غزوہ قریظہ و احزاب کے بعد کی جنگی مہمات۔

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏مئی 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    غزوہ قریظہ و احزاب کے بعد کی جنگی مہمات:
    1۔ سلام بن ابی الحقیق کا قتل

    سلام بن ابی الحقیق ۔۔۔ جس کی کنیت ابور رافع تھی یہود کے ان اکابر مجرمین میں تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو ورغلانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔اور مال اور رسد سےان کی امداد کی تھی ۔(فتح الباری 7/343)اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺکو ایذا بھی پہنچایا تھا اس لئے جب مسلمان بنو قریظہ سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ خزرج کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی چونکہ اس سے پہلے کعب بن اشرف کا قتل قبیلہ اوس کے چند صحابہ کرام کے ہاتھوں ہو چکا تھا۔ اس لئے قبیلہ خزرج کی خواہش تھی کہ ایسا ہی کوئی کارنامہ ہم بھی انجام دیں اسلئے انہوں نے اجازت مانگنے میں جلدی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت تو دے دی لیکن تاکید فرمادی کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے ۔اس کے بعد ایک مختصر سا دستہ جو پانچ آدمیوں پر مشتمل تھااس مہم پر روانہ ہوا یہ سب کے سب قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے کمانڈر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن عتیک تھے۔اس جماعت نے سیدھے خیبر کارخ کیا کیونکہ ابورافع کا قلعہ وہیں تھا۔ قریب پہنچے تو سورج غروب ہوچکا تھا اور لوگ اپنے ڈھور ڈنگر لے کر واپس ہو چکے تھے۔ عبداللہ بن عتیک نے کہا تم لوگ یہیں ٹھرو میں جاتا ہوں اور دروازے کے پہرےدار کے ساتھ کوئی لطیف حیلہ اختیار کرتا ہوں، ممکن ہے اندر داخل ہو جاوں اس کے بعد وہ تشریف لے گئے اور دروازے کے قریب جا کر سر پر کپڑا ڈال کر یوں بیٹھ گئے جیسے قضائے حاجت کر رہے ہوں۔پہرے دار نے زور سے پکار کر کہا : او اللہ کے بندے اندر آنا ہے تو آ جاؤ ورنہ میں دروازہ بند کر کے جارہا ہوں۔عبد اللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں اندر گھسا اور چھپ گیا۔جب سب لوگ اندر آگئے تو پہر ے دار نے دروازہ بند کر کے ایک کھونٹی پر چابیاں لٹکا دیں۔(دیر بعد جب ہر طرف سکون ہوگیا تو) میں نے اٹھ کر چابیاں لیں اور دروازہ کھول دیا۔ابو رافع بالا خانے میں رہتا تھا ور وہاں مجلس ہوا کرتی تھی۔ جب اہل مجلس چلے گئے تو میں اس کے بالاخانے کی طر ف چڑھا میں جو کوئی دروازہ بھی کھولتا تھااسے اندر کی جانب سے بند کر لیتا تھا ۔میں نے سوچا کہ اگر لوگوں کو میرا پتہ لگ بھی گیا تو اپنے پاس ان کے پہنچنے سے پہلے ابو رافع کو قتل کر دوں گا۔اس طرح میں اس کے پاس پہنچ تو گیا (لیکن) وہ بال بچوں کے درمیان ایک تاریک کمرے میں تھا اور مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ اس کمرے میں کس جگہ ہے۔ اس لئے میں نے کہا: ابو رافع اور نے کہا یہ کون ہے؟ میں نے جھٹ آواز کی طرف لپک کر اس پر تلوار کی ضرب لگائی لیکن میں اس وقت ہڑ بڑایا ہو اتھا اس لئے کچھ نہ کر سکا اس نے زور کی چیخ ماری لھذامیں جھٹ سے کمرے سے باہر نکل گیا اور ذرا دو رٹھہر کر پھر آگیا اور (آواز بدل کر ) بولا ابور افع یہ کیسی آواز تھی ؟ اس نے کہا تیری ماں بربادہو ایک آدمی نے ابھی مجھے اس کمرے میں تلوار ماری ہے عبد اللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ اب میں نے ایک زور دار ضرب لگائی جس سے وہ خون میں لت پت ہو گیا لیکن اب بھی میں اسے قتل نہ کر سکا تھا اس لئے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں رکھ کر زور سے دبائی اور وہ اس کی پیٹھ تک جاتی رہی میں نے سمجھا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے اس لئے اب میں ایک ایک کر کے دروازہ کھولتا ہوا واپس ہو ا اور ایک سیڑھی کے پاس پہنچ کر یہ سمجھتےہوئے کہ زمین تک پہنچ چکا ہوں پاؤں رکھا تو نیچے گر پڑا۔چاندنی رات تھی پنڈلی سرک گئی میں نے پگڑی سے اسے کس کر باندھا اور دروازے پر آکر بیٹھ گیا اور جی ہی جی میں کہا کہ آج جب تک یہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ میں نے اسے قتل کر لیا ہے یہاں سے نہیں نکلوں گا۔ چنانچہ جب مرغ نے بانگ دی تو موت کی خبر دینے والا قلعے کی فصیل پر چڑھا اور بلند آواز سے پکارا کہ میں اہل حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کی اطلا ع دے رہا ہوں ۔اب میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور کہا بھاگ چلو ۔اللہ نے ابور رافع کوکیفر کردار تک پہنچا دیا ہے۔ چنانچہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاٖضرہوا اور آپ ﷺ سے واقعہ بیان کی اتو آپ ﷺ نے فرمایا اپنا پاؤں پھیلاؤ ۔ میں نے اپنا پاؤں پھلایا آپ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا اور ایسا لگاگویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔(صحیح بخاری 2/577)ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ابورافع کے گھر میں پانچوں صحابہ کرام گھسے تھے۔اور سب نے اس کے قتل میں شرکت کی تھی اور جس صحابی نے اسکے اوپر تلوار کا بوجھ ڈالا تھا وہ حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے اس روایت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے جب رات میں ابورافع کو قتل کر لیا اور عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کی پنڈلی ٹوٹ گئی تو انہیں اٹھالائے اور قلعہ کی دیوار کے آر پار ایک جگہ چشمے کی نہر گئی ہو ئی تھی اسی میں گھس گئے۔ ادھر یہود نے آگ جلائی اور ہر طرف دوڑ دوڑکر دیکھا جب مایوس ہوئے تو مقتول کے پاس واپس آگئے صحابہ کرام واپس ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عتیک کو لاد کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔(ابن ہشام 2/274۔275)اس سریہ کی روانگی ذی قعدہ یا ذی الحجہ 8 ھجری میں زیر عمل آئی تھی۔(رحمۃ للعالمین 2/223 اور غزوہ احزاب میں مذکور دوسرے ماخذ)
    جب رسول اللہ ﷺ احزاب اور قریظہ سے فار غ ہوگئے اور جنگی مجر مین سے نمٹ چکےتو ان قبائل اور اعراب کے خلاف تادیبی حملے شروع کئے جو امن و سلامتی کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے اور قوت قاہر کے بغیر پرسکون نہیں رہ سکتے تھے۔ ذیل میں اس سلسلے کے سرایا اور غزوات کا اجمالی ذکر کیا جاتاہے۔
    2۔سریہ محمد بن مسلمہ:

    احزاب و قریظہ کی جنگوں سے فراغت کے بعد یہ پہلا سریہ ہے جس کی روانگی عمل میں آئی ۔یہ تیس آدمیوں کی مختصر سی نفر ی پر مشتمل تھا۔اس سریہ کو نجد کے اندر بکرات کے علاقہ میں ضریہ کے آس پاس قرطاء نامی مقام پر بھیجا گیا تھا یہ ضریہ اور مدینہ کے درمیان سات رات کا فا صلہ ہے روانگی 10 محرم سن 6 ھجری کو عمل میں آئی تھی اور نشان بنو بکر بن کلاب کی ایک شاخ تھی مسلمانوں نے چھاپہ مارا تو دشمن کے سارے افراد بھاگ نکلے ۔مسلمانوں نے چو پائے اور بکریاں ہانک لیں اور محرم میں ایک دن باقی تھا کہ مدینے آگئے ،یہ لوگ بنو حنفیہ کے سردار ثمامہ بن اثال حنفی کو بھی گرفتار کر لائے تھے،وہ مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی ﷺ کو قتل کرنے نکلے تھے۔(سیر ت حلبیہ 2/297)لیکن مسلمانو ں نے اسے گرفتار کر لیا تھا اور مدینہ لا کر مسجد نبوی کے ایک کھمبے سے باندھ دیا۔نبی ﷺ تشریف لائے تو دریافت فرمایا:ثمامہ تمہارے نزدیک کیاہے؟ انہوں نے کہا : اے محمد ﷺمیرے نزدیک خیر ہے اگر تم قتل کرو تو ایک خون والے کو قتل کرو گے اور اگر احسان کر وتو ایک قدر دان پر احسان کرو گے اور اگرمال چاہتے ہو تو جو چاہو مانگ لو۔اس کے بعد آپ ﷺنےانہیں اسی حال میں چھوڑ دیا ۔پھر آپ دوبارہ گذرے تو پھر وہی سوال کیا اور ثمامہ نے پھر وہی جواب دیا۔اس کے بعد آپﷺ تیسری بار گذرے تو تو پھر وہی سوال و جواب ہوا ۔ اس کے بعد آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو ۔انہوں نے آزاد کر دیا ثمامہ مسجد نبوی کے پاس ایک کھجورں کے باغ میں گئے غسل کیا اور آپﷺ کے پاس واپس آکر مشرف باسلام ہو گئے۔ پھر کہا : خدا کی قسم روئے زمین پر کوئی چہر ہ میرے نزدیک آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا لیکن اب آپﷺ کا چہر ہ دوسرے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا۔ اور خدا کی قسم روئے زمین پر کو ئی دین میرے نزدیک آپ کے دین سے زیادہ مبغوض نہ تھا مگر اب آپﷺ کا دین دوسرے تمام ادیان سے زیادہ محبو ب ہو گیا۔ آپﷺ کے سواروں نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا تھا کہ میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا، خوش رہو۔ اور حکم دیا کہ عمرہ کرلیں جب وہ دیار قریش میں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ ثمامہ ۔۔!تم بد دین ہو گئے ہو ؟ثمامہ نے کہا: نہیں بلکہ میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا ہوں۔ اور سنو !خدا کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ نہیں آسکتا جب تک کہ رسول اللہﷺ کی اجازت نہ دیے دیں۔ یمامہ اہل مکہ کےلئے کھیت کی حیثیت رکھتا تھاحضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ نے وطن واپس جا کر مکہ کےلیے غلہ کی روانگی بند کر دی جس سے قریش سخت مشکلات میں پڑ گئےاور رسول اللہﷺ کو قرابت کا واسطہ دے کر لکھا کہ ثمامہ رضی اللہ عنہ کہ لکھ دیں کہ غلے کی روانگی بند نہ کریں۔ رسول اللہﷺ نے ایسا ہی کیا۔(زاد المعاد 2/119 مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص 292/293)۔
    3۔غزوہ بنو لحیان:

    بنو لحیان وہی ہیں جنہوں نے مقام رجیع میں دس صحابہ کرام کو دھوکے سے گھیر کر آٹھ کو قتل کر دیا تھا اور دو کو اہل مکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔ جہاں وہ بے دردی کے ساتھ قتل کر دئے گئے تھے ۔ لیکن چونکہ ان کا علاقہ حجاز کے اندر بہت دور حدودمکہ سے قریب واقع تھا اور اس وقت مسلمانوں اور قریش و اعراب کے درمیان سخت کشاکش برپا تھی اسلئے رسول اللہﷺ اس علاقے میں بہت اندر تک گھس کر بڑے دشمن کے قریب چلے جانا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔لیکن جب کفار کے مختلف گروہوں کے درمیان پھوٹ پڑگئی اس کے عزائم کمزور پڑگئےاب اور انہوں نے حالات کے سامنے بڑی حدتک گھٹنے ٹیک دیئے تو آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ اب بنو لحیان سے رجیع کے مقتولین کا بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے ۔چنانچہ آپ ﷺ نے ربیع الاول یا جمادی الاولیٰ 6 ھجری میں دوسو صحابہ کرام کی معیت میں ان کا رخ کیا مدینے میں حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا اور ظاہر کیا کہ آپﷺ ملک شام کاارادہ رکھتے ہیں۔اس کے بعد آپﷺ یلغارکرتے ہوئے امج اور عسفان کے درمیان بطن غران نامی ایک وادی میں جہاں آپ کے صحابہ کرام کوشہید کیا گیا تھا پہنچے اور ان کےلئے رحمت کی دعا کی ادھر بنو لحیان کو آپ ﷺ کی آمد کی خبر ہوگئی تھی اس لئے وہ پہاڑکی چوٹیوں پرنکل بھاگے تھے اور ان کا کوئی بھی آدمی گرفت میں نہ آسکا آپ ﷺ نے ان کی سرزمین میں دو روز قیام فرمایا: اس دوران سرے بھی بھیجےمگر بنو لحیا ن نہ مل سکے۔اس کے بعد آپ ﷺ نے عسفان کا قصد کی اور وہاں سے دس شہسوار کراغ الغمیم بھیجے تاکہ قریش کو بھی آپﷺ کی آمد کی خبر ہو جائے ۔ اس کے بعد آپﷺ کل چودہ دن مدینے سے باہرگذار کر مدینہ واپس آگئے۔اس مہم سے فارغ ہو کر رسول اللہﷺ نے پے در پے سرے روانہ کئے ۔
    ذیل میں ان کا مختصراً ذکر کیا جاتاہے۔
    4۔سریہ غمر:
    ربیع الاول یا ربیع الاخر 6 ھجری میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کو چالیس افراد کی کمان دےکر مقام غمر کی جانب روانہ کیا گیا ۔ یہ بنو اسد کے ایک چشمے کا نام ہے مسلمانوں کی آمد سن کر دشمن بھاگ گئے اورمسلمان ان کے دو سواونٹ مدینہ ہانک لائے۔
    5۔سریہ ذوالقصہ(1)
    اسی ربیع الاول یا ربیع الاخر 6ھجری میں حضرت محمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں دس افراد کا ایک دستہ ذوالقصہ کی جانب روانہ کیا گیا یہ مقام بنو ثعلبہ کے دیار میں واقع تھا دشمن جس کی تعدادایک سو تھی کمین گاہوں میں چھپ گیا تھا اور جب صحابہ کرام سو گئے تواچانک حملہ کر کے ان کوقتل کردیا صرف محمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ بچ نکلے تھے اوروہ بھی زخمی ہوکر۔
    6۔سریہ ذوالقصہ(2)
    محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے رفقاء کی شہادت کے بعد ربیع الاخر 6 ھجری میں نبی ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ذوالقصہ کی جانب روانہ فرمایا۔انہوں نے چالیس افراد کی نفر ی لے کر مذکورہ صحابہ کرام کی شہادت گاہ کا رخ کیا۔ اور رات بھر پیدل سفر کرکے علی الصباح بنو ثعلبہ کے دیار میں پہنچتے ہی چھاپہ ماردیا۔لیکن بنو ثعلبہ اس تیزی سے پہاڑوں میں بھاگے کہ مسلمانوں کی گرفت میں آسکے ۔صر ف ایک آدمی پکڑا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔البتہ مویشی اور بکریاں ہاتھ آئیں ۔
    7۔سریہ جموم
    یہ سریہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے زیر قیادت ربیع الاخر 6 ہجر ی میں جموم کی جانب روانہ کیا گیا ۔جموم ،مر الظہران(موجودہ وادی فاطمہ )میں بنو سلیم کے ایک چشمے کا نام ہے ۔ حضرت زیدرضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو قبیلہ مزینہ کی ایک عورت جس کانام حلیمہ تھا گرفت میں آگئی اس نے بنو سلیم کے ایک مقام کا پتہ بتا یا جہاں سے بہت مویشی ،بکریاں اور قیدی آئے
    ۔حضرت زید رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر مدینہ واپس آئے ۔رسول اللہﷺ نے اس مزنی عورت کو آزاد کر کے اسکی شادی کر دی۔
    8۔سریہ عیص

    یہ سریہ ایک سو ستر سواروں پر مشتمل تھا اور اسے بھی حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے زیر قیادت جمادی الاول 6 ہجری میں عیص کی جانب روانہ کیا گیا تھا اس مہم میں قریش کے ایک قافلے کا مال ہاتھ آیا جو رسول اللہ ﷺ کے داماد حضرت ابوالعاص کی قیادت میں سفر کر رہا تھا۔ابوالعاص اس وقت تک مسلمان نہ ہوئےتھے وہ گرفتار تو نہ ہو سکتے لیکن بھاگ کر سیدھے مدینے پہنچے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہانے رسول اللہﷺ کے سامنےپیش کی تو آپ ﷺ نے کسی قسم کا دباؤ ڈالے بنا صحابہ کرام سے اشارہ کیا کہ مال واپس کر دیں صحابہ کرام تھوڑا زیادہ اور چھوٹا بڑا جو بھی مال تھا سب واپس کر دیا۔ ابوالعاص رضی اللہ عنہ سارا مالکے کر مکہ پہنچے امانتیں انکے مالکوں کے حوالے کیں ،پھر مسلمان ہوکر مدینہ تشریف لائے،رسول اللہﷺ نے پہلےہی نکاح کی بنیاد پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے حوالہ کر دیا ،جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت بھی ہے۔(سنن ابی داؤد مع شرح عون المعبود ،باب الی متی ترد علیہ امرا تہ اذا اسلم بعدہا) آپ ﷺ نے پہلے ہی نکاح کی بنیاد پر اسلئے حوالہ کر دیا تھاکہ اس وقت تک کفار پر مسلمان عورتوں کے حرام کئے جانے کا حکم نہیں نازل ہو اتھا۔ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے نکاح جدید کے ساتھ رخصت کیا تھا یا یہ کہ چھ برس کے بعد رخصت کیا تھا تویہ نہ معناً درست ہے اورنہ ہی سنداً (دونوں احادیث پر کلام کےلئے ملاحظہ ہو تحفۃ الاحوذی۔2/195،196)بلکہ دونوں لحاظ سے ضعیف ہے اور جو لوگ اسی ضعیف حدیث کے قائل ہیں وہ عجیب اورمتضاد باتیں کہتےہیں کہ ابوالعاص 8ہجری کے اواخر میں فتح مکہ سے کچھ پہلے مسلمان ہوئے تھے ۔پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ 8 ہجری کے اوائل میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نتقال ہو گیا تھا ۔حا لانکہ اگر یہ دونوں باتیں درست مان لی جائیں تو تضاد بالکل واضح ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ابو العاص کے اسلام لانےاور ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے کے وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا زندہ ہی کہاں تھیں کہ انہیں انکے پاس نکاح جدید یا نکاح قدیم کی بنیاد پر ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا جاتا۔ہم نے اس موضوع پر بلوغ المرام کی تعلیق میں بسیط سے گفتگو کی ہے۔مشہور صاحب مغازی موسی بن عقبہ کا رجحان اس طرف ہے کہ یہ واقعہ 7 ہجری میں ابو بصیر اوران کے رفقاءکے ہاتھوں پیش آیا تھا لیکن یہ نہ حدیث صحیح کے موافق ہے نہ حدیث ضعیف کے ۔
    (9)سریہ طرف یا طرق:
    یہ سریہ بھی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جمادی الآخر ہ میں طرف یا طرق نامی مقام کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ مقام بنو ثعلبہ کے علاقہ میں تھا ۔حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف پندرہ آدمی تھے لیکن بدؤں نے خبر پاتے ہی راہ فرار اختیارکرلی۔انہیں خطرہ تھا کہ رسول اللہﷺ تشریف لارہے ہیں حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چار اونٹ لگے اور وہ ان کے ساتھ چار دن بعد ہی لوٹ آئے۔
    (10)سریہ وادی القری:
    یہ سریہ بارہ آدمیوں پر مشتمل تھا اور اسکے کمانڈر بھی حضرت زید ہی تھے وہ رجب 6 ہجری میں وادی القری کی جانب روانہ ہوئے مقصد دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ لگانا تھا مگر وادی القری کے باشندوں نے حملہ کر کے نو صحابہ کرام کو شہید کر دیا اور صرف تین بچ سکے جن میں ایک خود حضرت زیدتھے۔(رحمۃ للعالمین 2/226 ۔زاد المعاد6/120،121،122 اور تلقیح الفہوم اہل الاثر کے حواشی ص28 ،69 میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)
    11: سریہ خبط:
    اس سریہ کا زمانہ رجب 8 ہجری بتایا جاتا ہے مگر سیاق بتاتا ہے کہ یہ حدیبیہ سے پہلےکا واقعہ ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ہمارے تین سو سواروں کی جمیعت روازنہ فرمائی۔ ہمارے امیر ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔قریش کے ایک قافلے کاپتہ لگانا تھا ہم اس مہم کے دوران سخت بھوک سے دو چار ہوئے ۔یہاں تک کہ پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانا پڑے اسی لئے اس کا نام جیش خبط پر گیا( خبط جھاڑے جانے والے پتوں کو کہتے ہیں) آخر ایک آدمی نے تین اونٹ ذبح کیے ،پھر تین اونٹ ذبح کئے اور پھر تین اونٹ ذبح کئے لیکن اسکے بعد ابو عبیدہ نے اسے منع کر دیا ۔پھر اس کے بعد ہی سمندرنے عنبر نامی ایک مچھلی پھینک دی جس سے ہم آدھے مہینے تک کھاتے رہےاور اس کا تیل بھی لگاتے رہے یہاں تک کہ ہمارے جسم پہلی حالت پر پلٹ آئے اور تندرست ہوگئے۔ ابو عبیدہ نے اس کی پسلی کا ایک کانٹا لیا اور لشکرکے اندر سب سے لمبےآدمی اور سب سے لمبے اونٹ کو دیکھ کر آدمی کو اس پر سوار کیا اور وہ (سوارہوکر) کانٹے کے نیچے سے گذر گیا ۔ہم نےاس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے توشہ کے طور پر رکھ لئے اور جب مدینہ پہنچے تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا۔آپﷺ نے فرمایا: یہ ایک رزق ہے جو اللہ نے تمہارےلئے برآمد کیا تھا ۔اس کا گوشت تمہارے پاس ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔ہم نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں کچھ گوشت بھیج دیا ۔(صحیح بخاری 2/625 مسلم 2/145،146)واقعہ کی تفصیل ختم ہوئی ۔
    اوپر جو یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعے کا سیاق بتاتا ہے کہ یہ حدیبیہ سے پہلے کا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد قریش کے کسی قافلے سے تعریض نہیں کرتے تھے۔
    الرحیق المختوم مکمل یونیکوڈ میں حاصل کرنے کے لئے یہاں آئیں۔
    سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم - URDU MAJLIS FORUM
    فہرست دیکھنے کے لئے یہاں تشریف لائیں۔
    الرحیق المختوم ~~ فہرست + مضامین کے روابط - URDU MAJLIS FORUM[/SIZE][/COLOR][/FONT]
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,445
    عمدہ شیئرنگ ہے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں