جنگ احد میں فتح اور شکست۔۔۔۔

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏اپریل 15, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    صفحہ نمبر389۔
    جنگ احد میں فتح و شکست کا ایک تجزیہ: ​

    یہ ہےغزوہ احد اپنے تمام مراحل اور جملہ تفصیلات سمیت اس غزوہ کے انجام کے بارے میں بڑی طویل طویل بحثیں کی گئی ہیں کہ آیا اسے مسلمان کی شکست سے تعبیر کیا جائے یا نہیں جہاں تک حقائق کا تعلق ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ جنگ کے دوسرے راونڈ میں مشرکین کو برتر ی حاصل تھی۔اور میدان جنگ انہیں کے ہاتھ تھا۔ جانی نقصان بھی مسلمانوں ہی کا زیادہ ہوا اور زیادہ خوفناک شکل میں ہوااور مسلمانوں کا کم از کم ایک گروہ یقیناً شکست کھا کر بھاگااور جنگ کی رفتار مکی لشکر کے حق میں رہی لیکن ان سب کے باوجود بعض امور ایسے ہیں جنکی بنا پر ہم اسے مشرکین کی فتح سے تعبیر نہیں کر سکتے ۔ایک تو یہی بات قطعی طورپر معلوم ہے کہ مکی لشکر مسلمانوں کے کیمپ پر قابض نہیں ہو سکا تھا اور مدنی لشکر کے بڑے حصے نے سخت اتھل پتھل اور بد نظمی کے باوجود فرار نہیں اختیار کیا تھا بلکہ انتہائی دلیری سے لڑتے ہوئے اپنے سپہ سالار کے پاس جمع ہو گیا تھا نیز مسلمانوں کا پلہ اس حد تک ہلکا ہوا تھا کہ مکی لشکر ان کا تعاقب کرتا ۔علاوہ ازیں کوئی ایک بھی مسلمان کافروں کی قید میں نہیں گیا نہ کفارنے کوئی مال غنیمت حاصل کیا پھر کفار جنگ کے تیسرے راونڈ کے لئے تیار نہیں ہوئے حا لانکہ اسلامی لشکر ابھی اپنے کیمپ ہی میں تھا علاوہ ازیں کفار نے میدان جنگ میں ایک یا دودن یا تین دن قیام نہیں کی حالانکہ اس زمانے میں فاتحین کایہی دستو ر تھا اور فتح کی یہ ایک نہایت ضروری علامت تھی مگر کفار نے فورا واپسی کی راہ اختیار کی اور مسلمانوں سے پہلے ہی میدان جنگ خالی کر دیا نیز انہیں بچے قید کرنے اور مال لوٹنے کے لئے مدینے میں داخل ہونے کی جرات نہ ہوئی ۔حا لانکہ یہ شہرچند قدم کے فاصلے پر تھا اور فوج سے مکمل طورپر خالی تھا اور ایک دم کھلا پڑا تھا اور راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ان ساری باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ قریش کو زیادہ سے زیادہ صرف یہ حاصل ہوا کہ انہوں نے ایک وقتی موقعے سے فائد ہ اٹھا کر مسلمانوں کو ذرا سخت قسم کی زک پہنچا دی ورنہ اسلامی لشکر کو نرغے میں لینے کے بعد اسے کلی طور پر قتل یا قید کر لینے کا جو فائدہ انہیں جنگی نقطہ نظر سے لازماًحاصل ہونا چاہیے تھا اس میں وہ ناکام رہے اور اسلامی لشکر قدرے بڑے خسارے کے باوجود نرغہ تو ڑ کر نکل گیا اور اس طرح کاخسارہ تو بہت سی دفعہ فاتحین کو برداشت کرنا پڑتا ہے اس لئے اس معاملے کو مشرکین کی فتح سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ واپسی کےلئے ابو سفیان کی عجلت اس بات کی غماز ہے کہ اسے خطرہ تھا کہ اگر جنگ کا تیسرا دور شروع ہو گیا تو اس کا لشکر سخت تباہی اور شکست سے دو چار ہو جائے گا۔ اس بات کی مزید تائید ابو سفیان کے اس موقف سے ہو تی ہے جو اس نے غزوہ حمراء الاسد کے وقت اختیا ر کیا تھا،اسی صور ت میں ہم اس غزوے کو کسی ایک فریق کی فتح اور دوسرے کی شکست سے تعبیر کرنے کی بجائے غیر فیصلہ کن جنگ کہہ سکتے ہیں جس میں ہر فریق نے کامیابی اور خسارے سے اپنا اپنا حصۃ حاصل کیا پھر میدان جنگ سے بھاگے بغیر اور اپنے کیمپ کو دشمن کے قبصہ کے لئے چھوڑے بغیر لڑائی سے دامن کشی اختیار کرلی اور غیر فیصلہ کن جنگ کہتے ہی اسی کو ہیں ۔ اسی جانب اللہ تعالٰی کے اس ارشاد سے بھی اشارہ نکلتاہے ۔۔۔۔" وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ
    قوم (مشرکین ( کے تعاقب میں ڈھیلے نہ پڑو اگر تم الم محسوس کر رہے ہو تو تمہاری ہی طرح وہ بھی الم محسوس کرہے ہیں اور تم لوگ اللہ سے اس چیز کی امید رکھتے ہو جس کی وہ امید نہیں رکھتے۔۔
    اس آیت میں اللہ تعالی نے ضرر پہنچانے اور ضرر محسوس کرنے میں ایک لشکر کو دوسرے لشکر سے تشبیہ دی ہےجس کا مفاد یہ ہے کہ دونوں فریق متماثل تھے اور دونوں فریق اس حالت میں واپس ہو ئے تھے کہ کوئی بھی غالب نہ تھا،،
    صفحہ نمبر391:​
    اس غزوے پر قرآن کا تبصرہ:​

    بعد میں قرآن مجید نازل ہواتواس میں اس معرکے کے ایک ایک مرحلے پر روشنی ڈالی اور تبصرہ کرتےہوئے ان اسباب کی نشاندہی کی گئی جن کے نتیجے میں مسلمانوں کا اس عظیم خسارے سے دو چار ہونا پڑا تھا اور بتلایا گیا کہ اس طرح کے فیصلہ کن مواقع پر اہل ایمان اور یہ امت (جسے دوسروں کے مقابل خیر امت ہونے کا امتیاز حاصل ہے) جن اونچے اور اہم مقاصد کے حصول کے لئے وجود میں لائی گئی ہے ان کے لحاظ سے ابھی اہل ایمان کے مختلف گروہوں میں کیا کیا کمزوریاں رہ گئی ہیں؟
    اسی طرح قرآن مجید نے منافقین کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے ان کی حقیقت بے نقاب کی ان کے سینوں میں خدا اور رسول کے خلاف چھپی ہوئی عداوت کا پردہ فاش کیا اور سادہ لوح مسلمانوں میں ان منافقین اور ان کے بھائی یہود نے جو وسوسے پھیلا رکھے تھے ان کا ازالہ فرمایا اور ان قابل ستائش حکمتوں اور مقاصد کی طرف اشارہ فرمایا جو سا معرکے کا حاصل تھیں۔اس معرکے کے متعلق سورہ آل عمران کی ساٹھ آیتیں نازل ہوئیں ۔ سب سے پہلے معرکے کے ابتدائی مرحلےکا ذکر کیا گیا : ارشاد ہوا:
    وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌۙ۰۰۱۲۱(ال عمران121)
    اور جب تم اپنے گھر سےنکل کہ (میدان احد میں گئے اور وہاں) مومنین کو قتال کے لئے جا بجا مقرر کر رہے تھے " پھر اخیر میں اس معرکے کے نتائج اور حکمت پر ایک جامع روشنی ڈالی گئی : ارشاد ہوا : مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۷۹
    ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ مومنین کو اسی حالت پر چھوڑدے جس پر تم لوگ ہو ، یہاں تک کہ خبیث کو پاکیزہ سے الگ کردے، اور ایسانہیں ہو سکتا کہ اللہ تمہیں غیب پر مطلع کرے ،لیکن وہ اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے پس اللہ اور اس کے رسولوں پا ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لائے اور تقویٰ اختار کیا تو تمہارے لئے بڑا اجر ہے"
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,445
    شیئرنگ کاشکریہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں