اعلیٰ حضرت پر اعتراضات کے جوابات (گزشتہ سے پیوستہ)

کلک رضا نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏فروری 14, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  2. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  3. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  4. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  5. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  6. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  7. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    فکر نہ کر برادر ابھی آپ نے اپنی فقہ نہیں پڑھی۔ ذرا میں شرح عقیدۃ طحاویہ کا مطالعہ کروں پھر دیکھتے ہیں۔ ہاں اور یہ جوابات بالکل وہاں پر لگائے جائیں گے۔ آپ کو فکر کی ضرورت نہیں۔ بس ہمیں بھی جواب کا موقع دو۔
     
  9. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    اعجاز علی صاحب۔۔۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر آپ کے جن اعتراضات کا جواب میں نے دیا ہے۔۔ ان کا جواب بھی دے دیجئے۔
     
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بالکل بھائی۔۔ :00018: آپ پریشان نہ ہو۔۔
     
  11. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    بھائی میں تواتنا جانتاہوں کہ جب کسی نے مجھ سے اعلی حضرت کی پیروی کا سوال کیا تومیں نے جواب دیا کہ اگ’’ر اعلی‘‘ٰ کو ہی ماننا ہے ت’’واعلی حضرت‘‘ کے بجائے ’’ابوالاعلی‘‘ کو کیوں نہ ماناجائے۔
     
  12. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    سبحان اللہ مشرکین کو ابھی تک جواب نہیں دیا گیا ؟

    اعجاز بھائی اس کو منہ توڑ جواب دیں

    انکی ہمت دیکھیں شیطانی کاموں میں بھی دلیل ہمارے رب کی آیات کی دیتے ہیں

    اعجاز بھائی یہ اعلی ہے کون؟ اور اس پوسٹ کی پہلی قسط کہاں ہے؟؟

    مجھے کچھ بتائیں ان کے معبدوں کے بارے میں اگر ممکن ہو تو کوئی کتاب دیں جن میں ان کے مشرکانہ عقیدوں کا ذکر ہویا ان کے پیروں کا

    میں آپ کا ساتھ دونگی ان مشرکین کے مقابل باذن اللہ

    مگر ان کو جواب دینا صرف ضروری نہیں بلکہ بہت ضروری ہے

    اللہ کی توحید کی نصرت سبہی سے اہم کام ہے

    بھائی پلیئز مجھے کچھ ڈیٹیل بتائیں تاکہ میں اپنی طرف سے کوشش کر سکوں

     
  13. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    بریلویت، اپنی کتابوں کے آئینے میں

    السلام علیکم!

    بریلویت کے یہ علمبردار اپنے اعلیٰ حضرت کو بچانے کے لیئے وہ وہ تاویلات کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت بھی شرما جائے۔

    دوسروں پر جب اعتراضات کرتے ہیں تو ان لوگوں کو سیدھی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی اور جب اپنی باری آتی ہے تو تاویل در تاویل اور ان آیات و احادیث کو ڈھال بناتے ہیں جن کا دور دور سے بھی کوئی تعلق اعتراض سے نہیں ہوتا۔

    میں نے ایک مغمون "بریلویت، اپنی کتابوں کے آئینے میں" تیار کیا تھا جب اس کو ایک مشہور بریلوی فورم پر آہستہ آہستہ پیش کیا تو شروع شروع میں ایسے ہی اوٹ پٹانگ جواب دئیے گئے اور ابھی مضمون آدھا ہی پیش ہوا تھا کہ اسے بند کر دیا گیا۔ بہرحال اس مضمون کی میں نے پی ڈی ایف فائل تیار کر کے انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر دی ہے۔ جسے یہاں سے ڈائون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں ان بریلوی ھجرات کے کفر و شرک اور گستاخانہ عبارات کے ساتھ ساتھ ہر حوالے کا اصلی سکین بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں جس طرح ان بریلوی صاحب نے یہاں تاویلات پر مشتمل امیج پیش کیئے ہیں مجھے اس کا طریقہ بتایا جائے میرے پاس ان بہت سی تاویلات کا رد لکھا ہوا ہوا امیجز کی شکل میں موجود ہے جسے میں یہاں دینا چاہتا ہوں۔
     
  14. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    تاویلات باطلہ کا رد

    السلام علیکم!

    میرے مضمون "بریلویت، اپنی کتابوں کے آئینے میں" کے کچھ حصے کے جواب میں انٹرنیٹ کے مشہور بریلوی خلیل رانا صاحب نے تاویلات کے زریعے اعتراضات اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ جس کا جواب میں نے لکھا تھا۔ مگر اس کا جواب الجواب مزید تاویلات کے زریعے دے کر میری اس تھریڈ کو ہی بند کر دیا گیا۔ ان تاویلات کا جو جواب میں نے لکھا تھا اس کو یہاں پیش کر رہا ہوں کیونکہ اس مین زیادہ تر تاویلات وہی ہیں جو اردو مجلس پر موجود ان بریلوی صاحب نے پیش کی ہیں۔ میری پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ ان کو پڑھنے سے پہلے میرا مضمون "بریلویت، اپنی کتابوں کے آئینے میں" ضرور پڑھ لیں تا کہ وہ بریولیت کا اصلی چہرہ پہچان سکیں اور خود اندازہ کر سکیں کہ یہ بریلوی ھجرات کیسی سنگین کفریہ و شرکیہ اور گستاخانہ عبارات کا قران و حدیث سے دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ سمجھنے کی تو فیق دے، آمین۔

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    تاویلاتِ فاسدہ اور ان کا رَدّ
    خلیل رانا صاحب نے میری تھریڈ کا فاسد تاویلات کے زریعے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک جگہ پر اصل اعتراض کی بجائے بات کو بدل کر اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ٹھنڈے دماغ سے اس پوری تھریڈ کو اور پھر اس کے بعد خلیل رانا صاحب کے جواب کو پڑھے تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ ان حضرات کے اصل عقائد کیا ہیں؟ نیز جس طرح کی تاویلات سے خلیل رانا صاحب نے اپنے بزرگوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے اس طرح پھر ان کا دوسروں کی عبارتوں پر اعتراض کرنے کا سرے سے کوئی حق نہیں رہتا۔ اب کچھ فرصت میسر آنے پر چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں جس سے انصاف پسند حضرات کے سامنے خلیل رانا صاحب کی تاویلات کا فاسد ہونا واضح ہو جائیگا، ان شاء اللہ۔

    ۱)مَیں نے احمد رضا خان صاحب کے ملفوظات سے ایک واقعہ نقل کیا تھا جس میں پیر صاحب اپنے مرید کی اپنی بیوی سے ہمبستری کے وقت بھی اس کے ساتھ دوسرے پلنگ پر موجود ہوتے ہیں۔ اس پر خلیل صاحب لکھتے ہیں:
    ”زیرِ بحث ملفوظ میں ایک ولی اللہ کی نظرِکرامت اور اس کی روحانیت کی rangeبیان کی گئی ہے۔یہاں ظاہری نظر کی بات نہیں ہے۔پھر ارادی اور غیر ارادی نظر میں بھی فرق ہوتا ہے۔“
    خلیل رانا صاحب نے یہاں پر جس غلط بیانی سے کام لیا ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔قارئین سے گزارش ہے کہ وہ خود اس واقعے کو ایک دفعہ پھر جا کر پڑھ لیں۔ احمد رضا خان صاحب نے صاف اقرار کیا ہے کہ پیر صاحب نے اپنے مرید سے فرمایا تھا:
    ”کوئی اور پلنگ بھی تھا (مرید نے)عرض کیا ہاں ایک پلنگ خالی تھا(پیر صاحب نے) فرمایااس پر مَیں تھا تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔“
    ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ پیر صاحب مرید کی اپنی بیوی سے ہمبستری کے وقت دوسرے پلنگ پر موجود تھے اور اسی سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ پیر اپنے مرید سے کسی وقت بھی جدا نہیں ہوتا۔ کیا یہ صرف روحانی نظر کی rangeہے۔؟ جناب ان الفاظ سے تو صاف ظاہر ہے کہ پیر صاحب بنفس نفیس دوسرے پلنگ پر موجود تھے۔ رانا صاحب صرف الٹی سیدھی تاویلات کے زریعے اپنے بڑوں کے غلط عقائد و نظریات پر پردے ڈال رہے ہیں ۔
     
  15. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    تاویلات باطلہ کا رد

    السلام علیکم!

    میرے مضمون "بریلویت، اپنی کتابوں کے آئینے میں" کے کچھ حصے کے جواب میں انٹرنیٹ کے مشہور بریلوی خلیل رانا صاحب نے تاویلات کے زریعے اعتراضات اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ جس کا جواب میں نے لکھا تھا۔ مگر اس کا جواب الجواب مزید تاویلات کے زریعے دے کر میری اس تھریڈ کو ہی بند کر دیا گیا۔ ان تاویلات کا جو جواب میں نے لکھا تھا اس کو یہاں پیش کر رہا ہوں کیونکہ اس مین زیادہ تر تاویلات وہی ہیں جو اردو مجلس پر موجود ان بریلوی صاحب نے پیش کی ہیں۔ میری پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ ان کو پڑھنے سے پہلے میرا مضمون "بریلویت، اپنی کتابوں کے آئینے میں" ضرور پڑھ لیں تا کہ وہ بریولیت کا اصلی چہرہ پہچان سکیں اور خود اندازہ کر سکیں کہ یہ بریلوی ھجرات کیسی سنگین کفریہ و شرکیہ اور گستاخانہ عبارات کا قران و حدیث سے دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ سمجھنے کی تو فیق دے، آمین۔

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    تاویلاتِ فاسدہ اور ان کا رَدّ
    خلیل رانا صاحب نے میری تھریڈ کا فاسد تاویلات کے زریعے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک جگہ پر اصل اعتراض کی بجائے بات کو بدل کر اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ٹھنڈے دماغ سے اس پوری تھریڈ کو اور پھر اس کے بعد خلیل رانا صاحب کے جواب کو پڑھے تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ ان حضرات کے اصل عقائد کیا ہیں؟ نیز جس طرح کی تاویلات سے خلیل رانا صاحب نے اپنے بزرگوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے اس طرح پھر ان کا دوسروں کی عبارتوں پر اعتراض کرنے کا سرے سے کوئی حق نہیں رہتا۔ اب کچھ فرصت میسر آنے پر چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں جس سے انصاف پسند حضرات کے سامنے خلیل رانا صاحب کی تاویلات کا فاسد ہونا واضح ہو جائیگا، ان شاء اللہ۔

    ۱)مَیں نے احمد رضا خان صاحب کے ملفوظات سے ایک واقعہ نقل کیا تھا جس میں پیر صاحب اپنے مرید کی اپنی بیوی سے ہمبستری کے وقت بھی اس کے ساتھ دوسرے پلنگ پر موجود ہوتے ہیں۔ اس پر خلیل صاحب لکھتے ہیں:
    ”زیرِ بحث ملفوظ میں ایک ولی اللہ کی نظرِکرامت اور اس کی روحانیت کی rangeبیان کی گئی ہے۔یہاں ظاہری نظر کی بات نہیں ہے۔پھر ارادی اور غیر ارادی نظر میں بھی فرق ہوتا ہے۔“
    خلیل رانا صاحب نے یہاں پر جس غلط بیانی سے کام لیا ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔قارئین سے گزارش ہے کہ وہ خود اس واقعے کو ایک دفعہ پھر جا کر پڑھ لیں۔ احمد رضا خان صاحب نے صاف اقرار کیا ہے کہ پیر صاحب نے اپنے مرید سے فرمایا تھا:
    ”کوئی اور پلنگ بھی تھا (مرید نے)عرض کیا ہاں ایک پلنگ خالی تھا(پیر صاحب نے) فرمایااس پر مَیں تھا تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔“
    ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ پیر صاحب مرید کی اپنی بیوی سے ہمبستری کے وقت دوسرے پلنگ پر موجود تھے اور اسی سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ پیر اپنے مرید سے کسی وقت بھی جدا نہیں ہوتا۔ کیا یہ صرف روحانی نظر کی rangeہے۔؟ جناب ان الفاظ سے تو صاف ظاہر ہے کہ پیر صاحب بنفس نفیس دوسرے پلنگ پر موجود تھے۔ رانا صاحب صرف الٹی سیدھی تاویلات کے زریعے اپنے بڑوں کے غلط عقائد و نظریات پر پردے ڈال رہے ہیں ۔
     
  16. طالب نور

    طالب نور -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2008
    پیغامات:
    366
    مزید
    ۲)کرشن کافر سو جگہ حاضر۔۔۔ مَیں نے اعتراض کیا تھا کہ خان صاحب کے نزدیک جو صفت غیر مسلم کے لیئے ہو سکتی ہے وہ مسلم کے لیئے کمال نہیں۔ اب جب خود ان کے نزدیک کرشن سو جگہ پر موجود ہوگیا تو یہ صفت کہ ایک ہی جگہ پر کئی جگہ موجود ہو جانا خود بریلوی حضرات کے لیئے بھی کوئی کمال نہیں ہونا چاہیئے جس کو یہ حضرات آج اولیاء و انبیاء کی لازمی صفت خیال کیئے بیٹھے ہیں۔ خلیل رانا صاحب نے یہاں بھی اصل اعتراض کو ہاتھ لگائے بغیر شیطان کو حاضر ناظر ثابت کرنا شروع کر دیا۔پھر فرشتوں کے مرنے والے سے سوال و جواب کے موقع پر اپنی ایک دلیل بیان کرتے ہوئے خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں لفظ (ھٰذایعنی یہ)کا استعمال بتاتا ہے آپﷺ بھی پہنچتے ہیں۔“
    اس کے مقابلے میں انہیں کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان صاحب فرماتے ہیں:
    ”اب نہ معلوم کہ سرکار خود تشریف لاتے ہیں یاروضہ مقدسہ سے پردہ اٹھا دیا جاتا ہے شریعت نے کچھ تفصیل نہ بتائی۔“ (ملفوظات،حصہ چہارم:ص۳۸۴)

    ۳) خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”موسیٰ سہاگ ایک مجذوب تھے، شرعاً مرفوع القلم تھے۔“
    جناب یہ بات تو ہمیں تسلیم ہے کہ جو بندہ ایسا ہو کہ اس کی عقل سلامت نہ ہوبلکہ پاگل ہو بے شک مرفوع القلم ہوتا ہے۔ مگر زرا غور فرمائیے کہ اگر موسیٰ سہاگ مجذوب تھے اور ان کی عقل سلامت نہ تھی اور ان کا خدا کو اپنا خاوند کہنا مرفوع القلم ہونے کی وجہ سے قابلِ طعن نہیں تو کیا احمد رضا خان صاحب بھی مجذوب تھے جو ایک مجذوب کی اتنی کفریہ باتوں کو بلا دریغ لوگوں کے سامنے ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے ان میں کوئی حرج ہی نہیں۔ چنانچہ موسیٰ سہاگ مجذوب کا قصہ بیان کرنے سے پہلے احمد رضا خان صاحب فرماتے ہیں:
    ”سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعت مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرے گا۔“
    اپنے اس بیان کے بعد خان صاحب نے موسیٰ سہاگ کا زنانہ وضع اختیار کرنا اور اللہ کو اپنا خاوند قرار دینا بیان کیا ہے۔گویا خان صاحب کے نزدیک ان سچے مجذوب کی یہ باتیں نہ تو شریعت سے مقابلہ ہیں نہ اس کے خلاف۔ اناللہ وانا علیہ راجعون ۔پھر اس کے بعد آخر میں بھی خان صاحب ان موسیٰ سہاگ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”صوفی صاحب تحقیق“
    یعنی خان صاحب کے نزدیک تو خدا کو اپنا خاوند قرار دینے والے مجذوب صاحبِ تحقیق ہیں۔ ایسے میں رانا صاحب کا موسیٰ سہاگ کو مرفوع القلم قرار دینا احمد رضا خان صاحب کو کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ اللہ ہمیں اندھی عقیدت کی غلو کاریوں سے محفوظ فرمائے، آمین۔

    ۴)خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”اعلیٰ حضرت نے دورِ غوثِ پاک کو (امام مہدی تک)لکھا ہے(امام مہدی سمیت )نہیں لکھا۔ کیا وہابی کو (تک )اور( سمیت )کا فرق معلوم نہیں۔حالانکہ آگے صاف صاف موجود ہے کہ :(پھرامام مہدی رضی اللہ عنہ کو غوثیت ِ کبریٰ عطا ہو گی)۔مگر جاہلانہ الزام تراشی نجدیوں کی عادت بن چکی ہے۔“
    یہاں بھی خلیل رانا صاحب نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا رویہ اپنایا ہے۔ اس لیئے بہتر ہے کہ مَیں خان صاحب کی عبارت سے یہ ثابت کر دوں کہ خان صاحب(تک) کو (سمیت) کے لیئے ہی استعمال کر رہے ہیں۔ چنانچہ
    جس عبارت پر میرا اعتراض تھا اسی میں احمد رضا خان صاحب نے فرمایا :
    ”پھر حضرت امام حسین سے درجہ بدرجہ امام حسن عسکری تک یہ سب حضرات مستقل غوث ہوئے۔“
    کیوں رانا صاحب یہاں پر بھی آپ یہی کہیں گے کہ (امام حسن عسکری تک) کہا ہے( سمیت )نہیں اس لیئے خان صاحب نے امام حسن عسکری کو غوث نہیں کہا۔اسی طرح اگے بھی خان صاحب فرماتے ہیں:
    ”امام حسن عسکری کے بعد حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک جتنے حضرات ہوئے سب ان کے نائب ہوئے۔“
    کیا کوئی کوڑھ سے کوڑھ مغز بھی اس عبارت کا مطلب یہ نکال سکتا ہے کہ (حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ تک) کے لفظ میں احمد رضا خان صاحب کے مطابق شیخ عبد القادر شامل نہیں۔
    ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ احمد رضا خان صاحب کی عبارت میں جس طرح(امام حسن عسکری تک)میں امام حسن عسکری شامل ہیں ،جس طرح(حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک) میں شیخ عبد القادر جیلانی بھی شامل ہیں اسی طرح جب احمد رضا خان صاحب نے کہا:
    ”حضرت امام مہدی تک سب نائب حضور غوثِ اعظم ہوں گے“
    تو اس عبارت میں بھی امام مہدی شامل ہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ احمد رضا خان صاحب کے نزدیک امام مہدی بھی شیخ عبد القادر جیلانی کے نائب ہوں گے۔ جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ امام مہدی کو غوثیت کبریٰ عطا ہو گی تو شیخ عبد القادر جیلانی کو بھی غوثیتِ کبریٰ کا ملنا اسی عبارت میں موجود ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ توجہ فرمائیں کہ رانا صاحب جیسے احمد رضا خان صاحب کے وکیل کیسے لوگوں کو بیوقوف بنا کر اپنے اعلیٰ حضرت کے دفاع کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ۴)مَیں نے ملفوظات سے ایک واقعہ نقل کیا تھا جس میں ایک صاحب کو مرتے وقت جب کہا گیا کہ اپنا منہ قبلہ کی طرف کر لو تو اس نے اپنا رخ اپنے پیر کے مزار کی طرف کر لیااور اقرا رکیا کہ اس کا قبلہ و کعبہ وہی ہے۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے خلیل رانا صاحب نے فرمایا:
    ”کعبہ کو جسم کا قبلہ بنایا گیا ہے۔یاد رہے مومن کامل کا مقام کعبہ سے بلند ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)“
    رانا صاحب بد حواسی میں نہ جانے کیا کچھ کہے جا رہے ہیں۔ احمد رضا خان صاحب نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس میں مرنے والا اپنے جسم کا رخ اپنے پیر کے مزار کی طرف کر کے کہتا ہے کہ مَیں نے اپنا منہ قبلہ کو کر لیا ہے ۔جس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس کے نزدیک تو نہ صرف روح بلکہ جسم کا کعبہ و قبلہ بھی اپنے پیر اور شیخ کا مزار ہی ہے۔ مگر رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے جسے دیکھنا عبادت ہواس کو روح کے لیئے سمت توجہ (قبلئہ روح) کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔“
    چنانچہ رانا صاحب ادھر ادھر کی نہ ماریے اور من مانی تاویلات سے غلط باتوں کا دفاع نہ کیجیئے۔ جن احادیث اور آیات کو آپ اپنے من مانے مفہوم پہنا رہے اس کا جواب تو اللہ کے ہاں دینا ہی پڑے گا۔ مگر ہماری عرض یہ ہے کہ مومن کامل کا مقام کعبہ سے بلند ہونے کا مطلب یہی ہے جو آپ نکالنا چاہتے ہیں تو پھر روح کا ہی کیوں جسم کا قبلہ و کعبہ بھی مومن کامل کو بنا نے کا برملا اعلان کر دیجیئے اور اگر یہ بات غلط ہے تو ان آیا ت و احادیث کو من مانے مطلب نکال کر کوگوں کو گمراہ نہ کیجیئے۔

    ۵) احمد رضا خان صاحب کے مبلغ علم کے حوالے سے عرض کیا گیا تھا کہ خان صاحب کے نزدیک رسول کوئی بھی شہید نہیں ہوا جبکہ سورة آل عمران کی آیت میں صاف موجود ہے کہ رسولوں کو بھی شہید کیا گیا ہے۔یہاں بھی ایک بالکل سیدھی سی بات کو اپنی باطنی تاویلات کا نشانہ بناتے ہوئے رانا صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت میں رسول بمعنی نبی آیا ہے۔اس پر رانا صاحب نے وہ آیات پیش کی ہیں جن میں نبیوں کے قتل کا ذکر کیا گیا ہے۔
    خلیل رانا صاحب اتنی واضح بات کا بھی صرف اس لیئے انکار کر رہے ہیں کہ کہیں احمد رضا خان صاحب کو غلط نہ کہنا پڑے۔ انبیاء کے قتل ہونے کی شہادت جس طرح قرآن نے دی ہے اسی طرح رسولوں کے قتل ہونے کا ذکر بھی قرآن نے کیا ہے۔ان دونوں باتوں میں ہرگز کوئی تعارض نہیں ہے۔
    قرآن میں جہاں کہیں رسولوں کے مبعوث ہونے کا ذکر ہے وہاں پر کوئی خلیل رانا صاحب جیسا منچلا انبیاء کو مبعوث ہونے کی آیات پیش کر کے یہ دعویٰ کرے کہ صرف انبیاء ہی مبعوث ہوئے جہاں پر رسولوں کو بھیجنے کا ذکر ہے اس سے مرادصرف انبیاء ہی ہیں اور اسے تفسیر بالقرآن کا نام دے تو سوائے انا للہ و انا علیہ راجعون پڑھنے کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ اگر من مانی تاویلات کا نام تفسیر بالقرآن ہے تو یقینا رانا صاحب بہت بڑے مفسر ہیں۔

    ۶)مزار کا طواف کرنے والے فقیر کا جو واقعہ احمد رضاخان صاحب نے بیان کیا ہے اس کے دفاع میں خلیل رانا صاحب لکھتے ہیں:
    ”فاضل بریلوی نے ذی ہوش کو طوافِ قبر سے روکا ہے۔“
    مگر خود ہی آپ کے فاضل بریلوی نے من گھڑت واقعات لکھ کر طوافِ مزار کو مستحسن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ یہ فقیر والا واقعہ ہے کہ طواف کرنے والے فقیر کی دلی مراد پوری ہوتی ہے۔ نیز آپ بریلوی حضرات کے ہی چند بڑے طواف قبر کے جواز کے بھی قائل رہے ہیں۔

    ۷)احمد رضا خان صاحب نے شیخ عبد القادر جیلانی کے متعلق فرمایاتھا کہ نبیﷺ مع اپنی جمیع صفات جمال و جلال و کمال وافضال کے ان میں متجلی ہیں اور یہی دعویٰ مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے متعلق تھا(حوالے پہلے دئیے جا چکے ہیں)۔اس کا دفاع کرتے ہوئے خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”فتاویٰ افریقہ میں غوثِ پاک  کو حضور نبی کریم ﷺ کا جمیع صفات میں وارث (نائب) بتایا گیا ہے۔اور یہ بات حدیث شریف میں بھی ہے کہ:العلماء ورثة الانبیاء(ابن ماجہ:۲۲۳، ترمذی:۲۶۸۲،ابوداؤد) یعنی علمائے حق انبیائے کرام (کی صفات)کے وارث اور نائب ہیں۔“
    خلیل رانا صاحب دجل و فریب اور مغالطہ بازیوں کے وہ تمام ہتھکنڈے آزمانا چاہتے ہیں جس سے وہ اپنے اعلیٰ حضرت کے غلط نظریات و عقائد پر پردہ ڈال سکیں۔ چنانچہ پہلی چالاکی تو رانا صاحب نے یہ کی کہ حدیث کہ وہ لفظ ہی ہضم کر گئے جن میں اس بات کی وضاحت موجود تھی کہ علمائے کرام کن معنوں میں نبیﷺ کے وارث ہیں۔ حدیث ملاحظہ فرمائیں:
    ” علماء انبیاء کرام کے وارث ہیں، نبیوں نے وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑے،انہوں نے تو علم کی وراثت چھوڑی ہے، جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے (نبیوں کی وراثت میں سے) وافر حصہ پا لیا۔“ (ابن ماجہ:۲۲۳)
    معلوم ہوا کہ اس حدیث میں علماء کو جو انبیا کرام کووارث کہا گیا ہے اس سے مراد علم کی وراثت ہے۔ ترغیب دلائی گئی ہے کہ علم حاصل کرو کہ جو جتنا علم حاصل کرے گا اتنا ہی انبیاء کرام کی وراثت میں سے حصہ پا لے گا۔اس وضاحت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ رانا صاحب نے اس حدیث کو اپنے من مانے مفہوم پہنانے کی خاطر کیسی زبر دست تحریف معنوی کا ارتکاب کیا ہے۔
    پھر یہ دیکھیئے کہ روایت میں تو الفاظ ہیں کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور اس روایت میں نبی ﷺ کا کسی دوسرے میں جمیع صفات مع جمال و کمال و افضال کے متجلی ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔جبکہ احمد رضا خان صاحب شیخ عبدالقادر جیلانی کو نبیﷺ کا صرف وارث ہی نہیں مانتے بلکہ نبی ﷺ کوجمیع صفات و کمال و جلال و افضال ان میں متجلی مانتے ہیں اوراس بات کا اس حدیث سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ مزید یہ کہ روایت کے الفاظ عام ہیں کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اس میں صرف شیخ عبدالقادر جیلانی کی کوئی خصوصیت نہیں۔پھر خلیل رانا صاحب کا اس حدیث کونبی ﷺ کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ میں مع جمیع صفات کے متجلی ماننے پر پیش کرنا صریحاً دھوکہ دہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟
    کیا خلیل رانا صاحب اپنی پیش کی گئی روایت سے نکالے گئے غلط و باطل مفہوم کے مطابق نبیﷺ کو اپنی جمیع صفات مع کمال و افضال کے تمام علماء میں متجلی ہوناتسلیم کرتے ہیں۔۔۔؟ اگر نہیں تو پھر کیوں عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔۔۔؟
    خلیل رانا صاحب لکھتے ہیں:
    ” وہابی نے مرزا قادیانی کو مقابلے میں پیش کیا ہے، کیا وہابیوں کے نزدیک مرزا قادیانی بھی علمائے حق میں شامل ہے کہ اسے انبیاء کی صفات کا وارث ماننا چاہتے ہیں؟“
    جناب ہمارے نزدیک تو نبیﷺ کی جمیع صفات مع جمال و کمال و جلال و افضال کے کسی بھی شخص میں ماننا کفر ہے۔جس طرح مرزا قادیانی کے لیئے مانناکفر ہے اسی طرح کسی دوسرے کے لیئے ماننا بھی کفر ہے۔ چنانچہ آپ کا یہ اعتراض تو سوائے ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی“ ایک اعلیٰ مثال ہونے کے کوئی اور معنی نہیں رکھتا۔
    یہاں آخر میں سید نزیر حسین دہلوی کے مرزا قادیانی کا نکاح پڑھانے سے متعلق عرض ہے کہ اگر یہ خبر صحیح بھی ہو تو جب تک مرزا قادیانی کی کفریہ عبارات سامنے نہ آئیں تھیں اور نہ اس پر کسی نے کفر کا حکم لگایا تھا تب تک سب اسے مسلمان ہی مانتے تھے۔چنانچہ بریلوی حضرات کے مشہور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی تصنیف ”سیف چشتائی“ میں بطور پیشِ لفظ لکھا گیا:
    ” ان کے آباؤ اجداد حنفی المذہب مسلمان تھے اور خود مرزا صاحب بھی اپنے اوائلِ زندگی میں انہیں کے نقشِ قدم بقدم چلتے رہے اس وقت تک مرزا صاحب کے عقائد وہی تھے جو ایک صحیح العقیدہ مسلمان کے ہونے چاہیئں۔وہ آنخضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے بھی اسی قدر قائل تھے جیسے دیگر مسلمان۔۔۔۔“ (سیفِ چشتیائی:ص۳)
    نیز دیکھیئے پیر مہر علی شاہ صاحب کے ایک اور مرید خاص ،فیض احمد فیض مفتی اعظم گولڑہ کی کتاب”مہر منیر“ (باب۵فصل۴ ص ۱۶۶۔۱۶۵)
    ایسے میں اس کا نکاح پڑھا دینا کون سا جرم بن گیا؟ورنہ سب سے پہلے مرزا قادیانی کو کافر قرار دینے والے خود سید نزیر حسین دہلوی ہی تھے اور یہ بات خود مرزا نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ تسلیم کر رکھی ہے۔ اس وقت صرف ایک حوالے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
    ”چنانچہ سب سے پہلے کافراور مرتد ٹھہرانے میں میں نزیر حسین دہلوی نے قلم اٹھائی۔۔۔۔۔اور میاں نزیرحسین نے جو اس عاجز کو بلا توقف و تامل کافر ٹھہرا دیا۔۔۔۔۔اور اول المکفرین میاں نزیر حسین صاحب ہیں۔“ (آئینہ کمالاتِ اسلام،حصہ اردو:ص ۹۔۸)

    ۹) بیت اللہ مجرے کو جھکا۔۔۔ ۔جیسے الفاظ کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ الفاظ صریح توہین آمیز اور گستاخانہ ہیں۔ جو باتین آپ نے محاورات اور عرف کے متعلق بیان کی ہیں وہ آپ لوگ خود مخالفین کے مقابلے میں تاویلات وغیرہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر آپ مجرے کا لفظ لغت سے دوسرے معنوں میں استعمال ہونا ثابت کر بھی دیں تو خود آپ کا اس سلسلے میں جو اصول ہے اس کو پیشِ نظر رکھیں۔
    چنانچہ ملا علی قاری کی ایک عبارت بطورر حجت پیش کرتے ہوئے غلام نصیر الدین سیالوی بریلوی فرماتے ہیں:
    ”اس بات پر اجماع ہے کہ معنی کا متعین کر دینا اعتراض کو ختم نہیں کرتا۔“ (عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ :باب اول ص ۱۰)
    خلیل رانا صاحب لکھتے ہیں:
    ”پھر ماں بہن اور کعبے کا ایک دوسرے پر قیاس عجیب جہالت ہے۔۔۔۔کیا معترض وہابی اپنے قیاس کو برحق مانتے ہوئے خانہ کعبہ پر قیاس کرتے ہوئے اپنی ماں بہن کا طواف کرنے اوربوسہ لینے کی اجازت دینے کو تیار ہیں؟“
    حالانکہ بات صرف یہ کی گئی تھی کہ جس طرح مجرے کا لفظ ماں،بہن کے متعلق بولنے کوہر کوئی بے ادبی اور قابلِ نفرت قرار دے گا اور ہرگز کوئی لغوی معنی قبول نہیں کرے گا تو یہی لفظ بیت اللہ اور عرش کے لیئے بھی بے ادبی اور توہین ہی سمجھا جائے گا۔ اس میں کعبے کے ساتھ باقی مشروع افعال کا قیاس ماں ،بہن پر کہاں سے آ گیا؟
    چنانچہ غلام نصیر الدین سیالوی بریلوی اسی طرح ایک لفظ کے استعمال پر مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ”جب باپ دادے اور کسی عمر رسیدہ کے لیئے یہ لفظ استعمال کرنابے ادبی اور گستاخی ہے اور اس کی ابوت وغیرہ والی فضیلت کا انکارہے تو رسل عظام و انبیائے کرام علیھم السلام کے حق میں یہ الفاظ کیسے عین اسلام اور جان ایمان قرار پاگئے۔“(عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ :باب اول ص۸)
    کیا یہاں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”سیالوی صاحب کا انبیاء و رسل کا باپ دادے اور عمر رسیدہ پر قیاس عجیب جہالت ہے۔ ۔۔۔کیامعترض اپنے قیاس کو برحق مانتے ہوئے اور انبیاء و رسل پر قیاس کرتے ہوئے اپنے باپ دادا کو نبی و رسول کہنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں؟“
    جب سیالوی صاحب کی بات پر یہ اعتراض درست نہیں بلکہ الٹا ہر بات پر قیاس کرنے والے کی اپنی جہالت یا دھوکہ دہی کا شاخسانہ ہے کیونکہ بات تو صرف ایک لفظ کے استعمال پر ہو رہی ہے تو پھر خلیل رانا صاحب کا بھی ہم پر اعتراض اسی زمرے میں آتا ہے ۔

    ۱۰) خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں :
    ” دیوان محمدی میں شطحیات ہیں۔جن میں کلام خلاف شرع مگر متکلم(کہنے والا)ُاپنی حالت کی وجہ سے مرفوع القلم ہوتا ہے۔“
    ماشاء اللہ ، دوسروں کی کتابوں سے جو خلافِ شرع یا توہین آمیز باتین نکلیں ان کے متعلق ان کا اصول یہ ہے کہ :”بد گویوں کے کفر پر اجماع تمام امت کی تصریح ہے اور یہ بھی کہ جو انہیں کافر نہ جانے خود کافر ہے۔“ (تمہید الایمان مع حسام الحرمین: ص ۳۵۔۳۴) اور جب یہی بد گوئیاں اپنی کتابوں سے نکلیں تو کلام خلافِ شرع مگر کہنے والا اپنی حالت کی وجہ سے مرفوع القلم۔ لینے اوردینے کے کیسے بہترین اصول ہیں بریلوی حضرات کے پاس۔
    نیز جو بریلوی حضرات صریح کفریہ اور گستاخانہ عبارات کی تاویل عشق و مستی میں گم لوگوں کے کلام سے کرتے ہیں ان سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کے نزدیک عشق و مستی میں اللہ اور اس کے انبیاء کو گالیاں نکالنا جائز ہے۔۔۔؟

    ۱۱) خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”اہلِ سنت کا سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے پر اجماع نہیں ہے، البتہ جمہوراہلِ سنت کا اس کے حرام ہونے پر اتفاق ہے۔“
    پوچھنا یہ ہے کہ کیا جب تک کسی عمل کی حرمت پر اجماع نہ ہو جائے اس کی مخالفت جائز ہے۔۔۔؟ جب احادیث اس عمل کے خلاف ثابت ہیں تو پھر آپ کا قائلین کی زبان سے ان کی وکالت کیا معنی رکھتی ہے؟ جو رسول تمھیں دے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ جیسی آیات کیا قرآن سے باہر ہیں جو اس عمل کی حرمت قرآن سے دکھائے جانے کی بات قائلین کی زبانی آپ فرما رہے ہیں۔ آپ کو چاہیئے تھا جیسا کہ آپ خود سجدہ تعظیمی کی حرمت کے قائل ہیں تو سیدھے اس بات میں صاحب دیوانِ محمدی کا رد کرتے الٹا اس کی وکالت شروع کر دی۔
    خلیل رانا صاحب فرماتے ہیں:
    ”شاذ اقوال سے جمہور اہلِ سنت پر اعتراض درست نہیں۔“
    شاذ اقوال سے اگر اعتراض درست نہیں تو کیا شاذ اقوال کے دلائل پیش کرنا درست ہے۔۔۔؟ دوسرا یہ اصول پہلے خود اچھی طرح سمجھیں اور اپنے دوسرے ماننے والوں کو بھی سمجھائیں جو ہرشاذ قول اہلِ حدیث کے خلاف پیش کر کے بغلیں بجاتے رہتے ہیں۔

    ۱۳) ملتی ہے اللہ سے تصویر میرے پیر کی۔۔۔۔جیسے اشعار کے دفاع میں خلیل رانا صاحب نے ”خلق اللہ آدم علی صورتہ“ اور ”علی صورتہ الرحمان“جیسی احادیث کو پیش کیا ہے۔
    گویا ان کے نزدیک اپنے پیر کو صورت رحمان یا اللہ کی تصویر کہنا بالکل صحیح ہے۔ اناللہ و انا علیہ راجعون۔مزید یہ کہ جن روایات میں ” علی صورتہ الرحمان“ کے الفاظ آئے ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔امام ابن خزیمہ نے ان روایات کو ثوری کی اعمش سے مخالفت اور اعمش اور حبیب کی تدلیس کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے(کتاب التوحیدلابن خزیمہ:ص۳۸)۔
    باقی جن روایا ت میں ”خلق اللہ آدم علی صورتہ“ کے الفاظ آئے ہیں ان کی تشریح و توضیح سے پہلے آئیے ایک ایسی ہی روایت سامنے رکھ لیتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ” جب تم میں سے کوئی ایک(کسی کو) مارے تو چہرے سے بچے اور یوں نہ کہے کہ اللہ تیرے چہرے اور اس کے چہرے کابرا کرے جسے تیرے چہرے کا مشابہ بنایا، اس لیئے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا ہے۔“ (مسند احمد: ۷۴۱۴)
    امام ابن حبان  فرماتے ہیں:
    ”لہٰذا نبی اکرمﷺ کی اس حدیث”خلق اللہ آدم علی صورتہ“ کا معنی یہ ہے کہ اس میں آدم علیہ السلام کی تمام مخلوقات پر برتری واضح ہے اور ”ہا“ ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے اور اس ضمیر کا اللہ کے علاوہ آدم علیہ السلام کی طرف لوٹنا اس بات کا فائدہ بھی دیتا ہے کہ ہمارا رب مخلوق میں سے کسی کے بھی مشابہ نہیں۔“ (صحیح ابن حبان:تحت الحدیث ۶۱۶۲)
    حافظ ابن حجر عسقلانی ایک روایت پیش کر کے فرماتے ہیں:
    ” اور یہ روایت اس کی مئوید ہے جس کا کہنا ہے کہ (”ہا“ کی)ضمیر آدم علیہ السلام کے لیئے ہے۔“ (فتح الباری: ج ۶ص ۳۶۶)
    علامہ قسطلانی  فرماتے ہیں:
    ” اور ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے۔“ (ارشاد الساری:۷/۲۶۴)
    امام ابن خزیمہ  فرماتے ہیں:
    ” علی صورتہ سے صورتِ رحمان مراد لینے میں بعض ایسے افراد کو وہم ہو گیا ہے جنہوں نے علم کو تلاش نہیں کیا۔۔۔۔۔نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس مضروب(جس کو مارا گیا) کی صورت پر پیدا کیا ہے ۔ جس کے بارے مارنے والے کو چہرے پر مارنے سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔۔۔۔۔حدیث کا معنی اچھی طرح سمجھ لو، نہ مغالطہ کھاؤ اور نہ مغالطہ دو،وگرنہ تم سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے اور حدیث کو تشبیہ پر محمول کر دو گے جو گمراہی ہے۔“ ( کتاب التوحید:ص ۳۸۔۳۷)
    اس ساری توضیح و تشریح سے معلوم ہوا کہ ان احادیث کا یہ معنی و مفہوم اخذ کرنا کہ ”صورتِ رحمان ہے تصویر میرے پیر کی“ سخت گمراہ کن اور باطل نظریہ ہے۔ اللہ ہمیں ایسے گمراہ کن عقائد و نظریات رکھنے والوں سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔

    ۱۵) گر محمد نے محمد کو خدا مان لیا۔۔۔۔ جیسے اشعار کے دفاع میں جہاں خلیل رانا صاحب نے بے شمار گمراہ کن باتوں کواکٹھا کر دیا ہے وہیں کئی ایک احادیث کے باطل مفہوم بیان کر کے عام عوام کو گمراہ کرنے کی کو شش کی ہے۔ایک طرف تو ان باتوں کو خلافِ شریعت کہا جاتا ہے تو دوسری طرف تاویل کر کے اور دلائل کو تروڑ مروڑ کر ان باتوں کو شریعت کی اصل ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس سے پیشتر کے مَیں اس نظریہ کی مزید وضاحت کروں جس کی وکالت خلیل رانا صاحب کر رہے ہیں ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک حدیث کے صحیح معنی و مفہوم کو واضح کر دوں۔
    سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    ” الله فرماتا ہے ،جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے،میں اس کو یہ خبر دیتا ہوں کہ میں اس سے لڑوں گا۔میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے اور میرا بندہ نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر تو یہ حال ہو جاتا ہے کہ میں ہی اس کا کان ہوتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہوتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں۔اگر کسی سے میری پناہ چاہتا ہے تو اس کو محفوظ رکھتا ہوں۔۔۔۔“ (صحیح بخاری)
    اس حدیث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نوافل ادا کر کر کے بندے کے اعضاء الله بن جاتے ہیں جیسا کہ کچھ گمراہ لوگ دوسروں کو باور کروا کر اپنے گمراہ اور کفریہ عقائد لوگوں میں پھیلارہے ہیں۔کہاں بندہ اور کہاں الله؟
    علامہ ابن بطال  اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
    ” آنکھیں ،کان اور ہاتھ وغیرہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان اعضاء کو نہیں حرکت دیتا مگر اللہ کی فرمانبرداری میں۔“ ( شرح صحیح البخاری لابن بطال:ج۱۰ص ۲۱۱)
    حافظ ابن حجر عسقلانی  فرماتے ہیں:
    ” معنی اس کا کہ مَیں اس کا کان، اس کی آنکھیں وغیرہ بن جاتا ہوں یہ ہے کہ اس (قرب یافتہ بندے)کی تمام مشغولیت میرے حکم کے مطابق ہوتی ہے۔ وہ نہیں اپنے کانوں کو راغب کرتا مگر وہ جو مجھ(اللہ) کو راضی کر دے،نہیں وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا مگر وہی جو مَیں حکم دیتا ہوں۔“ (فتح الباری: ج۱۱ص۳۴۳)
    معلوم ہوا کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ فرائض کی ادائیگی کے بعد بھی نوافل کو بھی ادا کرتا رہتا ہے تو الله کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کے تمام اعضاء شریعت کے پابند ہو جاتے ہیں۔ پس وہ بندہ وہی کام کرتا ہے جس کا حکم اسے الله نے دے رکھا ہو۔ ہاتھ، پاؤں،کان اور آنکھ وغیرہ سے وہ بندہ صرف وہی کام لیتا ہے جو الله کے حکم کے مطابق ہو۔ نیز دیکھئے (شرح ا لسنة للامام بغوی: ج۵ص۲۰)
    جو کوئی اس حدیث کا مطلب یہ لے کہ بندہ نوافل کی ادائیگی سے خدا بن جاتا ہے یا اس کے اعضاء الله بن جاتے ہیں وہ بہت بڑا گمراہ اور کفر بکنے والا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک اگر اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ الله بندے کا ہاتھ بن جاتا ہے تو پھر اس مرتبہ والابندہ استنجاء کیوں کرتا ہے۔۔۔؟اور اگر کرتا ہے تو ان کے گمراہ عقیدے کے مطابق ہاتھ تو الله ہے اس بات سے اتنا بڑا کفر لازم آتا ہے جس کا اندازہ ہر بندہ مومن کر سکتا ہے۔
    پھر الله کا اس بندے کا ہاتھ بن جانا،پاؤں بن جانا ، کان بن جانا، آنکھ بن جانا،اگر ان کے مطابق لیا جائے تو کیا یہ سب نعوذبالله یہ سمجھتے ہیں کہ الله جسم کے اعضاء کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔۔۔۔؟استغفر اللہ ثم استغفر اللہ۔
    نبی ﷺ اس حدیث کے سب سے پہلے بیان کرنے والے ہیں اورسب اہلِ ایمان کا اتفاق ہے کہ محمد رسول الله ﷺ ہر ولی سے بڑھ کر الله کے قریب ہیں ۔ ایک لڑائی میں آپ ﷺ کی انگلی زخمی ہو گئی اور اس میں سے خون نکل آیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو ایک انگلی ہے جو خون آلودہ ہو گئی ہے۔ تیری یہ تکلیف الله کے راستے میں ہے۔“ (صحیح بخاری)
    اگر الله حقیقی طور پر ہاتھ بن جاتا ہے تو کیا معاذ الله خود الله کو یہ زخم آیا تھا۔۔۔۔؟ اور الله کا خون نکل آیا تھا۔۔۔۔ نعوذ بالله
    صحیح بخاری کی اسی حدیث میں آگے یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ ”( وہ بندہ) اگر مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں۔اگر کسی سے میری پناہ چاہتا ہے تو اس کو محفوظ رکھتا ہوں۔“
    یہ الفاظ بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بندہ اور خدا الگ الگ ہی رہتے ہیں ورنہ مانگتا کون ہے دیتا کون۔۔۔۔؟پناہ مانگتا کون ہے اور پناہ دیتا کون ہے۔۔۔؟
    ان تمام دلائل سے واضح ہوا کہ اس حدیث کا صحیح معنی و مفہوم وہی ہے جو سلف صالحین اور علماء و محدثین نے بیان کر رکھا ہے اور اگر وہ معنی مراد لیئے جائیں جو گمراہ صوفیوں نے لے رکھے ہیں تو اس بات سے اتنے کفر لاحق ہوں کہ گننا مشکل۔۔۔
    اس تمام توضیح اور وضاحت کے بعد عرض ہے کہ نبی ﷺ کو خدا مان لینے کو مسلمانی کا معیار کہنے والوں اوران کی وکالت کرنے والوں سے مجھے اس معاملے پر کچھ خاص کہنا بھی نہیں کہ انہیں اللہ ہی ہدایت دے۔ مگر عام لوگوں کے سامنے ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ مزید وہ گمراہ کن عقائد و نظریات پیش کر دئیے جائیں جن کی وکالت خلیل رانا صاحب کر رہے ہیں۔
    پیر جماعت علی شاہ صاحب کے مرید خاص اور بریلویوں کے خطیب پاکستان صاحبزادہ افتحار الحسن شاہ صاحب فرماتے ہیں:
    ”مقصد یہ کہ اولیائے کرام کے پاس بیٹھنا ہی اللہ کے پاس بیٹھنا ہے ۔۔۔۔۔اس لیئے اپنے پیر کو دیکھنا خدا کو دیکھنا ہے۔“ (مقاماتِ اولیاء:ص۸۴)
    ایک اور جگہ صوفی شاعر جامی کے ایک شعر کی تشریح میں لکھتے ہیں:
    ”کہ اے مسلمان تو اتنا اللہ اللہ کر کہ خود اللہ ہو جا۔اور پھرمولانا تاکید فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم اللہ اللہ کرنے والا خود اللہ ہو جاتا ہے۔“(مقاماتِ اولیاء:ص۱۷)
    بریلویوں کے مشہور صوفی شاعر اور بزرگ خواجہ غلام فرید فرماتے ہیں:
    ” ہندو لوگ سری کرشن کو بھگوان بھی مانتے ہیں اور بندہ بھی مانتے ہیں جس طرح مسلمان حضرت رسول ِخدا صلعم کے متعلق کہتے ہیں۔“ (مقابیس المجالس:ص ۸۳۴)
    یہی خواجہ غلام فرید ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
    ” جو صوفی کائنات کو اللہ تعالیٰ کا سایہ جانتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں کیونکہ حضرت رسول کریم صلعم کے جسمِ لطیف کا سایہ نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کا سایہ کیونکر ہو سکتا ہے۔“ (مقابیس المجالس:ص ۷۴۸)

    خلیل رانا صاحب لکھتے ہیں:
    ”اسی غلبہ حال میں ابن عربی نے کہاکہ :دور سے دیکھو تو محمد ﷺ ہو گا اور قریب آؤ تو اللہ کو پاؤ گے۔(فتوحاتِ مکیہ)“
    ابن عربی نے صرف یہی نہیں اور بھی بہت کچھ کہا ہے ۔چنانچہ خواجہ غلام فرید فرماتے ہیں:
    ”شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ آں حضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور مَیں خاتم الولایت ہوں ۔ جس طرح تمام انبیاء کو خاتم الانبیاء کی احتیاج ہے اسی طرح خاتم النبوت(یعنی نبیﷺ) کو خاتم الولایت کی ضرورت ہے۔“ (مقابیس المجالس:ص ۷۵۲)
    یہی ابن عربی ایک اور جگہ کہتا ہے:
    ”بس تُو بندہ ہے اور تُو رَبّ ہے کس کا بندہ ! اس کا بندہ جس میں تُو فنا ہو گیا ہے“ (فصوص الحکم اردو :ص ۱۵۷)
    گویا ان جناب کے نزدیک جو بندہ ہے وہی رَبّ بھی ہے۔ ان صوفیاء کے نزدیک خالق و مخلوق ایک ہی ہیں۔حافظ ابن دقیق العید نے اپنے استاذابن عبد السلام السلمی  سے اس ابن عربی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:
    ”گندا،کذاب(اور)حق سے دور(شخص تھا)وہ عالم کے قدیم ہونے کا قائل تھااور کسی شرمگاہ کو حرام نہیں سمجھتا تھا۔“( میزان الاعتدال:۳/۶۵۹)
    اس ابن عربی کی گمراہی پر حافظ ابن حجر عسقلانی نے ایک آدمی سے مباہلہ کیا تھا۔ چنانچہ اس آدمی نے کہا:اے اللہ! اگر ابن عربی گمراہی پر ہو تو مجھ پر لعنت فرما۔حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا:اے اللہ! اگر ابن عربی ہدایت پر ہو تو مجھ پر لعنت فرما۔اس مباہلے کے چند ماہ بعد ابن عربی کو ہدایت پر ماننے والاوہ شخص رات کو اندھا ہو کر مر گیا۔ (تنبیہ الغبی:ص ۱۳۷۔۱۳۶)
    بریلوی حضرا ت کے معتمد علیہ ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں:
    ”پھر اگر تم سچے مسلمان اور پکے مومن ہو تو ابن عربی کی جماعت کے کفر میں شک نہ کرو اور اس گمراہ قوم اوربے وقوف اکٹھ کی گمراہی میں توقف نہ کرو۔۔۔۔۔۔اور ہر آدمی کو چاہیئے کہ ان کی فرقہ پرستی اور نفاق کو لوگوں کے سامنے بیان کر دے کیونکہ علماء کا سکوت اور بعض راویوں کا اختلاف اس فتنے اور تمام مصیبتوں کا سبب بنا ہے۔۔۔“ ( الرد علی القائل بوحدة الوجود: ص ۱۵۶۔۱۵۵)

    صریح کفریہ الفاظ کا تاویل در تاویل کر کے دفاع کرنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ ہی کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان صاحب مختلف کتابوں کے حوالے کے ساتھ ساتھ فرماتے ہیں:
    ”احتمال وہ معتبر ہے جس کی گنجائش ہو، صریح بات میں تاویل نہیں سنی جاتی ورنہ کوئی بات بھی کفر نہ رہے۔۔۔۔۔”صریح لفظ میں تاویل کا دعویٰ نہیں سنا جاتا“۔۔۔۔۔”ایسا دعویٰ شریعت میں مردود ہے“۔۔۔۔۔”ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہو گا“ اور وہ ہذیان سمجھی جائے گی۔“ (تمہید الایمان مع حسام الحرمین: ص ۴۶)

    خلیل رانا صاحب نے جہاں تاویل بعید اور کئی احادیث کی تحریف معنوی سے کام لیا ہے وہیں کئی ایک ضعیف احادیث کو بھی من چاہے مطلب پہناکر اپنے مذموم نظریات کے دفاع میں پیش کر رکھا ہےجو ان ھجرات کا پرانا وطیرہ ہے۔ اللہ سمجھنے کی توفیق دے، آمین۔
     
  17. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    سسٹر یہ اعلی حضرت ان کا عقیدہ وہی ھے جو میں نے قبر پرستی آنکھوں دیکھا حال میں لکھا ھے اللہ ان ظالموں کو ھدایت دے (ظالموں کو اس لئے لکھا ھے کہ میرے رب نے فرمایا ھے ان الشرک لظلم عظیم ان کی قبر پرستی شرک ھی تو ھے اور جو شرک کرتا ھے وہ ظالم ھے اللہ ھم سب کو شرک سے بچائے آمین اور ہاں یہ انڈیا کے بریلی شہر کا رہنے والا تھا اسی وجہ سے تو یہ لوگ اپنے آپ کو محمدی کہلوانے کی بجائے بریلوی کہلواتے ھیں
     
  18. abuzakwan

    abuzakwan -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 28, 2009
    پیغامات:
    26
  19. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    تمام جوابات تیار کیے تھے لیکن ان کی ویب سائٹ سے پیجز لنک کیے ہوئے تھے۔ پھر کیا کرامت ہوئی ان کی ویب ڈاون ہوگئی اور میری محنت ضائع ہوگئی۔ تمام پیجز میں نے ڈائیریکٹ وہاں سے لنک کیے تھے۔
     
  20. فرحان دانش

    فرحان دانش -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2007
    پیغامات:
    434
    اللہ کی سرتابہ قدم شان ہیں یہ
    اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
    قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
    ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ
    (صلی اللہ علیہ وسلم)

    تحریر کر دہ (اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں