بدر شہر میں چند گھنٹے

ابو ابراهيم نے 'دیس پردیس' میں ‏اپریل 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    بدر شہر میں چند گھنٹے


    عبدالمالک مجاہد،ریاض

    بدر کا شہر میری توقع سے کہیں بڑا نکلا ،میں تو اسے چھوٹا سا شہر سمجھتا تھا۔ مگر جب برادر عزیز عبداللہ حامد العبدلی نے بتایا کہ یہ شہر شمالاً جنوباً سات کلو میٹر لمبا اور کم وبیش ڈھائی کلو میٹر چوڑا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا۔ میں گذشتہ ایک ماہ سے مدینہ منورہ اور پھر بدر جانے کا ارادہ رکھتا تھا کہ اچانک ''دارالسلام لاہور'' کے سینئر ریسرچ سکالرز محسن فارانی عمرہ کے لیے تشریف لائے ۔ان کا اصرار تھا کہ میں ان سے ملنے کے لیے ضرور آؤں۔ مولانا عتیق الرحمن صدیقی جالیات بدر میں نئے ہی آئے ہیں۔ان سے گذشتہ ماہ اپریل 2011 میں مسجد نبوی میں ملا قات ہوئی تو ان کا ا صرار تھا کہ میں بدر ضرور آؤں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کی انتظامیہ بڑی متعاون ہے۔ آپ سے بخوبی واقف ہے۔ آپ کو تمام تاریخی مقامات کی سیر کروائیں گے۔ساتھیوں سے ملاقات بھی ہوجائے گی معلومات میں بہت اضافہ ہوگا۔ ان کا اشتیاق مجھے ماضی کے حسین یادوں میں لے گیا۔ بدر کا مقام تو اسلامی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں نے ان کے ساتھ وعدہ کرلیا کہ اقرب فرصت میں آپ کے پاس ہوں گا۔ میں موقع کی تلاش میں تھا کہ محسن فارانی صاحب بار بار آنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ محسن فارانی ایک مدت تک اردو ڈائجسٹ لاہور میں کام کرتے رہے پھر'' نوائے وقت'' میں چلے گئے۔گذشتہ آٹھ نو سال سے دارالسلام میں کام کررہے ہیں۔ وفائے عہد کا تقاضا تھا کہ ان سے ملاقات کی جائی۔ یہ جغرافیہ کے بڑے ماہر ہیں۔ میں نے سوچا ان کے ساتھ مدینہ منورہ کی سیر بڑی مفید ہوگی۔سفر کا ارادہ کیا تو پروفیسر محمد ذوالفقار کا بھی پروگرام بنا لیا کہ وہ انگلش ، اردو اور عربی کے بڑے ماہر ہیں کافی مدت سے دارالسلام میں ریسرچ سکالرز ہونے کے ساتھ ساتھ محسن فارانی کے دوست بھی ہیں۔
    10 مئی 2011 کو سعودی ائر لائن کی پرواز صبح سویرے ہی مدینہ منورہ پہنچ گئی۔ عزیزم منیب کبریا ہمیں سیدھے محسن فارانی صاحب کے پاس لے گئے۔ہم گلے ملے اور سیدھا مسجد قبا کا رخ کیا، نوافل ادا کیے ،دعائیں مانگیں اور کچھ دیر کے بعد ہم احد کے میدان میں کھڑے تھے۔ ہم نے وہاں میدان جنگ کے نقشے بنائے۔ معرکہ کہاں ہوا کہاں سے خالد بن ولید حملہ آور ہوئے۔ شہداء کو کہاں دفن کیا گیا۔ اس کی تفصیل کو ان شاء اللہ پھر عرض کروں گا۔مگر پہلے بدر کا شہر جہاں مولانا عتیق اللہ اپنے رفقاء کار کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ ظہر کی نماز مسجد نبوی شریف میں ادا کی۔ دورد وسلام کی سعادت کے بعد ہمارا رخ بدر کی طرف تھا۔ ہمارے ساتھ مدینہ یورسٹی کے حافظ عبدالباسط بھی تھے جو بی ایچ ڈی کے سٹوڈنٹ ہیں ۔گذشتہ بارہ سالوں سے مدینہ منورہ میں زیر تعلیم ہونے کے ساتھ مدینہ یونیورسٹی میں مدرس کا فریضہ بھی انظام دے رہے ہیں۔عصر کی نماز ہمیں بدر میں ادا کرنی تھی۔ منیب کبریا نے ایک جگہ گاڑی روکی تو میں نے ایک خوبصورت بلڈنگ دیکھی۔ میں سمجھا کہ یہ کوئی تھری سٹار ہوٹل ہے جس میں ہمارے لیے ٹھہرنے کا بندوبست ہے۔ ہم اندر داخل ہوئے تو یمن سے تعلق رکھنے والا ساتھی محمد ہمارے سر چومنے لگا۔ اس نے ہمیں بڑے خوبصورت انداز میں خوش آمدید کہا۔ اور اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ہال کمرے میں داخل ہوئے تو گویا ہم واقعی فسٹ کلاس ہوٹل کی لابی میں آگئے ہیں۔ محمد نے نہایت پھرتی سے قہوہ پیش کیا کہ اسی دوران برادرم عتیق الرحمن صدیقی بھی بازو پھیلائے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔ بدر کی کھجوریں بڑی مزیدار اور رسیلی تھیں۔ ہم نے ان کا خوب مزا لیا۔ نماز عصر کی ادائیگی کی تو ہمیں پوری بلڈنگ کا ایک چکر لگوایا گیا۔ یہ بلڈنگ کوئی ہوٹل نہیں بلکہ مکتب جالیات کی خوبصورت عمارت تھی جو ابھی حال میں ہی بنی ہے۔یہ تین منزلہ عمارت بڑی مرتب اور منظم انداز میں بنی ہوئی ہے۔ نیچے استقبالیہ ، مکتبہ، مہمانوں کے لیے فلیٹ جبکہ اوپر کی عمارت میں جالیات کے دفاتر اور لائبریری تھی۔ چھت پر پاکستانی کمیونٹی کے لیے بڑا خوبصورت خیمہ ہے جس میں دو سے تین افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ منطقہ بدر میں کم وبیش 76000 افراد بستے ہیں۔ صرف بدر شہر میں 120 مساجد ہیں ۔ شہر کی آبادی 40 ہزار سے متجاوز ہے۔ سعودیوں کے علاوہ اس شہر میں 2000 کے قریب بنگالہ دیشی2000 پاکستانی اور تقریباً ایک ہزار دیگر ممالک کے لوگ بستے ہیں۔
    اباعبدالرحمن خالد علی الصبحی آرامکو میں کام کرتے ہیں اور مکتب جالیات بدر کے مدیر بھی ہیں۔ ان کی گاڑی میں آٹھ افراد کا یہ قافلہ بدر کے شمال مغرب کی طرف روانہ ہوا۔ ہم حدیقہ الملک عبدالعزیز کے پہلو میں اترے تو ابومصعب عبداللہ العبدلی نے ہمیں عزوہ بدر کے حالات بیان کرنا شروع کیے۔
    یہ جنگ کوئی معمولی نہ تھی ۔اللہ رب العزت نے'' یوم الفرقان '' کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ کفر واسلام کے درمیان فرق کرنے والی یہ جنگ دو ہجری 17رمضان کو اس شہر میں ہوئی جہاں ہم کھڑے تھے۔
    بدر کا شہر بڑا پراناتجارتی شہر ہے وہ ہم کو بتارہے تھے کہ یہاں زمانہ جاہلیت میں تجارتی قافلے آکر رکتے تھے۔ خرید وفروخت ہوتی، شعراء اپنا کلام پڑھتے۔ لوگوں سے داد لیتے۔ قافلے چند دن یہاں گذارتے اور آگے چل دیتے۔ یہاں پانی وافر مقدار میں ہے۔ وہ قافلہ جس کو روکنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکلے تھے اسے بھی اسی جگہ قیام کرنا تھا کیونکہ یہ قافلوں کے لیے معمول کی بات تھی۔
    اس علاقے میں بنی غفار صدیوں سے آباد ہیں ،اس قبیلہ کی دور سے رشتہ داریاں قریش کے ساتھ بھی تھیں۔ اس لیے ان کی ہمدریاں قریش کے ساتھ تھیں ۔ جب قریش اس علاقے میں آئے تو بنو غفار نے انہیں دس اونٹ بطور ہدیہ ارسال کیا۔ ابوجہل جسے بار بار عبداللہ العبدلی'' فرعون ہذہ الأمة'' کہہ رہے تھے۔ اس نے بنو غفار کا یہ تحفہ قبول کیا، بلکہ ان کو پیغام بھی بھیجا کہ تم لوگوں نے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا ہے۔
    قریش گرمیوں میں شام کا تجارتی سفر کرتے، اور سردیوں میں یمن کا رخ کرتے۔ مکہ تجارت کا مرکز تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ چھوڑنے کے باوجود قریش غصہ میں تھے۔ مکہ اور مدینہ حالت جنگ میں تھے۔ مہاجرین مکہ سے بالکل خالی ہاتھ نکلے، ہر چیز پر قریش نے قبضہ کرلیا تھا۔ جمادی الاولی ٢/ہجری کو قریش کا ایک تجارتی قافلہ مکہ سے شام کی طرف روانہ ہوا۔ اسے روکنے کی اس وقت بھی کوشش کی گئی مگر آپ کے وہاں پہنچنے سے کئی دن پہلے ہی قافلہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
    یہی قافلہ شعبان کے آخر میں اس علاقے سے گذر رہاتھا۔ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل اس قافلہ کی مالیت 262کلو سونے کے برابر تھی۔ جبکہ اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس افرادتھے۔ قافلہ کا سالار ابوسفیان تھا جو عرب کا مانا ہوا ذہین شخص تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس قافلہ کو روکنے کے لیے مدینہ سے نکلے، کیونکہ اہل مدینہ کے لیے یہ بڑا زریں موقع تھا اور اہل مکہ کے لیے اس مال سے محرومی بڑی زبردست فوجی، سیاسی اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں اعلان فرمایا کہ قریش کا قافلہ مال ودولت لیے چلا آرہا ہے اس کے لیے نکل پڑو۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اسے بطور غنیمت تمہارے حوالے کردے۔
    چونکہ کسی بڑے دشمن سے مقابلہ نہ تھا اس لیے کسی پر روانگی ضروری نہیں قرار دی گئی، بلکہ اسے محض لوگوں کی رغبت پر چھوڑ دیا گیا۔ کل 313 افراد جب بدر کے لیے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاطاً اونٹوں کے گلے سے گھنٹیاں تک اتروادیں۔
    استاذ عبداللہ العبدلی ہمیں وہ درہ دکھارہے تھے جہاں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے میدان میں داخل ہوئے۔ آپ نے جہینہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو پہلے سے بدر کی طرف روانہ کیا تھا۔ یہ قبیلہ اب بھی مدینہ کے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔بدر سے ینبع کی طرف سارا علاقہ انہی کا تھا اور یہ قبیلہ مسلمانوں کا حلیف تھا۔ اس لیے اس قبیلہ کے افراد کو اس حساس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
    قارئین کرام کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ ذرا غور کریں ایک ایسا قافلہ جس میں ایک ہزار اونٹ ہوں وہ جہاں سے گذر رتا ہوگا یقیناوہاں کے علاقے میں ہلچل مچ جاتی ہوگی۔ بلکہ دور دور تک کے علاقے میں خبریں پہنچ جاتی ہوں گی کہ قافلہ فلان دن یہاں پہنچنے والا ہے۔
    قبیلہ جہینہ کے دو افراد بدر کے چشمہ کے پاس آئے۔ وہاں آکر پانی بھرا اور دیکھا کہ وہاں پر دو لونڈیاں آپس میں لڑرہی ہیں۔ جن کا تعلق بنی غفار سے تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے قرض لیا تھا۔اس لیے وہ اس سے لڑ رہی تھی کہ وہ میرا قرض کب واپس کرے گی۔ مقروض لونڈی نے اسے اطمینان دلایا کہ فکر نہ کرو دو تین دن کے بعد قریش کا ایک بڑا قافلہ یہاں رکنے والا ہے وہ اس قافلہ کے پہنچنے پر ان کی کچھ مزدوری کرلے گی جس سے تمہارا قرض ادا ہوجائے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی ان کی گفتگو سن کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔
    ابو سفیان جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ بڑا دور اندیش انسان تھا اسے بھی قافلہ پر حملہ کا خدشہ تھا۔اس لیے وہ خود ہی قافلہ سے آگے بدر پہنچا۔ یہاں بنی غفار آباد تھے جو قریش کے وفادار تھے۔ وہاں اس کی ملاقات بنی غفار کے رئیس شیخ مجدی سے ہوئی۔ ابوسفیان نے پوچھا کہ کیا مدینہ کے لوگ ادھر آئے تھے۔ اس نے جواب دیا کہ میں مدینہ کے لوگوں کو پہچانتا ہوں۔ مگر دو ایسے آدمی یہاں سے گذرے جن کو میں پہچانتا نہیں تھا۔ انہوں نے ٹیلہ کے قریب اونٹ بٹھایا، پھر اس طرف آئے پانی بھرا اور چل دیئے۔ ابوسفیان وہاں سے اٹھا اور سیدھا اس ٹیلے پر گیا جہاں انہوں نے اونٹ بٹھائے تھے۔ وہاں کچھ مینگنیاں پڑی تھیں۔ اس نے ان کو توڑا تو اندر سے گٹھلی نکلی ۔اس نے کہا کہ واللہ یہ تو یثرب کے اونٹ کی مینگنی ہے۔ابو سفیان وہاں سے بھاگا اور قافلہ کا رخ سمندر کی طرف موڑ دیا۔ اس کے جاسوسوں نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ سے نکلنے کی بھی اطلاع دے دی تھی۔ اسی لیے اس نے بنی غفار کے ایک شخص ضمضم غفاری کو ساڑھے سات تولے کے برابر سونے کے بیس مثقال دیئے اور کہا کہ فوراً مکہ جائے اور وہاں سے مدد طلب کرے۔ ضمضم غفاری نہایت تیزی سے مکہ پہنچا اور قافلہ کو بچانے کی دہائی دی۔ قریش تو پہلے ہی غصے سے بھرے بیٹھے تھے۔ فوراً تیاری کی دو تین دن کے اندر ایک ہزار کا لشکر اسلحہ سے لیس بدر کی طرف روانہ ہوگیا۔ سوگھوڑوں ، چھ سو زرہیں اور اونٹوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل یہ لشکر اپنے ساتھ گانے والی عورتوں کو بھی ہمراہ لایا۔ یہ لشکر ابھی جحفہ میں پہنچا تھا کہ اسے ابوسفیان کا پیغام مل گیا کہ قافلہ بخیروعافیت نکل آیا ہے تم لوگ واپس آجاؤ۔
    ہمارا گائیڈ عبداللہ العبدلی اس ٹیلے کے دامن میں کھڑا تھا جہاں پر ریت نظر آرہی تھی۔ عموماً ارد گرد کے پہاڑ سخت ہیں ان پر کوئی سبزہ نہیں ہے۔ اگر ہم مدینہ سے بدر کی طرف چلیں تو ایک راستہ سیدھا بدر میں داخل ہوتا ہے۔ مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی سے داخل نہیں ہوئے بلکہ بدر کے دائیں جانب حنان نامی پہاڑ نما تودے کو دائیں ہاتھ چھوڑ کر داخل ہوئے۔
    عبداللہ العبدلی ایک مدت سے ہائی سکول میں ٹیچر ہیں۔ ان کا پسندیدہ موضوع بدر کے حالات ہیں۔ ہم لوگ کل دس افراد تھے ۔ وہ درمیان میں کھڑے ہمیں لیکچر دے رہے تھے۔ انہیں اس جنگ کی تمام جزیات تک از بر تھیں ۔ وہ برموقع اشعاربھی پڑھتے تھے جنگ کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔ ہم میں سے کوئی ان کو روک کر درمیان میں سوال بھی کرتا، اچانک انہوں نے ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک درہ کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ روایات کے مطابق اس راستہ سے فرشتے نازل ہوئے تھے۔ اس روز ان کی طاقت ایک عام آدمی کے برابر تھی۔ ورنہ ایک فرشتہ ہی قریش کے سارے لشکر کو ختم کرنے کے لیے کافی تھا۔ مگر یہ نصرت ومدد مسلمانوں کو تسلی اور تسکین دینے کے لیے تھی۔
    ہم نے نہایت عقیدت سے اس درے کو دیکھا جہاں سے فرشتے نازل ہوئے تھے۔الشیخ عبداللہ کی گفتگو جاری تھی لیکن میں نے انہیں احساس دلایا کہ وقت تیزی سے گذر رہا ہے ۔ پھر ہم تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے ۔خالد الصبحی جن کا تعارف پہلے کرا چکا ہوں بڑے مشاق ڈرائیور ہیں۔ اب ہمارا رخ شہداء کے قبرستان کی طرف تھا۔ حکومت نے ایک بڑی چہار دیواری کے اندر اس قبرستان کو محفوظ کر دیا ہے۔ اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ صدر دروازے پر پولیس کی چوکی بھی ہے۔کیونکہ اہل بدعت یہاں بھی اپنا رنگ دکھاتے ہوئے بدعت وخرافات کرنے لگے تھے۔17 رمضان کو آتے قبروں کی مرمت کرتے تھے ۔ لیکن سعودی حکومت نے بدعات وخرافات کو الحمد للہ ختم کردیا اور ساتھ ہی وہاں پر پولیس کا پہرہ بھی لگا دیاتاکہ مبتدعین وہاں جا کر بدعت وخرافات نہ کرسکیں۔
    جناب خالد علی الصبحی پولیس والوں کے پاس گئے اور ہمارا تعارف کروایا ،ہم لوگوں نے پورے اطمینان کے ساتھ اہل قبور کو مسنون سلام پیش کیا۔ سڑک کے کنارے ایک یادگار سی بنی ہوئی ہے جس پر شہدائے بدر کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا نام سیدنا عمیر بن ابی وقاص کا ہے۔ میں ہمیشہ ان کے نام کو دیکھ کر جذباتی ہوجاتا ہوں۔ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔ میں تھوڑی دیر کے لیے تصور میں کھو گیا کیونکہ سولہ سال کا یہ قریشی نوجوان جب مدینہ سے نکلتا ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کمسنی کی وجہ سے انہیں واپس جانے کا حکم صادر فرمایا تو وہ رو پڑے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبے کا خیال کرتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی۔ ان کے بڑے بھائی سعد بن ابی وقاص نے جنگ کے روز دیکھا کہ عمیر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپتا پھرتا ہے، وجہ صرف یہ تھی کہ کہیں ان کو واپس نہ بھیج دیا جائے، اور وہ جنگ سے محروم رہ جائیں۔ لیکن اجازت ملنے کے بعد بڑے بھائی نے نہایت محبت سے اپنے پیارے، چھوٹے بھائی کو خودتلوار باندھی، ڈھالدی اوریہ قریشی نوجوان داد شجاعت دیتا ہوا جنت الفردوس کا مکین بن گیا۔
    میں یہ جاننے کے لیے بے تاب تھاکہ معرکہ کہاں اور کیسے ہوا؟ اس سفر سے پہلے میں قبرستان والی جگہ کو ہی جائے معرکہ سمجھتا تھا۔ مگر ہمارے گائیڈ نے سڑک پار کھجوروں کے باغ کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ معرکہ کی جگہ اس طرف ہے۔چند منٹوں میں ہم معرکہ کی جگہ کھڑے تھے۔ مجھے قرآن کریم کی ''سورة انفال'' کی آیت نمبر 42 کے ان الفاظ کی تشریح اس دن سمجھ میں آئی کہ ''اذا انتم بالعدوة الدنیا'' جبکہ تم میدان بدر کے قریب والے کنارے پر تھے۔ میں نے عبداللہ سے پوچھا کہ'' العدوة الدنیا ''کہاں ہے، تو اس نے جس جگہ ہم کھڑے تھے اس کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ جو مدینہ منورہ کے قریب جگہ ہے وہ ''عدوة الدنیا'' ہے اور یہاں مسلمانوں کا لشکر تھا۔ جہاں تک ''العدوة القصوی'' کا تعلق ہے تو وہ دور کا کنارہ ہے جہاں کافر وں کا لشکر تھا اور یہ مکہ کے قریب تھا۔ کیونکہ مکہ والے اسی طرف سے آئے تھے اور وہیں ٹھہر گئے تھے۔ جہاں تک'' الرکب سفل منکم'' کا تعلق ہے تو اس کا مفہوم قریش کا تجارتی قافلہ ہے جو بہت نیچے بحیرہ قلزم کے ساحل کی طرف تھا۔
    مسجد العریش اس جگہ بنی ہوئی ہے جہاں پر اسلامی تاریخ میں سب سے پہلا مرکز قیادت بنایا گیاتھا۔ یہ جگہ میدان جنگ کے شمال میں خاصی اونچائی پر ہے۔ یہاں سے پورا میدان جنگ نظر آتا ہے۔ ہم قدرے نشیب میں چلے گئے۔ یہ میدان کوئی بہت بڑا نہیں ہے۔ قبرستان اور معرکہ کی جگہ میں فاصلہ تقریباً آدھا کلومیٹر کا ہوگا۔ اس واقعہ کو چودہ سو سال سے زائد کاعرصہ گذر چکا ہے۔ یہ میدان وہی ہے مگر اس کے ہیئت یقینا بدل چکی ہے۔ اب یہاں پر کھجوروں کا باغ ہے۔ ایک طرف دیکھا تو لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے۔ میں تصور میں دور قریش کا لشکر دیکھ رہا تھا جو بڑے غرور سے یہاں آیا تھا۔
    عبداللہ العبدلی نے میدان جنگ کا نقشہ بنانا شروع کیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبقریت کی ایک اور مثال کہ آپ مرکز قیادت سے نیچے اترتے ہیں۔ مسلمانوں کی صف بندی کرتے ہیں۔ ہاتھ میں تیر ہے۔ اس تیر کے اشارے سے صف بندی فرما رہے تھے۔ ایک صحابی سواد بن غزیة انصاری صف سے کچھ آگے نکلے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیٹ پر تیر کا دباؤ ڈالتے ہوئے فرمایا سواد برابر ہوجاؤ۔
    عبداللہ العبدلی بڑی تیز تیز گفتگو کررہے تھے۔ عربی زبان تو مادری تھی ہی مگر بڑی فصیح زبان کہ باوجود تیزی کے ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ پلے پڑ رہا تھا۔ یوں بھی وہ میدان بدر میں کھڑے تھے ،ان میں جوش اور جذبہ بڑھ گیا تھا۔ انہوں نے اشارے سے بتایا کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سواد کے پیٹ پر تیر کا دباؤ ڈالا تو سواد کہنے لگے کہ اللہ کے رسول آپ نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ مجھے اس کا بدلہ دیجیے۔ صحابہ کرام سناٹے میں آگئے ۔ جنگ کا میدان، دشمن سامنے، صفوں کی درستگی ہورہی ہے اور ایک جوان اپنے کمانڈر انچیف سے بدلہ کے لیے کہہ رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بدلہ دینے میں دیر نہ کی، اور رحمت کائنات نے فوراً بدلہ کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔سواد کہنے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ نے مجھے کچوکا دیا تھا تو میرا پیٹ ننگا تھا۔ آپ بھی قمیص ہٹالیجیے۔ اور پھر چشم کائنات نے یہ عجیب وغریب منظر دیکھا کہ سرور کائنات نے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا ہٹا دیا۔ اسے کہتے ہیں عدل و انصاف۔صحابہ کرام خاموش دیکھ رہے ہیں کہ سواد کیا کررہا ہے۔ ادھر بطن مبارک سے کپڑا ہٹا سواد نے جلدی سے اس پر بوسے دینے شروع کردیئے۔ ارشاد ہوا سواد یہ کیا ہے؟ عرض کیا کہ جنگ کا وقت ہے، دشمن سامنے ہے، ہو سکتا ہے کہ شہادت نصیب ہوجائے اور میری تمنا یہ ہے کہ اس آخری وقت میں میرے جسم کی جلد آپ کی مبارک اور مطہر جلد سے چھوجائے۔ سرور کائنات نے اپنے اس محب کے لیے خاص دعائیں فرمائیں۔
    قریش کا طریقہ جنگ بالکل غیر منظم تھا۔ شیخ عبداللہ نے ہمیں اشارہ کرکے بتایاکہ سامنے مکہ کی طرف قریش کا بے ہنگم اور غیرمنظم لشکر تھا۔ مگر لڑائی سے پہلے تو قریش کا اسود نامی شخص قتل ہوا تھا۔غالباً میں نے یا کسی اور نے پانی کے حوض کے بارے میں ان سے سوال کیاتو اس کے جواب میں انہوں نے بڑی تفصیل سے بتایا۔
    میرا سوال تھا کہ وہ پانی کا کونسا حوض تھا جس کا پانی پینے کی اسود مخزومی نے قسم کھائی تھی؟
    قارئین کرام! غزوہ بدر بلاشبہ بڑی اہم لڑائی تھی ۔سورة انفال میں اس کا مکمل ذکر ہے۔ اس سورة کی تفسیر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالی نے نہیں فرمادیا کہ '' ولقد نصرکم اللہ فی بدر وانتم اذلة'' اس لڑائی کے بعد مسلمانوں کی شان وشوکت میں مزید اضافہ ہوگیا ۔ کفر ذلیل وخوار ہوگیا۔ وہ جو مسلمانوں کو معمولی سمجھتے تھے ان کو اندازہ ہوگیا کہ اب کفر وشرک کا جنازہ نکلنے والا ہے۔
    قارئین کرام! ہم آپ کو ذرا سا پیچھے لے چلتے ہیں ۔قریش کا لشکر بدر کی طرف رواں دواں ہے۔ اس کے بڑے بڑے سرداروں نے راستہ کے نان ونفقہ کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ ایک دن نو اونٹ اور دوسرے دن دس اونٹ ذبح کئے جاتے ۔ مکہ سے نکلے تو سب سے پہلے ابو جہل نے دس اونٹ ذبح کیے۔ قافلہ عسفان پہنچا تو امیہ بن خلف نے نو اونٹ ذبح کیے۔ قدید پر آئے تو سہیل بن عمرو نے دس اونٹ۔ جحفہ کے مقام پر عتبہ بن ربیعہ نے دس اونٹ، پھر عباس بن عبدالمطلب نے دس اونٹ اور ابو البختری نے بھی دس اونٹ ذبح کیے۔ ابوجہل کو جحفہ میں ہی پیغام مل گیا تھا کہ واپس مکہ آجاؤ قافلہ بخیریت مکہ کی طرف جارہا ہے۔ اس لیے بنو زہرہ اور نبو عدی کے سرداروں نے ابوجہل سے کہا کہ اب ہمیں واپس چلے جانا چاہئے۔مگر ابوجہل نہ مانا ۔اس کا کہنا تھا کہ ہم بدر جائیںگے، تین دن قیام کریںگے۔ اونٹ ذبح کریں گے۔لوگوں کو کھانا کھلائیں گے، جشن منائیں گے شرابیں پئیں گے ، رنڈیاں ہمارے لئے گانے گائیںگی۔ یہ دن عرب میں ہمیشہ یاد گار رہے گا۔ مٹھی بھر مسلمانوں پر ہمارا ایسا رعب طاری ہوگا کہ وہ کبھی ہمارا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ کرسکیں۔ابوجہل لڑائی نہیں بلکہ اپنی شان وشوکت جتلانے اور مسلمانوں پر اپنا رعب طاری کرنا چاہتا تھا۔اس کا غرور اور تکبر حد سے زیادہ تھا۔ اور پھر جب لڑائی کی فضا بن گئی مسلمان صف آرا ہوگئے تو اس وقت بھی اسے چند سرداروں نے روکا۔ حکیم بن حزام جو سیدہ خدیجہ کے قریبی عزیز تھے انہوں نے جنگ کو روکنے کی پوری کوشش کی۔ عتبہ بن ربیعہ جو ابوسفیان کا سسر اور ہند کا باپ تھا اس نے لشکر کو سمجھانے کی پوری کوشش کی۔ حتی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک سرخ اونٹ پر دیکھ کر فرمایا تھا کہ اگر قوم میں کسی کے پاس خیر ہے تو سرخ اونٹ والے کے پاس ہے۔اگر لوگوں نے اس کی بات مان لی تو صحیح راہ پائیں گے۔
    ابوجہل نے عتبہ کو بزدلی کا طعنہ دیا اور کہنے لگا کہ اس کا سینہ سوج گیا ہے۔ ادھر قریش میں یہ باہمی اختلاف چل رہا تھا۔ ادھر مشیئت ایزدی اپنا فیصلہ کرچکی تھی کہ ''لیہلک من ہلک عن بینة ویحی من حی عن بینة'' جسے ہلا ہونا ہے وہ دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلیل کی بنا پر زندہ رہے۔ بدر کے میدان میں قریش ایک ہزار اور مسلمان تین سو تیرہ تھے۔ گویا ایک کا مقابلہ تین سے تھا۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو عزت ووقار دینا چاہتاتھا اسی لیے مسلمان کافروں کی تعدادکو اصل تعداد سے تھوڑی سمجھ رہے تھے ،اور دشمن یہ سمجھتا تھا کہ مسلمان ہماری نسبت بہت تھوڑے ہیں۔ اس طرح فریقین کے حوصلے بڑھ گئے اور لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس طرح جو کام مشیت الہی میں ہونا مقدر تھا اس کے اسباب پیدا ہوتے گئے اور وہ بالآخر ہوکے رہا۔
    عبداللہ العبدلی نے زمین سے مٹی اٹھا کر کہا کہ یہ ریتلی ہے۔ چلتے وقت مسلمانوں کے پاؤں ریت میں دھنستے تھے۔ ان کے پاؤں جم نہیں رہے تھے ۔ادھر اللہ رب العزت نے اپنا فضل فرمایا اور بارش شروع ہوگئی۔ موسم خوشگوار ہوگیا۔ ریت جم گئے زمین سخت ہوگئی۔ پیروں کے دھنسنے کا خطرہ ٹل گیا۔ مسلمانوں نے بارش کے پانی کو حوضوں میں اکٹھا کرلیا۔ صحابہ کرام بارش میں نہاتے رہے۔ سفر کی تھکاوٹ اور تکان دور ہوگئی۔
    اللہ تعالی کا فرمان سچ ثابت ہوا کہ '' اور آسمان سے تم پر بارش برسادی تاکہ تمہیں پاک کرے اور شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست تم سے دور کردے ،اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے قدم جمادے۔ (سورة انفال: آیت نمبر ١١)
    مسلمانوں نے پانی کا حوض بنالیا۔ اس حوض سے نہ صرف مسلمان پانی پیتے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کو بھی پانی پینے کی اجازت دی۔ مگر جو اڑیل مزاج ہو، بد طینت اور بد خلق انسان ہو اس کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔اس کی مثال اسود مخزومی ہے۔ ہمارا گائیڈ کہہ رہا تھا اسودقریش کا مانا ہوا طاقتور آدمی تھا۔ وہ یہ کہتے ہوئے میدان میں آیا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا یا اس حوض کو منہدم کردوں گا یا پھر اس کے لیے اپنی جان دے دوں گا۔
    میں نے ابو مصعب سے پوچھا کہ اندازاً وہ پانی کا حوض کس جگہ ہوگا؟ جواباً کہنے لگا کہ صحیح طور پر تو نہیں پتہ مگر غالباً عریش کے پیچھے تھا۔ اس نے اس جگہ کی نشاندھی بھی کی اور واقعی مَیں تصورمیں اس حوض کو دیکھ رہا تھا کہ اسود آگے بڑھا اور ادھر سے سیدنا امیر حمزہ اس کو روکنے کے لیے آتے ہیں۔ حوض سے ذرا پرے آپس میں مڈ بھیڑ ہوگئی۔ سیدنا امیر حمزہ نے اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے کٹ گیا۔ وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کا رخ حوض کی طرف تھا۔اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا۔ وہ اپنی قسم پوری کرنا چاہتا تھا کہ سیدنا حمزہ نے اس پر دوسری ضرب لگائی اور وہ واصل جہنم ہوگیا۔بدر کے میدان میں جس جگہ عریش تھی وہاں اب بڑی خوبصورت جامع مسجد ہے۔ اس مسجد میں کم وبیش نو سو سے ایک ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے عقب میں دو رویہ سڑک ہے۔ اس کے پچھلی جانب کھنڈرات ہیں ۔یہ کھنڈرات کیا ہیں ان کا ذکر ہم ان شاء اللہ آگے کر یںگے۔ فی الحال ہم معرکہ کی جگہ کھڑے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فوج کو اس طرح تر تیب دی کہ دشمن کو مسلمانوں کی تعداد خاصی زیادہ معلوم ہوتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ سے پہلے کی رات اللہ تعالی کی حمد وثناء میں گذاری تھی۔ لمبے سجدے کیے اور مسلمانوں کے لیے فتح اور کامیابی کی دعائیں فرمائیں۔
    صف بندی نماز کی طرح تھی ۔تین چار صفیں کھڑی ہیں۔ اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہدایات سے نواز رہے ہیں کہ جب مشرکین تمہارے پاس آئیں تو ان پر تیر چلانا، اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا،اور جب تک دشمن تم پر چھانہ جائیں تلوار نہ کھینچنا۔ عتبہ بن ربیعہ مکہ کا بڑا سردار تھا۔ وہ اس شان سے میدان میں اترا کہ اس کا بیٹا ولید اور بھائی شیبہ اس کے دائیں بائیں تھے۔ اس نے عرب کے دستور کے مطابق آواز دی کہ کون ہے جو ہمارا مقابلہ کرے۔ اس کے جواب میں تین انصاری صحابی نکلے۔ ان میں دو سگے بھائی عوف بن حارث اور معوذ بن حارث تھے۔ یہ سیدہ عفراء بنت عبید کے بیٹے تھے اور ان کے ساتھ عبداللہ بن رواحہ تھے۔ عتبہ نے سوال کیا کہ تم کون ہو اپنا تعارف کروائیں۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ انصاری ہیں تو اس نے کہا کہ ہم اپنی قوم کے افراد سے لڑنے کے لیے آئے ہیں۔ پھر اس نے اونچی آواز سے کہا کہ محمد ہماری قوم میں سے ہماری برابری اور ٹکر کے لوگوں کو لڑنے کے لیے بھیجو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو واپس بلایا اور ارشاد فرمایا کہ علی بن ابی طالب ، حمزہ بن عبدالمطلب اور اپنے چچا زاد بھائی عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب تم لوگ مقابلہ میں جاؤ۔
    عتبہ نے ان کو دیکھا اور پوچھا تم کون لوگ ہو؟۔ جواب میں جب تعارف کرایا تو کہنے لگے کہ اب مزا آئے گا تم شریف مدمقابل ہو۔عتبہ کے سامنے سیدنا عبیدہ بن حارث مقابلہ کے لیے کھڑے ہوئے۔ شیبہ کے سامنے سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ، اور ولید بن عتبہ کے سامنے سیدنا علی بن ابی طالب مقابلہ کرنے کے لیے سامنے کھڑے ہیں۔ دونوں لشکرکی نگاہیں ان بہادروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور جب مقابلہ شروع ہوا تو چشم فلک نے دیکھا کہ تینوں قریشی زمین پر مقتول پڑے ہیں۔ عتبہ کو قتل کرنے کے لیے سیدنا عبیدہ کی ان کے بھائیوں نے مدد کی۔ وہ خود بھی زخمی ہوگئے اور بعد میں شہیدبھی۔
    قارئین کرام! غزوہ بدر اپنے اندر کتنے ہی اسباق لیے ہوئے ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کو کثرت سے پکار رہے ہیں۔ اپنی امت کو سبق دے رہے ہیں کہ اگر کبھی کوئی مشکل وقت آئے تو صرف اپنے رب سے مدد مانگیں۔ ذرا ان الفاظ پر غور تو کریں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عریش میں اپنے رب کے سامنے بار بار دہرارہے ہیں۔'' اے اللہ تو نے مجھ سے مدد کا جو وعدہ کیا اسے پورا فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا سوال کر رہا ہوں۔ اے اللہ میں تیرے عہد اور وعدہ کے بارے میں درخواست کرتا ہوں''۔
    اسی طرح جب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی، نہایت زور کا رن پڑا تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے ہیں ''اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر توچاہتا ہے توآج کے بعداس روئے زمین پر تیری عبادت نہ جائے گی''۔
    قارئین کرام! ذرا غور فرمائیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عریش میں کتنے تضرع کے ساتھ دعا فرما رہے ہیں کہ دعا مانگتے مانگتے آپ کے مبارک کندھوں سے چادر گر گئی۔ سیدنا ابو بکر صدیق نے چادر درست کی اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اب بس کیجیے۔ آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح واصرارکے ساتھ دعا مانگ لی ۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اللہ تعالی اپنے وعدہ کو ضرور پورا کرے گا۔ سبحان اللہ! ادھر اللہ تعالی سے دعا ہورہی ہے، التجا کی جارہی ہے ، ادھر ان دعاؤں کی تاثیر کا عالم یہ ہے کہ (أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِینَ) کے ذریعہ اللہ رب العزت نے بشارت دی کہ'' میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گاجو آگے پیچھے آئیں گے''۔ پھر اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کافروں کے دلوں میں ان کارعب ڈال دیا ۔
    ادھرفرشتوں کو بھی حکم دیا جارہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ تم اہل ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔مشرکین مکہ کے لیے ان کے تین بڑے سرداروں کا قتل بہت بڑا دھچکا تھا۔ مگر ابو جہل کی خباثت میں اب بھی کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ اس نے اپنی فوج کو للکارا، مسلمانوں پر حملہ کے لیے ابھارا اور کہنے لگا کہ دیکھنا عتبہ ،شیبہ اور ولید کے انجام پر بالکل نہ جانا، انہوں نے ذرا جلد بازی سے کام لیا ہے۔ پھر نہایت غیظ وغضب سے بے قابو ہو کر یکدم حملہ کا حکم دے دیا۔
    ادھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دعائیں مانگ رہے ہیں۔ اُدھر مسلمان بھی اللہ کے حضورمیں نہایت اخلاص سے دعائیں بھی کررہے ہیں اور اپنی جگہوں پر جمے ہوئے بھی ہیں۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قدرے نشیبی جگہ پر کھڑا چشم تصور سے مشرکین کو مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے دیکھ رہاہوں۔مسلمان قریش کے حملوں کو روک بھی رہے ہیں۔ انہیں نقصان بھی پہنچارہے ہیں اور ان کی زبانوں پر'' اَحد ،اَحد ''کا کلمہ ہے۔
    مسلمانوں کے لشکر میں بڑے بڑے بہادر ہیں ۔ سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا امیر حمزہ جیسے جری کمانڈر ہیں ۔ پھر میدان جنگ آہستہ آہستہ کافروں کے مرکز کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ فرشتوں کی مدد بھی آچکی ہے۔
    ہمارے گائیڈ عبداللہ العبدلی نے زمین سے مٹھی بھر کنکریاں اٹھاتے ہوئے ہمیں بتا یا کہ جب جنگ عین شباب پر تھی تو اللہ کے رسول نے اس طرح کی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف اسے پھینکتے ہوئے فرمایا : شَاہَتِ الْوُجُوہُ۔ ''چہرے بگڑ جائیں''۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ مشرکین میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کی دونوں آنکھوں، نتھنوں اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی میں سے کچھ حصہ نہ گیا ہو۔
    ہم سارے ساتھی اس آیت کریمہ کی تلاوت کررہے تھے: (وَمَارَمَیْتَ ِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللَّہَ رَمَی) '' جب آپ نے پھینکا تو درحقیقت آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکاتھا''۔مطلب یہ کہ پھینکا تو آپ نے تھا مگر اسے کفار کی آنکھوں اور نتھنوں تک اللہ نے پہنچایا تھا۔
    آپ صحابہ کرام کو مزید ترغیب دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ''شدُّو'' چڑھ دوڑو۔ مسلمانوں کو جنت کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا : ''اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو آدمی بھی ڈٹ کر ثواب سمجھ کر آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا''۔ آپ کی ترغیب سن کر کہ اس جنت کی طرف اٹھو جس کی چوڑائی زمین اور آسمانوں کے برابر ہے۔ ایک انصاری صحابی عمیر بن حمام کہتے ہیں ''بخ بخ'' ، واہ واہ بہت خوب ، بہت خوب۔ اللہ کے رسول نے پوچھا :ساتھی! یہ تم نے بخ بخ کیوں کہا؟ عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں بس میری تو صرف یہی تمنا ہے کہ میں بھی جنت کا باسی بن جاؤں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جنت والوں میں سے ہو۔
    عمیر بن حمام کی جیب میں کچھ کھجوریں تھیں۔ ایک کھجور منہ میں ڈالی تاکہ اس سے جسم کو تقویت مل جائے، اس کو چبایا، دوسری کھجور منہ میں ڈالی، سامنے دشمن ہے، صحابہ کرام کافروں پر بڑھ بڑھ کر حملہ کررہے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ کھجوریں کھانے میں تو خاصا وقت صرف ہوجائے گا، جنت سے اتنی دیر دور رہنا تو بہت مشکل کام ہے… لمحہ بھر سوچا … اور پھرجتنی کھجوریں جیب میں تھیں وہ سب پھینک دیں اور میدان کار زار کی طرف بڑھے … داد شجاعت دی اور خلعت شہادت پاکر جنت کے مستحق بن گئے۔
    عبداللہ العبدلی نے دور تک اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یقینا میدان جنگ بڑھتا چلا گیا۔ یہ جنگ فرداً فرداً تھی۔ جس صحابی کو شکار نظر آیا اس نے گھیر لیا اور پھر فرشتوں کی مدد بھی تو حاصل تھی۔ ایک انصاری صحابی نے جنگ کے اختتام پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں ایک مشرک کا تعاقب کررہا تھا کہ اچانک اس مشرک کے اوپر کوڑے کی مار پڑنے کی آواز آئی، وہ چت گرا، لپک کر دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ کا نشان اور چہرہ پھٹا ہوا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوڑے سے مارا گیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ''تم سچ کہتے ہو یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی''۔ایک صحابی نے بیان کیا : میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہاتھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میرے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔
    جنگ کا دورانیہ کوئی زیادہ لمبا نہ تھا۔ بلکہ یہ محض ڈیڑھ دو گھنٹے کی جنگ ہوگی۔ سیدناحمزہ بن عبدالمطلب جیسے بہادروں نے دشمن کی صفوںکے اندر تباہی مچادی تھی۔ ابوجہل نے اپنی فوج کی ہمتیں بڑھانے کی لاکھ کوشش کی مگر اس کا غرور جلد ہی خاک میں مل گیا۔ ان کی صفیں پھٹنی شروع ہوگئیں۔ ہاں البتہ اس کے ارد گرد مشرکین کا ایک غول جما رہا۔ مگر مجاہدین کے پے درپے حملوں نے ابوجہل کے ارد گرد اس جنگل کو بھی اکھیڑ دیا۔ مسلمانوں نے قریش کے لشکر کو چن چن کر مارا اور ان کے بھگوڑوں کو گرفتارکیا۔
    ہم سبھی عفراء بنت عبید کے صاحبزادوں کو خراج تحسین پیش کررہے تھے۔ یہ بڑی عظیم عورت تھی جس کے سات بیٹے تھے۔ وہ سب کے سب اس جنگ میں شریک تھے ۔ اب ہم فرعون ہذہ الامہ کے قتل کا ذکر کررہے تھے۔ابوجہل اور اس کا بیٹا عکرمہ دونوں ہی بڑے جنگجو تھے۔ قریش فوج کے کمانڈر انچیف ہونے کے ناطے اس کی حفاظت کا خصوصی بندوبست تھا۔ اس کے ارد گرد بہادروں کا ایک گروپ تھا۔ وہ خود گھوڑوں پر سوار تھا۔ اللہ تعالی نے اس متکبر انسان کودنیا ہی میں ایسا ذلیل وخوار کیا کہ دو انصاری نوجوانوں معاذ ومعوذ کے ہاتھوں پل بھر میں واصل جہنم ہوگیا۔
    شیخ عبداللہ العبدلی ہمیں ہاتھ کے اشارہ سے بتارہے تھے کہ کافروں کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ امیہ بن خلف کے بارے میں دور اشارہ کرکے کہنے لگے کہ وہ تو بھاگتا ہوا دور چلا گیا۔ سیدنا بلال بن رباح نے اسے دیکھ لیا۔ فرمایا: ''کفر کا سرغنہ امیہ بن خلف ہے ۔آج یہ بچے گا یا میں بچوں گا'اور پھر انہوں نے انصار کو مدد کے لیے پکارا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف اسے بچانے کی کوشش کرتے رہے مگرسیدنا بلال کے غم وغصہ نے اسے جلد ہی جہنم کاراہی بنادیا۔
    قریش کے لیے یہ جنگ بلاشبہ بڑی تباہ کن تھی۔ میری بڑی مدت سے یہ خواہش تھی کہ میں بدر کا وہ گندا کنواں جسے ''قلیب بدر'' کہا جاتا تھا اور جس میں مشرکین کے مقتول سرداروں کو پھینکا گیا تھا اس کا مقام دیکھوں۔ عبداللہ کہنے لگے: جگہ عریش کی پچھلی طرف بنتی ہے۔ ہم اس جگہ پر گئے۔ اب بھی یہ نشیبی مقام ہے۔ کافروں کے چوبیس بڑے بڑے سرداروں کو اس کنویں میں پھینکا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ کنواں پرانا تھا۔ اس میں اس وقت پانی نہیں تھا۔ بلکہ متروک ہوچکا تھا۔
    اس علاقے میں پانی کے کئی کنویں تھے۔ عرب اسی جگہ بستیاں آباد کرتے تھے جہاں پینے کا میٹھا پانی ہوتا۔ اس جگہ کی طرف انہوں نے اشارہ کرکے بتایا کہ ماضی قریب میں محض تیس پینتیس سال قبل تک یہاں پانی کا چشمہ تھا جس سے دن میں مرد اور رات میں عورتیں پانی بھرتی تھیں۔ کوئی سوسال قبل بدر شہر کے ارد گرد فصیل بھی تھی۔ شہر کا دروازہ تھا جو رات کے وقت بند ہوجاتا تھا۔شیخ عبداللہ العبدلی ہمارے ہر سوال کا نہایت صبر وتحمل سے جواب دے رہے تھے۔
    مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ ہمارے میزبان نے سوال کیا : نماز مغرب کہاں ادا کریں گے؟۔ ہمارا جواب تھا: مسجد العریش میں پڑھیں گے۔ اور پھر ہم مغرب کی نماز کے لیے اس عالی شان مسجد میں داخل ہوئے۔ یہ بڑی خوبصورت مسجدہے جس میں بڑی نفیس ٹائلیں ،خوبصورت قالین اور بڑادلکش فانوس ہے ۔
    قارئین کرام! اس مسجد میں نماز مغرب بڑی مدت تک یاد رہے گی۔ مجھے سجدہ کی حالت میںیوں محسوس ہورہا تھا جیسے میری پیشانی اس جگہ ہے جہاں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم تھے۔ میری تمنا تھی کہ میں ''سوق قدیم'' دیکھوں جس کے بارے میں سیرت نگاروں نے لکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم 4 ہجری میں 1500مجاہدین کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے۔ غزوہ احد کے اختتام پر ابوسفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال بدر میں مقابلہ ہوگا۔وہ تو نہیں آئے البتہ مسلمان پہنچ گئے۔ وہاں تجارت کی۔ ایک درہم کو دو درہم بناتے رہے اور اس شان سے مدینہ واپس آئے کہ پورے علاقے میں مسلمانوں کی شان وشوکت کا ڈنکا بج رہا تھا۔
    شیخ عبداللہ العبدلی تو اجازت لے کر چلے گئے مگر اب ان کی جگہ مدیر مکتب جالیات بدر جناب خالد علی الصبحی نے لے لی۔ اب وہ ہمارے گائیڈ تھے۔ اس علاقے میں اب بھی بنو غفار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے۔جب ہم'' السوق القدیم'' میں گئے تو کچھ تصور اس دور کا بھی نظر آیا۔ میں نے پوچھا کہ بدر کا خاص تحفہ کیا ہے، جسے ہم ساتھ لے جاسکیں؟۔ کہنے لگے: یہاں کے ستو بڑے مشہور ہیں۔ ہم انہیں ''دخن'' کہتے'' ہیں۔ ہم نے السوق ا لقدیم سے دخن خریدا۔ یہ یہاں کا مقامی ستو ہے۔ ہم ایک چکی پر گئے جہاں ستو فروخت ہوتے ہیں۔ وہاں پر سیلزمین پاکستانی تھے۔ کہنے لگے کہ ہمارے پاس ستو چینی والے اور بغیر چینی کے بھی ہیں۔ ہم نے کہا :ہمارے گھروں میں چینی بہت ہے بغیر چینی والے دیجیے ۔ ہر ایک کے لیے ایک ایک کلو ستو خرید لیے۔ مجھے ستو والا غزوہ یعنی'' غزوہ سویق'' یاد آگیا۔ اس کا ذکر ان شاء ا للہ پھر کبھی کریںگے۔اگر آپ سوق قدیم میں کھڑے ہوکر ماضی کی طرف جھانکیں تو آپ کو کچھ نہ کچھ آثار قدیمہ نظر آجائیں گے۔ ہمارے میزبان ہمیں بازار کی پچھلی جانب لے گئے۔ وہاں ایک پرانی عمارت کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے کہ یہاں پر کبھی سکول ہوتا تھا۔ میرے والد یہاں پڑھتے رہے ہیں۔
    شیخ بتا رہے تھے : بدر کبھی بہت چھوٹا ہوتا تھا۔ محض سو سال قبل یہاں پر شہر کے اردگرد فصیل تھی مغرب کے وقت دروازہ بند ہوجاتا۔ اور شہر پر ہوکا عالم طاری ہوجاتا تھا۔ اگر کوئی قافلہ ذرا سا لیٹ ہوجاتا تو اسے شہر کے باہر ہی رات گذارنا پڑتی ۔ قبیلہ غفار کے لوگ اب بھی صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ بڑے صلح جو اور مہمان نواز ہیں۔ ہمارے پاس مختلف ممالک کے لوگ ملازمت کے لیے آئے ہوئے ہیں ۔ بڑے مطمئن ہیں۔ چھوٹا سا شہر نہ شور نہ ہنگامہ، نہ زیادہ ٹریفک۔ دفتر واپس آئے تو امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے رئیس بھی ازراہ شفقت تشریف لائے۔ ان کے ساتھ گفتگو بہت مفید رہی۔ فرمانے لگے: اس شہر میں… الحمد للہ، منکرات بہت کم ہیں۔ ہماری زیادہ تر ڈیوٹی اور ذمہ داری بدر کے قبرستان میں زائرین کے شرک وبدعت کو روکنے پر صرف ہوتی ہے۔ وہ ان مقیم پاکستانی اور ہندوستانی بھائیوں کا شکوہ کررہے تھے جو بدر کے قبرستان میں بھی شرکیات وبدعات کے ار تکاب سے باز نہیں آتے۔ یہ لوگ 17رمضان المبارک کو آتے ہیں اور عجیب وغریب حرکات کرتے رہتے ہیں۔
    عشاء کی نماز کے فوراً بعد ہمارا واپسی کا ارادہ تھا مگر دفتر کے ذمہ داران نے کھانے کا اہتمام کیاہوا تھا۔ انہوں نے پاکستانی باورچی کی خدمات لے رکھی ہیں جس نے بلاشبہ مزیدار بریانی بنارکھی تھی۔ کھانے سے کہیں زیادہ ہمارے میزبانوں کی محبت اور چاہت پر لطف تھی۔ برادرم عتیق الرحمن صدیقی کا اصرار تھا کہ اب آپ کو چائے میرے گھر پر پینا ہے۔ ان کے گھر پر مختصر قیام اور چائے کے بعد ہماری گاڑی کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا۔ یہ سفر بلاشبہ بڑا مفید اور معلوماتی رہا۔ اس کی یاد یقینا مدتوں تک رہے گی۔
     
  2. ملک 17

    ملک 17 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 18, 2012
    پیغامات:
    68
    جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جزاک اللہ خیرا، یہ سفر نامہ پہلے نہیں پڑھا تھا، شیئرنگ کا شکریہ!
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  7. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    769
    جزاک اللہ خیر
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں