مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ

عائشہ نے 'مسلم شخصیات' میں ‏اگست 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ


    مشہور عالم دین ، خطیب ، مصنف ، ماہر تعلیم ، منتظم


    نام و نسب و نسبت :
    عبدالحمید بن عبدالجبار ، رحمانی جامعہ رحمانیہ بنارس سے نسبت ہے۔


    ولادت:
    ۱۹۴۰ء تندوا، سدھارتھ نگر ، مشرقی اترپردیش


    تعلیم:

    ۱۹۶۶ ء سندِ فضیلت جامعہ رحمانیہ بنارس

    ۱۹۷۰ء بی اے کلیۃالدعوۃ و اصول الدین جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ


    علمی خدمات :

    آپ جامعہ رحمانیہ بنارس اور جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔

    ۱۹۷۱ تا ۱۹۷۵ ء جنرل سیکرٹری جمعیت اہل حدیث ہند

    ایڈیٹر مجلہ ترجمان

    رکن رابطہ عالم اسلامی
    بانی و صدر جمعیۃ الشبان المسلمین بنارس
    معاون سیکرٹری مسلم مجلس مشاورت ہند
    کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ
    رکن کل ہند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایکشن کمیٹی
    رکن دینی تعلیمی کونسل اترپردیش
    رکن مرکزی ایڈوائزری حج کمیٹی
    رکن مجلس الثقافۃ والتربیۃ الاسلامیۃ جامعہ نگر نئی دہلی
    رکن مجلس عاملہ ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نئی دہلی
    جنرل ایڈوائزر جامعہ دارالسلام عمر آباد تامل ناڈو
    رکن مائنارٹی کمیٹی حکومت ہند

    رمضان ۱۴۰۰ ھ /جولائی ۱۹۸۰ء میں شیخ عبدالحمید رحمانی نے علم دین کو پھیلانے اور دعوت کے مبارک سلسلے کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ابوالکلام آزاد اویکننگ سنٹر کے نام سے نئی دلی میں ایک ایجوکیشنل سوسائٹی کی بنیاد ڈالی ۔ستمبر ۱۹۸۳ میں اس کو حکومت ہندوستان سے باقاعدہ رجسٹر کروا لیاگیا ۔ یہ ایک علمی ، دعوتی ، تصنیفی ، تحقیقی اور رفاہی ادارہ ہے جس کے تحت کئی ذیل ادارے کام کر رہے ہیں ۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

    جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی جو سعودی وزارت تعلیم ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ، ہمدرد یونیورسٹی دہلی ، لکھنو یونیورسٹی کا تسلیم شدہ ادارہ ہے ۔

    معہد عثمان بن عفان لتحفیظ القرآن الکریم جوگا بائی

    عائشہ صدیقہ شریعت کالج جو گا بائی

    ابوالکلام آزاد بوائز پبلک سکول سنابل دہلی

    خدیجۃ الکبری گرلز پبلک سکول جوگابائی

    معہد عمر بن الخطاب علی گڑھ یو پی

    معہد علی بن ابی طالب گولہ گنج لکھنو

    ابوالکلام آزاد بوائز پبلک سکول گاندھی نگر، بستی

    ابوالکلام آزاد جونئیر ہائی سکول گور بازار ، بستی یو پی

    مدرسہ سلفیہ تیندوا سدھارتھ نگر یو پی

    مدرسہ مصباح العلوم تلساری، سدھارتھ نگر یو پی

    انسٹی ٹیوٹ آف اسلامکی ایجوکیشن باورا کاٹھی ہار بہار

    جامعۃ البنات الاسلامیہ جو گا بائی

    الصالحات انسٹی ٹیوٹ بال رامپور یوپی

    خدیجۃ الکبری گرلز انسٹی ٹیوٹ گینسری بازار بالرامپور

    ابوالکلام آزاد سنٹر کے تحت اسلامی تحقیقی ادارہ بھی کام کر رہاہے ۔ اس ادارے کی جانب سےاردو ، ہندی ، عربی، انگریزی اور فارسی زبانوں شائع کی گئی مطبوعات کی تفصیل یہاں دیکھی جا سکتی ہے ۔

    اس ادارے کے دعوتی شعبے کی جانب سے مقرر کیے گئے دعاۃ مختلف اداروں میں دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    ادارے کی جانب سے رفاہی سرگرمیاں بھی جاری ہیں جن میں مساجد ، ہسپتال ،تعلیمی اداروں، ہاسٹلز، عید گاہوں کی تعمیراور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے وغیرہ شامل ہیں ۔

    یو پی ،بہار، اڑیسہ ، آسام، بنگال ، دہلی ، ہریانہ اورد دوسرے علاقوں میں تعمیر یا مکمل کی گئی ۴۳ مساجد میں سے چند یہ ہیں:

    جامع مسجد ابوبکر صدیق جوگا بائی جامعہ نگر نئی دہلی

    جامع مسجد مہاویر انکلیو نئی دہلی

    جامع مسجد مدرسہ سلفیہ تیندوا سدھارتھ نگر یوپی

    جامع مسجد اوسان کویان سدھارتھ نگر یو پی

    اس کے علاوہ ہندوستان اور نیپال کی ۱۱ سے زائد مساجد میں تعمیر ، توسیع اور مرمت کا کام جاری ہے ۔


    وفات :

    علم و دعوت کے میدان میں بے حد متحرک زندگی کے انمٹ نقوش چھوڑنے کے بعد مولانا عبدالحمید رحمانی نے ۷۳ برس کی عمر میں ۲۰ اگست ۲۰۱۳ء / ۱۱ شوال ۱۴۳۴ھ کو نئی دہلی میں فجر کے بعد وفات پائی ۔ رحمہ اللہ ۔ آپ ذیابیطس کا شکار تھے اور آخری سال صاحب فراش رہے ۔ آپ کے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ ، ایک بیٹی ، پانچ بیٹوں کے علاوہ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں ۔بیٹی سمیت آپ کی تمام اولاد اعلی تعلیم یافتہ ہے۔ اللہ تعالی انہیں صبر جمیل دے اور ان کا بہترین جانشین بنائے ۔


    نماز جنازہ اور تدفین:

    آپ کی پہلی نماز جنازہ مسجد ابوبکر صدیق جوگابائی میں ، جب کہ دوسری بار جامعہ اسلامیہ سنابل شاہین باغ میں آپ کے صاحبزادے مولانا محمد رحمانی کی اقتدا میں ادا کی گئی ۔ اس کے علاوہ بہار ، بنگال یوپی اور جھاڑکنڈ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ آپ کے جسد خاکی کو جامعہ نگر قبرستان میں دفن کیا گیا ۔






    مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کے دروس و خطبات کے روابط :





    امید ہے مولانا رحمہ اللہ کے اس مختصر اور ناکافی تعارف کو بہتر بنانے میں ارکان مدد فرمائیں گے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    عبدالحمید رحمانی ایک شخص ایک تحریک

    ایک شخص ایک تحریک
    تحریر : عطاء اللہ عبدالحکیم سنابلی
    -----------------------
    فرد تنہاہوتا ہے اور تنظیم کئی افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ انسانی تاریخ میں عموماً تحریکیں تنظیم کی بدولت اٹھتی اور اپنا دیرپا کردار ادا کرتی ہیں ، عموماً فرد ِواحد سے کوئی تحریک نہیں اٹھتی، یہ عام مشاہدہ ہے …لیکن آج سے کچھ سالوں پیشتر زمانۂ طالب علمی میں جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی کی مسجد میں ایک شخص کو دیکھا جو سیکڑوں کی تعداد میں موجود طلبا کو اس عام مشاہدہ کے خلاف ہر طالب علم کو اپنے آپ میں ایک تحریک بننے کی نصیحت کررہا تھا،اس وقت گرد وپیش کی جمعیتوں کو دیکھ کر مجھے محسوس ہواکہ واقعی ایسا ہوسکتا ہے کہ فردِ واحد اپنے آپ میں تحریک بن جائے اور ایسے کارنامے انجام دے جس پر جمعیتیں بھی رشک کرنے لگیں ، کیوں کہ وہ شخص خود اس کا عملی نمونہ پیش کررہا تھا۔ اس شخص کو ہم عبقریٔ زماںمولانا عبدالحمید رحمانی کے نام سے جانتے ہیں، جو آج ہم میں موجود نہیں۔19اگست کی صبح بذریعہ SMS آپ کی وفات کی خبر ملی، پھر کئی احباب نے فون کرکے بتایا خاص طورسے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم اخوانِ سنابل سے کئی بار بات ہوئی۔ ہر کوئی اس مرگِ جانکاہ پر افسوس کررہا تھا اور آپ کی مغفرت کے لیے دعائیں کررہا تھا، ہم بھی کبیدہ خاطر تھے ، ہمیں جو پڑھا یا گیا تھا ہم نے وہی کہا، آنکھیں اشکبار ہیں، دل رنجیدہ ہے پر ہم وہی کہتے ہیں جس سے مولا راضی ہوکہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کے پا س لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ ! تو ہمارے اس مربی کو کروٹ کروٹ جنت دے ، ان کی حسنات کو قبول فرما اور سیئات سے درگزر فرما۔
    1997سے 2004کے طویل عرصہ میں معہدالتعلیم الاسلامی اور جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی میں دورانِ تعلیم شیخ( رحمہ اللہ) کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، میں نے ہمیشہ ان کو پڑھنے کی کوشش کی، عام علما ء کرام سے ان کو مختلف پایا، پہلی مرتبہ 1998میں مسجد ابوبکر صدیق ذاکر نگر معروف بہ رحمانی مسجد میں فجر کی نماز کے بعد ان سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ فجر کی نماز کے بعد مسجد ہی میں پڑھنے کے لیے بیٹھ گیا ، آپ ممبر کے پیچھے غالباً تیسری صف میں بیٹھے ذکر میں مشغول تھے ، کافی دیر تک بیٹھے رہے، میں لکھنے میں مصروف تھا، آپ نے آواز دے کرمجھے بلا یا میں ممبر کے پاس تھا، کہا بیٹے وہاں ممبر کے پاس اوقاتِ صلاۃ کا چارٹ ہے ، اس میں دیکھ کر بتانا کہ کل فجر کا وقت کب سے شروع ہورہا ہے؟ میں نے چارٹ دیکھ کر وقت بتادیا۔
    ہم طلبا آپ کو رحمانی صاحب کے نام سے یاد کرتے تھے ۔ جمعہ کے خطبہ کے علاوہ گاہے بگاہے آپ ہم لوگوں کو جو پند ونصائح کرتے ، خاص طورسے نادی الطلبہ کی طرف سے جمعرات کی شب ثقافتی پروگرام میں آپ کو کبھی کبھی کسی خاص موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے جب بلایا جاتا تو اس لیکچر سے ہم سب سے زیادہ استفادہ کرتے۔ جب آپ بولتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے تجربات کی بھٹی میں تپی کوئی شخصیت بات کررہی ہو، آپ کی باتوں میں علم ویقین اور اعتماد کا مظاہرہ ہوتا،جس نے ہماری شخصیت سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہم نے اپنی آج تک کی زندگی میں اس جیسا بے باک اور جری عالم دین نہیں دیکھا۔ علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ کی تدفین کے موقع پر امام کی اقتدا میں دعا کی بدعت پر ہزاروں کی موجودگی میں تنقید کرنا، اہلحدیث مکتب فکر پر ڈاکٹر ذاکر نائک حفظہ اللہ کی غلط رائے زنی پر بروقت ان کی غلط فہمی کا ازالہ کرنا ان کی جرأتِ علمی کی جاگتی مثالیں ہیں۔
    دورانِ خطبہ ’’مجھے یاد ہے‘‘ ، ’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘ ، ’’اماں خد یجہ رضی اللہ عنہا ‘ ‘،روزہ نماز کی جگہ ’’صوم وصلاۃ‘‘، ’’خدا ‘‘ کی جگہ ’’اللہ اور دیگر اسماء حسنی‘‘ کا استعمال خوب کرتے۔ کوئی بھی خلافِ سنت کام معاشرہ میں دیکھتے اس کی طرف ضرور اشارہ کرتے۔ باوجودیکہ مرکزابوالکلام آزاد للتوعیۃ الاسلامیہ کی انتظامی سرگرمیوں میں بے انتہا مشغول تھے، علاوہ ازیں کافی پرانے خریجین میں سے تھے، نئی تحقیق اور نئے ریسرچ سے آگاہ تھے۔ علامہ البانی، علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن قیم الجوزیہ کی تحقیقات کا خوب حوالہ دیتے ۔
    آپ معاصر تبدیلیوں سے پوری طرح آگاہ تھے، نہایت مدبر اوردوراندیش شخصیت کے مالک ہونے کی وجہ سے اپنے ماتحت چلنے والے اداروں میں آپ نے عصری تقاضوں کے مطابق مناسب تبدیلیاں کیں، معہد ، سنابل اور مرکز کی دیگر تعلیمی شاخوں میں جس طرح کے نصابِ تعلیم کو جگہ دی گئی وہ آپ کی اعلی فہم وفراست کی دلیل ہے۔ مدارس میں نصابِ تعلیم کو لے کر ماہرین تعلیم کے یہاں جو بے چینی پائی جاتی ہے اس سے نہ صرف آپ باخبر تھے بلکہ خود بھی بے چین تھے اور اصلاحِ نصاب کے لیے عملی طورپر کوشاں بھی تھے۔ بہت سے اربابِ مدارس ایسے ہیں جو نصاب میں تبدیلی کا نام سنتے ہی چراغ پا ہوجاتے ہیں گرچہ اسلامیات ہی میں اصلاح کی بات کی جائے، طریقہ تدریس میں نئے تدریسی ریسرچ سے استفادے کی بات کہی جائے، اس سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔ رحمانی صاحب ان لوگوں کی طرح نہیں تھے۔ مجھے یادہے ایک مرتبہ نادی الطلبہ نے ثقافتی پروگرام میں جمعرات کی شب ان کو جامعہ اسلامیہ سنابل کی مسجد(جس کو رحمانی صاحب مسجد کے بجائے مصلی یعنی صلاۃ ادا کرنے کی جگہ کہتے تھے، کیوں کہ اس وقت تک باقاعدہ مسجد نہیں بنی تھی، عارضی طورپر اس جگہ کو صلاۃ کی ادائیگی کے لیے بنایا گیا تھا)میں مدعو کیا گیا ، آپ نے لیکچر دینے کے بعد سوال وجواب کے سیشن میں سوالات طلب کیے ، سوال تحریری شکل میں کرنا تھا، اس وقت میں ثانویہ ثالثہ (چھٹی جماعت) کا طالب علم تھا، میں نے مدارس کے نصابِ تعلیم میں مثبت تبدیلی کے حوالے سے تین سوالات کیے، سوال کی زبان ستھری ، سلیس اور فکرسے بھر پور تھی، رحمانی صاحب کو اسلوب اور سوال کی علمیت ومنطقیت اچھی لگی، شاید ان کو کسی طالب علم سے اس قسم کے سوال کی توقع نہیں تھی، فوراً پوچھا ، یہ سوال کس نے کیا ہے؟ کنوینر نے نام بتایا، کچھ پرچیوں کے بعد پھر میری دوسری پرچی دی گئی،جو نصابِ تعلیم میںمثبت تبدیلی سے متعلق سوال پر مبنی تھی، پھر پوچھا یہ سوال کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے میرا نام لیا۔ آپ نے کہا یہ طالب علم کون ہے ؟ میں کھڑا ہوگیا ۔ پوچھا بیٹا نام کیا ہے ، میں بتایا ، پھر پوچھا کس اسٹیٹ سے ہیں ؟ میں نے کہا ’’اترپردیش‘‘ ۔ آپ نے کہا بیٹے محنت کرو کامیاب ہوجاؤ گے۔ آپ نے یہ جملہ تین بار دہرا یا اور کہا سیاست میں مت پڑنا ، پھر میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے نصاب میں مثبت تبدیلی کی بھرپور تائید کی۔
    آپ کی عقابی نگاہیں مستقبل کو پڑھنے میں بڑی تیز تھیں۔ مسلک سلف صالح پر خود کاربند تھے دوسروں کو بھی اس کی طرف بلاتے،جماعت اہلحدیث کے وہ رنگروٹ تھے کہ کسی قیمت پر جماعت اہلحدیث کے طرۂ امتیاز کو مٹنے نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عرب دنیا کے سلفی اسکالرز آپ کو ’’رمز من رموز السلفیۃ فی الہند‘‘ہندوستان میں سلفیت کی ایک اہم علامت کہتے تھے۔آپ کی زندگی پر علامہ نذیر احمد رحمانی رحمہ اللہ کے بڑے اثرات تھے، جن کا باربار حوالہ بھی دیتے ، ان کا نام بھی لیتے۔
    مضمون کی سرخی کی طرف ایک بار ہم پھر پلٹتے ہیں۔ فردِ واحد اگر اپنے آپ میں کارواں بن سکتا ہے تو بلاشبہ آپ نے اپنی خدمات اور کارنامے کے ذریعہ اس مفروضہ کو عملی طورپر ثابت کیا۔ دہلی کسی زمانے میں ولی اللہ محدث دہلوی او رآپ کے فرزندوں کی مسند تدریس، علامہ نذیرحسین محدث دہلوی کے حلقہ تدریس اور دارالحدیث رحمانیہ کی وجہ سے دینی علوم کا گہوارہ تھی۔ لیکن تقسیم ملک کے سانحہ کے بعد دارالحدیث رحمانیہ ٹوٹ گیااور دہلی کی علمی شان جاتی رہی ، اگر کسی فردِ واحد نے اس کو سنبھالا دیا تو رحمانی صاحب کی شخصیت تھی، جس نے علم کی وہ شمع فروزاں کی جس نے ہندوستان ونیپال کے مختلف گوشوں میں روشنی جلائی اور دہلی کی علمیت کی لاج رکھی، ان کے قائم کردہ مدارس کی علمیت کا لوہا دہلی سے کیرلاتک، مساجد کے ممبر ومحرا ب سے لے کرعصری تعلیم کی درسگاہوں تک تسلیم کرلی گئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایسا کام تنظیمی سطح ہی پر ممکن تھا، لیکن آپ نے تن تنہادہلی سے باہر یوپی، بنگال، مہاراشٹر وغیرہ میں بھی اس علمی تحریک کو دراز کرکے فردِواحد کو تحریک کا کردار عطاکیا۔
    آپ نے اپنی زندگی میں کئی نمایاں کارنامے انجام دیے ، جن میں تعلیمی اداروں کا ذکر خاص طورسے اہم ہے۔ لیکن تین اہم کام جس کے آپ شدید خواہش مند تھے، انتظامی امور میں مشغولیت کی وجہ سے انجام نہ دے سکے، کاش آنے والی نسل ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرسکے، وہ تین کام درج ذیل ہیں:
    1۔ بر صغیر بالخصوص ہندوستان کی تاریخ اہلحدیث لکھنا چاہتے تھے، آپ جماعت اہلحدیث کے وقت کے ایک بڑے مؤرخ تھے، لیکن افسوس یہ تاریخ سینے سے سفینے میں نہ آسکی، بے انتہا مشغولیت نے اس کام سے روک دیا، جب کہ آپ نے بارہا اس کی کوشش بھی کی۔
    2۔منہج اہلحدیث پر تحقیقی دستاویز تیار کرانا چاہتے تھے۔ کئی ایک اسکالروں کو یہ ذمہ داری بھی سونپی تھی، لیکن یہ کام بھی پورا نہیں ہوپایا۔ ڈاکٹر عبیدالرحمن صاحب مدنی حفظہ اللہ نے اس کا خطہ بھی تیار کرکے آپ کو دیا تھا، لیکن سرمایہ کی عدمِ فراہمی اور بے پناہ مشغولیت اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے سے مانع رہی۔
    3۔خلیجی ممالک کے طرز پر اسلامیات کے نصاب کی تیار ی بھی آپ کے منصوبے میں شامل تھی۔ حدیث،تفسیر، عقیدہ، فقہ، اسلامی تاریخ، مصطلح الحدیث، رجال وغیرہ جیسے اسلامی علوم پر پرائمری اور متوسطہ درجات کے لیے مستقل نصاب تیار کرانا چاہتے تھے ۔ لیکن یہ منصوبہ بھی انتظامی امور میں مشغولیت کی نذر ہوگیا۔
    ہم احبابِ جماعت اور دوستانِ علم سے ان منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کی گزارش کرتے ہیں۔ تیسرے منصوبہ کوہماری تنظیم’’سائنٹفک ریسرچ اینڈویلفیر فاؤنڈیشن‘‘ کو ان شاء اللہ پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی۔
    اسی کے ساتھ ہم جامعہ اسلامیہ سنابل کے فارغین سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ آپ کے مشن کو زندہ رکھنے کی ہرممکن کوشش کریں ۔ ان کے فرزند مولانا محمد رحمانی مدنی کے لیے جہاں اس سانحہ ارتحال پر اللہ تعالی سے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں وہیں،علامہ رحمہ اللہ کے مقالات کو کتابی شکل میں شائع کرنے، آپ کی تقریروں کی آڈیو ، ویڈیو سی، ڈیز، ڈی وی ڈیز تیار کرنے نیز عام استفادہ کے لیے انھیں انٹر نٹ پر اَپ لوڈ کرنے کی بھی گزارش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم تمام فارغین کو آپ کے مشن کو زندہ رکھنے او ر آپ کے حق میں تاعمر دعائیں کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!lll
    ایک شخص ایک تحریک
     
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    مسلک اہل حدیث کا ایک روشن ستارہ غروب ہوگیا


    مسلک اہل حدیث کا ایک روشن ستارہ غروب ہوگیا
    تحریر : عبد العلیم ماہر
    -----------------------
    علامہ نذیر احمد املوی کا ایک ممتاز اور چہیتا شاگرد ، علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیا نی کا منظور نظر ، صوفی نظیر احمد کشمیری کی آنکھ کا تارا ، اور مولانامحمد اقبال رحمانی کا نور نظر مرکزی جمعیت اہل حدیث کا سابق ناظم اعلیٰ اور جامعہ سنابل نئی دہلی کا بانی اور روح رواں ، جسے دنیا عبدالحمید رحمانی کے نام سے جانتی ہے اپنے پسماندگا ن اور ہزاروں تلامذہ و معتقدین کو سوگوار چھوڑ کر 20 اگست 2013عیسوی بروز منگل صبح8بج کر5منٹ پر دنیائے فانی سے دار باقی کی طرف کوچ کرگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
    قادر مطلق نے مولانا موصوف کو بے پناہ صلاحیتوں اور خصائص سے نوازا تھا ۔ جن سے انھوں نے ملک و قوم اور ملت و جماعت کی ایسی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں جو ناقابل فراموش ہیں۔ ان کے یہ زریں کارنامے ان شاء اللہ رہتی دنیا تک قائم رہیں گے ۔
    میری نظر میں ان کا سب سے بڑا جماعتی کارنامہ یہ ہے کہ ان سے پہلے مسلم تنظیموں کے ذکر میں جماعت اہل حدیث کا نام کسی بھی محاذ پر اور کسی بھی پہلو سے نہیں آتا تھااور نہ علماء اہل حدیث کو کسی علمی اور سیاسی پروگرام میں نمائندگی ملتی تھی ۔ لیکن جب 1971ء میں وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے تو انھوں نے جماعت کی ترجمانی اور نمائندگی فرمائی ۔ اور جماعت اہل حدیث کی کارکردگیوں اور سرگرمیوں خاص طور پر تحریک آزادی میں اہل حدیث علماء کی قربانیوں اور کارناموں کا ایسے زوردار انداز میں دلیلوں اور حوالوں سے ذکر کیا کہ مخالفین کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا کہ واقعی علماء اہل حدیث کی خدمات کو نظر انداز کرنا اور ان کا اعتراف نہ کرنا صحیح نہیں ہے اور اس کے بعد پھر مسلم تنظیموں کے ذکر میں جماعت اہل حدیث کا نام آنے لگا اور اخبارو رسائل میں مسلم تنظیموں کا جہاں ذکر ہوتا تھا وہاں جماعت اہل حدیث اور علماء اہل حدیث کا ذکر ہونے لگا۔ اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم مجلس مشاورت اور ملک میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں علماء اہل حدیث کو نمائندگی ملنے لگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ عظیم کامیابی مولانا موصوف کی مساعی کا نتیجہ ہے ۔و الحمد للہ علی ذلک
    مولانا موصوف ایک بلند پایہ کے کامیاب مدرس تھے، بے مثال اور جادو بیان خطیب تھے، نہایت جری اور بے باک قلمکار تھے ، اور علمی و فکری صلاحیتوں سے مالا مال تھے ۔ ان کی ان صلاحیتوں کا اعتراف صرف علماء اہل حدیث ہی کو نہیں بلکہ ملک اور بیرون ملک کے اکثر معاصر سینئر علماء و دانشوروں کو بھی تھا۔ مثلاً قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی لکھنو، مولانا عثمان فار قلیط ایڈیٹر روزنامہ الجمعیت دہلی، شاہ معین الدین ندوی دارالمصنفین اعظم گڑھ، مفتی عتیق الرحمن عثمانی دہلی، مولانا سعید احمد اکبرآبادی دہلی ، محترم ڈاکٹر عبدالجلیل فرید ی لکھنو ، پروفیسر طاہر محمود دہلی ، جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ کیرالا ، جناب صلاح الدین اویسی حیدرآباد، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی پاکستان ، علامہ احسان الٰہی ظہیر پاکستان ، شیخ عبدالعزیز ابن باز سعودیہ عربیہ ، شیخ محمد نصیف سعودیہ عربیہ ، شیخ ناصر العبودی سعودیہ عربیہ
    یہ چند کلمات میں نے عجلت میں قلم برداشتہ لکھ دیے ہیں۔ مولانا موصوف سے میرے تعلقات کی عمر تقریباً 60سال ہے۔ اس 60سالہ دور کے حالات و واقعات میرے ذہن ودماغ میں گردش کررہے ہیں ۔ کسی مناسب موقع پر میں ان کو ترتیب دوں گاان شاء اللہ ۔ فی الحال اتنے پر اکتفا کرتا ہوں ۔ اور باری تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ مولائے کریم مولانا موصوف کی لغزشوں کو درگذر فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان ، تلامذہ و معتقدین بالخصوص مولانا عاشق علی صاحب اثری اور مولاناصلاح الدین مقبول احمد مدنی کو صبر جمیل کی توفیق بخشے ۔ آمین یارب العالمینl
    مسلک اہل حدیث کا ایک روشن ستارہ غروب ہوگیا
     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    تاریخ اہل حدیث کی چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا : رحمانی صاحب

    تاریخ اہل حدیث کی چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا : رحمانی صاحب
    تحریر : ایڈیٹر​
    -----------------------
    ایک مولانا صاحب جنازے کی نماز پڑھانے کے بعد کھڑے ہوئے اورمختصراً بتایا کہ جنازے کی صلا ۃ اور مٹی دے کر قبرستان سے جانے کے درمیان کا جو وقفہ ہوتا ہے اس دوران ہمیں کیا کرنا چاہیے؟اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟ یہ مولانا عبد الرو ف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ کا جنازہ تھا۔
    بہت بعد میں پتہ چلا جنازے کی نماز پڑھانے والے رحمانی صاحب تھے، مولانا عبد الحمید رحمانی ۔
    سن دوہزار دو میں باندرہ کرلا کمپلیکس میں ایک بہت بڑی کانفرنس ہوئی تھی۔ جامعہ رحمانیہ کاندیولی سے بس میں بھرکر ہم طلبا بھی رضاکار کے طور پر منگائے گئے تھے۔ گاو ں چھوڑنے کے بعد شہر میں یہ پہلا جلسہ تھا جس میں ہم رات میں سوئے بھی تھے کیونکہ اگلے دن پھر جلسہ تھا۔ مطلب یہ دوروزہ اجلاس عام تھا۔ یہ کانفرنس بذات خود اتنی تاریخی تھی کہ سلفی صاحب ویسا جلسہ اب تک دوبارہ نہیں کرسکے یا پھر کوئی تلخ تجربہ سمجھ کر بھول گئے ہوں گے۔ حالانکہ جمعیت کے ذمہ دار وہ اب بھی ہیں۔ خیر اس کانفرنس کے تاریخی ہونے کے دو اسباب اور بھی ہیں: پہلا، اس کانفرنس کے دوسرے دن قضا وقدر کے موضوع پر تقریر کرنے کے تھوڑی دیر بعد رضاء اللہ محمد ادریس مبارکپوری (رحمہ اللہ) کا انتقال ہوگیا تھا اور دوسرا سبب یہ تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب نے ایک سوال کے جواب میں کچھ ایسی شگوفہ بازی کی تھی جس نے سامعین کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ تب کانفرنس کے ذمہ دار اور صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے امیر شیخ عبدالسلام سلفی صاحب نے پیشوائی ’’امارت‘‘ کا حق ادا کرتے ہوئے ایک ایسا دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
    ’’ سلفیت کا تعارف‘‘ کے مصنف مبارکپوری صاحب کی نعش مبارک تو فوزیہ ہاسپٹل کرلا میں پڑی تھی، تاریخ اہلحدیث کی چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا رحمانی صاحب ہی واحد امید تھے ۔
    ناظم جلسہ شیخ محمد مقیم فیضی صاحب کے ہاتھ سے مائک لے کر انھوں نے رحمانی صاحب کوڈاکٹر ذاکر نائک کی شگوفہ طرازی کا پوسٹ مارٹم کرنے کی دعوت دی تھی۔
    مسعودی فرقے کی پروپیگنڈوں کی وجہ سے مسلم نام رکھنے کا جو لوجیک کچھ حد تک مقبولیت پاچکا تھا اس کے شکار ڈاکٹر صاحب بھی تھے ’’اور شاید ابھی تک ہیں‘‘ ۔ جس کا پرچار کرنے کا بہترین موقع انھیں تب مل گیا تھا جب سوال وجواب کے سیشن میں کسی نے پوچھ لیا تھا’’ کہ ٓا پ کب سے اہل حدیث ہوگئے؟‘‘ ۔
    اکثر ایسا ہوتا ہے جب لوگ سیدھے سادے سوالوں کا جواب ہاں یا نہ میں نہیں دینا چاہتے ہیں تو گھما پھرا کے بات کرتے ہیں جو عام طور پر لمبی ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب نے بھی بالکل ایسا ہی کیا تھا اور اس کی وضاحت میں بڑی دور نکل گئے تھے ۔
    اللہ رب العالمین رحمانی صاحب کی مغفرت کرے، انھوں نے نہ صرف یہ کہ مسلم نام رکھنے پر زور دینے والوں کی حماقت کی قلعی کھولی بلکہ اہل حدیث نام کی تاریخی حیثیت پر حوالوں اور دلیلوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے پیش کردہ غیر سنجیدہ نقطے کو بے بنیاد اور مبنی بر جہالت ثابت کردکھایا تھا۔
    تب بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ لمحہ اتنا یادگار ہوجائے گا۔جب رحمانی صاحب جوش وجذبے میں بھرے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی نقطہ طرازی پر برس رہے تھے میں استنجا کرنے کے لیے موبائل ٹائلٹ پہ لائن لگائے کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک دروازہ کھلا تو جو صاحب اس کے سامنے کھڑے تھے وہ اپنی جگہ سے ہلے ہی نہیں۔ مجھے ذرا سا تعجب ہوا، ان کے پیروں کی طرف دیکھتے دیکھتے جب چہرے پر نظر ڈالی تو پتہ چلا وہ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب ہیں اور پسینے میں شرابور ہیں۔ چہرے پر صرف پانی ہی پانی تھا، ایکسپریشن لیس اور بالکل Freeze لگ رہے تھے۔
    میں بھی اپنی جگہ لائن میں کھڑا رہا مگر ان کے سامنے سے اس خالی ٹائلٹ کا استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھاالبتہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد انھیں ضرور دیکھتا رہا اور سوچتا رہا’’ یہ صاحب، ا ٓخر یہاں اس طرح لائن میں کیوں کھڑے ہیں؟ ‘‘ ۔
    وہ رحمانی صاحب اب ہمارے بیچ نہیں رہے!انا للہ وانا الیہ راجعون۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک ۔ اللہ کرے کہ ان کے خطبات کی ٹرانسکرپشن اور مقالات جلد میسر ہوں ۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    کوئی آڈیو ریکارڈنگ مل سکتی ہے؟
     
  8. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    افسوس کہ میں خود اب تک نہیں تلاش کر سکا.
    ان شاء اللہ والد محترم سے پوچھ کر بتاؤں گا.
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  9. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اللہ اللہ بہت موثر!
    یہ ہم سب کے لیے سنہری نصیحت ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  11. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    عمدہ، جزاک اللہ خیرا بھیا۔ اس کی ٹرانسکرپشن بھی کرنی چاہیے۔
     
  14. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    وایاکم
    یعنی؟؟؟
     
  15. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    یہ غلطی ہے. علامہ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کا خطاب تھا
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یعنی اس کو لکھ لینا چاہیے تحریرا بھی۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں