احد کے بعد کی جنگ مہمات

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏اپریل 18, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    صفحہ نمبر 394:
    احد کے بعد کی فوجی مہمات:
    مسلمانوں کی شہرت اور ساکھ پر احد کی ناکامی کابہت برا اثر پڑا تھا۔ ان کی ہوا اکھڑ گئی تھی اور مخالفین کے دلوں سے ان کی ہیبت جاتی رہی تھی۔اس کے نتیجےمیں اہل ایمان کی داخلی اور خارجی مشکلات میں اضافہ ہو گیا تھا ۔مدینے پر ہر جانب سے خطرات منڈلانے لگے تھے۔یہود ،منافقین اور بدووں نےکھل کر عداوت کا مظاہرہ کیا اور ہرگروہ نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی کوشش کی بلکہ یہ توقع باند ھ لی کہ وہ مسلمانوں کا کام تمام کر سکتاہے اور انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ سکتاہے چنانچہ اس غزوےکو ابھی دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کجہ بنو اسد نے مدینےپر چھاپ مارنے کی تیاری کی پھر صفر4 ھجری میں عضل اور قارہ کے قبائل نے ایک ایسی مکار انہ چال چلی کہ دس صحابہ کرام کو شہادت نوش کرنا پڑا ،اور ٹھیک اسی مہینے میں رئیس بنو عامر نے اسی طرح کی ایک دغابازی کے ذریعے ستر صحابہ کرام کو شہادت سے ہمکنار کرایا ۔ یہ حادثہ بئر معونہ کے نام سے معروف ہے اس دوران بنونضیر بھی کھلی عداوت کا مظاہر ہ شروع کر چکے تھے یہاں تک کہ انہوں نےربیع الاول 4 ھجری میں خود نبی ﷺ کو شہید کرنے کی کو شش کی ادھر بنوغطفان کی جرا ت اس قدربڑھ گئی تھی اکہ نہوں نے جمادی الاول 4 ھ میں مدینے پر حملہ کا پروگرام بنایا۔غرض یہ کہ مسلمانوں کی جو ساکھ غزوہ احد میں اکھڑ گئی تھی اس کے نتیجے میں مسلمان ایک مدت تک پیہم خطرات سے دو چار رہے ۔لیکن وہ تو نبی کریم ﷺ کی حکمت بالغہ تھی جس نے سارے خطرات کا رخ پھیر کر مسلمانوں کی ہیبت رفتہ واپس دلا دی اور انہیں دوبارہ مجدد عزت کے مقام بلند تک پہنچا دیا ۔اس سلسلے میں آپ ﷺ کا سب سے پہلا قدم حمراء الاسد تک مشرکین کے تعاقب کا تھا اس کاروائی سے آپ ﷺ کے لشکر کی آبرو بڑی حد تک برقرارہ گئی کیونکہ یہ ایسا پر وقار اور شجاعت پر مبنی جنگی اقدام تھا کہ مخا لفین خصوصاً منافقین اور یہود کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے مسلسل ایسی جنگی کاروائیاں کیں کہ ان سے مسلمانوں کی صرف سابقہ ہیبت ہی بحال نہیں ہوئی بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہو گیا ۔ اگلے صفحات میں انہیں کا کچھ تذکرہ کیا جارہا ہے۔
    سریہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ:
    جنگ احد کے بعد مسلمانوں کے خلاف سب سے پہلے بنو اسدبن خزیمہ کا قبیلہ اٹھا ۔ اس کے متعلق مدینے میں یہ اطلاع پہنچی کہ خویلد کے دو بیٹے طلحہ اور سلمہ اپنی قوم اور اپنےاطاعت شعاروں کو لے کر بنو اسد کو رسول اللہ ﷺ پر حملےکی دعوت دتیے پھر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جھٹ دیڑھ سو انصار و مہاجرین کا دستہ تیار فرمایا اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو اس کا علم دے کر سپ سالا ر بنا کر روانہ کر دیا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بنو اسد کے حرکت میں آنے سے پہلے ہی ان پر اس قدر اچانک حملہ کر دیا کہ وہ بھاگ کر ادھر ادھر بکھر گئے۔مسلمانوں نےان کے اونٹ اور بکریوں پر قبضہ کرلیا اور سالم و غانم مدینہ واپس آگئے۔ انہیں دو بدو جنگ بھی نہیں کرنا پڑی۔یہ سریہ محرم 4 ھجری کا چاند نمودار ہونے پر روانہ کیا گیا ھا واقسی کے بعد حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کاایک زخم جو انہیں احد میں آیا تھا پھوٹ پڑا اور اس کی وجہ سے وہ جلد ہی وفات پاگئے۔(زادا المعاد 2/108)
    عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ کی مہم:
    اسی ماہ محر م سن4ھجری کی 5 تاریخ کو یہ خبر ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے فوج جمع کر رہا ہے ۔رسول اللہﷺ نے اس کے خلاف کا روائی کے لئے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا: عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ مدینہ سے 18 روز باہررہ کر 23 محرم کو واپس تشریف لائے وہ خالد کو قتل کر کے اس کاسر بھی ہمراہ لائے تھے۔ جب خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر انہوں نے یہ سر آپ ﷺ کے سامنے ہیش کیا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا کہ یہ میرے اور تمہارے در میان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان کے کفن میں لپیٹ کر دیا جائے ۔(ابن ہشام 2/109)
    رجیع کا حادثہ:
    اسی سال 4 ھجری کے ماہ صفر میں رسول اللہﷺ کے پاس عضل اور قارہ کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور ذکر کیا کہ ان کےاند ر اسلام کاکچھ چرچا ہے۔ آپ ﷺ ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو دین سکھانے اورقرآن پڑھانے کےلئے روانہ فرمادیں ۔ آپ ﷺ نے ابن اسحاق کے بقول چھ افراد کو صحیح بخاری کی روایت کےمطابق دس افراد کو روانہ فرمایا اور ابن اسحاق کے بقول مرثد بن ابی مرثد غنوی کو صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عاصم بن عمر بن خطاب کے ناناحضرت عاصم رضی اللہ عنہ بن ثابت کو ان کا امیر مقرر فرمایا جب یہ لوگ رابغ اور جدہ کے درمیان قبیلہ ہذیل کے رجیع نامی ایک چشمے پر پہنچنے تو ان پر عضل اور قارہ کےمذکورہ افراد نے قبیلہ ہذٰیل کی ایک شاخ بنو لحیان کے کوئی ایک سو تیر اندازان کے پیچھے لگ گئے اور نشانات قدم دیکھ دیکھ کر انہیں جالیا ۔ یہ صحابہ کرام ایک ٹیلے پر پناہ گیر ہوگئے ۔ بنولحیان نے انہیں گھیر لیا اور کہا تمہارے لئے عہد و پیمان ہے کہ اگر ہمارے پاس اترآؤ تو ہم تمہارے کسی آدمی کو قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے اترنے سے انکار کر دیا اور اپنےرفقاء سمیت ان سے جنگ شروع کر دی۔ بالآ خر تیروں کی بوچھاڑ سے سا ت افراد شہید ہوگئے۔ اور صرف تین آدمی حضرت خبیب رضی اللہ عنہ زید بن دثنہ اور ایک صحابی باقی بچے ۔ اب پھر بنو لحیان نے اپنا عہد و پیمان دہرایا ۔ اور اس پر تینوں صحابی ان کے پاس اتر آئے لیکن انہوں نے قابو پاتے ہی بد عہدی کو اورانہیں کمانوں کی تانت سے باندھ لیا اس پر تیسرے صحابی نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ پہلی بد عہدی ہے ان کے ساتھ جانے سے انکا ر کر دیا انہوں کھینچ گھسیٹ کر ساتھ لے جانےکی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئےتو انہیں قتل کر دیا اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اور زیدرضی اللہ عنہ کو مکہ لیجا کر بیچ دیا ۔ ان دونوں نے بد ر کے رو ز اہل مکہ کے سرداروں کو قتل کیا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کچھ عرصہ اہل مکہ کی قید میں رہے پھر مکے والوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور انہیں حرم سےبا ہر تنعیم لے گئے۔ جب سولی پر چھڑھانا چاہا تو انہوں نے فر مایا : مجھے چھوڑ دو ذرا دو رکعت نماز پڑھ لوں مشرکین نے چھوڑ دیا ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی جب سلام پھیرے چکے تو فر مایا : بخدا اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ میں گھبراہٹ کی وجہ سے کر رہاہوں تو میں کچھ اور طول دیتا اس کے بعد فرمایا : اے اللہ انہیں ایک ایک کر کے گن لے پھر انہیں بکھیر کر مارنا اور ان میں سے کسی ایک کو باقی نہ چھو ڑنا ۔پھر یہ اشعار کہے۔
    [font="al_mushaf"]
    لقد اجمع الا حزاب حولی والبوا۔۔۔۔۔ قبائلھم واستجموا کل مجمع
    وقد قربوا ابناء ھم ونساھم ۔۔۔۔۔۔وقربت من جزع طویل ممنع
    الی اللہ اشکو غربتی بعد کربتی ۔۔۔۔وماجمع الاحزاب لی عندک مضجعی
    فذ ا العرش صبرنی علی مایرا دبی ۔۔۔ فقد بضعوا الحمی وقد بؤ س مطعمی
    وقدخیرونی الکفر ولموت دونہ۔۔۔۔ فقد ذرفت عینا ی من غیر مدمع
    ولست ابالی حین اقتل مسلما۔۔۔ علی ای شق کا ن اللہ مضجعی
    ولک فی ذات الا لہ وان یشا۔۔۔ یبارک علی اوصال شلوممزع​

    ترجمہ:
    "لوگ میرے گردگروہ در گروہ جمع ہو گئے ہیں ، اپنے قبائل کو چڑھاا لائے ہیں اور سارا مجمع جمع کر لیا ہے ، اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بھی قریب لے آئے ہیں اور مجھے ایک لمبے مضبوط تنے کے قریب کر دیا گیا ہے میں اپنی بے وطنی و بیکسی کا شکو ہ اور اپنی قتل گاہ کے پاس گروہوں کی جمع کردہ آفات کی فریاد اللہ ہی سے کر ہارہوں ۔اے عرش والے! میرے خلاف دشمنوں کے جو ارادے ہیں اس پر مجھےصبر دے،انہوں نے مجھے بوٹی بوٹی کر دیا ہے ۔ اور میری خوراک بری ہو گئی ہے ۔ انہوں نے مجھے کفر کا اختیار دیا ہےحالانکہ موت اس سے کمتر اور آسان ہے ۔میری آنکھیں آنسو کے بغیر امنڈ آئیں ،میں مسلمان مارا جاوں تو مجھے پرو انہیں کہ اللہ کی راہ میں کس پہلو پر قتل ہوں گا۔یہ تو اللہ کی ذات کے لئے ہے اور وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کئے ہو ئےاعٖضاء کے جوڑ جوڑ میں برکت دے۔
    اس کے بعد ابو سفیان نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تمہیں یہ بات پسند آئے گی کہ تمہارے بدلے محمد ﷺ ہمارے پاس ہوتے ہم ان کی گرد ن مارتے اور تم اپنے اہل و عیال میں رہتے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ واللہ مجھے تویہ گوارا نہیں کہ میں اپنے اہل وعیال میں رہوں اور محمدﷺ کو جہاں آپ ہیں وہاں رہتے ہوئے کانٹا بھی چبھ جائے ۔اور وہ تکلیف دے۔اسکے بعد مشرکین نے انہیں سولی پر لٹکا دیا۔ اور ان کی لاش کی نگرانی کےلئے ایک آدمی مقرر کر دیا۔لیکن حضرت عمر و بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اوررات میں جھانسہ دے کر لاش اٹھا لے گئے اور اسے دفن کر دیا، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا قاتل عقبہ بن حارث تھا، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اس کے باپ حارث کا جنگ بد ر میں قتل کیا تھا،صحیح بخاری میں مروی ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے قتل کے مو قعہ پر دو رکعت نماز ادا کرنے کا طریقہ مشروع کیا۔ انہیں قید میں دیکھا گیا کہ وہ انگور کے گچھے کھا رہے تھے ۔ حالانکہ ان دنوں مکے میں کھجور بھی نہیں ملتی تھی، دوسرے صحابی جو اس واقعے میں گرفتار ہوئے تھے یعنی حضرت زید بن دثنہ ،انہیں صفوان بن امیہ نے خرید کر اپنے باپ کے بدلے میں قتل کر دیا تھا۔ قریش نے اس مقصد کےلئے آدمی بھیجے کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کا کوئی ٹکڑا لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے کیونکہ انہوں نے جنگ بدر میں قریش کے کسی عظیم آدمی کو قتل کی تھا لیکن االلہ نے ان پر بھڑوں کا جھنڈ بھیج دیا جس نے قریش کے آدمیوں سے ان کی لاش کی حفاظت کی اور یہ لوگ ان کو کوئی حصہ حاصل کرنے پر قدرت نہ پا سکے۔ در حقیقت حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے اللہ سے یہ عہد و پیماں کر رکھا تھا کہ انہیں کوئی مشرک چھوئے گا نہ وہ کسی مشرک کو چھوئیں گے۔ بعد میں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی خبرہوئی تو فرمایا کرتے تھے۔ کہ اللہ مومن بندے کی حفاظت اس کی وفات کے بعد بھی کرتا ہے جیسے اس کی زندگی میں کرتاہے۔( ابن ہشام 2/169 تا 179 زاد المعاد 2/109 صحیح بخاری 2/568،569،585)
    [/font]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    جزاک اللہ خیرا
    سبحان اللہ ۔
     
  3. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    769
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,750
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں