نکرہ کا عموم میں نص اور ظاہر ہونا

رفی نے 'تسہیل الوصول إلى فہم علم الاصول' میں ‏مئی 8, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    نکرہ کاعموم میں نص اور ظاہر ہونا:


    آنے والے حالات میں نفی کے سیاق میں نکرہ عموم میں نص صریح ہوتا ہے:

    1۔ جب نکرہ لائے نفی جنس کا اسم ہو۔ جیسے: ” لا إله إلا الله “ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

    2۔ جب نکرہ سے پہلے ’مِنْ‘ کا اضافہ کیا جائے، اور یہ زیادتی تین جگہوں پر ہوتی ہے:

    ۱۔ فاعل سے پہلے۔ مثلاً: ﴿ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يتَذَكَّرُونَ ﴾ [القصص:46] تاکہ آپﷺ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کےپاس اس سے پہلے کوئی بھی ڈرانے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

    ۲۔ مفعول سے پہلے۔ مثلاً: ﴿ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ ﴾ [الأنبياء:25] ہم نے آپ ﷺ سے قبل کوئی رسول نہیں بھیجا۔

    ۳۔ مبتدا سے پہلے۔ مثلاً: ﴿ وَمَا مِنْ إلَهٍ إلاَّ إلَهٌ وَاحِدٌ ﴾ [المائدة:73] ایک الہ کے علاوہ کوئی اور الہ ہے ہی نہیں۔

    3۔ ایسا نکرہ جو نفی کو لازم ہو۔ جیسے: دیار لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نوح علیہ السلام سے نقل کیے ہوئے قول میں ہے: ﴿ لا تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيارًا ﴾ [نوح:26] اے اللہ! زمین پر کافروں کا کوئی بھی گھر نہ چھوڑ۔

    ان مقامات کے علاوہ باقی جگہوں پر نکرہ ظاہر تو ہوتا ہے لیکن نص نہیں ہوتا ، جیسے لا مشابہ بلیس کا اسم۔ مثا ل کے طور پر آپ کا یہ قول: «لا رجل في الدار» آدمی گھر میں نہیں ہے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں