غزوہ بنو قریظہ۔

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏مئی 9, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    غزوہ بنو قریظہ۔

    جس روز رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس تشریف لائے اسی روز ظہر کے وقت جبکہ آپ ﷺ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے مکان میں غسل فرمارہے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: کیا آپ ﷺ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ فرشتوں نے ہتھیار نہیں رکھے اور میں بھی قریش کا تعاقب کر کے بس واپس چلا آ رہا ہوں۔ اٹھئے۔۔! اور اپنے رفقاء کو لے کر بنو قریظہ کا رخ کریں ۔میں آگےآگے جارہا ہوں ۔ ان کے قلعوں میں زلزلہ برپا کروں گا اور ان کے دلوں میں رعب ودہشت ڈالوں گا ۔یہ کہہ کر حضرت جبریل علیہ السلام فرشتوں کے جلو میں روانہ ہوگئے۔ادھر رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی سے منادی کروائی کہ جو شخص سمع و طاعت پر قائم ہے وہ عصر کی نماز قریظہ میں جا کر ادا کرے۔اس کے بعد مدینے کا انتظام حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو سونپا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنگ کا پھریرا دے کر آگے روانہ کیا گیا۔ وہ بنوقریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے تو بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی مہاجرین و انصار کے جلو میں روانہ ہو چکے تھے۔آپ ﷺ نے بنو قریظہ کے دیار میں پہنچ کر "انا" نامی ایک کنویں پر نزول فرمایا۔ عام مسلمانوں نے بھی لڑائی کااعلان سن کر فوراً قریظہ کا رخ کیا ۔ راستے میں عصر کی نماز کا وقت ہو گیاتو بعض نے کہا ہم-----جیساکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے----- بنوقریظہ پہنچ کر ہی نماز ادا کریں گے۔ حتی کہ بعض نے عصر کی نماز عشاء کے بعد پڑھی ۔ لیکن کچھ دوسرے صحابہ نےکہ آپ ﷺ کا مقصود یہ نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ ہم جلد از جلد روانہ ہو جائیں ۔اس لئے انہوں نے نے راستے میں نماز ادا کر لی البتہ(جب رسول اللہ ﷺکے سامنےیہ قضیہ پیش کیا گیا تو ) آپ ﷺ نے کسی بھی فریق کو سخت سست نہیں کہا۔بہرکیف مختلف ٹکڑیوں میں بٹ کر اسلامی لشکر دیار بنو قریظہ میں پہنچااور نبی ﷺ کے ساتھ جا شامل ہوا۔ پھر بنو قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ اس لشکر کی کل تعداد تین ہزار تھی اور اسمیں تیس گھوڑے تھے۔جب محاصرہ سخت ہو گیا تو یہود کے سردار کعب بن اسد نے یہود کے سامنے تین متبادل تجویزیں پیش کیں۔
    نمبر1: یا تو اسلام قبول کرلیں۔ اور محمد ﷺ کےدین میں داخل ہو کر اپنی جان و مال اور بال بچوں کو محفوظ کرلیں۔کعب بن اسد نے یہ تجویز پیش کرتے ہوئےیہ بھی کہا کہ واللہ تم لوگوں پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ واقعی نبی اور رسول ہیں۔ اور وہ وہی نبی ہیں جنہیں تم اپنی کتاب میں پاتے ہو۔
    نمبر2: یا اپنے بیوی بچوں کو خود اپنے ہاتھوں قتل کر دیں۔ پھر تلوارسونت کر نبیﷺ کی طر ف نکل پڑیں اور پوری قوت سے ٹکرا جائیں اس کے بعد یاتو فتح پائیں گے یا سب کے سب مارے جائیں گے۔
    نمبر 3: یا تو پھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام پر دھوکے سے سنیچر کےدن پل پڑیں کیونکہ انہیں اطمینان ہو گا کہ آج لڑائی نہیں ہو گی
    لیکن یہود نے ان تینوںمیں سےکوئی بھی تجویز منظور نہ کی جس پر ان کے سردار کعب بن اسد نے(جہلا)کر کہا تم میں سے کسی نے بھی ماں کی کوکھ سے جنم لینے کے بعد ایک رات بھی ہوش مندی سے نہیں گزاری۔ان تینوں تجاویز کو رد کردینےکے بعد بنو قریظہ کےسامنے صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا تھا کہ رسول اللہ ﷺکے سامنے ہتھیار ڈال دیں،اور اپنی قسمت کا فیصلہ آپ ﷺ پر چھوڑدیں لیکن انہوں نے چاہا کہ ہتھیار ڈالنے سے پہلے اپنے بعض مسلمان حلیفوں سے رابطہ قائم کرلیں۔ممکن ہے پتہ لگ جائے کہ ہتھیار ڈالنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔چانچہ انہوں نےر سول اللہ ﷺکو پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیج دیں ۔ہم ان سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔ابولبابہ رضی اللہ عنہ ان کے حلیف تھے اور ان کے باغات اور آل اولاد بھی اسی علاقے میں تھے ۔جب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو مرد حضرات انہیں دیکھ کر دوڑ پڑے اور عورتیں اور بچے ان کے سامنے دھاڑیں مار مار کر رونےلگے ۔اس کیفیت کو دیکھ کر ابو لبابہ رضی اللہ عنہ پر رقت طاری ہو گئی یہود نے کہا۔۔!ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کیا آپ مناسب سمجھیں گے کہ ہم محمد ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیں؟انہوں نے فرمایا ہاں لیکن ساتھ ہی ہاتھ سے حلق کی طرف اشارہ بھی کر دیا جس کامطلب یہ تھا کہ ذبح کر دیئے جاؤ گے۔ لیکن انہیں فوراً احساس ہوا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ خیانت ہے ۔چانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آنے کی بجائے سیدھے مسجد نبوی ﷺ پہنچے اور اپنے آپ کو مسجد کے کھمبے کے ساتھ باندھ لیا اور قسم کھائی کہ اب انہیں رسول اللہ یہ اپنے دست مبارک سے کھولیں گےاوروہ آئندہ بنو قریظہ کی سرزمین پر کبھی بھی داخل نہ ہوں گے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ محسوس کررہےتھے کہ ان کی واپس میں دیر ہورہی ہےپھر جب تفصیلات کا علم ہوا تو فرمایا اگر یہ میرے پاس آگئے ہوتے تو میں ان کےلئے بخشش کی دعا کر دیتا لیکن جب وہ وہی کام کربیٹھے ہیں تو میں بھی ان کو کھول نہیں سکتا یہاں تک کہ اللہ تعالی ان کی توبہ قبول فرمالیں،ادھر ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے اشارے کے باوجود بھی بنوقریظہ نے یہی طے کیا کہ رسول اللہﷺکے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور وہ جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں، حالانکہ بنوقریظہ ایک طویل عرصے تک محاصرہ برداشت کر سکتے تھے۔ کیوں کہ ایک طرف ان کے پاس وافر مقدار میں سامان خوردنوش تھا پانی کے چشمے اور کنویں تھے مضبوط اور محفوظ قلعے تھے او ردوسری طرف مسلمان کھلے میدان میں خون منجمند کردینے والے جاڑے اور بھوک کی سختیاں سہہ رہے تھے اور آغاز جنگ خند ق کے بھی پہلے سے مسلسل جنگی مصروفیات کے سبب تکان سے چورچور تھے ۔لیکن جنگ بنی قریظہ درحقیقت ایک اعصابی جنگ تھی۔اللہ نے ان دلوں میں رعب ڈال دیا تھا۔ اور ان کے حوصلے ٹوٹتے جارہے تھے ۔پھر حوصلوں کی یہ شکستگی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہی اللہ عنہ پیش قدمی فرمائی اور حضرت علی رضی اللہ عنہی اللہ عنہ گرج کر یہ اعلان کیا کہ ایمان کے فوجیو ۔۔!خدا کی قسم اب میں بھی یا تو وہی چکھوں گا جو حمزہ رضی اللہ عنہی اللہ عنہ نے چکھا یا ان کا قلعہ فتح کر کے رہوں گا۔چانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ عزم سن کر بنو قریظہ نے جلدی سے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے کر دیا کہ آپ جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں۔رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مردوں کو باندھ دیا جائے ۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے زیر نگران سن سے کے ہاتھ باندھ دیئے گئےاور عورتوں اور بچوں کو مردوں سے الگ کر دیا گیا ۔قبیلہ اوس کے لوگ رسو ل اللہ ﷺعرضی اللہ عنہ پر داز ہوئے کہ آپ ﷺ نے بنو قینقاع کے ساتھ جو سلوک فرمایا تھا وہ آہ کو یا دہی ہے بنو قینقاع ہمارے بھائی خزرج کے حلیف تھے اور یہ لوگ ہمارے حلیف ہیں لہذاان پر احسان فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا آپ لوگ اس پر راضی نہیں کہ ان کے متعلق آپ ہی کا ایک آدمی فیصلہ کرئے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں!آپ ﷺ نے فرمایا: تویہ معاملہ سعدبن معاذ کے حوالے ہے اوس کے لوگوں نے کہا : ہم اس پر راضی ہیں۔اس کے بعد آپ نے حضرت سعد بن معاذ کو بلا بھیجا وہ مدینہ میں تھے لشکر کے ہمراہ تشریف نہیں لائے تھے کیونکہ جنگ خندق کے دوران بازو کی رگ کٹنے کے سبب زخمی تھے ۔انہیں ایک گدھےپر سوار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا جب قریب پہنچے تو ان کے قبیلے کے لوگوں نے انہیں دونوں جانب سے گھیر لیا اور کہنے لگے : سعد رضی اللہ عنہ اپنے حلیفوں کے بارے میں اچھائی اور احسان سے کام لیجئے گا۔۔۔۔ رسول اللہﷺ نے آپ کو اسی لئے حکم بنایا ہے کہ آپ ان سے حسن سلوک کریں مگر ہو چپ چاپ تھے کوئی جواب نہ دے رہے تھے،جب لوگوں نے گذارش کی بھر مارکر دی تو وہ بولے:اب وقت آگیا ہے کہ سعد کو کسی ملامت گر کی پرواہ نہ ہو۔یہ سن کر بعض لوگ اسی وقت مدینےآگئے تھے اور قیدیوں کی موت کی خبر پھیلا دی۔اس کے بعد جب حضرت سعد نبیﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے سردار کے استقبال کےلئے اٹھ کر جاؤ:لوگوں نے جب انہیں سواری سے اتار لیا تو آپ ﷺاے سعد یہ لوگ تمہارے فیصلےپر اترے ہیں ۔حضرت سعد نےکہا مسلمانوں پر بھی ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں!انہوں نے پھر کہا اور جو یہاں ہیں ان پر بھی؟ ان کا اشارہ رسول اللہﷺ کی فرودگاہ کی طرف تھا۔مگر جلال و تعظیم کے سبب چہرہ دوسری طرف کر رکھا تھا ۔ آپ ﷺنے فرمایا جی ہاں مجھ پر بھی حضرت سعد نے کہا تو ان کےمتعلق میرا فیصلہ یہ ہے کہ مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اوربچوں کو قیدی بنا لیا جائےاور اموال تقسیم کر دیئے جائیں۔رسول اللہﷺنے فرمایا:تم ان کے بارے میں وہ ہی فیصلہ کیا ہے جو سات آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کیا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ انتہائی عدل وانصاف پر مبنی تھا کیونکہ بنو قریظہ نے مسلمانوں کی موت حیات کے نازک ترین مرحلے میں جو خطرناک بدعہدی کی تھی وہ تو تھی ہی اسکے علاوہ انہوں نے مسلمانوں نے خاتمے کےلئے ڈٰیڑھ ہزار تلواریں ۔دو ہزار نیزے ،تین سوزرہیں اور پانچ سو ڈھالیں مہیا کر رکھی تھیں، جن پر فتح کے بعد مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔اس فیصلے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حکم پر بنو قر یظہ کو مدینے لاکر بنو نجار کی ایک عورت جوحارث کی صاحبزادی تھیں۔کے گھر میں قید کر دیا گیا اور مدینے کے بازار میں خندقیں کھودی گئیں پھر انہیں ایک ایک جماعت کر کے لے جایا گیا اور ان خندقوں میں ان کی گردنیں مار دی گئیں۔کاروائی شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد باقی ماندہ قیدیوں نے اپنے سرادار کعب بن اسد سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا اندازہ ہے؟ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ اس نے کہا کیا تم لوگ کسی بھی جگہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ؟ دیکھتے نہیں کہ پکارنے والا رک نہیں رہا اور جانے والا پلٹ نہیں رہا یہ خدا کی قسم قتل ہے۔بہرکیف ان سب کی(جن کی تعداد چھے سے سات سو کے درمیان تھی )گردنیں ماردی گئیں۔
    اس کا روائی کے ذریعے غدر و خیانت کے ان سانپوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا جنہوں نے پختہ عہد ہ پیمان توڑا تھا مسلمانوں کے خاتمے کےلئےاب ان کی زندگی کے نہایت سنگین اور نازک ترین لمحات میں دشمن کو مدد دے کر جنگ کے اکابر مجرمین کا کردار ادا کیا تھا اور اب وہ حقیت میں مقدمے اور پھانسی کے مستحق ہو چکے تھے۔ بنو قریظہ کی اس تباہی کے ساتھ ہی بنو نضیر کا شیطان اور جنگ احزاب کا ایک بڑا مجرم حیی بن اخطب بھی اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ یہ شخص ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا کا باپ تھا۔قریش نے غطفان کی واپسی کے بعد جب بنو قریظہ کا محاصرہ کیا گیا اور انہوں نے قلعہ بندی اختیار کی تویہ بھی ان کے ہمراہ قلعہ بند ہو گیا تھا کیونکہ غزوہ احزاب کے ایام میں یہ شخص جب کعب بن اسد کوغدروخیانت پر آمادہ کرنے کےلئے آیا تھا تواس کا وعدہ کر رکھا تھا اور اب اسی وعدے کو نباہ رھا تھا اسے جس وقت خدمت نبویﷺ میں لایا گیا تو ایک جوڑا زیب تن کئے ہوئے تھا جسے خود ہی ہر جانب سےایک ایک انگل پھاڑ رکھا تھا تاکہ اسے مال غنیمت میں نہ رکھوالیا جائے اس کے دونوں ہاتھ گردنکے پیچھے رسی سے یکجا بندھے ہوئے تھے اس نے نبی ﷺکو مخاطب کر کے کہا:سنیئے!میں نے آپ ﷺ کی عداوت پر اپنے آپ کو ملامت نہیں کی لیکن جو اللہ سے لڑتا ہے مغلوب ہو جاتاہے۔پھرلوگوں کو مخاطب کر کے کہا :لوگو!اللہ کے فیصلے میں کوئی حرج نہیں یہ تو نوشہ تقدیر ہے اور ایک بڑا قتل ہے جو اللہ نے بنی اسرائیل پر لکھ دیاتھا۔ اس کے بعدوہ بیٹھا اور اس کی گردن مار دی گئی۔اس واقعہ میں بنو قریظہ کی ایک عورت بھی قتل کی گئی اس نے حضرت خلادبن سوید رضی اللہ عنہ پر چکی کا پاٹ پھینک کر انہیں قتل کر دیا تھااسی کے بدلے میں اسے قتل کر دیا گیا۔رسول اللہﷺ کا حکم تھا کہ جس کے زیر ناف بال آچکے ہوں اسے قتل کر دیا جائے چونکہ حضرت عطیہ قرظی کو ابھی بال نہیں آئے تھے لہذا انہیں زندہ چھوڑ دیا گیاچنانچہ وہ مسلمان ہو کر شرف صحابیت سے مشرف ہو ئے۔حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے گذارش کی کہ زبیر بن باطااور اس کےاہل و عیال کو انکےلئے ہبہ کر دیا جائے اس کی وجہ یہ تھی کہ زبیر نے ثابت رضی اللہ عنہ پر کچھ احسانات کئے تھےان کی گذارش منظور کرلی گئی اس کے بعد ثابت بن قیس نے زبیر سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم کو اور تمہارے اہل و عیال کو میرے لئے ہبہ کر دیا ہے اور میں ان سب کو تمہارےحوالےکرتاہوں(یعنی تم بال بچوں سمیت آزادہو)لیکن جب زبیر بن باطا کو معلوم ہو ا کہ اسکی قوم قتل کر دی گئی ہے تو اس نے کہا ثابت !تم پر میں نے جو احسان کیا تھا اسکا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ مجھے بھی دوستوں تک پہنچا دو چنانچہ اس کی گردن بھی مار کر اسے اس کے یہودی دوستوں تک پہنچا دیا گیا البتہ حضرت ثابت نے زبیر بن باطا کے لڑکے عبدالرحمن کو زندہ رکھا چنانچہ وہ اسلام لاکر صحابی بن گئے ۔اسی طرح بنو نجارکی ایک خاتون حضرت ام المنذر سلمہ بن قیس نے گزارش کی کہ سمو آل قرظی کے لڑکے رفاعہ کو ان کےلئے ہبہ کر دیا جائے ان کی بھی اس سفارش کو قبول کیا گیا اور رفاعہ کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔انہوں نے رفاعہ کو زندہ رکھا ور وہ بھی اسلا م لاکر شرف صحبت سے مشرف ہو ئے۔چند اور افراد نے اسی رات ہتھیار ڈالنے کی کاروائی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا لہذا ان کی بھی جان ومال اور ذریت محفوظ رہی اسی رات عمرو نامی ایک اور شخص جس نے بنو قریظہ کی بد عہدی میں شرکت نہ کی تھی باہر نکلا پہرہ داروں کے کمانڈر محمد بن مسلمہ نے دیکھا لیکن پہچان کر چھوڑ دیا پھر معلوم نہیں کہ وہ کہاں گیا۔
    بنوقریظہ کے مال کو رسول اللہﷺ نے خمس نکال کر تقسیم کر دیا تھا۔شہسوار کوتین حصے دیئےایک حصۃ اسکا اپنا اور دوحصے اسکے گھوڑے کے اور پیدل کو ایک حصہ دیا ۔قیدیوں اور بچوں کو حضرت سعد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں نجد بھیج کر ان کے عوض گھوڑے اور ہتھیار خرید لئے۔رسول اللہ ﷺنے اپنے لئے بنو قریظہ کی عورتوں میں سے حضرت ریحانہ رضی اللہ عنھا بنت عمرو بنت خناقہ کو منتخب کیایہ ابن اسحاق کے بقول آپ ﷺ کی وفات تک آپ ﷺ کی ملکیت میں رہیں (ابن ہشام2/245) لیکن کلبی کا بیان کے ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں 6 ھجری میں آزاد کر کے شادی کر لی تھی۔ پھر جب آپ ﷺحجۃ ا لوداع سے واپس تشریف لائے تو ان کا انتقال ہو گیا۔اور آپ ﷺ نے انہیں بقیع میں دفن کر دیا۔(تلقیح الفہوم ص 12)۔
    جب بنوقریظہ کا کام تمام ہو چکا تو بندہ صالح حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی اس دعا کی قبولیت کے ظہور کا وقت آگیا جس کا ذکر غزوہ احزاب کے دوران آچکا ہے ،چنانچہ ان کا زخم پھوٹ گیا اس وقت وہ مسجدنبوی میں تھے نبی ﷺ نے ان کےلئے وہیں خیمہ لگوادیا تھا تاکہ قریب ہی ان کی عیادت کر لیا کریں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ان کے سینے کا زخم پھوٹ کر بہا مسجد میں بنو غفار کے بھی چند خیمے تھے یہ دیکھ کر چونکے کہ ان کی جانب خون بہ کر آرہا ہے۔انہوں نے کہا خیمہ والو۔۔!یہ کیاہے جو تمہاری طرف آرہا ہے ؟ دیکھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون کی دھار رواں تھی ۔پھر اسی سے ان کی موت واقع ہو گئی۔(بخاری2/891)۔
    صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سعدبن معاذرضی اللہ عنہ کی موت سے رحمان کا عرش بھی ہل گیا تھا۔(بخاری 1/836)امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے کہ جب حضرت سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین نے کہا : ان کا جنازہ کس قدر ہلکا ہے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۔(ترمذی 2/225)بنو قریظہ کے محاصرے کے دوران صرف ایک ہی مسلمان شہید ہوئے جن کا نام خلاد بن سوید تھا یہ وہی صحابی ہیں جن کو بنو قریظہ کی عورت نے چکی کا پاٹ پھینک کر مارا تھا،ان کےعلاوہ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ابوسنان بن محصن نے محاصرے کے دوران وفات پائی۔جہاں تک حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہے تو وہ چھ راتیں مسلسل ستون کے ساتھ بندھے رہے ان کی بیوی ہر نماز کے وقت آکر کھو ل دیتی تھیں اور وہ نماز سے فارغ ہو کر پھر اسی ستون میں بندھ جاتے تھے۔اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر صبح دم ان کی توبہ نازل ہوئی،اس وقت آپ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں تشریف فرماتھے۔ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر مجھے سے کہا ،اے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ خوش ہوجاؤ کہ اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے یہ سن کر صحابہ انہیں کھولنے کےلئے اچھل پڑے لیکن انہوں نے انکار کر دیا کہ انہیں رسول اللہﷺ کے بجائے کوئی اور نہ کھولے گا۔چنانچہ جب نبی ﷺنماز فجر کےلئے نکلے اور وہاں سے گذرے تو انہیں کھول دیا ۔یہ غزوہ ذی قعدہ میں پیش آیا پچیس روز تک محاصرہ قائم رہا۔(ابن ہشام 2/237،238غزوے کی تفصیلات ملاحظہ کرنے لے لئے دیکھیں،ابن ہشام2/233 تا 273 صحیح بخاری 2/590 تا 591 زادالمعاد2/72 تا74 مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 287 تا 290)
    اس لئے اللہ نے اس غزوہ اور غزوہ خندق کے متعلق سورۃ احزاب میں بہت سی آیات نازل فرمائیں اور دونوں غزوں کی اھم جزئیات پر تبصرہ فرمایا،مومنین و منافقین کے حالات بیان فرمائے دشمن کے مختلف گروہوں میں پھوٹ اور پست ہمتی کا ذکر فر مایااور
    اہل کتا ب کی بدعہدی کے نتائج پر روشنی ڈالی۔
    مکمل کتاب یونیکوڈ میں حاصل کریں۔یہاں سے۔
    سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم - URDU MAJLIS FORUM
    کتاب کی فہرست حاصل کریں یہاں سے۔
    الرحیق المختوم ~~ فہرست + مضامین کے روابط - URDU MAJLIS FORUM
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں