خیبر کے علاقے کی سیر

ابو ابراهيم نے 'دیس پردیس' میں ‏مئی 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    خیبر کے علاقے کی سیر
    یہود کی تاریخ اور غزوہ خیبر

    (تحریر: عبدالمالک مجاہد ،دارالسلام ،ریاض)

    ''خیبر'' مدینہ منورہ سے شمال کی جانب 180کلو میٹر کے فاصلے پر تبوک روڈپر واقع ہے ۔کافی مدت سے اس تاریخی شہر کی سیاحت کا پروگرام بن رہا تھا۔ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی مصروفیت آڑے آجاتی اور پروگرام ملتوی ہو جاتا،مگر اس مرتبہ مارچ 2012ء کے آخری ہفتہ میں اسکولوں میں چھٹیاں تھیں،اس لیے تمام بہانے ختم ہوئے اور یہ طے ہوا کہ گھر کے سب لوگ مکہ مکرمہ سے ہوتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچیں گے جب کہ میں اور عکاشہ مجاہد ریاض سے مدینہ طیبہ کے لیے محو پرواز ہوں گے۔ اسی دوران ایک دن کے لیے ہم لوگ خیبر کے تاریخی شہر کو بھی دیکھ لیں گے۔
    26مارچ 2012ء پیر کی صبح ریاض سے مدینہ منورہ کے لیے سعودی ایئر لائن کی پرواز صبح ساڑھے چھ بجے روانہ ہونے والی تھی۔فجر کی نماز مسجد میں باجماعت اداکرنے کے بعد عزیز ی عکاشہ مجاہد نے گاڑی اسٹارٹ کی ۔ہمارا رخ ایئر پورٹ کی طرف تھا ،8بجے عزیزی منیب کبریا مدینہ ائر پورٹ پر میرا استقبال کررہا تھا ۔بچے بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد رات کو مدینہ آچکے تھے ،ہم نے مدینہ سے خیبر کا رخ کیا تو موسم خاصا خوشگوار تھا ،درجہ حرارت صرف 26ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔دوگاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ جب روانہ ہواتو ہمارے میزبان برادرم معراج عالم کا متعدد مرتبہ فون آچکا تھا : آپ لوگ کب پہنچ رہے ہیں ؟ معراج عالم خیبر کے مکتب جالیات میں بطور مترجم کام کرتے ہیں۔ وہ ہندوستان کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہیں اور ان دنوں جامعہ ملیہ ہندوستان سے پی ایچ ڈی کے آخری مرحلہ میں ہیں ۔ان کے بقول چند ماہ کے بعد وہ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھ سکیں گے۔ان کا مقالہ سعودی عرب کے نہایت مشہور عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین کی فقہی خدمات کے موضوع پر ہے۔یہ موضوع بڑا اہم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت حسّاس بھی ہے۔
    ہم جب خیبر پہنچے تو ہمارا رخ معراج عالم صاحب کے مکتب جالیات کی طرف تھا۔ ایک مناسب سے شہر میں جالیات کا دفتر کوئی بڑا نہ تھا تاہم اس میں دعوتی نقطہ نظر سے درکارتمام سہولتیں میسر تھیں۔مناسب سی لائبریری ،آڈیو اور ویڈیو سیکشن، کلاسز کے لیے ہال اور خواتین کے لیے علیحدہ دعوتی مرکزبھی موجود تھا۔جب آپ کسی علاقے کی سیر کو جائیں اوروہاں کا کوئی مقامی باشندہ مل جائے تو آپ کو بہت ساری ان کہی داستانیں بھی مل جاتی ہیں۔شاید میری اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے معراج عالم نے ایک مقامی باشندے ابو عبداللہ عبدالکریم بن عبداللہ النوبی کا بندوبست کر رکھاتھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ ''بِشر'' قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ خیبر کے محکمہ قانون وانصاف میں ملازم ہیں۔ علمی گھرانے سے تعلق ہے ان کے دادا اسکول ٹیچر تھے اور بہت سارے مقامی لوگوں کے استاد تھے۔اس لیے خیبر کے علاقے میں ان کے لیے خاصا احترام موجود ہے۔ابو عبداللہ کے والد پولیس میں کام کرتے تھے۔وہ خود صاحب علم ہیں، مدینہ یونیورسٹی میں مزید تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں ۔میں پہلے تومعراج عالم کی گاڑی میں بیٹھ گیا؛ ان سے معلومات لیتا رہا اور پھر ان کی اجازت سے ابوعبداللہ کی گاڑی میں منتقل ہوگیا۔ان سے میں نے جی بھر کر اس علاقے کے بارے میں سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے بڑے صبر وتحمل سے نہایت خوبصورت پیرائے میں دیے۔جب ہم ایک دوسرے سے الوداع ہوئے تو گہر ے دوست بن چکے تھے ۔ابوعبداللہ کے مطابق ان کے آبائواجداد 850سال قبل اس علاقے میں آئے تھے ۔میں نے پوچھا: آپ کے نام کے ساتھ ''نوبی''کا لاحقہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ لقمان حکیم کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ،جو کالے رنگ کے حبشی اور ''نوبی ''تھے۔اس کا انہوں نے انکار نہ کیا ،تاہم ان کا کہنا تھا: ہمارا تعلق ''بِشر ''قبیلے سے ہے۔
    ''خیبر''کا علاقہ سات ہجری میں فتح ہوا تھا ،اس شہر کی اپنی ایک تاریخ ہے ،جو یقینا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اقدس سے بہت پہلے شروع ہوتی ہے۔یہود کیسے اور کیوں اس علاقے میں آئے ،اس بارے میں مؤرخین متفق ہیں کہ اکثر یہودی فلسطین سے ہجرت کرکے آنے والوں کی نسل سے تھے۔بخت نصرنے عیسی علیہ السلام کی آمد سے 586سال پہلے بیت المقدس پر حملہ کیا تو بہت سارے یہودی یثرب بھاگ آئے۔اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں یہودی ہجرت کرکے آتے رہے۔مدینہ اور قباء کے درمیان ان کے بلند مکان یعنی گڑھیاں تھیں۔ان کی مادری زبان عبرانی تھی ،مگر رفتہ رفتہ ان کی زبان عربی ہوگئی تھی ۔عبرانی ان کی مذہبی اور تعلیمی زبان تھی۔
    اوس وخزرج کے قبائل یمن سے ہجرت کرکے آئے تھے ،جب وہ یثرب پہنچے تو یہاں کا معاشی اور اقتصادی نظام یہود کے ہاتھ میں پایا۔یہود یوں کی خباثتوں کا ذکر کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔یہاں کے یہودی حاکم کا نام'' فطیون'' یا ''فیطوان'' تھا ،یہ اتنا ظالم اور جابر تھا اور اس کے دبدبے کا یہ عالم تھا کہ اس نے اعلان کررکھا تھا کہ اوس اور خزرج کی ہر دلہن اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اس کے ہاں رات گزارے گی ۔
    اس قبیح رسم کا خاتمہ ایک غیور خاتون کے ہاتھوں ہوا۔مالک بن عجلان کی بہن کی شادی اپنے ایک رشتہ دار سے طے پائی۔مالک اپنے قبیلے کے نمایاں افراد میں سے تھا۔وہ اپنی مجلس میں بیٹھا ہو اتھا کہ اس کی بہن اپنے جسم کا کچھ حصہ عریاں کرکے مجلس کے سامنے سے گزری۔مالک بڑا شرمسار ہوا ،غصے میں بھڑک اٹھا ،گھر جاکر اپنی بہن کو ڈانٹا کہ یہ تم نے کیا بے ہودہ حرکت کی ہے؟!وہ بولی: جب مجھے غیر کے پاس بھیجا جائے گا اور جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا ہے وہ اس سے کہیں بدتر ہے … اس وقت تم کیا کروگے …
    مالک کی غیرت جاگ اٹھی ،اس نے سرشام عورت کا بھیس بدلا اور اپنی بہن کے ساتھ'' فطیون'' کے محل میں داخل ہوگیا اور موقع پاکر اسے قتل کردیا ،اس کے بعد اس نے شاہ غسان سے یہود کے خلاف مددمانگی ،وہ ایک بڑا لشکر لے کر آیااوریثرب کے یہودی سرداروں کو قتل کرکے وہاں اوس اور خزرج کو معزز بنادیا۔
    ابن قتیبہ کی روایت کے مطابق یثرب کے لوگ شاہ یمن کے پاس مدد کے لیے گئے ۔یہود کی زیادتیوں کی شکایت کی ،چنانچہ اس نے یثرب پر لشکر کشی کی اور یہودکے 350افراد کو باندھ کر قتل کردیا۔وہ یثرب کو تباہ وبرباد کردینا چاہتا تھا مگر ایک بہت بوڑھا یہودی بولا: اے بادشاہ!غضب نہ دکھا تو اس بستی کو تباہ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بستی اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے مہاجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ ہے جو بیت اللہ الحرام مکہ مکرمہ میں مبعوث ہوں گے ۔اس پر شاہ یمن ''تُبّع'' اپنے ارادے سے باز آگیا۔اس نے اس یہودی عالم کے علاوہ ایک اور عالم کو ساتھ لیا مکہ آیا کعبہ شریف پر غلاف چڑھایا اور لوگوں کی ضیافت کی۔
    یثرب کے یہود وضع قطع ،زبان اور تہذیب میں بالکل عربی رنگ میں ڈھل چکے تھے۔ان کے قبیلوں کے نام بھی عربی ہوچکے تھے۔ عربوں کے ساتھ شادی بیاہ کے رشتے بھی قائم ہوئے مگر اس کے باوجود ان کی نسلی عصبیت برقراررہی ۔وہ عربوں میں مدغم نہ ہوئے بلکہ اپنی اسرائیلی اوریہودی قومیت پر فخر کرتے تھے ۔عربوں کو انتہائی حقیر سمجھتے تھے۔حتیٰ کہ انہیں ''اُمِّی'' کہتے تھے ،جس کا مطلب ان کے نزدیک بدو ،وحشی،رذیل،پسماندہ اور اچھوت تھا۔ عربوں کا مال کھا جانا ان کے نزدیک جائز تھا۔جس طرح اور جیسے چاہیں کھائیں۔وہ فال گیری،جادو اورجھا ڑپھونک بھی کرتے تھے ،اس لیے خود کو اصحاب علم وفضل، روحانی پیشوا اور قائد سمجھتے تھے۔
    دولت کمانے میں انہیں بڑی مہارت تھی ،غلے ،کھجور ،شراب اور کپڑے کی تجارت ان کے ہاتھ میں تھی،وہ سود خور تھے ،عرب قبائل کے سربراہوں کو سودی قرضوں کے طور پر بڑی بڑی رقمیں دیتے تھے ۔ان سے بھاری سود لیتے ،وہ سرداروں سے ان کی زمینیں ،کھیتیاں اور باغات گروی رکھوا لیتے تھے اور چند سال گزرنے کے بعد ان کے مالک بن بیٹھتے تھے۔
    وہ مختلف قبائل کو آپس میں بھڑکاتے،انہیں آپس میں لڑاتے ،جنگوں میں فریقین کو اسلحہ مہیا کرتے اور سود درسود کے ذریعے بڑی بڑی دولت کماتے ۔یثرب میں ان کے تین قبیلے بڑے مشہور تھے:بنو قینقاع،بنو نضیراوربنو قریظہ۔ایک مدت تک وہ اوس اور خزرج کے قبائل کو آپس میں لڑاتے رہے۔
    جب یثرب کے بہت سارے افراد مسلما ن ہوگئے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا فیصلہ کیا تو یہود کی حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔درج ذیل واقعہ سے ان کی اس کیفیت کا اندازہ لگا کر آگے بڑھتے ہیں!
    اس واقعہ کی روایت ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کرتی ہیں ،وہ فرماتی ہیں: میں بچپن میں اپنے والد ''حُیی''اور چچا ''ابویاسر ''کی نہایت چہیتی تھی۔جب وہ گھر میں آتے تو سب سے پہلے مجھے ہی گلے لگاتے اور خوب پیار کرتے ۔جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں بنو عمروبن عوف کے یہاں قیام فرمایا۔میرے والد اور چچا صبح سویرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے۔غروب آفتاب کے وقت جب واپس آئے تو بالکل تھکے ماندے،گرتے پڑتے ،لڑکھڑاتی چال چلتے ہوئے تھے۔میں نے حسب معمول چہک کر ان کی طرف دوڑ لگائی لیکن وہ اس قدر غمزدہ تھے کہ اللہ کی قسم! دونوں میں سے کسی نے بھی میری طرف توجہ نہ کی،میں نے چچا کو سنا وہ میرے والد حیی بن اخطب سے کہہ رہے تھے :…کیایہ وہی ہے ؟چچا نے کہا: ہاں، خدا کی قسم! … ہم انہیں بالکل ٹھیک پہچان رہے ہیں؟والد نے کہا: جی ہاں، بالکل…چچا نے کہا : تو اب آپ کے دل میں ان کے متعلق کیا ارادے ہیں؟والد نے جواب دیا :… عداوت…خداکی قسم…جب تک زندہ رہوں گا۔
    قارئین کرام!آپ نے اوپر کی گفتگو سے اندازہ کرلیا ہوگا کہ یہود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے اور پہچانتے تھے ۔انہیں معلوم تھا کہ یہ وہی نبی برحق ہیں جن کی صفات کا تذکرہ تورات شریف میں ہے ،مگر ہٹ دھرمی اسی کا نام ہے کہ وہ آپ کی ساری نشانیاں پہچاننے کے باوجود محض ضد اور عناد کی وجہ سے آپ پر ایمان نہیں لائے ،اور ساری زندگی آ پ کی مخالفت اور اسلام کو ختم کرنے کی سازشیں کرتے رہے ۔
    اگر مضمون کی طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کو تفصیل سے بتاتا کہ یہ خطرناک گروہ اسلام کے خلاف کس طرح ساز شیں کرتا رہا۔مگر میں آپ کو ایک واقعہ ضرور سناؤں گا تاکہ آپ کو اندازہ ہوجائے کہ یہ لوگ کس قدر بدباطن تھے۔مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں اپنے فضل سے بڑی زبردست کامیابی دی۔قریش کے بعد اس فتح کا سب سے زیادہ رنج یہودیوں کو تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے بعد بنو قینقاع کے بازار میں یہود کو جمع کیا ،یہ بازار بقیع الغرقد کے جنوب مشرقی جانب واقع تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:اے جماعت یہود! اسلام قبول کرلواس سے پہلے کہ تم پر بھی ویسی ہی مار پڑے جیسی قریش پر پڑچکی ہے ۔
    اس کے جواب میں یہودیوں نے نہایت تکبر سے کہا :اے محمد! تمہاری لڑائی قریش کے اناڑی اور ناآشنائے جنگ لوگوں سے ہوئی اور انہیں تم لوگوں نے زیر کر لیا،اگرکبھی ہم سے جنگ ہوئی توآپ لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ ہم شکست کھا کر بھاگنے والے نہیں بلکہ مرد میدان ہیں۔بنوقینقاع کا یہ جواب صاف صاف اعلان جنگ تھا۔
    اسی دوران ایک عرب عورت بنو قینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور اسے فروخت کرکے کسی ضرورت کے لیے ایک یہودی سنار کے پاس بیٹھ گئی۔یہودی اوباشوں نے وہاں اکٹھے ہو کر اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے صاف انکار کردیا ،اس پر یہودی سنار نے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا پچھلی طرف سے اوپر والے کپڑے کے ساتھ باندھ دیا۔اس عورت کو اس کا علم نہ ہوسکا ،جب وہ اٹھی تو بے پردہ ہوگئی ۔یہودیوں نے اس پر قہقہہ لگایا اس مسلمان عورت نے اپنی بے حرمتی پر شور مچادیا ۔ایک مسلمان نے کپڑا باندھنے والے اس یہودی پر حملہ کردیا اور اسے مارڈالا۔جوابا یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے شہید کردیا۔اس طرح مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان بلوہ ہوگیا۔جس کے نتیجہ میں لشکر اسلامی نے بنو قینقاع کا محاصرہ کر لیا اور عبداللہ بن اُبیّ کی سفارش پر ان کی جان بخشی اس شرط پر کی گئی کہ وہ مدینہ سے نکل جائیں گے۔ چنانچہ بنو قینقاع کے یہود مدینہ کو چھوڑ کر شام کے علاقے کی طرف چلے گئے ،وہاں غالبا وباء کے نتیجہ میں اکثر کی موت واقع ہوگئی۔
    یہودیوں کا دوسرا بڑا قبیلہ بنو نضیر تھا۔غزوہ احد کے بعد ان کی عداوت اور سرکشی میں بے حد اضافہ ہوگیا۔ان بد بختوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علاقے میں بلوایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔یہودیوں نے ساز ش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا جائے۔چنانچہ آپس میں کہنے لگے: کون ہے جو اس چکی کو لے کر اوپر جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپر گراکر آپ کو کچل دے۔ایک بدبخت یہودی عمرو بن جِحاش نے ہامی بھرلی ،ادھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے ذریعے ان کے ارادے کی خبر دے دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور مدینہ کے لیے چل دیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو نوٹس دیا کہ تمہیں دس دن کی مہلت ہے ،مدینہ چھوڑ کر چلے جاؤ،ورنہ مہلت کے بعد تمہاری گردنیں اڑا دی جائیں گی۔وہ سفر کی تیاریاں کرنے لگے،عبداللہ بن ابی نے ان کو اپنی مدد کا یقین دلایا مگر کوئی مدد کو نہ آیا ان پر اللہ تعالیٰ نے رعب ڈال دیا ،ان کے حوصلے پست ہوگئے او روہ ہتھیار ڈالنے اور جلا وطن ہونے کے لیے تیار ہوگئے۔ چنانچہ یہ لوگ چھ سو اونٹوں پر اپنے گھروں کا سامان لاد کر ربیع الاول 4ہجری میں خیبر روانہ ہوگئے ،کچھ لوگ شام کے علاقے کی طرف بھی گئے۔
    یہ مختصر سی داستان ہے کہ یہود کس طرح مدینہ سے شام اور خیبر کی طرف گئے ،اب ہم دوبارہ مدینہ طیبہ کی بستی کی طرف چلتے ہیں جس میں بنو قریظہ باقی تھے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ تحریری معاہدہ کررکھا تھا جس کی رو سے وہ کسی بھی بیرونی حملہ کی صورت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کے پابند تھے ۔مگر خیبر میں جاکر بھی یہودیوں کی سازشوں میں فرق نہ آیا ،بنونضیر کے بیس سردار اور رہنما مکے میں قریش کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آمادہ جنگ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا ،پھر وہ بنو غطفان کے پاس گئے اور انہیں بھی مسلمانوں سے جنگ کے لیے تیار کیا اور یہی نہیں بلکہ بقیہ قبائل عرب میں گھوم گھوم کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب دی۔ ان قبائل کے بہت سے افراد بھی اہل اسلام سے جنگ کے لیے تیار ہوگئے ،اس طرح بنو نضیر کی سازشوں سے دس ہزار کے لشکر جرارنے مدینہ کا رخ کرلیا۔
    غزوہ خندق کے دوران بنو نضیر کا مجرم اکبر حیی بن اخطب بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے دروازے پر دستک دیتا ہے ،اس نے دروازہ بند کرلیا،مگرحیی نے ایسی ایسی باتیں کہیں کہ کعب نے دروازہ کھول دیا۔حیی کہنے لگا :کعب !میں تمہارے پاس ہمیشہ کی عزت اور فوجوں کا بحر بیکراں لے کر آیا ہوں ،میں نے قریش اور بنو غطفان کو ان کے قائدین اور سرداروں سمیت احد کے دامن میں خیمہ زن کردیاہے، ان لوگوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ( معاذ اللہ ) محمد اور ان کے ساتھیوں کا مکمل صفایا کیے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے۔
    قارئین کرام!حیی بن اخطب کی ان چکنی چپڑی باتوں کا جو جواب کعب نے دیا وہ سننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ،وہ بولا: اللہ کی قسم !تم میرے پاس ہمیشہ کی ذلت اور موجوں کا برساہوا باد ل لے کر آئے ہو جو صرف گرج چمک رہا ہے ،مگر اس میں کچھ رہ نہیں رہ گیا ۔حیی تم پر افسوس ہے! مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں صدق و وفا کے سوا کچھ نہیں دیکھا ۔مگر حیی اسے مسلسل فریب دیتا رہا یہاں تک کہ اسے راضی کرلیا اور اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ توڑنے کا اعلان کردیا ۔
    قارئین کرام کوسیدنا حسان بن ثابت کے قلعہ ''فارع'' میں سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب کا یہودی کو قتل کرنے کا واقعہ یقینا یاد ہوگاکہ جب دوران جنگ مسلم خواتین اپنے بچوں کے ساتھ اس قلعہ میں ٹھہری ہوئی تھیں اور ایک یہودی اس قلعے کی طرف بڑھا تو اس بہادر ہاشمی خاتون نے اپنی کمر باندھی ،ستون کی ایک لکڑی لی اور قلعہ سے اتر کر اس یہودی کے پاس پہنچی اور لکڑی اس قوت سے اس کے سر میں ماری کہ اس کا خاتمہ کردیا،ورنہ یہود تو مسلمان خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچانے کے پختہ ارادے کیے ہوئے تھے۔ اس واقعہ نے ان کی ہمت توڑ دی اور انہیں پھر کبھی مسلمانوں کے اس قلعہ کی طرف رخ کرنے کی جر أت نہ ہوسکی۔
    غزوہ خندق کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے قلعوں کا رخ کیا اوران کا محاصرہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔انہوں نے اپنے مقدمہ کا فیصلہ سیدنا سعد بن معاذ سے کروانے کی درخواست کی جو قبول کرلی گئی ۔
    بنو قریظہ اور اوس زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے ،بنو قریظہ کا خیال تھا کہ وہ پرانے تعلقات کی بنا پر ہمارے ساتھ لحاظ اور نرمی کا سلوک کریں گے مگر سیدنا سعدبن معاذ نے وہ فیصلہ کیا جو سات آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا۔اس فیصلے کی رو سے یہود کے مردوں کو قتل کرکے عورتوں اوربچوں کو قیدی بنالیاگیا۔بنو قریظہ کی اس تباہی کے ساتھ ہی بنو نضیر کا شیطان اور جنگ احزاب کا بڑا مجرم حیی بن اخطب بھی اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔غزوہ خندق کے دوران یہ بھی بنو قریظہ کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا تھا اور اس نے کعب بن سعد کو غدر اور خیانت پر آمادہ کیا تھا ۔جب اسے قتل کرنے کے لیے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لایاگیا تووہ ایک جوڑا زیب تن کئے ہوئے تھا جسے خود ہی ہر جانب سے ایک ایک انگل پھاڑ رکھا تھا تاکہ اسے مال غنیمت میں نہ رکھوا لیا جائے اور ا سکے قتل کے بعد یہ لباس مسلمانوں کے کسی کام نہ آسکے۔اس کے دونوں ہاتھ گردن کے پیچھے رسی سے یکجا بندھے ہوئے تھے ،اس حالت میں بھی اس کی اسلام اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی ملاحظہ کیجئے کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا :
    سنیے ،میں نے آپ کی عداوت پر اپنے آپ کو ملامت نہیں کی لیکن جو اللہ سے لڑتا ہے مغلوب ہوجاتا ہے۔پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: اللہ کے فیصلے میں کوئی حرج نہیں ،یہ تو نوشتہ دیوار ہے۔ ایک بڑا قتل جو بنی اسرائیل پر لکھ دیا گیا ہے ،اس کے بعد وہ بیٹھا اور اس کی گردن اڑا دی گئی۔
    قارئین کرام!یہ وہ بڑے بڑے واقعات تھے جن کا میں نے اس لیے تذکرہ کیا ہے کہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ یہودی لوگ کس قسم کا سازشی ذہن رکھنے والے ہوتے ہیں۔میں نے دانستہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ بیان نہیں کیا جسے مشہور انصاری صحابی محمد بن مسلمہ نے قتل کیا تھا ۔ کعب بن اشرف کے قلعہ کے کھنڈرات اب بھی مسجد قباء کے جنوب کی طرف واقع ہیں۔اسی طر ح خیبر کے مشہور یہودی تاجر ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کے قتل کا واقعہ ہے جسے قبیلہ خزرج کے بطل جلیل عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خیبر میں جاکر واصل جہنم کیا تھا ۔یہ دونوں وہ بد بخت یہودی تھے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیا کرتے تھے ۔توہین آمیز اشعار کہتے اور مسلمان خواتین کے بارے میں فحش کلامی کیا کرتے تھے۔
    قارئین کرام !خیبر کے علاقے میں آٹھ قلعے تھے ،جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کیا تھا۔ خیبر کا موجودہ شہر کیسے آباد ہوا؟ اس کے بارے میں استاذ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے دونوں بڑے قبائل'' مکیدہ'' اور'' بشر ''آپس میں جھگڑتے رہتے تھے ،مکیدہ کے بارے میں روایات یہ ہیں کہ ان کے جد امجد یہود تھے ،تاہم اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،میرے ایک سوال کے جواب میں معراج عالم کہنے لگے: اس لفظ کا مادہ '' کید ''ہے اور اس کا معنی مکر وفریب بنتا ہے۔
    زمانہ قدیم سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ ایک قبیلے کے لوگ ایک ہی جگہ اکٹھے رہا کرتے تھے ۔ذرا سی بات ہوتی تو وہ دوسرے قبیلے پر چڑھ دوڑتے اور آپس میں قتل وغارت کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔زمانہ قدیم میں امن وامان نہیں تھا۔ عدالتیں نہ پولیس،نہ حکومت کا رعب،چنانچہ یہ لڑائیاں عرصہ دراز تک چلتی رہتیں ۔
    آل سعود کی حکومت کے بہت بڑے کارناموں میں ایک اس مملکت میں امن وامان کا قیام بھی ہے ۔شاہ فیصل رحمہ اللہ کی دوررس نگاہ نے اس کا علاج یہ نکالا کہ ان قبائل کو ایک جگہ اکٹھا نہ رہنے دیا جائے ،بلکہ ان کو اس طرح آباد کیا جائے کہ ان کی قوت وطاقت ختم ہوجائے۔چنانچہ انہوں نے دونوں قبائل مکیدہ اور بشرکے ساتھ ساتھ دیگر قبائل کو بھی موجودہ جگہ پر آباد کرنے کا حکم دیا ۔وسیع وعریض جگہ پر مفت زمین اور بلا سود قرضہ دیا گیا۔اہتمام یہ رکھا گیا کہ ایک گھر مکیدہ قبیلے کے افرادکا ہو، ساتھ والا گھر بشر قبیلے کااور پھر خیبری،رشیدی،عنبری اور دیگر قبائل کے گھر ہوں۔نیا شہر اس طرح آباد کیاگیا کہ کسی قبیلے کے لوگوں کی اکثریت ایک محلے میں جمع نہ ہونے پائے۔نئے ہمسایے آپس میں شیر وشکر ہوتے چلے گئے۔سعودی حکمرانوں کی حکمت عملی رنگ لائی اور نفرتیں محبتوں اور الفتوں میں تبدیل ہوگئیں۔وہ قبائل جو ہر وقت برسر پیکار رہتے تھے اب اچھے ہمسایوں کی طرح ایک ساتھ رہنے لگے ،اس علاقے میں موسم مدینہ طیبہ کی نسبت قدرے ٹھنڈا ہے، تبوک روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ پرانا تجارتی مرکز چلا آرہا ہے۔
    اس علاقے میں میٹھے پانی کے کم وبیش دوسو کنویں تھے ،جن میں سے اب بھی نوے سے زیادہ کنویں لوگوں کی پیاس بجھا رہے ہیں۔مجھے مکیدہ کے علاقے میں ایک کنویں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ،جس کا پانی اس طرح تھا جس طرح پنجاب کے علاقے میں وافر مقدار میں پانی ہوتا ہے۔
    اسے میں حسن اتفاق ہی کہوں گا کہ ان دنوں ریاض کے جنادریہ کی طرح یہاں ایک ثقافتی میلہ لگاہواتھا اب خیبر کے پرانے علاقے میں ہر کس وناکس کو جانے کی اجازت نہیں ہے ،مگر ایک تو عبدالکریم کی قیادت کی وجہ سے ہر جگہ لوگ اس کے جاننے والے تھے اور دوسراثقافتی میلے کی وجہ سے اس علاقے کی سیر کی جاسکتی تھی۔
    موجودہ خیبر کوئی بڑا شہر نہیں ہے اس کی کل آبادی20ہزار کے لگ بھگ ہوگی ،جبکہ اس کے مضافات اور اردگرد کی بستیاں شمار کی جائیں تو کم وبیش 60ہزار نفوس بن جاتے ہوں گے ۔اس علاقے میں بہت زیادہ ترقی کے آ ثار نظر نہیں آتے۔ جس طر ح کی عمارتیں اور مارکٹیں آپ کوریاض ،جدہ ،الخبر،طائف وغیرہ میں نظر آتی ہیں خیبر میں ایسی بڑی عمارتیں کم ہی نظر آئیں گی۔موجودہ شہر شاہ فیصل کے دور میں بسایا گیا۔اس علاقے میں بہت سے قبائل ہیں جن میں مکیدہ ،بشر ،الخیبری(خیبرسے)العنزی،رشیدی،الجہنی وغیرہ شامل ہیں۔صدیوں سے آباد ان قبائل میں لڑائی جھگڑے چلتے رہتے تھے۔آج سے پچاس سال قبل اس علاقے میں فقر اور تنگ دستی بھی تھی۔ابھی سعودی عرب میں سیال مادہ کی برکات کا ظہور پوری طرح نہ ہوا تھا، بطور خاص مکیدہ اور بشر قبائل میں لڑائی جھگڑا چلتا رہتا تھا ،وہ ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے اور جائداد پر قبضہ کرلیتے تھے مگر آل سعود کی مناسب حکمت عملی کی وجہ سے یہ مسائل ختم ہو چکے ہیں ۔الحمد للہ
    اب ہم پھر پیچھے چلتے ہیں اور غزوہ خیبر کے مناظر دیکھتے ہیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حکمت عملی کو ہزار مرتبہ داد دیجیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت اختیار فرمائی تھی۔یہود کے حلیف بنو غطفان تھے جو مدینہ اور خیبر کے درمیانی علاقے میں بستے تھے۔ان کا یہود کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا کہ وہ یہود کی مدد کریں گے ،چنانچہ بنوغطفان یہود کی امداد کے لیے خیبر کی طرف چل پڑے تھے ۔ اس اثناء میں انہیں اپنے پیچھے شور وغل سنائی دیا، انہوں نے سمجھا کہ مسلمانوں نے ان کے بال بچوں اور مویشیوں پر حملہ کردیا ہے ،اس لیے وہ پلٹ آئے اور خیبر کو مسلمانوں کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔اب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عام راستے سے ہٹ کرشمال کی جانب سے خیبر میں داخل ہوئے۔اس حکمت عملی کے ذریعے ایک طرف تو یہود کے شام بھاگنے کا راستہ بند کردیا گیا اور دوسری طرف بنو غطفان اور یہود کے درمیان حائل ہوکر ان کی طرف سے کسی مدد کی رسائی کے امکانات ختم کردیے گئے۔
    ہمارا قافلہ برادرم عبدالکریم کی رہنمائی میں مکیدہ کے علاقے میں داخل ہوا۔یہ بستی اب ویران ہوچکی ہے ،مگر یہاں پر ثقافتی میلہ لگا ہوا تھا ،ظہر کا وقت قریب تھا ،پرانے زمانے میں اس علاقے میں رہائش پذیر افراد کی کچھ نشانیاں اب بھی باقی ہیں،پرانی طرز کی دکانیں،چھوٹے چھوٹے بقالے اور ثقافتی چیزیں موجود تھیں۔اس موقع پر ہمیں کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی کافی اشیاء دکھائی گئیں۔اب ان کو کون بتائے کہ راقم الحروف کے بچپن میں ہمارے ہاں بھی ایسی چیزیں کثرت سے زیر استعمال تھیں۔روایتی قہوہ اورکھجوریں پیش کی گئیں۔

    جاری ہے -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    عمدہ شیئرنگ ہے
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جزاک اللہ خیرا!

    ہمیشہ کی طرح محترم عبدالمالک مجاہد کا یہ مضمون بھی انتہائی دلچسپ اور معلوماتی ہے۔
     
  4. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    بارك اللہ فیك
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
  7. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں