ریاض سے جوف تک

ابو ابراهيم نے 'دیس پردیس' میں ‏مئی 4, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    سیدنا عبدالرحمن بن عوف کے سسرال میں

    عبدالمالک مجاہد ۔ الریاض

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    اپریل 2011ء کے پہلے ہفتہ میں ایک بار پھر مدینۃ الرسول میں حاضری کا موقع ملا۔ سعودی ائرلائن کی پرواز صبح 6 بجے تھی۔ ریاض سے مدینہ طیبہ تک ایک گھنٹہ 10منٹ کی پرواز صبح سویرے ہی مدینہ پہنچادیتی ہے۔ میں نے جہاز میں بیٹھنے کے تھوڑی ہی دیر بعد سامنے کی پاکٹ میں رکھا ہوا مجلہ'' اہلاً وسہلاً ''اٹھایا اور اس کی ورق گردانی شروع کردی۔یہ پرچہ سعودی ائرلائن کا ترجمان ہے۔ اور مسافروں کے لیے اس کی ایک کاپی مفت ہوتی ہے۔ اس پرچہ میں دومة الجندل میں واقع مسجد عمر بن الخطاب کا ذکر تھا۔ مضمون پڑھا تو میں تاریخ کے سنہرے ادوار میں چلا گیا۔وہیں ارادہ کرلیا کہ ان شاء اللہ اولین فرصت میں دومة الجندل کی سیر کریں گے۔
    مدینہ طیبہ میں دو دن کا قیام تھا کچھ رشتہ دار پاکستان سے عمرہ کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ان سے ملاقات، مسجد نبوی میں نمازوں کی ادائیگی اور درود وسلام کی سعادت کے علاوہ نہ ختم ہونے والی ملاقاتیں اور میٹنگیں تھیں۔ دارالسلام کی ایک برانچ ''ینبع البحر ''میں بھی ہے۔ یہ جگہ مدینہ طیبہ سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔میں نے اس برانچ کے منیجر مولانا ارشد ظہیر کو فون کردیا کہ وہ بھی آجائیں۔مسجد نبوی الشریف میں مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ملاقاتیں اور ان کے حالات سے آگاہی معمول کا حصہ ہے۔ میں نے ارشد سے پوچھا کہ دومة الجندل میں بھی دارالسلام کا کوئی گاہک ہے۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔ میں نے اس علاقے کی سیر کی خواہش ظاہر کی تو کہنے لگے کہ آج کل موسم بڑا خوشگوار ہے۔ لہذا اگر آپ اس علاقے کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو پھر جلد ہی پروگرام ترتیب دے لیں۔
    میں نے اپنی کتاب'' روشنی کے مینار'' میں جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف پر مضمون لکھا تو دوران مطالعہ دومة الجندل کا بھی ذکر آیا کہ اللہ کے رسول نے اس علاقے کو فتح کرنے کے لیے متعدد فوجی مشن ارسال کیے۔ جن میں خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف شامل تھے۔یہ علاقہ سعودی عرب کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ تبوک مدینہ منورہ سے شمال کی جانب واقع ہے۔ اس سے اوپر شام کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ارض مبارکہ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ (اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِ شَامِنَا وَیَمَنِنَا) '' اے اللہ ہمارے شام، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما''۔ غزوہ تبوک میں اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کا بنفس نفیس وہاں تشریف لے جانا اور وہاں کم وبیش ١٥ دن قیام کرکے فاتحانہ انداز میں واپس آنا ہماری اسلامی تاریخ کا نہایت تابناک واقعہ ہے۔رومن امپائر کو اس کے علاقے میں جاکر چیلنج کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ یہ درست ہے کہ غزوہ تبوک میں لڑائی نہیں ہوئی مگر دشمن پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی۔
    دومة الجندل کا علاقہ سرحدی شام میں ایک شہر ہے۔ یہاں سے اس زمانے کے وسائل سفر کے اعتبار سے دمشق کا فاصلہ پانچ رات اور مدینہ کا پندرہ رات بنتاہے۔ یہ علاقہ رومن امپائر کا حصہ تھا۔ قیصر کا باجگزار اس علاقے پر حکومت کرتا تھا۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم تھیں۔ جن پر مختلف حکمران حکومت کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے جائیں اورنبی رحمت کی سیاست، سیادت اور انداز حکمرانی کو ہزار بار خراج عقیدت پیش کیجیے کہ مدینہ طیبہ کی بیدار مغز قیادت نے ہمیشہ دور اندیشی اور حکمت پر مبنی فیصلے کئے۔
    میں اپنے معزز قارئین کو تھوڑی دیر کے لیے غزوہ احد کے بعد کے حالات کی طرف لیے چلتا ہوں اور پھر دومة الجندل کی طرف بڑھیں گے، آپ کو مزا آئے گا۔
    غزوہ احد شوال ٣ ہجری کو ہوا۔ اس میں بظاہر مسلمانوں کو شکست ہوئی مگر دشمن اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل میں ناکام رہا۔ احد سے نکلتے وقت ابوسفیان نے کہا کہ آئندہ سال بدر میں پھر لڑنے کا وعدہ ہے۔ آپ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ کہہ دو :ٹھیک ہے اب یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیان طے رہی۔
    چنانچہ شعبان 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ڈیڑھ ہزار صحابہ اور دس گھوڑوں کے ساتھ اس طے شدہ جنگ کے لیے بدر کا رخ کرتے ہیں۔ فوج کا پرچم سیدنا علی بن ابی طالب کو دیا اور بدر پہنچ کر مشرکین کے انتظار میں خیمہ زن ہوگئے۔
    دوسری طرف ابوسفیان بھی پچاس سواروں سمیت دو ہزار مشرکین کی جمعیت لے کر روانہ ہوا۔ مکہ سے ایک مرحلہ کی مسافت پر وادی مرالظہران پہنچ کر مجنہ نامی مشہور چشمے پر خیمہ زن ہوا۔ وہ مکہ سے ہی بوجھل اور بددل تھا۔ مر الظہران پہنچ کر اس کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قریش کے لوگو! جنگ اس وقت موزوں ہوتی ہے جب شادابی اور ہریالی ہو کہ جانور بھی چر سکیں اور تم بھی دودھ پی سکو۔ اس وقت خشک سالی ہے لہذا میں تو واپس جارہا ہوں، تم بھی واپس چلو۔یہ کہہ کر وہ واپس مکہ چلا گیا۔
    ادھر مسلمانوں کے حالات پر غور کریں کہ مسلمانوں نے بدر میں آٹھ روز تک دشمن کا انتظار کیا۔ اس دوران اپنا سامان تجارت فروخت کیا۔ ایک درہم کے دودرہم بنائے اور اس شان سے مدینہ طیبہ واپس آئے کہ جنگ میں پیش قدمی مسلمانوں کے ہاتھ آچکی تھی۔دشمن کے دلوں پر دھاک بیٹھ چکی تھی اور ماحول پر ان کی گرفت مضبوط ہوچکی تھی۔ ہر طرف امن وامان قائم ہوچکا تھا۔ اور پوری اسلامی قلمرو میں اطمینان کی باد بہاری چل رہی تھی۔
    اب ذرا مدینہ منورہ کی قیادت کی سیاست پر غور کریں کہ آپ عرب کی آخری حدود پر توجہ فرمانے کے لیے فارغ ہوچکے تھے۔
    میں نے اوپر ذکر کیا کہ دومة الجندل رومن امپائر کا حصہ تھا۔ بدر صغری جس کا اوپر ذکر کیا گیا وہاں سے واپس آنے کے بعد محض چھ ماہ بعد آپ ایک ہزار صحابہ کے ساتھ دومة الجندل کی طرف تشریف لے جاتے ہیں۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاعات ملیں کہ شام کے قریب دومة الجندل کے گرد آباد قبائل آنے جانے والے قافلوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں اور وہاں سے گذرنے والی اشیاء لوٹ لیتے ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد آپ ٢٥ ربیع الأول ٥ ہجری کو دومة الجندل کا رخ فرماتے ہیں۔ آپ رات میں سفر فرماتے اور دن میں چھپے رہتے تھے تاکہ دشمن پر اچانک حملہ کرسکیں۔ قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ باہر نکل گئے ہیں ۔ان کے مویشیوں میں سے کچھ ہاتھ آئے کچھ نکل بھاگے۔ مسلمان دومة الجندل کے میدان میں اترے تو کوئی نہ ملا۔ آپ نے چند دن قیام فرما کر ادھر ادھر متعدد ستے روانہ فرمائے مگر کوئی ہاتھ نہ آیا۔ چنانچہ آپ مدینہ پلٹ گئے۔
    میں نے دومة الجندل جانے کی خواہش کا اظہار دارالسلام کے مشرف عام جناب محمد عبداللہ المعتاز سے کیا اور کہا کہ میں مرافق کی تلاش میں ہوں۔تاکہ سفر یادگار بن جائے۔ شیخ محمدجامعة الامام میں عقیدہ کے استاد ہیں۔ میری ان سے رفاقت 18سال پرانی ہے۔ عمر کے فرق کے باوجودہم دونوں بھائیوں کی طرح ہیں۔ بے تکلفی اور دوستی بھی ہے۔ وہ بھی جانے کے لیے فوری طور پر تیار ہوگئے۔
    الجوف ریاض سے کم وبیش ١٢٠٠ کلو میٹر کی مسافت پرہے۔ شمال شرق میں واقع یہ علاقہ اردن کی سرحد سے ٤٠٠ کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ ١٩ اپریل کو صبح پونے چھ بجے ہماری فلائٹ ریاض سے الجوف کے لیے روانہ ہوئی۔ ایک گھنٹہ بیس منٹ میں ہم الجوف کے ایر پورٹ پر اترے تو جالیات سکاکا کے برادرم عمرفاروق اور محمد اکمل کے علاوہ دارالسلام ینبع البحر کے مدیر ارشد ظہیر بھی استقبال کے لیے موجود تھے۔سورج اپنی روشنیاں بکھیر رہا تھا۔ خوبصورت موسم میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اپریل کے آخری ہفتہ میں ٹمپریچر ١٩ درجے تھا۔ ائر پورٹ سے سکاکا بیس کیلو میٹر دور ہوگا۔ ہم نے اس شہر کے سب سے اچھے فائیوسٹار ہوٹل ''نزل'' میں پہلے ہی سے بکنگ کروا رکھی تھی۔ آدھے گھنٹہ میں ہم ہوٹل کی لابی میں بیٹھے ساتھیوں سے باتیں کررہے تھے۔ برادرم عمر فاروق کا تعلق انڈیا سے ہے اور کم وبیش ٩ سال سے وہ یہاں کے مکاتب جالیات میں اردو مترجم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔جبکہ محمد اکمل کا تعلق نیپال سے ہے اور ڈیڑھ سال پہلے ہی یہاں تعینات ہوئے ہیں۔یہ نیپالی زبان کے مترجم ہیں، دونوں مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، ارشد ظہیر دارالسلام میں گزشتہ 9برس سے کام کررہے ہیں عالم دین ہیں، عربی زبان پر خاصی مہارت ہے۔ مارکیٹنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور ینبع البحر میں دارالسلام کی برانچ کے منیجر ہیں۔ جالیات کے دونوں ساتھی ہماری محبت اور احترام میں دونوں دن ہمارے ساتھ رہے۔ اس کی انہوں نے ادارہ سے اجازت لے رکھی تھی۔البتہ رات کو انہوں نے مرکز جالیات میں احباب کے ساتھ ایک نشست کا پروگرام بھی بنا رکھا تھا۔
    ہم نے تھوڑی دیر آرام کیا اور گیارہ بجے کے قریب اپنی سیر کا آغاز کیا۔ الجوف منطقہ کا نام ہے جس طرح پاکستان میں پنجاب یا سندھ نامی کوئی شہر نہیں اسی طرح مملکت میں الجوف نامی کوئی شہر نہیں ہے۔البتہ اس علاقے میں بہت ساری بستیاں ہیں۔ اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ سکاکا سے ٦٠ کیلو میٹر دور دومة الجندل ہے۔ جس کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ شہر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ایک بیٹے ''دوما'' کے نام پر رکھا گیا ہے۔ لفظ جندل اس علاقے کے مضبوط قلعہ'' مارد'' سے لیا گیا ہے جس کی تعمیر پتھروں سے ہوئی۔
    الجوف علاقہ اس شاہراہ پر واقع ہے جو عہد نبوی میں تجارت کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر ''ایسی سرزمین جسے ہم نے برکت دے رکھی ہے'' کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اس تجارتی شاہراہ کو اللہ تعالی نے سورة سبا آیت نمبر 18میں ذکر کیا ہے۔ اس شاہراہ پر قریش کے تجارتی قافلے مکہ سے شام تک سفر کرتے تھے۔ یہ اس لحاظ سے منفرد اور اہم تھی کہ برلب سڑک اور نزدیک نزدیک آبادیاں موجود تھیں۔جہاں مسافروں کو کھانا پانی مل سکتا تھا۔ ایک بستی پر آدمی پہنچ جائے تواگلی بستی سامنے نظر آنے لگتی تھی۔ ایک خوبی یہ بھی تھی کہ کوئی شخص جس وقت بھی آرام کرنا چاہتا تو وہ کرسکتا تھا اور آرام کرنے کے لیے اگلی منزل اس کے قریب ہی ہوتی تھی۔ چونکہ اس شاہراہ پر بکثرت آمدورفت ہوتی تھی اس لیے لوٹ مار کا بھی اس پر اتنا خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ جتنا عرب کے دوسرے علاقوں میں تھا۔ اس لحاظ سے ان کا یہ تجارتی سفر دوسرے علاقوں کی نسبت بہت آسان اور پر امن تھا۔
    سکاکا میں ہماری پہلی منزل قلعہ زعبل تھی۔ پہاڑ کی چوٹی پر چار برجوں کے ساتھ چھوٹا سا قلعہ تھا۔ قلعہ کے اندر چند کمرے ہیں اور اس کی چار دیواری پتھر اور مٹی سے بنی ہوئی تھی۔ اوپر سے شہر کا نظارہ بڑا خوبصورت تھا۔ چاروں طرف کھیتیاں اور نخلستان نظر آرہے تھے۔ اس علاقے میں زیتون کے درخت بہت زیادہ ہیں ۔ یہاں زیتون کا تیل اورزیتون کا پھل خاصا مشہور ہے۔
    قلعہ زعبل خاصا اونچائی پر واقع تھا۔ ہمارے ساتھی اوپر چلے گئے۔ میں پہاڑ کی نصف بلندی تک گیا اور شہر کا نظارہ اور موبائل سے منظر کشی کرتا رہا۔ ساتھی مجھے بھی اوپر آنے کی دعوت دیتے رہے مگر مجھے ابھی پورا دن پھرنا تھا اور ابھی سے اپنے آپ کو تھکانا نہیں چاہتا تھا۔
    قلعہ زعبل کے دامن میں ہی کم وبیش ٢٠٠ میٹر کے فاصلے پر سیسر نامی کنواں تھا۔ پتھروں کا بنا ہوا کنواں 9x8 میٹر تھا۔ جبکہ گہرائی 15 میٹر تھی۔ کنویں کے ایک طرف راستہ سا بنا ہو ا نظر آیا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ یہ راستہ پانی لینے اور آنے جانے کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
    یہ سرنگ تین کیلو میٹر لمبی تھی۔ اور وہاں پر مزارع کو سیراب کرتی ہے۔ اس کنویں کے بارے میں مختصر معلومات یہ ہے کہ یہ نبطی دور میں بنایا گیا۔ کنعانیوں کا ایک جرنیل ''سیسرا ''تھا یہ شخص یہودیوں کا بڑا سخت دشمن تھا۔اس نے فلسطین میں یہودیوں کو شکست فاش دی تھی۔ تورات میں مذکور ہے کہ وہ یہودیوں کا دشمن ہے۔ عیسائیوں کی کتابوں میں بھی اس کاذکر ملتا ہے۔ باقی جو کچھ قصے کہانیاں اس کنویں کے حوالے معروف ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماضی میں جب کوئی جرنیل فتح حاصل کرتا تو کوئی نہ کوئی خاص چیز اس کے نام منسوب کردی جاتی تھی چنانچہ اس کنویں کا نام بھی سیسرا کے نام پر رکھا گیا۔
    ظہر کی اذان ہوچکی تھی۔ اور ہمارا رخ شہر کی سب سے بڑی مسجد رحمانیہ کی طرف تھا۔ یہ ہمارے ہوٹل ''نزل'' کے بالکل قریب تھی۔ بڑی خوبصورت مسجد چاروں طرف وسیع پارکنگ، کھجور کے درخت اور خوبصورت باغیچے بنے ہوئے تھے۔ موسم بہار کے پھول اپنا رنگ دکھا رہے تھے۔ مسجد کے باتھ روم نہایت صاف ستھرے تھے۔ ہم نے مسافری سے فائدہ اٹھایا۔ شیخ محمد المعتاز کی اقتداء میں نماز ظہر اور نماز عصر قصرا ادا کی۔ باہر نکلے تو سامنے پبلک لائبریری نظر آئی۔ ساتھیوں نے بتایا کہ یہ شہر کی اکلوتی لائبریری ہے۔ انہوں نے دیکھنے کی دعوت دی۔ مگر میرا جواب تھا کہ اگر اس میں داخل ہوگئے تو پھر جلد نکلنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ لائبریری میری کمزوری ہے۔
    ہمارا سفر دومة الجندل کی طرف شروع ہوا۔ سکاکا سے دومة الجندل ٦٠ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ شہر کوئی بڑا نہیں ہے۔ مگر اس کی تاریخی اہمیت ہی مجھے یہاں کھینچ لائی تھی۔ خوبصورت ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے بڑا مزا آیا۔ راستہ میں الجوف یونیورسٹی بنتی ہوئی نظر آئی۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ایک سو کیلو میٹر مربع کے ایریا پر مشتمل یہ یونیورسٹی مستقبل میں اس علاقے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔
    آسمان پر ہلکے ہلکے بادل جمع ہورہے تھے۔ دھوپ تو صبح سے نہیں تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواکا لطف لینے کے لیے ہم نے کار کی کھڑکیاں کھول دی تھیں ۔راستہ کا نظارہ کرتے ہوئے ہم دھیرے دھیرے دومة الجندل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سڑک کے کنارے گھاس اور چھوٹے چھوٹے درخت وطن عزیز پاکستان کے مناظر کی یاد دلارہے تھے۔ البتہ اوپر ریگستان اور کہیں کہیں نخلستان، کھجوروں کے درخت شیخ محمد المعتاز کو ''عنیزہ القصیم'' کی یادوں میں محو کررہے تھے کیونکہ ان کا بچپن وہیں گزرا تھا۔ دومة الجندل کا ایک ہی بڑا بازار ہے۔ باقی چھوٹے چھوٹے فرعی بازار ہیں۔ یہاں کی ''جیل'' میں دارالسلام کی کتابیں اور بابا سلام خاصا مقبول ہے۔ مولانا ارشد ظہیر گاڑی چلاتے ہوئے ہماری معلومات میں اضافہ کررہے تھے کہ انہیں متعدد مرتبہ اس جیل میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس کا سپرنٹنڈنٹ بڑا مذہبی آدمی ہے اور ہم سے کتب خریدتا رہتا ہے۔ ایک طرف'' بحیرہ'' کا بورڈ نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ یہاں پر پانی کی بڑی خوبصورت جھیل ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اسے واپسی پر دیکھیں گے۔ شہر کے ایک کنارے پر قلعہ مارد اور اس کے ساتھ مسجد عمربن الخطاب ہے۔ سعودی حکومت نے اس علاقے کو بڑا خوبصورت اور صاف ستھرا کررکھا ہے۔
    تاریخ کا مسافر مدینہ منورہ میں کھڑا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع مل چکی ہے کہ اس علاقے کے سردار مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگی طاقت منظم کررہے ہیں۔ اوپر گذر چکا ہے کہ یہ علاقہ تجارتی اعتبار سے بڑا اہم تھا۔ہجرت کے چھٹے سال شعبان کے مہینہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی دستار بندی فرما رہے ہیں۔ یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عمامہ کھول ڈالا اور خود اپنے دست مبارک سے ان کے سر پر سیاہ عمامہ باندھا۔ پیچھے شملہ چھوڑا اور ہاتھ میں علم عنایت فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا : اگر تم دشمن پر فتح حاصل کرلو تو سردار قبیلہ کی بیٹی کے ساتھ شادی کرلینا۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اشارات بڑے واضح تھے۔ کہ ان شاء اللہ عبدالرحمن بن عوف نہ صرف فاتح ہونگے بلکہ دلہن بھی ہمراہ لائیں گے۔
    سات سو آدمیوں پر مشتمل یہ سریہ دومة الجندل روانہ ہوا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قائد لشکر اسلام عبدالرحمن بن عوف کو روانہ کرتے وقت جو نصیحت فرمائی اس کو ملاحظہ کیجیے۔
    ارشاد ہوا : (اغْزُوا بِاسْمِ اللَّہِ، وَفِ سَبِیلِ اللَّہِ، قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ، وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدُرُوا، ولا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِیدًا وَلَا شَیْخًا کَبِیرًا)۔
    '' اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جو اللہ سے کفر کرے اس سے لڑائی کرو، خیانت نہ کرنا، بے وفائی اور عہد شکنی نہ کرنا، لاشوں کی بے حرمتی کرنا اور نہ ہی کسی معصوم بچے یا ضعیف العمر شخص کو قتل کرنا''۔(معجم طبرانی)
    قارئین کرام ذرا اوپر والی نصیحت کو غور سے پڑھیں کہ اسلام کتنا دین رحمت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کمانڈر کو صاف طور پر فرما رہے ہیں کہ اللہ کے لیے ، اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنا ہے۔ کسی کے ساتھ غداری نہیں کرنی، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہیں کرنا ہے۔
    کیا کبھی کوئی جنگی کمانڈر برسر پیکار دشمن کو یہ حقوق دے سکتا ہے۔ اور پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف اللہ کا نام لیکر سات سو مجاہدین کے ساتھ دومة الجندل کے علاقے میں پہنچتے ہیں اور اسلام کے زرین اصول کے مطابق دشمن کو تین دن تک دعوت اسلام دیتے ہیں۔ دومة الجندل کو قدیم اسلام میں ایک خاص شہرت رہی ہے۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اسے فتح کرنے کے لیے خودبھی تشریف لے گئے تھے۔اس لشکر کے وہ خود قائد الجیش تھے مگر اس موقع پر لڑائی نہ ہوسکی کہ دشمن کا لشکر پہنچنے سے پہلے تتر بتر ہوچکا تھا۔
    اس علاقے میں بنو کلب کی اکثریت تھی۔ اس کے سردار اصبغ بن عمرو کے مقدر میں جہنم سے آزادی لکھی ہوئی تھی ۔ اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اصبغ نصرانی مذہب کو ماننے والا تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا تو اس کے ساتھ بہت سارے لوگوں نے اسلام قبول کرلیاجب کہ بہت سارے لوگوں نے اسلام کی دعوت کو ٹھکرابھی دیا۔سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں اصبغ کو اس کی بیٹی سیدہ تماضر کے لیے پیغام نکاح بھیجا جو قبول کرلیا گیا۔ اور دومة الجندل کی سرزمین پر یہ شادی سر انجام پائی۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف واپسی پر اپنی دلہن کو ہمراہ لے کر مدینہ طیبہ واپس آئے۔ انہی کے بطن سے مشہور راوی حدیث ابو سلمہ پیدا ہوئے۔
    میں چشم تصور سے اس شادی کو دیکھ رہا تھا۔ ہم اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن عوف کے سسرال میں کھڑے تھے۔ ہمارے سامنے خوبصورت قلعہ اور سیدنا عمر بن خطاب کی مسجد کا مینار اسلام کی عظمت اور سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یہ مسجد جو کم وبیش 15 میٹر لمبی اور 8 میٹر چوڑی ہوگی مکمل طور پر پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔ اس کے در ودیوار پکا ر پکار کر کہہ رہے تھے کہ اس کے منبرو محراب اور مینار سے نغمہ توحید گونجا کرتا تھا۔ سیرت نگاروں کے مطابق یہ مسجد سیدنا عمر فاروق کے حکم سے اس وقت بنائی گئی جب وہ بیت المقدس جارہے تھے یا واپس آرہے تھے۔بعض نے سیدنا عمرو بن العاص کا نام بھی لکھا ہے ۔ بہر حال مسجد کا نام عمربن خطاب ہی کے نام پر ہے ۔میں نے اس مسجد کو غور سے دیکھا۔ چار صفوں پر مشتمل مسجد میں صحن بھی تھا اور پچھلی طرف خواتین کے لیے نماز پڑھنے کی جگہ بھی بنی ہوئی تھی۔ مسجد کے دائیں جانب پرانے محلات کے درودیوار تھے۔ہم ان کی راہ داریوں میں گم ہوگئے۔ یہ خاصی تعداد میں مکانات تھے۔ کمرے بڑے بڑے اورچھوٹے چھوٹے بھی تھے۔ممکن ہے اس زمانے میں چھوٹے چھوٹے کمروں کا رواج ہوتا ہو۔ اسی طرح گلیاں بھی چھوٹی چھوٹی تھیں۔ کہیں کہیں خوبصورت گولائی میں محرابیں بنی ہوئی تھیں۔ جو کاریگروں کے کمال فن کی آئینہ دار تھیں۔
    آسمان سے ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی۔ مسجد کا اکلوتا مینار جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ آج بھی اسی طرح کھڑا ہے جس طرح اسے بنایا گیا تھا۔ مینار کے اوپر چڑھنے کے لیے اندر سیڑھیاں تھیں مگر وہ خاصی بوسیدہ ہوچکی تھیں اور ان پر چڑھنا خطرناک تھا۔ مسجد سے ملحقہ محلات کے کھنڈرات کے پیچھے دور دور تک کھجوروں کے درخت اور کھیتیاں نظر آئیں۔ جس سے منظر اور زیادہ خوبصورت بن گیاتھا۔بارش اب قدرے تیز ہوچکی تھی۔اور ابھی ہمیں قلعہ ''مارد'' بھی دیکھنا تھا۔ قلعہ مارد مسجد کے دائیں طرف خاصی بلندی پر واقع ہے۔ ہم گاڑی کو پیچھے لے گئے۔ سامنے دو رویہ سڑک تھی گھوم کر آئے تو سامنے قلعہ مارد تھا۔ یہاں ایک نجی ادارے نے نوادرات کی دوکان کھول رکھی تھی۔ دوکان میں داخل ہوئے تو اکیلا عبداللہ نامی سیلزمین نظر آیا۔محض تسکین کے لیے اندر چلے گئے۔باہر سے تو دوکان چھوٹی سی نظر آئی مگر اندر جاکر اندازہ ہوا کہ یہاں ایک دنیا آباد ہے۔ عبداللہ کو میں نے دیکھا کہ قرآن کریم کی تلاوت کررہا ہے۔ مجھے بڑا اچھا لگا کہ اگر سیلزمین فارغ بیٹھا ہے تو فارغ وقت کو ذکر اللہ میں گزار دے۔ تعارف ہوا تو کہنے لگا کہ میں گذشتہ ٩ سال سے نوادرات کی اس دوکان میں کا م کر رہا ہوں ۔جب ہم نے بتایا کہ ہم ریاض سے آئے ہیں تو بڑا خوش ہوا۔عربی قہوہ لے آیا۔کجھوروں کے طبق کوسامنے کر دیا،اچانک زور دار بارش ہوگئی۔بارش میری کمزوری ہے۔ہر چند کہ اخوان کو پیش کش کی کہ وہ کچھ خریداری کر سکتے ہیں۔مگر کسی نے بھی رغبت ظاہر نہ کی تاہم ''الجوف''نامی کتاب ضرور خرید لی۔تاکہ اس سے کچھ معلومات مل سکیں۔
    بارش چندمنٹ ہی جاری رہی۔ ہم قلعہ مارد میں داخل ہوئے تو یہ ہماری توقع سے بڑا تھا،سطح زمین سے تو خاصا اونچا تھاہی اب غور کیا تو پہلے عوام کے لیے ایک منزل تھی،پھر خواص کے لیے قدرے چھوٹی اور پھر خاص الخاص لوگوں کے لیے خاصی بلندی پر بلڈنگ نظر آئی ۔ بائیں جانب گہرا کنواں تھا۔ جس میں پانی کے گرنے کی آواز آرہی تھی تاہم وہ نظر نہیں آرہا تھا۔ عمر فاروق نے بتایا کہ ایک حادثہ میں غالباً ایک یادو نوجوان اس میں گر گئے تھے اس لیے اسے لوہے کی جالیوں سے بند کردیا گیا ہے۔ قلعہ کو دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ حکمران اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے کیا کچھ کرتے تھے۔ احباب نے اوپر جانے کے لیے مجھ سے بھی اصرار کیا کہ چلیے بادشاہ کے زیر استعمال کمرے دیکھتے ہیں مگر دو ساتھیوں کے علاوہ ہم لوگ نیچے ہی رہے۔ میں نے ازراہ تفنن ان سے کہا : بھئی اوپر جارہے ہو تو بادشاہ کو میرا سلام کہہ دینا۔ بلا شبہ یہ قلعہ بہت خوبصورت اور مضبوط ہے۔
    میں قلعہ کی دیوار کے ساتھ کھڑا تصور ات کی دنیا میں ایک اور منظر دیکھ رہاتھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم 9 ہجری میں غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے۔ تو آپ نے سیدنا خالد بن ولید کو چارسو بیس سواروںکا دستہ دے کر دومة الجندل بھیجا۔ ارشاد فرماکہ خالد تم اس کے حاکم اکیدر بن عبدالملک کو نیل گائے کا شکار کرتے ہوئے پاؤ گے۔
    واقعی اس قلعہ کو فتح کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔غالبا یہ وہی قلعہ تھا جس میں اکیدر رہائش پذیر تھا۔ اسی کا نام قلعہ مارد ہے جس کی دیوار کے ساتھ میں کھڑا تھا۔ سامنے اونچی اونچی دیواروں میں گھرا ہوا خوبصورت صحن تھا۔ سیدنا خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ رات کا وقت تھا اور چاندنی چھائی ہوئی تھی۔ سامنے قلعہ صاف نظر آرہا تھا۔ وہ قدرے فاصلے پر رک گئے۔ اتنے میں ایک نیل گائے نکلی اور قلعہ کے دروازے پر سینگ رگڑنے لگی۔ اکیدر شکار کا شوقین تھا ،جب نیل گائے کو دروازے پر پایا تو اس کے شکار کو نکلا۔ سیدنا خالد بن ولید اور ان کے سواروں نے اسے جالیااور گرفتار کر کے مدینہ طیبہ لے آئے۔
    مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کے مطابق آپ نے اس کی جان بخشی کی اور دو ہزار اونٹ، آٹھ سو غلام، چار سو زرہیں اور چار سو نیزے دینے کی شرط پر مصالحت فرمائی۔ اس نے جزیہ دینے کا اقرار کیا، آپ نے اس سے انہی شرائط پر معاملہ طے کیا جیسے تبوک، ایلہ اور تیما کے حکمرانوں سے کر چکے تھے۔
    اکیدر بن عبدالملک کے بارے میں مختلف اقوال ذکر کیے گئے ۔ہیں بعض کہتے ہیں کہ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ بعض کے مطابق اس نے نصرانی مذہب ہی اختیار کیے رکھا اور کئی مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ مرتد ہوگیا تھا اور سیدنا خالد بن ولید نے اسے ١٢ ہجری کو واصل جہنم کردیا۔
    جہاں تک سیدنا عبدالرحمن بن عوف کے سسر اصبغ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مؤرخین کا یہی کہنا ہے کہ وہ اسلام پر قائم رہا۔
    بنو کلب عرب کا بڑا مشہور اور طاقتور قبیلہ مانا جاتا ہے۔ یہ لوگ بدو تھے اور گردچراگاہوں کی تلاش میں پھرتے رہتے تھے۔ مگر ان کا علاقہ شام کا یہی سرحدی علاقہ تھا۔ سیدنا عمر فاروق کے دور میں یہ علاقہ مسلمانوں کی اہم فوجی چھاؤنی تھی اور اس علاقے سے بڑی تعداد میں مجاہدین جنگوں میں شریک کرتے تھے۔
    بنو کلب سے قریش کی رشتہ داری مختلف ادوار میں جاری رہی۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان نے میسون بنت بجدل الکلبیہ سے شادی کی۔ یہ دومة الجندل کی رہنے والی تھی۔ اس کے بارے میں راقم الحروف نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اس خاتون کے لیے امیر معاویہ نے دمشق میں بڑا خوبصورت محل بنوایا تھا مگر اس نے کچھ عرصہ گذارنے کے بعد وہاں سے اپنے وطن واپس آنے پر اصرار کیا۔ اسی خاتون نے ہاں یزید پیدا ہوا۔ جس نے بہت زیادہ شہرت پائی۔ امیر معاویہ نے بنو کلب کی ایک اور خاتون سے بھی شادی کی۔
    اس علاقے میں دیکھنے والی چیز تو یہی تھی کہ اب بھوک بھی چمک اٹھی تھی۔ ہم کسی اچھے ریسٹورنٹ کی تلاش میں تھے کہ اسی دوران برادرم عزیز سیف الدین سے ملاقات ہوگئی وہ ہماری تلاش میں تھے انڈیا سے تعلق رکھنے والے سیف الدین دومة الجندل کے مرکز جالیات میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی محبتوں کا اظہار کیا۔ گھر جانے پر اصرار کیا۔ میں نے ان سے مختصراً دعوتی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اطمینان بخش طریقے سے دومة الجندل میں دعوت کا کام کررہے ہیں اور دعوت توحید کو پھیلانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کررہے ہیں۔ ان سے ملاقات کرکے دلی سکون میسر ہوا۔
    دومة الجندل میں کسی اچھے ریسٹورنٹ کے بارے میں جب نوادرات کی دوکان پر کام کرنے والے عبداللہ سے میں نے پوچھا تو اس جواب تھا کہ اچھا کھانا تو گھر ہی سے مل سکتا ہے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ دومةالجندل میں ہم اچھے ریسٹورنٹ کی تلاش کرتے کرتے ایک ملیباری ہوٹل میں پہنچ گئے۔ کھانے کے دوران میں نے موٹے تازے ویٹر سے پوچھا کہ کڑک چائے ملے گی۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ پھر بولا کہ ہاں صاب اگر آپ چاہیں تو بنا سکتا ہوں۔ ادھر بارش خاصی تیز ہوگئی تھی۔ ہم نے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی۔
    ہمارا اگلا رخ دومة الجندل جھیل کی طرف تھا۔یہ جھیل بڑی خوبصورت اور خاصی بڑی ہونے کے ساتھ بڑی گہری ہے۔ حکومت نے بڑاخوبصورت کورنش بنا رکھا ہے۔ ایک مضبوط دیوار جو لوہے کی تاروں سے جڑی ہوئی تھی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہاں نہانے کی اجازت نہیں ہے۔
    ہم سکاسکا کی طرف روانہ ہوئے تو اچانک ژالہ باری شروع ہوگئی۔ کالے رنگ کی سڑک سفیدی پکڑنے لگی۔ ارشد صاحب نے ہوا کا رخ سمجھتے ہوئے گاڑی کو ٹیڑھا کھڑا کردیا تاکہ سکرین ٹوٹنے سے بچ رہے۔ ژالہ باری کچھ دیر ہی جاری رہی ،پھر بارش تیز ہوتی چلی گئی۔ ہم بھیگے ہوئے موسم کا مزا لیتے ہوئے سکا کا پہنچ گئے۔ رات کو بہت سے احباب کے ساتھ دیرتک ملاقات رہی۔ مکتب جالیات والوں کی کوششوں کے نتیجہ میں الحمد للہ گذشتہ آٹھ دس سالوں میں 1500 سے زائد لوگ مسلمان ہوچکے ہیں۔میں نے مکتب جالیات دیکھا ۔ متنقل مکتبہ دیکھا جو ایک بڑی گاڑی میں بنایا گیا ہے۔عزیزان عمر فاروق او رمحمد اکمل نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کس طرح مختلف فیکٹریوں او رمزارع میں جا جا کر دعوت کا کام کرتے ہیں ۔ یہ دونوں نوجوان بڑی محنت اور لگن سے کام کررہے ہیں۔ اس جد وجہد کے اثرات وثمرات واضح ہیں ۔ لوگوں کے عقائد کی اصلاح ہو رہی ہے۔ شرک وبدعت کے اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔اللہ تعالی ان مخلص ساتھیوں کی کو ششوں کو شرف قبولیت عطا فر مائے۔ اللہ تعالی سعودی حکومت کے ذمہ داران کو جزائے خیردے جن کے مکمل مالی اور عملی تعاون سے دعوت کی راہ میں آسانیاں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مکتب کے ذمہ داران ہم سے مکمل تعاون کرتے ہیں۔
    اس علاقہ میں سب سے زیادہ بنگالی ہیں پھر پاکستانی پھر انڈین لوگ یہاں کام کرتے ہیں۔ سکاکا کے ارد گرد کافی مزارع ہیں۔ اگلے دن ہمیں وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ دن بڑا خوبصورت تھا۔ ہر چند کہ بادل نہ تھے مگر گرمی قطعاً نہ تھی۔ ہم خاصی دیر ریت پر بیٹھے ہوئے ''الرجاجیل'' کو دیکھتے رہے۔ کئی کیلومیٹر مربع کی اس جگہ پر کبھی شہر آباد ہوتا تھا۔ اب بھی وہاں دو تین میٹر لمبے پتھر کھڑے ہیں۔ دور سے یوں نظر آتا ہے کہ گویا یہ آدمی ہیں۔ شاید اسی لیے ان کو ''الرجاجیل'' کا نام دیا گیا ہے۔
    منطقہ الجوف کا دو دن کا یہ سفر بڑا یاد گار رہا۔ اس علاقے کی تاریخ سے واقفیت کے ساتھ یہ بات مزید ثابت ہوگئی کہ رہے '' نام اللہ کا '' باقی ہر چیز فنا ہے۔ نجانے اس علاقے میں کتنے حکمران آئے جن کے نام ونشان مٹ گئے البتہ ان کے آثار اور بنائے ہوئے قلعے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    بہت عمدہ، معلوماتی، دلچسپ اور پر لطف سفرنامہ، شیئرنگ کا شکریہ، جزاک اللہ خیرا!
     
  3. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,548
    بہت اچھا لگا سب پڑھ کے
    جزاک اللہ خیر
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا اسحاق بھائی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں