خیبر کے علاقے کی سیر 2

ابو ابراهيم نے 'دیس پردیس' میں ‏مئی 25, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    ایک نئی چیز یہ تھی کہ دیسی گھی کے ساتھ کھجوریں کھانے کے لیے دی گئیں۔اس موقع پر ہمارے لیے گائیڈ کے فرائض انجام دینے والے برادرم عبدالکریم خیبر کی چیدہ چیدہ خصوصیات اور ماضی کے واقعات سے ہمیں آگاہ کرتے رہے۔انہوں نے ماضی میں دیسی گھی کی فراہمی کے طریقوں سے بھی آ گاہ کیا۔خیبر کی دیگر خصوصیات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ پرانے وقت میں یہاں خواتین کے لیے علیحدہ بازار تھا،جہاں وہ باآسانی اپنی ضروریات زندگی کی خریداری کرسکتی تھیں۔پرانے زمانے کے گھر اب بھی موجود ہیں جن کے چھوٹے چھوٹے کمروں میں نہایت چھوٹے دروازے ہوتے تھے۔کمرے میں داخل ہونے کے لیے سر کو جھکا کر ہی آپ اندر جاسکتے ہیں۔ایک گھر دو منزلہ تھا ،بالکل اسی طرح جس طرح پنجاب میں کبھی کچے مکانات ہوتے تھے۔ کچی سیڑھیاں اور نیچے کے کمرے میں قالین،اندر قہوہ بنانے کے لئے انگیٹھی بنائی گئی تھی۔پرانے برتن رکھے ہوئے تھے۔میرے بچے ان پرانی چیزوں کو دیکھ کر محظوظ بھی ہوتے رہے اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ سعودی عرب میں کبھی ایسے حالات بھی رہے ہوں گے۔
    اس بستی میں ہم نے ایک پرانی مسجد بھی دیکھی جو بہت چھوٹی سی نظر آئی اور اس کا محراب تو بالکل چھوٹا سا تھا۔وقت کی کمی تھی، میزبان کی خواہش کے باوجود ہم بہت ساری چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔بستی کے آخر پر''الوطیح'' نامی قلعہ تھا ،یہ کافی بڑا اور نہایت بلندی پر واقع قلعہ ہے۔قلعہ کے اردگرد کھجوروں کے باغات ہیں۔ کھجوروں کے یہ باغات نہایت گھنے ہیں۔میں کافی دیر تک قلعہ کے نیچے کھڑے ہوکر اسے دیکھتا رہا۔یہ ایک اونچی پہاڑی ہے ،جو کم ازکم پانچ سو سے سات سو میٹر لمبی اور تین سو پچاس سے چار سو میٹر چوڑی ہوگی۔پہاڑی کی اونچائی پچاس میٹر سے کم نہ ہوگی۔اس کے اوپر قلعہ واقع ہے ،قلعہ کے لیے اس جگہ کے انتخاب کو بھی یہودیوں کی ایک حسن تدبیرکہنا چاہیے۔ اس بلند وبالا جگہ پر قلعہ بنانا کوئی آسان کام نہ تھا۔میں تصور میں اس عظیم اسلامی لشکر کو دیکھ رہا تھا ،جس نے ان بظاہر ناقابل تسخیر قلعوں کو فتح کیا اور ناممکن کو ممکن بنادیا۔اس قلعہ کے قرب وجوار میں ہی ''سلالم ''نامی قلعہ تھا جو بنو نضیر کے مشہور یہودی ابوالحقیق کا قلعہ تھا۔سیرت نگاروں کے مطابق یہ علاقہ بغیر کسی لڑائی کے فتح ہوگیا۔مگر بعض نے بڑی صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے محاصرہ کیا جو چودہ دن جاری رہا ۔یہود اپنے قلعوں سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منجنیق نصب فرمانے کا قصد کرلیا تو پھر انہوں نے صلح کے لیے سلسلہ جنبانی کی۔
    قلعہ سلالم کا وجود اب ختم ہوچکا ہے اور اس کے آثار نظر نہیں آتے۔یہاں پانی کا کنواں تھا جس کا ٹیوب ویل چل رہا تھا ،کھجوروں کے کافی درخت نظر آئے جو ویران ہو چکے تھے ،عبدالکریم کا کہنا تھا کہ کھجوروں کی کاشت سے لوگوں کی دلچسپی بتدریج ختم ہوتی جارہی ہے۔یہ خاصا مشکل اور محنت طلب کام ہے ۔یہ منافع بخش کاروبار ہے مگر اب نوجوانوں کو حکومت میں اچھے معاوضے پر نوکریاں مل جاتی ہیں لہٰذا اس کام میں ان کی رغبت ختم ہوتی جارہی ہے۔جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علاقے کو فتح کیا تو اس علاقے میں کھجوروں کے کم ازکم چالیس ہزار درخت تھے۔
    اب ہماری گاڑیوں نے بشر کے علاقے کا رخ کیا جہاں پر قلعہ''القموص'' واقع ہے۔یہ ہمارے گائیڈکا آبائی گائوں تھا ۔ایک جگہ گاڑی کو موڑتے ہوئے استاد عبدالکریم کہنے لگے : وہ رہا گھر جس میں میری پیدائش ہوئی تھی،یہ میر ے دادا کا گھر ہے ۔کچی مٹی کے بنے ہوئے گھروں کا کچھ حصہ سلامت تھا اور کچھ گر چکا تھا ۔اوپر اونچائی پر گائوں کا کافی حصہ صحیح سلامت نظر آیا۔ ان گھروں میں اب کوئی بھی نہیں رہتا، ایک طرف یہاں کی مشہور منڈی تھی ،بدولوگ سبزیاں ،کھجوریں لے کر یہاں آتے اور فروخت کرتے تھے ،ایک لمبے عرصے تک یہاں کاروبار ختم ہوگیا تھا ،مگر اب پھر اس منڈی کی رونقیں جمعرات اورجمعہ کو دیکھنے والی ہوتی ہیں۔واقعی چاروں طرف دکانیں تھیں جو اس وقت بند تھیں ،اور جمعرات جمعہ کاانتظار کررہی تھیں۔ہم پہاڑی کی چوٹی پر گئے تو وہاں سے ہمیں قلعہ القموص نظر آیا۔اب اس کے اردگرد باڑ لگاکر اسے بند کردیاگیا ہے ،ترکوں کے زمانے میں اور سعودی دور میں بھی یہاں پر کچھ سرکاری دفاتر رہے ہیں ،مگر اب اسے مکمل طور پر بند کردیاگیاہے۔
    اس وقت موسم بڑا خوشگوار ہوگیا تھا ،ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آرہے تھے ،میں ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور خاصی دیر تک اس قلعہ کو دیکھتا رہا، اس کے اردگرد بھی کھجوروں کے سیکڑوں درخت نظر آئے۔اب ہمارا رخ قلعہ ''ناعم'' کی طرف تھا ،ہم وادی السہم سے گزرے تو برلب سڑک ایک نشیبی جگہ کی طرف اشارہ کرکے ابو عبداللہ کہنے لگا : روایات کے مطابق یہاں غزوہ خیبر کے شہداء کی قبریں ہیں۔غور کیا تو پرانا قبرستان نظر آیا۔جس کی چار دیواری قبرستان کا احساس دلاتی تھی۔قبروں کا نام ونشان مٹ چکا ہے ،غزوہ خیبر میں بہت کم شہادتیں ہوئیں مگر اس کے باوجود شہداء کی تعداد 21تھی ،ان میں 5شہدا ء مہاجرین سے اور 15 انصارمدینہ سے تھے۔ایک خیبر کا رہنے والا بکریوں کا چرواہا اسلم تھا اس نے اسلام قبول کیا اور شہید ہوگیا ،غالبا اس نے ایک بھی نماز ادا نہیں کی تھی۔
    قلعہ ناعم تک پہنچنے میں ہمیں پندرہ بیس منٹ لگ گئے ہوں گے۔راستہ اچھا نہ تھا اگرچہ سڑک کچی پکی تھی ،عبدالکریم کی وجہ سے ہمیں راستہ تو نہیں بھولا مگر یہ قدرے دشوار گزار تھا۔یہاں پر بھی خاصی تعداد میں کھجوروں کے جھنڈ نظر آئے۔کچی سڑک کے بائیں جانب پہاڑی پر قلعہ ناعم تھا ،جس کے اب کھنڈرات ہی رہ گئے ہیں ،یہ وہ قلعہ تھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے فتح کیا تھا ،میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں شمال کی جانب سے داخل ہوئے تو سب سے پہلے یہی قلعہ راستے میں آتا تھا۔
    جس رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی حدود میں داخل ہوئے تو ارشاد فرمایا: میں کل جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔صبح ہوئی تو ہر صحابی کی یہی خواہش تھی کہ جھنڈا اسے ملے ،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علی ابن ابی طالب کہاں ہیں ،عرض کی گئی کہ ان کی تو آنکھ آئی ہوئی ہے۔ارشاد ہوا : ان کو بلاکر لائو۔وہ لائے گئے ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا مبارک لعاب دہن لگایا اور دعافرمائی تو وہ شفایاب ہوگئے۔گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔پھر انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ارشاد فرمایا: ان کے میدان میں اترو تو انہیں اسلام کی دعوت دو اور اسلام میں اللہ کے جو حقوق ہیں ان سے آگاہ کرو۔اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ،ناعم قلعہ یہود کی پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا۔
    میں گاڑی سے نیچے اترکر میدان میں کھڑا ہوگیا ،اب اس جگہ خود روپودے اور کھجوروں کے درخت ہیں۔سامنے پہاڑی پر قلعہ ناعم کے کھنڈرات ہیں میں تصور میں دیکھ رہا ہوں یہی وہ میدان ہے جس میں مرحب قلعہ سے اترا تھا ،وہ مرحب جو بڑا شہ زور اور بہادر تھا جسے ایک ہزارمردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔
    سیدنا علی بن ابی طالب مسلمانوں کی فوج لے کر جب قلعہ کے سامنے پہنچے تو یہود کو اسلام کی دعوت دی ۔ انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیااور پھر اپنے لیڈر مرحب کی کمان میں مسلمانوں کے مد مقابل آکھڑے ہوئے۔میدان جنگ میں اتر کر مرحب نے دعوت مبارزت دی،وہ اشعار پڑھ رہا تھا ''خیبر کو معلو م ہے کہ میں مرحب ہوں ،ہتھیار پوش ،بہادر اور تجربہ کار،جب جنگ وپیکار شعلہ زن ہو''۔
    اس کے مقابلے میں سیدنا علی ابن ابی طالب اترے ،انہوں نے بھی اشعار پڑھے۔
    میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے ،جو خوفناک جنگل کے شیر کی طرح اپنے دشمن پر جھپٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔میں انہیں نہایت سرعت سے وسیع پیمانے پر قتل کروں گا۔


    جاری ہے-
     
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں