پر چلنا عام مسلمانوں کے لئے آسان ہوجائے گا، صرف سچی طلب ، صالح نیت اور عزم و حوصلہ کی بات ہے۔

    طریقہ ٔ کار:
    مجلس علمی نے مذکورہ کتبِ حدیث پر کام کی ترتیب اس انداز سے بنائی کہ سب سے پہلے ایک رکن نے حدیث کے ترجمہ کا کام کیا، پھر اس کی مراجعت وتدقیق کا کام ہوا، ساتھ ہی حدیث کی تخریج اور اس کی صحت وضعف کی نشاندہی کام ہوتا رہا، اور اس کام کو مرحلہ وار کمپیوٹر میں داخل کیا گیا، اور کئی مراحل میں فائنل پروف تیار ہوا۔
    اراکین مجلس علمی :
    دارالدعوۃ کی مجلس علمی کے محترم اراکین کی فہرست درج ذیل ہے:
    (۱) مولانا احمد مجتبیٰ سلفی
    (۲) مولانا رفیق احمد سلفی
    (۳) مولانا محمدایوب عمری
    (۴) مولانا محمد خالد عمری
    (۵) مولانا محمد مستقیم سلفی
    (۶) مولانا بشیرالدین تیمی

    زیر نظر کتاب میں ترجمے اور تحشیہ کے کام میں مولانا رفیق احمد سلفی ، مولانا محمد مستقیم سلفی ،مولانا محمد خالد عمری،مولانا بشیرالدین تیمی، اور مولانا ابوالبرکات اصلاحی کا تعاون حاصل رہا ہے ، مراجعت وتدقیق کا کام مولانا رفیق احمد سلفی، مولانا احمد مجتبیٰ سلفی، اور مولانا رضاء اللہ بن عبدالکریم مدنی نے کیا ، نیز تخریج احادیث کا کام مولانا احمد مجتبیٰ سلفی ، مولانا عبدالمجید مدنی اور ابواسعد قطب محمد اثری نے کیا ہے ۔
    راقم الحروف نے زیر نظر کتاب کے اردو ترجمہ نیز تخریج وتحقیق اور حواشی کا بالاستیعاب مراجعہ کیا اور ضروری اضافے بھی کئے، امام ابو داود نے احادیث اور رواۃ پر کلام کیا ہے، اور بعض ایسے افادات بھی دئیے ہیں جن کا حدیث کی تصحیح وتضعیف یا شرح وتفسیر سے کوئی تعلق نہیں، یہ احادیث کے آخر میں تھے اور ان کا تعلق صرف اہل علم سے ہے، تو اس طرح کے مقامات کا اردو ترجمہ نہیں دیا گیا ہے، ایسے ہی اصل متن میں پوری کی پوری اسانید موجود ہیں؛ اور عام قاری کو اس کی ضرورت نہیں اس لئے ترجمہ میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے، خود اپنے ان اضافات اورتصحیحات کو دوسروں کے سامنے پیش کیا تاکہ مزید اطمینان حاصل ہوجائے، اس موقعے پر جامعۃ ابی ہریرۃ (دارالدعوۃ ، لال گوپال گنج، الہ آباد)کے شیخ الجامعۃ مولانا ازہر بن عبدالرحمن مبارکپوری کا شکر گزار ہوں کہ موصوف نے شروع کے پانچ سو صفحات پر نظر ڈالی نیز جامعہ کے استاذ مولانا ابواسعد قطب محمد الاثری کا بھی مشکور ہوں کہ موصوف نے بڑی محنت سے پوری کتاب کی مراجعت میں میرا ہاتھ بٹایا ، فجزاہم اللہ خیرًا۔
    کمپیوٹر کمپوزنگ :
    مسودہ کی طباعت اور فائنل پروف کا سارا کام دارالدعوۃ کے شعبۂ کمپیوٹر کے مندرجہ ذیل اراکین نے انجام دیا:
    مولانا محمد رئیس الاعظم فیضی ،مولانا فیض الباری عمری ، مولانا شکیل احمدسلفی، مولانا ہلال الدین ریاضی ، ماسٹر محمد اکرام الحق، مولانا انظر عالم ندوی ، عبداللہ شوقی فریوائی۔
    اور یہ کام عزیزم عبدالمحسن فریوائی (سلمہ اللہ) کی مکمل نگرانی اور خود ان کی ذاتی دلچسپی اور لگن سے مکمل ہوا۔

    شعبۂ انتظام وانصرام:
    دارالدعوۃ کے دعوتی اور علمی منصوبے کے انتظام وانصرام کا کام مندرجہ اراکین انجام دے رہے ہیں:
    مولانا احمد مجتبیٰ سلفی (نائب صدر )،مولانا محمد ایوب عمری(جنرل سکریٹری)، ڈاکٹر تابش مہدی، ڈاکٹر عبدالظاہرخان۔
    قارئین سے گذارش :
    کمپیوٹر کی طباعت نے جہاں بہت ساری آسانیاں پیداکردی ہیں وہیں فائنل پروف کی تیاری تک اس بات کا خدشہ رہتاہے کہ بعض غیر مصححہ فائلیں تصحیح شدہ فائلوں سے خلط ملط ہوجائیں، اور طباعت میں کچھ اغلاط باقی رہ جائیں، بالخصوص جب کہ لوگوں کی ایک جماعت نے یہ کام مختلف مراحل اور اوقات میں انجام دیاہو، اس لئے کسی بھی علمی اور عام تصحیح و طباعت کی غلطی کے پائے جانے کی صورت میں ہمیں اس سے مطلع کریں۔

    تشکر وامتنان:
    سنن ابو داود(اُردو) کو قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت کے اس موقع پرہم رفقائے دارالدعوۃ کا صمیم قلب سے شکرگزار ہیں کہ ان کی شب وروز کی جدوجہد کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ، نیز اس مناسبت سے ہم اپنے تمام محسنین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے پرخلوص اور مفیدمشوروں اور نیک دعاؤں و تمناؤں کے نتیجہ میں ہم اس قابل ہوئے کہ قارئین تک اس مفید سلسلہ کو پہنچا سکیں۔
    ان میں سر فہرست شخصیت اس عصر کے بے مثال محدث اور مجددِّدین امام العصرشیخ محمد ناصر الدین البانی (رحمہ اللہ )کی ہے، جن کی مجالس کی صحبت اور مؤلفات کی مصاحبت نے ناچیز اور اس کے رفقاء میں -بحمد اللہ- یہ جذبہ اور حوصلہ دیا کہ بے سروسامانی کے عالم میں ہم سلف صالحین کے افادات کو اُردو اور دیگر ہندستانی زبانوں میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی میں لگ جائیں، موصوف سے ٹیلیفون پر جب میں نے اپنے اس پروگرام کا ذکر کیا تو آپ نے اس کو بہت پسند کیا اور اپنی کتابوں سے استفادہ اور اس کو عام کرنے کی تلقین ونصیحت کی، نیز اپنی مجالس میں منہج سلف پر چلنے اور اس کی دعوت وتبلیغ اور اشاعت کی نصیحت برابر فرماتے تھے، رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔
    اس کے بعد عصرحاضر کی دعوتی وتبلیغی جدوجہد کے امام علامہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز (رحمہ اللہ) ہیں، جن کی دعوتی واصلاحی جدوجہد سے سارا عالم فیض یاب ہو رہا ہے، موصوف کی خدمات سے برصغیر پاک وہند میں دعوت ، تبلیغ، تدریس، تصنیف اورتالیف کے میدانوں میں نمایاں مفید اضافہ ہوا ہے، میری اور میرے ساتھیوں کی تمام تر تعلیم وتربیت جامعہ سلفیہ (بنارس) میں ہوئی،اس کے بعد جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) میں، موصوف میرے ہندستان کی طالب علمی کے زمانہ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے چانسلر تھے اور جامعہ سلفیہ (بنارس) خصوصی طور پر آپ کے الطاف وعنایات سے مستفید ہو رہا تھا، آپ کے عہد مسعود میں ناچیز کا مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الشریعۃ میں داخلہ ہوا اور اس بات پر بڑی خوشی ومسرت ہے کہ آپ کے عہدمیں ۱۳۹۴؁ھ میں مدینہ منورہ پہنچا اور ایک تحریری انعامی مقابلہ میں تفسیر ابن کثیر کا انعام آپ کے ہاتھوں سے وصول کرنے کا شرف حاصل ہوا، موصوف میرے علمی ،تصنیفی اور دعوتی کاموں سے خوش ہوتے ، آپ کے مفید مشوروں سے میرے کاموں کو جلا ملی، دار الدعوۃ کے مقاصد وپروگرام کی تائید بھی حضرت الشیخ سے حاصل تھی، رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔
    تیسری شخصیت عزت مآب شیخ صالح بن عبدالرحمن الحصین (رئیس شؤون المسجد الحرام والمسجد النبوی ) حفظہ اللہ کی ہے ، جن کی خصوصی عنایتیں مجھ پر رہی ہیں ، اسی تعلق اور حسن ظن کی بنا پر موصوف کے ساتھ میرا علمی تعاون بھی ہے ، اور موصوف نے انہیں تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے ناچیز کے غریب خانہ دہلی میں قیام پسند فرمایا ،رفقاء دارالدعوۃ کے کاموں کا جائزہ لیا اور ان کی ہمت افزائی کی ، فجزاه الله خيرًا.
    اس سلسلہ کی چوتھی اہم شخصیت رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری عزت مآب ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی حفظہ اللہ سابق چانسلر امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض)، و سابق وزیر اوقاف سعودی عرب کی ہے، موصوف جب جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے چانسلر تھے تو ۱۴۰۸؁ھ میں جامعہ میں بحیثیت پروفیسر میرا تقرر ہوا ، لیکن جامعہ سلفیہ ( بنارس) میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کی وجہ سے وہاں رہ نہ سکا اورآپ کے اصرار پر دو بارہ ۱۴۱۲؁ھ میں ریاض منتقل ہوا اور اس وقت سے جامعۃ الامام کے کلیۃ اصول الدین (ریاض) میں بحیثیت پروفیسر تدریسی خدمت انجام دے رہا ہوں، یہاں کے قیام اور جامعہ کے علمی ماحول اور موصوف کی مسلسل ہمت افزائی سے الحمد للہ تحقیق وتصنیف اور ترجمہ کے ذاتی مشاغل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حوصلہ بخشا کہ ہم اس اہم منصوبہ پر کام جاری رکھ سکیں ، جزاہ اللہ خیراً۔
    انہیں محسن شخصیات میں شیخ ابن باز(رحمہ اللہ ) کے شاگردِ رشید اور دست راست علامہ الشیخ عبدالمحسن العباد (حفظہ اللہ) کی شخصیت ہے، جو میرے کالج کی طالب علمی کے زمانہ میں جامعہ اسلامیہ کے وائس چانسلر تھے، موصوف سے (بی،اے) کے آخری سال میں فقہ کی تعلیم حاصل کی، نیز مجھے (ایم،اے ) اور (پی،اچ،ڈی) میں بحیثیت سپروائزر آپ سے آٹھ سال استفادہ کا موقع ملا، اور مسلک اہل سنت وحدیث اور منہج محدثین سے شغف میں اضافہ ہوا، فجزاہ اللہ خیراً۔
    دار الدعوۃ کے علمی پروگرام شروع ہونے کے بعد جن اداروں اور شخصیات نے ہماری ہمت افزائی کی ان کا ذکر طوالت کا باعث ہوگا، سبھی حضرات ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔
    اس موقع پر جامعہ سلفیہ (بنارس) کے اساتذہ ٔکرام کا تذکرہ خصوصی طور پر اس لئے ضروری ہے کہ دار الدعوۃ کا یہ پروگرام در اصل ان کی تدریسی وتعلیمی جدوجہد کا ایک ثمرہ اور نتیجہ ہے، ان اساتذۂ کرام میں جنہوں نے کتاب وسنت کی اشاعت وترویج کا کام بڑے جذبہ اور ولولہ سے کیا ،مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی ، مولانا شمس الحق بہاری، مولانا عبدالوحید رحمانی(رحمہم اللہ) اور مولانا محمد رئیس سلفی حفظہ اللہ ہیں، اور ان سب میں سب سے ممتازاستاذ محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری (وکیل الجامعہ السلفیہ) ہیں، جنہوں نے جامعہ سلفیہ کے اسٹیج سے ہندوستان میں بامقصد تصنیف وتالیف کے کام کو بڑی کامیابی سے آگے بڑھایا، اساتذہ ٔجامعہ سلفیہ کی سرپرستی میں دار الدعوۃ کے کارکنان نے بھی اپنے کام کو آگے بڑھایا ،ڈاکٹر صاحب موصوف کی شفقت و رہنمائی ادارہ کے لئے باعث شرف واطمینان ہے۔
    اس موقع پر جامعہ سلفیہ کے ناظم اعلی مولانا عبدالوحید سلفی (رحمہ اللہ ) کا ذکر زبانِ قلم پر آرہا ہے، موصوف اس طرح کے مفید منصوبوں کو دیکھ کرہم سب کی ہمت افزائی کرتے تھے ، اور غیر مشروط تعاون بھی، رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
    یہاں پر استاذ محترم مولانا ابوالخیر فاروقی رحمانی رحمہ اللہ کا ذکر ضروری محسوس ہوتا ہے جن سے میں نے ۱۹۶۴ء؁ میں گاؤں کے مدرسہ مدینۃ العلوم میں عربی تعلیم کی ابتدا کی اور آخر میں والدین -رحمہما اللہ وغفر لہما- کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے جن کی زیر تربیت بچپن ہی سے ہمیں ایک ایسا سازگار ماحول ملا جس سے اصل دین کتاب وسنت سے شغف وتعلق اور تمسک کی راہوں پر چلنا آسان ہوگیا ۔
    والد صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کے دعوتی ذوق اورکتاب وسنت سے شغف کی مثال کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ مجھے بچپن ہی میں یہ شعر زبان زد ہوگیا :
    اصل دیں آمد کلام اللہ معظم داشتن
    پس حدیثِ مصطفی برجاں مسلم داشتن
    اللهم اغفر لهم، وارحمهم رحمة واسعة.


    عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی
    استاذِ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ، ریاض
    وصدر مؤسسۃ دار الدعوۃ التعلیمیۃ الخیریۃ، نئی دہلی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922

    قارئین کرام کی خدمت میں
    از: مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)​

    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد و آلہٖ و أصحابہ أجمعین، أمابعد:

    أہل الحدیث عصابۃ الحق
    فازوا بدعوۃ سید الخلق
    فوجوہہم زہر منضرۃ
    لأ لأ ھا کتألق البرق
    یالیتنی کنت معھم
    ماأدرکوہ بھامن السبق

    تیسری صدی ہجری کے مشہور اور نابغہ ٔ روزگار محدث امام ابوداود کی شہرہ ٔ آفاق تالیف ’’ کتاب السنن ‘‘ (جسے احکام کی حدیثوں کے حصر و استیعاب میں خاص مقام و امتیاز حاصل ہے ) کے اردو ترجمہ، تخریج، صحت و ضعف کے حکم، اس کی تعلیل وتوجیہ اورمختصر تعلیقات وحواشی پر مشتمل یہ مجموعہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔
    ہم اراکین مجلس علمی کے لئے انتہائی شرف و اعزاز کی بات ہے کہ اس اہم علمی کام کی تکمیل کی سعادت ہمارے حصہ میں آئی، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اس خصوصی توفیق ونوازش پر ہماری زبانیں اس کی حمد و ستائش کے ترانوں سے زمزمہ سنج ہیں ( الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات)۔
    یہ دراصل ’’حدیث انسائیکلو پیڈیا اردو‘‘ کی ترتیب و اشاعت کے اس مبارک اور عظیم منصوبے کا ایک حصہ ہے، جو دار الدعوۃ دہلی کے پیش نظر ہے، اور جس پر کئی سالوں سے بڑی محنت و جانفشانی اور عرق ریزی سے کام ہورہاہے، بحمد للہ اب ہم اس لائق ہوئے ہیں کہ اس کا ایک حصہ قارئین کی نذر کرسکیں، اس کے دوسرے حصے جو بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، موطا امام مالک اور دارمی کے اردو تراجم، تخریجات اور تعلیقات و حواشی پر مشتمل ہیں، وقفے وقفے کے ساتھ ان شاء اللہ جلد ہی منظر عام پر آتے رہیں گے۔
    اس اہم علمی کام کے محرک اور اس عظیم منصوبے کے روح رواں دار الدعوۃ دہلی کے بانی و مؤسس برادر محترم جناب ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبارالفریوائی استاذ حدیث جامعہ امام محمد بن سعود الا سلامیہ ریاض ہیں، جو برصغیرہند میں اسلام خالص کی تبلیغ و اشاعت کی سچی تڑپ اور جذبہ ٔ صادق رکھتے ہیں، اورسلف صالح کے منہج کے مطابق کتاب وسنت کی تفہیم کے داعی ہیں، انہیں کی نگرانی وسرپرستی میں یہ کام پایہ ٔ تکمیل کو پہنچا ہے، ان کے مفید اور قیمتی مشورے ہمارے شامل حال نہ ہوتے تو ہم اس کے اہل نہ تھے کہ یہ کام ہمارے ذریعہ انجام پاسکے۔
    موصوف شروع ہی سے اس کام کی برابر نگرانی کرتے رہے، اس کے لئے انہوں نے ہر طرح کے ضروری وسائل اور آسانیاں فراہم کیں، اور اپنی گرانقدر تجاویز اورقیمتی مشوروں اور ہدایات سے ہمیں برابر نوازتے رہے، اور اخیر میں اس پورے مسودے کا بالاستیعاب مراجعہ کیا اور بہت سے ضروری اور قیمتی اضافے کئے، اور ایک گرانقدر مقدمہ لکھا جس پر ہم اراکین مجلس علمی تہ دل سے ان کے ممنون و مشکور ہیں۔
    اسی طرح استاذ محترم جناب ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری وکیل الجامعہ السلفیہ بنارس -حفظہ اللہ- کے بھی بے حد شکر گزار ہیں، جنہوں نے ایک جامع اور پُرمغز تعارف لکھ کر اس کام پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی، اور اہل علم کی نظر میں اسے وقیع اور لائق اعتبار بنایا۔
    اخیر میں اپنی علمی کم مائیگی اور بے بضاعتی کے پورے اعتراف کے ساتھ ہم قارئین بالخصوص اہل علم سے گزارش کرتے ہیں کہ اس مجموعے کو بہتر سے بہتر بنانے میں ہم اراکین مجلس علمی نے پوری کوشش کی ہے، اس میں جو بھی خوبیاں آپ کو نظر آئیں گی وہ اللہ سبحانہ کی نوازش و کرم اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہیں، اور جو خامیاں اور کوتاہیاں ہیں وہ ہماری اور ہمارے نفس کے ساتھ لاحق شیطان کی جانب سے ہیں، بھول چوک اور غلطی فطرت انسانی کا خاصہ ہے اسے پیش نظر رکھتے ہوئے آپ ہماری ان لغزشوں اور فروگزاشتوں پر ہمیں معذور سمجھیں گے اورتنقید وملامت کا ہدف بنانے کے بجائے ہمیں ان سے مطلع فرمائیں گے، تاکہ آئندہ ایڈیشنوں میں ان کی اصلاح ہوسکے۔
    بار الہا ! اس حقیر کاوش کو ہماری مغفرت و بخشش اور رفع درجات کا ذریعہ بنا اور عوام الناس میں اسے شرف قبولیت عطا فرما، اورانہیں اس سے زیادہ سے زیادہ استفادے اور اپنی عملی زندگی سوارنے کی توفیق عطافرما، آمین یا رب العالمین۔
    وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد و آلہ و أصحابہ أجمعین


    ناچیز
    رفیق احمد سلفی
    رکن مجلس علمی دار الدعوۃ، نئی دہلی
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922


    تقديم
    للترجمة الأردية
    لسنن الإمام أبي داود السجستاني -رحمه الله-​

    الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، أما بعد:
    فإن للسنة النبوية الشريفة موقعاً سامقاً فريداً في التشريع الإسلامي، وفي الحياة العملية للمسلمين على السواء.
    فهي المصدر الثاني بعد كتاب الله، تبينه تفصيلاً لمجمله، وتخصيصاً لعمومه وتقييداً لإطلاقه، وشرحاً لما أشكل منه على الناس، وفي ذلك يقول الله عز وجل: +وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم ولعلهم يتفكرون" [النحل: 44].
    ثم هي من الوحي الذي أوحاه الله لخاتم أنبيائه محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، كما قال تعالى: {وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى، إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى} [النجم: 3-4].
    وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : « ألا إني أوتيت القرآن وأوتيت مثله معه »، أخرجه أحمد وأبوداود.
    ولهذا المعنى لزمت طاعة الرسول صلی اللہ علیہ وسلم كل مسلم، فيما ثبت عنه من الأمر والنهي، عملاً بقوله تعالى: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا} [الحشر: 7]. وقوله سبحانه: {مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّهَ} [النساء:80]، وقوله: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ} [الأحزاب: 36] في آيات أخُرَ كثيرة.
    بل إن تحكيم النبي صلی اللہ علیہ وسلم فيما يعرض للمسلم من قضايا تستوجب الحكم، مع الرضا التام والطواعية ظاهراً وباطناً، علامة الإيمان، ولازمه ومقتضاه؛ قال سبحانه: {فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا}.[النساء: 65].
    وطاعة رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تستدعي تبليغ سنته، ليعرف الناس ما أمر به وما نهى عنه، وتلك مُهمة جليلة وفضيلة عظيمة، نالها من استجاب لحث النبي × على ذلك، إذ قال: « نضر الله امرئًا سمع منا حديثًا، فحفظه حتى يبلغه، فرُب حاملٍ فقهٍ إلى من هو أفقه منه، ورُب حامل فقه ليس بفقيه»، أخرجه أبو داود عن زيد بن ثابت.
    وعن ابن مسعود قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم يقول: « نضر الله امرئًا سمع منا شيئاً، فبلغه كما سمع، فرُب مُبلغ أوعى من سامع»، أخرجه الترمذي.
    وقد انبرت ثلة من المسلمين للقيام بفريضة حفظ العلم وحمله وروايته لطلابه والمشتغلين به من كافة الأجيال والقرون، فحُفظت السنة، ثم دُونت، ثم جمعت وصنفت في مصنفات، وسلمت بذلك من الضياع، فضلاً من الله ونعمة، وصارت ممهدة ميسرة لمن يفيد منها علماً أو عملاً، فاستخرج الفقهاء منها الفقه، وعلماء التوحيد تفاصيل الإيمان، وأئمة السلوك الترغيب والترهيب ومكارم الأخلاق، وفضائل الأعمال، والمفسرون علوم التفسير.
    وكان في مقدمة تلك المصنفات في السنة النبوية الشريفة، الكتب الستة التي اصطلح على تسميتها بالأصول، أو الصحاح، أو الجوامع، وهي الصحيحان، والسنن الأربعة، تميزت عن غيرها بكونها جامعة جمعت مختلف أبواب الدين، واشتملت على معظم الحديث الصحيح والحسن، فكثر نفعها، وحظيت من ثم بعناية العلماء قديماً وحديثاً، حفظاً ونسخاً لها وتحديثاً بها في المجالس، وخدمتها من مختلف الوجوه العلمية، كالتعريف برجالها، وشرح غريبها، وتخريج أطرافها، وجمعها في كتاب واحد، وغير ذلك.
    ومما برز في العصر الحاضر من وجوه العمل في كتب السنة وغيرها، ترجمتها إلى لغات أخرى غير العربية، تبليغاً للعلم، ونشراً للسنة بين المسلمين غير العرب.
    وفي هذا النوع ينخرط عمل الأخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي، عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين في جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية، وأحد علماء الحديث المعروفين في الهند.
    فقد قام بترجمة سنن أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني المتوفى سنة 275هـ، إلى اللغة الأدرية لغة عشرات الملايين من المسلمين في باكستان والهند، وأصدرها في ثلاث مجلدات. وجاء عمله هذا في المشروع الذي يقوم عليه في ترجمة أهم الكتب الإسلامية، ومنها الأصول الستة من كتب الحديث مضموماً إليها موطأ مالك وسنن الدارمي.
    وسنن الإمام أبي داود ثالث الكتب الستة بعد الصحيحين، يضم زهاء أربعة آلاف وثمان مائة حديث، انتقاها -رحمه الله- من أصل خمسمائة ألف حديث كتبها.
    قال الحافظ السيوطي في التدريب (1/167، ط. عبدالوهاب عبداللطيف): ومن مظانه - أي الصحيح- أيضاً سنن أبي داود، فقد جاء عنه أنه يذكر فيه الصحيح وما يشبهه ويقاربه، وما كان فيه وهن شديد بيّنه، وما لم يذكر فيه شيئاً فهو صالح، قال: وبعضها أصح من بعض. فعلى هذا ما وجدنا في كتابه مطلقاً، ولم يكن في أحد الصحيحين، ولم يصححه غيره من المعتمدين الذين يميزون بين الصحيح والحسن، ولاضعفه، فهو حسن عند أبي داود. اهـ.
    ولا جرم أن ترجمة الكتب الأساسية في السنة النبوية، وجوامع التفسير، وكتب التوحيد وغيرها من مصادر الإسلام، إلى اللغة الأردية وغيرها من لغات الشعوب الإسلامية، عمل من أجل الأعمال التي يعم نفعها ملايين المسلمين الناطقين بتلك اللغات، على شرط أن يكون الذين يترجمون هذه الكتب من أهل العلم باللغة العربية واللغة المترجم إليها، وكذلك بعلوم الشريعة الإسلامية ودلالاتها الاصطلاحية، حتى تسلم الترجمة من إفساد المعنى، أو إفهام معنى آخر يجعل الناس يعتقدون خلاف الحقائق الشرعية، وهذا ما لوحظ في بعض أعمال الترجمة التي تمت على بعض الكتب المهمة في الإسلام.
    والأخ الدكتور عبدالرحمن الفريوائي الذي يرأس مؤسسة دار الدعوة في نيو دلهي التي تقوم على مشروع الترجمة المذكور، نحسبه ممن توفرت فيهم هذه الخصال، وقد عرفته مذ عقدين من الزمن، عالمًا محققًا، دائب الحرص على جمع نفائس الكتب والتنقيب عنها في مظانها، وإنفاق الطارف والتليد في اقتنائها، مع ما أحسبه عليه من تقوى الله وحسن الخلق، ولزوم السنة والتمسك بأهدابها وآدابها، وحمل هم الدعوة إلى الله سبحانه وتعالى.
    فشكر الله له عمله هذا، وأجزل له المثوبة فيه، هو وسائر المتعاونين معه في مؤسسة دار الدعوة، ورزقهم العون والتوفيق لإتمام هذا العمل الجيل النفع، الذي يؤمل منه أن يقدم خيرًا كثيرًا للمسلمين في الهند وباكستان وغيرهما.
    وصلى الله على خاتم أنبيائه ورسله، محمد بن عبدالله، وعلى آله وأصحابه وسلم تسليمًا كثيرًأ.
    وكتب
    د. عبدالله بن عبدالمحسن التركي
    الأمين العام لرابطة العالم الإسلامي
    مكة المكرمة: 10 / 03 / 1427هـ
     
  4. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922

    تقدیم سنن ابی داودمترجم
    عزت مآب ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ
    جنرل سکریٹری رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ​

    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. أما بعد:
    حمد وصلاۃ کے بعد، حدیث نبوی کا اسلامی شریعت اور مسلمانوں کی عملی زندگی میں یکساں طور پر بڑا منفرد اوربلندمقام ومرتبہ ہے،حدیث قرآن کریم کے بعد اسلام کا دوسرا اہم مرجع ہے،حدیث قرآن کی شرح وتفسیر کرتی ہے، اس کے اجمال کی تفصیل بیان کرتی ہے ، اور ا س کے عام کو خاص کرتی ہے ، اور اس کے مطلق کو مقید کرتی ہے ، اورلوگوں پر جو مشکل ہو اس کی شرح کرتی ہے ، اس کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے: {وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ } [النحل:44]، ( ہم نے آپ کے پاس قرآن اس لیے اتارا ہے کہ آپ جو انسانوں پرنازل کیا گیا ہے اس کوبیان کردیں اوراس لیے نازل کیا ہے کہ لوگ اس میں غوروفکرکریں )
    پھرسنت وہ وحی ہے جو نبی آخرالزماںمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے وحی کی ہے جیساکہ ارشادباری تعالیٰ ہے : {وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى} [النجم:3-4]، (رسول اپنی طرف سے نہیں بولتے ان کا کلام صرف وحی ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کے پاس آتاہے ) ابوداود اورترمذی وغیرہ میں مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه‘‘ (مسلمانو! سنو،مجھے قرآن اوراسی کے ساتھ اس کے ہم مثل چیزعطاہوئی ہے ، یعنی سنت )
    ان دلائل کی روشنی میں ہرمسلمان پرواجب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوںکاحکم دیا ہے اور جن سے منع کیا ہے ہر چیز میں آپ کی اطاعت کریں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:{ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا} [الحشر:7]، ( تمہیں رسول جوکچھ دیں اسے لے لو اورتم کو جس چیز سے روکیں رک جاؤ){مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا} [النساء:80]، (جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے اطاعت سے منہ موڑا تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا ہے ){وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُّبِينًا} [الأحزاب:36]، (کسی بھی مسلمان مرد اورعورت کو اللہ اوراس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ہے اورجو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر ے گا وہ کھلی گمراہی میں پڑے گا) اوراس طرح کی دوسری آیات اس معنی میں آئی ہیں۔
    بلکہ رسول کومسلمانوں کو لاحق مسائل میں حکم بنانا اوراس کے فیصلہ پرمکمل طورپر رضامند ہونا اور ظاہری اورباطنی طورپر اس کی اطاعت کرنا ایمان کا تقاضا اور اس کی علامت ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:{فَلاَ وَرَبِّكَ لاَيُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا} [النساء:65]، (قسم ہے تیرے رب کی یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس کے سارے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھرجو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناراضگی نہ پائیں ، اور فرماںبرداری کے ساتھ فیصلہ قبول کرلیں)
    نبی اکرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا تقاضا ہے کہ اس کی سنتوں کی تبلیغ واشاعت کی جائے تاکہ آپ نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ، اور جن باتوں سے منع کیا ہے لوگ اسے آگاہ ہوں ۔یہ بڑا اہم اور فضیلت والا کام ہے جس کا مستحق وہ شخص ہے جس نے نبی اکرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کا م کی ترغیب پر لبیک کہا، آپ کا ارشادہے : ’’ نضر الله امرئا سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه فرب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ورب حامل ليس بفقيه ‘‘ (اللہ تعالیٰ اس شخص کا چہرہ ترو تازہ کرے جس نے ہم سے حدیث سنی اور اسے یادرکھا حتی کہ اسے لوگوں تک پہنچادیا ، بعض لوگ جن تک بات پہنچائی جاتی ہے ، وہ سننے والے سے زیادہ اس کی سمجھ رکھتے ہیں، اوربعض فقہ کے حافظ فقیہ نہیں ہوتے ) [اس حدیث کو ابوداود نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔]
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’ نضر الله امرئا سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه فرب بلغ أوعى من سامع‘‘ (اللہ تعالیٰ اس شخص کا چہرہ ترو تازہ کرے جس نے ہم سے جوسنا اسے لوگوں تک پہنچادیا ، بعض لوگ جن تک بات پہنچائی جاتی ہے ، وہ سننے والے سے زیادہ اس کو محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں) [اس حدیث کوترمذی وغیرہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، اورترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے ]
    اسی وجہ سے مسلمانوں کی ایک جماعت ہر عہد اور ہر صدی میں موجود رہی ہے ، جس نے علم کی حفاظت اور اس کی روایت کا فریضہ انجام دیا جس سے سنت کی حفاظت اوراس کے جمع وتدوین کا کام ہوا اور اس سلسلے کی تصنیفات وجود میں آئیں ، اللہ کے فضل و احسان سے سنت نبویہ ضائع ہو نے سے محفوظ رہ گئی ، اور اس کے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے بڑی آسانی ہوگئی،فقہاء نے اس سے فقہی مسائل مستنبط کئے ،توحید اور عقیدہ کے علماء نے ا سے ایمان کی تفصیلات نکالیں،احسان وسلوک اورتزکیہ کے ائمہ نے ترغیب وترہیب ، اخلاقِ کریمانہ اورفضائلِ اعمال سے متعلق ابواب مرتب کیے اور مفسرین نے علوم تفسیر مدون فرمائے ۔
    ان دواوین سنت میں سر فہرست وہ چھ کتابیں ہیں جن کو علماء اصول یا صحاح یا جوامع کا نام دیتے ہیں اوریہ صحیحین (صحیح بخاری ومسلم ) اور سنن اربعہ (سنن ابی داود ،سنن نسائی ، سنن ترمذی،سنن ابن ماجہ) ہیں،یہ چھ کتابیں دوسری کتابوں سے اس حیثیت سے ممتاز ہیں کہ یہ دین کے مختلف ابواب کی جامع ، اور اکثر صحیح اورحسن احادیث پرمشتمل ہیں، ان مراجع سے بڑا فائدہ حاصل ہوا، اوریہیں سے قدیم و جدید علماء ان کے حفظ اوران کے لکھنے لکھانے اورمجالس میں ان کی روایت اور مختلف انداز میں ان کی علمی خدمات کی طرف متوجہ ہوئے ، جیسے ان کتابوں میں وارد رواۃ کے تراجم ، مشکل الفاظ کی شرح و تفسیر ، اطراف احادیث کی نشان دہی ، ان ساری احادیث کو ایک کتاب میں جمع کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
    عصرحاضرمیں کتب حدیث وغیرہ کے سلسلے میں ایک کام یہ بھی ہوا کہ مختلف زبانوں میں تبلیغ کے نقطہ نظر سے اور غیر عرب مسلمانوں میں سنت کی اشاعت کی خاطر ان کتابوں کے ترجمے کا کام سامنے آیا ، ہندوستانی علماء میں برادرم ڈاکٹرعبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی استاذ حدیث جامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیہ ، ریاض کا کام اسی قبیل سے ہے ،موصوف نے سنن ابی داود کا اردو ترجمہ تین جلدوں میں شائع کیا ہے ، واضح رہے کہ ہندوپاک کے کروڑوں مسلمانوں کی زبان اردوہے ، اور موصوف کا یہ کام اس اہم منصوبے کا ایک جزء ہے جو اہم اسلامی کتابوں کے ترجمے پر مشتمل ہے ، اور اس کا ایک منصوبہ کتب ستہ مع موطا امام مالک وسنن دارمی کا اردوترجمہ ہے ۔
    صحاح ستہ میں صحیحین کے بعد سنن ابی داود کا مقام ومرتبہ ہے، اس کتاب میں تقریباً چارہزار آٹھ سو حدیثیں ہیں ،امام ابوداود نے پانچ لاکھ حدیثوں سے ان کواس کتاب میں منتخب کیا ہے ، حافظ سیوطی تدریب الراوی میں لکھتے ہیں کہ صحیح احادیث کے مراجع میں سے سنن ابی داود بھی ہے ، جس کے بارے میں ابوداود نے خود کہا ہے کہ وہ اس کتاب میں صحیح احادیث اوراس کے مشابہ اوراس کے قریب احادیث ذکرکریں گے اورجن احادیث میں زیادہ ضعف ہوگا اس کو بیان کردیں گے ، اور جن میں کچھ نہ ذکرکریں گے وہ صالح ہوں گی ،نیز کہا :اور بعض حدیثیں بعض سے زیادہ صحیح ہوں گی ،تو اس قول کی بنیادپر ہمیں ان کی کتاب میں جو حدیثیں ملیں گی اور وہ صحیحین میں سے نہیں ہوں گی اور جن کی صحیح اورحسن کے درمیان فرق وتمیز کرنے والے معتمد علماء نے تصحیح یاتضعیف نہ کی ہوگی تو ایسی احادیث ابوداود کے یہاں حسن ہوں گی ، (تدریب الراوی ۱/۱۶۷)
    بلاشبہ اسلامی مراجع میں سے حدیث کی بنیادی کتابوںنیزتفسیر اور توحید وغیرہ کی کتابوں کا اردو اور دوسری اسلامی اقوام کی زبانوں میں ترجمہ بہت عظیم کام ہے ، اس سے کروڑوں مسلمانوں کو فائدہ ہوگا، بشرطیکہ مترجمین عربی اورجن زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے کیے جارہے ہیں اس کے ماہر اور اسلامی شریعت کے علوم اوران کی اصطلاحات کے واقف کارہوں تاکہ ترجمہ صحیح اور غلطیوں سے پاک ہو اور اس سے دوسرے غلط معانی نہ لیے جائیں کہ شرعی حقائق کے خلاف لوگوں کا اعتقاد ہوجائے ، یہ بات اسلام سے متعلق بعض اہم کتابوں کے تراجم کے سلسلے میں پائی گئی اس لیے اس پر تنبیہ کی گئی ۔
    اس منصوبہ پر دارالدعوۃ کام کررہا ہے ، جس کے صدر برادرم ڈاکٹرعبد الرحمن الفریوائی ہیں، موصوف کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے یہاں اس کا م کی اہلیت موجود ہے ، بیس سال سے میں انہیں ایک عالم اور محقق کی حیثیت سے جانتاہوں جو نفیس کتابوں کو جمع کر نے اورمکتبات سے ان کو منتخب کرنے اور ہر قیمت پر ان کو حاصل کرنے کے شدید حریص اور شائق ہیں، ساتھ ہی ہم سمجھتے ہیں کہ وہ تقویٰ ،اخلاقِ حسنہ، سنت اور آداب سنت سے تمسک اور دعوت إلی اللہ کے حامل ہیں، اللہ تعالیٰ موصوف کے اس کام کوقبول کرے اور اس پر ان کو اجردے ، اورساتھ ہی دارالدعوۃ کے ان کے معاونین کو بھی اپنی مدد و توفیق سے نوازے ، تاکہ یہ عظیم اورمفید کام پایہء تکمیل کو پہنچے جس سے اس بات کی توقع ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے بہت سارے مسلمانوں کو بڑا خیر پہنچے گا ۔
    صلى الله على خاتم أنبيائه ورسله محمد بن عبدالله وعلى آله وأصحابه وسلم تسليما كثيراً.

    ڈاکٹرعبداللہ بن عبد المحسن الترکی
    جنرل سکریٹری رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ
    ۱۰/۳/۱۴۲۷ھ
     
  5. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922

    سنت شریفہ اور علوم سلف
    کی خدمت کا ایک مفید منصوبہ
    ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
    وکیل الجامعۃ السلفیہ - بنارس​

    عليك بأصحاب الحديث فإنهم
    خيار عباد الله في كل محفل

    الحمدلله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، أما بعد:

    ’’دار الدعوۃ‘‘ کی سرپرستی وتعاون سے کتب حدیث کے اردو ترجمہ اور مسائل کی توضیح وتنقیح کا جو مثبت،عظیم اور ان شاء اللہ مبارک عمل شروع ہوا ہے اس کے تعارف اور توضیح کا فریضہ مجھ سے بہتر طور پر خود ادارہ کے بانی صدر عزیز مکرم ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی صاحب حفظہ اللہ ادا کر سکتے تھے،لیکن شاید تواضع وکسر نفسی کی بنا پر انہوں نے اس خدمت کے لئے خاکسار کا انتخاب کیا، تلامذہ سے مجھے تعلق بہت زیادہ ہے،لیکن فن حدیث میں بے مایہ ہوں، اس لئے ایسے علمی منصوبے پر جو بیشتر کتب حدیث کو محیط ہے کچھ لکھنے میں غیرمعمولی تامل ہے، ڈاکٹر فریوائی صاحب نے شاید احترام وعقیدت کی وجہ سے یہ کام میرے حوالہ کیاہے، لیکن میں نے انکار کیوں نہ کیا اس کی وجہ خود مجھے بھی معلوم نہیں! اب قلم ہاتھ میں اس کام کے تعارف کے لئے اٹھا رہا ہوں جس کی تکمیل میں اہل علم کی ایسی جماعت نے حصہ لیا ہے جس کے افراد بعض حیثیتوں سے مجھ سے بہتر ہیں، امید ہے اس نسبت سے مجھے بھی اجر ملے گا:
    فی الجملہ نسبتے بتو کافی بود مرا
    خدمت حدیث کے مذکورہ منصوبہ کی بات سن کر فطری طور پرسوال پیدا ہوگا کہ ایسے عظیم کام کے محرکات وفوائد کیا ہیں؟
    اس سوال کا جواب مفیدسہی لیکن طویل ہے، اس تحریر میں اس کے تمام پہلؤوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، پھر بھی بعض اہم نقاط کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کروں گا۔
    مطالعہ حدیث:
    علم حدیث کو اگر بحر نا پیدا کنار سے تشبیہ دی جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، محدثین کرام نے اس علم پر توجہ کے اسباب اور اس کے مطالعہ کے جو طریقے اور مقاصد بتائے ہیں وہ فن کی بڑی بڑی تصانیف میں دیکھے جا سکتے ہیں ، لیکن اجمالی طور پر ہم مطالعہ حدیث کے درج ذیل دو مقصد متعین کر سکتے ہیں۔
    (اول) یہ کہ اسلامی شریعت کے دو بنیادی مآخذ میں ایک ماخذ حدیث ہے، اس سے شرعی احکام مستنبط کئے جاتے ہیں، اور بندوں کو حلال وحرام سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
    احکام کی تشریح و توضیح کے ذریعہ جو اولین اسلامی نسل تیار ہوئی اس کے کارناموں پر نظر ڈالئے تو اندازہ ہوگا کہ یہ نسل جس طرح تقوی اور عبادت میں ممتاز تھی، اس طرح اس نے تہذیب وتمدن کے معاملہ میں بھی بے نظیر کامیابی حاصل کی، دنیا میں اس نسل کا کوئی جواب پیدا نہ ہوگا، یہ لوگ صحرائے عرب کے غیر متمدن حصے سے اٹھے تھے، لیکن وقت کی دو عظیم تہذیبی طاقتوں یعنی قیصر وکسری کو زیر کردیا، اور ان کے سامنے ایسی تہذیب پیش کی جو دونوں تہذیبوں کی خرابیوں سے محفوظ اور اعلی دینی واخلاقی اقدار کی حامل تھی، اس نے انسانیت کو خیر وسعادت کا راستہ دکھایا۔
    (دوم) یہ کہ فنی لحاظ سے حدیث نبوی کا مقام بلند ہے، عام انسانی کلام اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا، اس کے معانی اللہ کی طرف سے وحی کئے گئے ہیں، اور الفاظ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ہیں، اس کلام میں فصاحت وبلاغت کے انمول جواہر ہیں،سامعین کی ہدایت کے ساتھ ساتھ اس میںتعبیر کی خوبی اور تأثیر کی قوت کا ایسا جوہر ہے جسے عام انسانی کلام میں ہم پا نہیں سکتے، اور جس سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔
    احکام شریعت کی توضیح وبیان کے علاوہ علمائے اسلام نے حدیث پر جو کام کئے ہیں ان پر اجمالی نگاہ ڈالنے سے اس علم کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے، جوامع،سنن، مسانید، معاجم، مستدرکات، اجزاء اور اطراف وغیرہ اس فن کی تصنیفات کے اصطلاحی نام ہیں ، الفاظ حدیث کی تشریح میں جوکتابیں لکھی گئی ہیں ان کا اصل فائدہ علماء کو حاصل ہے، احکام کی تشریح سے متعلق کتابوں سے علماء اور عوام دونوں مستفید ہوتے ہیں، معانی وبیان سے متعلق مباحث خواص کی چیز ہیں، ان پہلوؤں کے علاوہ تمدن ومعاشرت اور اقتصاد وسیاست سے متعلق گراں بہا اصول وقواعد حدیث شریف میں موجود ہیں، انہیں سرسری طور پر ہر پڑھا لکھا انسان سمجھ سکتا ہے،لیکن کلام نبوت کے اعجاز کا ادراک کرنے کے لئے مذکورہ علوم کے اہل اختصاص کی ضرورت ہے، وہی حدیث کی اہمیت وعظمت کے مذکورہ پہلؤوں کو واضح کرسکیں گے، علمائے اسلام نے شرح حدیث کی جو خدمت انجام دی ہے وہ اس سلسلہ میں بے حد وقیع ہے، حدیث میں جہاں جہاں مذکورہ علوم سے متعلق کوئی مسئلہ آیا ہے،اس کی انہوں نے عمدہ توضیح وتشریح کی ہے، اور اس طرح حدیث کی اہمیت وافادیت کو اجاگر کیا ہے۔
    ذیل میں علم حدیث کی تعریف پر ایک نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ اس علم کی عظمت وجامعیت کا اندازہ ہو سکے۔
    علم حدیث کی تعریف:
    علم حدیث ایسا علم ہے جس کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
    اس علم کا موضوع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بحیثیت رسول ہے۔
    اور غایت ومقصد یہ ہے کہ انسان دنیا وآخرت کی سعادت وکامیابی سے بہرہ ور ہو۔
    علم حدیث کی تعریف کے یہ الفاظ بے حد مختصر ہیں، لیکن اپنے اندر ایک جہانِ معنی سمیٹے ہوئے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، آپ کا اسوئہ حسنہ، قرآن کریم کی تفسیر وبیان اور اس کے اجمال کی تفصیل سب کچھ اسی حدیث نبوی میں ہے،شریعت کے جملہ احکام و قوانین کا بنیادی مأخذ صرف قرآن وحدیث ہیں، حدیث نبوی بلا شبہ بشری کلام ہے،لیکن اس کے معانی وحی الہی ہیں، اس لئے علماء نے وضاحت کی ہے کہ احکام کی تشریع (قانون سازی)میں حدیث نبوی قرآن کریم کے مثل ہے، یعنی ایسا نہیں کہ جوحکم حدیث سے ثابت ہو اس کا درجہ اس حکم سے کمتر ہو جو قرآن سے ثابت ہے۔
    علم حدیث کی فضیلت وشرف:
    علم حدیث کی فضیلت سے متعلق آیات قرآنیہ ، احادیث نبویہ، اور ائمہ ٔ دین کے اقوال کی کثرت ہے، صاحب تحفۃ الاحوذی نے تحفہ کے مقدمہ میں بہت سی احادیث واقوال کو اس طرح جمع کردیا ہے کہ اس علم کی عظمت واہمیت ذہن پر مرتسم ہوجاتی ہے۔
    ذیل میں اسی ماخذ سے چند باتیں درج کی جا رہی ہیں:
    # نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات میں سب سے اشرف ہیں ، آپ کو قرآن جیسی معجزانہ کتاب عطا کی گئی ہے، اس لئے آپ کے کلام کا ہر کلام سے اشرف ہونا عقل ودانش کاتقاضہ ہے۔
    # علوم قرآن سے لے کر شریعت مطہرہ کے تمام احکام وعقائد،طریقہ ٔ حقہ کے قواعد، تمام کشفیات وعقلیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان پر موقوف ہیں، اگر ان تمام کو حدیث کی میزان عدل پر تولا اور معیار قویم پر پرکھا نہ جائے تو ان کا وزن واعتبار قائم نہ ہوگا، صرّاف جس طرح کھرے کھوٹے میں تمییزکرتا ہے اسی طرح یہ علم صحیح وغلط اور حق وباطل کے مابین امتیاز پیدا کرتا ہے، یہ تاریکی میں چراغ اور راہ حیات میں نشان منزل ہے۔
    # اتباع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کا واضح اور تأکیدی حکم ہے، اگر انسان حدیث نبوی سے واقف نہ ہو تو پھر اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا امکان نہیں، اور اتباع کے بغیر دنیا وآخرت کی کامیابی ممکن نہیں۔
    # علم در حقیقت کتاب وسنت کا علم ہے، اور ان دونوں پر عمل ہی اصل عمل ہے، جسے یہ حق کہیں وہی حق، اور جسے باطل ٹھرائیں وہ باطل ہے۔
    # حدیث میں ’’جوامع الکلم‘‘ کو بیان وبلاغت کے لحاظ سے جو درجہ حاصل ہے اس سے علماء واقف ہیں۔
    # علم حدیث ہی شرعی علوم کی کلید، اسلامی شریعت کی بنیاد، تمام فقہی روایتوں کا استناد، دینی فنون کا ماخذ، عقائد کی اصل اور عبادات ومعاملات کا مرکز ومحور ہے۔
    # سفیان ثوری کا قول ہے کہ: ’’لا أعلم علمًا أفضل من علم الحديث لمن أراد به وجه الله تعالى‘‘ ، یعنی علم حدیث سے اگر اللہ تعالی کی رضا مقصود ہو تو اس سے بہتر کوئی دوسرا علم نہیں۔
    # علم حدیث کے خدام محدثین کرام کو خلفائے رسول کا لقب دیا گیا ہے، ان کی خدمات کی اہمیت واضح کرتے ہوئے امام حاکم کہتے ہیں : ’’لولا كثرة طائفة المحدثين على حفظ الأسانيد لدرس منار الإسلام، ولتمكن أهل الإلحاد والمبتدعة من وضع الأحاديث وقلب الأسانيد‘‘ ، یعنی محدثین کی اکثریت اگراسانید کے حفظ پر متوجہ نہ ہوتی تو اسلام کی روشنی مدھم پڑ جاتی، اور ملحدین ومبتدعین حدیث وضع کرنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔
    حدیث پر امت کی توجہ:
    علم حدیث کی تعریف اور شریعت میں اس کی اہمیت وفضیلت سے واقفیت کے بعد بآسانی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس علم کا کیا مقام ہے، اور اس پر کس طرح کی توجہ مطلوب ہے، قرون خیر کے مسلمانوں کی حدیث شریف سے دلچسپی اور اس پر توجہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سیرۃ البخاری کے مصنف علاَّمہ مولانا عبدالسلام مبارکپوری -رحمہ اللہ- لکھتے ہیں:
    ’’ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد تابعین، تبع تابعین میں جس قدر اس کا ذوق اور اس کا شغل تھا اس کے بیان کے لئے تو ہمارے الفاظ کسی طرح کافی نہیں ہو سکتے، تیسری صدی تک (جس میں حدیث اور آثار صحابہ مدون کردئے گئے ) یہ ذوق اس طرح عام تھا کہ مسلمانوں کا ہر فرد بشراس میں ڈوبا ہوا تھا، ہر شخص اس کا فدائی نظر آتا تھا، خدام حدیث (محدثین) کی سلطنت عام طور پر تمام مسلمانوں کے قلوب پر اس طرح حاوی تھی کہ یہ ظاہری سلطنت اس کے آگے ہیچ میرز تھی‘‘ ، (سیرۃ البخاری، ص ۲۵۵)۔
    معاشرہ کی ضرورت:
    علم حدیث کے سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ یہ علم زندگی سے الگ تھلگ کوئی روایتی علم نہیں کہ کسی کا اس سے سابقہ نہ ہو، بلکہ یہ زندگی کے ساتھ ساتھ چلنے والا علم ہے جس کی رہنمائی سے انسان صحیح راہ پا لیتا ہے، لہذا حدیث کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ انسانی معاشرہ کی متنوع ضرورتوں کوسمجھیں، اور حدیث کا مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ لگائیں کہ انسانی معاشرہ کی جو متنوع ضرورتیں ہیں ان کی تکمیل کا کیسا عمدہ سامان اس میں موجود ہے، یہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی حقانیت وصداقت کا ثبوت ہے کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث شریفہ کے ذریعہ انسانیت کی ہدایت اور امت کی تربیت کا بے نظیر نظام قائم فرما دیا ہے، ملک کا امن وامان اور معاشرہ کا سکون ہر ایک کا مقصود ومطلوب ہے، اور حدیث نبوی میں اس کے اصول وضوابط وضاحت کے ساتھ پیش کردئیے گئے ہیں، مخالفین اسلام میں سے جو لوگ حدیث کو نشانہ بناتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اس طرح اسلام کی بیخ کنی آسانی کے ساتھ کرسکیں گے۔
    حدیث کا تمدنی پہلو:
    حدیث کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لئے تہذیب وتمدن کے پہلو سے بھی حدیث کا مطالعہ کیا گیا ہے، یہ تصور غلط ہے کہ اس علم میں تمدن کی رعایت نہیں، سیرۃ البخاری کے مصنف عالی تبارلکھتے ہیں:
    ’’ صحیح بخاری کے وہ حصے جن میں معاملات کا بیان ہے كتاب السِّيَر تک غور سے پڑھو، اور باریک نگاہ سے دیکھو، حقیقت امر یہ ہے کہ جو نکات اور اعلی ترین قوانین شرعیہ امام المحدثین نے صحیح حدیثوں سے استخراج اور استنباط کرکے صحیح بخاری میں ذکر کئے ہیں، تمدن کی جان اور سلطنت کی روح رواں ہے، اور حق یہ ہے کہ امام المحدثین ہی کی خدا داد فقاہت کا یہ حصہ تھا ‘‘(سیرۃ البخاری ، ص ۸۵)۔
    شاہ ولی اللہ اور علم حدیث:
    برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت شاہ ولی اللہ سے اپنا علمی رشتہ جوڑتی ہے، اور انہیں موجودہ دینی بیداری کا نقیب مانتی ہے، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند سطروں میں ان کی شخصیت اورمنہج ومقصد کا ذکرکردیا جائے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ اہل الحدیث اور اہل الرائے کے دونوں طبقوں کے تئیں ان کا رویہ کیسا ہے، اور وہ خود کیا چاہتے ہیں؟ ۔
    شاہ صاحب کو اللہ تعالی نے ایک جامع شخصیت اور غیر معمولی صلاحیت سے نوازا تھا، اپنے عہد تک کے علمی ذخیرہ پر انہوں نے محققانہ نظر ڈالی، تقریبًا ہر علم کی ممکن حد تک خدمت کی، مگر بنیادی طور پر ان کی توجہ ان ہی علوم پر مرکوز رہی جو امت کے مستقبل کی تعمیرمیں مؤثر تھے، دسویں صدی ہجری اور اس کے بعد کی دنیائے اسلام پر نظر ڈالئے تو محسوس ہوگا کہ فقہ میں جمود اور تصوف میں الحادی نظریات کا غلبہ تھا، تشریع احکام (قانون سازی) میں بنیادی حیثیت کی حامل حدیث نبوی علماء وعوام کی بے اعتنائی کا شکار تھی، اسے فقہ کے تابع بنا دیا گیا تھا، اس فن کا بنیادی مسئلہ تنقیح وتنقید نظروں سے اوجھل تھا، فقہی مسلک کی تا ئید یا محافل میں رنگینی کے لئے اگر حدیث پیش کی جاتی تو اس کے درجہ کا کوئی لحاظ نہ ہوتا۔
    شاہ صاحب کا اصل کارنامہ متعین کرنے میں مصنفین مختلف ہیں، لیکن یہ سچ ہے کہ شاہ صاحب کا تجدیدی کمال ان کی خدمت حدیث میں نمایاں ہے، اور اس خدمت میں انہوں نے اہل حدیث کا طریقہ عمومًا اختیار کر کے حریتِ فکر اور وسعت نظر کی طرح ڈالی ہے تاکہ امت مسلمہ سلف کے منہاج پر گامزن ہوکر اختلاف فکر ونظر کے باوجود متحد رہ سکے۔
    شاہ صاحب چونکہ منہج محدثین کے داعی ومؤید اور تقلید وجمود کے مخالف تھے، نیز حریت فکر اوروسعت نظر ان کا امتیازتھا، اس لئے ہندوستانی مسلمانوں میں اکثریت کا دعوے رکھنے والے حضرات شاہ صاحب سے انشراح نہیں رکھتے، انہیں احساس ہے کہ شاہ صاحب کی دعوت میںفکر وعمل کے انحراف کی تردید کا جو عنصرموجود ہے اس سے ہم آہنگی مشکل ہے۔
    شاہ صاحب کی تصانیف اور بالخصوص ’’ حجۃ اللہ البالغۃ‘‘، ’’ المسوی‘‘، ’’مصفی‘‘ اور ’’التفہیمات الالہیۃ‘‘ وغیرہ کا مطالعہ کرنے سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ محدثین کے مسلک ومنہج کو ترجیح دیتے ہیں، اور اس رویہ پر نکیر کرتے ہیں کہ محض تعصب کی بنا پر کسی حدیث کو نظر انداز کیا جائے، اور کسی مخصوص فقہی مسئلہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کی تاویل کی جائے، یا اسے ترک کردیا جائے، ان کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب نے فقہی اعتبار سے عہد محدثین کو زندہ کرنے کی تحریک شروع کی جس کی آبیاری شاہ اسماعیل شہید نے کی، پھر یہ سلسلہ آگے بڑھا۔
    شاہ صاحب کے تجدیدی کارناموں کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی(رحمہ اللہ) لکھتے ہیں: ’’ شاہ صاحب کے طریق کو اگرسبھی علماء اپنا لیتے تو ہمارے ہاں کی مذہبی حالت موجودہ حالت سے مختلف ہوتی‘‘۔
    یہ محض دعوی نہیں بلکہ حقیقت ہے، اس کو سمجھنے کے لئے فقہاء محدثین کے منہج پر غورکرناضروری ہے، اس کی خصوصیت نظر کی وسعت اورفن کی اہمیت ہے، کوئی شخصیت یافرقہ ان کے سامنے نہیں، یہ صحیح ہے کہ مسلمان فرقوں میں وحدت فکر وعمل کے لئے فقہاء محدثین کی روش کو اصلاح کی بنیاد بنانا ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
    حدیث وفقہ کے ما بین نسبت:
    گروہ بندی اسلام میں ممنوع اور واقعۃً مضر ہے، مگر افسوس کہ اسے مسلمانوں نے دین کے نام پر رواج دیا، فقہی بنیادپر گروہ بندی کوفروغ دیا گیا،پھر محدثین وفقہاء کے ما بین لکیر کھینچنے کی کوشش کی گئی، گروہی وفقہی عصبیت کی وجہ سے حدیث پر اعتراضات کئے گئے، محدثین نے حدیث کی خدمت کی تھی، لیکن ان کی تنقیص کی گئی، اور یہ نہ سوچا گیا کہ جس علم کے یہ خادم ہیں وہ احکام شریعت کا ایک بنیادی مأخذ ہے، قرآن اور حدیث ہی سے فقہ کے تمام احکام اخذ کئے جاتے ہیں،پھر دونوں علوم اور ان کے خادموں کے درمیان فاصلہ کی لکیر کیسی ؟ محدثین اور فقہاء کے گروہ اسلام کے نام لیوا ہیں، لہذا ان کے بیچ خلیج ثابت کرنابے معنی ہے، علم کے مزاج ، اصول، منہج، اور مقصد کی بناء پر جو امتیاز قائم ہے وہ علیحدہ شے ہے، فقہ پر توجہ دینے کی وجہ سے اگر حدیث سے صرف نظر کیا جا رہا ہے تو یہ نادانی ہے، فقہ کا علم بھی اسلام کی علمی میراث کا حصہ ہے، ذہنی کاوش کے نتیجہ کے طور پر اس کا وزن ہے، البتہ کوئی مسئلہ کتاب وسنت سے ہم آہنگ نہ ہو تو اس کی تائید غلط ہے، حدیث اصل اور فقہ فرع ہے، دونوں کو ان کے مقام پر رکھنا اور ان کے خادموں کا احترام کرنا ایمان وضمیر کا تقاضہ ہے، افسوس ہوتاہے کہ تعصب کی وجہ سے علمی مباحث میں کتب تفسیر وحدیث کی جگہ صرف کتب فقہ کے حوالہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے، اور دین کی خدمت کے باب میں محدثین کو نظر انداز کر کے صرف فقہاء کا نام لیا جاتا ہے! اسلامی اصول اس امتیاز وتفریق کی تائید نہیں کرتے، اگر ہم اپنی ترجیح اور اپنے پندار کی بنا پر ایسا کرتے ہیں تو اس کو کہیں بھی مقبولیت حاصل نہ ہوگی۔
    اسلام کے مذکورہ دونوں طبقات کو قرون خیر کی روح سے سمجھنا چاہئے، اور تحزب وطائفیت میں پڑکر حدیث اور محدثین کے خلاف زبان نہ کھولنا چاہئے، علماء ومحققین نے اس نقطہ پر بحث کر کے اسے منقح کردیا ہے، ہم کو اس پر غور کرنا چاہئے۔
    محدثین واہل الرائے کا باہمی فرق :
    صاحب سیرۃ البخاری نے فقہائے محدثین اور فقہائے اہل الرائے کے طرز اجتہاد واصول فقاہت کا مفصل ذکر کیا ہے، اور علامہ ابن خلدون وشاہ ولی اللہ کے بیانات نقل کرکے ان کا خلاصہ پیش کیا ہے، ہم اسی خلاصہ کے بعض حصے نقل کرنا چاہتے ہیں:
    # جامع ترمذی میں ہے، ابو السائب کہتے ہیں کہ ہم لوگ وکیع کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے ایک شخص سے (جو رائے اور قیاس کا خوگر تھا) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِشعار کیا، اور ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اشعار مُثلہ ہے، شخص مذکور نے کہا کہ ابو حنیفہ ابراہیم نخعیؒ سے ناقل ہیں کہ وہ اس کو مثلہ کہتے تھے، ابو السائب کہتے ہیں کہ اس قدر وکیع کو میں نے غصہ ہوتے کبھی نہ دیکھا تھا، وکیع نے کہا کہ میں ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کہتا ہوں، اور تو اس کے جواب میں ابراہیم نخعیؒ کا قول پیش کرتا ہے، تو اس قابل ہے کہ قید کردیا جائے، اور جب تک اس قول سے باز نہ آئے رہائی نہ دی جائے۔
    # فقہ کی دوقسمیں ہیں، حجازیوں (مکے مدینے والوں) کی فقہ، عراقیوں (اہل کوفہ) کی فقہ۔
    # عراقیوں میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وآثار صحابہ وتابعین کی بالکل کمی تھی، اور اس کا ذوق بھی ان میں کم تھا، اس وجہ سے ان کے مسائل کی بنا زیادہ تر رائے وقیاس ہی پر رہی، حدیث وآثار کا تتبع چھوڑ کر رائے وقیاس کی طرف متوجہ رہے، اور اسی لئے ’’اہل الرائے‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔
    اہل حجاز میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وآثار صحابہ وتابعین کا بے حد ذوق تھا، وہ ہرمسئلہ کے لئے احادیث وآثار تلاش کرتے، اسی لئے وہ لوگ اصحاب حدیث ، اہل الحدیث، اورمحدثین کے ممتاز لقب سے ملقب ہوئے۔
    # عراقیوں میں دستور یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے اساتذہ کے تنقیح کئے ہوئے قواعد یاان کے اقوال کو یاد کرلیتے، اور جو مسئلہ پیش آتا انہیں قواعد سے ان کے جوابات طلب کرتے، دوسرا فریق (اہل مکہ ومدینہ) کسی کے قواعد یا رائے کے پابند نہ تھے، وہ براہ راست اصل مآخذ (قرآن وحدیث) سے مسائل کے جواب طلب کرتے، ہاں مجبوری پر صحابہ کے اتفاق رائے، فتاوی، یا قیاس کا استعمال کرتے تھے۔
    # اہل عراق کے دلوں کا میلان ان کے اساتذہ کے طرف بے طرح تھا، اس میں وہ متہم ہو گئے، وہ اپنے ائمہ کو انتہا درجہ کا محقق جانتے تھے، بلکہ اپنے ائمہ کو اس غلو کی وجہ سے صحابی (وہ بھی جلیل القدر صحابی جن کا شمار فقہائے صحابہ میں ہے) پر ترجیح دینے کو تیار تھے۔
    # شاہ ولی اللہ کے بیان سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اہلحدیث کا طریقہ ٔاجتہاد نہایت مشکل تھا، وہیں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہی طریقہ ٔ اجتہاد اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واکابرتابعین کا تھا، اور امام المحدثین (بخاری) نے اسی کو اختیار کیا۔
    # یہ دعوی کہ محدثین اور ان کے اتباع اصول فقاہت نہیں جانتے تھے، یا اس سے کام نہیں لیتے تھے نہایت بَیّن غلطی ہے۔
    # یہ کہنا صحیح نہیں کہ اہل کوفہ کو فقاہت اور قیاس واجتہاد سے کام لینے کی وجہ سے اہل الرائے کہا جاتا تھا، ایسا ہوتا تو مذکورہ لقب مذموم نہ مانا جاتا، حالانکہ یہ لقب زمانہ صحابہ سے برابر موقعہ ٔ ذم میں استعمال کیا گیا ہے۔
    # چونکہ عراقیوں کا اصول فقاہت وطرز اجتہاد محدثین صحابہ وتابعین کے طرز اجتہاد واصول فقاہت سے بعید تھا اس وجہ سے فقہائے محدثین وامام بخاری نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی۔
    # امام حماد کے زمانہ سے عراق میں تخریجی فقہ کا دور شروع ہوا، اور اس میں ترقی ہوتی گئی، یہی معراج ترقی ٹھہرا ، دوسرے علوم اسلامیہ سے بے پرواہی اور بے توجہی ہوتی گئی، چند دنوں کے بعدخود اہل کوفہ کو دوسرے علوم اسلامیہ میں اپنے ائمہ کے اقوال وتحقیقات پر اعتماد نہ رہا، اورتخریجی مسائل پر اس قدر وثوق اور اعتماد بڑھا کہ اس کے مقابل میں کہیں صحیح حدیثیں ناقابل عمل ٹھہریں، اورکہیں اکابر صحابہ غیر فقیہ اور نا سمجھ قرار دئے گئے۔
    لیکن اگر کوئی شخص تخریجی اشتغال کا نمونہ دیکھنا چاہے تو عراق عجم میں اب بھی چلا جائے، اور کابل، قندہار، غزنی، ہرات، وغیرہ کی درس گاہوں کو ملاحظہ کرے، اور وہاں کے بڑے بڑے فقیہ ملاؤں کو دیکھے، آراء الرجال کا درس جاری ہے، انہیں پر تفریع وتخریج ہے، اور یہی ان کی معراج ترقی اور یہی ان کی جولان گاہ ہے، وہ علوم قرآنیہ سے ناواقف اور علوم حدیثیہ سے بے پرواہ ، قدوری سے لے کر تمام کتب فقہ کا درس دیں گے، اور کتب فقہ عمر بھر پڑھیں گے، لیکن قرآن اور حدیث کو ایک روز بھی بنظر تحقیق مسائل نہیں دیکھیں گے، ان کے کان تحقیق سے نا آشنا ہیں، ان کے دل ودماغ میں آراء الرجال سے بڑھ کر کوئی باوقعت چیز نہیں، وہ فقہائے کوفہ کی رایوں کو آسمانی وحی سے بھی زیادہ با وقعت جانتے ہیں، اگر ان میں کوئی لائق سے لائق ہوا تو اسی قدر کہ مختلف اقوال فقہاء کو راجح ومرجوح کرسکے اور بس۔
    اہل الرائے کی وجہ تسمیہ میں جناب شاہ صاحب فرماتے ہیں : ’’المراد من أهل الرأي قوم توجهوا بعد المسائل المجمع عليها بين المسلمين وبين جمهورهم إلى التخريج على أصل رجل من المتقدمين، فكان أكثر أمرهم حمل النظير على النظير، والرد إلى أصل من الأصول دون تتبع الأحاديث والآثار‘‘۔ (یعنی اہل الرائے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے مسائل متفق علیہا کے بعد کسی شخص متقدم کے قاعدہ پر تخریج مسائل کی طرف توجہ کی، ان کا اکثر دستور یہی تھا کہ مسئلہ میں اس کے مشابہ مسئلہ کا حکم لگاتے، اور مسئلہ کو انہیں قواعد کی طرف پھیر پھار کر لے جاتے جو ان کے اساتذہ کے نکالے ہوئے تھے، اور احادیث نبویہ واقوال صحابہ کی کھوج تلاش نہ کرتے)۔
    شرارِ بو لہبی:
    اس عنوان کے تحت ان مساعی غیرمحمودہ بلکہ خبیثہ کی طرف اشارہ مقصود ہے جو مختلف اوقات میں حدیث شریف کے خلاف عمل میں لائی جاتی رہی ہیں، یہ سلسلہ جس قدر طویل ہے، اسی قدر حق وانصاف سے دور ہے، لیکن بوالعجبی کا کیا کہنا کہ اس طرح کے مزاعم خبیثہ کے لئے قرآن وحدیث سے استدلال کی کوشش کی جاتی ہے!۔
    قدیم عہد میں حدیث نبوی کے خلاف جو محاذ قائم کیا گیا تھا، جدید دور میں اسی کی تجدید کی گئی، اور وہیں سے موجودہ دور کی ہفوات کے لئے مواد حاصل کئے گئے، باطل فرقوں کے وجود اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق صاحب ’’سیرۃ البخاری‘‘ رقم طراز ہیں:
    ’’ امام بخاری کا زمانہ نہایت پر آشوب زمانہ ہے، صحیح حدیثوں کی تدوین تو شروع ہوچکی ہے، اور بہت کچھ تدوین ہو بھی چکی ہے،لیکن اس کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، کوئی کتاب صحیح حدیثوں کی مکمل تیارنہیں ہے، عقائد باطلہ کی چنگاریوں نے مشتعل ہو کر عالم میں ایک آفت مچا رکھی ہے، ہر جگہ بحث ومباحثہ کے بازار گرم ہیں، منکرین تقدیر، منکرین صفات الہی، منکرین عذاب قبر، منکرین رویت باری، منکرین ملائکہ وجن، مجسمہ، مرجئہ، جبریہ، معتزلہ، جہمیہ، خارجیہ، رافضیہ، امامیہ، ان میں بھی زیدیہ، اسماعیلیہ وغیرہ بیسیوں فرقے پیدا ہو چکے ہیں، غرض ملک کے ہر گوشہ میں ایک نئی صدا بلند ہے، اور ہر فرقہ اپنی جگہ اپنی پوری کوشش اور کامل قوت کے ساتھ اپنے خیالات پھیلانے میں سرگرم ہے، ادھر کوفہ سے اہل الرائے کے قیاسی مسائل نہایت زور وشور سے اٹھ کر تمام عراق پر چھا گئے ہیں، امام ابویوسف کے قاضی القضاۃ ہونے کی وجہ سے جو قاضی مقرر کئے جاتے ہیں وہ اسی خیال کے مقرر کئے جاتے ہیں، اور یہ سلسلہ عرصہ تک قائم رہ کر نہایت مستحکم طریقہ پر اس کی بنیاد اور جڑ تمام عراق میں مضبوط ہو گئی ہے، ایسے نازک وقت میں جبکہ اپنی خیر منانی مشکل ہے، امام بخاری کے قلم ولسان ودرس نے وہ کام کیا جس کی نظیر ملنی مشکل ہے، جس سادگی اور بیباکی سے صحیح بخاری میں ان فرق باطلہ کا ردکیا ہے وہ امام صاحب ہی کا حصہ تھا، اس پر لطف یہ کہ جن کی غلطیاں اور اوہام بیان کئے ہیں کہیں ان کے نام نہیں لئے، اور یہ وہ عالی ہمتی ہے جو بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، صحیح بخاری کی کتاب الایمان، کتاب الاعتصام بالسنہ، اور کتاب التوحید کو کسی کامل الفن شیخ سے پڑھو، اور ساتھ اس کے کتاب الملل والنحل کو سامنے رکھ لو تو اس کی خوبی کااندازہ ہو سکتا ہے۔
    علاوہ صحیح بخاری کے فرق باطلہ کی تردید کے لئے مستقل تصنیفیں لکھیں، کتاب خلق افعال العباد، وکتاب الرد علی المعطلہ امام صاحب کی مشہور تالیف ہے، اور اب طبع ہو کر شائع ہے، جہمیہ معطلہ وغیرہ کا رد اس میں نہایت پر زور طریقہ سے کیا ہے‘‘۔ (سیرۃ البخاری ۲۳۶-۲۳۷)

    جدید دور میں حدیث پر اعتراضات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صاحب سیرۃالبخاری لکھتے ہیں:
    ’’ ہم دیکھتے کہ آج یہ فن کئی حریفوں کی آما جگاہ بنا ہوا ہے، اور اس پر کئی طرف سے حملے ہو رہے ہیں، گو زمانہ قدیم میں بھی اس پر بہت کچھ حملے ہوئے ، تاہم آج جس طرح آزادی اور بیباکی کے ساتھ اس پر حملے ہو رہے ہیں اس کی نظیر زمانہ ٔ سلف میں کم ملتی ہے، اور لطف یہ کہ حملہ آور قوم اپنے کو مسلمان کہتی ہے! ‘‘، (ماخذ مذکور، ص ۲۵۲)
    اس مقام پر مجھے بعض معاصر عرب علماء کا یہ قول یاد آرہا ہے کہ: کسی مسلمان کی طرف سے سنت کی حجیت کا انکار مستبعد ہے! معلوم نہیں اس قول کی دلیل کیا ہے، لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ مسلکی تعصب کے دباؤ اور خواہشات نفس کی پیروی کی وجہ سے متعدد لوگوں نے سنت کا انکار کیا، اور ہندوستان میں تو ’’اہل قرآن‘‘ نام کی ایک جماعت تشکیل دی گئی جس نے اپنے وسائل کے مطابق انکار سنت کو فروغ دیا، صاحب سیرۃ البخاری کا اشارہ اسی طرف ہے، اس جماعت نامسعود کے افراد اور ان سے متأثر لوگ اکا دکا آج بھی نظر آتے ہیں، مگر آج حدیث کا انکار یا اس پر حملہ کرنے والے اکثر لوگ وہ ہیں جن کے انفرادی یااجتماعی مفادات پر حدیث کی وجہ سے ضرب لگتی ہے، وہ نہیں چاہتے کہ ہماری اختیار کردہ راہ میں حدیث کی وجہ سے (یا شریعت کے کسی بھی اصول کی وجہ سے) رکاوٹ پیدا ہو، سنت شریفہ سے اعراض کی حدیث نبوی میں جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ ایسے لوگوں پر پوری طرح منطبق ہے، نسأل اللہ العافیہ۔
    حدیث کا ترجمہ وتشریح:
    اسلامی شریعت کے احکام کا اصل مآخذ کتاب وسنت ہیں، اور مسلمانوں کے تمام فرقے قرآن وسنت ہی کی پیروی کا دعوی کرتے ہیں،لیکن اس سلسلہ میں اس اہم بات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ سلف کا منہج فہم اور معیار حق وصداقت ہی معتبر ہے، قرون مشہود لہا بالخیر (اسلام کی تین ابتدائی ادوار) میں جو واقعات پیش آئے، اور ائمہ دین نے ان کی تئیں جو موقف اختیار کیا اس سے صاف واضح ہے کہ کتاب وسنت کو سمجھنے میں مسلمان آزاد نہیں، یہ معاملہ دین کا ہے، مذکورہ تینوں ادوار کی علمی ومذہبی میراث کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
    موجودہ دور میں مسلمانوں کی فکری واعتقادی حالت کا مطالعہ کیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے متلاشیانِ حق اور بالخصوص پڑھا لکھا طبقہ مطمئن نہیں، کتاب وسنت پر عمل کی ضرورت کا انہیں احساس ہے، وہ جمود وتقلید سے ہٹ کر ہر مسئلہ کو کتاب وسنت کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں، اگر ان کے سامنے کوئی دوسری دلیل پیش کی جاتی ہے تو مطمئن نہیں ہوتے۔
    دوسری طرف ذرائع ابلاغ نے غیر معمولی ترقی کرلی ہے، دنیا بھر کے انسانوں کے ساتھ چند لمحات میں رابطہ قائم ہوجاتا ہے، ظاہر ہے کہ دنیا کے سامنے اسلام کے نام پر وہی چیز پیش کرنا صحیح ہوگا جس کی قرآن وحدیث سے تأئید ہوتی ہو، لہذا ہمیں اپنے علمی ودعوتی فریضہ کو انجام دینے کے لئے کتاب وسنت سے اپنا ربط مضبوط کرنا ہوگا، اور تعصب وتنگ نظری سے اوپر اٹھ کر حق کے تقاضہ کے مطابق اقدام کرنا ہوگا، جدید ذرائع ابلاغ میں ہم جوکچھ تخزین کریں، یا تحریر کے ذریعہ جو کچھ بھی پیش کریں اس کی تائید قرآن وحدیث سے ہو تو بہتر ہے، ورنہ مسخ شدہ اسلام کی دعوت پیش کرنے والے (خصوصاً جدید ذرائع ابلاغ میں) بہت زیادہ ہیں، ہم وقت کے تقاضہ کو اسی وقت پورا کرسکیں گے جب دنیا کے سامنے صحیح دعوت کو مناسب ومؤثر انداز سے پیش کریں۔
    جماعت اہل حدیث کے ذریعہ حدیث کی اشاعت:
    جاہلانہ انداز کی گفتگو مسلم معاشرہ کا ایک سنگین مرض ہے، تعصب سے نفرت کا جنم ہوتا ہے، اور نفرت پیدا کرنا ہی شیطان کا مقصد ہے، بر صغیر میں جب سے مسلمان موجود ہیں اپنے دین اور علوم دین کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں، کسی فرقہ یا جماعت سے دینی وعلمی کام کی نفی نا معقول انداز ہے، ہر جماعت نے اپنے وجود کے وقت سے اس ملک میں کام کیا ہے، اور آج بھی کر رہی ہے، البتہ اس کام کا معیار اور اس کی افادیت کا مسئلہ زیر غور ہے، قرآن نے انسانی نفسیات کا ذکر {كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ} [المؤمنون:53] کے ذریعہ کر دیا ہے، یہاں معیار پر پرکھنے کی بات آئے گی تو پھر ابتدائی تین صدیوں کے معیار ومنہج کو تسلیم کرنا ہوگا۔
    جماعتی لحاظ سے جائزہ لیا جائے گا تو ماننا ہوگا کہ بر صغیر میں جماعت اہل حدیث نے حدیث کی خدمت ایک اہم علم کی حیثیت سے کی ہے، اس کی نظر میں کسی مسلک یا شخصیت کی بات نہ تھی، نہ کسی کی جانبداری کا سوال تھا، قرون اولی میں محدثین کرام کا منہج اس کے سامنے تھا، اسی کے تقاضہ کو اس نے پورا کیا، جماعت کے اسی موقف کا اثر تھا کہ متحدہ ہندوستان میں حدیث کی اشاعت ہوئی، حدیث کی کتابوں سے لوگ روشناس ہوئے، اور جب اللہ تعالی نے ہدایت دی تو حدیث کا مطالعہ کرنے اور حوالہ دینے لگے، پھر ایک وقت آیا کہ حدیث کی چھ اہم کتابوں (اصول ستہ) کی تدریس کا سلسلہ شروع ہو گیا، تدریس کی نوعیت جو بھی ہو لیکن یہ محسوس کیا گیا کہ تنہا فقہ کی کتابوں پر توجہ مرکوز کرنا صحیح نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ کتب حدیث کی تدریس بھی ضروری ہے، ہم نے’’ تدریس کی نوعیت ‘‘ کا جو لفظ استعمال کیا ہے اس سے اس بات کی جانب اشارہ مقصود ہے کہ حدیث سے جو مسئلہ ثابت ہو رہا ہے اسے ثابت کرنے کے بجائے اس کے ذریعہ کسی مخصوص فقہی مسلک کی تائید کی جائے، اور سند ومتن کے دیگر امور کو نظر انداز کردیا جائے، یا پھر مذکورہ روح کے مطابق ہی تدریس کی خدمت انجام دی جائے۔
    اس مقام پر ان کوششوں کی جانب اشارہ بھی مناسب ہے جو مستند، معروف اور متداول تصنیفات حدیث کے بالمقابل مسلکی خدمت اورگروہی عصبیت کی تحریک پر لکھی گئی ہیں، اس طرح کی متعدد کتابیں اسی سر زمین ہند پر تیار کی گئی ہیں، اور ان کے مقصد تصنیف کی وضاحت کرتے ہوئے صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ اس تصنیفی کوشش کی محرک مخصوص فقہی مسلک کی تائید ہے، یعنی حدیث کا اپنا کوئی معیار اور فن کی خدمت اس کا محرک نہیں!۔
    کتب حدیث کے تحشیہ وشرح کا کام بھی متحدہ ہندوستان میں خاصا ہوا ہے، ان شروح وحواشی پر نظر ڈالئے تو صاف معلوم ہو گا کہ کتاب کی خدمت یا کسی تدریسی مقصد کی تکمیل کے لئے یہ خدمت انجام نہیں دی گئی ہے، بلکہ فقہی مسلک کی تائید مقصود ہے، اس صورت حال کو ملحوظ کرنے والا ہرشخص یہ فیصلہ کرے گا کہ شرح یا حاشیہ کے ذریعہ کتب حدیث کی خدمت اس طرح کی جائے کہ پڑھنے والا کسی الجھن کا شکار نہ ہو، شاہ ولی اللہ کی مساعی جمیلہ کی روشنی میں علمائے اہلحدیث نے محسوس کیا کہ محدثین کے معیار جرح وتعدیل کو اور شاہ صاحب کے اصول فقہیات کو سامنے رکھ کر مذہب ومشرب کے امتیاز کے بغیر حدیث کی خدمت کی جائے، اور جملہ اسلاف کرام -محدثین ہوں یا فقہاء- کا احترام ملحوظ رکھا جائے، یہی وہ مثبت انداز ہے جس کے ذریعہ تحقیق کے عمل کو تقویت حاصل ہوسکتی ہے۔
    عصر حاضر میں علم حدیث کے تئیں ہماری ذمہ داری:
    جو لوگ علمی میدان میں سرگرم ہیں ان کے پیش نظر بہت سے علمی وتحقیقی منصوبے ہیں جن پر وسائل کی فراہمی کی صورت میں کام ہو سکتا ہے، چونکہ جماعت اہلحدیث محدثین کے منہج کے مطابق خدمت دین کی قائل ہے، اس لئے اس کی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ:
    ! حدیث وآثار کی روشنی میں قرآن کریم کی ایک علمی تفسیر تیار کرائے جس سے موجودہ ذہن کو صحیح راہ ملے، اور اس کے خدشات دور ہوں۔
    ! اصول ستہ،موطا امام مالک اور سنن دارمی کے متون کو مختلف زبانوں میں مع تعلیقات و حواشی دیدہ زیب صورت میں شائع کرائے۔
    ! محدثین کرام کی صدیوں پر محیط کارناموں اورتاریخ کو اردو زبان میں مدوّن کرائے۔
    ! حدیث کے منکرین، مخالفین اور تاویل وتوجیہ کی پگڈنڈیوں پر جانے والوں کے حملوں کی مدافعت کے لئے مؤثر انتظام کرے۔
    دار الدعوۃ کا عظیم منصوبہ:
    ہندوستان میں علم حدیث کی خدمت اور اس فن میں کتابوں کی تصنیف کا حال برصغیر کی علمی ودینی تاریخ سے متعلق کتابوں میں مفصل مذکور ہے، حدیث کی خدمت ہی کا ایک حصہ یہ ہے کہ اردو زبان اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں علوم سلف کو منتقل کیا جائے تاکہ یہاں کی کثیر آبادی اس خزانہ سے روشناس اور مستفید ہو سکے، کتب حدیث میں اصول ستہ (بخاری،مسلم، ابوداود، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ) کا اردو ترجمہ نواب وحیدالزماں حیدرآبادی نے کیا تھا، ان کے بعد مولانا عبدالسلام بستوی نے مشکاۃ مصابیح کا، اورمولانا داود راز نے بخاری شریف کا اردو ترجمہ کیا، مولانا راز ؒصحیح مسلم کے ترجمہ میں بھی مشغول تھے، لیکن اس کی تکمیل نہ ہوسکی، اس کے علاوہ متفرق طور پر کتب حدیث کے ترجمہ کے متعدد کام ہوئے، یہاں استقصاء مقصود نہیں، صرف یہ عرض کرنا ہے کہ معروف رفاہی تعلیمی ادارہ ’’ دار الدعوۃ‘‘ نے کتب حدیث اور علوم سلف کو اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں منتقل کرنے کا ایک جامع ومفید منصوبہ بنایا ہے، اس کام کے آغاز میں اصول ستہ کے ترجمہ کا سلسلہ شروع ہوا ہے، یہ منصوبہ محض کسی زبان میں ترجمہ کانہیں، بلکہ ترجمہ کے ساتھ ساتھ اس میں درج ذیل امور کا لحاظ رکھا گیا ہے:

    ۱- متن حدیث کی تصحیح برعایت علامات وقف: کامہ، کالن، ڈیش وغیرہ۔
    ۲- کتب تسعہ (بخاری، مسلم، ابو داود، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، موطأ امام مالک، سنن دارمی) کے حوالہ سے حدیث کی تخریج۔
    ۳- صحت وضعف کے اعتبار سے حدیث پر حکم۔
    ۴- صحت وضعف کے حکم کی توجیہ وتشریح۔
    ۵- حدیث کا سلیس اور واضح ترجمہ۔
    ۶- حواشی جن میں باطل عقائد ونظریات کی تردید ہو۔
    اس اجمالی بیان سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ دار الدعوۃ کا مذکورہ منصوبہ علماء اور عوام دونوں کے لئے مفید ہے، متن کی تصحیح، حدیث کی تخریج، صحت یا ضعف کا حکم، اس حکم کی توجیہ وتشریح، معانی کی توضیح، اور باطل عقائد کی تردید وغیرہ امور پر علماء کی توجہ مرکوز ہوتی ہے، جبکہ حدیث کا ترجمہ اور مستنبط احکام کی توضیح خصوصی طور پر عوام کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے، ایسے کثیر الجہات منصوبہ کو صحیح طور پر عملی جامہ پہنا دیا جائے تو یقین ہے کہ معاشرہ کے افراد با مقصد دینی ثقافت سے واقف ہو جائیں گے۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس عظیم ومفید منصوبہ کی تکمیل کے لئے ہر طرح کے وسائل مہیا فرمادے، آمین، وصلى الله على رسوله الكريم، والحمد لله رب العالمين ۔


    ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
    وکیل الجامعۃ السلفیہ - بنارس
    ۶؍۱۲؍۱۴۲۴ھ
     
  6. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922


    نـماذج من انطباعات
    أهل العلم والدعوة والتعليم
    عن مشروع نقل علوم السلف إلى لغات الهند
    تحت إشراف مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية​

    كلمة معالي الشيخ صالح بن عبدالرحمن الحصين -حفظه الله-
    رئيس شؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي بمكة المكرمة

    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين نبينا ورسولنا محمد آله وصحبه أجمعين، في يوم الثلاثاء الموافق 29/6/ 1421هـ زرت مكتب مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بدلهي الجديدة التي يشرف عليها العالم الجليل الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي (أستاذ الحديث في جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية)، وبما أني على صلة وثيقة بالشيخ منذ مدة طويلة عرفته بالفضل والعلم والهمة العالية لحمل هم الإسلام والدعوة إليه على منهاج النبوة والعقيدة السليمة، وهو يقوم على عدد من المشاريع التعليمية والدعوية في الهند، ومن ذلك نقل أمهات كتب الحديث، وموسوعة في السيرة النبوية إلى اللغة الأردية، وغيرها من لغات الهند، بالإضافة إلى كتب علماء السلف، وقد شرح لي الإخوان في المكتب شرحاً مفصلاً عن مشروع المكتب الطموح في ترجمة كتب السلف والأشواط التي قطعوها في هذا السبيل؛ كما شرحوا لي أنشطة المؤسسة وهي أنشطة تعليمية متعددة.
    أدعو الله أن يوفقهم في أعمالهم لما يحبه ويرضاه، وأن يعينهم عليه، كما أدعو الله أن يرزقني وإياهم الإخلاص في العمل وتصحيح النية في القيام، فإن الإخلاص هو أهم ما يتواصى به المتواصون لأنه أشق شيء على النفس، لأنه لا حظ لها فيه كما قال الإمام جنيد رحمه الله.
    وصلى الله على نبينا ورسولنا محمد وآله وصحبه.
    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور سليمان بن عبدالله أبا الخيل -حفظه الله-
    وكيل جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي -حفظه الله-
    رئيس مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية وعضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين (قسم السنة) بالرياض
    سلام عليكم ورحمة الله وبركاته، وبعد:
    فقد اطلعت على خطاب فضيلتكم رقم (بدون) المؤرخ في 1424/9/13هـ والمتضمن ذكر بعض الجهود التي تقوم بها مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية وقد سرني ذلك، وأشكر لفضيلتكم هذا الجهد وأحب إفادتكم أن ما تؤدونه هو رسالة سامية وهدف نبيل.
    ندعو الله أن يوفقكم فيه ويكلل جهودكم بالنجاح والفلاح وكل ما نستطيعه سنبذله من أجل دعمكم والوقوف معكم وفق ما تسير عليه بلادنا بتوجيهات ولاة أمرنا -حفظهم الله-، أدعو الله لكم بالتوفيق والسداد، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.


    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور صالح بن غانم السدلان -حفظه الله-
    أستاذ الفقه بكلية الشريعة بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه، أما بعد:
    فقد سرني المشروع العلمي الدعوي الكبير الذي اطلعت عليه ضمن مشروع نقل علوم السلف إلى لغات الهند، والذي تقوم به مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بالهند تحت إشراف زميلنا فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي عضو هيئة التدريس بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض -وفقه الله- وملخص المشروع كالآتي:
    موسوعة الأحاديث النبوية باللغة الأردية، وتحتوي على ترجمة الصحيحين والسنن الأربعة (أبي داود، والنسائي، والترمذي، وابن ماجه) وموطأ الإمام مالك، وسنن الدارمي إلى اللغة الأردية مع إثبات النص ثم الترجمة وتخريج الأحاديث والحكم عليها تصحيحاً وتضعيفاً في غير الصحيحين، وشرح المفردات والتعليقات المختصرة؛ كما أن فيه تقريبًا لهذه المادة العظيمة التي هي الوحي الثاني للقراء والباحثين.
    وبين يديّ نماذج من كتاب السنن للإمام أبي داود بالصفة المذكورة وهو أول كتاب تقوم المؤسسة بطبعه، وبهذه المناسبة الطيبة أبارك الإخوة العاملين في هذا المشروع، وأدعو لهم بالتوفيق والتسديد، وأرى هذا العمل بهذه الصورة المتقنة مفيداً للغاية للمختصين والعامة لمن أراد أن يستفيد منه للعمل به والدعوة إليه.
    وإذ أشيد بهذا العمل وأؤيده أحث الإخوة العاملين في هذا المشروع على الاستمرار في إكمال هذا المشروع، وما يليه من المشاريع مثل نقل علوم وإفادات أئمة الدين: شيخ الإسلام ابن تيمية، والإمام ابن القيم، والمجدد محمد بن عبدالوهاب -رحمة الله عليهم- إلى اللغة الأردية وغيرها من لغات الهند.
    وآمل من أهل الخير والإحسان التكرم بمد يد العون للمؤسسة لإكمال هذا المشروع وطبعه وتوزيعه تعميماً للفائدة، واحتساباً للأجر في ذلك عند الله.
    وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم

    كلمة فضيلة الدكتور مقتدى حسن بن محمد ياسين الأزهري -حفظه الله -
    وكيل الجامعة السلفية (بنارس، الهند)
    وعضو اللجنة التنفيذية في جميعة أهل الحديث المركزية لعموم الهند
    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
    فلا يخفى أن مشروع نقل علوم السلف إلى اللغة الأردية مهم جداً، لأن عدداً كبيراً من المسلمين في شبه القارة الهندية وخارجها يتفاهم بهذه اللغة، ويعتبرها لغة العلم والثقافة وخاصة فيما يتعلق بالإسلام وتأريخه، ومن هنا فكر المعنيون بشؤون الدعوة والتعليم بإعداد البحوث والمؤلفات في هذه اللغة.
    والمشروع الذي نحن بصدده الآن يمتاز في هذا المجال، لأنه يهدف إلى نقل كتب التفسير والحديث المعتمدة إلى اللغة الأردية وغيرها من لغات الهند، وإلى توفير هذه الكتب المترجمة للراغبين فيها، وقد تبنى هذا المشروع فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي (عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين، بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض).
    والعلماء الذين تولوا ترجمة الكتب إلى الأردية وغيرها من اللغات علماء أكفاء لهم خبرة في مجال التأليف والترجمة، وقد تحملوا مسؤولية التدريس للعلوم الشرعية.
    ومراجعة الترجمة أيضاً تتم بصورة دقيقة وعلى أيدي العلماء الخبيرين في هذا المجال.
    وسنن ابن ماجة كان أول كتاب ترجم إلى الأردية، وتمت مراجعة الترجمة على يد أحد العلماء المعروفين، وهو الشيخ محمد الأعظمي بن الشيخ عبدالعلي، وهو عالم معروف قضى حياته في التدريس والدعوة والتأليف، وقد تتلمذ عليه مجموعة كبيرة من علماء الهند، وقد اطلعت على بعض هذه الأعمال؛ كما راجع الدكتور عبدالرحمن الفريوائي كتاب السنن لأبي داود ، وكان لي شرف تقديم هذه الترجمة على طبعة هذا الكتاب المبارك، وهكذا تتوالى هذه السلسلة، وتنقل معظم كتب التفسير والحديث إلى اللغات الهندية المهمة -إن شاء الله-.
    وإذ أكتب هذه السطور أبدي إعجابي بالمشروع، وأهيب المسؤولين لمد يد العون إليه حتى تكون أهم المؤلفات الإسلامية في متناول أيدي المسلمين في الهند، والله ولي التوفيق.
    وصلى الله على رسوله الكريم، والحمد لله رب العالمين.
    كلمة فضيلة الدكتور رضاء الله بن محمد إدريس المباركفوري -رحمه الله -
    شيخ الجامعة السلفية (ببنارس) ونائب أمير جميعة أهل الحديث المركزية لعموم الهند
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسوله الكريم وعلى آله وصحبه أجمعين.أما بعد:
    فإن مؤسسة دار الدعوة مؤسسة علمية دعوية خيرية، وإن كاتب هذه الأسطر له شرف الانتماء إلى هذه المؤسسة كأحد الأعضاء للمجلس الاستشاري لها، ولي علاقة وثيقة مع مسؤوليها منذ البداية وزرت المؤسسة مراراً وتكراراً وهي تقوم بجميع نشاطاتها ومجهوداتها في مجال التعليم والدعوة والتصنيف والتأليف بتعاون مشتركٍ من الإخوة الفاضل وأن لإنجازاتها العلمية والدعوية أهمية كبيرة حيث يترتب عليها آثار طيبة، وخاصةً مشروعها التأليفي موسوعة الأحاديث الشريفة.
    أسأل الله العلي القدير أن يتقبل مساعيهم بقبول حسن ويوفقهم لمزيد ما فيه خير وصلاح للدعوة الإسلامية ويرزقنا جميعاً الصدق والإخلاص في القول والعمل.
    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور محمد ضياء الرحمن الأعظمي -حفظه الله -
    أستاذ الحديث وعميد كلية الحديث الشريف بالجامعة الإسلامية بالمدينة النبوية سابقاً
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وأصحابه أجمعين.
    أما بعد:
    فقد اطلعت على مشروع نقل علوم السلف إلى اللغات الأجنبية التي تتبناها دار الدعوة في الهند تحت إشراف فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي رئيس المؤسسة وعضو هيئة التدريس بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض. ومن مشاريع هذه الدار إعداد مؤسسة الأحاديث النبوية بالأوردو وهي تشتمل على ترجمة الكتب الستة والموطأ وسنن الدارمي المشهورة التي هي أصول الإسلام إلى اللغة الأردية أولاً، ثم إلى لغات الهند الأخرى، ومما لا شك فيه أن هذا المشروع له أهمية كبيرة في توعية المسلمين عموماً وغير المسلمين خصوصاً في الهند وذلك لتقريبهم إلى أصول الإسلام التي تساعدهم على فهم الإسلام الصحيح، وتمسكهم بالكتاب والسنة، والابتعاد عن البدع والخرافات المنتشرة في شبه القارة الهندية.
    والذي يسرني في هذا المشروع أن يكون القائمون عليه من الرؤساء والعاملين من المترجمين وغيرهم من خريجي الجامعات السعودية، وهم إخواننا ومعروفون لدينا بجهدهم ونشاطهم، وإخلاصهم للدعوة السلفية، وبعضهم من تلاميذي الذين درسوا عليّ في الجامعة الإسلامية بالمدينة النبوية، ولديهم معرفة تامة باللغة الأردية إلى جانب اللغة العربية، وإن نقل العلوم الإسلامية إلى اللغات الهندية وعلى رأسها الأردية التي يتكلم بها معظم المسلمين، ثم اللغة الهندية المنتشرة في عموم الهند التي أصبحت الآن لغة رسمية لحكومة الهند ويتكلم بها أهل الهند من المسلمين والهندوس على حد سواء يساعد على نشر العقيدة الصحيحة المبنية على الكتاب والسنة، فإني أرحب بهذا المشروع العظيم وأشكر إخواننا القائمين عليه، وأدعو أهل العلم والدعوة إلى الاهتمام به، والبحث عن سبل الاستفادة منه ليعم الانتفاع على نطاق واسع في عموم الهند وخارجها، في الدول التي فيها الجاليات الهندية وإني قد اطلعت على جزء من سنن أبي داود فوجدت أن العمل مستوفٍ للشروط المعتبرة في الترجمة من حيث اللغة، وتخريج الأحاديث، والحكم عليها، والفوائد العلمية المستنبطة من بعض الأحاديث.
    وإني أدعو الله -سبحانه وتعالى- أن يوفق القائمين على هذا المشروع ويسدد خطاهم لنقل العلوم الإسلامية وتراث السلف إلى اللغات الهندية لما فيه نفع للمسلمين عموماً ودعوة غير المسلمين إلى الإسلام الصحيح خصوصاً، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين.


    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور عبدالعزيز السعيد -حفظه الله-
    رئيس قسم السنة بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية- بالرياض
    الحمد لله وصلى الله وسلم على رسول الله وآله وصحبه وبعد:
    فقد أطلعني أخي فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين بالرياض، على المشروع الموسوعي الخيري لترجمة كتب السنة إلى اللغة الأردية ثم إلى لغات الهند الأخرى، والذي تعدّه مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية -بدهلي بالهند، تحت إشراف فضيلة الدكتور الفريوائي، فألفيته مشروعاً طيباً، وجهداً مباركاً، وعملاً مشكوراً، وقد سررت به كثيراً، وغبطت القائمين عليه؛ لما يرجى من ثمرات خيّرة له، وذلك بتعليم السنة الصحيحة، والعقيدة السلفية التي درج عليها أئمة الهدى والدين من الصحابة والتابعين، خاصة وإنا لا نعلم عن المشرف عليه فضيلة الدكتور عبدالرحمن الفريوائي إلا سلامة العقيدة، التي تشتد الحاجة إليها في التراجم. بارك الله هذا الجهد وسدد خطى القائمين عليه، ونفع به المسلمين، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه.
    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور وليد الكندري -حفظه الله-
    رئيس قسم الكتاب والسنة -بكلية الشريعة بجامعة الكويت
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وأصحابه أجمعين أما بعد:
    فإن مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بالهند تقوم بالدعوة إلى الله تعالى تدريساً للغة العربية والعلوم الشرعية والدعوة إلى الله تعالى ونشر الكتب العلمية، ويشرف عليها فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض، وهو معروف لدينا بمؤلفاته العلمية وتحقيقاته في الحديث وعلومه.
    والمؤسسة الآن بصدد مشروعها العلمي الأول في القارة الهندية وهو نقل علوم السلف إلى اللغة الأوردية التي يتكلم بها كافة مسلمي القارة الهندية وهم أكثر من نصف مسلمي العالم. ويحتوي هذا المشروع على كتب التفسير والسيرة النبوية وموسوعة الحديث الشريف مع التحقيق والتخريج، ونقل معارف شيخ الإسلام ابن تيمية، وابن القيم، وابن عبدالوهاب رحمهمهم الله تعالى إلى لغات الهند.
    ونظراً إلى أهمية هذا المشروع العلمي الدعوي في باب التعريف بالإسلام الصحيح ننوه بالمشروع ونؤيده، ونطلب من أهل الخير دعم هذا المشروع بنشره وتوزيعه، ولعل تبني هذا المشروع من قبل دولتنا الحبيبة يضيف شيئاً جديداً للعالم الإسلامي، وعملاً رائداً من عمل الدعوة إلى الله تعالى.
    وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.


    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور باسم بن فيصل الجوابرة -حفظه الله-
    أستاذ الحديث الشريف بالجامعة الأردنية - عمان -
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم وعلى آله وصحبه أجمعين أما بعد:
    فقد يسر الله لنا بمنه وتوفيقه زيارة الهند ثلاث مرات، مرة في أيام الدراسة بالجامعة الإسلامية بالمدينة النبوية، والمرتين الأخيرتين مع الشيخ محمد بن عبدالعزيز اللحيدان -حفظه الله- في زيارة دعوية، على دعوة مؤسسة دار الدعوة التي يشرف عليها فضيلة الأخ الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي زميلي من أيام الطلب إلى أيام عملنا في جامعة الإمام، وهو معروف في الأوساط العلمية والدينية بمؤلفاته وتحقيقاته، ومعروف لدى مشايخنا بحسن المعتقد، وسلامة المنهج وبالحيوية والنشاط، والجهود التعليمية والدعوية التي يشرف عليها في الهند جديرة بالعناية والاهتمام؛ لأنها الطريق الصحيح والسليم للنهوض بالمسلمين إلى الخير والسعادة، فإن مشروع التعليم الديني ونشر علوم السلف له أهميته في كل زمان ومكان، وخاصة في لغات أجنبية تزداد أهميتها.
    وفق الله الجميع لنشر علوم السلف وتعاليم الدين في المجتمعات الإسلامية، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور عاصم بن عبدالله القريوتي -حفظه الله-
    الأستاذ المشارك بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه إلى يوم الدين أما بعد:
    فقد كان لشبه القارة الهندية الفضل بعد الله عز و جل في نشر السنة النبوية وإحياء علومها في العالم الإسلامي قبل بضعة عقود، واقتدى بها غالبية البلاد الإسلامية في طبع كتب الحديث الشريف وغيره، فإن عناية إخواننا -وخاصة أهل الحديث هناك- لا تزال قائمةً بسنة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وإحياء ما عليه السلف.
    وإن مشروع ترجمة كتب السنة إلى اللغة الأردية مع التحقيق والتعليق والتخريج بإشراف أخينا فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي نموذج من العناية بالسنة النبوية، وتقديمها وتيسيرها لغير الناطقين بالعربية هناك حيث ينهلوا من المعين الصافي، وإن كنت أرى أن الاهتمام باللغة العربية والحث على تعلمها وتعليمها حتى ينهل طلبة العلم من كتب مصادر التشريع الأولى والأجدر، لكن هذا المشروع يقرب ذلك إن شاء الله وينفع طبقة كبيرة من ذلك المجتمع ومما لاشك فيه أن الرجوع للكتاب الكريم والسنة النبوية المشرفة الصحيحة فيه الهدى والنور، وحكمة الله اقتضت أن يكون الناس شعوباً وقبائل ليتعارفوا وجعل اختلاف الألسنة والألوان آيات للعالمين، والله أسأل أن ينفع به وأن يجعله نصراً لسنة نبيه وذباً عنها، والحمد لله رب العالمين.


    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور عياض بن نامي السلمي -حفظه الله -
    رئيس قسم أصول الفقه بكلية الشريعة بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد: فقد يسر الله لي زيارة مؤسسة دار الدعوة في دلهي واطلعت على الجهود الكبيرة التي يقوم بها المسؤولون في هذه المؤسسة الخيرية، وعلى رأسهم فضيلة الأستاذ الدكتور عبدالرحمن الفريوائي، ولقد سرني ما أطلعوني عليه من جهود كبيرة في خدمة السنة النبوية وترجمتها إلى اللغة الأردية، وما يقومون به من جهود مباركة في الدعوة إلى الله تعالى بالحسنى وإنني أسأل الله جلّ وعلا أن يبارك في جهودهم، ويجعل أعمالهم خالصة لوجهه الكريم والحمد لله أولاً وآخراً.


    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور حسين بن عبدالله العبيدي -حفظه الله-
    وكيل مركز دراسة الطالبات وأستاذ الفقه بكلية الشريعة بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين أما بعد: فقد قمت بزيارة جمهورية الهند وتلقيت دعوة كريمة من فضيلة الأخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي بزيارة مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية وقمنا بالاطلاع على المكتبة وخدمات الكمبيوتر وبحق فهي مؤسسة قائمة على العلم وخدمة الكتاب والسنة، ويشرف عليها نخبة من طلاب العلم المؤهلين دينياً وشرعياً، فأسأل الله لهم المزيد من فضله، كما أوصي من يطلع على تلك المؤسسة أو يسمع عنها أن يطمئن لمنهجها ويقف معها ويساندها مادياً ومعنوياً فهي قائمة لخدمة الكتاب والسنة ولديهم مشروع ترجمة كتب العقيدة والسنة والسيرة إلى اللغات الأخرى، فنسأل الله لهم الإعانة وأن يبارك في جهودهم وينفع بهم الإسلام والمسلمين.


    كلمة فضيلة الشيخ محمد بن عبدالعزيز اللحيدان -حفظه الله-
    المشرف التربوي بوزارة المعارف وإمام جامع مدينة الحجاج بالروضة -الرياض-
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف المرسلين محمد وآله وصحبه أجمعين، وبعد: فقد زرنا مرتين مقر مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بدلهي الجديدة التي أنشأها حديثًا فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي (أستاذ الحديث بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض) لمشروع نقل علوم السلف إلى اللغة الأردية وغيرها من لغات الهند، وقد سرنا ما رأينا من نشاط في هذه المؤسسة، والتقينا بالدعاة والباحثين فيها، واطلعنا على نشاطاتها وجهودها الطيبة في خدمة السنة النبوية والتراث الإسلامي.
    وحيث مؤسسها فضيلة الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي معروف لدينا بعقيدته السليمة والمنهج الصحيح، وهو صاحب جهود كبيرة في بلده، ومعروف بمؤلفاته وتحقيقاته، كما هو معروف لدى مشايخنا الأفاضل، يرجى خير كثير من مشاريع المؤسسة الدعوية والتعليمية، ونسأل الله العلي القدير أن يجعل أعمالنا وأعمالهم خالصة لوجه الله الكريم.


    كلمة فضيلة الشيخ أحمد بن محمد بن عثمان المنيعي -حفظه الله-
    المحاضر بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على نبيه محمد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين؛ أما بعد:
    فقد سعدت في يوم الاثنين 1424/6/28هـ بزيارة مؤسسة دار الدعوة في نيو دلهي بالهند، وقد التقيت بمؤسسها الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي وكذلك الإخوة فيها واطلعت على مكتبتها والأعمال التي يقومون بها من ترجمة لكتب الحديث، وهذا المشروع نشر للسنة ودعوة لها وهي حلقة لجهود متواصلة عُرف بها علماء الحديث في القارة الهندية من أهل السنة والجماعة، نسال الله عز وجل للقائمين عليها الإخلاص والقبول والتوفيق في عموم مشاريعهم العلمية والدعوية، ومثل هذه المشاريع تحتاج إلى دعم من أهل العلم وأهل اليسر لاستمرارها وانتشارها، وفق الله الجميع لما يحبه ويرضاه، ونسأل الله تعالى أن ينفع بجهودهم ويبارك في مساعيهم ويسددهم ويكتب لهم الأجر والمثوبة.
    كلمة فضيلة الشيخ عبدالوهاب بن عبدالعزيز الزيد -حفظه الله-
    الإدارة العامة للتربية والتعليم للبنات -بمنطقة الرياض
    الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد:
    فإن أشرف ما اشتغل به المشتغلون وتنافس فيه المتنافسون هو العمل بما له تعلق بكتاب الله وسنة نبيه محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وإن أهم المصادر الشرعية التي حوت الكتاب والسُنّة: الصحيحان والسنن الأربعة (أبو داود، والترمذي، والنسائي، وابن ماجة) لزم العناية بها ونشرها في أقطار العالم الإسلامي وتقربيها بما يلائم مختلف اللغات.
    وإن فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي قد بذل وسعه في السعي لنشر موسوعة كتب السنة بأشهر اللغات التي يستخدمها المسلمون وهي اللغة الأردية المنتشرة في شبه القارة الهندية، والتي يصل عدد المسلمين فيها بما يزيد على خمس مائة مليون مسلم، أسأل الله أن يبارك في جهود الشيخ والقائمين على هذا العمل من المشايخ والإخوة خير الجزاء.
    هذا، وإن ما يقوم به الشيخ عبدالرحمن الفريوائي هو امتداد ما قام به علماء الهند الكبار في زمانهم، والذين نشر الله على أيديهم أهم كتب السنة وشروحها، كالنواب صديق حسن خان القنوجي، والسيد نذير حسين المحدث الدهلوي، والشيخ المحدث شمس الحق العظيم آبادي، والعلامة المحدث عبدالرحمن المباركفوري، والشيخ العلامة ثناء الله الأمرتسري، إلى شيوخ الشيخ الفريوائي كالشيخ المحدث عبيدالله المباركفوري، والشيخ المحدث عطاء الله حنيف الفوجياني، والشيخ المحدث بديع الدين الراشدي السندي، وغيرهم.
    وإنني أبارك لإخواني من أهل اللغة الأردية البدء في صدور أول كتاب في هذه الموسوعة، وهو كتاب السنن للإمام الحافظ أبي داود السجستاني -رحمه الله تعالى-.
    وإن أهم ما يتميز به هذا المشروع هو نوعية الكفائات القائمة عليه حيث تشرفت بالزيارة لمقر إعداد هذا المشروع بمؤسسة دار الدعوة بدلهي في الهند فوجدت الأساتذة القائمين على إعداده من حملة الشهادات العليا، وخصوصاً خريجي الجامعة الإسلامية بالمدينة النبوية. وإن قيام فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي بالتحقيق والترجمة بنفسه ليعطي الثقة العلمية المتميزة لهذا المشروع.
    فأسأل الله عز وجل أن يبارك هذا المشروع، وأن ييسر إتمامه، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم وعلى آله وصحبه أجمعين.


    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور علي بن عبدالعزيز الشبل -حفظه الله-
    عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    بسم الله والحمد لله وصلى الله وسلم على رسوله وآله ومن والاه وبعد:
    ففي هذا اليوم الثلاثاء 22 /3/ 1420هـ مررت ورفقتي بمؤسسة دار الدعوة التي يرأسها الدكتور عبدالرحمن الفريوائي بدلهي، والتقيت بالعاملين فيها، وأطلعوني على مشاريعهم العلمية في الترجمة والطباعة ومن خلال الانترنت ورأيت ذلك جهداً مشكوراً سائلاً الله لهم التوفيق والإعانة، وموصياً لهم بتقوى الله عز وجل والتواصي مع إخوانهم بالبر والتقوى فإن يد الله مع الجماعة، ومن شذّ شُذَّ في النار، وصلى الله على رسوله وعلى آله وصحبه أجمعين.
    كلمة فضيلة الشيخ عبدالله بن محمد المعتاز -حفظه الله-
    رئيس إدارة المساجد والمشاريع الخيرية بالرياض
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم أما بعد:
    فإن مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية لها نشاط في الدعوة والتعليم والتصنيف والتأليف والترجمة، ورئيسها الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي معروف لدينا ولدى المشايخ بسلامة منهجه وعقيدته، وللمؤسسة نشاط في طبع الكتب السلفية، جزاهم الله خيراً وبارك فيهم وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
    كلمة فضيلة الشيخ أحمد بن حمد البو علي -حفظه الله-
    رئيس هيئة الإغاثة الإسلامية العالمية بالأحساء (المملكة العربية السعودية)
    الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين، وأصلي وأسلم على خيرة خلقه، محمد بن عبدالله صلى الله عليه وسلم وعلى آله وصحبه أجمعين.
    أما بعد:
    فإنَّ همَّ الدعوة الإسلامية من أشدِّ الأمانات التي يسعى الداعية إلى الله عز وجل إلى حُسْن توجيهها لأحسن السبل المتاحة لنشر الدعوة بالقول والعمل.
    وإن من أهمِّ سُبُل نشر الدعوة هو ما يتعلق بنشر كتاب الله وسنّة نبيه صلى الله عليه وسلم لأُناس من المسلمين وطلبة علمٍ يتكلمون ويقرأون بلغة دارجة لديهم غير اللغة العربية، وهي اللغة الأردية والهندية التي يتحدث بها أكثر من (500,00000) خمسمائة مليون مسلم معظمهم في القارة الهندية.
    وبحكم معرفتي بأوضاع المسلمين في شبه القارة الهندية نظراً لكوني مكلفاً بإدارة هيئة الإغاثة الإسلامية العالمية بالأحساء فإن حاجة الإخوة هناك لنشر وطبع كتب الحديث وبالأخص الكتب الستة لمن أهم الأمور وأشدها نفعاً وأثراً وتوجيهاً وإرشاداً وإحيائً لدينهم وعقيدتهم، خاصة إذا كان هذا النشر والطبع بإشراف مؤسسة علمية متخصصة واضحة المنهج، سليمة المعتقد، لها سابقتها في مجال الدعوة العلمية والعملية يترأسها فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي حفظه الله تعالى.
    وبمناسبة طبع كتاب السنن لأبي داود باللغة الأردية محققاً ومخرجاً بمؤسسة دار الدعوة إني أنتهزها فرصة أشكر فيها الشيخ عبدالرحمن الفريوائي وإخوانه العاملين بمؤسسة دار الدعوة على جهودهم وإخلاصهم في نشر كتب السنة على وجه يرضي أهل العلم ولهم منا ومن إخواننا الشكر والتقدير.
    ونسأل الله عز وجل أن يسهل لهم أمرهم وأن يتم لهم ما أملوه، إنه سميع قريب.
    والحمد لله رب العالمين وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين.


    كلمة فضيلة الشيخ عبدالله المرزوقي -حفظه الله-
    رئيس مؤسسة الإعمار الخيرية بالرياض
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين محمد وعلى آله وصحبه وسلم أما بعد:
    فإن الأخ الفاضل الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض معروف لدينا ولدى المشايخ الكرام بعلمه وفضله ونشاطه الدعوي الواضح في الهند، وسلامة منهجه السلفي السليم -هذا ما نحسبه فيه ولا نزكي على الله أحداً- وهو يقوم بنقل علوم السلف إلى اللغة الأردية والهندية والإنجليزية من قبل مؤسسة دار الدعوة، وهذا مطلب مهم جداً، ومشروع نافع للغاية في توعية المسلمين وتبصيرهم في دينهم، وفق الله القائمين على هذا المشروع والمساهمين فيه، ويوفقهم ويسددهم لما فيه رضاه، والصلاة والسلام على رسولنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.


    كلمة فضيلة الشيخ وليد بن أحمد الحسين -حفظه الله-
    رئيس تحرير مجلة الحكمة -المدينة المنورة
    الحمد لله والصلاة والسلام على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم وبعد:
    تفيد مجلة الحكمة ممثلة برئيس تحريرها بأن فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي من المشايخ المعروفين لديها، وله نشاط علمي ودعوي في الهند من خلال إدارته لمؤسسة دار الدعوة التعليمية، وقد زرته في الهند وأعرفه شخصياً وهو غني عن التعريف لما له من مكانة بين العلماء وطلاب العلم في هذه البلاد وغيرها، وهو حري بأن يتعاون معه في تحقيق أهدافه التي يسعى إليها في خدمة دينه، ومشروعه الدعوي الذي يقوم بتنفيذه وهو إعداد موسوعة الأحاديث الشريفة بالأردو مشروع ذات أهمية بالغة للتعريف بالدين الإسلامي الصحيح، وفقه الله وأصحابه في المؤسسة، والله هو الموفق.
    كلمة فضيلة الدكتور محمد حسن المبعوث الغامد ي -حفظه الله-
    عضو هيئة التدريس بكلية العلوم الاجتماعية بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله محمد بن عبدالله القرشي الهاشمي المكي وعلى آله إلى يوم الدين أما بعد:
    فقد تشرفت بزيارة مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية لمؤسسها الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي بمدينة دلهي بالهند في الأيام من يوم الأحد إلى يوم الأربعاء الموافق 1424/6/23هـ وقد وجدت في المؤسسة ما يسر، ومن أهم ذلك طلبة العلم الفضلاء الذين يسعون جاهدين إلى إنهاء تحقيق وطباعة وإخراج بعض كتب السلف المعتبرين باللغة الأردية والمؤسسة يفضل الله، ثم بفضل جهود جميع العاملين فيها على خير.
    آمل من الله عز وجل أن يزيدها قوة وثباتاً واستمرارية على الحق والتعاون مع المسلمين على نشر الحق، والحمد لله رب العالمين.
    كلمة فضيلة الشيخ صالح بن عبدالمحسن الحسين -حفظه الله-
    رئيس إدارة العلاقات الخارجية بمجمع الملك فهد لطباعة القرآن الكريم بالمدينة النبوية
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد:
    فقد تشرفت بمعرفة إخوتي في الله منسوبي دار الدعوة التعليمية الخيرية في عاصمة الهند -نيو دلهي- والتي يشرف عليها مؤسسها فضيلة الشيخ عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي -وفقه الله لكل خير-.
    وأسعدني ما اطلعت عليه من برامج دعوية خاصة نقل علوم السلف إلى اللغات الهندية وإني إذ أبارك لإخوتي في هذه المؤسسة جهودهم الطيبة أدعوهم إلى بذل المزيد والإصرار على الاستمرار بكل وسيلة لخدمة دينهم وأمتهم بكل إخلاص وتفان. داعياً الله أن يتقبل منهم ما قدموه ويزيدهم توفيقاً. ورفعة في الدنيا والآخرة.
    كلمة فضيلة الدكتور ف. عبدالرحيم -حفظه الله-
    أستاذ اللغة العربية بالجامعة الإسلامية سابقاً، وباحث في مجمع الملك فهد لطباعة القرآن بالمدينة المنورة
    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
    أما بعد: فإن مما يثلج صدور المهتمين بالدعوة أن مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بنيو دلهي بإشراف رئيسها المؤسس الدكتور عبدالرحمن الفريوائي يقوم الآن بمشروع علمي عظيم، وهو ترجمة أمات كتب الحديث إلى اللغة الأردية، ولغات الهند الأخرى، ونشرها نشراً الكترونياً عبر الشبكة العالمية، وقد تم إنجاز ترجمة سنن أبي داود، وكتب أخرى، والعمل في مراحله النهائية.
    وإنني إذ أرحب بهذا العمل العملاق لأهيب بإخواني الغيارى إلى مساندة هذا العمل العلمي المفيد. والذي سرني في هذا العمل هو كونه باسم الإسلام والمسلمين، وليس باسم فئة معينة.
    وفق الله تعالى القائمين على هذا العمل لمزيد من العطاء وسدد خطاهم، وجزاهم أحسن الجزاء، إنه سميع مجيب، وآخر دعوانا إن الحمد لله رب العالمين.
    كلمة فضيلة الشيخ علي حسن بن عبدالحميد الحلبي الأثري -حفظه الله-
    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين.
    أما بعد:
    فقد اطلعت على نبذ المشاريع العلمية والدعوية والتربوية التي تقوم بها مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية في الهند، بإشراف فضيلة أستاذنا الشيخ أبي عبدالله عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي -نفع الله به-: فرأيتها عظيمة النفع، كبيرة الفائدة، وبخاصة منها (موسوعة الأحاديث النبوية باللغة الأردية) ضمن (مشروع نقل علوم السلف إلى لغات الهند).
    وهذه -حقيقةً- مشاريع كبيرة الشأن تحتاج إلى تعاون شديد سديد، ودعم كبير كثير حتى تخرج إلى النور، ليعظم نفعها في الواقع، نشراً للسنة، ونصرةً لمنهج السلف.
    فالمرجو من كل من له يد باسطة في الخير والإعانة على ذلك بقدر الاستطاعة والله الموفق.


    كلمة فضيلة الشيخ سليم بن عيد الهلالي -حفظه الله-
    الحمد لله حق حمده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
    فإني قد اطلعت علىنماذج من «موسوعة الأحاديث النبوية باللغة الأردية» بإشراف مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية.
    وهذا المشروع علمي مفيد يخدم مسلمي القارة الهندية، ويقرب السنة النبوية مع تمييز صحيحها من ضعيفها مما يعين على فهم الإسلام فهماً صحيحاً على منهج السلف الصالح.
    فنرجو من يهمه الأمر إعانة إخواننا على إنجاز هذا المشروع، وجزاهم الله خير الجزاء.


    كلمة وفد وزارة الشؤون الإسلامية والأوقاف بالمملكة العربية السعودية
    الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين.
    أما بعد:
    فعلى هامش ملتقى الدعاة في الهند وفي مساء هذا اليوم الأربعاء 26 / 3 / 1421هـ من هجرة المصطفى صلى الله عليه وسلم قمنا بزيارة هذا المركز المبارك مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية، وقد تجولنا في أقسام المركز برفقة وتعريف فضيلة الشيخ د/عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي، وسرنا ما رأيناه من جهود مباركة في ترجمة السنة النبوية وعناية بالالتزام بمنهج السلف الصالح، ونوصيهم بتقوى الله تعالى في السر والعلن، ونسأل الله أن يتقبل منا ومنهم، وأن ينصر دينه ويعلي كلمته.
    وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه.

    عبدالرحمن بن مهيزع المهيزع
    المشرف على ملتقى الدعاة الثاني في الهند
    ومدير إدارة الدعوة في آسيا
    عبدالرحمن بن محمد البليهي
    عضو الدعوة في مكتب وكيل الوزارة
    لشؤون المساجد والدعوة
     
  7. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922

    كلمة وفد جمعية دار البر -بدبي ( الإمارات العربية المتحدة )
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم إلى يوم الدين، وبعد: فالله أحمد أن سخر لنا زيارة مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بمدينة دلهي الجديدة -حفظها الله من كيد الكائدين- وقد رأينا ما يسرنا -ولله الحمد- وسعدنا بلقاء القائمين عليها، وعلى رأسهم شيخنا الكريم الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي -حفظه الله وزاده علماً- وبعد الاطلاع على الأعمال التي يقومون بها رأينا ما لم نره في كثير من الدول من جهد في نشر العقيدة الصحيحة، وتعليم الناس الدين القويم، نسأل الله أن يكلل جهودهم بالنجاح وخدمة الدعوة السلفية الحقة، وأدعوه عز وجل أن يسخر لهم كل السبل من أجل بلوغ أهدافهم، وإنجاز مشاريعهم الدعوية، وأن يجعلهم مناراً للعلم، وسراجاً للهدي القويم، ويعينهم على أهل البدع والأهواء، إنه سميع عليم. والله أعلى وأعلم، والحمد لله رب العالمين، سبحانك الله وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك.
    أبو عبدالله محمد أحمد الحمادي
    رضاء الحسن أبو ناصر
    موفود جمعية دار البر -بدبي
    موفود جمعيةدار البر -بدبي
    2 جمادى الأولى 1421هـ - 2/ 8/ 2000م
    كلمة فضيلة الشيخ الدكتور خالد بن علي العنبري -حفظه الله-
    الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على سيد الأولين والآخرين رحمة للعالمين وبعد:
    فإن فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي -وفقه الله وسدد خطاه- (عضو هيئة التدريس بكلية أصول الدين بجامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية بالرياض) والرئيس المؤسس لمؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية بالهند، صاحب دعوة علمية سلفية في شبه القارة الهندية، وقد نفع الله به كثيراً، وقد أنشأ مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية في الهند لتكون نواة لنشر علوم السلف وأهل السنة، ومؤسسة دار الدعوة تقوم بالأنشطة التعليمية والدعوية والخيرية.
    وأذكر أننا هاتفنا شيخنا الإمام القدوة محمد ناصر الدين الألباني -رحمه الله- فأخبره الدكتور عبدالرحمن الفريوائي- وكان معروفاً عند الشيخ -رحمه الله- فأخبره عن مشروعه الكبير في نقل علوم السلف إلى اللغة الأردية وطباعة كتب الحديث مع تراجمها والحكم على أحاديثها صحة وضعفاً، ففرح بذلك جداً ودعا له بالخير.
    وصفوة القول أن الشيخ الدكتور الفريوائي موضع ثقة، وصاحب دعوة سلفية علمية، أهل للتعاون معه على البر والتقوى ونشر الدعوة وترجمة علوم السلف والسنة، وفقه الله الجميع لما يحبه ويرضى، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
    كلمة فضيلة الشيخ عبدالرحمن بن عبدالله العيدان
    والشيخ عيسى بن محمد الخريف -حفظهما الله-
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين أما بعد:
    قد يسر الله لنا زيارة مؤسسة دار الدعوة التعليمية الخيرية في دلهي والتي يديرها فضيلة الشيخ الدكتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي، وهذا المركز له نشاطات تعليمية ودعوية يشكر القائمون عليها إضافة إلى عزم المركز على نقل علوم السلف إلى اللغات المختلفة، وهو مركز يعنى بالدعوة إلى التوحيد والسنة، ونصرة منهج سلف الأمة، وقد سرنا ما رأينا من برامج وخطط نافعة لدى هذا المركز الحيوي الواقع في بلادٍ يكثر فيها الشرك والكفر والبدع والضلالات.
    فنوصي أهل الخير والإحسان ممن يبلغه شأن هذا المركز أن يجتهد في دعم أعماله ونشاطاته وإكمال ما لديهم من مشاريع تحت التنفيذ، وأسأل الله لنا ولهم التوفيق والسداد وأن يبارك في الجهود والخطى، وأن ينفع بهذا المركز الإسلام والمسلمين، ونوصيهم بتقوى الله تعالى والصدق في الدعوة إليه وجمع كلمة أهل السنة والجماعة، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وسلم.

    كلمة فضيلة الشيخ حسين بن أحمد الزهراني والشيخ سمير بن حسين الحوسني
    -حفظهما الله-
    جمعية الشارقة الخيرية (الإمارات العربية المتحدة)
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وبعد: فقد يسر الله لنا زيارة مؤسسة دار الدعوة ومؤسسها الشيخ عبدالرحمن بن عبدالجبار الفريوائي والإخوة الأعضاء العاملين بها وقد سعدنا بما رأينا من جهود واهتمام بتراث السلف ونشره وتحقيقه بالهند ولقيت منهم الحفاوة وحسن الضيافة وسعدت بهذه الزيارة وخصوصاً باطلاعي على المشروع الضخم الذي تبنته هذه الإدارة مع قلة الإمكانات وهو مشروع نقل علوم السلف إلى لغات الهند، ونرجو الله أن يبارك جهودهم ويتقبل أعمالهم وأعمالنا المتواضعة ويجزي القائمين خير الجزاء في الدارين.

    كلمة فضيلة الشيخ أبي عبدالرحمن هاني بن عبدالجليل بن عبدالخالق شيخ
    - حفظه الله -
    ( الجمهورية اليمنية )
    الحمد لله والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين.
    وبعد: أحمد الله حمداً كثيراً أن وفقني أن أزور إخواني في هذا المكان مكتب دار الدعوة، وقد التقيت بالإخوة العاملين في هذا المركز، فجزاهم الله خيراً فقد قاموا بما ينبغي من الإكرام، ويكفي في هذا اللقاء أن أهل السنة يلتقون فيما بينهم ويقوون صلتهم في العالم أجمع ولله در القائل:
    دين النبي محمد أخبار

    نعم المطية للفتى آثار
    لا ترغبن عن الحديث وأهله

    فالرأي ليل والحديث نهار
    ولربما غلط الفتى طرق الهدى

    والشمس بازغة لها أنوار
    وقد اطلعت على مشاريعهم العلمية في الترجمة في قضية ترجمة كتب السنن وكتب ابن تيمية وكتب ابن القيم -رحمهم الله الجميع- وحقيقة هذا الجهد يدل على حرص أهل السنة في نشر السنة والدفاع عن العقيدة وعلى ذم التعصب المذهبي، وأسأل الله أن يوفق إخواننا على جهودهم الميمونة، وأسال الله أن يسدد خطاهم ويوفقهم إلى ما يحبه ويرضاه. ويصرف عنهم كل شر وبلية.
    وأطلب من جميع المسلمين بمساعدة هذا المركز الشامخ وتقديمهم بكل ما يحتاجون في الدعوة والعمل على حسب قدرتهم وطاقتهم وأوصي إخواني بتقوى الله في السر والعلن والعمل على ما كان عليه سلف الأمة، رضي الله عنهم أجمعين وصلى الله على محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين.

     
  8. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    کلمات تہنیت وتاثرات
    از علماء ودعاۃ واساتذہ جامعات بلاد عربیۃ اسلامیہ
    تاثرات عزت مآب شیخ صالح بن عبدالرحمن الحصین -حفظہ اللہ-
    (ڈائرکٹر ادارہ حرمین شریفین، مکہ مکرمہ)
    الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی أشرف المرسلین، نبینا ورسولنا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
    برادرم شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ سے ایک طویل عرصہ سے گہرا تعلق ہے، موصوف صاحب علم وفضل، اسلامی کاز کے لئے بلند ہمت، صحت عقیدہ اور منہاج نبوت پر اسلام کی دعوت دینے والے عالم کے حیثیت سے میرے نزدیک بڑی مدت سے معروف ہیں، آپ ہندوستان میں کئی تعلیمی اور دعوتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ، جن میں امہات کتب حدیث ، سیرت انسائیکلوپیڈیا ، نیز کتب سلف کی اردو زبان میں اشاعت کے منصوبے ہیں، میں نے ۶؍ ۲۹؍ ۱۴۲۱ھ میں دار الدعوۃ دہلی کی زیارت کی، اخوان نے کتب سلف کے تراجم عالیشان منصوبے کی تفصیل بیان کی، اور اب تک کے کاموں کی تفصیل بتائی، اور ادارہ کی متعدد تعلیمی سرگرمیوں سے مطلع کیا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ دار الدعوۃ کے کارکنان کو اپنی رضا وخوشنودی والے کاموں کے ا نجام دینے کی توفیق دے، اور ہمیں اور انہیں نیت اور عمل میں اخلاص کی توفیق دے، اخلاص سب سے اہم چیز ہے، جس کی وصیت آپس میں لوگ کرے رہے ہیں، اس لئے کہ یہ نفس انسانی پر سب سے زیادہ شاق اور دشوار چیز ہے، اس لئے کہ بقول امام جنید رحمۃ اللہ علیہ نفس کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل -حفظہ اللہ-
    (وکیل جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ)
    فضیلۃ الدکتور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی (صدر دار الدعوۃ واستاذ کلیۃ اصول الدین، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ)
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    دارا لدعوۃ کی دینی مساعی پر میں آپ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں، اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک معزز پیغام اور بلند مقصد کے حامل ذمہ داری کو ادا کررہے ہیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس کی توفیق آپ کی شامل حال ہو، اور آپ اپنی کوششوں میں کامیاب وکامراں ہوں ، ہم اپنے ذمہ داران حکومت (حفظہم اللہ) کی تعلیمات وہدایات کی روشنی میں آپ کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں ، اور اس پروگرام میں آپ کے ساتھ ہیں، والسلام۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان -حفظہ اللہ-
    (استاذ جامعۃ ا لا ِمام محمد بن سعود الا ِسلامیۃ ریاض)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسول الکریم اما بعد:
    فاضل دوست شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی استاد جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ وفقہ اللہ کی زیر نگرانی دار الدعوۃ کے علوم سلف کو اردو میں منتقل کرنے کے عظیم علمی ودعوتی منصوبے سے واقفیت حاصل کر کے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔
    اس وقت میرے سامنے سنن ابی داود کے بعض اوراق ہیں، اس کتاب کو دار الدعوۃ اپنے حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کی پہلی کتاب کے طور پر شائع کر رہا ہے، اس انسائیکلوپیڈیا میں صحاح ستہ اور موطا امام مالک ، اور سنن دارمی جیسے اہم مراجع شامل ہیں، متن حدیث کے ساتھ اردو ترجمہ، تخریج ا حادیث، احادیث صحیحین کے علاوہ کی تصحیح وتضعیف ، اور مختصر حواشی وتعلیقات کی موجودگی میں اس عظیم منصوبہ سے خواص اور عوام جو بھی احادیث شریفہ پر عمل، اور اس کی دعوت وتبلیغ کا کام کرنا چاہیں یکساں طور پر فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
    اس سنہری موقع پر میں اس منصوبہ پر کام کرنے والے بھائیوں کو مبارک دیتا ہوں، اور ان کے حق میں توفیق الہی کی دعا کرتا ہوں، اور اس عمدہ انداز میں کتب حدیث کی خدمت واشاعت کو انتہائی بہترین کام سمجھتا ہوں۔
    اس کام کی تحسین وتائید کے ساتھ ساتھ میں کار کنان دار الدعوۃ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس منصوبہ اور علوم سلف کی اشاعت کے دوسرے منصوبہ (میری مراد معارف وافادات ابن تیمیہ وابن قیم وابن عبدالوہاب -رحمہم اللہ- سے ہے) کی اردو میں ترتیب و اشاعت کا کام جاری رکھیں، اہل خیر سے میری پرزور گزارش ہے کہ وہ افادہ عام، اور اجر وثواب کے لئے ان اہم منصوبوں کی تکمیل ، اوراس کی طباعت وتقسیم میں ہاتھ بٹائیں۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

    تاثرات ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی -حفظہ اللہ-
    (سابق استاذ حدیث وپرنسپل کلیۃ الحدیث ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ )
    حمدو صلاۃ کے بعد : فضیلۃ الدکتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی (صدر دار الدعوۃ، واستاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض) کی زیر نگرانی دار الدعوۃ میں علوم سلف کی اردو وغیرہ زبانوں میں منتقلی کے منصوبے کو میں نے دیکھا، دار الدعوۃ حدیث انسائیکلوپیڈیا اردوکو تیار کر رہا ہے جو ’’کتب ستہ‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، سنن نسائی، سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ) اور موطأ امام مالک وسنن دارمی کے تراجم وتحقیق پر مشتمل ہے، اس کے بعد دوسری ہندوستانی زبانوں میں یہ کام ہوگا، یقینا مسلمانوں کے لئے عموماً اور غیرمسلموں کے لئے خصوصاً اس پروگرام کی بڑی اہمیت ہے کہ اصول اسلام کو ان لوگوں کے پاس پہنچا دیا جائے جو ان کے صحیح اسلام کے فہم میں معاون ہوں گے، اور کتاب وسنت سے تمسک، اور بر صغیر میں پھیلی ہوئی بدعات وخرافات سے دور کرنے میں مددگار ہوں گے۔
    میرے لئے اس پروگرام میں خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کے ذمہ داروں سے لے کر مترجمین حضرات سب کے سب سعودی یونیورسٹیوں کے فضلاء ہیں، اور یہ ہمارے ایسے برادران ہیں جو اپنی سرگرمیوں اور نشاطات میں اور سلفی دعوت سے مخلصانہ تعلق میں معروف ومشہور ہیں، اور عربی زبان کے ساتھ ساتھ انہیں اردو زبان میں مہارت ہے، اسلامی علوم کو ہندوستانی زبانوں بالخصوص اردو میں منتقل کرنے کا کام جس کو برصغیر کے اکثر مسلمان بولتے اور سمجھتے ہیں، پھر ہندی زبان جو پورے ہندوستان میں رائج ہے، اور اس وقت ہندوستان کی سرکاری زبان ہے، اور جسے ہندو اور مسلمان یکساں طور پر بولتے اور سمجھتے ہیں، اس منصوبہ سے کتاب وسنت پر مبنی صحیح عقائد کی نشر وتبلیغ میں مدد ملے گی، اس لئے میں اس عظیم منصوبہ کو خوش آمدید کہتا ہوں، اور اس کا بیڑا اٹھانے والے بھائیوں کا شکر گزار ہوں اور اہل علم ودعوت سے گزارش ہے کہ وہ اس پروگرام کی سرپرستی کریں اور اس سے استفادہ کی راہیں تلاش کریں، تاکہ ہندوستان اور ہندوستان سے باہر اس سے عام فائدہ اٹھایا جا سکے۔
    سنن ابی داود کے بعض اجزاء کو میں نے دیکھا تو ترجمہ میں معتبر شروط وقیود یعنی زبان، احادیث کی تخریج، اور صحت وضعف کا حکم، نیز احادیث سے علمی فوائد کا استنباط وغیرہ وغیرہ باتیں بدرجہ تمام وکمال موجود ہیں۔
    میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس پروگرام کے ذمہ داروں کو اپنی توفیق سے نوازے، اور اسلامی علوم اور تراث سلف کو ہندوستانی زبانوں میں منتقل کرنے میں راست اقدام کی توفیق دے، جس میں مسلمانوں کے لئے عام طور سے اور غیر مسلموں کے لئے صحیح اسلام کی دعوت وتبلیغ مضمر ہے۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالعزیز السعید -حفظہ اللہ-
    (صدر شعبہ حدیث، کلیۃ اصول الدین، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ)
    الحمد للہ وصلی اللہ وسلم علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ وسلم
    أما بعد: برادرم فضیلۃ الدکتور عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی استاذ حدیث ، کلیۃ اصول الدین (ریاض) نے مجھے حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کے فلاحی منصوبہ کو دکھایا، جو اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی شائع ہوگا، اس منصوبہ پر ڈکٹر فریوائی کی زیرنگرانی دار الدعوۃ (دہلی) کام کررہا ہے، مجھے یہ منصوبہ بہت پسند آیا، یہ کوشش مبارک اور شکریہ کی مستحق ہے، جس سے مجھے بے حد خوشی ہوئی، مجھے اس پروگرام کے چلانے والوں پر رشک آرہا ہے، کیونکہ اس سے بڑے اچھے ثمرات ونتائج کی توقع ہے، اس سے سنت صحیحہ اور صحابہ وتابعین وغیرہ أئمہ دین وہدایت کے عقائد حقہ کی تعلیم ہوگی ، بالخصوص ہمیں اس پروگرام کے نگراں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ صحیح العقیدہ عالم ہیں، صحت ِعقیدہ کی شرح وترجمانی میں بڑی سخت ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کوششوں کو با برکت بنا دے ، اور اس منصوبہ کے ذمہ داروں کو سیدہی راہ دکھائے، اس سے مسلمانوں کو فائدہ ہو، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ ۔

    تاثرات ڈاکٹر ولید الکندری -حفظہ اللہ-
    ( صدر شعبۂ کتاب وسنت،کلیۃ الشریعہ، کویت یونیورسٹی، کویت)
    الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
    اما بعد: دار الدعوۃ عربی زبان اور اسلامی علوم کی تدریس، دعوت وتبلیغ اور علمی کتابوں کی اشاعت کے ذریعے دعوت الی اللہ کے فرائض انجام دے رہا ہے، اس کے صدر فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبدالجبار فریوائی استاذ جامعۃ الامام ہمارے یہاں حدیث وعلوم حدیث میں اپنی تحقیقات اور علمی تصنیفات سے مشہور ومعروف ہیں، ادارہ برصغیر میں اپنے پہلے پروجیکٹ علوم سلف کی اردو زبان میں اشاعت کے لئے کوشاں ہے، واضح رہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی یہ زبان ہے جو دنیا کی مسلم آبادی کا آدھا حصہ ہیں، اس منصوبے میں تفسیر، سیرت اور حدیث انسائیکلو پیڈیا اردو،نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ و ابن القیم اور شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہم اللہ کے علوم وافادات کی اردو میں محققانہ نشر واشاعت ہے، صحیح اسلام کے تعارف کے باب میں اس علمی اور دعوتی منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر ہم اس منصوبے کی تائید وتحسین کرتے ہیں، ا ور اہل خیر سے اس کی نشر واشاعت اور تقسیم کے سلسلے میں مدد کے طالب ہیں، کاش کہ ہماری محبوب حکومت کویت اس منصوبے کو اپنا کر عالم اسلام کے لئے ایک نئی چیز اور دعوت الی اللہ کے لئے ایک قائدانہ کام پیش کرے ، وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

    تاثرات ڈاکٹر باسم بن فیصل الجوابرہ - حفظہ اللہ-
    (استاذ حدیث اُردن یونیورسٹی، عمان)
    الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
    امابعد:اللہ تبارک وتعالی کے فضل وتوفیق سے میں نے ہندستان کی تین بار زیارت کی، پہلی بار مدینہ یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں اور دوسری اور تیسری بار جامعۃ الامام میں تدریس کے دوران، آخری دونوں سفر دعوتی پروگرام سے متعلق تھے، میرے رفیق سفر شیخ محمد بن عبدالعزیز اللحیدان تھے، یہ سفر دار الدعوۃ کی دعوت پر ہوئے جس کے مسئول برادرم ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی میرے مدینہ منورہ سے لے کر جامعۃ الامام تک کے پڑھنے پڑھانے کے ساتھی ہیں، اور موصوف اپنی مؤلفات وتحقیقات کی وجہ سے علمی حلقوں میں معروف ومشہور ہیں، نیز ہمارے مشائخ کے یہاں بھی عقیدے ومنہج کی سلامتی اور تعلیمی ودعوتی سرگرمیوں میں مشہور ہیں، موصوف کی تعلیمی اور دعوتی مساعی ، اہتمام وتوجہ کی مستحق ہیں، کہ مسلمانوں کی ترقی اور انہیں خیر وسعادت کی طرف پہنچانے کا یہی صحیح راستہ ہے، دینی تعلیم اور علومِ سلف کی نشر واشاعت کا منصوبہ ہر دور اور ہر جگہ میں اہمیت کا حامل ہے، بالخصوص غیر عربی زبانوں میں ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، اللہ سب کو اسلامی معاشروں میں دینی تعلیم اور علومِ سلف کے فروغ کی توفیق عطا فرمائے، وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عاصم بن عبداللہ القریوتی -حفظہ اللہ-
    (استاذ حدیث، کلیۃ أصول الدین، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ)
    حمد وصلاۃ کے بعد : اللہ رب العزت کیفضل کے بعد چند دہائیوں سے پہلے سنت نبویہ کی اشاعت ، اور احیاء سنت کے سلسلے میں بر صغیر والوں کو فضیلت وسبقت حاصل تھی، اور دوسرے اسلامی ملکوں نے کتب حدیث وغیرہ کی اشاعت میں ان کی اقتدا کی، ہمارے یہ برادران بالخصوص بر صغیر کے اہل حدیث اس وقت بھی رسول اکرم a کی سنت اور سلف صالحین کے عقیدہ ومنہج پر قائم ودائم ہیں، برادرم ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی کی زیر نگرانی کتب حدیث کے اردو تراجم سنت نبویہ سے اہتمام اور شغف کی ایک مثال ہے کہ اس کے ذریعہ سے عربی سے نا بلد لوگوں تک سنت کے علم کو پہنچایا جائے ، تاکہ وہ صاف وشفاف چشموں سے سیراب ہوں،گرچہ میرے خیال میں عربی زبان سے شغف اور اس کو سیکھنے سکھانے کی جد وجہد زیادہ مناسب بات ہے کہ لوگ اسلامی شریعت کے مآخذ ومصادر سے براہ راست فائدہ اٹھائیں،لیکن خود یہ پروگرام ان شاء اللہ لوگوں کو اس سے قریب کریگا، اور معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس سے فائدہ اٹھائے گا، بے شک کتاب اللہ اور سنت صحیحہ کی طرف رجوع میں نور وہدایت ہے، اور اللہ تعالی کی حکمت کے تقاضے میں لوگ مختلف قوموں اورقبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں تاکہ یہ چیزیں آپس میں تعارف کا ذریعہ بنیں، اور اللہ رب العزت نے زبان اور رنگ کے اس اختلاف وتنوع کو دنیا والوں کے لئے نشانی بنایا ہے۔
    اللہ تعالی سے میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اس منصوبہ کو مفید بنائے، اور اسے سنت نبویہ کو غلبہ دے، اور اس سے سنت کا دفاع ہو، والحمد للہ رب العالمین۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ محمد بن عبدالعزیز اللحیدان - حفظہ اللہ-
    (مشرف تربوی وزارۃ تعلیم وتربیت،سعودی عرب)
    حمد صلاۃ کے بعد: ہم نے الحمدللہ دار الدعوۃ(نئی دہلی) کی دو بار زیارت کی،جس کی تا ٔسیس ڈاکٹر عبدالرحمن عبدالجبار الفریوائی (استاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، ریاض) نے اردو وغیرہ ہندوستانی زبانوں میں علوم سلف کی نشر واشاعت کے لئے کی ہے، ادارہ کی مساعی کو دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی، ہم ادارہ کے دعاۃ اور باحثین سے ملے، اور اسلامی تراث اور سنت نبویہ کی خدمت میں اس کی بہترین مساعی اور جد وجہد سے واقف ہوئے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کے اعمال کو اپنی رضا کے لئے خالص کردے۔
    چونکہ اس ادارہ کے مؤسس ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی ہمارے اور ہمارے مشایخ کے نزدیک عقیدہ اور منہج کی سلامتی میں معروف ہیں، اور آپ کی اپنے ملک میں بڑی دعوتی مساعی ہیں، اور آپ اپنی مؤلفات اور تحقیقات سے معروف ومشہور ہیں، اس لئے ادارہ کے دعوتی اور تعلیمی منصوبوں سے آپ کے اشراف میں بڑے فوائد اور خیر کی توقع ہے، اور اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اور ان حضرات کے اعمال کو اپنی رضا کے لئے خالص کر دے، وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ أحمد بن محمد بن عثمان المنیعی -حفظہ اللہ-
    (لیکچرر جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، ریاض، وصدر وقف السلام الخیری)
    حمد وصلاۃ کے بعد: بروز دوشنبہ ۲۸؍ ۶؍۱۴۲۴؁ھ، دار الدعوۃ نئی دہلی کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی، ادارہ کے بانی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی اور دوسرے اخوان سے وہاں ملاقات ہوئی، دار الدعوۃ کا مکتبہ دیکھا، اور وہاں کتب حدیث کے تراجم کا کام دیکھا، یہ سنت نبوی کی نشرواشاعت اور اس کی دعوت وتبلیغ کا منصوبہ ہے، دراصل یہ کام برصغیر کے علمائے اہل حدیث کے معروف اور مسلسل ہونے والی جدوجہد کی ایک کڑی ہے، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اس منصوبہ کے ذمہ داران کو ان کے اپنے علمی اور دعوتی منصوبوں میں اخلاص وللہیت عطا کرے، اور اپنی توفیق سے نوازے اور ان اعمال کو قبول کرے۔
    اس منصوبے کو جاری رکھنے اور اس کو پھیلانے میں اہل علم اور اہل ثروت کے تعاون کی ضرورت ہے، اللہ تعالی سب کو اپنے محبوب اور رضا مندی والے کام کی توفیق دے، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان مساعی کونفع بخش بنائے ، اور اسے بابرکت بنادے، اور ان کو راہ صواب دکھائے ، اور انہیں اپنے اجر وصواب سے نوازے۔آمین

    تاثرات فضیلۃ الشیخ عبدالوہاب بن عبدالعزیز الزید -حفظہ اللہ-
    (اِدارہ عامہ برائے تعلیم بنات، وزارت تربیت وتعلیم ،ریاض)
    الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ:
    اما بعد: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کاموں میں مسابقت ومنافست اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا سب سے اچھا کام ہے، اسلامی شریعت کے اہم مراجع کتاب اللہ اور صحاحِ ستہ وغیرہ ہیں، اس لئے ان سے شغف واہتمام اور عالم اسلام میں ان کی ترویج واشاعت اور مختلف زبانوں میں ان کو پیش کرنا ضروری ہے، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن عبدالجبار الفریوائی نے برصغیر کے پانچ سوملین مسلمانوں کی زبان اردو میں حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کی نشرواشاعت میں سعی بلیغ فرمائی ہے، ڈاکٹر موصوف کا یہ کام دراصل ممتاز علمائے ہند کے کاموں کی کڑی ہے، جن کے ہاتھوں سے اللہ تعالی نے کتب حدیث اورشروح حدیث کی اہم تصنیفات کی نشر واشاعت کا کام کرایا، جیسے نواب صدیق حسن قنوجی، سید نذیر حسین محدث دہلوی ، علامہ شمس الحق عظیم آبادی، علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ، علامہ ثناء اللہ امرتسری نیز شیخ فریوائی کے اساتذہ کرام جیسے شیخ الحدیث مولانا عبیدا للہ مبارکپوری ، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، مولانا بدیع الدین راشدی، وغیرہ وغیرہ۔
    میں اپنے اردو بولنے والے بھائیوں کو اس انسائیکلو پیڈیا کی پہلی کتاب سنن ابی داود کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
    اس منصوبے کی سب سے امتیازی چیز اس کام سے متعلق با استعداد ٹیم کا موجود ہوناہے، میں نے دار الدعوۃ دہلی کی زیارت کی، جہاں پر یہ کام ہورہا ہے، اس منصوبہ سے جڑے علماء اعلی ڈگریوں والے ہیں، بالخصوص جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فضلاء، ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی کی بنفس نفیس تحقیق وترجمے کے کام میں شرکت اس منصوبے کے لئے ایک ممتاز علمی سند ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس منصوبے میں برکت دے اور اس کی تکمیل کے مراحل آسان کردے ، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

    تاثرات ڈاکٹر حسین بن عبداللہ العبیدی -حفظہ اللہ-
    (استاذ کلیۃ الشریعۃ ووکیل مرکز دراسات الطالبات بجامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ،ریاض)
    حمد وصلاۃ کے بعد : برادر محترم ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی کی دعوت پر دار الدعوۃ کی زیارت کا موقعہ ملا، اور اس کے پروگراموں سے واقفیت حاصل ہوئی، کتاب وسنت کی خدمت میں ان کے پاس عقائد، سنت وتفسیر کی کتابوں کے دوسری زبانوں میں تراجم کا منصوبہ ہے، ہم ا للہ تبارک وتعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ان کی مدد فرمائے ، اور ان کی مساعی میں برکت ڈال دے، اور ان کے ذریعہ سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچے۔
    تاثرات ڈاکٹر عیاض بن نامی السلمی -حفظہ اللہ-
    (صدر شعبہ اصول فقہ واستاذ کلیۃ الشریعۃ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، ریاض)
    حمد وصلاۃ کے بعد: اللہ تعالی نے مجھے دار الدعوۃ کی زیارت کی توفیق دی میں نے اس ادارہ کے کارکناں کی عظیم مساعی کو دیکھا ، ادارہ کے روح رواں استاذ ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی ہیں، حدیث کی خدمت اور احادیث کو اردو میں منتقل کرنے اور دعوۃ الی ا للہ کے میدان کی مبارک کوششوں کو دیکھ کر بڑی خوشی ومسرت ہوئی، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان حضرات کی مساعی میں برکت عطاء فرمائے ، اور ان کے اعمال کو شرف قبولیت بخشے، والحمد للہ اولاً وآخراً۔

    تاثرات ڈاکٹر علی بن عبدالعزیز الشبل -حفظہ اللہ-
    (استاذ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض)
    حمد وصلاۃ کے بعد: میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ دار الدعوۃ جس کے صدر ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی ہیں کی زیارت کی، اس کے کار کنان سے ملا، ان حضرات نے یہاں ہونے والے علمی پروگرام اور انٹرنیٹ سے استفادہ کے بابت ہمیں مطلع کیا، یہ قابل شکر مساعی ہیں، اللہ تعالی سے میں ان کے حق میں توفیق واعانت کے لئے دعا گو ہوں۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ عبداللہ المعتاز -حفظہ اللہ-
    (صدر ادارۃ المساجد والمشاریع الخیریۃ، ریاض)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد:
    دار الدعوۃ تعلیم، دعوت،تالیف اور ترجمہ کے میدان میں سرگرم عمل ہے، اس کے صدر شیخ عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی ہمارے اور مشائخ کے نزدیک اپنے عقیدہ اور منہج کی سلامتی میں معروف اور مشہور ہیں، دارالدعوۃ سلفی کتابوں کی نشر واشاعت میں سرگرم ہے، اللہ ان کو جزائے خیر دے، اور ان کے کاموں میں برکت دے۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم

    تاثرات فضیلۃ الشیخ احمد بن حمد البو علی -حفظہ اللہ -
    (صدر ھیئۃ الا ِغاثۃ الا ِسلامیۃ العالمیۃ، احساء، سعودی عرب)
    الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، اما بعد:
    اسلامی دعوت کی سوچ اور فکر بڑی بھاری امانت ہے، جس کے لئے داعی الی اللہ کوشاں رہتے ہیں، کہ وہ قول وعمل کے ذریعہ میسر وسائل سے دعوت کا کام کریں، دعوت کی نشر واشاعت کا بہترین وسیلہ غیر عرب مسلمانوں اور طلبا کی ان کی اپنی مادری زبانوں میں کتاب وسنت کی ترویج واشاعت ہے، برصغیر کے پانچ سوملین مسلمان جو مسلم آبادی کا نصف حصہ ہیں، اور جو اردو، ہندی بولتے اور سمجھتے ہیں، ھیئۃ الاغاثہ الاسلامیہ العالمیۃ سے تعلق کی بنا پر برصغیر کے مسلمانوں کے حالات کا مجھے علم ہے، اور اس حوالے سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ان بھائیوں کے لئے کتب حدیث بالخصوص صحاح ستہ کی اردو میں نشر واشاعت ان کے عقائد اور دین کے اصلاح کے لئے بہت ہی مؤثر اور مفید تدبیر ہے، بالخصوص جب کہ یہ کام صحیح عقیدہ اور منہج کے حامل علمی ادارہ کے زیرنگرانی انجام پا رہا ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، میری مراد اس میدان میں دعوتی اور علمی کام کی تاریخ رکھنے والے ادارہ دار الدعوۃ سے ہے جو ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی حفظہ اللہ کی نگرانی میں یہ کام کررہا ہے۔
    سنن ابی داود کے محقق اور مترجم ایڈیشن کی اشاعت کے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے شیخ عبدالرحمن اور ان کے ادارہ کے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کتاب وسنت کی اشاعت کی یہ مخلصانہ جدوجہد کی ، جو اہل علم کی نظر میں پسندیدہ ہے، میں اپنی طرف سے اور اپنے بھائیوں کے طرف سے ان کا شکر گزار ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ ان کے کاموں میں آسانی دے، اور حسب خواہش ان کی تکمیل فرمائے، والحمد للہ رب العالمین

    تاثرات فضیلۃ الشیخ عبداللہ المرزوقی -حفظہ اللہ-
    (صدر مؤسسۃ الا ِعمار الخیریۃ ، ریاض)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم ، اما بعد:
    برادر محترم ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی استاذ جامعۃ الامام میرے نزدیک اور مشائخ کے نزدیک اپنے علم و فضل وسلفی عقیدہ اور منہج اور واضح دعوتی سرگرمیوں میں معروف ومشہور ہیں، هذا ما نحسبه ولا نزكي على الله أحدا.موصوف نے دار الدعوۃ کی طرف سے اردو ،ہندی اور انگریزی زبانوں میں علوم سلف کی اشاعت کا پروگرام بنایا ہے، جو بہت ہی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، اور مسلمانوں کی دینی بصیرت وآگہی کے لئے انتہائی بہترین پروگرام ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس منصوبہ کے ذمہ داران اور ان کے معاونین کو توفیق دے اور اپنی مرضی والے کام کا راستہ دکھائے، والصلاۃ والسلام علی رسولنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات فضیلۃ الشیخ ولید بن احمد الحسین -حفظہ اللہ-
    (رئیس تحریر مجلۃ الحکمۃ، مدینہ منورہ، سعودی عرب)
    الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم اما بعد:
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی ہمارے معروف ومشہور مشائخ میں ہیں، دار الدعوۃ کے پلیٹ فارم سے آپ کی ہندوستان میں علمی اور دعوتی سرگرمیاں ہیں، میں نے آپ سے ہندستان میں ملاقات کی، آپ میرے یہاں معروف شخصیت ہیں، بلادِ حرمین وغیرہ کے علماء اور طلباء کے درمیان اپنے مقام ومرتبہ کی بنا پر وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دینی خدمت کی جدوجہد میں مقاصد کی تکمیل میں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے، موصوف کا دعوتی منصوبہ اردو انسائیکلو پیڈیا کی تیاری اور اشاعت ہے، اور یہ منصوبہ صحیح اسلام کے تعارف میں بڑی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، اللہ تعالی آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو توفیق دے، واللہ الموفق۔

    تاثرات ڈاکٹر محمد حسن المبعوث الغامدی -حفظہ اللہ-
    (ریڈر جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ)
    حمد وصلاۃ کے بعد: ہمیں دار الدعوۃ نئی دہلی کی زیارت سے مسرت حاصل ہوئی، سب سے اہم بات ان فضلاء سے ملاقات ہے، جو اردو زبان میں کتب سلف کی اشاعت میں کوشاں ہیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ دار الدعوۃ کو ہمت ، طاقت، ثابت قدمی اور راہ حق پر استقامت نصیب فرمائے، اور حق کی اشاعت میں توفیق دے۔

    تاثرات شیخ علی حسن عبدالحمید الاثری الحلبی -حفظہ اللہ-
    (شاگرد رشید علامہ محمد ناصر الدین الالبانی)
    حمد وصلاۃ کے بعد : شیخ ابو عبداللہ عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی - نفع اللہ بہ- کی زیر نگرانی دار الدعوۃ کے بعض علمی، دعوتی اور تربیتی پروگراموں سے واقفیت حاصل ہوئی، تو اسے بہت نفع بخش اور مفید پایا، خاص کر علمائے سلف کے علوم کی ہندوستانی زبانوں میں منتقلی کے منصوبہ کا پہلا سلسلہ یعنی حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو، در حقیقت یہ بڑے مہتم بالشان پروگرام ہیں، جن میں نہایت مناسب تعاون اور بڑی امداد کی ضرورت ہے، تاکہ یہ منصوبہ اشاعت پذیر ہوجائے، اور اس کا فائدہ واقعی طور پر بڑھ جائے ، اور اس سے سلف کے منہج کی تائید او ر سنت مشرفہ کی اشاعت کا کام پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے، جو شخص بھی بھلائی اور تعاون کی استطاعت رکھتا ہے، اس سے اس پروگرام میں تعاون کی اپیل ہے ، واللہ الموفق۔

    تاثرات شیخ سلیم بن عید الہلالی -حفظہ اللہ-
    (شاگرد رشید علامہ محمد ناصر الالبانی)
    حمد وصلاۃ کے بعد: دار الدعوۃ کے حدیث انسائیکلوپیڈیا اردوکے نمونوں کو دیکھا، یہ مفید علمی پروگرام ہے جو بر صغیر کے مسلمانوں کی خدمت کرے گا، اور سنت نبویہ کو صحیح اور ضعیف کی تمییز کے ساتھ لوگوں کے قریب کرے گا ، جس سے سلف صالحین کے منہج اور طریقے کے مطابق اسلام کے صحیح فہم میں مدد ملے گی، ذمہ داران سے اپیل ہے کہ وہ اس پروگرام کی تکمیل میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ تعاون کریں، جزاہم اللہ خیراً۔
    تاثرات شیخ صالح بن عبدالمحسن الحسین -حفظہ اللہ-
    (ڈائرکٹر ادارہ خارجی تعلقات، شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ)
    حمد وصلاۃ کے بعد: میں دار الدعوۃ کے دعوتی پروگراموں خاص طور پر ہندوستانی زبانوں میں علوم سلف کے منصوبہ سے آگاہ ہوا، اپنے بھائیوں کو میں اس کام پر مبارک باد دیتا ہوں،اور انہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ اخلاص اور فنائیتکے ساتھ اس سلسلے میںمسلسل جد وجہد کریں، اور دین اور امت کی خدمت کے ہر وسیلہ کو استعمال کریں، اللہ تعالی سے دعاء گو ہوں کہ وہ ان کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے، اور مزید کی توفیق دے ،اور دنیا وآخرت میں سرخ رو کرے، آمین۔

    تاثرات ڈاکٹر خالد بن علی العنبری -حفظہ اللہ-
    (استاذ حدیث جامعۃ الامارات العربیۃ ،شارقہ)
    حمد وصلاۃ کے بعد: ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی بر صغیر کی سلفی علمی دعوت کی معروف شخصیت ہیں، جن سے اللہ تبارک وتعالی نے دعوت کو بڑا فائدہ پہنچایا، موصوف نے دار الدعوۃ کو سلف اور اہل سنت کے علوم ومناہج کی بنیاد استوار کرنے کے لئے قائم کیا ہے، مجھے یاد ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے شیخ امام قدوہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ سے ٹیلفون پر گفتگو کی، شیخ عبدالرحمن الفریوائی نے جو شیخ البانی کے نزدیک مشہور ومعروف تھے، شیخ البانی کو اردو میں علوم وسلف کی نشر واشاعت اور کتب حدیث کے ایسے تراجم جس میں احادیث کی تصحیح وتضعیف کا کام بھی موجود ہو، کے بارے میں مطلع کیا توآپ نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا، ا ور دعائے خیر کی۔

    تاثرات شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ العیدان -حفظہ اللہ-
    (ریاض، سعودی عرب)
    وشیخ عیسی بن محمد الخریف -حفظہ اللہ-
    (جلاجل، سعودی عرب)
    حمد وصلاۃ کے بعد: اللہ تبارک وتعالی نے دار الدعوۃ دہلی کی زیارت کی توفیق عطا فرمائی، اس مرکز کے تعلیمی اور دعوتی کام ہیں جن پر ذمہ دارانِ ادارہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں، نیز مختلف زبانوں میں علوم سلف کو منتقل کرنے کا پروگرام،یہ مرکزتوحید وسنت اورمنہج سلف کی نصرت وتائید کا کام کررہا ہے، ہم نے جو پروگرام یہاں دیکھے وہ اس کفر وشرک وبدعت وگمراہی کے گڑھ میں بڑے خوش کن اور مفید ہیں، اہل خیر سے ان پروگراموں کی تکمیل میں تعاون ومدد کی پر زور اپیل ہے، اور اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ وہ اس مرکز سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے، آمین۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات شیخ عبداللہ بن صالح بن محمد العبید - حفظہ اللہ-
    (مدرس وزارۃ تعلیم وتربیت، ریاض)
    الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ، وصحبہ ومن تبعہ اما بعد:
    برصغیر کے سفر میں دہلی میں دار الدعوۃ کی زیارت کا موقع ملا، وہاں دینی بھائیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا، یہ مرکز برادرم شیخ عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی -حفظہ اللہ- کی نگرانی میں کام کررہا ہے، میرے خیال میں ان کے اور برصغیرمیں برادران اہل حدیث کے ساتھ تعاون امت پرقرض ہے، بالخصوص بلادِ حرمین شریفین پر، کہ نورِ اسلام کا ظہور یہیں سے ہوا، اور اللہ تعالی کے بعد بلادِ حرمین ہی توقعات کا مرکز ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو اپنی مرضی کے کام کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے اعمال سے راضی وخوش ہوجائے،وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم
    تاثرات وفد جمعیۃ دار البر
    (دبی ، امارت عربیہ متحدہ)
    حمد وصلاۃ کے بعد: ہم ا للہ تبارک وتعالی کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے ہمیںدار الدعوۃ کی زیارت نصیب فرمائی ، ہم نے وہاں پر خوش کردینے والی چیزیں دیکھیں، اور ذمہ داروں سے ملنے کی سعادت نصیب ہوئی، جن میں سرفہرست ہمارے شیخ محترم ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار فریوائی حفظہ اللہ ہیں۔
    دار الدعوۃ کے کاموں کے دیکھنے کے بعد ہمیں وہاں پر وہ کام نظر آیا جو صحیح عقیدہ کی نشر واشاعت اور لوگوں کو دین حق کی تعلیم کے سلسلے میں اکثر ملکوں میں نظر نہ آیا ، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی سلفی دعوت کی خدمت میں ہونے والی جدوجہد کو کامیاب کرے ، اورمقصد تک پہنچنے ا وردعوتی پروگراموں کی تکمیل کے سارے وسائل کی تسخیر فرمائے اور انہیں علم کا مینار اور ہدایت کا چراغ بنادے، اور اہل بدعت واہواء کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائے ،انہ سمیع علیم۔
    محمد احمد الحمادی
    رئیس شعبہ ایتام ۔جمعیۃ دار البر
    رضاء الحسن ابو ناصر
    ثقافتی کمیٹی جمعیۃ دار البر
    تاثرات شیخ حسین بن احمد الزہرانی -حفظہ اللہ-
    (نزیل حیدرآباد دکن)
    شیخ سمیر الحسین الحوسنی -حفظہ اللہ-
    (جمعیۃ الشارقۃ الخیریۃ، شارقۃ)
    حمد وصلاۃ کے بعد: اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ہمیں دار الدعوۃ اور اس کے مؤسس ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی کی زیارت کا موقعہ ملا، دار الدعوۃ کے کارکنان سے ملاقات ہوئی، اور وہاں پر سلف کی تراث کی خدمت میں ہونے والی جد وجہد ، اور تحقیق ونشر کے کام کو دیکھنے کی سعادت ملی، اخوان کی عمدہ ضیافت ، اور اپنائیت سے بھی ہم بہرہ ور ہوئے، اور خصوصی طور پر ادارہ کے اس عظیم منصوبے سے واقفیت حاصل کر کے خوشی ہوئی کہ ادارہ علوم سلف کو محدود وسائل کے علی الرغم اردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا کام انجام دے رہا ہے، اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی کوششوں میں برکت ڈال دے، اور ہمارے اور ان کے اعمال کو قبول فرمائے، اور ذمہ داراں کو دینا اور آخرت میں جزائے خیر دے، آمین۔

    تاثرات شیخ ابو عبدالرحمن ہانی بن عبدالجلیل بن عبدالخالق شیخ -حفظہ اللہ-
    (جمہوریہ یمن)
    حمدوصلاۃ کے بعد : میں اللہ تعالی کی بے حد حمد وثنا بیان کرتا ہوں کہ اس نے دار الدعوۃ میں بھائیوں کی زیارت کی توفیق دی، کارکنانِ ادارہ نے میری ازحد تکریم کی، اس ملاقات میں یہی کافی ہے کہ اہل سنت آپس میں ملیں اور پوری دنیا میں ان کے تعلقات پختہ ہوں۔
    شاعر نے کیا خوب ہی کہاہے:
    دين النبي محمد أخبار

    نعم المطية للفتى آثار
    لا ترغبن عن الحديث وأهله

    فالرأي ليل والحديث نهار
    ولربما غلط الفتى طرق الهدى

    والشمس بازغة لها أنوار
    نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین احادیث ہیں ، اور نوجوان کی بہترین سواری آثار ہیں۔
    حدیث اور اہل حدیث سے بے رغبتی نہ کرو، رائے رات ہے اور حدیث دن ہے۔
    بسا اوقات راہِ ہدایت کے بارے میں نوجوان غلطی کرتا ہے، اور سورج اپنی روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔
    میں نے حدیث اور کتب شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم کے اردو ترجمہ کے منصوبے کو دیکھا، فی الحقیقت یہ کوشش اس بات پر دال ہے کہ اہل سنت سنت کی اشاعت اور عقیدے کی دفاع اور مذہبی تعصب کی مذمت کے شیدائی ہیں، دعا ہے کہ ہمارے بھائیوں کی مبارک مساعی میں اللہ کی توفیق شامل حال ہو، اور اپنی محبت اور رضا کی راہ پر چلائے، ا ور ہر فتنہ وفساد سے ان کو محفوظ رکھے، سارے مسلمانوں سے اس عظیم مرکز کے سلسلے میں حسب مقدور تعاون کی اپیل ہے، میں اپنے برادران کو ظاہر وباطن میں خوفِ الہی اور سلف صالحین کے نقش قدم پر چلنے کی وصیت اور تلقین کرتا ہوں ۔
    وصلی اللہ علی محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
     
  9. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922

    برصغیر کے علماء ،دعاۃ، ذمہ دارانِ جامعات ومدارس
    وتنظیماتِ اسلامیہ کے تاثرات

    تاثرات محترم ومکرم جناب حافظ محمد یحییٰ صاحب دہلوی -حفظہ اللہ-
    (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند)
    الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد:
    مجھے یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی کہ دار الدعوۃ اپنے بڑے منصوبے کے ایک جزء یعنی سنن ابی داودکو شائع کرنے جارہا ہے۔
    حدیث وعلوم حدیث کی خدمت مسلمانوں کی نہ صرف ذمہ داری ہے بلکہ یہ ان کی زندگی کا مقصد اولیں ہے، اسلام کواس کی اصلی شکل وصورت میں اگر دیکھنا ہو تو قرآن وسنت ہی میں دیکھا جاسکتاہے، اس کے علاوہ حالات زمانہ کے تحت مختلف مذاہب فکریہ اور مسالک مذہبیہ نے اس کے اندر جو کچھ داخل کردیا ہے، وہ وقتی طورپر کتنا ہی ضروری سمجھا گیا ہو لیکن اسے اصل اسلام نہیں کہا جاسکتا، اسلام کو اس کے اصل ماخذ قرآن و سنت، اور سیرت نبوی میں ہی تلاش کیاجاسکتاہے، انسانیت کی ہدایت ورہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں دین اسلام کی اہمیت وضرورت مسلّم رہی ہے، انسانیت آج کے دور میں اس سچے دین کی کل سے زیادہ محتاج ہے، کتاب وسنت کی انہیں روشن تعلیمات سے زمانۂ جاہلیت کا اندھیرا ختم ہوا، اور انسانیت نے اسلام کے سایۂ عافیت میں ترقی کے منازل طے کئے، عصر حاضر میں اسی دعوتی ضرورت کے ا حساس نے اہل علم کو آمادہ کیا کہ وہ اس منبع صافی کو مختلف زبانوں میں ترجمہ وتنقیح کے ساتھ شائع کریں، تاکہ اسلام کا تعارف صحیح طور پر ممکن ہو۔
    دار الدعوۃ (جو محض کتاب وسنت اور علوم سلف کی علمی میراث کا محافظ اور امین ہے ) نے اس باب میں ایک عظیم علمی منصوبہ پر کام شروع کیا ہے، ادارہ کے بانی محترم ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی ،اور ان کے قابل قدر رفقاء مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس عظیم کام کے لئے مختلف منصوبوں کے ساتھ حدیث انسائیکلو پیڈیا اردو پر نہ صرف کام شروع کیا ، بلکہ یہ منصوبہ اب پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے،فالحمد للہ۔
    مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند دارالدعوۃ اور اس کے ذمہ دار ان کو سنن ابو د اود (مترجم ومحقق ) کی تکمیل واشاعت پر مبارکباد پیش کرتی ہے، اور اس کو اپنا کام تصور کرتی ہے،میں احباب جماعت اور برادران اسلام سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اس کا ر خیر کی قدر کریں، اور اس میں جس قدر ممکن ہو تعاون کریں، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب موصوف اور ان کی ٹیم کو ایمان، صحت اورسلامتی سے رکھے، اور ان سے اپنے دین کاکام لے اور قبول عام سے نوازے ، آمین۔
    الحمد للہ ذخیرۂ حدیث کی عظیم کتاب سنن ا بو داود کا اردو ترجمہ مع تصحیح وتنقیح وتحشیہ منظر عام پر آرہا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان تمام منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچائے، ا ور ہم سب کو اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس کے ذریعہ سے صحیح اسلام کی دعوت لوگوں تک پہنچائیں۔
    تاثرات مولانا عبدالرحمن بن عبیداللہ المبارکفوری -حفظہ اللہ-
    (ناظم اعلی دار التعلیم، مبارک پور ، یوپی)
    وڈاکٹر عبدالعزیز بن عبیداللہ المبارکفوری -حفظہ اللہ-
    (استاذ حدیث کلیۃ فاطمۃ الزہرا ،مئو ناتھ بھنجن، یوپی)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم
    اما بعد: یہ اطلاع ہمارے لئے باعث مسرت واطمینان ہے کہ الحمد للہ دار الدعوۃ (نئی دہلی) سے حدیث انسائیکلو پیڈیا اردو کی پہلی کتاب سنن ابی داود (مترجم ومحقق) منظر عام پر آرہی ہے، جس کی تیاری کا کام برادرِ محترم ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی کی نگرانی میں دار الدعوۃ کی مجلس علمی کررہی ہے، اللہ تعالی اس منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے اور اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ صحیح دینی تعلیم حاصل کریں، اس مبارک مناسبت سے ہم ڈاکٹر صاحب اور مجلس علمی دار الدعوۃ ، نیز اراکین ادارہ کو ہدیۂ تبریک وتہنیت پیش کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ اس مفید دینی خدمت کو قبول کرے۔آمین

    تاثرات استاذ الاساتذہ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری -حفظہ اللہ-
    (وکیل الجامعۃ السلفیۃ وایڈیٹر مجلہ صوت الامۃ،بنارس)
    حمدو صلوۃ کے بعد : علوم سلف کو اردو میں منتقل کرنا یقینا بڑا مہتم بالشان منصوبہ ہے، کیونکہ برصغیر اور اس سے باہر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کی زبان اردو ہے، اور وہ اسے علم و ثقافت بالخصوص اسلام اور تاریخ اسلام کی زبان قرار دیتی ہے، یہیں سے دعوۃ و تعلیم سے دلچسپی رکھنے والوں نے اس زبان میں تصنیف وتالیف اور مقالہ نگاری کے بارے میں سوچا ، زیر نظر منصوبہ اس میدان کا ممتاز منصوبہ ہے ، اس لئے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اردو اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں حدیث وتفسیر کی مستند کتابوں کومنتقل کیا جائے، اور اسے شائقین تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے، ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی استاذ حدیث کلیۃ اصول الدین، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،ریاض نے یہ منصوبہ بنایا ہے، دار الدعوۃ میں اردو وغیرہ زبانوںمیں ترجمہ وتالیف کا کام کرنے والی علماء کی ٹیم اس کام کی اہل ہے، اس کو تصنیف وتالیف کے میدان میں تجربہ ہے ، ان لوگوں نے اسلامی علوم وفنون کی تدریس کی ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں، تجر بہ کار علماء دقت سے ترجمہ کی مراجعت کا کام کرتے ہیں، مثلا معروف عالم دین مولانا محمد اعظمی بن شیخ عبد العلی نے (جنہوں نے پور ی زندگی درس وتدریس اور دعوت و تبلیغ کا کام کیا ہے، اور علمائے ہند کی ایک بہت بڑی تعداد نے ان سے علم حاصل کیا ہے) سنن ابن ماجہ کے ترجمہ کی مراجعت کی ہے، میں نے بھی سنن ابوداود کے جستہ جستہ مختلف مقامات کو دیکھا ہے، اور اس ترجمہ کی تقدیم میرے لئے باعث شرف ہے، سنن ابی داود کی مراجعت کا کام ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی نے کیا ہے، اور یک بعد دیگرے دوسری کتابوں پر اسی طرح کام ہوتا رہے گا اور منظر عام پر آتی رہیں گی، اور کتب وتفسیر کے اہم مراجع انشا ء اللہ ہندوستانی زبانوں میں منتقل ہوتے رہیں گے۔
    ان سطور کو لکھتے ہوئے میں اس منصوبے پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کررہا ہوں اور ذمہ داران سے میری پرزور اپیل ہے کہ وہ اس پروگرام کے ساتھ زیا دہ سے زیادہ تعاون کریںتاکہ مسلمانان ہند کے ہاتھوں میں اہم اسلامی کتابیں پہنچیں، واللہ ولی التوفیق وصلی اللہ علی رسولہ الکریم والحمد للہ رب العالمین۔

    تاثرات مولانا ابو الاشبال صغیر احمد شاغف البہاری -حفظہ اللہ-
    (اِدارہ اِعجاز علمی، رابطہ عالم اِسلامی، مکہ مکرمہ)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد:
    برصغیر میںمسلمانوں کی دینی تعلیم وتربیت کے لئے اردو اور علاقائی زبانوں میں کتب احادیث وتفسیر کے تراجم کا بنیادی کردار رہا ہے،ہمارے علمائے کرام نے اس سلسلہ میں بیش بہا اور زریں خدمات انجام دی ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی محترم ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی کی نگرانی میںدار الدعوۃ دہلی میں ہونے والے علمی ودعوتی منصوبے ہیں، جن میں حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کی پہلی کتاب سنن ا بی داود منظر عام پر آرہی ہے، جس پر ہم کارکنان دار الدعوۃ کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ اس خدمت کو قبول فرمائے، اور مزید خدمت کی توفیق عطاء فرماے،آمین۔

    تاثرات ڈاکٹر عبدالعلی بن حامد العلی الاعظمی -حفظہ اللہ-
    (استاذ کلیہ اسلامیہ، لندن،برطانیہ)
    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبیہ الکریم اما بعد:
    ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی -حفظہ اللہ- کا میں دار الدعوۃ میں مہمان بنا، جو جلد ہی قائم کیا گیا ہے، اس کے تعلیمی اور دعوتی پروگرام مجھے بہت ہی پسند آئے،گرچہ یہ ابتدائی کوششیں ہیں،لیکن اس کے اثرات دور ونزدیک محسوس کئے جارہے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ یہ ادارہ عام مسلمانوں اور بالخصوص نوجوان نسل میں اسلام کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور صحیح دینی تعلیم کی اشاعت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ذمہ دارانِ ادارہ کو ان پروگراموں کی توفیق عطا فرمائے، وھو علی کل شیء قدیر۔

    تاثرات حضرت العلام مولانا محمد رئیس ندوی سلفی -حفظہ اللہ-
    (شیخ الحدیث، ومفتی جامعہ سلفیہ، بنارس)
    حمد وصلاۃ کے بعد: اسلامی شریعت مں حدیث شریف کا بلند وبالا مقام اہل علم سے مخفی نہیں، قرآن کریم کی شہادت ہے کہ حدیث نبوی قرآن کا بیان اورتشریح ہے، محدثین کرام نے اسی اہمیت کے پیش نظر فن حدیث پر غیر معمولی توجہ دی ہے، اور کتب حدیث کا قابل فخر ذخیرہ تیار کیا ہے۔
    برصغیرمیں لوگ عام طور پر اردو زبان جنتے ہیں، اور عربی زبان سے صرف علماء کا طبقہ واقف ہے، ارشاد نبوی میںرشد وہدایت کا جو خزانہ موجود ہے اس سے برصغیر کے مسلمانوں کو بہرہ ور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ذخیرۂ حدیث کو اردو زبان میںمنتقل کیا جائے، الحمدللہ جامعہ سلفیہ کے ایک فاضل اور نامور عالم ومحقق ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی صاحب نے اس عظیم منصوبہ کی ذمہ داری قبول فرمائی، اور معروف ومتداول کتب سنت کا ترجمہ اردو زبان میں تیار کرایا، اس نفع بخش سلسلہ کی پہلی کڑی کے طور پر سنن ابی داود کا اردو ترجمہ قارئین کے سامنے ہے، ان شاء اللہ دوسری کتابوں کے ترجمے بھی جلد ہی سامنے آئیں گے، اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ اس مفید وضروری منصوبہ کو خیر وخوبی کے ساتھ انجام تک پہنچائے، آمین۔

    تاثرات ڈاکٹر رضاء اللہ بن محمد ادریس المبارکفوری -رحمہ اللہ-
    (شیخ الجامعۃ السلفیہ بنارس، ونائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند)
    حمد وصلاۃ کے بعد: دار الدعوۃ (نئی دہلی) ایک علمی دعوتی اور فلاحی ادارہ ہے، جس کی ساری سرگرمیوں کا محور تعلیم، دعوت اور تصنیف وتالیف ہے، اور یہ کام فاضل برادران کے تعاون واشتراک سے انجام پا رہا ہے، دارالدعوۃ کے دعوتی اور علمی کاموں کی بڑی اہمیت ہے کہ جس کے بڑے اچھے آثار ونتائج مرتب ہوں گے، بالخصوص حدیث انسائیکلوپیڈیا کی اشاعت وتیاری کا منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اللہ رب العالمین سے دعا گو ہوں کہ ان مساعی کو شرف قبولیت بخشے، اور اسلامی دعوت کی بھلائی اور خیر کے لئے توفیق عطا فرمائے ، اور ہمیں صدق وصفا اور قول وعمل میں اخلاص وللہیت نصیب فرمائے، آمین۔

    تاثرات مولانا اصغر علی امام مہدی السلفی -حفظہ اللہ-
    (ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند)
    حامداً ومصلیاً، اما بعد: سلف صالحین کے علمی کارنامے پوری ملت کے لئے سرمایہ ٔ افتخار اور سربلندی وسرفرازی کا رمز ہیں ، ان کی حفاظت اور ترویج واشاعت قومی زندگی کی علامت اور سعادت مندی کی دلیل ہے ، اس سلسلہ میں مختلف شخصیات اور ادارے سرگرم عمل رہے ہیں اور پوری امت کی طرف سے سعی مشکور فرماتے رہے ہیں، انہیں شاندار روایات کے تسلسل میں ایک نیا نام ’’مؤسسۃ دارالدعوۃ التعلیمیۃ الخیریۃ‘‘ کی شکل میں سامنے آیا ہے جس کے بانی ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار صاحب فریوائی پروفیسر جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض ، بے شمار کتابوں کے مؤلف ومحقق علمی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں، اس ادارے کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں اور طلب کے مطابق سلف کے عظیم علمی ذخیرے کو نئی آن بان کے ساتھ شائع کرنے کی جانب پیش قدمی کررہا ہے، جس سے عوام وخواص کو یکساں استفادہ کا موقع ملے گا اور ان کی علمی وتحقیقی آسودگی کا سامان فراہم ہوگا اور اسلام کے اصل سرچشمہ سے براہ راست مستفید ہونے میں رکاوٹ نہ ہوگی ۔
    کتاب وسنت اور اسلاف کی اہم علمی میراث عربی زبان میں ہے، اسے عجمی زبانوں خاص طور پر اردو ہندی کے قالب میں ڈھالنے کے لئے مذکورہ ادارہ کی داغ بیل محترم ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی نے ڈالی تھی ، اس کی اہمیت وضرورت کل کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ ہے ، اور خوشی ومسرت کا مقام ہے کہ اس ادارہ میں علماء وباحثین کی ایک پوری ٹیم علماء راسخین کے زیر سرپرستی سرگرم عمل ہے، اور اب تک متعدد کتب کے ترجمہ،تحقیق وتصحیح وتضعیف کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے، ادارہ کو سب سے پہلے حدیث کی کتاب سنن ابوداد کی اشاعت کا شرف حاصل ہورہا ہے ، اہل خیرواصحابِ ثروت کی توجہ رہی تو یہ عظیم سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا ، اور جلد ہی اہم ترجمے وتحقیقات منصہ شہود پر آئیں گے ۔
    اس خوبصورت موقع کی مناسب سے ہم ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور پروردگار عالم سے دعاگو ہیں کہ وہ اس ادارے کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ، آمین ۔

    تاثرات مولانا رضاء اللہ بن عبدالکریم بدایونی -حفظہ اللہ-
    (نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند وایڈیٹر جریدہ ترجمان، دہلی)
    حامداً ومصلیاً اما بعد:
    قرآن وسنت اسلامی علوم وفنون کا سرچشمہ ہیں، اسلام کے بقاء وتحفظ کا انحصار ان دونوں کی بقاء وتحفظ پرہے، زندگی کی اصل کامیابی اور رضائے الہی کا حصول بھی ان ہی دونوں سے وابستہ ہے،اس لئے صحابہ کرام ،ؓ تابعین عظام ، محدثین کرام اورمجتہدین امت نے ان دونوں سرچشموں کو اصلی حالت میں باقی رکھتے ہوئے ان سے استفادہ کا انتظام شروع ہی سے کیا، اس راہ میں ہر طرح کی مشکلات ا ور ہرقسم کے مصائب کا نہ صرف خندہ پیشانی سے سامنا کیا بلکہ اس کو اپنے لئے باعث عزت وافتخار سمجھا ۔
    سلف صالحین کے منہج اور اصول کے مطابق زندگی کے معمولات کو استوار کر نے سے ہی ہمارا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال ہو سکتا ہے، آج ضروت اس بات کی ہے کہ علوم کتاب وسنت کو منہج سلف کے مطابق مروجہ زبانوں میں پیش کیا جائے، اور اصحاب خیر اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تا کہ کتاب وسنت کی بالادستی عام ہواورعام مسلمان رسم ورواج،تعصب وتحزب اور باہمی اختلافات اور نفرت سے چھٹکارا پاسکیں جس کی آج مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے۔
    آج ہم جس دور میں زندگی گزار ر ہے ہیں اس میںجہاں ایک طرف دین بیزاری کا بازار گرم ہے، وہیں کتاب وسنت سے استفادہ کو مشکل ترین کام باور کرانے کی مہم بھی تیزی سے جاری ہے، دوسری طرف احادیث رسول سے متعلق بے بنیاد شکوک وشبہات کو علمی حقائق بنا کر پیش کیا جارہا ہے، ایسے حالات میں کتاب وسنت کے خلاف ہو نے والی اس مکروہ اور نا پسندیدہ مہم کا اس کے علاوہ کوئی مناسب جواب نہ ہوگا کہ ہم وارثین علوم نبوت یعنی محدثین کرام کی مساعی جمیلہ کو آج کے دور میں معروف وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے عام لوگوں کے سامنے پیش کردیں تاکہ{لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ} [سورة الأنفال: 42] یقینا وہ دن بڑا بابرکت دن تھا جب محترم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفرایوئی -حفظہ اللہ- (بانی صدردار الدعوۃ واستاذ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ ، ریاض) کے ذہن میں علوم سلف کو برصغیر ہند وپاک میں پائی جانے والی زبانوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ آیا، اور موصوف طویل غور وخوض اوراہل علم کے مشوروں کے بعد اس کے لئے ایک لائحہ عمل بنانے میں کامیاب ہوگئے، فالحمدللہ علی توفیقہ۔
    کتب حدیث و تفسیراور سیرت مصطفی a کو اردو زبان میں منتقل کرنے کا جو بڑا منصوبہ دارالدعوۃ نے بنایا ہے، وہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ انتہائی مفید نتیجہ خیز اور تاریخ ساز ہے، چونکہ اس منصوبہ کو ڈاکٹر صاحب موصوف (جو خود عالم اسلام کے ایک مشہورمحقق، نامور اہل علم، اور حدیث و علوم حدیث پر گہری نظر رکھنے والے ہیں) کی سر پرستی حاصل ہے، اس لئے ہمیں بفضلہ تعالی یہ امید رکھنی چاہئے کہ یہ ادارہ جو ابھی نوخیز ہے جلدہی ہندوستان کے صف اول کے تحقیقی اداروں میں اپنی جگہ بنالے گا، مقام مسرت ہے کہ دارالدعوۃ دہلی آج یہ کام بڑے منظم انداز میں کررہاہے، الحمد للہ کہ شبانہ روز جد وجہد کے نتیجے میںتعارف اسلام کی کلید یعنی حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کا منصوبہ آخری مرحلے میں ہے ۔
    آج جب کہ تعصب وتحزب اور گروہ بندی نے اسلامی کاز کو زبردست نقصان پہنچایا ہے، اس مفید علمی کام سے استفادہ کے نتیجہ میںملت میں اتحاد بین المسلمین کی فضاء ہموار ہوگی اوراہل اسلام اپنے حقیقی قوت کے سرچشموں سے قریب سے قریب تر ہو جائیں گے، ان شاء اللہ ۔
    ناچیز کے لئے یہ امر باعث عزت وتوقیر ہے کہ وہ اس ادارہ کا ممبر ہے اور مجلس علمی میں ایک رکن کی حیثیت سے حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو میں سال بھر سے زیادہ کام کرنے کا موقع ملا، نیز دار الدعوۃ کے زیر نگرانی دوسرے مختلف دعوتی اور دینی پروگراموں میں حصہ لینے کا موقع ملا، ادھر کچھ دنوں سے جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے آرگن (جریدہ ترجمان) کی ذمہ داریوں کے باعث کما حقہ اس پروگرام کے لئے وقت نہیں مل رہا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم منصوبہ کی تکمیل کا انتظام فرمائے، اور اس سے جڑے کارکنان کے عمل میں برکت دے اور ہم سب کو اس بات توفیق دے کہ اس عظیم منصوبہ سے فائدہ اٹھائیں، اور اسے برصغیر کے باشندوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سے عہدہ برآں ہوں۔
    سنن ابی داود کا یہ نیا ایڈیشن اپنی تحقیق وتخریج اور تصحیح وتضعیف احادیث، اور اعلی طباعت میں اپنی مثال آپ ہے، میں اراکین دار الدعوۃ کو بالخصوص اور عام برادران اسلام کو ہدیہء تبریک وتہینت پیش کرتا ہوں، اور اس کتاب، اور اس سلسلہ کی دوسری کتابوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی وصیت وتلقین کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ اس ادارہ کی تحقیقات سے عامۃ المسلمین کو بیش از بیش فائدہ پہنچائے، اور ادارہ کے اراکین اور معاونین کو دین ودنیا کی بھلائیوں سے سرفراز فرمائے آمین۔ وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.
    تاثرات ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم مدراسی -حفظہ اللہ-
    (سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی وباحث شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ)
    حمد وصلاۃ کے بعد: دعوتِ اسلامی سے دلچسپی رکھنے والوں کے دل کو باغ باغ کردینے کی یہ بات ہے کہ دار الدعوۃ دہلی اپنے بانی صدر ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی کی زیر نگرانی اس وقت ایک عظیم علمی منصوبہ کی تکمیل میں مصروف ہے، یعنی حدیث کی بنیادی کتابوں کے اردو اور دوسری ہندستانی زبانوں میں تراجم اور ان کی اشاعت نیز انٹرنیٹ کے ذریعہ اس منصوبے کو عام لوگوں تک پہنچانا، اس منصوبہ میں سنن ابو داود اور دوسری کتابوں کے تراجم مکمل ہوچکے ہیں، کام آخری مراحل میں ہے، اس زبردست کام کو خوش آمدید کہتے ہوئے میں اپنے غیرت مند بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس مفید علمی منصوبہ میں دار الدعوۃ کا تعاون کریں، اس منصوبہ میں جو چیز مجھے پسند آئی ، وہ اس کا اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا منصوبہ ہے، جو کسی مخصوص گروہ یا جماعت کے لئے مخصوص نہیں ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس منصوبہ کے ذمہ داروں کو مزید نوازے، انہیں راہِ ہدایت پر چلائے اور بہترین اجر عنایت فرمائے، انہ سمیع مجیب، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

    تاثرات مولانا حافظ احمد شاکر بن مولانا عطاء اللہ حنیف -حفظہ اللہ-
    (ناظم المکتبہ السلفیہ ومدیر مسئول مجلہ الاعتصام، لاہور )
    الحمد للہ حمد الشاکرین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی اصحابہ الصابرین وآلہ الطاھرین اما بعد:
    بر صغیر میں علم حدیث کے تعارف، تدریس، تعلیم، تبلیغ اور اس پر عمل کرنے کا عمل جہاں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی اولیات میں سے ہے، وہاں اصول ربانی: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إلاَّ بِلِسَانِ قَومِهِ} [سورة إبراهيم:4]کے مطابق قرآن حکیم کے فارسی واردو تراجم کی سعادت کی ابتدا بھی اسی خاندان کے حصہ میں آئی، جسے بلا شبہ اہل ہند تک براہِ راست علوم قرآن وسنت پہنچانے کے فرض کی بجاآوری کہا جاسکتا ہے، تاریخ ہند کی یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ حضرت شاہ صاحب کے ابناء واحفاد کے علاوہ جس نے بھی قرآن وحدیث کو اردو یا فارسی میں منتقل کیا یا علوم دینیہ پر ان دونوں زبانوں میں سے کسی میں تصنیف یا تالیف بھی ،وہ سب کے سب اسی ولی اللّہی آبشار سے مستفیض تھے، حضرت میاں نذیرحسین، مولانا شمس الحق ڈیانوی، مولانا عبداللہ غزنوی، مولانا عبدالرحمن مبارک پوری، مولانا نواب صدیق حسن قنوجی (ان کے واسطہ سے) مولانا وحید الزماں، مولانا بدیع الزماں وغیرہم رحمہم اللہ علیہم اجمعین آفتاب ولی اللّہی کے نور علم الہی سے مستنیر چراغ تھے۔
    حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی تدریس واشاعت ِ علم حدیث کے خدمت گزار ہر دور میں اپنی ذمہ داریاں محسوس کرتے رہے اور ہر طرح کے حالات میں ان سے عہدہ بر آ ہونے میں کوشاں رہے، چنانچہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں والد ماجد مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے المکتبہ السلفیہ قائم کرکے علومِ سلف کی کتب کی اشاعت کی ابتدا کرکے التعلیقات السلفیہ علی سنن النسائی لکھ کر اور بھارت میں شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمہ اللہ سے درخواست کرکے مرعاۃ المفاتیح جیسی عظیم شرح مشکاۃ المصابیح لکھوا کر اس جمود کو توڑنے کی ابتدا کی، جس سے برصغیر کے علمائے حدیث میں بیداری کی لہر اٹھی اور خدام الحدیث واھلہ میں حرکت ہوئی، ہم سمجھتے ہیں کہ دار الدعوۃ دہلی کا یہ اشاعتی پروگرام جس کے تحت سنن ابی داود کی اشاعت عمل میں آرہی ہے، اسی حرکت کی برکت ہے جس کے بانی اور روحِ رواں ہمارے بہت مہربان اور شفیق دوست ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی حفظہ اللہ (صدر دار الدعوۃ واستاذِ حدیث جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ) ہیں ۔
    ڈاکٹر صاحب موصوف سے ۱۹۸۰؁ء میں مدینہ منورہ میں پہلی ملاقات ہوئی تھی، پھر ۱۹۹۲ء؁ میں ہوئی، پھر ۱۹۹۴ء؁ سے تو ملاقاتوں میں تسلسل رہا، یہ بات تو ۱۹۸۰ء؁ ہی میں محسوس ہوگئی تھی کہ علوم سلف کی اشاعت کا شوق ان میں جنون کی حد تک ہے پھر بعد مکانی کے باعث اشاعتی منصوبوں پر ان کے عمل درآمد سے مکمل آگاہی تو نہ رہی تاہم جب بھی ملے، جہاں ملاقات ہوئی، جو مجلس جمی، اس میں یہی اشاعتی منصوبوں کا ذکر ہوتا رہا جس کے لئے وہ ماہیٔ بے آب کی طرح بے چین رہتے تھے،صحیحین کے قبولیت عامہ اور ان کے متداول ہونے کی باعث ان کے حسن تدبر نے سنن اربعہ وموطا وسنن دارمی کے ترجمہ کی طرف توجہ فرمائی اور کچھ عرصہ سے وہ سنن ابن ماجہ کے مکمل ہونے اور اس کے اشاعت پذیر ہونے کی خبریں دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ ۱۴۲۵؁ھ کی ملاقات میں انہوں نے سنن ابی داود کے مکمل ہونے کی خوشخبری سنائی، اور ساتھ میں سنن پر نظر ثانی اور کہیں کہیں اس پر تحقیقی حواشی کا اضافہ خود کرنے کی محنت شاقہ کا ذکربھی کیا جس سے بہرصورت کتاب کی خاطر خواہ افادیت میں یقینا اضافہ ہوا ہوگا، دار الدعوۃ کے اس اشاعتی منصوبے میں خوش آئند اور بابرکت بات یہ ہے کہ کتب حدیث اور علوم سلف کو بھارت کی علاقائی زبانوں (ہندی وغیرہ) میں اشاعت کرنا بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کو یہ علمی ودینی منصوبے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، عام انسانیت اور خصوصاً مسلمانوں کے لئے ذریعہ ہدایت فرمائے ، ان کو قبول عام بخشے، ناشرین، مترجمین اورمعاونین کے لئے ذریعہ آخرت اور ان سب کے والدین واساتذہ کے لئے صدقہ جاریہ فرمائے۔

    تاثرات شیخ عبدالقدوس بن محمد نذیر -حفظہ اللہ-
    (صدر مرکز تحفیظ القرآن والدعوۃ السلفیہ ، سدھارت نگر، یوپی، وباحث وزارۃ العدل، ریاض)
    حمد وصلاۃ کے بعد: میں نے دار الدعوۃ کی زیارت کی، باحثین فضلاء سے ملاقات ہوئی، ادارہ میں موجود مصادر ومآخذ اور شعبۂ کمپیوٹر دیکھ کر خوشی ومسرت ہوئی، ادارہ علوم سلف بالخصوص احادیث نبویہ کے اردو میں نقل واشاعت میں کوشاں ہے، اور یہ بڑی اچھی بات ہے جس کا فائدہ طلبہ کو پہنچے گا خاص کر دعوت وتبلیغ کے میدان میں کام کرنے والے اس سے استفادہ کریں گے، اللہ تبارک وتعالی اراکین ادارہ اور کارکنان جن میں ادارہ کے مؤسس ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار فریوائی ہیں کو جزائے خیر دے، اورمنصوبوں کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے، آمین، واللہ الموفق والہادی الی سواء السبیل۔ وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

    تاثرات مولانا عبدالمعید بن عبدالجلیل سلفی -حفظہ اللہ-
    گرامی قدر جناب ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جلد ہی یہ پتہ چلا ہے کہ آپ نے صحاحِ ستہ کے اردو تراجم جنہیں نواب وحید الزماں نے آج سے تقریباً سو سال پہلے اردو داں طبقے کو پیش کیا تھا ، اس کی تصحیح کرکے شائع کرنا چاہتے ہیں، یہ پروجیکٹ بہت بہتر ہے، میرا دھیان بھی ادھر باربار جاتا رہا، اللہ کرے یہ کام صحیح ڈھنگ سے ہوجائے، اور ان کا جس طرح بری طرح استحصال ہورہا ہے انہیں اس سے بچایا جائے، یہ کام اگر زیر عمل آنا چاہتا ہے تو اس کو خوش آمدید کہنے کو ہم لوگ تیار ہیں۔

    تاثرات مولانا محمد حسان سلفی -حفظہ اللہ-
    (ناظم اعلی جامعہ ابی ہریرہ، لال گوپال گنج، الہ آباد)
    الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، اما بعد:
    انتہائی مسرت کا مقام ہے کہ بفضلہ تعالی دار الدعوۃ (نئی دہلی) کی طرف سے ’’سنن ابی داود‘‘ (مترجم ومحقق) شائع ہونے جا رہی ہے جس سے اہل علم علماء وطلبہ اور عام مسلمان یکساں طور پر فائدہ اٹھائیں گے ، ان شاء اللہ العزیز۔
    میں محترم ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی اور جملہ اراکین دار الدعوۃ واراکین مجلس علمی کا تہ دل سے شکریہ اداکرتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ہمارے اخوان کو تعارف اسلام کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب کیا، اور اب اس کے نتائج سے ہم سب کو فائدہ ہوگا، اللہ تعالی ان اعمال حسنہ کو شرف قبولیت دے، اور مزیدنیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات شیخ ازہر بن عبدالرحمن المبارکفوری -حفظہ اللہ-
    (شیخ الجامعۃ، جامعۃ ابی ہریرہ، لال گوپال گنج، الہ آباد، یوپی)
    الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، اما بعد:
    بڑی خوشی کی بات ہے کہ دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے کئی سالوں کی جد وجہد کے بعد تعارف اسلام کے اہم منصوبہ یعنی ’’حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو‘‘ کا کام مکمل کر لیا ہے، اور اب سلسلہ وار اس کی اشاعت کا کام جاری ہے، میرے لئے سعادت کی بات یہ کہ محترم ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی -حفظہ اللہ- کی رہنمائی میں میں نے ’’سنن ابی داود‘‘ کے ابتدائی ابواب کی مراجعت کا کام کیا، الحمدللہ ’’سنن ابو داود‘‘ کی یہ اشاعت اپنی من جملہ خوبیوں کی اپنی مثال آپ ہے، جس میںتحقیق ومراجعت اورتصحیح وتضعیف اور حواشی کا کام ہر سطح کے لوگوں کے لئے مفید ہے، اور بر صغیر کے علماء وفضلاء جن کے پاس اسلامی مراجع کی کمی رہتی ہے وہ اس کتاب میں اپنی تحقیقی اور تدریسی ذوق کی تسکین کا سامان پائیں گے، اور مدارس اسلامیہ کے طلبائے عزیز کے لئے یہ ایک انمول تحفہ ہے۔
    اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ وہ ادارہ کے دوسرے علمی اور دعوتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے، اور اسے کارکنان کے لئے توشۂ آخرت بنا دے۔
    وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات مولانا حفیظ الرحمن بن محمد نعمان اعظمی -حفظہ اللہ-
    (سابق مدیر جامعہ دار السلام عمرآباد، مدارس)
    ومولانا خلیل الرحمن بن محمد عزیز الدین عمری مدنی -حفظہ اللہ-
    ( استاذ جامعۃ التوحید، رحیم آباد، بنگلور)
    آج ہم بہت نیک بخت اور مسرور ہیں اور اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں کہ اس نے ہمیں دار الدعوۃ دہلی کی زیارت کا سنہری موقع عطا فرمایا ، آج کا یہ دن میرے لئے تاریخی اور یاد گار کا دن ہے، جسے میں تاحیات نہیں بھول سکتا کہ ہمیں اسلامی علوم وفنون بالخصوص احادیث شریفہ کی تحقیق وتخریج اورتصحیح وتضعیف اور ترجمہ کے سلسلہ میں ہونے والی مخلصانہ مساعی کو اور اس کو اسلامی مراکز تک پہنچانے کے سلسلہ میں ہونے والی کوششوں سے آگاہی حاصل ہوئی ، برادر محترم ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی کو ہم ایک مدت سے جانتے ہیں ، ہمیں پورا یقین تھا کہ وہ اس طرح کے مفید کام کو انجام دیں گے ، اور ماشاء اللہ ایساہی ہوا، ا ور آئندہ بھی ان شاء اللہ مزید کام ہوں گے۔

    تاثرات مولانا جلال الدین عمری -حفظہ اللہ-
    (نائب امیر جماعت اسلامی ہند)
    موسسہ دار الدعوۃ کوآج دیکھنے کا موقعہ ملا، اس کی خدمات اور کوششوں سے واقفیت حاصل ہوئی، بڑی خوشی اور مسرت محسوس ہوئی، یہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا دور ہے، ان کے ذریعہ موسسہ میں اسلامی علوم کی خدمت کا کام لیا جا رہا ہے، ہمارے مستند ذخیرہ حدیث کو عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ انٹرنیٹ پر لانے کی کوشش ہور ہی ہے، صحاح ستہ میں سے ابن ماجہ پر کام پایہ تکمیلکوپہنچ چکا ہے، ابوداود شریف پر کام تکمیل کے قریب ہے، اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے کتابچے بھی شائع ہورہے ہیں، غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کرانے کی تدبیریں بھی کی جارہی ہیں۔
    اس پورے کام کے نگراں اور روح رواں معروف عالم اور محقق اور جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ (ریاض) کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی ہیں ، اللہ تعالی ان کوششوں کو قبول فرمائے۔

    تاثرات مولانا رفیق احمد سلفی -حفظہ اللہ -
    ( جمعیۃ دار البر علی گڑھ)
    محترمی ومکرمی ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی حفظہ اللہ تعالی
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے، برادر مکرم مولانا ایوب عمری سے یہ معلوم ہوا کہ دار الدعوۃ میں علمی کاموں کا آغاز ہوچکا ہے، اس خبر سے بڑی مسرت حاصل ہوئی، کتب ِ صحاح کے تراجم نئے انداز میں شائع کرنے کا پروگرام بہت عمدہ ہے، اللہ کرے یہ کام بحسن وخوبی انجام پاجائے۔
    تاثرات مولانا ابو سحبان روح القدس الندوی -حفظہ اللہ-
    (استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ،لکھنو)
    اللہ تعالی کی اس توفیق پر مجھے خوشی ومسرت ہے کہ اس نے مجھے دار الدعوۃ (نئی دہلی) کی زیارت کی توفیق بخشی فاضل اراکین ادارہ سے ملاقات ہوئی، دار الدعوۃ کے عظیم تصنیفی منصوبوں بالخصوص حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کو دیکھنے کا موقعہ ملا، یہ بڑے مفید علمی پروگرام ہیں جن سے ہر جگہ کا اردو طبقہ یکساں طور پر فائدہ اٹھائے گا ان شاء اللہ۔

    تاثرات مولانا عشرت جلال خاں قاسمی-حفظہ اللہ-
    (صدر آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، وایڈیٹر مجلہ سائبان، دہلی)
    حامداً ومصلیاً اما بعد: دار الدعوۃ (نئی دہلی) علوم اسلامیہ کا ایک روشن مینار ہے، اس ادارہ نے اسلام کے تعارف کے سلسلے میں جن منصوبوں پر کام شروع کیا ہے سب بڑی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں، میں نے متعدد بار دار الدعوۃ کی زیارت کی، وہاں کے ذمہ داران سے ملا، علماء ومشائخ سے ان منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوا، میں نے حدیث انسائیکلوپیڈیا اردو کے مسودات بھی دیکھے ، محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب الفریوائی سے اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات چیت ہوئی، الحمد للہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے اس ادارہ کی تصانیف وتراجم دین کی تعلیم کے سلسلے میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر طرف سے یکسو ہو کر قرونِ اولی کے مسلمانوں کے طریقے پر کتاب وسنت کو سمجھیں، اور اس پرعمل کرنے کی کوشش کریں، اور عام مسلمانوں تک ان تعلیمات کو پہنچائیں ، یہ سب سے بڑی خدمت ہے اور اتحاد ملت کی سب سے سادہ اور اہم تدبیر، سنن ابی داود مترجم ومحقق کی اشاعت پر ہم کارکنانِ دار الدعوۃ اور برادرانِ مجلس علمی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو صحیح دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔

    تاثرات ڈاکٹر شفیق احمد خان ندوی -حفظہ اللہ-
    (استاذ وصدر شعبہ عربی زبان وادب جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)
    اللہ تبارک وتعالی کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں کہ اس نے مجھے شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی سے ملاقات کی توفیق دی، اور ان کی باتیں سننے کا موقع ملا، نیز عربی مجلہ ’’الدعوۃ‘‘ ریاض کے مندوب شیخ عبدالالہ الشایع سے ملاقات کا موقع ملا، میں نے دار الدعوۃ کا مکتبہ دیکھا اور ادارہ کے اسلامی پروگرام سے آگاہی حاصل کی، ان کوششوں سے ہم بہت مسرور ہیں کہ جامعہ ملیہ کے بغل میں عصری ثقافت کے وجود کے علی الرغم دینی اعتبار سے اس پچھڑے علاقہ میں قائم اس ادارہ کی مساعی بڑی مفید اور قیمتی ہیں۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ادارہ کو توفیق وترقی سے نوازے، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

    تاثرات مولانا صغیر احمد بن محمد عیسی السلفی -حفظہ اللہ-
    (نائب ناظم مدرسہ اسلامیہ بھوارہ، ونائب امیر جمعیت اہل حدیث، صوبہ بہار)
    حمد وصلاۃ کے بعد: پہلی بار دار الدعوۃ کی زیارت کا موقع ملا، جس کی تاسیس فاضل برادر ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی نے کی ہے، اردو زبان میںعلمی تراث کو منتقل کرنے اور تحقیق وتالیف کرنے بالخصوص کتب ِ حدیث کو اردو میں منتقل کرنے والی ٹیم کے کاموں کو دیکھ کر از حد خوشی ومسرت ہوئی، اللہ تعالی ان کو جزائے خیر دے اور ان کی زندگی میں برکت فرمائے، اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ ادارہ کے ذمہ داروں کو اخلاص کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی کوششوں کو کامیاب کرے، وھو ولی التوفیق وصلی اللہ علی محمد وآلہ وصحبہ اجمعین

    تاثرات مولانا عبدالرحمن قاسمی - حفظہ اللہ -
    (مہتمم جامعۃ احسن البنات مراد آباد، یوپی)
    الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، اما بعد:
    دار الدعوۃ (نئی دہلی) اور اس کے بانی محترم جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی پروفیسر جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ (ریاض) کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے اسلامی علوم وفنون کی ہندستانی زبانوں میں اشاعت کے حوالے سے سرسری معلومات حاصل ہوئی تھیں ، برادرِمحترم جناب مولانا عشرت جلال خاں قاسمی سے اس سلسلے میں استفسار پرمعلوم ہوا کہ دار الدعوۃ کی زیارت اور اس کے بانی سے ملاقات بڑی آسان بات ہے، اور الحمد للہ ایسے ہی ہوا کہ میں دہلی آیا اور فوراً ہی ادارہ کی زیارت نصیب ہوئی،مجلس علمی کے فضلاء سے دار الدعوۃ کے علمی ودعوتی پروگراموں کی تفصیل معلوم کرکے بڑی خوشی ومسرت ہوئی، میں نے مختلف کتابوں کی موٹی موٹی جلدیں دیکھیں، اور طبیعت باغ باغ ہوگئی کہ گھر بیٹھے معیاری انداز کی محقق کتابیں جلد ہی شائع ہوں گی، اور اس سے فہم اسلام میں عام وخاص سب استفادہ کرسکیں گے، والحمد لله بنعمته تتم الصالحاتسنن ابو داود اور بقیہ کتابوں کی تیاری اور اشاعت پرمیں اراکین دار الدعوۃ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،اور اس پروگرام کی پرزور تائید کرتا ہوں، اللہ تعالی ہمیں اس طرح کے مفید علوم سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے، وصلی اللہ علی نبینا ورسولنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

    تاثرات وفد علمائے اہل حدیث کرناٹک
    وجمعیت اہل حدیث بمبئی عظمی
    آج مؤرخہ ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۰۱؁ء بروز پیر بعد نماز ظہر مع ا حباب جمعیت بمبئی (عظمی) دار الدعوۃ (نئی دہلی) میں حاضری کا شرف حاصل کیا، احادیث وغیرہ کے تراجم کے جو کام انجام دیئے جارہے ہیں وہ قابل تحسین وآفریں ہیں، یہ بہت ہی خوش آئند اقدام ہیں، اللہ اپنی خیر وبرکت اور فضل وکرم سے نوازے ، فقط والسلام۔
    محمد ثناء اللہ نظامی
    نائب امیر جمعیت اہل حدیث کرناٹک
    عبدالوہاب جامعی
    ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک
    محمد سعید احمد
    محمد امین ریاضی (بمبئی)

    تاثرات شیخ محمد مرتضی بن عایش محمد -حفظہ اللہ-
    (ریسرچ اسکالر جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، وصدر مرکز الدعوۃ السلفیہ، بہار)
    اللہ تعالی کی توفیق سے میں نے دار الدعوۃ کی کئی بار زیارت کی ہے، اور کارکنان اور دعاۃ سے ملاقات کی ہے، اور بر صغیر کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل منصوبوں سے واقف ہوا ہوں، دار الدعوۃ سلفی منہج کی تبلیغ کا کام انجام دے رہا ہے ، اس طرح کے منصوبوں کی بڑی سخت ضرورت تھی، اور اس سے پہلے کسی نے اس کام کے انجام دینے کی طرف سبقت نہیں کی تھی، ان شاء اللہ منصوبوں کو کامیابی ملے گی آمین۔

    تاثرات مولانا حفاظت اللہ بن عنایت اللہ السلفی -حفظہ اللہ-
    (ناظم اعلی جمعیۃ اہل حدیث راجستھان)
    الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین، ومن تبعہ باحسان الی یوم الدین ، اما بعد:
    بلا شک وشبہ امت ِ وسط میں ہمیشہ ایسی جماعت موجود رہی ہے، جس نے کتاب وسنت کی عملی تصویر کے ذریعہ حق کی شہادت پیش کی ہے، اور یہ بات اس وقت تک ممکن نہ تھی جب تک کہ صحیح احادیث اور غیر صحیح کی تعیین نہ ہوجائے، جس کی ذمہ داری علمائے سلف نے نبھائی،( فجزاھم اللہ احسن الجزاء)، تاکہ اہل باطل کے بے بنیاد عقائد واعمال سے مکمل اجتناب کیا جاسکے،علم حدیث سے ناواقفیت امت مسلمہ کے گمراہ ہونے میں ایک بڑا سبب رہا ہے، وقت کی اہم ضرورت تھی کہ امت کو حدیث رسول سے لگاؤ پیدا کرا کے اصل دین سے ربط وتعلق کو مضبوط کیا جائے۔
    الحمد للہ اس عظیم الشان کام کی ذمہ داری ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی کی زیر نگرانی دار الدعوۃ دہلی نے اٹھائی ہے، فی الحال سنن ابی داود کا اردو ترجمہ تخریج وصحت وضعف کے حکم اور اس کی تعلیل وتوجیہ اور مختصر حواشی پر مشتمل قارئین کے پیش خدمت ہے، رب ذو الجلال سے دعا ہے کہ وہ اس عمل کو شرف ِ قبولیت بخشے، آمین۔

    تاثرات جناب طارق سہراب غازی پوری -حفظہ اللہ-
    (ڈبل ایم اے، بی ایڈ، ریاض سعودی عرب)
    الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الأمین، ومن تبعہ باحسان الی یوم الدین ، اما بعد:
    معلومات میں اضافے کے لئے کتابوں کی اہمیت سے کسے انکار ہوسکتا ہے، لیکن دنیا وآخرت کی کامیابی اور اس سلسلہ میں صحیح معلومات کے لئے صحیح کتابوں کا ہونا انتہائی ضروری ہے، دوسرے لفظوں میں بغیر صحیح کتابوں کے صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی ہے۔
    برصغیر ہند وپاک میں سینکڑوں برس سے جتنی بھی دینی کتابیں منظر عام پر نمایاں ہوئیں ان میں بیشتر کتابیں ایسی ہیں جو صحیح معنوں میںصحیح اسلام کا تعارف پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں، جس کے نتیجے میں خواہشمند اشخاص بھی بدعات وخرافات کے دائرے سے اپنے آپ کو باہر نہ لاسکے اور دوسری طرف اہل بدعت کو بدعات کی ترویج کا موقع ملتا رہا۔
    میرے خیال سے زیر نظر کتاب ’’سنن ابو داود‘‘ (مترجم ومحقق ) جو پہلی بار اردو زبان میں اس اہتمام کے ساتھ شائع ہورہی ہے، اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے کے لئے کافی ہے، وقت کی ضرورت اور اس کے تقاضے کے پیش نظر مجلس علمی دار الدعوۃ نے جس اسلوب کے ساتھ اس کتاب کو پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
    ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی صاحب نے تعارف نامے میں جس طرح اپنے ادارے دار الدعوۃ کا پروجیکٹ عوامی سطح پر نمایاں کیا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ خطہ ہند سے صحیح اسلام کا تعارف کرانے میں اِس ادارے کی اپنی ایک خاص اہمیت ہوگی -ان شاء اللہ-، آج مسلم معاشرے میں بگاڑ کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ غلط قسم کی کتابوں کو پڑھ کر اسلام کی حقیقتوں سے ناآشنا ہوتے جارہے ہیں، بازار میں اسلام کے نام پر زیادہ تر کتابیں ایسی ملتی ہیں جو بدعات وخرافات والے اسلام کے لبادے میں لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے انہیں عقیدہ خالص اور اتباع سنت سے دور رکھے ہوئے ہیں۔
    اس تقریب کی مناسبت سے میں دعا گو ہوں کہ کارکنانِ دار الدعوۃ کواللہ تعالی اس عظیم خدمت پر جزائے خیر دے، (آمین)
    آخر میں میں اُن تمام لوگوں کے لئے دعا گو ہوں جو برصغیر ہند وپاک میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔
     
  10. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    سوانح حیات-امام ابو داود رحمۃاللہ علیہ


    سوانح حیات
    امام ابو داود رحمۃاللہ علیہ
    ( ۲۰۲ھ- ۲۷۵ھ)​

    نام ونسب: سلیمان نام، ابوداود کنیت، اور نسب یہ ہے: سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیربن شداد بن عمرو بن عمران ازدی سجستانی ۔
    ولادت وخاندان: ا مام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش آپ کے اپنے بیان کے مطابق ۲۰۲ ھ ؁ میں ہوئی ، قبیلہ ’’ازد‘‘ سے تعلق کی بناء پر ازدی کہلاتے ہیں ۔
    سجستانی نسبت سیستان یا (سجستان)میں سکونت کی وجہ سے ہے، جوسندھ وہرات کے ما بین اور قندھار (افغانستان) کے متصل واقع ہے۔
    طلب حدیث کے لئے بلاد اسلامیہ کی سیاحت : آپ نے احادیث کی روایت و تحصیل کے لئے بلاد اسلامیہ کے علمی مقامات کا سفرکیا،جن میں مصر ،شام ، حجاز( مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ )، بغداد، جزیرہ، بصرہ اورخراسان وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
    کئی بار بغداد تشریف لے گئے، نیساپور، مرو،اصبہان وغیرہ کے محدثین کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے استفادہ کیا ۔
    اساتذہ وشیوخ : آپ کے اساتذہ وشیوخِ حدیث تین سو(۳۰۰)سے زائد ہیں جن میں سے بعض مشاہیر درج ذیل ہیں : احمد بن حنبل، اسحاق بن راہو یہ، ابو ثور، یحییٰ بن معین، ابو بکربن ابی شیبہ،عثمان بن ابی شیبہ،سعیدبن منصور، سلیمان بن حرب،سلیمان بن عبد الرحمن دمشقی،شجاع بن مخلد، محمد بن بشار بندار بصری ، محمد بن صباح نزار دولابی ، محمد بن منھال ، مسددبن مسرہد، قعنبی وغیرہ وغیرہ ۔
    تلامذہ: امام ابو داود سے بہت سارے علمائے حدیث کو شرف تلمذ حاصل ہے،ان میں سے سنن کے رواۃ مندرجہ ذیل ہیں:
    ۱- ابوعمرو احمد بن علی بن حسن بصری ۔
    ۲- ابو علی محمد بن احمد بن عمرو لؤلؤی۔ (م ۳۳۳؁ھ)
    ۳- ابوالطیب احمد بن ابراہیم اشنانی بغدادی۔
    ۴- ابو سعید احمد بن محمد بن سعید بن زیاد اعرابی۔ (م ۳۴۰؁ھ)
    ۵- ابو بکر محمد بن عبد الرزاق بن داسہ۔(م۳۴۶؁ھ)
    ۶- ابو الحسن علی بن الحسن بن العبدالانصاری۔ (م ۳۲۸؁ھ)
    ۷- ابو عیسی اسحاق بن موسی بن سعید الرملی الورّاق۔ (م ۳۲۰؁ھ)
    ۸- ابوا سامہ محمد بن عبد الملک بن یزید الرواس۔
    ۹- ابو سالم محمد بن سعید الجلودی۔
    آپ کی دوسری کتابوں کے رواۃ میں: ۱۰- ابوعبد اللہ محمد بن احمد بصری، ۱۱- ابوبکر احمد بن سلیمان النجاد، ۱۲-اسماعیل بن محمد الصفار، ۱۳-ابوعبید محمد بن علی الآجری، اور دوسرے مشہور علماء میں آپ کے صاحبزادہ: ۱۴- ابوبکر، ۱۵- ابوعوانہ یعقوب بن اسحاق الا سفرائینی، ۱۶- حرب بن اسماعیل کرمانی، ۱۷-زکریا الساجی، ۱۸- ابو بکر محمد بن خلال، ۱۹- اور احمد بن یسین ہروی وغیرہ بھی آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں، صحاح ستہ کے مصنفین میں سے: ۲۰- امام ترمذی، ۲۱- اور امام نسائی کوبھی آپ سے تلمذ حاصل ہے ۔
    آپ کے شیخ امام احمد نے بھی آپ سے حدیث عتیرہ روایت کی ہے۔
    حفظ وضبط: امام صاحب کو حفاظ حدیث میں بہت بڑا مقام حاصل ہے۔
    ابو حاتم کا بیان ہے:’’وہ حفظ کے اعتبار سے دنیا کے اماموں میں سے ایک تھے ‘‘۔(تہذیب الکمال ۱۱؍۳۶۵)
    محمدبن مخلد فرماتے ہیں: ’’ابو داود ایک لاکھ حدیث کا پورا مذاکرہ کیا کرتے تھے، اور جب آپ نے سنن مرتب کی تو تمام اہل زمانہ نے آپ کے حفظ اورسبقتِ علمی کا اعتراف کیا‘‘۔(تہذیب الکمال ۱۱؍۳۶۵)
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جمہور علمائے اسلام کو ان کے کمال حفظ کااعتراف ہے‘‘۔
    جرح و تعدیل: علل حدیث میں آپ کو ملکہ ٔراسخہ عطاہو اتھا، جیسا کہ ممتاز علماء نے اس فن میں آپ کی مہارت کا اعتراف کیا ہے ۔
    آپ کی قوتِ تمییز،اور نقدو نظر پر اساطین فن کا اتفاق ہے ۔
    احمد بن محمد بن یسین الہروی فرماتے ہیں: ’’ ابو داود حدیث نبوی ، اور علم و علل اسانید کے حفاظ میں سے ہیں، عبادت پاکدامنی ، صلاح اور ورع وتقوی میں اعلی مرتبہ پر فائز ہیں‘‘(السیر ۱۳؍ ۲۱۱،تہذیب الکمال ۱۱؍۳۶۵)
    ابوحاتم بن حبان کا ارشادہے: ’’ابو داود فقہ، علم، حفظ، عبادت، ورع وتقوی، اور پختگی ومہارت کے اعتبار سے دنیا کے اماموں میں سے ایک امام تھے،آپ نے احادیث کی جمع وترتیب اور تصنیف وتالیف کا کام کیا، اور سنن کا دفاع کیا‘‘ (السیر ۱۳؍ ۲۱۲، تہذیب التہذیب ۴؍ ۱۷۲)۔
    حافظ ابن مندہ کا بیان ہے:’’احادیث کی تخریج، معلول وثابت، اورغلط وصحیح میں تمییز کرنے والے چار آدمی ہیں: بخاری ، مسلم، ان کے بعد ابو داود اورنسائی‘‘۔ ( شروط ابن مندہ ، السیر ۱۳؍ ۲۱۲، تہذیب الکمال ۱۱؍۳۶۵)۔
    ورع و تقوی:مسلم بن قاسم آپ کے ورع وتقوی کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آپ ثقہ اور زاہد تھے، حدیث کے ماہر تھے، اپنے وقت کے اس فن کے امام تھے‘‘۔
    اور حافظ ابو بکر الخلال فرماتے ہیں : ’’امام ابو داود اپنے عہد کے متفوق امام ہیں، آپ کے زمانہ میں آپ سے بڑھ کر کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جو علوم کی تخریج کی معرفت، ا ورمواضع حدیث کی بصیرت میں آپ سے بڑا ہو،آپ ورع وتقوی میں فائق وبرتر تھے‘‘۔( تہذیب الکمال ۱۱؍ ۳۶۴)
    اسی طرح ابو حاتم بن حبان اور احمد بن محمد بن یسین الہروی وغیرہ نے بھی آپ کے ورع وتقوی کا تذکرہ خصوصی طور پر کیا ہے۔
    امام کے ورع وتقویٰ کے لئے یہ مثال ہی کافی ہے کہ آپ اپنی ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ رکھا کرتے تھے، جب آپ سے دریافت کیا گیا تو فرما یا : ’’ایک آستین تو اس لئے کشادہ رکھتا ہوں کہ اس میں اپنی کتاب کے کچھ اجزاء رکھ لوں، اور دوسری کا کشادہ رکھنا غیر ضروری ہے‘‘ ۔ (السیر ۱۳؍ ۲۱۷)
    آپ کا یہ فعل ورع وتقوی کے ساتھ احتیاط فی الحدیث یا احتیاط فی الروایت کی بھی غمازی کرتا ہے ۔
    فن حدیث میں تبحر و کمال:حدیث میں جلالت علم کا اعتراف کرتے ہوئے امام حاکم فرماتے ہیں:’’ ابو داود اپنے وقت کے اہل حدیث کے بلا مقابلہ امام تھے‘‘۔(السیر ۱۳؍ ۲۱۲)
    اور علّان بن عبدالصمد نے یہ رائے قائم کی ہے کہ آپ میدان حدیث کے شہسوار تھے۔( السیر ۱۳؍۲۱۲)
    حافظ محمد بن اسحاق الصاغانی، اور ابراہیم الحربی حدیث میں آپ کی مہارت تامہ کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’اُلِين لأبي داود الحديث كما اُلِين لداود الحديد‘‘ یعنی ابو داود کے لئے حدیث ویسے ہی نرم اور آسان بنادی گئی جیسے داود علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کر دیا گیا۔ (السیر۱۳؍۲۱۲ و۲۱۳،تہذیب التہذیب ۴؍ ۱۷۲)
    موسی بن ہارون فرماتے ہیںکہ ابو داود دنیا میں حدیث کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے اور آخرت میں جنت میں رہنے کے لئے۔ (السیر ۱۳؍۲۱۲)
    نیز فرمایا کہ میں نے ابو داود سے افضل آدمی نہیں دیکھا۔ (السیر ۱۳؍ ۲۱۳)
    فقہی ذوق وبصیرت: امام ابو داود کو جس طرح حدیث میں امامت کا درجہ ملا ہے اسی طرح آپ کو فقہ واجتہاد میں بھی ایک امتیازی حیثیت حاصل تھی، فقہی بصیرت اور عمیق نظر رکھنے کے سبب بعض علماء نے تو آپ کو فقہ و اجتہاد میں امام بخاری کے بعد دوسرا درجہ دیا ہے ،اورلکھا ہے کہ امام بخاری کے بعد امام ابواود کا مرتبہ سب سے بلند ہے ، اور پھر جملہ اصحاب تراجم وطبقات نے آپ کے اس وصف کا تذکرہ کیا ہے ۔
    آپ کے اس ذوق او ربصیرت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگ سکتاہے کہ آپ نے اپنی کتاب ’’ کتاب السنن ‘‘ کو صرف احکام ومسائل کی جمع وترتیب تک ہی محدود رکھا ۔
    امام ابو حاتم آپ کو امام فقہ قراردیتے ہیں۔
    امام ابواسحاق شیرازی نے اصحاب صحاح ستہ میں سے صرف امام ابوداود ہی کو طبقاتِ فقہاء میں شمارکیا ہے ،اور یہ امتیاز آپ کو اسی فقہی بصیرت اور فقہی ذوق کی بدولت حاصل ہوا ہے۔
    فقہی مذہب: ابواسحاق شیرازی نے امام صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی نسبت حنابلہ کی طرف کردی ہے، نیز طبقات حنابلہ میں آپ کا ذکرہے ، اوربعض نے آپ کو شافعی المذہب لکھ دیا،لیکن یہ محض درسی نسبت ہے،اور یہ غلط فہمی غالبا امام احمدبن حنبل اور امام شافعی کے اکثر وبیشتر مسائل میں موافقت کے سبب ہوئی ہے، نواب صدیق حسن حافظ ابن حزم سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’ان اہل علم کے بعد بخاری،مسلم، ابو داود اور نسائی آئے، ان میں سے کسی نے اپنے سے پہلے کے امام کے قول کی تقلید نہیں کی، بلکہ ہر ایک نے تقلید سے منع کیا اور اس پر نکیر کی‘‘۔
    حافظ ذہبی آپ کے تبحرعلمی اور فقہ وحدیث میں امامت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ابو داود حدیث اور فنون حدیث میں امامت کے ساتھ کبار فقہاء میں سے ہیں، آپ کی کتاب السنن اس پر دلالت کرتی ہے، آپ اصحاب امام احمد کے منتخب لوگوں میں سے ہیں، امام احمد کے مجلس کی ایک مدت تک پابندی کی، اور اصول وفروع کے دقیق مسائل پر آپ سے سوالات کئے، آپ اتباع سنت اور سنت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے باب میں، اور دشوار گزار کلام ومسائل میں غور وخوض نہ کرنے میں سلف کے مذہب پر تھے۔ (السیر ۱۳؍۲۱۵)
    اسی طرح علامہ طاہر الجزائری کے بیان سے بھی امام ابو داود کے کسی دوسرے امام کے مقلد ہو نے کی نفی اور تردید ہو تی ہے، فرماتے ہیں:’’أما البخاري وأبو داود فإمامان في الفقه وكانا من أهل الاجتهاد‘‘ (تو یہ دونوں بخاری اور ابوداود فقہ کے امام ہیں، اور دونوں اہل اجتہاد میں سے ہیں‘‘۔
    وفات: امام صاحب کی وفات (۱۶) شوال بروزجمعہ ۲۷۵؁ھ (۷۳)برس کی عمر میں ہوئی،رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ
    اولاد: اولاد میں صرف ایک صاحبزادے محدث ابو بکر عبداللہ کا ذکرملتا ہے ۔
    تصانیف
    امام صاحب نے اپنی زندگی دین حنیف کی خدمت میں وقف کررکھی تھی اس سلسلہ میں آپ نے زیادہ ترتصنیف وتالیف کا کام انجام دیا، آپ کی تالیفات میں سے جن کا ہمیں علم ہو سکا ہے وہ درج ذیل ہیں:
    ۱- « كتاب السنن » (مطبوع)
    ۲- « المراسيل » (مطبوع): یہ کتاب فقہی ابواب پر مرتب ہے،اس میں چھ سو مرسل روایات کا ذکر ہے، اورامام ابوداود نے اس کو اپنی سنن کا اٹھارہواں جزء بتایا ہے،لیکن الگ سے مطبوع ہے۔
    ۳- « مسائل أبي داود للإمام أحمد »: یہ بھی فقہی ترتیب پر ہے،علامہ رشید رضا نے اسے سن ۱۳۵۳؁ ھ میں اپنی تحقیق سے شائع فرمایا ۔
    ۴- « رسالة أبي داود لأهل مكة في وصف سننه » (مطبوع): یہ رسالہ امام موصوف نے اپنی سنن سے متعلق تصنیف فرمایا، جو متعدد بار شائع ہو چکا ہے، ڈاکٹر محمد لطفی الصباغ نے اسے اپنی تحقیق سے ۱۳۹۴؁ھ میں شائع کیا ۔
    ۵- « الرواة من الإخوة والأخوات »: ڈاکٹر باسم بن فیصل الجوابرہ نے اپنی تحقیق سے اس کو ۱۴۰۸؁ھ میں شائع کیا ۔
    ۶- « سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود في الجرح والتعديل » : ڈاکٹر محمد علی العمری نے اس کے تیسرے جزء کی اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ میں تحقیق کرکے شائع کیا ، بعد میں چوتھے اور پانچویں جزء کی تحقیق واشاعت کی ،اس کتاب کا پہلا اور دوسرا جزء مفقود ہے۔
    ۷- « سؤالات أبي داود للإمام أحمد في جرح الرواة وتعديلهم »: ڈاکٹر زیاد محمد منصور نے اسے ۱۴۱۴؁ھ میں تحقیق کر کے شائع کیا۔
    ۸- « الزهد »: تحقیق ضیاء الحسن السلفی (مطبوع بالدار السلفیہ بمبئی) ۔
    ۹- « المسائل التي حلف عليها الإمام أحمد »: (تاريخ التراث العربي، تأليف فواد سزكين ۱؍۲۹۵، مخطوط بالمکتبہ الظاہریہ)۔
    آپ کی درج ذیل کتابیں مفقود کے حکم میں ہیں:
    ۱۰- « الناسخ والمنسوخ »: ( ملاحظہ ہو: سیر اعلام النبلاء للذہبی۱۳؍۲۰۹، تہذیب التہذیب لابن حجر ۴؍۱۷۰، تقریب التہذیب لابن حجر ۷۶)
    ۱۱- « كتاب القدر »: ( ملاحظہ ہو: سیر اعلام النبلاء للذہبی۱۳؍۲۰۹، تقریب التہذیب لابن حجر ۷۶)
    ۱۲- « البعث والنشور »:(ملاحظہ ہو :کشف الظنون تالیف حاجی خلیفہ ملا کاتب چلپی۲؍۱۴۰۲)
    ۱۳- « دلائل النبوة »: ( ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب لابن حجر۴؍۱۷۰، ہدیۃالعارفین تالیف اسماعیل پاشابغدادی ۱؍۳۹۵)
    ۱۴- « التفرد في السنن »: ( ملاحظہ ہو: تقریب التہذیب لابن حجر ۷۶،ہدیۃالعارفین تالیف اسماعیل پاشابغدادی ۱؍ ۳۹۰)
    ۱۵- « مسند مالك بن أنس »: (التہذیب ۴؍ ۱۷۰)۔
    ۱۶- « فضائل الأنصار »: (التقریب ۷۶)۔
    ۱۷- « أ صحاب الشعبي » : (سوالات الأجری ۱۸۱)۔
    ۱۸- « كتاب الكنى »: (الاصابۃ لابن حجر۳؍ ۴۳۷)۔
    ۱۹- « ابتداء الوحي »:( تہذیب التہذیب ۱؍۶)
    ۲۰- « أخبار الخوارج »:( تہذیب التہذیب ۱؍۶)
    ۲۱- « كتاب الدعاء »:( تہذیب التہذیب ۱؍۶)
    سنن ابی داود کے مشہور نسخے
    امام صاحب سے ’’سنن‘‘ کو روایت کرنے والے یوں تو نو تلامذہ ہیں ، ذیل میں (كما تقدم) چند مشہور نسخوں کا تذکرہ مقصود ہے:
    ۱- نسخہ لؤلؤی : یہ نسخہ ہندوستان اور بلاد مشرق میں مروج ہے ،او ر’’سنن ابی داود‘‘سے عندالا طلاق یہی مفہوم ہوتا ہے ، لؤلؤی نے امام صاحب سے ۲۷۵؁ھ میں اسے روایت کیا ، اوریہ روایت اصح الروایات مانی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ امام صاحب سے آخری وقت میں املاء کیا گیا،اور اسی پر آپ کا انتقال ہوا، گویا یہ آخری نسخہ ہے۔
    ۲- نسخہ ابن داسہ: اس میں نسخہ لؤلؤی کے ساتھ قدرے یکسانیت پائی جاتی ہے،محض تقدیم وتاخیرکا اختلاف ہے ، اور یہ نسخہ بلاد مغرب میں زیادہ مشہور ہے ،علامہ خطابی (مولف معالم السنن) کے پاس یہی ابن داسہ کا نسخہ تھا ۔
    ۳- نسخہ رملی : یہ نسخہ ابو عیسی الرملی نے ۳۱۷؁ھ میں بیان کیا ۔
    ۴- نسخہ ابن الأعرابی: دوسرے متداول نسخوں کے مقابل میں یہ نسخہ نامکمل ہے ،چنانچہ علامہ خطابی لکھتے ہیں: ابن الاعرابی کی روایت میں کتاب الفتن والملاحم والحروف والخاتم مکمل، اور کتاب اللباس نصف کے قریب ساقط ہے، اسی طرح کتاب الوضو، کتاب الصلاۃ او رکتاب النکاح کے بہت سارے اوراق بھی ان سے فوت ہو گئے ہیں۔
    سنن ابی داود کی شروح ومختصرات
    سنن ابی داود کی افادیت کے سبب ہر زمانہ کے علماء نے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، اور اس کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی توضیح وتشریح اورمختصرات وحواشی لکھنے میں خاص طورپردلچسپی لی ہے،ذیل میں ان شروح ومختصرات کاتعارف پیش ہے:
    ۱- « معالم السنن »: یہ شرح مشہور محدث امام ابوسلیمان احمدبن محمدخطابی (م۳۸۸؁ھ) کی ہے،سب سے متقدم ہے، اسے مطبعہ علمیہ حلب نے ۱۳۵۱؁ھ میںچار جلدوں میںشائع کیا ہے۔
    ۲- « شرح الإمام النووي » (م۶۷۶ھ) نا تمام (ملاحظہ ہو:المنہاج السوی فی ترجمۃ الامام النووی للسیوطی۷۴) ۔
    ۳- « شرح الحافظ مسعود بن أحمد بن مسعود الحارثي البغدادي » (م۷۱۱ھ) ابن رجب نے فرمایا کہ موصوف نے سنن ابودادو کے بعض حصوں کی شرح لکھی (الذیل علی طبقا ت الحنابلہ ۲؍۳۶۳)۔
    ۴- « شرح قطب الدين »: یہ شیخ قطب الدین ابوبکر احمد بن دعین یمنی شافعی (م۷۵۲؁ھ) کی ہے، اور چار مبسوط جلدوں پر مشتمل ہے لیکن نا تمام ہے (کشف الظنون ۲ ؍۱۰۰۵)۔
    ۵- « شرح الحافظ المغلطائي بن قليج الحنفي » (م ۷۶۲ھ) ناتمام (کشف الظنون ۲ ؍۱۰۰۵)۔
    ۶- « شرح الحافظ أحمد بن محمد بن إبراهيم المقدسي » ( م۷۶۵ھ) ( الدررالکامنہ لابن حجر ۱؍۲۴۲)۔
    ۷- « السنن بعجالة العالم » :علامہ خطابی کی معالم کا اختصار ہے، جسے شہاب الدین ابومحمود احمدبن مقدسی (م۷۶۸ھ) نے مرتب کیا، بعض نے اس کا نام عجالۃ العالم من کتاب المعالم ذکر کیا ہے، اور یہ چار جلدوں میں ہے۔
    ۸- « شرح ابن الملقن » : یہ شیخ سراج الدین عمر بن علی بن ملقن شافعی (م ۸۰۴؁ھ) کی شرح ہے، جو زوائد علی الصحیحین احادیث کی شرح پر مشتمل اور دو جلدوں میں ہے (الضوء اللامع للحافظ السخاوی ۶؍۱۰۲)۔
    ۹- « شرح الحافظ أبي زرعة العراقي »: یہ شیخ ولی الدین بن ابی زرعۃ العراقی (م ۸۲۶؁ ھ) کی شرح ہے، لیکن ناتمام ہے (الضوء اللامع للحافظ السخاوی ۶؍۱۰۲)۔
    اس کی معلومات اور افادیت کا اندازہ اس سے بخوبی ہوسکتا ہے کہ یہ ابتداء سے سجدہ سہو تک سات جلدوں میں ہے، اورایک جلدمیں صیام، حج اور جہاد وغیرہ ابواب کی شرح ہے، اور اگر یہ شرح مکمل ہوجاتی تو چالیس جلدوں پر مشتمل ہوتی ۔
    ۱۰- « شرح المحدث ابن رسلان الشافعي » : یہ احمد بن حسین بن رسلان الشافعی (م۸۴۴؁ھ) کی مبسوط اورمفصل شرح ہے، اس کی تحقیق کلیۃ اصول الدین،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ کے طلبہ نے ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالہ کے لئے کی ہے، جن میں ڈاکٹرسہیل حسن عبدالغفار استاذحدیث انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد بھی ہیں (اور زیر نظر ترجمہ میں سنن ا بو داود سے متعلق معلومات موصوف کے مقدمۂ تحقیق سے مأخوذ ہے )، انہیںمحققین فضلاء میں ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمن العمیر، اور ڈاکٹر محمد الخضیر ہیں، جنہوں نے اس کتاب کی تحقیق وتخریج اور دراسہ کا کام کیا ہے۔
    ۱۱- « شرح الحافظ محمود بن أحمد العيني » (م ۸۵۵؁ ھ) (تاریخ التراث العربی فواد سزکین ۱؍۳۸۴)۔
    ۱۲- « مرقاة الصعود إلى سنن أبي داود » : تالیف علامہ جلال الدین سیوطی (م ۹۱۱ھ) یہ مختصر شرح ہے (مطبوع)۔
    ۱۳- « شرح ابن عبدالهادي السندي » : یہ شرح ابو الحسن محمد بن عبدالہادی السندی (م ۱۱۳۸؁ ھ) کی ہے، جس کا نام ’’فتح الودود علی سنن ابی داود‘‘ ہے، (تاریخ التراث العربی فؤاد سزکین ۱؍۳۸۴)۔
    ۱۴- « شرح ابن بهاء الدين المرجاني » (م۱۳۰۶؁ ھ) اس کا نام ’’عون الودود علی سنن ابی داود‘‘ ہے، (الاعلام ۳؍۱۷۸ و معجم المؤلفین ۴؍۴۹)۔
    ۱۵- « غاية المقصود في شرح سنن أبي داود » : تالیف علامہ شمس الحق عظیم آبادی (م۱۳۲۳؁ھ) اس کی پہلی جلد ۱۳۰۴؁ھ میںطبع ہوئی تھی، دوبارہ ۱۴۱۴؁ھ میں حدیث اکادمی فیصل آباد ودار الطحاوی ریاض سے تین جلدوں میں شائع ہوئی، جس میں آخری حدیث (۳۹۷) نمبر کی ہے، اور اس سے آگے کا مسود ہ اب تک مفقود ہے۔
    ۱۶- « عون المعبود » : تالیف علامہ شمس الحق العظیم آبادی: یہ چارضخیم جلدوں میں دہلی سے ۱۳۲۳؁ھ میں طبع ہوئی تھی، بیروت اور پاکستان سے اس کے فوٹو شائع ہورہے تھے، نئے ٹائپ میں اس وقت مطبوع اور اہل علم کے یہاں رائج ہے۔
    ۱۷- « بذل المجهود في حل سنن أبي داود » : تالیف محدث خلیل بن احمد السہارنفوری(م ۱۳۴۶؁ھ) (طبعۃ مصورۃ عن الطبعۃالہندیۃ دار الکتب العلمیۃ فی بیروت)۔
    ۱۸- « المنهل العذب المورود شرح سنن الإمام أبي داود » : تالیف شیخ محمود بن محمد خطاب السبکی م۱۳۵۲؁ھ یہ نا مکمل تھی،لیکن بعد میں ان کے بیٹے امین السبکی نے مکمل کیا اور اس کا نام ’’فتح الملک المعبود تکملۃ المنہل العذب المورود‘‘رکھا، اور یہ بھی نا تمام ہے، (یہ کتاب ۱۳۵۱؁ھ میں دس حصوں میں طبع ہوئی )۔
    ۱۹- « عون الودود على سنن أبي داود » : تالیف شیح محمد بن نور الدین الہزاروی (م ۱۳۶۶؁ھ) یہ ۱۳۱۸؁ھ لکھنؤ میں طبع ہوئی، (جہود مخلصۃ فی خدمۃ السنۃ المطہرۃ ص ۲۱۶ )۔
    ۲۰- « الدر المنضود شرح سنن أبي داود »: تالیف شیخ محمد یاسین الفادانی (م ۱۳۱۰؁ھ) یہ بیس جلدوں میں مخطوطۃ کی شکل میں موجود ہے (الامام ابو دادو السجستانی للشیخ صالح البراک ص ۷۳)۔
    اہم حواشی وتعلیقات اور مختصرات:
    ۲۱- « مختصر المنذري » : حواشی حافظ عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری (م ۶۵۶؁ ھ) یہ مختصر مع تہذیب ابن القیم للسنن مطبوع ہے۔
    ۲۲- « تهذيب سنن أبي داود » لابن القیم (م ۷۵۱؁ھ) : امام ابن قیم نے سنن ابی داود کا اختصار کیا ہے،اور اس مختصر کا نا م تہذیب رکھا ہے،اس مختصر کی اہم خوبی یہ ہے کہ امام ابوداود نے جن علتوں پر سکوت کیا تھا،یا انہیں مکمل بیان نہیں کیاتھا،ان پرسیرحاصل بحث کی گئی ہے،اور جوحدیثیں امام ابو داود کی نظر میں ضعیف تھیں ان کی تصحیح سے اعراض کیا گیا ہے،مشکل متون کا آسان وسہل حل پیش کیا گیا ہے،اور اس باب میں جن صحیح حدیثوں کا امام نے ذکر نہیں کیا تھا ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (تہذیب السنن علی حاشیۃ مختصر سنن ابی داود ۱؍۹-۱۰)۔
    ۲۳- « مختصر محمد بن الحسن بن علي البلخي »: محمد بن الحسن البلخی نے بھی سنن ابی داود کا اختصار کیا ہے(تاریخ التراث العربی فواد سزکین ۱؍۳۷۸)۔
    ۲۴- « حواشي الحافظ إبراهيم بن محمد أبي الوفاء الطرابلسي» (م ۸۴۱؁ ھ) (الضوء اللامع للسخاوی۱؍۱۳۸)
    ۲۵- « المواهب والمنن في تعريف الأعلام بفوائد السنن » : تعلیقات علی مختصر سنن ابی داود للقاضی محمد بن عمار القاہری المالکی (م ۸۴۴؁ھ ) (الذیل علی رفع ا لإصر للسخاوی ص ۳۰۱)۔
    ۲۶- « تعليقات » الشیخ محمد بارک اللہ لکھوی (م ۱۳۱۵؁ھ) (جہود مخلصۃ فی خدمۃ السنۃ المطہرۃ ص ۱۱۶)۔
    ۲۷- « التعليق المحمود حاشية سنن أبي داود »: تعلیقات مولانا فخر الحسن گنگوہی(م ۱۳۱۵؁ھ) (۱۳۴۶؁ھ میں کانپور میں مجیدی پریس میں ایک جلد میں طبع ہوئی، طبع دوم لاہور ۱۴۰۰؁ھ )۔
    ۲۸- « تعليقات وأمالي » الشیخ محمود الحسن الدیوبندی (م ۱۳۳۹؁ھ)، وتعلیقات وامالی الشیخ محمد انور شاہ کشمیری (م۱۳۵۲؁ھ)، تعلیقات وامالی الشیخ شبیر احمد العثمانی (م ۱۳۶۹؁ھ)، تینوں تعلیقات کو شیخ ابو العتیق عبدالہادی محمد صدیق النجیب آبادی نے جمع کیا ہے، اور اس کا نام ’’انوار المحمود علی سنن ابی داود‘‘ رکھا ہے، (جہود مخلصۃ ص ۲۳۴)۔
    ۲۹- « تعليقات القاضي المحدث حسين بن محسن اليماني » (م ۱۳۴۱؁ھ) یہ نا مکمل ہے، (نزہۃ الخواطر لعبدالحی الحسنی ۸؍ ۱۱۴)۔
    ۳۰- « تعليقات » الشیخ عبدالحی الحسنی (م ۱۳۴۱؁ھ) یہ نا مکمل ہے، (عبدالحی الحسنی للدکتور قدرت اللہ الحسینی ص ۲۸۲)۔
    ۳۱- « تعليقات » الشیخ محمد حیات سنبھلی( م ۱۴۰۹؁ھ) (الامام ابو داود السجستانی ص ۷۳)۔
    ۳۲- « فيض الودود تعليق على سنن أبي داود » : تعلیقات محدث ابی الطیب عطاء اللہ حنیف الفوجیانی(م ۱۴۰۹؁ھ)،یہ نامکمل ہے، (جہود مخلصۃ ص ۳۰۵)۔
    ۳۳- «تعليق عون المعبود شرح أبي داود» :تالیف مولاناعبدالتواب الملتانی (م ۱۳۶۶؁ھ)، (جہود مخلصہ، ص۴۸)۔
    ۳۴- « التعليق على سنن أبي داود » تالیف مولانا عبدالجلیل السامرودی (جہود مخلصہ، ص ۶۳)۔
    ۳۵- « كشف الودود على سنن أبي داود » : تالیف مولانا عبیداللہ شمس الدین بن شیر محمد (یہ کتاب ۱۴۰۶؁ھ میں ایک جلد میں پاکستان میں طبع ہوئی)۔
    ۳۶- « صحيح وضعيف سنن أبي داود »: (۱۱ جلدوں میں) تالیف محدث محمد ناصر ا لدین ا لالبانی، مطبوع دار غراس کویت۔
    ۳۷- « صحيح سنن أبي داود » (باختصار السند): تالیف محدث محمد ناصر الدین الالبانی، (پہلے مکتب التربیۃ لدول الخلیج ریاض سے شائع ہوئی تھی، اب دار المعارف ریاض سے شائع ہوئی ہے)۔
    ۳۸- « ضعيف سنن أبي داود » (باختصار السند): تالیف محدث محمد ناصر الدین الالبانی (پہلے مکتب التربیۃ لدول الخلیج ریاض سے شائع ہوئی تھی، اب دار المعارف ریاض سے شائع ہوئی ہے)۔
    سنن ابی داود پر مستخرجات
    ۳۹- « المستخرج» للحافظ الأندلس محمد بن عبدالملک بن أیمن القرطبی (م ۳۳۰؁ھ) (تاریخ علماء الأندلس لابن الفرضی ۲؍۵۲- ۵۳)۔
    ۴۰- «المستخرج » للحافظ قاسم بن اصبغ القرطبی(م ۳۴۰؁ھ) (السیر ۱۵؍۴۷۲)،تذکرۃ الحفاظ (۳؍۸۵۴)۔
    ۴۱- « المستخرج » للحافظ ابی بکر احمد بن علی بن منجویہ( م ۳۲۸؁ھ) (السیر ۱۷؍ ۴۴۰)۔
    رجال ابی داود کے موضوع پر تصانیف
    ۴۲- « شيوخ أبي داود » : للحافظ ابی علی الحسین بن محمد الجیانی (م ۳۹۸؁ھ) (فہرسۃ ابن خیر ۲۲۱)۔
    ۴۳- « شيوخ أبي داود »: لمحمد بن اسماعیل بن محمد بن خلفون الازدی( م ۶۳۶؁ھ) (الذیل والتکملۃ ۶؍۱۳۰)۔
    ۴۴- « كنى المحدثين في سنن أبي داود »: لمحمد بن علی بن قاسم الجذامی (ملء العیبۃ لابن رشید)
    ۴۵- « رحمة الودود على رجال سنن أبي داود » : للشیخ رفیع الدین بہادرعلی الصدیقی الشکرانوی البھاری (م۱۳۳۸؁ھ) ( جھود مخلصۃ فی خدمۃ السنۃ المطہرۃ ص ۱۳۹)۔
    متفرق دراسات
    ۴۶- « ختم على سنن أبي داود » للحافظ السخاوی (م ۹۰۲؁ھ) (الضوء اللامع للسخاوی ۸؍۱۸)۔
    ۴۷- « ختم على السنن » للمحدث عبد اللہ سالم البصری( م۱۱۳۴؁ھ) (الامام ابوداود و کتابہ السنن ص ۷۸، للشیخ عبد اللہ البراک )۔
    جدید دراسات تحقیقات
    ۴۸- « المتروكون والمجهولون ومروياتهم في سنن أبي داود » : تالیف محمد صبران آفندی الاندونیسی (رسالۃ ماجستیر فی جامعۃ ام القری عام ۱۳۹۶؁ھ، دلیل الرسائل الجامعیۃ فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ،ص ۱۹۰ ) ۔
    ۴۹- « أبو داود السجستاني وأثره في علم الحديث » : تالیف معوض بن بلال العوفی (رسالۃ ماجستیر فی جامعۃ ام القری عام ۱۴۰۰؁ھ ، دلیل الرسائل الجامعیۃ فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ،ص ۱۸ )۔
    ۵۰- « المستخرج »: للشیخ فالح الشبلی، اس کتاب میں ابو داود کے جرح وتعدیل سے متعلق اقوال کو جمع کیا گیا ہے (یہ کتاب دار فواز الا حساء سے ۱۴۱۲؁ھ میں طبع ہوئی ہے)۔
    ۵۱- « ما سكت عنه الإمام أبو داود مما في إسناده ضعف » : تالیف محمد ہادی علی مدخلی (رسالۃ ماجستیر فی الجامعۃ الاسلامیۃ عام ۱۴۱۴؁ھ، دلیل الرسائل الجامعیۃ فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ)۔
    ۵۲- « حكم ما سكت عليه أبو داود » :للشیخ عبد الحمید ازہر (جہود مخلصۃ ص۳۱۱ )۔
    ۵۳- « زبدة المقصود في حل ما قال أبو داود » : للشیخ محمدطاہر الرحیمی (الامام ابوداود السجستانی وکتابہ السنن ص۷۳)۔
    ۵۴- « شرح كتاب السنة من سنن أبي داود » : تالیف عبد اللہ بن صالح البراک (رسالۃ ماجستیر جامعۃ الامام عام ۱۴۱۳؁ھ ، دلیل الرسائل الجامعیۃ فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ ط؍۲ ،۱۴۱۵ھ)۔
    ۵۵- « الإمام أبو داود السجستاني وكتابه السنن » : للشیخ عبد اللہ بن صالح البراک (اس کتاب کی پہلی طباعت ۱۴۱۴؁ھ میں ہوئی )۔
    ۵۶- « دراسة قيمة عن أبي داود وسننه » للدکتو ر محمد بن لطفی الصباغ (یہ مجلۃ البحوث الاسلامیۃ، عدد اول ۱۳۹۰؁ھ میں نشر ہوا ہے)۔
    ۵۷- « دراسة مستفيضة عن أبي داود وسننه وعن ابن رسلان وشرحه » : تالیف الدکتور محمدبن عبد الرحمن العمیر (شیخ محمد بن عبد الرحمن العمیر نے السنۃ و علومھا کے موضوع پر ۱۴۱۳؁ھ دکتورہ کا رسالہ تیار کیاہے)۔
    ۵۸- متعدد طلباء نے جامعۃ الامام کے کلیۃ اصول الدین میں شعبۂ دراسات علیا سے علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے ابن رسلان کی شرح کو اپنا موضوع بنایا، جیسا کہ اوپر گزرا۔
    ۵۹- جامعہ ازہر سے ابو داود پر ڈاکٹریٹ کے مقالات تیار کرائے گئے ہیں، جن میں ڈاکٹر عبدالعلیم بن عبدالعظیم البستوی کا بھی تحقیقی کام ہے۔
    سنن ابی داود کے تراجم
    ۱- الہدی المحمود فی ترجمۃ سنن ابی داود:للشیخ وحیدالزماں لکھنوی ثم حیدرآبادی( م ۱۳۳۸؁ھ)یہ ترجمہ اردو زبان میں ہے (اور یہ نواب صدیق حسن کی تحریک اور خواہش پر علامہ حیدرآبادی نے کتب ستہ اور موطأ کے تراجم کے سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر کیا تھا)۔
    ۲- مجلس علمی دار الدعوۃ کا یہ اردو ترجمہ وتعلیق وتحشیہ زیر نگرانی ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی جو آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔
    ۳- سنن ابی داود کے ہندی میں ترجمے کا کام بھی دار الدعوۃ میں ہو رہا ہے۔
    ۴- انگریزی ترجمہ، ڈاکٹر احمد حسن طونکی (م۱۴۱۷؁ھ) ۔
    سنن ابی داود کے ہندستانی ایڈیشن
    صحاح ستہ کے مختلف ایڈیشن مختلف مقامات سے شائع ہوتے رہے ہیں، بالخصوص ہندوستان میں ان کتابوں کی طباعت واشاعت ، اور ان کی تدریس کا کام مسلسل ہوتا رہا ہے، اسی اہمیت کے پیش نظر یہاں پر ہم سنن ابی داود کے ہندوستان میں شائع ہونے والے نسخوں کا اجمالاً تذکرہ کررہے ہیں:
    ۱- پہلا ہندستانی ایڈیشن : مولانا حافظ محمد ابراہیم کے حاشیہ سے مطبعہ منشی نول کشور لکھنو میں ۱۲۹۳؁ھ مطابق ۱۸۷۶؁ء شائع ہوا، مقدمہ میں ابوداود کا رسالہ مکیہ بھی موجود ہے، اور متن کے تین طرف مختلف شروح سے مأخوذ حواشی ہیں ، ا ور یہ بڑے سائز کے ۳۶۱ صفحات پر مشتمل ہے۔
    ۲- دوسر۱ ایڈیشن:۱۲۸۳؁ھ میں حواشی کے ساتھ دو حصوں میں شائع ہوا۔
    ۳- تیسرا ایڈیشن :ایک جلد میں مع حواشی دہلی میں ۱۸۹۰؁ میں شائع ہوا، صفحات کی تعداد ۱۶۸ہے۔
    ۴- چوتھا ایڈیشن: ایک جلد میں ۱۸۴۰؁ء میں لکھنو سے شائع ہوا۔
    ۵- پانچواں ایڈیشن:۱۸۷۷؁ء- ۱۸۷۸؁ء میں لکھنو سے شائع ہوا۔
    ۶- چھٹا ایڈیشن :۱۳۰۵ ؁ھ میں لکھنو سے شائع ہوا۔
    ۷- ساتواں ایڈیشن: ۱۳۸۱؁ھ میں حیدرا آباد سے صفحات کی تعداد ۳۹۳ ہے۔
    ۸- آٹھواں ایڈیشن: ۱۳۱۸؁ھ میں مولانا ابو الحسنات محمد پنجابی کی شرح کے ساتھ لکھنو سے شائع ہوا۔
    ۹- نواں ایڈیشن :۱۳۲۳؁ھ میں شرح عون المعبود کے ساتھ چار حصوں میں مطبع انصاری دہلی سے شائع ہوا۔
    اس کے مقابلہ میں سنن ابو داود کے متعدد نسخے بلاد عربیہ میں شائع ہوئے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
    ۱- ۱۲۸۰ ؁ ھ میں شیخ نصر الہورینی نے دو حصوں میں مطبعہ کاسٹیلیا ، مصر سے شائع کیا۔
    ۲- ۱۳۷۱ ؁ھ میں مصطفی بابی حلبی نے دو حصوں میں شائع کیا، واضح رہے کہ محققین نے عون ا لمعبود سے استفادہ کیا، اور اسے سب سے صحیح اور معتمد نسخہ قرار دیا۔
    ۳- شیخ محمد حامد الفقی نے ۱۹۵۰؁ء مختصر سنن ابی داود للمنذری مع تہذیب السنن لابن القیم کو شائع کیا۔
    ۴- شیخ محمد محی الدین بن عبدالحمیدنے اپنی تحقیق سے چار حصوں میں ۱۳۵۴؁ ھ میں مصر سے شائع کیا۔
    ۵- ۱۳۹۴؁ ھ میں عزت عبید الدعاس ،اور عادل السید نے شام سے پانچ حصوں میں شائع کیا، واضح رہے کہ اس ایڈیشن کے محققین نے لکھنو کے ۱۸۹۵؁ ء میں طبع شدہ نسخے سے فائد اٹھایا ہے۔
    فی زماننا بلاد عربیہ سے اسلامی مراجع ومصادر کی اشاعت کا کام بڑی اہمیت اختیار کرگیاہے، اس کے مقابلہ میں برصغیر میں اسلامی ثقافت اور عربی زبان وادب کے مراجع ومصادر کی اشاعت میں اب وہ زور نہیں جس کے لئے یہ علاقہ ۱۳ ویں اور ۱۴ ویں صدی میں مشہور تھا، فالله المستعان وإليه المشتكى!۔
    سنن ابی داود کے نئے ایڈیشن
    اس وقت عالم اسلام میںسنن کے بہت سارے نسخے رائج ہیں، جن میں شروح ابی داود کے علاوہ متداول اور نئے ایڈیشنوں میں مندرجہ ذیل نسخے مروج ہیں: ۱- تحقیق محی الدین عبدالحمید ، ۲- تحقیق عزت عبید الدعاس، ۳- تحقیق دار السلام ریاض، ۴-تحقیق محمد عوامۃ، ۵- تحقیق شیخ مشہور حسن سلمان جس میں البانی صاحب کی ’’تصحیحات وتضعیفات‘‘ کو اصل سنن کی احادیث کے ساتھ دے دیا گیا ہے، اور یہ دار المعارف ریاض سے حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔
    احادیث سنن کی تعداد: اس مجموعہ کی ترتیب وتالیف کا کام امام صاحب نے اپنی بغداد کی آمد یعنی ۲۲۰ھ؁ سے پہلے شروع کردیا تھا، اور اسے پانچ لاکھ احادیث کے ذخیرہ سے منتخب کیا ، اس کے بعد اسے اجزاء، کتب اور ابواب میں تقسیم کیا۔
    کتاب السنن میں امام ابوداود کے قول کے مطابق (۴۸۰۰) یا اس کے لگ بھگ احادیث ہیں، اور ان احادیث کو (۳۵) کتابوں کے فقہی ابواب میں تقسیم کردیا ہے۔
    واضح رہے کہ مطبوعہ نسخوں میں احادیث کی تعداد طرق حدیث کے مستقل نمبرات کی وجہ سے مذکورہ تعداد سے زیادہ ہے۔
    کتاب السنن اہل فن کی نظرمیں
    کتاب السنن کی اہمیت وافادیت اہل فن کے نزدیک مسلم ہے،امام ابوداود نے سب سے پہلے اپنی اس تالیف کو اپنے استاذ امام احمد بن حنبل پر پیش کیا ، تو انہوں نے انتہائی خوشی کا اظہار فرما یا اور بہت پسند کیا ، خطیب بغدادی فرماتے ہیں : ’’كان أبو داود قد سكن البصرة، وقدم بغداد غير مرة، وروى كتابه المصنف في السنن بها ونقله عنه أهلها، ويقال : إنه عرضه على أحمد بن حنبل فاستجاده واستحسنه‘‘ (تاریخ بغداد ۹؍۵۶)، ابو داود نے بصرہ میں سکونت اختیار فرمائی، اور بغداد کئی بارتشریف لئے آئے، اور وہاں پر اپنی سنن کی روایت کی ، اہل بغداد نے آپ سے سنن کو نقل کیا، کہا جاتا ہے کہ آپ نے کتاب السنن بہت پہلے تصنیف فرمائی، اور احمد بن حنبل پر پیش کیا جسے آپ نے پسند فرمایا، اور داد تحسین دی (تاریخ بغداد ۹؍۵۶) ۔
    محدث زکریا الساجی فرماتے ہیں: ’’كتاب الله عز وجل أصل الاسلام، وكتاب السنن لأبي داود عهد الإسلام‘‘. (کتاب اللہ اصل دین اسلام ہے، اور سنن ابو داود اسلام کا عہد )۔
    سنن کی افادیت کے بارے میں ابو داود کے شاگرد حافظ محمد بن مخلد م ۳۳۱ھ؁ فرماتے ہیں :’’لما صنف كتاب السنن وقرأه على الناس صار كتابه لأهل الحديث كالمصحف يتبعونه ولا يخالفونه وأقر له أهل زمانه بالحفظ والتقدم فيه ‘‘ (تہذیب الکمال ۱۱؍ ۳۶۵) جب اما م ابو داود نے سنن کو تالیف کر کے لوگوں پر پڑھا تو یہ اہل حدیث کے نزدیک مصحف کی حیثیت اختیا ر کرگئی، وہ اس کی اتباع کیا کرتے تھے اور اس کی مخالفت نہیں کرتے تھے، اہل عصر نے آپ کے حفظ حدیث اور اس میں تقدم کا اعتراف کیا۔
    سنن کے بارے میں حافظ ابن حزم ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ: حافظ سعید بن سکن صاحب الصحیح ۳۵۳ھ؁ کی خدمت میں اصحاب حدیث کی ایک جماعت حاضرہوئی، اور عرض کیا کہ ہمارے سامنے احادیث کی بہت سی کتابیں آگئی ہیں،آپ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی کچھ ایسی کتا بوں کی طرف کر یں جن پر ہم اکتفا کرسکیں تو حافظ ابن السکن نے یہ سن کر کچھ جواب نہیں دیا،بلکہ اٹھ کر سید ھے گھر تشریف لے گئے ،اور کتابوں کے چار بستہ لا کر اوپر تلے رکھ دیئے ، اور فرمانے لگے : ’’هذه قواعد الإسلام: ’’كتاب مسلم، وكتاب البخاري، وكتاب أبي داود، وكتاب النسائي‘‘ ، ’’یہ اسلام کے بنیادی مراجع ہیں: صحیح مسلم، صحیح بخاری، سنن ابو داود، سنن نسائی‘‘۔
    اور امام خطابی ( م۳۸۸ھ؁ ) کہتے ہیں : ’’إن كتاب السنن لأبي داود كتاب شريف لم تصنف في علم الدين كتاب مثله، وقد رزق القبول من الناس كافة فصار حكما بين فرق العلماء وطبقات الفقهاء على اختلاف مذاهبهم فلكل فيه ورود، منه شرب، وعليه معول أهل العراق، وأهل مصر، وبلاد المغرب، وكثير من مدن أقطار الأرض، فأما أهل خراسان فقد أولع أكثرهم بكتاب محمد بن إسماعيل ومسلم بن الحجاج ومن نحا نحوهما في جمع الصحيح على شرطهما في السبك والانتقاد‘‘.(ابو داود کی کتاب السنن محترم کتاب ہے، علم دین میں اس کے مثل کوئی کتاب تصنیف نہیں کی گئی ، سارے لوگوں کے یہاں یہ مقبول ہے، اور تمام مذاہب کے فقہاء ،اور علماء کے یہاں اس کوحکم کا درجہ حاصل ہے، ہر ایک کے لئے یہ مرجع ہے، جس سے وہ سیراب ہوتا ہے، عراق ، مصر اور بلاد مغرب نیز سارے دنیا کے ممالک کا اس پر دار و مدار ہے، اہل خراسان کی اکثریت بخاری ومسلم اور ان کے نقش قدم پر اور ان کی شرطوں کے مطابق احادیث صحیحہ کے جامعین سے زیادہ شغف رکھتے ہیں)۔
    امام حاکم نیساپوری نے سنن ابی داود کو صحیح کہا ہے ۔
    امام ابوداود کا اپنا بیان ہے کہ میر ے خیال میںقرآن پاک کے بعد جتنا اس کتاب سنن ابی داودکو سیکھنا لوگوں پر لازم ہے، اتنا کسی او رچیز کا نہیں ، اگر کوئی شخص اس کتاب کے علاوہ کوئی اور علم نہ سیکھے تو وہ خاسرنہیں ہوگا، او رجو اس کو دیکھے سمجھے اور اس میں غور کرے گا تو اس کو اس کی قدر معلوم ہو جائے گی ۔
    مزید فرماتے ہیں: ’ ’وقد جمع أبوداود في كتابه هذا من الحديث في أصول العلم وأمهات السنن وأحكام الفقه ما نعلم متقدما سبقه إليه ومتأخراً لحقه فيه‘‘ (ابو داود نے اس کتاب میں اصول علم ا ور سنن کے بنیادی مسائل ، اور فقہی احکام اس طرح جمع کردیئے ہیں کہ نہ تو کسی متقدم نے ایسا کیا، اور نہ ہی کوئی بعد کا آدمی ایسا کرسکا)۔
    کتا ب السنن کا منہج اور مؤلف کی شرط
    امام ابوداود نے اہل مکہ کے نام اپنے مکتوب میں کتاب السنن کے منہج اور طریقہ ٔ تالیف پرمفصل روشنی ڈالی ہے، ذیل میں ہم اس کے کچھ فقرات آپ کے منہج وطریقۂ تالیف کو بیان کرنے کے لئے نقل کررہے ہیں:
    ۱- میں نے ہر باب میں صرف ایک یا دو حدیثیں نقل کی ہیں، گو اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں موجود ہیں، اگر ان سب کو میں ذکر کرتا تو ان کی تعداد کافی بڑھ جاتی، اس سلسلہ میں میرے پیش نظر صرف قرب منفعت رہاہے۔
    ۲- اگر کسی روایت کے دویا تین طرق سے آنے کی وجہ سے میں نے کسی باب میں اسے مکرر ذکرکیا ہے تو اس کی وجہ صرف سیاق کلام کی زیادتی ہے ، بسا اوقات بعض سندوں میں کوئی لفظ زائد ہوتاہے جو دوسری سند میں نہیں ہوتا ، اس زائد لفظ کو بیان کرنے کے لئے میں نے ایسا کیا ہے۔
    ۳-بعض طویل حدیثوں کو میں نے اس لئے مختصر کردیا ہے کہ اگر میں انہیں پوری ذکر کرتا تو بعض سامعین (وقراء) کی نگاہ سے اصل مقصد اوجھل رہ جاتا، اور وہ اصل نکتہ نہ سمجھ پاتے، اس وجہ سے میں نے زوائد کو حذف کرکے صرف اس ٹکڑے کو ذکر کیا ہے ، جو اصل مقصد سے مناسبت ومطابقت رکھتا ہے۔
    ۴- کتاب السنن میں میں نے کسی متروک الحدیث شخص سے کوئی روایت نہیں نقل کی ہے، اور اگر صحیح روایت کے نہ ہونے کی وجہ سے اگر کسی باب میں کوئی منکر روایت آئی بھی ہے، تو اس کی نکارت واضح کردی گئی ہے۔
    ۵- میری اس کتاب میں اگر کوئی روایت ایسی آئی ہے جس میں شدید ضعف پایا جاتاہے تو اس کا یہ ضعف بھی میں نے واضح کردیا ہے، اور اگر کسی روایت کی سند صحیح نہیں اور میں نے اس پرسکوت اختیار کیا ہے تو وہ میرے نزدیک صالح ہے، اور نسبتہً ان میں بعض بعض سے اصح ہیں۔
    ۶- اس کتاب میں بعض روایتیں ایسی بھی ہیں جو غیر متصل، مرسل اور مدلس ہیں، بیشتر محدثین ایسی روایتوں کو مستند و معتبر مانتے ہیں اور ان پر متصل ہی کا حکم لگاتے ہیں۔
    ۷- میں نے کتاب السنن میں صرف احکام کی حدیثوں کو شامل کیا ہے اس میں زہد اور فضائل اعمال وغیرہ سے متعلق حدیثیں درج نہیں کیں، یہ کتاب کل چارہزار آٹھ سو احادیث پرمشتمل ہے، جو سب کی سب احکام کے سلسلہ کی ہیں۔
    احادیث سنن ابی داود صحت وضعف کے اعتبار سے
    حافظ ابوعبد اللہ محمد بن اسحاق بن مندہ کا بیان ہے: ’’ ابوداود اورنسائی دونوں کی شرط ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی روایت کی تخریج کرسکتے ہیں جن کے متروک ہونے پر علماء کا اجماع نہ ہو بشرطیکہ حدیث کی سند متصل ہو اس میں انقطاع اور ارسال واقع نہ ہو ‘‘ (شروط ابن مندہ)۔
    اس سلسلہ میں خود امام ابو داود فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی روایت ذکرنہیں کی ہے جس کے متروک ہونے پر لوگوں کا اتفاق ہو‘‘۔
    آپ کے اس بیان میں صراحت ہے کہ کتاب ’’ السنن‘‘ میں ضعیف احادیث موجود ہیں، بلکہ ایسی روایات بھی ہیں جو بہت زیادہ کمزور ہیں، اور ان کے ضعف کو انہوں نے کھول کر بیان کردیاہے۔
    احادیث سنن ابی داود بقاعی کی نظر میں:
    امام بقاعی ابو داود کے مذکورہ بالا قول : ( جو ان کے مکتوب بنام اہل مکہ میں موجود ہے) کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ان کے اس قول کی روسے سنن میں وارد احادیث کی پانچ قسمیں بنتی ہیں:
    ۱- صحیح جس سے انہوں نے صحیح لذاتہ مراد لیاہوگا۔
    ۲- صحیح کے مشابہ جس سے ان کی مراد صحیح لغیرہ ہوگی۔
    ۳- درجہ صحت کے قریب غالباً اس سے وہ حسن لذاتہ مراد لیتے ہوں گے۔
    ۴- جس میں شدید ضعف ہو۔
    ۵- ان کے اس قول: ’’وما سكتت عنه فهو صالح‘‘ (جن احادیث پر میں نے سکوت اختیار کیا ہے وہ صالح ہیں) سے سنن میں وارد احادیث کی ایک پانچویں قسم ان احادیث کی سمجھی جاتی ہے جو بہت زیادہ کمزور نہ ہوں،اس قسم کی روایتیں اگر تائید و تقویت سے محروم ہوں تو وہ صرف اعتبار کے قبیل سے ہیں ۔
    ۶- لیکن اگر انہیں کسی کی تائید و تقویت مل جائے تو بحیثیت مجموعی وہ ’’حسن لغیرہ‘‘ کے درجہ پر آجاتی ہیں، اور استدلال واحتجاج کے لائق بن جاتی ہیں، اس طرح ایک چھٹی قسم بھی وجود میں آجاتی ہے۔
    احادیث سنن ابی داود امام ذہبی کی نظر میں:
    امام ذہبی کابیان ہے کہ ابوداود کی کتاب میں وارد احادیث کے مختلف درجے ہیں، آپ نے ابن داسہ کا یہ قول نقل کیا کہ’’میں نے ابو داود کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے اپنی سنن میں صحیح اور اس سے قریب کی احادیث ذکر کی ہیں، اور اگر ان میں شدید ضعف ہے تو میں نے اس کو بیان کر دیا ہے‘‘، ذہبی کہتے ہیں: ’’میں کہتا ہوں: امام رحمہ اللہ نے اپنے اجتہاد کے مطابق اسے پورا پورا بیان کیا اور شدید ضعف والی احادیث کو جس کا ضعف قابل برداشت نہیں تھا بیان کردیا، اور قابل برداشت خفیف ضعف سے اغماض برتا، تو ایسی حالت میں آپ کے کسی حدیث پر سکوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ حدیث آپ کے یہاں حسن کے درجے کی ہو،بالخصوص جب ہم حسن کی تعریف پر اپنی جدید اصطلاح کا حکم لگائیں جو سلف کے عرف میں صحیح کی اقسام میں سے ایک قسم کی طرف لوٹتی ہے، اور جمہور علماء کے یہاں جس پر عمل واجب ہوتا ہے، یا جس سے امام بخاری بے رغبتی برتتے ہیں اور امام مسلم اسے لے لیتے ہیں، وبالعکس، تو یہ مراتب صحت کے ادنی مرتبہ میں ہے، اور اگر اس سے بھی نیچے گر جائے تو احتجاج واستدلال کی حد سے خارج ہوجاتی، اور حسن اور ضعیف کے درمیان متجاذب قسم بن جاتی ہے، تو ابو داود کی کتاب السنن میں:
    ۱- سب سے اونچا درجہ ان روایات کا ہے جن کی تخریج بخاری ومسلم دونوں نے کی ہے، اور جو تقریباً نصف کتاب پر مشتمل ہے۔
    ۲- اس کے بعد وہ حدیثیں ہیں جن کی تخریج بخاری ومسلم (شیخین) میں سے کسی ایک نے کی، اور دوسرے نے نہیں کی ہے۔
    ۳- پھر اس کے بعد وہ روایات ہیں جن کو بخاری ومسلم (شیخین) نے روایت نہیں کیا، اور وہ جید الاسناد ہیں اور علت وشذوذ سے محفوظ ہیں۔
    ۴- پھر وہ روایات ہیں جس کی اسناد صالح ہے، اور علماء نے ان کو دو یا اس سے زیادہ ضعیف طرق سے آنے کی وجہ سے قبول کر لیا ہے کہ ان میں سے ہر سند دوسرے کے لئے تقویت کا باعث ہے۔
    ۵- پھراس کے بعد وہ احادیث ہیں جن کی سندوں کا ضعف رواۃ کے حفظ میں کمی کی وجہ سے ہے، ایسی احادیث کو ابو داود قبول کر لیتے ہیں اور اکثر اس پر سکوت اختیار فرماتے ہیں۔
    ۶- ان کے بعد سب سے آخری درجہ ان احادیث کا ہے جن کے رواۃ کا ضعف واضح ہوتاہے، ایسی روایتوں پر وہ عام طور سے خاموش نہیں رہتے ہیں، ان کا ضعف ذکر کردیتے ہیں۔
    ۷- اور اگرکبھی خاموش رہتے بھی ہیں تو اس کی وجہ اس کے ضعف کی شہرت و نکارت ہوتی ہے، واللہ اعلم‘‘ (السیر ۱۳؍ ۲۱۴- ۲۱۵)۔
    سکوت ابی داود پر حافظ ابن حجر کی رائے:
    امام ابوداود کا بعض احادیث پرسکوت کبھی اس وجہ سے ہوتاہے کہ وہ حدیث زیادہ ضعیف نہیں ہوتی، اور کبھی ضعیف روایت پروہ اس لئے سکوت فرماتے ہیں کہ اس روایت کا ضعف بہت مشہور ومعروف ہوتاہے۔
    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : اس سے ان لوگوں کے طریقہ کا ضعف ظاہرہوتاہے جو امام ابوداود کی ہر اس حدیث کو لائق استدلال جانتے ہیںجس پر آپ نے سکوت اختیار کیا ہے،آپ ابن لہیعہ، صالح مولیٰ توأمہ،عبداللہ بن محمد بن عقیل،موسیٰ بن وردان،سلمہ بن فضل اور دلہم بن صالح جیسے کمزور راویوں کی حدیثوں کی تخریج کرتے ہیں، اور ان پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لہذا ناقد حدیث کے لئے قطعاً یہ روا نہیں کہ وہ ان روایتوں پر سکوت کے معاملے میں امام ابوداود کی تقلید کرے اور احتجاج واستدلال میں ان کی متابعت کرے، بلکہ ایسی روایتوں کے متعلق اس کا وطیرہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ خود ان میں غور کرے اور دیکھے کہ کیا ان کا کوئی متابع موجود ہے جس سے ان کو تائید و تقویت ملتی ہو، یا وہ منفرد وغریب ہیں تا کہ اس کے بارے میں توقف کیاجائے، خاص کر جب وہ اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی روایت کے مخالف ہوں تو وہ یقینا اپنے درجے سے گرکر منکر کے قبیل سے ہوجائیں گی۔
    ابو داود نے بسا اوقات ان سے بھی زیادہ ضعیف راویوں مثلاً حارث بن وجیہ، صدقہ دقیقی، عثمان بن واقد عمری، محمد بن عبدالرحمن بیلمانی، ابوجناب کلبی، سلیمان بن ارقم اور اسحاق بن عبداللہ بن فروہ جیسے متروکین کی روایتوں کی تخریج کی ہے۔
    اسی طرح اس کتاب میں بہت سی حدیثیں ایسی ہیں جن کی سندیں منقطع ہیں، یا ان کے رواۃ مدلس ہیں، اور وہ طریق حسن سے روایت کرتے ہیں یا ان کے رواۃ کے ناموں میں ابہام ہے ایسی تمام روایتوں پرمحض اس وجہ سے حسن کا حکم لگانا کہ امام ابوداود نے ان پر کوئی کلام نہیں کیا ہے درست نہیں، کیوں کہ:
    ۱- وہ کبھی اس لئے بھی سکوت اختیار کرتے ہیں کہ وہ اس سے پہلے راوی پر خود اپنی اس کتاب میں تفصیل سے کلام کرچکے ہوتے ہیں، بنابریں وہ سابقہ کلام پر اکتفا کرتے ہیں اس کے اعادہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔
    ۲- کبھی آپ کا سکوت غفلت و نسیان کے سبب ہوتاہے۔
    ۳- اور کبھی اس لئے ہوتاہے کہ راوی کا ضعف بہت واضح ہوتاہے اس کے متروک الحدیث ہونے پر ائمہ میں اتفاق پایا جاتاہے جیسے ابوالحویرث اور یحییٰ بن العلاء وغیرہم ۔
    ۴- اور کبھی جو لوگ امام ابوداود سے روایت کرتے ہیں ان کے اختلاف کے سبب ایسا ہوتاہے اور ایسا بہت ہے، مثال کے طورپر ابوالحسن بن العبد کا روایت کردہ نسخہ ہے، اس کے بہت سے راویوں اورسندوں میں کلام ہے جو لؤلؤی کے نسخہ میں نہیں ہے گو یہ نسخہ اس سے مشہور ہے۔
    ۵- اور کبھی سنن کے علاوہ دوسری تصنیفات میں اس حدیث کے ضعف پرتفصیلی گفتگو کرتے ہیں اورسنن میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔
    سکوت ابی داود پر محدث عصر علامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کا جامع تبصرہ :
    علامہ البانی نے صحیح وضعیف ابی داود کے مقدمہ میں ابو داود کے سکوت سے متعلق جوتفصیل بیان کی ہے وہ درج ذیل ہے:
    علم حدیث کے خدام کے ما بین یہ مشہور ہے کہ جن احادیث پر امام ابوداود نے اپنی سنن میں سکوت فرمایا، اورکوئی جرح نہیں کی ہے تووہ قابل استناد اور لائق استدلال ہیں، اس شہرت کا سبب خود امام موصوف ہیں، جن کی عبارتوں اور الفاظ کا یہ خلاصہ ہے، بلکہ بعض اقوال تو منصوص و صریح ہیں، میرے پاس اس موضوع پر امام موصوف کے چار اقوال ہیں، جن کو یہاں ذکر کرکے اپنی فہم کے مطابق اس مسئلہ پرگفتگو کروں گا، اور اپنی رائے کی تائید میں ائمہ کے اقوال پیش کروں گا۔
    ۱- امام ابوداود سنن کے بارے میں اہل مکہ کے نام اپنے مشہور رسالہ میں فرماتے ہیں : میری کتاب سنن میں کوئی راوی متروک الحدیث نہیں ہے، اگر کوئی حدیث منکر ہے تو میں نے اس کا منکر ہونا واضح کردیا ہے، اور اس باب میں اس موضوع پر اس طرح کی اس کے علاوہ اورکوئی حدیث نہیں ہے، پھر فرمایا : ’’وما كان في كتابي من حديث فيه وهن شديد فقد بينته، وما لم أذكر فيه شيئًا فهو صالح وبعضها أصح من بعض‘‘ ۔
    میری کتاب میں موجود احادیث میں اگر شدید ضعف اور کمزوری ہے، تو میں نے اس کو واضح کردیا ہے، اورجن احادیث میں میں نے کچھ کلام نہیں کیا ہے تو وہ صالح ہیں، اور بعض احادیث بعض سے زیادہ صحیح ہیں۔
    ۲- اور فرمایا: ’’رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے ۵ لاکھ احادیث لکھی ہیں جن کے انتخاب پر یہ سنن مشتمل ہے، اس میں میں نے ۴ ہزار آٹھ سو احادیث جمع کی ہیں، ’’ذكرت الصحيح وما يشبهه وما يقاربه‘‘ اس میں صحیح اور اس کے مشابہ اور قریب احادیث ذکر کی ہیں (تاریخ بغداد : ۹؍۵۷)۔
    ۳- ’’ و روی عنہ انہ : یذکر فی کل باب اصح ما عرفہ فیہ‘‘ آپ سے منقول ہے کہ آپ نے ہرباب میں صحیح ترین احادیث ذکر کی ہیں، (الباعث الحثیث فی اختصار علوم الحدیث (۳۰)۔
    ۴- ’’ ویروی عنہ انہ قال: ’’وما سكتُّ عنه فهو حسن‘‘ یہ بھی منقول ہے کہ جس حدیث پر میں نے سکوت کیاہے وہ حسن ہے۔ (الباعث الحثیث )
    آخری قول( بشرط صحت) سکوت ابوداود سے استدلال کی شہرت کے باب میں صریح اور واضح ہے۔
    پہلے کے دونوں اقوال میں اس مسئلہ سے تعرض نہیں ہے، ہاں ! دوسرے قول سے آخری قول کو تقویت ہوسکتی ہے، اس لئے کہ صحیح کے مشابہ اور قریب حدیث حسن ہی ہے، اور امام ابوداود جن احادیث پر کلام کریں یا جن کی تعلیل بیان فرمادیں وہ حسن کے قبیل سے نہیں ہے كما لا يخفى.

    پہلی روایت میں ’’وهن شديد‘‘ (شدید کمزوری) کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس حدیث میں زیادہ ضعف نہیں ہوگا امام ابوداود اس کو بیان نہیں کریں گے۔
    اس مفہوم مخالف کو مراد لے لینے کی صورت میں اس کے درمیان اور اس قول صریح: ’’وما له لم اذكر فيه شيئاً فهو صالح ’’(جس حدیث پر میں کچھ کلام نہ کروں وہ صالح ہے)کے مابین تطبیق دینے کی ضرورت ہے، تو یا یہ کہاجائے کہ اس مفہوم مخالف کا کوئی اعتبار ولحاظ نہیں ہے کیوں کہ یہ منطوق کے مخالف ہے، اور یہ (مفہوم مخالف ) ہمارے یہاں ضعیف اور مرجوح ہے، دونوں اقوال کے ما بین تطبیق وتوفیق یوں ممکن ہے کہ ابوداود کے یہاں ’’صالح ‘‘ میں وہ ضعیف احادیث شامل ہوں، جن کا ضعف شدید نہ ہو تو ایسی صورت میں منطوق اور مفہوم کے مابین کوئی تعارض نہیں، اور بڑے غوروفکر کے بعد یہ ایسی بات ہے جس پرنفس کو اطمینان اور دل کو انشراح ہوتاہے، حافظ ابن حجر کا میلان بھی اسی طرف ہے، فرماتے ہیں : ابوداود کے کلام میں ’’ صحیح‘‘ کا لفظ عام ہے کہ وہ استدلال وحجت کے لئے ہے یا اعتبار کے لئے، تو حدیث کے حسن پھر صحیح کے درجہ تک پہنچنے کی صورت میں لفظ’’صالح‘‘ سے استدلال وحجت کا معنی مراد ہوگا، اور جو حدیث صحیح وحسن کے درجہ کو نہ پہنچے تو وہ دوسرے معنی میں یعنی اعتبار کے قبیل سے ہے، اور جو (ان دونوں قسموں ) سے پیچھے رہ جائے تو وہ ایسی حدیث ہے جس میں ’’ضعف شدید‘‘ ہے۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی یہ اچھوتی تحقیق ہے، اور علم حدیث میں صحیح نقدونظر سنن ابی داود میں ا ن چار اقسام کے وجود کی شاہد ہے ، اور ان احادیث میں سے سندا ً کمزور و واہی اور واضح کمزور احادیث ہیں جن پر امام ابوداود نے سکوت فرمایا، یہاں تک کہ امام نووی -رحمہ اللہ- نے بعض احادیث کے بارے میں فرمایا:
    ’’ امام ابوداود نے اس کے ضعف کی صراحت اس واسطے نہیں فرمائی کہ اس کاضعف ظاہرہے‘‘۔
    حافظ منذری ترغیب وترہیب کے مقدمہ (۱؍۸) میں فرماتے ہیں کہ ’’ ابوداود نے حدیث کی تضعیف پر سکوت اختیار کرکے جو تساہل کیا ہے املاء کے وقت اکثر احادیث پر جو یاد آگیا تو میں اس پر متنبہ کروں گا۔
    پھر فرمایا: ’’ہر حدیث جس کی نسبت میں نے ابوداود کی طرف کی، اور اس پرسکوت کیا تو ویسے ہی ہے جیسے ابوداود نے ذکر کیا، اور یہ احادیث درجہ ٔ حسن سے کم درجہ کی نہیں ہیں، ہوسکتاہے کہ شیخین یا کسی ایک کی شرط پر ہوں‘‘ ۔
    اس بنا پر حافظ ابن الصلاح نے مقدمۂ علوم حدیث میں پہلے تین اقوال کے تذکرہ کے بعد مندرجہ ذیل جو بات کہی ہے وہ بظاہر درست نہیں ہے، فرماتے ہیں:’’ اس بناء پر آپ کی کتاب السنن میں مذکور احادیث جو صحیحین میں سے کسی میں موجود نہیں اور نہ تصحیح و تحسین کرنے والے اہل علم نے ان کی صحت پر تنصیص فرمائی ہے، ہمیں ایسی احادیث کے بارے میں معلوم ہواکہ یہ ابوداود کے یہاں حسن کے درجہ میں ہیں، اور ان میں بعض وہ احادیث بھی شامل ہوں گی جو نہ ان کے علاوہ کے یہاں حسن ہوں گی، اور نہ سابقہ حسن کے ضابطہ (جس کی ہم نے تحقیق کی ہے) کے تحت ان کا اندراج ہوگا‘‘۔
    ہمارے پاس اس مسئلہ میں ابوداود کا کوئی قول ایسا نہیں ہے جو ابن صلاح کے مذہب کے لئے دلیل بن سکے، صرف آخری قول ہے جس کی صحت کا ہمیں علم نہیں ہے، حتی کہ خود ابن صلاح نے اس کو اپنی کتاب میں ذکر کرنے سے اعراض کیا ہے، ظاہر ہے کہ ابن الصلاح نے ابوداود کے منطوق وصریح قول ( فھو صالح) پر اعتماد کیا ہے، اور اس کے سابق الذکر مفہوم کی طرف التفات نہیں کیا، سابقہ بیان کی روشنی میں ابن الصلاح کی طرف سے یہ بات درست نہیں ہے،اور اس لئے بھی کہ خود ابن الصلاح نے حافظ ابن مندہ سے یہ نقل کیا ہے: ’’كان أبوداود يخرج الإسناد الضعيف إذا لم يجد في الباب غيره، لأنه أقوى عنده من رأي الرجال‘‘ (ابوداود جس باب میں ضعیف اسناد کے علاوہ کچھ اور نہیں پاتے تھے تو ضعیف اسناد کی تخریج کرتے تھے، اس لئے کہ یہ ان کے نزدیک آراء رجال سے قوی ترہے)۔
    اوراسی لئے کئی محقق علماء نے ابن الصلاح کی تردید کی ہے، چنانچہ ابن کثیر دمشقی مختصر علوم حدیث میں آپ پر تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں :
    ’’ میں کہتاہوں کہ ابوداود سے سنن کی بہت ساری روایات ہیں،بعض نسخوں میں کچھ کلام پایا جاتا ہے،بلکہ کچھ احادیث ایسی پائی جاتی ہیں جو دوسری روایتوں میں نہیں ہوتیں، ابوعبید آجری کی کتاب جو جرح وتعدیل اور تصحیح وتعلیل کے مباحث سے متعلق ابوداود سے سوالات پرمشتمل ہے، یہ ایک مفید کتاب ہے، ان سوالات میں وہ احادیث و رجال سند ہیں، جن کا ذکر ابو داود نے اپنی سنن میں کیا ہے، پس ابوداود کے اس قول : « وما سكتُّ عليه فهو حسن» ’’جس حدیث پر میں نے سکوت اختیار کیا وہ صالح ہے‘‘ پر انتباہ اور تیقظ کی ضرورت ہے۔
    مناوی فیض القدیر میں ابوداود کے پہلے قول کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ذہبی نے فرمایا: ابوداود نے وعدہ پوراکیا ، اور ظاہری ضعف کو بیان کردیا، اور تصحیح یا تضعیف کی حامل احادیث پر سکوت فرمایا، تو جن احادیث پر سکوت فرمایا وہ ان کے یہاں حسن نہ ہوں گی، بلکہ جیساکہ ابن صلاح وغیرہ کا گمان ہے: لا بدی طورپر ان میں ضعف ہوسکتاہے، اس بات کو ابن مندہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں (جیسے کہ پہلے گزرا ) مناوی نے آگے فرمایا: ابن عبدالہادی کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ ابوداود کا سکوت قابل استدلال واحتجاج ہے، اور یہ کہ یہ ابوداود کے یہاں حسن ہے، جو چیز ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ جن احادیث پر ابوداود نے سکوت فرمایا ہے اور وہ صحیحین میں نہیں ہیں، ان کی اقسام اس طور پر ہیں کہ ان میں لائق استدلال صحیح احادیث ہیں اور ایسی ضعیف احادیث جو تنہا و مستقلاً قابل استدلال نہیں، اور ان دونوں کے درمیان کی ایک قسم تو سنن ابو داود میں احادیث کی ۶؍یا ۸؍ اقسام ہیں:
    ۱- صحیح لذاتہ ۲- صحیح لغیرہ یہ دونوں قسمیں ضعف سے خالی ہیں۔
    ۳- شدید ضعف والی احادیث ۴- ایسی احادیث جن کا ضعف شدید نہیں۔
    ۵- ان دونوں قسموں میں سے وہ احادیث جن کے ضعف کو پورا کرنے کے لئے باہر سے احادیث موجود ہوں۔
    ۶- اور ایسی احادیث جن کی تقویت کے لئے احادیث موجود نہ ہوں۔
    ۷- ان دونوں قسموں سے پہلی دو قسمیں ایسی احادیث کی ہیں جن کا ضعف امام ابوداود نے خود بیان کردیا ہے۔
    ۸- اور جن کا وہن (ضعف ) بیان نہیں کیا ہے‘‘۔
    البانی صاحب کہتے ہیں:یہ تقسیم صحیح ہے،اس بیان سے واضح ہوگیا کہ ابوداود کا ہرسکوت ان کے نزدیک قابل استدلال حدیث حسن نہیں ہے، رہ گئے دوسرے علماء تو ان کے نزدیک اس مسئلہ میں کوئی جدال وبحث کی بات ہی نہیں ہے حتی کہ مرجوح قول کے قائلین کے یہاں بھی یہ مسئلہ اختلافی نہیں ہے ، ابن الصلاح کے قول میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے، اور ائمہ ٔمحققین (جیسے: حافظ منذری، نووی، زیلعی،عراقی اور ابن حجر وغیرہم) کا عمل اسی پر ہے، چنانچہ ان علماء نے ابوداود کے سکوت والی بہت ساری احادیث کو ضعیف قراردیا ہے، جیساکہ آپ ضعیف سنن ابی داود میں ملاحظہ کریں گے ان شاء اللہ(مقدمہ صحیح وضعیف ابی داود ۱؍۱۳-۱۹، ط غراس، کویت) ۔
    سنن ابی داود کی خصوصیات
    سنن ابی داود کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف احکام ومسائل سے متعلق روایات پرمشتمل ہے، امام صاحب سے پہلے اس قسم کی کتابیں لکھنے کارواج نہ تھا، بلکہ ان کاتعلق احکام، تفسیر وقصص، اخبار ومواعظ اورادب وزہد وغیرہ سے تھا، یعنی وہ جوامع اور مسانید تھیں جیسا کہ’’رسالہ مکیہ‘‘ میں امام صاحب نے خو د ہی ذکرکیا ہے، اور آپ نے ایک انو کھی راہ اختیار کی ہے، لہذا اپنی اسی خصوصیت کی بنا ء پر یہ کتاب ائمہ اور علماء آثار کی توجہات کا مرکز بن گئی ، جیسا کہ اما م نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’فأما السنن المحضة فلم يقصد أحد منهم جمعها واستيفائها ولم يقدر على تلخيصها واختصار مواضعها من اثناء تلك الأحاديث الطويلة كما حصل لأبي داود، لهذا حل كتابه عند أئمة أهل الحديث وعلماء الأثر محل العجب فضربت فيه اكباد الإبل ودامت إليه الرحل‘‘ (تهذيب الاسماء واللغات ج 2 ص227).
    رہ گیا سنن یعنی احادیث احکام کا معاملہ تو ان کی بھرپور جمع وتدوین ،اور طویل احادیث سے ان کی تلخیص واختصار کا کام ابو داود کے علاوہ کسی اور نے اس کا ارادہ نہیں کیا ، ا س لئے ائمہء اہل حدیث اور علمائے حدیث وأثر کے یہاں یہ حیران کن تالیف ہے، جس کے حصول کے لئے اسفار ورحلات کا تسلسل برابر قائم رہا۔
    ۲- فقہی احادیث کا جتنا بڑا ذخیرہ اس کتاب میں موجود ہے، وہ صحاح میں سے کسی دوسری کتاب میں نہیں، حافظ ابوجعفر بن زبیر غرناطی (م ۷۰۸؁ھ) صحاح ستہ کی خصوصیات کا ذکرکرتے ہوئے رقمطراز ہیں: <ولأبي داود في حصر أحاديث الأحكام واستيعابها ما ليس لغيره> (تهذيب الأسماء واللغات ج 2ص 227) ابوداود نے احادیث احکام کے حصر واستیعاب کا جو کام کیا ہے، وہ دوسروں نے نہیں کیا ہے۔
    اور اسی وجہ سے یہ کتاب فقہاء ومجتہدین کا معتمد علیہ مأخذ رہی ہے۔
    ۳- جامع ترمذی کی طرح سنن ابی داود کی بھی اکثر وبیشتر روایات ائمہ مجتہدین، تابعین وتبع تابعین،اور فقہاء امت میں معمول بہا رہی ہیں،خصوصا امام ما لکؒ، ا مام سفیان ثوریؒ، امام اوزاعی ؒ وغیرہ محدثین وفقہاء کے مسالک ومذاہب کے لئے یہ کتاب اصل وبنیاد کی حیثیت ر کھتی ہے۔
    علامہ خطابی فرماتے ہیں کہ یہ فقہاء ومجتہدین کے اختلاف میں حکم اورحجت ہے:’’وعليه معول أهل العراق ومصر والمغرب وكثير من أقطار الأرض‘‘ (معالم السنن ج ۱ص ۶)
    ۴- کتاب السنن میں صحیح الاسناد قوی، متصل اور مرفوع احادیث کا خاص اہتمام کیاگیا ہے، اس کی صحت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ امام صاحب نے پہلے پانچ لاکھ احادیث جمع کی تھیں، اور پھر ان میں سے چار ہزار آٹھ سو احادیث کاانتخاب کیا، جو ایک مبسوط مجموعہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، امام صاحب کے اپنے بیان کے مطابق آپ نے اپنے علم ویقین سے صحیح بلکہ اصح روایات نقل کرنے کی کوشش فرمائی ہے، اور ہمیشہ ان احادیث کو ترجیح دی ہے، جو سند کے اعتبار سے بلند اور اعلی درجہ کی ہیں۔
    علامہ خطابی فرماتے ہیں:’’حكي لنا عن أبي داود أنه قال: ما ذكرت في كتابي حديثاً اجتمع الناس على تركه‘‘ .
    ۵- سنن ابی داود کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ امام صاحب ایک ہی سند اور ایک ہی متن میں متعدد اسانید اور مختلف متون کو جمع فرماتے ہیں، اور ہر حدیث کی سند اور الفاظ کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتے ہیں۔
    ۶- روایتوں کے تکرار سے کوئی کتاب خالی نہیں، لیکن امام ابو داود ؒ نے تکرار سے حتی الامکان احتراز اور کثرت طرق کو نظر انداز اور طویل احادیث کو مختصر کردیا ہے، تکرار سے اس وقت کام لیتے ہیں، جب اس روایت میں کوئی خاص بات یا نئے مسئلہ کا استنباط مقصود ہو۔
    ۷- آپ نے روایت میں جامعیت کے ساتھ حسن ترتیب وتالیف کو بھی ملحوظ رکھا ہے، علامہ خطابی فرماتے ہیں: ’’إلا أن كتاب أبي داود أحسن وضعاً ‘‘۔
    ۸- ضرورت کے مطابق بعض مقامات پر اسماء وکنی کے علاوہ رواۃ کے القاب کی وضاحت کردی ہے، اسی طرح رواۃ کی ثقاہت وعدم ثقاہت یعنی جرح وتعدیل کو بیان کرتے ہوئے روایات کے حسن وقبح اور صحت وسقم کی بھی وضاحت کی ہے۔
    ۹- اما م صاحب ؒ نے غریب اورشاذ روایات کے بجائے مشہور اور معمول بہ روایات کے جمع کرنے کا خاص خیال رکھا ہے۔
    ۱۰- سنن میں ایک ثلاثی روایت بھی ہے ۔
    وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه ومن تبعه بإحسان إلى يوم الدين.
     
  11. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    مصادر سیرت امام ابی داود:
    ۱- الجرح والتعدیل للرازی (۴؍۱۰۱۔۱۰۲)
    ۲- تاریخ بغداد : تالیف احمد بن علی الخطیب البغدادی (۹؍۵۵۔۵۹)
    ۳- طبقات الحنابلہ: تالیف ابن ابی یعلی (۱؍۱۵۹۔۱۶۲)
    ۴- المنتظم : تالیف ابن الجوزی (۵؍۹۷۔۹۸)
    ۵- وفیات الا ٔعیان : تالیف ابن خلکان(۲؍۴۰۴۔ ۴۰۵)
    ۶- سیر اعلام النبلاء: تالیف الذھبی (۱۳؍۲۰۳۔۲۲۱)
    ۷- تذکرۃ الحفاظ : تالیف الذھبی (۲؍ ۵۹۱۔ ۵۹۳)
    ۸- طبقات ا لشافعیۃ : تالیف السبکی (۲؍ ۲۹۳۔ ۲۹۶)
    ۹- البدایۃ والنہایۃ: تالیف الحافظ ابن کثیر (۱۱؍ ۵۴۔ ۵۶)
    ۱۰- تہذیب الکمال: تالیف المزی (۱۱؍ ۳۵۵۔ ۳۶۷)
    ۱۱- تہذیب التہذیب: تالیف ا بن حجر العسقلانی (۴؍ ۱۶۹۔ ۱۷۳)
    ۱۲- طبقات الحفاظ: للسیوطی (۲۶۱۔ ۲۶۲)
    ۱۳- مقدمۃ سنن ابی داود : (اردو) : مترجم مولانا وحید الزماں حیدرآبادی۔
    ۱۴- مقدمۃ تحقیق شرح ابن رسلان علی سنن ابی داود: ازڈکٹر سہیل حسن عبدالغفار ۔
    ۱۵- رسالۃ ابی داود الی اہل مکۃ فی وصف سننہ : تحقیق محمد لطفی الصباغ۔
    ۱۶- الحطۃ فی ذکر الصحاح الستہ: تالیف نواب صدیق حسن القنوجی۔
    ۱۷- مقدمۃ غایۃ المقصود : تالیف علامہ شمس الحق العظیم آبادی ۔
    ۱۸- کشف الظنون: تالیف حاجی خلیفہ ملا کاتب چلپی۔
    ۱۹- ہدیۃ العارفین :تالیف اسماعیل پاشا۔
    ۲۰- تاریخ التراث العربی : تالیف فؤاد سزکین ۔
    ۲۱- امام ابو داود اور آپ کی کتاب السنن مأخوذ از: مقدمۃ تحقیق وتخریج سنن ابی داود :از ڈاکٹر عبدالعلیم بن عبدالعظیم البستوی (مترجم مولانا رفیق احمد سلفی ، رکن مجلس علمی ، ملاحظہ ہو : مجلۃ التوعیۃ ، نئی دہلی)
     
  12. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    اصطلاحاتِ حدیث


    اصطلاحاتِ حدیث
    (مرتب: عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی)

    الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، اما بعد:
    حدیث کی روایت اور اس کی صحت وضعف کو جانچنے اور پرکھنے کے لئے محدثین نے جو قواعد وضوابط بنائے ، اور جن کی مدد سے کسی حدیث کی صحت اور ضعف تک پہنچے، اس علم کو اصولِ حدیث ،مصطلح حدیث اور قواعد التحدیث کہتے ہیں۔
    زیر نظر کتاب سنن ابی داود کے مولف امام ابو داود نے اپنی اس کتاب میں مختلف اصطلاحات کو استعمال کیا ہے۔ نیز احادیث کی تخریج اور فوائد کے ضمن میں بھی بعض اصطلاحات آئی ہیں، آسانی کے لئے یہاں پر ہم مختصراً بعض اہم اور ضروری اصطلاحات اور قواعد کا تذکرہ کریں گے، تاکہ قارئین کرام محدثین کے قواعد وضوابط کی روشنی میں اس کتاب سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
    حدیث : لغت میں حدیث کے معنی ’’جدید‘‘(نئی چیز)اور ’’بات‘‘ کے ہیں، ا ور خلافِ قیاس اس کی جمع ’’احادیث‘‘ ہے۔
    اصطلاح میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال اور اعمال اور آپ کی پیدائشی صفات یا عادات واخلاق کو حدیث کہتے ہیں۔
    خبر: اگر خبر کاتعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو تو وہ حدیث کے مترادف ہے ، بعض لوگوں نے ’’حدیث‘‘ اور ’’خبر‘‘ کے درمیان یہ فرق بیان کیا ہے کہ ’’حدیث‘‘وہ ہے جونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میںہو، اور ’’خبر‘‘ وہ ہے جوغیرنبی یعنی صحابہ ، تابعین ، اوراتباعِ تابعین کے بارے میں ہو، اس کواصطلاحی طورپر’’اثر‘‘بھی کہتے ہیں جس کی جمع ’’آثار‘‘ ہے۔
    بعض محدثین نے ’’حدیث‘‘ ’’خبر‘‘اور’’اثر‘‘تینوں کو ہم معنی مترادف الفاظ کے طورپر استعمال کیا ہے ، سیاق وسباق سے قارئین کو خوداندازہ لگانا ہوگا۔
    اوراگرالفاظ کو مقید کر کے استعمال کیاجائے جیسے ’’خبرنبوی‘‘(یا اخبار نبویہ)اور’’اثرنبوی‘‘(یا آثار نبویہ)تب یقینی طورپریہ الفاظ ’’حدیث‘‘کے مترادف ہوں گے۔
    متواتر اور آحاد
    منسوب الیہ سے ہم تک پہنچنے کے لحاظ سے حدیث کی دوقسمیں ہیں: متواتر اور آحاد۔
    آحاد: آحاد خبر واحد اور اخبار الآحاد ہم معنی الفاظ ہیں، اور اس کی تین قسمیں ہیں۔ مشہور، عزیزاورغریب۔
    متواتر: اس حدیث کوکہتے ہیں جس کی روایت کرنے والے راوی ہرطبقہ میں اتنی کثیر تعداد میں اور مختلف جگہوں کے ہوں کہ ان کا کسی جھوٹ پر متفق ہو نا عقلاًمحال ہو۔
    متواترکا حکم: متواتر کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے لازمی طور پر خبر کی تصدیق کا علم حاصل ہوجاتا ہے، جیسے آدمی خود کسی کا مشاہدہ کررہا ہو تو اس کی تصدیق کے بارے میں اس کو کسی قسم کا تردد اور شک نہ ہو۔ایسے ہی متواتر کا فائدہ ہے کہ آدمی خبر کو بے چوں چرا تسلیم کرلے۔ اور اس کی سند کی تحقیق کی بھی ضرورت نہیں۔
    مشہور (خبر آحاد کی اقسام: مشہور، عزیز اور غریب): مشہوراس حدیث کوکہتے ہیں جس کی روایت کر نے والے رواۃ تمام طبقات سند میں تین یاتین سے زیادہ ہوں، مگروہ تواترکی حد کو نہ پہنچیں، اس کو’’مستفیض‘‘بھی کہتے ہیں۔
    مشہورکاحکم: اس طریقے سے پہنچنے والی حدیث کے لئے ضروری نہیں کہ وہ لازماً صحیح ہی ہو،بلکہ اس میں صحیح ، حسن،اورضعیف کی ساری قسمیں شامل ہیں، تحقیق کے بعدہی درجہ کا تعین کیاجائے گا۔
    عزیز: اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی روایت کر نے والے رواۃ کسی طبقہ میں دو ہوں، اور باقی میں دوسے کم نہ ہوں،اس میں بھی : صحیح ، حسن اورضعیف ہر قسم کی حدیث ہوتی ہے۔
    غریب : وہ حدیث ہے جس کوروایت کرنے والاکسی طبقہ میں صرف ایک ہی آدمی رہ گیا ہو۔
    مشہور، عزیز، غریب کو ’’خبر واحد‘‘ (یا اخبار آحاد) کہا جاتا ہے، اس لئے ہر ایک کی تحقیق وجستجوکے بعدہی اس پر صحیح یاحسن یاضعیف کا حکم لگایاجائے گا۔
    صحیح ،حسن اورضعیف
    مقبول یامردودہونے کے لحاظ سے حدیث کی تین قسمیں ہیں: صحیح، حسن اورضعیف ۔پھر ان تینوں کی ذیلی قسمیں ہیں:
    صحیح: وہ حدیث ہے جس کے نقل(روایت) کر نے والے رواۃ ثقہ ہوں یعنی عادل وضابط (پختہ حفظ کے مالک)ہوں، اور ان کے درمیان سند متصل ہو، یعنی ملاقات اورسماع ثابت ہو، نیز وہ شذوذاورعلتِ قادحہ سے پاک ہو۔ (یہ شرط صحابہ کے بعدکے لوگوں کے لئے ہے ، صحابہ سارے کے سارے عادل اورضابط مانے گئے ہیں) ۔
    شذوذ: یہ ہے کہ ثقہ (عادل وضابط) راوی کی روایت ثقہ رواۃکے مخالف ہو، یا کم درجہ کے ثقہ نے اپنے سے اعلیٰ ثقہ راوی کے برخلاف روایت کی ہو، تو ایک ثقہ، یا کم ثقہ کی روایت کو’’شاذ‘‘کہتے ہیں، جو’’صحیح‘‘کے منافی ہے، ثقات یا زیادہ ثقہ راوی کی روایت کو محفوظ کہتے ہیں۔
    علت: حدیث کو ضعیف کردینے والے ایسے مخفی سبب کوکہتے ہیں جس پر فن حدیث کے متبحر علماء یعنی ناقدین حدیث ہی مطلع ہو پاتے ہیں۔ جس طرح ایک ماہرجوہری ہی سونے یاچاندی کے کھوٹ پر اپنے تجربہ کی بنیادپر مطلع ہوپاتا ہے،اس کا سبب عموما راوی کا سوء حفظ ’’وہم‘‘ہوتا ہے۔

    صحیح کی قسمیں
    صحیح کی دو قسمیں ہیں: صحیح لذاتہ اور صحیح لغیرہ
    صحیح لذاتہ: جس حدیث کے تمام رواۃصحیح کی تعریف میں مذکور شروط وصفات میں اعلیٰ درجہ کی صفات کے حامل ہوں۔اس کو صحیح لذاتہ کہتے ہیں۔ یعنی ثقہ (عادل اور پختہ حفظ والا راوی) متصل سند کے ساتھ روایت کرے اور وہ شذوذ اور علت سے پاک ہو۔
    صحیح لغیرہ: حسن لذاتہ اگر دو طریق سے آجائے تو اس کو صحیح لغیرہ کہتے ہیں۔ یعنی بعض رواۃ ’’صفتِ ضبط‘‘ میں’’صحیح لذاتہ‘‘ کے پختہ حفظ والے راوی سے حفظ میں قدرے کم ہوں (باقی صفات میں کم نہ ہوں)اوروہ حدیث اسی طرح کی کسی اورسند سے بھی مروی ہو تو دونوں سندیں مل کر ایک حدیث کو صحیح لغیرہ کادرجہ عطاکرتی ہیں۔
    صحیح کاحکم: ان دونوں قسموں سے ثابت حدیث عقیدہ وعمل اور اصول وفروع میں حجت اوردلیل ہے۔ صحیح لذاتہ صحیح لغیرہ سے فائق ہے۔
    صحیح حدیث کے مراتب
    صحیح حدیث کے سات مراتب ہیں
    ۱-جس حدیث کی روایت امام بخاری ومسلم دونوں نے اپنی صحیح میں کی ہو۔
    ۲-جس حدیث کی روایت صرف امام بخاری نے کی ہو۔
    ۳-جس حدیث کی روایت صرف امام مسلم نے کی ہو۔
    ۴- جو حدیث بخاری اور مسلم کی متفقہ شرائط پر پوری اترتی ہو اوران دونوں میں سے کسی نے اس کی روایت نہ کی ہو۔
    ۵- وہ حدیث صرف امام بخاری کی شرط پر ہو اور انہو ں نے روایت نہ کی ہو۔
    ۶-وہ حدیث صرف امام مسلم کی شرط پرہواور انہو ں نے روایت نہ کی ہو۔
    ۷-جوحدیث بخاری ومسلم یا ان میں سے کسی ایک کی شرط پرنہ ہو۔
    حسن
    حسن: حسن وہ حدیث ہے جس کے بعض رواۃ’’صفتِ ضبط‘‘میں’’صحیح لذاتہ‘‘کے رواۃ سے قدرے کم ہوں ، یعنی صحیح لغیرہ کی تعریف میںمذکورکسی ایک سند سے مروی حدیث کوحسن(لذاتہ)کہتے ہیں۔
    حسن کی قسمیں
    حسن کی دوقسمیں ہیں:حسن لذاتہ اورحسن لغیرہ
    حسن لذاتہ: صحیح لذاتہ میں ثقہ، راوی کا تام الضبط ہونا ضروری ہے۔ اور حسن لذاتہ میں راوی کے ضبط اور حفظ میں صحیح لذاتہ کے راوی کے مقابلے میں قدرے کمی ہوجاتی ہے۔ بقیہ شروط صحیح لذاتہ ہی کی ہیں۔ اوپر مذکور حسن کی تعریف سے حسن لذاتہ کی وضاحت ہوگئی ہے۔
    حسن لغیرہ: وہ ضعیف حدیث جس کے رواۃ میں سے کوئی راوی فسق یاکذب سے متصف نہ ہو، اور وہ حدیث ایسی ہی کسی اورسند سے بھی مروی ہو(ضعیف کی تعریف دیکھیں)
    حسن کاحکم: دلیل اورحجت پکڑنے میں حدیث حسن بھی صحیح کی طرح ہے مگر فرقِ مراتب کے ساتھ ۔
    صحیح الاسناد وحسن الاسناد :
    کسی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صحیح الاسناد یا ضعیف الاسناد ہے، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ صحیح اور حسن کے درجہ کی ہو، اس لئے کہ صحت حدیث میں شذوذ اور علت کی نفی بھی ضروری ہے، اور صحیح الاسناد اور حسن الاسناد میں سند کا اتصال اور راوی کی عدالت اور حفظ وضبط کی بات ہے، ہاں اگر قابل اعتماد ناقدِ حدیث یہ دونوں صیغے استعمال کرے اور اس حدیث کی کوئی علت بھی نہ پائی جارہی ہو تو بظاہر متن کی صحت بھی مقصود ہے۔
    ضعیف
    ضعیف: وہ حدیث ہے جس کے رواۃ کے اندر حسن کے رواۃ کی صفات میں سے کوئی صفت یا پوری صفات نہ پائی جائیں، حدیث کے ضعف کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
    ۱- سند میں انقطاع جیسے : مرسل، معلق، معضل،منقطع، مدلس، مرسل خفی، معنعن، مؤنن۔
    ۲- راوی کی عدالت اور اس کے حفظ وضبط میں طعن ، راوی کی عدالت میں ہونے والے طعن میں راوی کا حدیث رسول میں کذاب ہونا یا لوگوں سے بات چیت میں جھوٹ بولنا یا فسق یا بدعت یا جہالت ہے، اور راوی کے حفظ وضبط میں طعن میں راوی کا فاحش الغلط ہونا، یا کمزور حافظے کا ہونا، یا غفلت کا شکار ہونا یا اوہام کی کثرت، یا ثقات کی مخالفت ۔
    ضعیف کاحکم: ضعیف حدیث سے دلیل اورحجت پکڑنا جائزنہیں ، نیزاس کی روایت اور اس کا تذکرہ بھی اس کے حکم کو بیان کئے بغیرجائزنہیں، فضائل میں بھی اس سے استدلال جائز نہیں کیونکہ کسی عمل کی فضیلت بھی ایک شرعی حکم ہے اور کسی بھی شرعی حکم کے ثبوت کے لئے اس کا صحیح یاحسن سند سے منقول ہوناضروری ہے ۔
    مرسل: وہ حدیث ہے جس کی روایت تابعی نے رسول اکرم a سے کی ہو، مثلاً کہے: ’’قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)۔
    مرسل کاحکم: مرسل ضعیف کی ایک قسم ہے، کیونکہ یہ نہیں معلوم کہ تابعی نے سندسے کسی صحابی ہی کوساقط کیا ہے یا صحابی کے ساتھ ساتھ کسی تابعی کو بھی ساقط کیا ہے جس سے اس نے براہِ راست حدیث لی تھی (تابعی سے تابعی کی روایت بہت معروف ہے ، بلکہ ایک سند میں کبھی کئی ایک تابعی ہواکرتے ہیں)اورتابعی ضعیف بھی ہوتے ہیں، اب معلوم نہیں کہ جس تابعی کوساقط کیاہے وہ ثقہ بھی ہے یانہیں، یعنی راوی کے مجہول ہو نے کے سبب مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے،اوراگرکسی ذریعہ سے یہ طے ہوجائے کہ تابعی نے صحابی ہی کوساقط کیا ہے توصحابی کے مجہول ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اسی لئے سعید بن المسیب کی مرسل روایت قبول کی جاتی ہے، اسی طرح کسی اورمرسل سندسے یہ حدیث آجائے تو بھی وہ مرسل قبول کرلی جاتی ہے۔
    معلق: وہ حدیث ہے جس کی سندکے شروع سے ایک یا کئی ایک راوی مسلسل یاسبھی رواۃ ساقط ہوں، اورچونکہ ساقط شدہ رواۃ کی عدالت اورضبط کاکچھ علم نہیں اس لئے معلق بھی ضعیف کے اقسام میں سے ہے، البتہ صحیح بخاری کی معلق روایات اگرمعروف صیغوں کے ساتھ مذکورہوں(جیسے قال ابن عباس: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم) تو ایک حد تک ان سے استناد کیا جاسکتا ہے۔
    معضل: وہ حدیث ہے جس کے سندکے درمیان سے دویادوسے زیادہ راوی مسلسل ساقط ہوں۔
    منقطع : وہ حدیث ہے جس کے درمیان سندسے کوئی ایک راوی ساقط ہو، یہ سقوط ایک جگہ سے بھی ہوسکتاہے اورکئی جگہوں سے بھی (ابن حجر)۔
    نوٹ: مذکورہ تعریف حافظ ابن حجرکی ہے اس کے لحاظ سے معضل اورمتعدد جگہوں سے ایک راوی کے سقوط والے منقطع میں فرق یہ ہے کہ معضل میں سقوط میں تسلسل ہوتا ہے اور منقطع میں تعددِ محل ضروری ہے ۔
    مدلس: تدلیس کے ساتھ روایت کی گئی حدیث یا خبرکو’’مُدَلَّس‘‘کہتے ہیںاوراس طرح کی روایت کرنے والے راوی کو ’’مُدَلِّسْ‘‘کہتے ہیں۔
    تدلیس اوراس کی اقسام
    تدلیس : لغت میں خریدار سے سامان کے عیب کو چھپانے کا نام تدلیس ہے۔ اصطلاح حدیث میں سند کے عیب پر پردہ ڈالنا اور ظاہری سند کو اچھا بنا کر پیش کرنے کا نام تدلیس ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں: ایک تدلیس الشیوخ اور دوسری تدلیس الاسناد ۔
    ۱- تدلیس الشیوخ : راوی اپنے شیخ کے معروف ومشہور نام کے بجائے اس کا کوئی غیرمعروف نام لے، جیسے : غیرمعروف لقب، یا کنیت ، یانسبت استعمال کرے ، تاکہ لوگ اس کی اصلیت کو نہ جان پائیں کیونکہ وہ ضعیف ہوتا ہے اور اس کے ضعف کو چھپاناہی مقصودہوتا ہے ، اس کو ’’تدليس الشيوخ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۲- تدلیس الاسناد: راوی ایسے شیخ سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات توہواوراس سے روایت بھی لی ہومگراس حدیث کو اس شیخ سے نہ سناہو، جس سے تدلیس کررہا ہے یا ایسے راوی سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات ہے لیکن اس سے کچھ سنا نہیں ہے، اور روایت کو عن فلانیا قال فلان جیسے الفاظ سے روایت کرے کہ اس راوی سے سماع کا دھوکہ ہو۔
    اس کی تین صورتیں ہیں:
    ( ا ) تدلیس القطع: اسے تدلیس الحذف بھی کہتے ہیں اس کی شکل یہ ہے کہ راوی سند کو کاٹ دینے یا حذف کردینے کی نیت سے روایت حدیث کے الفاظ کے درمیان سکوت اختیار کرلے۔
    (ب) تدلیس العطف: اس میں راوی اپنے شیخ سے روایت میں تحدیث کی صراحت کرے اور اس پر کسی دوسرے شیخ کا عطف کرے، جس سے اس نے یہ حدیث نہیں سنی ہے۔
    (ج) تدلیس التسویہ : راوی دو ثقہ کے درمیان موجود ضعیف راوی کو ساقط کردے ، ان میں سے ایک کی ملاقات دوسرے سے موجود ہے، اور یہ مدلس راوی اپنے ثقہ شیخ سے اور وہ دوسرے ثقہ راوی سے حدیث روایت کرے ، اور روایت میں عن وغیرہ الفاظ استعمال کرے جس سے سند کے متصل ہونے کا وہم ہو، تاکہ پوری سند ثقات پر مشتمل ہو اور یہ تدلیس کی سب سے خراب قسم ہے۔
    ’’معنعن‘‘ اور ’’عنعنه‘‘:تدلیسی روایات میں مدلِّس راوی ’’أخبرنا‘‘ یا ’’أخبرني‘‘یا ’’حدثنا‘‘یا حدثني یا ’’سمعت‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کرتا تاکہ ’’کذاب‘‘ نہ قرار دے دیا جائے بلکہ وہ ’’عن‘‘ یا ’’أنَّ‘‘ یا ’’قال‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے ، تو ’’عن‘‘ کے ذریعہ روایت کرنے کو ’’عنعنه‘‘کہتے ہیں۔اورایسی روایت کو ’’معنعن‘‘کہتے ہیں۔
    مُؤنَّنْ: اور’’أنّ‘‘کے ذریعہ روایت کو’’مؤنن‘‘کہتے ہیں۔
    مرسل خفی: راوی ایسے آدمی سے روایت کرے جو اُس کے زمانہ میں موجود تو ہو مگر اس سے اس کی ملاقات اورروایت نہ ہو، اور ایسے الفاظ استعمال کرے جس سے سماع کادھوکہ ہو جیسے’’عن‘‘اور’’قال‘‘(تدلیس التسویہ اور ارسال خفی میں یہی فرق ہے کہ تدلیس میں ملاقات اور روایت ہوتی ہے اور ارسال خفی میں صرف زمانہ ایک ہوتا ہے لقاء اورسماع نہیں ہوتا)
    ۲- راویِ میں کسی نقص اور عیب کے سبب ضعیف حدیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں
    موضوع ، متروک، منکر، شاذ، معلل یامعلول ، مدرج، مقلوب، مضطرب، اورمصحف
    موضوع: اگرراوی کاذب اور جھوٹا ہے اور اس نے اپنی طرف سے سند، یا متنِ حدیث وضع کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا ہے تو اُس کی یہ گڑھی اور بنائی ہوئی حدیث ’’موضوع‘‘کہلاتی ہے ، اور یہ ضعیف کی سب سے بدتر قسم ہے ، اس کے مرتکب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی وعید سنائی ہے۔
    متروك : اگرراوی اپنی عام بول چال میں جھوٹا آدمی ہو اور اس کی روایت کردہ حدیث صرف اسی کے واسطے سے مروی ہو، اوروہ حدیث دین کے مُسَلَّمَاتَ کے خلاف ہو تو اس حدیث کو’’متروک‘‘کہتے ہیں، اس کا درجہ شناعت وقباحت میں موضوع کے بعدہے۔
    منكر (ومعروف): وہ حدیث ہے جس کے راوی کے اندرازحدغفلت ، وہم، ظاہری فسق وفجورجیسے برے صفات پائے جاتے ہوں، یاکسی طرح کا کوئی ضعیف راوی کسی ثقہ (عادل وضابط) راوی کے برخلاف روایت کرے : توضعیف کی روایت ’’منکر‘‘اورثقہ کی روایت کو ’’معروف‘‘ کہاجاتاہے۔
    شاذ (ومحفوظ): شاذبھی ضعیف کی ایک قسم ہے ، یہ ایسے ثقہ کی روایت کو کہتے ہیں جس نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے خلاف روایت کی ہویا ثقہ نے ثقات کی ایک جماعت کے برخلاف روایت کی ہو،توکم ثقہ اور ثقہ کی روایت کوشاذاوراعلیٰ درجے کے ثقہ یا ثقات کی روایت کو ’’محفوظ‘‘کہاجاتاہے ، اورظاہربات ہے کہ تعارض کے وقت ’’محفوظ‘‘کو ترجیح دی جائے گی۔
    مُعَلَّلْْ(یامعلول): اگرراوی کے اندرنقص ’’وہم‘‘ہوتواس کی روایت کومعلل یامعلول کہتے ہیں، اورسبب کو’’علت‘‘کہتے ہیں، مخفی علت صحتِ حدیث میں قادح ہوتی ہے ، اور اس پر بڑے بڑے ماہرمحدثین ہی مطلع ہوپاتے ہیں۔
    مدرج: راوی کا اپنی طرف سے اسناد یامتن میں ایسااضافہ جوبظاہر اس کے اوپرکے راوی کے کلام (سندمیں) یامتنِ حدیث ہی سے معلوم ہو، راوی کسی وضاحت کے لئے ایساکرتا ہے لیکن سامع اس کو اصل سندیااصل متن میں سے سمجھ کر روایت کردیتاہے ، ادراج کاعلم اس روایت کے کسی اور سند سے مروی ہونے ، یاخودراوی کی وضاحت سے ہوتاہے (تعریف سے ظاہر ہے کہ ادراج سند اورمتن دونوںمیں ہوتا ہے)
    مقلوب: سندیامتن میں الٹ پھیرکوکہتے ہیں جیسے کوئی ’’کعب بن مرّۃ‘‘کو’’مُرّہ بن کعب‘‘کردے ، یاروایت میں موجودابن عمرdکے شاگرد’’سالم‘‘کی جگہ دوسرے شاگرد ’’نافع‘‘ کانام لے لے (یہ مقلوبِ سندہے) یاجیسے مسلم کی مشہورحدیث: <لاَ تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ> کو <لاَ تَعلَمُ يَمِيْنُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ > کردیا ہے۔ (یہ مقلوبِ متن ہے)
    مضطرب: کسی ایک ہی حدیث کا اس طرح مختلف شکلوں میں مروی ہونا کہ ان شکلوں کا آپس میں باہم سخت اختلاف ہو،اور ان کے درمیان جمع وتوفیق اورتاویل ممکن نہ ہو، اورتمام روایات قوت میں ایک دوسرے کے برابرہوں ،کسی کودوسرے پرکسی صورت میں ترجیح ممکن نہ ہو، اگرکوئی شکل (روایت)قوت میں زیادہ ہوتو پھر اس حدیث کو مضطرب نہیں کہیں گے ، راجح شکل پر عمل کریں گے ، اسنادی قوت کے علاوہ ترجیح کے اوربھی اسباب وعوامل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے بھی روایت کوترجیح دی جاسکے تواس پر عمل کیاجائے گا۔
    مُصَحَّفْْ: کسی لفظ کو(جوثقات سے مروی ہو)کسی دوسرے لفظ سے بدل کر روایت کردینا(یہ تبدیلی لفظی اور معنوی دونوں ہوسکتی ہے)جیسے’’العوام بن مُراحم‘‘ (بالراء المهملة) کو العوام بن مُزاحم (بالزاي المعجمة) کردینا،یاجیسے ’’احتجر في المسجد‘‘(مسجد میں حجرہ بنایا) کو’’احتجم في المسجد‘‘(مسجدمیں پچھنالگایا)کردینا۔
    ۳-منسوب الیہ کے اعتبارسے حدیث کی قسمیں
    حدیث یا خبر کسی ذات یا شخص سے منسوب ہوتی ہے یعنی ہرحدیث اورخبرکاایک مصدر ہوتا ہے اس کو منسوب الیہ کہتے ہیں ،اس اعتبارسے حدیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:
    حدیث قدسی، حدیث مرفوع، موقوف،مقطوع، اور یہ اقسام صحیح ضعیف دونوں میں مشترک ہیں۔
    حدیث قدسی: وہ حدیث ہے جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف کریں ، جیسے آپ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
    مرفوع : وہ حدیث جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، قولی ہو یا فعلی یا تقریری، احادیث کا بیشترحصہ حدیث مرفوع ہی پر مشتمل ہے، جیسے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔
    موقوف: وہ خبرجو کسی صحابی کی طرف منسوب ہو، قولی ہویا فعلی یا تقریری جیسے : ’’عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوں کی مہروں میں غلو نہ کرو‘‘ (اس کو اثر بھی کہتے ہیں)۔
    مقطوع: وہ خبرجس کی نسبت تابعی یا تبع تابعی کی طرف ہو، جیسے حسن بصری کا فرمان ہے’’بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہو اس کی بدعت کا وبال اسی کے اوپر ہوگا‘‘۔
    ۴- حدیث کی مشترک قسمیں
    مسند: وہ مرفوع حدیث ہے جس کی سند متصل ہو ، اس کی سند کے اندر کسی طرح کا انقطاع نہ ہو(عام مرفوع حدیث: منقطع اور معضل بھی ہوسکتی ہے)۔
    متصل : وہ حدیث یاخبرہے جس کی سندمتصل ہو، اس کی سندکے اندرکسی قسم کا انقطاع نہ ہو،خواہ مرفوع ہویا موقوف یا مقطوع۔
    ۵- عام اصطلاحات
    متابعات: سندکے کسی طبقہ میں واقع کسی راوی کے ساتھ کوئی اوربھی راوی اس حدیث کی روایت میں شریک ہو لیکن صحابی ایک ہی ہو تو دوسرے راوی کو یا اس کی روایت کو’’مُتابِع‘‘اور پہلے راوی کو یااس کی روایت کو "مُتَابَع‘‘کہتے ہیں ، اور اس عمل کومتابعت کہتے ہیں جس کی جمع ’’متابعات‘‘ہے۔
    شواہد: ایک صحابی کی روایت دوسرے صحابی سے بھی آئے تو اُس کو شاہد کہتے ہیں، بلکہ ہرایک دوسرے کی حدیث کی شاہد ہے، اس کی جمع شواہدہے۔
    لین الحدیث: اس کتاب میں کسی ضعیف حدیث کے اسباب ضعف میں اس راوی کے متعلق لکھا گیا ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجرنے ’’مقبول‘‘لکھاہے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس راوی کاکوئی اورمتابِع ہوگا تو اس کی روایت قبول کی جائے گی ورنہ ردکردی جائے گی، اور اس روایت میں اس کا کوئی متابِع نہیں ہے ، اس لئے اس کی یہ روایت ضعیف ہے ۔
    اختلاط (اورمختلط): کسی ثقہ عادل ضابط راوی کے حفظ وضبط میں کسی حادثہ یابڑھاپاکے سبب کمزوری واقع ہوجائے تو اس کو اختلاط کہتے ہیں اور راوی کو مختلط کہتے ہیں،مختلط کی روایت کو قبول کر نے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:
    اس مختلط راوی سے روایت کر نے والے نے اختلاط طاری ہونے سے پہلے اس سے روایت لی ہے یابعدمیں؟ یا پہلے اور بعد دونوں حالتوں میں؟ تو جس نے اختلاط سے پہلے روایت لی ہے (اوروہ خودبھی ثقہ ہے)تو اس کی روایت مقبول ہوگی، اور دونوں حالتوں یااختلاط کے بعد روایت لینے والے کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔
    مجہول اورجہالت: کسی بھی راوی کی روایت اس کی ثقاہت (عدالت اورقوتِ حافظہ)کی بنیاد پر قبول کی جاتی ہے ، اورجب کسی راوی کی ثقاہت معلوم ہی نہ ہو تو اس کی روایت کس بنیاد پر قبول کی جائے؟اسی لئے مجہول راوی کی روایت قبول نہیں کی جاتی ۔
    جہالت دو طرح کی ہوتی ہے: جہالتِ عین اورجہالتِ حال ، جہالت عین کا مطلب ہے کہ سرے سے راوی کی شخصیت کا اس سے زیادہ اتہ پتہ نہیں کہ اس سے ایک آدمی نے روایت لی ہے اورکسی امامِ جرح وتعدیل نے اس کی ثقاہت کاذکرنہ کیاہو،اورجب شخصیت مجہول ہے تو ثقاہت کا کیسے پتہ چلے ، ایسے راوی کوصرف’’مجہول‘‘ یامجہول العین کہتے ہیں۔
    اورجہالتِ حال کا مطلب یہ ہے کہ دو آدمیوں کے اس سے روایت لے لینے کی وجہ سے اس کی شخصیت تو معلوم ہوئی مگرثقاہت کے بارے میں کسی امام جرح وتعدیل نے کچھ ذکرنہیں کیاہے ایسے راوی کو مجہول الحال یا مستورکہتے ہیں۔
    مبہم : ایسے راوی کو کہتے ہیں جس کا نام معلوم نہ ہو، اس سے روایت کر نے والا ’’عن رجل ‘‘ یا عن امرأۃ ‘‘یا’’عن أبیہ ‘‘ یا’’عن أمہ‘‘ یا ’’جدہ‘‘ یا ’’عن عمہ‘‘ یا ’’جدتہ‘‘ یا ’’عن صاحب لہ‘‘ وغیرہ جیسے مبہم ناموں سے اس کا ذکر کرتا ہے تو جب نام ہی نہیں معلوم تو اس کی ثقاہت کا کیا اتہ پتہ، ہاں کسی خارجی ذریعہ سے اس کا نام اورثقاہت معلوم ہوجائے تو اس کی روایت قبول کرلی جاتی ہے ۔
    ناسخ ومنسوخ: ناسخ کے لغوی معنی زائل کرنے والا اور منسوخ کے لغوی معنی زائل کیا ہوا ہے۔
    اصطلاح میں ناسخ اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ شارع نے پہلے حکم کو ختم کردیا ہو۔ اور منسوخ وہ حدیث ہے جس میں پہلے حکم کو اس ناسخ حدیث نے ختم کردیا ہو۔

    (مرتبہ: أحمد مجتبی بن نذیر عالم السلفی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    سنن ابی داود میں استعمال ہونے والے رموز وعلامات

    سنن ابی داود میں استعمال ہونے والے
    رموز وعلامات​
    خ
    صحیح البخاری

    م
    صحیح مسلم

    ت
    سنن الترمذی

    ن
    سنن النسائی

    ق
    سنن ابن ماجہ

    حم
    مسند احمد

    ط
    موطا امام مالک

    دی
    سنن الدارمی

    الصحیحۃ
    سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، للالبانی

    الضعیفۃ
    سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، للالبانی

    تفرد بہ ابو داود
    یعنی یہ حدیث صرف سنن ابی داود میں ہے اور صحاح ستہ کے بقیہ مؤلفین کے یہاں نہیں ہے

    انظر ما قبلہ
    اس سے پہلے کی حدیث ملاحظہ ہو

    انظر حدیث رقم (۔۔۔۔)
    حدیث نمبر (۔۔۔۔) ملاحظہ ہو

    * تخريج: خ/الاعتکاف ۵ (۲۰۳۲)
    (خ) سے مراد صحیح البخاری، (الاعتکاف) یعنی صحیح البخاری کی کتاب الاعتکاف، (۵) یعنی باب نمبر، (۲۰۳۲) یعنی حدیث نمبر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  14. ابن بشیر

    ابن بشیر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2012
    پیغامات:
    268
    ماشاء اللہ بہت ہی قیمتی منصوبہ ہے اللہ تعالی قبو؛ل فرمائے ۔
     
  15. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001
    جزاک اللہ شیخ نعیم

    اللہ تعالی آپ کے علم و عمل جان مال عزت و آبرو میں خیر و برکت عطا فرمائے۔ آمین

    اللہ تعالی روز قیامت ان چیزوں کو آپ کے حسنات میں شمار فرمائے، قبول و منظور فرمائے آمین
     
  16. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    412
    ماشاءاللہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں