رمضان المبارك ميں قرآن مجيد ختم كرنا مستحب ہے

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جولائی 12, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    رمضان المبارك ميں قرآن مجيد ختم كرنا مستحب ہے

    شیخ محمد بن صالح المنجد سے سوال پوچھا گیا کہ كيا مسلمان كے ليے رمضان المبارك ميں قرآن مجيد ختم كرنا ضرورى ہے، اور جواب مثبت ہو تو اس كى دليل ميں كوئى حديث بھى بيان كريں ؟

    ان کا جواب تھا ۔۔!!
    الحمد للہ: جى ہاں مسلمان شخص كے ليے رمضان المبارك ميں قرآن مجيد كثرت سے پڑھنا مستحب ہے، اور وہ اسے ختم كرنے كى حرص ركھے، ليكن يہ اس كے ليے واجب نہيں، يعنى دوسرے معنى ميں اس طرح كہ اگر وہ قرآن مجيد ختم نہ كر سكے تو وہ گنہگار نہيں ہوگا، ليكن وہ بہت عظيم اجروثواب سے محروم رہے گا.

    اس كى دليل بخارى شريف كى درج ذيل حديث ہے:
    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: " جبريل امين ہر سال نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر ايك بار قرآن مجيد پيش كرتے، اور جس برس نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فوت ہوئے تو اس برس جبريل امين نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ دوبار قرآن كا دور كيا "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 4614 ).

    ابن اثير رحمہ اللہ تعالى " الجامع فى غريب الحديث " ميں كہتے ہيں:
    " يعنى جتنا قرآن مجيد نازل ہو چكا ہوتا اس كا دور كيا كرتے تھے " انتہى.
    ديكھيں: الجامع فى غريب الحديث ( 4 / 64 ).

    سلف رحمہ اللہ كا طريقہ تھا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ پر عمل كرتے ہوئے رمضان المبارك ميں ايك بار قرآن مجيد ختم كيا كرتے تھے.

    مزید لکھتے ہیں ۔۔۔!!
    امام نووى رحمہ اللہ قرآن مجيد ختم كرنے كى تعداد پر تعليقا كہتے ہيں:
    " اختيار كردہ يہى ہے كہ يہ اشخاص كے اعتبار سے مختلف ہوگا، اگر تو كوئى شخص دقيق فكر و سوچ، اور لطائف و معارف كا مالك ہے، تو اسے اسى قدر پر اكتفا كرنا چاہيے جس سے اسے كمال فہم حاصل ہو.
    اور اسى طرح جو شخص نشر علم يا دوسرے دينى امور، اور عام مسلمانوں كے رفاہى كاموں ميں مشغول ہو تو اسے بھى اسى قدر قرآت كرنى چاہيے جس سے خلل پيدا نہ ہو.
    اور اگر مذكورہ بالا افراد ميں سے نہ ہو تو جتنا بھى ممكن ہو سكے كثرت سے تلاوت كرے، جس سے ملل اور اكتاہٹ نہ ہو " انتہى.
    ديكھيں: التبيان ( 76 ).

    اس استحباب اور رمضان المبارك ميں قرآت قرآن كى تاكيد كے باوجود يہ مستحب كے دائرہ ميں ہى رہے گى، نہ كہ ضرورى واجبات ميں شامل ہو گا جس كے ترك كرنے پر مسلمان گنہگار ہو.

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
    كيا رمضان المبارك ميں روزے دار كے ليے قرآن مجيد ختم كرنا واجب ہے ؟
    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:
    " رمضان المبارك ميں روزے دار كے ليے قرآن مجيد ختم كرنا واجب تو نہيں، ليكن انسان كو رمضان المبارك ميں كثرت سے قرآن مجيد كى تلاوت ضرور كرنى چاہيے، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت سے ثابت ہے، كہ ہر رمضان المبارك ميں جبريل امين رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ قرآن مجيد كا دور كيا كرتے تھے" انتہى.
    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 20 / 516 ).

    بشکریہ :: الاسلام سوال و جواب

    نوٹ :: شیخ کا صرف وہ جواب نقل کیاگیا ہے جس کا ذکر سوال میں موجود تھا ، قرآن کریم ایک یا دو دنوں میں ختم کرنے والی روایت صحیح نہیں ، کیونکہ اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سے کم وقت میں قرآن ختم کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ واللہ اعلم
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  3. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,687
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    رمضان مبارک میں ایک قرآن ختم کرنا مستحب ہے ، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں‌ کہ ان کے پاس بہت سا وقت ہوتا ہے ۔ایسے روزہ داروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ کم ازکم ایک ہفتہ میں ایک مرتبہ قرآن ضرورختم کریں‌۔ ایسا کرنا سلف صالحین سے ثابت ہے ۔ کم ازکم ایک بار قرآن ختم کرنے والی شرط عمومی ہے ۔ تاکہ لوگ اور نہیں تو کم ازکم ایک بار ضرور قرآن کو پڑھ لیں‌۔ تقبل اللہ منا و منکم صالح الاعمال
     
  6. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بالکل درست فرمایا مگر بھائی میرے دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ گرمی کی شدت بہت زیادہ ہے اور لوگ مساجد میں جا کر آرام کرتےہیں یہ ہی اگر وہ وہاں صرف لیٹنے کی بجائے کچھ نہ کچھ تلاوت کریں تو میرا نہیں خیال کہ وہ دو سے تین بار قرآن مکمل نہ کر سکیں۔ ایک اور بات بتاؤں میں نے مشاہدہ کیا اور انلسیسز یہ نکالا ہے کہ موجودہ موسم میں 30 فیصد لوگ تسلسل سے روزہ رکھ رہے ہیں 20 فیصید جمعہ یا کسی اور دن کا جبکہ 50 فیصد لوگ روزہ رکھ ہی نہیں رہے۔ کہتے ہیں کام کرتے ہیں اس لئے رکھا نہیں جاتا بندہ پوچھے روزہ کیا نکموں کےلئے ہے؟؟
    اللہ معاف کریں۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    اچھی خبر نہیں‌۔ روزہ اسلام کا رکن ہے ۔ جان بوجھ کر چھوڑنا یقننا اللہ کی معصیت ہے ۔ مسئلہ ایمان کی کمزوری اور دین سے ناواقفیت ہے ۔ اللہ انہیں‌ ہدایت دے ۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    شدید موسم میں کمزور لوگ بیمار پڑ جاتے ہیں اس لیے کم روزہ رکھ پاتے ہیں شاید ایک وجہ یہ بھی ہو ۔ اگر کسی کو ڈاکٹر نے کہا ہے تو بدگمانی نہیں کرنی چاہیے ۔
    ہمارے ایک جاننے والے عمر کے لحاظ سے جوان ہیں لیکن ایک سرجری ہوئی ہے اس کے بعد سے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنی پڑتی ہے ۔ وہ بتا رہے تھے لوگ ایسے دیکھتے ہیں کہ انہیں خود بھی شرمندگی ہوتی ہے کہ ان سے زیادہ عمر کے لوگ چستی سے نماز ادا کر رہے ہیں ۔ میں نے ان کو تسلی دی کہ اللہ کو معلوم ہے ان کا عذر حقیقی ہے ۔ ساری دنیا کو مطمئن کرنا ممکن بھی نہیں ۔
     
  9. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بدگمانی کی کوئی بات نہیں ہے میں نے ان لوگوں کاجائزہ لیا ہے جو ماشاءاللہ صحت مند اور ہر لحاظ سے فٹ ہیں پھربھی ایسے ہی ہیں اللہ سب کو ہدایت دیں۔
     
  10. اخت ولید

    اخت ولید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 31, 2013
    پیغامات:
    98
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔!
    اس دفعہ صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔۔۔۔نجانے آنے والے مزید سخت سالوں میں کیا ہو گا۔۔؟؟؟
    کسی نے کیا خوب کہا‘‘اگر گرمی زیادہ ہے اور روزہ لمبا ہے تو ثواب بھی تو زیادہ ہو گا!‘‘
    پہلے تو لوگ مارے شرم کے بتاتے نہیں تھے کہ وہ روزے سے نہیں ہیں اور اب سرے عام کہہ ڈالتے ہیں۔۔رمضان میں امتحانات ہوں تو روزہ نہیں رکھا جاتا۔۔ایک عزیزہ بتا رہی تھیں کہ انکے ہمسائے میں جوان میاں بیوی دونوں روزے نہیں رکھ رہے کہ اس گرمی میں کون روزہ رکھے؟
    ‘‘قل نار جہنم اشد حرا‘‘
    ایک اور بہن بتا رہی تھیں کہ انکے اوپر والے گھر میں سبھی روزہ رکھتے ہیں سوائے گھر کے سربراہ کہ اس نے کبھی روزہ ہی نہیں رکھا۔۔قصور اس کے گھر والوں کا ہے کہ اسے کھانا کیوں بنا کر دیتے ہیں؟؟‘‘
    یہ بات گھر میں ڈسکس کر رہے تھے تو ولید بھائی ازراہ مذاق کہنے لگے‘‘ہو سکتا ہے کہ اگر وہ اسے کھانا پکا کر نہ دیں تو وہ انہیں ہی پکا ڈالے‘‘
    اور تو اور بقول رسول اختر‘‘روزے کی قضا تو دی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔گول کی نہیں۔۔۔۔!۔۔ویسے میرے نام کے ساتھ رسول لگا ہوا ہے میں پکا مسلمان ہوں‘‘
    اللہ سبحانہ وتعالٰی رحم کریں اور ہمیں آزمائش اور فتنے سے بچا رکھیں۔۔۔آمین
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    بہر حال طنز سے بہتر ہے کہ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے ۔
     
  12. عبد المعز

    عبد المعز -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 2, 2013
    پیغامات:
    92
    جزاک اللہ خیرا
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    کسی عالم سنا تھا کہ عربوں میں ایک چیز عرصہ سے چلتی ہوئی آئی ہے کہ یہ لوگ عموما رمضان کریم میں تین ختم کرتے ہیں‌۔
    1- قیام اللیل میں‌ امام کے ساتھ سنتے ہوئے ختم کرتے ہیں ،
    2- پہلی رمضان مبارک سے بیس رمضان تک ۔ یعنی آخرے عشرے سے پہلے پہلے ۔
    3- ایک ختم آخری عشرے میں کرتے ہیں‌۔ یعنی روزانہ تین پارے پڑھتے ہیں‌۔
    یہ ایک طریقہ کہ اپنے آپ کو آخری عشرہ میں زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت میں‌ مشغول رکھا جائے ۔ کوئی بھی مسلمان شب قدر کے اوقات کو اس سے بہتر طریقہ سے بھی گزار سکتا ہے ۔ یقینا جو قرآن کو اس کا حق کرتے ہوئے پڑھے گا وہ اجر پائے گا ان شاء اللہ کیونکہ یہ راتیں طلوع صبح تک امان اور سلامتی ہیں‌۔
     
  14. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    جزاکم اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں