غزوہ نجد

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏مئی 6, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    صفحہ نمبر:404۔
    غزوہ نجد:
    غزوہ بنی نضیر میں کسی قربانی کے بغیر مسلمانوں کو شاندار کامیا بی ہوئی۔ اس سے مدینے میں قائم مسلمانوں کا اقتدار مضبوط ہو گیا اور منافقین پر بد دلی چھا گئی۔اب انہیں کھل کر کچھ کرنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی ۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ ان بدوؤں کی خبرلینے کے لئے یکسو ہو گئے جنہوں نے احد کے بعد سے ہی مسلمانوں کو سخت مشکلات میں الجھا دیا تھا اور نہایت ظالمانہ طریقے سے داعیان اسلام پر حملے کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار چکے تھے۔ چالنچہ غزوہ بنو نضیر سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺابھی ان بدعہدوں کی تادیب کے لئے اٹھے ہی تھے کہ آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ بنو غطفان کے دو قبیلے بنو محارب اور بنو ثعلبہ لڑائی کے لئے بدوؤں اور اعرابیوں کونفر ی فراہم کر رہے ہیں۔ اس خبر کے ملتے ہی نبی ﷺ نے نجد پر یلغار کا فیصلہ کیا اور صحرائے نجد میں دور تک گھستے چلے گئے۔جس کا مقصد یہ تھا کہ ان سنگ دل بدوؤں پر خوف طار ی ہوجائے اور وہ دوبارہ مسلمانوں کے خلاف پہلے جیسی سنگین کاروائیوں کے اعادے کی جرات نہ کریں۔ ادھر سرکش بدو، جو لوٹ مار کی تیاریاں کر رہے تھے مسلمانوں کی اس اچانک یلغار کی خبر سنتے ہی خوف زدہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے اور پہاڑوں کی چوٹیوںمیں جا دبکے ۔ مسلمانوں نے لٹیرے قبائل پر اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنے کے بعد امن و امان کے ساتھ واپس مدینے کی راہ لی۔ اہل سیر نے اس سلسلے میں ایک معین غزوے کا نام لیا ہے جوکہ ربیع الآخر یا جمادی الاول سن 4 ھجری میں سر زمین نجد کے اند پیش آیا تھا کیونکہ مدینے کے حالات ہی کچھ ایسے تھے ۔ ابو سفیان نے غزوہ احد سے واپسی کے وقت آئندہ سال میدان بدر میں جس غزوے کے لئے للکار ا تھا اور جسے مسلمانوں نے منظورکر لیا تھا اس کا وقت قریب آ رہا تھا۔ اور جنگی نقطہ نظر سے یہ بات کسی طرح مناسب نہ تھی کہ بدوؤ ں اور اعراب کو ان کی سرکشی اور بغاوت پر قائم چھوڑکر بدر جیسی زور دار جنگ میں جانے کے لئے مدینے کو خالی چھوڑ دیا جاے ۔بلکہ ضروری تھا کہ میدان بدر میں جس ہولناک جنگ کی توقع تھی اسکےلئے نکلنے سے پہلےان بدوؤ ں کی شوکت پر ایسی ضر ب لگائی جائے کہ انہیں مدینے کا رخ کرنے کی جرات نہ ہو۔ باقی رہی یہ بات کہ یہی غزوہ جو ربیع الآخر یا جمادی الاول سن 4 ھجری میں پیش آیا تھا غزوہ ذات الرقاع تھا ، ہماری تحقیق کے مطابق صحیح نہیں ۔ کیونکہ غزوہ ذات الرقاع میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ موجودتھے اور ابور ہریرہ رضی اللہ عنہ جنگ خیبر کے صرف چند دن پہلے اسلام لائے تھے ۔اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ( مسلمان ہو کر یمن روانہ ہوئے تو ان کی کشتی ساحل حبشہ سےجالگی تھی، اور وہ حبشہ سے اس وقت واپس آئے تھے جب نبی ﷺ خیبر میں تشریف فرما تھے۔ اسی طرح وہ پہلی بار) خیبر ہی میں خدمت نبو ی میں حاضرہوئے تھے ۔پس ضروری ہے کہ غزوہ ذات الرقاع غزوہ خیبر کے بعد پیش آیا ہو ۔ سن 4 ھجری کے ایک عرصے بعد غزوہ ذات الرقاع کے پیش آنے کی علامت یہ بھی ہےکہ نبیﷺ نے غزوہ ذات الرقاع میں صلوۃ الخوف پڑھی تھی۔٭ اور صلوۃ الخوف پہلےپہل غزوہ عسفان میں پڑھی گئی اور اس میں کوئی اختلاف نہیں غزوہ عسفان کا زمانہ سفر حدیبیہ کا ایک ضمنی واقعہ تھا۔ اور سفر حدیبیہ سن 6 ھجری کے آخر میں پیش آیا تھاجس سے واپس آکر رسول اللہﷺ نے خیبر کی راہ لی تھی۔ اس لئے اس اعتبار سے بھی غزوہ ذات الرقاع کا زمانہ خیبر کے بعد ہی ثابت ہے۔

    ٭ حالت جنگ میں ادا کی جانے والی نماز صلوٰ ۃ خوف کہلاتی ہے۔ جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدھی فوج ہتھیار بند ہو کر امام کے پیچھے نماز پرھے باقی آدھی فوج ہتھیار باندھے دشمن پر نظر رکھے ۔ایک رکعت کے بعد یہ فوج امام کے پیچھے آجائے اور پہلی فوج دشمن پر نظررکھنے چلی جائے ۔ امام دوسری رکعت پوری کرلے تو باری باری فوج کے دونوں حصے اپنی اپنی نما زپوری کریں۔ اس نماز کے اس اس سے ملتے جلتے اور بھی متعدد طریقے ہیں جو موقع جنگ کے حساب سے اختیار کئے جاتے ہیں۔ تفصیلا ت کتب احادیث میں موجود ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں