بئر معونہ کا المیہ

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏اپریل 18, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    صفحہ نمبر 398:
    بئر معونہ کا المیہ:
    جس مہینے رجیع کاحادثہ پیش آیا ٹھیک اسی مہینے بئر معونہ کا المیہ بھی پیش آیا جو رجیع کے حادثہ سے کہیں زیا دہ سنگین تھا اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو براء عامر بن مالک جو ملاعب الا سنہ ( نیزوں سے کھیلنے ولا) کے لقب سے مشہور تھا ،مدینہ میں خدمت نبوی میں حاضر ہو ا۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی اس اسلام کو قبول نہیں کیا لیکن دوری بھی اختیار نہ کی اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ اپنے اصحاب کو دعوت دین کے لئے اہل نجد کےپاس بھیجیں تو مجھے امید ہےکہ وہ لوگ آپکی دعوت قبول کرلیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنے اصحاب کے متعلق اہل نجد سے خطرہ ہے۔ ابوبراء نے کہاوہ میری پناہ میں ہو ں گے۔اس پر نبی ﷺ نے ابن اسحاق کی روایت کے بقول چالیس اور بخاری کی روایت کے مطابق ستر آدمیوں کو اس کے ساتھ بھیجا دیا۔ شرہی کی روایت درست ہے اور منذربن عمر و کو جو بنو ساعدہ سے تعلق رکھتے تھے اور معتق للمو ت ( موت کےلئے آزا دکر دہ ) لقب سے مشہور تھے ۔ان کا امیر بنا دیا ، یہ لوگ فضلاء قراء سادات و اخیار صحابہ کرام تھے دن میں لکڑیا ں کاٹ کر اس کے عوض اہل صفہ کے لئے غلہ خر ید تے تھے اور قرآن پڑھتے پڑھاتے تھے اور رات میں خدا کے حضور مناجات و نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ اس طرح چلتے چلاتے معونہ کے کنوئیں پر جا پہنچے یہ کنواں بنو عامر اورحرہ بنی سلیم کے درمیان ایک زمین میں واقع ہے وہاں پڑاؤ ڈالنے کےبعد ان صحابہ کرام نے ام سلیم کے بھائی حرام بن ملحان کو رسول اللہ ﷺ کا خط دے کر دشمن خدا عامر بن طفیل کے پاس روانہ کیا لیکن اس نے خط کو دیکھا تک نہیں اور ایک آدمی کو اشارہ کر دیا جس نے حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے اس زور کا نیزہ مارا کہ وہ نیزہ آر پار ہو گیا خون دیکھ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر۔۔۔! رب کعبہ کی قسم میں کا میا ب ہو گیا۔اس کے بعد فوراً ہی اس دشمن خدا عامرنے باقی صحابہ کرام پر حملہ کرنے کےلئے اپنے قبیلہ بنی عامر کو آواز دی مگر انہوں نے ابو براء کی پنا ہ کے پیش نظر اس کی آواز پر کان نہ دھرے ۔ادھر سے مایوس ہو کر اس شخص نے بنو سلیم کو آواز دی ۔ بنو سلیم کے تین قبیلوں عصیہ،رعل،اور ذکوان نے اس پر لبیک کہا اور جھٹ آکر صحابہ کر ام کا محاصرہ کر لیا جواباً صحابہ کرام نے بھی لڑائی کی مگر سب کے سب شہید ہو گئے صر ف حضرت خبیب بن زید بن نجار رضی اللہ عنہ زندہ بچے انہیں شہداء کے درمیان سے زخمی حالت میں اٹھا یا گیا اور وہ جنگ خندق تک حیات رہے ۔ان کے علاوہ مزید دو صحابہ کرام حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بن عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اونٹ چرارہے تھے انہوں نے جائے واردات پر چڑیوں کو منڈلاتے دیکھا تو سیدھے جائے واردات پر پہنچے پھر حضرت منذر رضی اللہ عنہ تو اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر مشر کین سے لڑتےہوئے شہید ہو گئے اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا لیکن جب بتایا گیا کہ ان کا تعلق قبیلہ مضر سے ہے تو عامر نے ان کی پیشانی کے با ل کٹواکر اپنی ماں کی طرف سے جس پر ایک گردن آزاد کرنے کی نذرتھی ۔۔آزادر کردیا۔
    حضرت عمر وبن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اس دردناک المیے کی خبر لے کر مدینہ پہنچے۔ان ستر فاضل مسلمانوں کی شاردت کے المیے نے جنگ احد کا چرکہ تازہ کر دیا اوریہ اس لحاظ سے زیادہ المناک تھا کہ شہداءاحد تو ایک کھلی ہوئی اور دو بد و جنگ میں مارے گئے تھے مگریہ بیچارے ایک شر مناک غداری کی نذر ہوگئے تھے۔ حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ واپسی میں وادی قناۃ کے سر ے پر واقع مقام قرقرہ پہنچے تو ایک درخت کے سائے میں اتر پڑے ۔ وہیں بنو کلاب کے دوآدمی بھی آکر اتر رہے۔ جب وہ دونوں بخیرسو گئے تو حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کا صفایا کر دیا ان کا خیال تھا کہ اپنے ساتھیوں کا بدلہ لے رہے ہیں حالانکہ ان دونوں کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عہد تھا۔ مگر حضرت عمر و رضی اللہ عنہ جانتے نہ تھے ۔ چنانچہ جب مدینہ آکر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی ساری کاروائی سنا ئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے ایسے دو آدمیوں کو قتل کیا ہے جن کی دیت مجھے لازماًادا کر نا ہوگی ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مسلمان اور ان کے حلفاء یہود سے دیت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے ۔(ابن ہشام 2۔183تام188 زاد المعاد 2۔109تا 110 صحیح بخاری 2۔584،586)
    اوریہی واقعہ غزوہ بنی نضیر کا سبب بنا جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ کو معونہ اور رجیع کےان المنا ک واقعات سے جو چند ہی دن آگے پیچھے آئے تھے (1) اس قدر رنج پہنچا تھا آپ ﷺ اس قد ر غمگین ہوئے (2)کہ جن قوموں اور قبیلوں نے ان صحابہ کرام کے ساتھ غدر و قتل کا یہ سلوک کیا تھا آپ ﷺ نے ان پر ایک مہینے تک بد دعا فرمائی ۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن لوگوں نے آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو بئر معونہ پر شہید کیا تھا ۔ آپ نے ان پر تیس روزتک بد دعا کی ۔آپ ﷺ نماز فجر میں رعل اور ذکوان ، لحیان اور عصیہ پر بد دعا رکر تے تھے اور فرماتے تھے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کےرسول ﷺ کی معصیت کی اللہ نے اس بارے میں اپنے نبی پر وحی نازل کی جو بعد میں منسوخ ہوگئی وہ وحی یہ تھی۔" ہماری قوم کو یہ بتلا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے تو وہ ہم سے راضی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں " اس کے بعد رسو ل اللہ ﷺ نے اپنا یہ قنوت ترک کر دیا۔(3)

    1(واقدی نے لکھا ہے کہ رجیع اور معونہ دونوں واقعات کی خبر رسول اللہ ﷺ کو ایک ہی رات میں آئی تھی)
    2(ابن سعد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس قدر اہل بئر معونہ پر غمگین ہوئے میں نے کسی اور پر آپ ﷺ کو اتنا غمگین ہوتے نہیں دیکھا ۔مختصر السیرۃللشیخ عبد اللہ ص 260)
    3(صحیح بخاری 2۔856،587،588)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,445
    بہترین شیئرنگ کاشکریہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں