سیدہ حلیمہ سعدیہ کے دیس میں

ابو ابراهيم نے 'دیس پردیس' میں ‏اپریل 15, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    سیدہ حلیمہ سعدیہ کے دیس میں​


    (عبد المالک مجاہد)

    ١٣ ربیع الأول ١٤٣٢ہجری بدھ کے روز پاکستان میں ١٢ ربیع الأول تھا۔ بیت اللہ شریف میں معمول سے کم رش تھا۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے طواف ختم کیا تو بیت اللہ کے دروازے پر چمٹنے کی سعادت بڑی آسانی سے مل گئی۔ میں کتنی دیرتک دہلیز کو پکڑے دعائیں مانگتا رہا۔ پاکستان کے لیے بطور خاص کہ یا اللہ!اس کی حفاظت فرما اور اسے ہر قسم کی بد امنی سے نجات عطا فرما۔ بیت اللہ کی دہلیز سے چمٹ کر سوال کرنے کا بس اپنا ہی مزا ہے۔ اتنا چین اور سکون ملتا ہے کہ بچے کوماں کی آغوش میں کہاں ملتا ہوگا۔یوں لگتاہے کہ ساری دعائیں قبول ہو رہی ہیں۔ مکہ کا موسم ان دنوں بڑا خوبصورت ہے۔ زیادہ گرمی نہ سردی ، بس ہلکی ہلکی خنکی ہے۔ اس مرتبہ ایک نیا تجربہ ہوا کہ حرم کی انتظامیہ نے حجر اسود کو بوسہ دینے والوں کی لائنیں لگوا دی تھیں۔ پہلے خواتین کے لیے بوسہ دینا خاصا مشکل ہوجاتا تھا۔ اب اگر پانچ منٹ انتظار کرلیں تو بڑے آرام سے آپ کی باری آجائے گی۔
    مقام ابراہیم پر بھی زیادہ لوگ نہ تھے۔ سورج طلوع ہوچکا تھا لوگ اشراق پڑھ کر حرم سے باہر جارہے تھے۔ میں نے بھی مقام ابراہیم پر دو نفل ادا کیے اور ایک بار پھر اپنے ہاتھوں کو بار گاہ الہی میں اٹھادیا ۔حسب توفیق جس قدر دعائیں یاد آئیں مانگیں اورفارغ ہو کرباب بلال کی طرف چل دیا۔ ڈاکٹرزعیم الدین حرم شریف کے صحن میں منتظر تھے۔ ایک بڑے اورعظیم باپ مولانا معین الدین لکھوی صاحب کے صاحبزادے، بڑی مرنجاں مرنج شخصیت ہیں۔ اپنی اہلیہ کے ساتھ دوبئی میں ایک میڈیکل کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تو میں نے ان کو ریاض آنے کی دعوت دے ڈالی۔ ہمارے پاس تین دن قیام کرنے کے بعد انہوں نے مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کے سفر کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے اپنے بیٹے عکاشہ کو اس مقدس سفر میں ان کے ہمراہ کردیا تو وہ بہت مطمئن ہوئے۔ڈاکٹرزعیم الدین بہت خوش مزاج انسان ہیں۔ گاڑی میں ساتھ بیٹھے ہوں تو بات سے بات نکالتے، چٹکلے چھوڑتے، تبصرے کرتے ہنستے مسکراتے آپ کا سفر تکمیل کے مراحل طے کر لیتا ہے اور طوالت کا احساس تک نہیں ہوتا۔
    لکھوی خاندان کی دین وعقیدہ اور مسلک کے لیے بے پناہ خدمات سے آپ سب حضرات واقف ہیں ۔ مولانا معین الدین لکھوی جو اس علمی اور روحانی خاندان کے نمایاں چشم وچراغ ہیں ، تقوی ، للہیت، علمی پختگی اور کثرت ذکر وفکر کے حوالے سے نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔ علاقے میں اپنے اثر ورسوخ، دو مدرسوں کی نظامت، اپنے دینی مزاج اور تقوی کے باوصف نہایت خوش مزاج اور خوش طبع عالم کی پہچان رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر زعیم الدین بھی اپنے گرامی قدر والد کی بہت سی خوبیاں اپنی شخصیت میں سموئے ہوئے ہیں۔
    میں بڑی مدت سے پروگرام بنا رہا تھا کہ کسی وقت بنو سعد کے علاقہ کو دیکھنے جاؤں۔ اس کے لیے موقع بھی درکار تھا اور کوئی اچھا سا ہم سفر بھی ، جسے جغرافیہ کے ساتھ دلچسپی اور محبت ہو تو سفر کا لطف کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ میرے رشتہ کے ایک چچا محترم سیف الرحمن ایک مدت سے طائف کے انٹرنیشنل سکول میں تعینات ہیں۔ کافی دیر وہ بطور ایکٹنگ پرنسپل بھی کام کرتے رہے ۔ میں نے ان کو فون پر اپنی خواہش سے مطلع کیا کہ میں اس علاقہ کو دیکھنا چاہتا ہوں تو ان کا جواب تھا کہ آپ آجائیں میں سکول سے ایک دن کی چھٹی لے لوںگا۔ اوربذات خود آپ کو اس جگہ کی سیر کراؤنگا۔ وہ خود متعدد بار وہاں جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر زعیم الدین دوبئی میں تھے تو میں نے ان سے کہا: جناب دار السلام سے چھٹی لینا آسان کام نہیں۔ دفتر کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر آپ ریاض آجائیں تو آپ کو ساتھ لے کر بنو سعد دیکھنے جائیں گے۔
    دارالسلام جدہ برانچ کے منیجر اشرف علی خود ہی کوسٹر کی ڈرائیونگ کررہے تھے وہ بھی اسلامی اقدار کے شیدائی ہیں۔ بڑے مشاق ڈرائیور ہیں اور پہلے بھی ایک مرتبہ بنو سعد جاچکے ہیں۔
    دن کے ١١بجے کے لگ بھگ ہم مکہ سے طائف پہنچے تو محترم سیف الرحمن صاحب ہمارے منتظر تھے ۔ انہوں نے اشرف صاحب کو اشارہ کیا کہ ان کی گاڑی کو فالو کریں۔انہوں نے ایک جگہ پارکنگ میں گاڑی لگائی اور اس میں سے کھانے کی ڈھیر ساری اشیاء نکال کر ہماری گاڑی میں رکھ دیں۔میں نے پوچھا:یہ کیا ہے؟ کہنے لگے: معمولی سا ناشتہ ہے، آپ لوگوں کو سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گاؤں میں جاکر کروائیں گے۔ میری اہلیہ بھی رشتہ میں ان کی بھتیجی لگتی ہیں۔ رشتہ داروں سے کافی عرصہ بعد ملاقات ہو تو اس کا ایک اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ ان کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اب ہمارا رخ یمن کی طرف تھا۔ سعودی عرب میں اب سڑکوں کا نظام بڑا عمدہ ہے۔ دو رویہ سڑک پر ہم کم وبیش60 کلو میٹر تک چلتے گئے۔ سیف الرحمن صاحب اپنے فون سے گاہے بگاہے کسی عربی سے ہدایات لیتے رہے کہ اچانک شقصان نامی گاؤں کے اڈے پر انہوں نے اشرف صاحب کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ اب عقدہ کھلا کہ انہوں نے ایک سعودی بدو سے طے کررکھا تھا کہ وہ ہمیں اس گاؤں سے سیدہ حلیمہ کے گاؤں تک اپنی گاڑی میں لے جائے گا۔ ہم نے اس کی گاڑی دیکھی بڑے پرانے ماڈل کی جی ایم سی تھی۔ جس کا دروازہ بھی بہت زورلگانے سے کھلتا تھا۔ خواتین پہلے تو دیکھ کر کہنے لگیں کہ کیا اپنی گاڑی نہیں جاسکتی؟ معلوم ہوا کہ یہاں سے مغرب کی طرف کچا راستہ ہے۔ یہ پہاڑی راستہ ہے جس میں بیسیوں موڑ ہیں۔ اونچی نیچی پہاڑیوں کے ان راستوں کو مقامی لوگ ہی جانتے ہیں اور ان پر اس قسم کی گاڑیاں ہی سفر کرسکتی ہیں۔
    ہمارے گائیڈ کا نام علی العتیبی تھا ۔بڑے مضبوط اور توانا جسم کا مالک بدوجو اسی علاقے میں پیدا ہوا۔ میرے استفسار پر بولا : میرا گاؤں یہاں سے تیس کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ میرا والد اونٹ چرایا کرتا تھا۔ میں نے پچیس سال تک سعودی آرمی میں نوکری کی ہے اور اب میں نے وہاں سے ریٹائر منٹ لے لی ہے۔ دو بیویوں سے میرے دس بچے ہیں۔ ایک بیوی کو طلاق دے چکا ہوں۔ میں نے باتوں باتوں میں اس کا مکمل انٹرویو لے لیا۔ ہم بے دلی کے ساتھ اس کی گاڑی میں سوار ہوئے کہ خاصی پرانی اور قطعاً آرام دہ نہ تھی۔ مگر ہم اس سفر کے نہایت مشتاق تھے۔ظہر کا وقت قریب تھا۔ طے یہ پایا کہ ہم ظہر کی نماز وہاں پہنچ کر ادا کریں گے۔ کم وبیش چالیس منٹ کا یہ سفر بڑا اچھا گذرا۔ پہاڑی راستہ اونچی نیچی سڑک اس پر اگر ہم اپنی نئی نویلی گاڑی کو لے جا تے تو اس کا ستیاناس ہوجاتا اور ہم وہاں تک شاید ہی پہنچ پاتے کیونکہ وہاں تک جانے کے لیے راستہ سے واقف شخص کا ہونا ضروری تھا۔ میں اس جگہ کا بڑی دیر سے منتظر تھااور چشم تصور سے دیکھ رہا تھا کہ یہاں سے دس بدوی خواتین کا قافلہ اپنے خاوندوں کی رہنمائی میں مکہ کی طرف جارہا ہے۔ یہ علاقہ کوئی زرخیز نہیں ہے۔ پہاڑوں پر کھیتی باڑی بھی زیادہ نہیں ہے۔پہاڑی وادیوں اور نشیب میں کہیں کہیں تھوڑی سی جگہ پر زراعت ہو سکتی ہے۔ یہاں پر خار دار جھاڑیاں بھی کم ہی ہیں۔ لوگوں کا ذریعہ معاش اونٹوں اور بکریوں سے ہونے والی آمدنی ہے۔ وہ ان کا دودھ پیتے، ان کی کھال سے فائدہ اٹھاتے، کبھی کبھار ان کو ذبح کرکے ان کا گوشت کھاتے ہیں اور اگر قسمت ساتھ دے اور بارش ہوجائے تو کچھ کھیتی باڑی کی صورت نکل آتی ہے جس سے گیہوں کی فصل ہوجاتی ہے۔
    بنو سعد کے علاقے میں قبیلہ سعد بن بکر دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ خاندان اصل میں بنو ہوازن کی ایک شاخ ہے۔ یہ وہی قبیلہ ہے جس نے حنین کے میدان میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقابلہ کیاتھا۔یہاں کا موسم اور آب وہوا نہایت صحت افزا تھی۔ ہر سال کچھ عورتیں مکہ مکرمہ آتیں اور وہاں کے خوشحال اور امیر قریشی گھرانوں کے شیر خوار بچوں کو لے جاتیں۔ دو سال تک انہیں دودھ پلاتیں۔ پھر انہیں واپس والدین کو پہنچادیتیں۔ اوربچے کے والدین سے حسب توفیق انعام واکرام حاصل کرتیں۔
    ان دس عورتوں کے قافلہ میں ایک خاتون حلیمہ بنت ابی ذؤیب بھی تھیں۔ ان کے خاوند کا نام حارث بن عبدالعزی اور کنیت ابو کبشہ تھی۔ دونوں میاں بیوی قبیلہ بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی دو بیٹیوں کے نام انیسہ اور حذافہ تھے۔ انہی حذافہ کا لقب شیما تھا اور وہ اسی نام سے زیادہ مشہور ہوئیں۔ بیٹے کا نام عبداللہ تھااور یہ سب سے چھوٹا بچہ تھا۔جب اللہ کے نبی حلیمہ سعدیہ کی چھاتی سے دودھ پیتے تھے تو یہی عبداللہ رضاعی بھائی کے طور پر ان کی گودمیں تھا۔ اس علاقے میں نہایت درجہ غربت اور افلاس تھا۔ علاقے میں خشک سالی کے باعث قحط پڑا ہوا تھا۔ اس لیے یہ قافلہ مکہ کی طرف جارہاتھا۔سیدہ حلیمہ ایک گدھی پر سوار تھیں ان کے پاس ایک اونٹنی بھی تھی لیکن اس میں سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا۔ چھوٹا سا عبداللہ اس قدر بلکتا تھا کہ وہ رات بھر سونہیں سکتے تھے۔
    جب قافلہ مکہ میں پہنچا تو تمام خواتین دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکل گئیں۔ تمام عورتوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا گیا مگر جب ان کو بتایا جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم ہیں تو وہ آپ کو لینے سے انکار کردیتیں۔ وہ صرف بڑے بڑے امیر گھرانوں کے بچوں کی تلاش میں تھیں۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ سیدہ حلیمہ کے سوا ہر عورت کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا۔ قافلہ واپس جانے لگا تھا تو سیدہ حلیمہ نے اپنے خاوند سے کہا : اللہ کی قسم! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری تمام سہیلیاں تو بچے لے لے کر جائیں اور تنہا میں کوئی بچہ لیے بغیر واپس چلی جاؤں۔سیدہ حلیمہ نے اپنے خاوند کو فیصلہ سنایا کہ میں جاکر اسی یتیم کو گود لے رہی ہوں۔حارث کہنے لگے : اس میں کوئی حرج نہیں تم جاؤ اور اسی بچے کو لے آؤ ممکن ہے کہ اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے دے۔
    حلیمہ سعدیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ کے پاس گئیں اور ان سے آپ کو گود لے لیا۔ ادھر سیدہ آمنہ بھی خوش تھیں کہ ان کا بیٹا دیہات کی صاف وشفاف آب وہوا میں نشو نما پائے گا۔ اس وقت کے شرفاء کا یہی دستور تھا۔ قریش کو اپنی زبان سے بے حد محبت تھی۔ قوم کے سردار کے لیے ضروری تھا کہ فصیح اللسان ہو۔ بچوں کو بچپن ہی سے فصیح وبلیغ عربی کا عادی بنایا جاتاتھا۔ قریش نے کچھ دیہاتی قبائل منتخب کررکھے تھے۔ وہ بچپن سے ہی اپنے بچوں کو پرورش کے لیے ان قبائل میں میں بھجوا دیتے تھے۔ یہاں کی زبان شہری علاقوں کی نسبت زیادہ خالص اور فصیح وبلیغ ہوتی تھی۔بچے کے بول چال پر اس کے اثرات پوری زندگی باقی رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا : أَنَا أَعْرَبُکُمْ أَنَا قُرَشِّ وَاسْتَرْضَعْتُ فِ بَنِ سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ ۔ ''میں تم میں سب سے زیادہ شستہ اور صحیح عربی بولنے والا ہوں، میں قریشی ہوں اور قبیلہ بنو سعد میں میں نے دودھ پیا ہے (جو فصاحت وبلاغت میں ایک اعلی مقام کا حامل ہے)'' بنو سعد میں آپ کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بھی تھے۔ انہوں نے بھی سیدہ حلیمہ کا دودھ پیاتھا اس لیے یہ بھی آپ کے رضاعی بھائی ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بھی رضاعت کے لیے بنو سعد کی ایک عورت کے حوالے کیے گئے تھے۔ ایک دن وہ عورت سیدہ حلیمہ کے پاس تھیں کہ حمزہ کو بھی سیدہ حلیمہ نے اپنا دودھ پلادیا۔ اس طرح وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے رضاعی بھائی ہوگئے۔ کیونکہ ان کو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو سیدہ ثویبہ نے بھی دودھ پلایاتھا۔
    سیدہ حلیمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گود میں اٹھایااور اپنے خیمے میں آکر انہیں اپنی آغوش میں رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر چاہا خوب سیر ہوکر دودھ پیا۔ ان کے ساتھ ان کے رضاعی بھائی عبداللہ نے بھی شکم سیر ہو کر پیا اور دونوں سوگئے۔ سیدہ حلیمہ فرماتی ہیں کہ اس سے پہلے بچہ بھوک کی وجہ سے روتا رہتا اور ہم رات کو سونہیں سکتے تھے۔ ادھر سیدہ حلیمہ کے شوہر حارث اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کے تھن دودھ سے لبریز ہیں۔انہوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہوکر پیا۔ اور ہماری رات نہایت آرام سے گذری۔

    ہماری گاڑی کا ڈرائیور علی العتیبی بڑی چابکدستی سے جیمس چلارہاتھا۔ وہ ہمیں اس علاقہ کی تاریخ سے بھی آگاہ کرتا گیا کہ ایک وقت تھا جب یہاں قبائل میں جنگ ہوتی رہتی تھی۔ ایک قبیلہ کا فرد دوسرے کے علاقے میں نہیں جاسکتاتھا۔ مگر آل سعود کی حکومت آئی تو یہاں پر امن و امان قائم ہوگیا۔ دور پہاڑیوں کی چوٹیوں پر ہمیں بکریاں چرتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ڈاکٹرزعیم الدین نے کچھ دیر تو صبر کیا مگر پھر وہ کہنے لگے: گاڑی روکیں ہمیں اگلی سیٹ پر بیٹھنا ہے۔انہوں نے اپنے موبائل سے علاقے کی ویڈیو بنانا شروع کردی۔سیدہ حلیمہ کے گاؤں کا نام شوحطہ تھا۔ آج کل اسے بعض وقائع نگار شحطہ بھی لکھتے ہیں مگر شوحطہ ہی صحیح ہے ۔یہ سڑک کے راستہ مکہ سے160 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ شقصان سے کچا راستہ15 سے 20 کلو میٹر تو ضرور ہوگا۔ دور سے ایک وادی کی طرف محترم سیف الرحمن نے اشارہ کیا کہ یہ رہا سیدہ حلیمہ کا گاؤں۔ گاڑی نے سیدھی طرف سے ایک چکر لگایا اور قدرے اونچے ٹیلے پر چڑھ گئی۔ پچھلی جانب شوحطہ نامی گاؤں نظر آرہا تھا جو دو فرلانگ کے فاصلے پر ہوگا۔ گاڑی بتدریج اوپر چڑھتی چلی گئی۔ نیچے قبرستان نظر آیا اور اس کے ساتھ کھیتیاں جو اس وقت خشک تھیں۔ علی نے گاڑی کو الٹے ہاتھ گھمایا میں نے سامنے کی طرف دیکھاتو چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں کچھ آثار نظر آئے کہ یہاں پر کبھی آبادی ہوتی تھی۔ علی نے گاڑی پارک کی اور ہم سے کہا : آپ لوگ یہاں پر گھومیں پھریں جب تک جی چاہے قیام کریں۔ تصاویر بنائیں۔ جب جانے کا موڈ ہو مجھے اشار ہ کردیں تو میں آپ کو لے کر چلوں گا۔ اچانک اس نے مجھ سے کہا: بھئی آپ لوگوں نے تو نماز قصر ادا کرنا ہوگی؟۔ جب میں نے اثبات میں جواب دیا تواس نے کہا : میں تو مقامی ہوں اور فوراً نیت باندھ کر نماز ادا کرنا شروع کردی۔
    اس وادی پر گویا ابر رحمت چھایا ہوا تھا۔ بہت سکون اور اطمینان کی فضا تھی۔یہ کوئی بڑی وادی نہیں ہے تاہم زیادہ چھوٹی بھی نہیں ۔ پندرہ سے بیس ایکڑ تو ہوگی۔ سیدہ حلیمہ کے گاؤں کے حالات اب وہ نہیں رہے جو کبھی تھے۔ اس واقعہ کو پندرہ سو سال گذر چکے ہیں۔ پتھروں کے نشانات ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چار دیواریاں ہیں۔ ہم لوگ پہاڑی کے اوپر الٹی طرف چڑھتے چلے گئے ۔ دو یا تین مقامات کی طرف اشارہ کرکے ہمیں بتایا گیا کہ یہ سیدہ حلیمہ کے قبیلہ والوں کے گھر تھے۔ کسی پاکستانی نے سفیدی سے شکستہ خط میں لکھا ہوا تھا ''بیت حلیمہ'' یہ نہایت چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ غالباً بارش کے وقت ہی ان میں رہا جاتا ہوگا۔ اور باقی وقت خیموں میں گذرتا ہوگا۔ ڈاکٹر زعیم الدین اپنی اہلیہ کے ہمراہ بڑی پھرتی سے پہاڑی کے اوپر چڑھ گئے ۔ میری اہلیہ آہستہ آہستہ پنجابی کے اشعار گنگنا تی ہوئی چل رہی تھیں: حلیمہ میں تیرے مقدراں توں صدقے……
    میں نے ایک بار پھر چشم تصور سے دیکھنا شروع کیا کہ سیدہ حلیمہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لیے مکہ سے بنو سعد کی طرف روانہ ہوئی ہیں۔ جس قافلہ سے مکہ گئیں تھیں اسی میں واپس آرہی تھیں۔کہاں مکہ جاتے وقت یہ کیفیت کہ ان کی گدھی کمزوری اور دبلے پن کا شکار تھی ، مگر اب واپس اس شان سے ہورہی ہیں کہ ان کے اپنے الفاظ ہیں : اپنی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا لیکن اب وہی گدھی اللہ کی قسم پورے قافلے کو کاٹ کر اس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی سواری اس کا ساتھ نہ پکڑ سکی۔ساتھی خواتین کہہ رہی تھیں: حلیمہ! ذرا ہم پر مہربانی کر آخر یہ تیری وہی گدھی تو ہے جس پر تو سوار ہو کر آئی تھی۔ میں کہتی: ہاں ہاں واللہ یہ وہی ہے۔ وہ کہتیں اس کا یقینا کوئی سبب تو ہوگا۔

    وادی کے شمالی جانب چھوٹے چھوٹے درخت اور گھاس اگی ہوئی نظر آئی یہ چھوٹے سے ٹیلے سے نیچی جگہ بنتی ہے۔ اس طرف اشارہ کرکے سیف الرحمن صاحب کہنے لگے کہ سینہ درسینہ روایات کے مطابق یہاں شق صدر کا واقعہ پیش آیا تھا۔سیدہ حلیمہ کے گھر والی جگہ کی اگر پیمائش کی جائے تو ساری ملا کر وہ دس پندرہ مرلہ سے زائد نہ ہوگی۔ کسی پاکستانی نے یا کسی اور نے اس جگہ مسجد بنانے کی کوشش کی مگر اعلی حکام نے غالباً بدعات اور خرافات کے ڈر سے اسے مکمل نہ ہونے دیا۔ تاہم پتھروں کے نشانات سے محراب اور مسجد کی نشاندہی موجود ہے۔
    میں بار بار اس وادی کی طرف دیکھتا اس کے ذرے ذرے پر غور کرتا کہ سبحان اللہ ! یہ وہی جگہ ہے جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچپن گذاراتھا۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رضاعی والدہ کے ساتھ بنی سعد میں تشریف لائے۔ میں نے تاریخ کی کتابوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت عمر مبارک کتنے دن یا کتنے ماہ کی تھی۔محمد ابو شہبہ اپنی سیرت نبوی کی کتا ب میں لکھتے ہیں کہ پہلے سیدہ آمنہ نے آپ کو تین ، سات یا نودن تک دودھ پلایا ، پھر ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے قریبا اتنے ہی روز آپ کو دودھ پلایا اور اس کے بعد حلیمہ سعدیہ وہاں تشریف لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ عزالدین بن جماعة نے مختصر السیر میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوپہلے سیدہ آمنہ نے سات روز تک دودھ پلایا پھر چند روز ثویبہ نے اور اس کے بعد حلیمہ سعدیہ پلاتی رہیں۔
    تاہم وہ اس بستی میں آئے تو اپنے رضاعی والدین کے لیے رحمتیں اور برکتیں لے کر آئے۔ سیدہ حلیمہ اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ہم بنو سعد میں اپنے گھروں کو آگئے، مجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی زمین کا کوئی خطہ ہمارے علاقے سے زیادہ قحط زدہ تھا۔ لیکن مکہ سے واپسی کے بعد میری بکریاں چرنے جاتیں تو آسودہ حال اور دودھ سے بھرپور واپس آتیں۔ہم انہیں دوہتے اور دودھ پیتے جبکہ کسی اور انسان کو دودھ کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوتا۔ ان کے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سرے سے رہتا ہی نہ تھا۔حتی کہ ہماری قوم کے لوگ اپنے چرواہوں سے کہتے: کم بختو! جانور وہاں چرانے لے جایا کرو جہاں ابو زؤیب کی بیٹی کا چرواہا لے کر جاتا ہے، لیکن تب بھی ان کی بکریاں بھوکی ہی واپس آتیں اور ان کے اندر ایک قطرہ دودھ نہ رہتا، جبکہ میری بکریاں آسودہ دودھ سے بھرپور لوٹتیں۔

    میں ادھر ادھر چل کر اس سر زمین کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلنا شروع کیا۔ ننھے سے محمد سے ان کی رضاعی بہن شیما کتنا پیار کرتی ہوگی۔ان کو گود میں اٹھاتی لوریاں سناتی، کھلاتی پلاتی اور ان کے ناز اٹھاتی ہوگی ۔ سیدہ حلیمہ کے بقول آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس تیزی سے بڑھ رہے تھے کہ دو سال پورے ہوتے ہوتے خاصے بڑے معلوم ہونے لگے تھے (الرحیق المختوم)
    سیدہ حلیمہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ میری چھاتی کی دائیں جانب سے ہی دودھ پیتے اور جب میں بائیں جانب آگے کرتی تو آپ منہ ہٹا لیتے۔ مجھے اس پر حیرت ہوتی مگر سیدہ حلیمہ کو کیا معلوم تھا کہ یہ وہ بچہ ہے جو بڑا ہوکر قناعت کا معلم، مساوات کا علمبردار، اور عدل وانصاف کا پیکربنے گا۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے واقعات سیرت نگاروں نے بڑی محبت سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لکھے ہیں ان کو لکھتے یا پڑھتے وقت آدمی کے ایمان میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔سیدہ حلیمہ کے گاؤں میں ہمارا وقت بہت تیزی سے گذر رہا تھا۔ جس طرف شق صدر کا واقعہ ہوا تھا وہاں پر خار دار تار لگا کر اس ایریا کو بند کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر زعیم الدین تو اپنی اہلیہ سمیت تیزی سے چلتے ہوئے وہاں کا چکر لگا آئے۔ہمارا خیال تھا کہ دو پہر کا کھانا جسے سیف الرحمن صاحب ناشتہ کا نام دے رہے تھے ہم اسی نشیبی جگہ پر کھائیں گے۔ مگر زعیم صاحب نے اطلاع دی کہ وہاں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں ہم بیٹھ سکیں۔ ہمیں نمازیں ادا کرنا تھیں۔ اشرف صاحب نے بہت پھرتی سے ایک بڑا قالین گاڑی سے نکالا اور اسے بچھا دیا۔ یہی ہماری جگہ ہے۔ میں نے بلند آواز سے تکبیر کہی اور ڈاکٹر زعیم صاحب کو امامت کے لیے کھڑا کردیا۔ انہوں نے نماز ظہر اور عصر قصر کر کے پڑھائی۔ سبحان اللہ دین میں کتنی آسانیاں ہیں۔ مسافروں کو نماز میں چھوٹ اور دو نمازوں کو اکٹھا کرلینے کی اجازت اللہ تعالی کی خاص رحمتوں میں سے ہے۔
    محترم سیف الرحمن اور اشرف علی صاحب نے دستر خوان سجا دیا۔ ایک بڑے سے برتن کا جب ڈھکن اتارا گیا توآلو کے پراٹھے نظر آئے۔اب بھوک بھی خوب چمک اٹھی تھی۔ ایک برتن میں حلوہ تھا۔ لبن زبادی اور مراعی کا لبن، ضیافت کا مزہ آگیا۔ آئندہ کے لیے طے ہوگیا کہ یہ بہترین ضیافت ہے جب کبھی سفر میں جانا ہو تو آلو کے پراٹھے بہترین چیز ہے۔ نہ برتنوں کی ضرورت نہ شوربہ گرنے کا اندیشہ…اللہ اللہ خیر سلا۔
    میری نگاہیں اس خوبصورت جھاڑی کی طرف تھیں جو اس جگہ واقع تھی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہاں پر شق صدر کا واقعہ پیش آیاتھا۔ یہ مقام سیدہ حلیمہ کے گھر سے زیادہ دور نہیں۔ وہاں پر سبزہ بھی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک جب دو سال کی ہوئی زمانہ رضاعت پورا ہوگیا تو سیدہ آپ کو لے کر مکہ مکرمہ آئیں تاکہ سیدہ آمنہ کی امانت ان کے سپرد کردیں۔ لیکن اس دوران بچے کی جو محبت سیدہ حلیمہ کے گھر والوں میں پیدا ہو چکی تھی اور جن خیر وبرکات سے اس گھرانے کو فائدہ ہوا تھا سیدہ حلیمہ نے سیدہ آمنہ سے درخواست کی کہ کچھ عرصہ کے لیے اس بچے کو ہمارے پاس ہی رہنے دیا جائے۔شاید ان دنوں مکہ میں وباء پھیلی ہوئی تھی۔ سیدہ حلیمہ نے بار بار درخواست کی تو سیدہ آمنہ نے ان کی درخواست منظور کرلی اور وہ آپ کو لے کر ایک مرتبہ پھر بنوسعد میں آگئیں۔
    ہمارا ڈرائیور یا گائیڈ علی العتیبی ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں لیٹ گیا۔ میری اہلیہ نے باجی ناصرہ سے کہا: آؤ بہن تمہیں دکھاؤں کہ بدو کلچر کیسا ہوتا ہے۔ اس نے علی العتیبی کی طرف اشارہ کیا کہ دیکھو یہ شخص کس آسانی اور بے تکلفی کے ساتھ زمین پر لیٹا ہوا ہے۔ ہمارے پاس کھانا کافی مقدار میں تھا ۔ میں نے علی کو آواز دی کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاؤ۔ پہلے تو اس نے انکار کیا مگر پھر میرے اصرار پر جھجکتے ہوئے شریک ہو گیا۔ اسے بھی آلو کے پراٹھے بہت پسند آئے۔ خواتین نے اپنے لیے جی ایم سی میں ہی دستر خوان بچھا لیا۔ میری نگاہیں اور خیالات کا رخ اس سہانے وقت کی طرف تھا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے دودھ شریک بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرانے کے لیے جانے لگے تھے۔
    ایک دن گھر سے قدرے دور آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبریل نے آپ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا۔ سینہ چاک کر کے دل نکالا اور اس میں سے خون کاایک لوتھڑا نکال کر فرمایا: یہ تم سے شیطان کا حصہ تھا۔ پھر دل کو ایک طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے واپس اس کی جگہ پر جوڑ دیا۔ادھر بچے دوڑ کر اپنی والدہ سیدہ حلیمہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا گیا ہے۔ گھر والے بھاگم بھاگ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ کا رنگ اتراہوا تھا۔ سیدنا انس بن مالک جو اس حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں: میں سلائی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر دیکھا کرتا تھا۔

    ہم نے اس وادی میں کم وبیش دو گھنٹے کا وقت گزارا۔ بلاشبہ یہ میری زندگی کا بہت یاد گار سفر تھا۔ یہاں پر اس قدر لطف آیا کہ واپس آنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، مگر ڈاکٹر زعیم الدین مکہ مکرمہ واپسی پر ایک اور عمرہ کرنا چاہ رہے تھے اور میری بھی مغرب کے بعد امام وخطیب حرم شیخ عبد الرحمن السدیس کے ساتھ ملاقات طے تھی، اس لیے قطعا نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے وہاں سے واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ علی العتیبی نے ہمیں بغیر کسی تاخیر کے منزل مقصود پر پہنچا دیا۔ میرا تجربہ ہے کہ واپسی کا سفر بالعموم جلدی طے ہو اکرتا ہے۔ ہم راستہ میں سیرت پاک کے حوالہ سے تنعیم پہنچے ۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کی اہلیہ نے احرام باندھا اور لبیک اللہم لبیک کہتے ہوئے ہم مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,548
    بہت اچھا لگا پڑھ کے
    جزاک اللہ خیر
     
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جزاک اللہ خيرا
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جزاک اللہ خیرا

    روشنی میں یہ سفر نامہ پہلے بھی پڑھ چکا ہوں، کئی بار اس علاقے کے قریب سے گذرتے ہوئے دل چاہا کہ وہاں بھی چلا جاؤں لیکن یہ سطور پڑھنے کے بعد اس خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکا:
    عبدالمالک مجاہد حفظہ اللہ کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ قاری نہ صرف خود کو اس جگہ پر محسوس کرتا ہے بلکہ اس دور میں بھی چلا جاتا ہے جس سے یہ منسوب ہوتی ہے اور ان تاریخی واقعات سے بھی بخوبی واقف ہو جاتا ہے۔
     
  7. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    عبدالمالک مجاہد صاحب حفظہ اللہ کی یہ پہلے بھی پڑھی تھی اب دوبارہ پڑھ کر بہت اچھا لگا
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں