نشان اور علامات کیا ہیں ؟

عائشہ نے 'معلومات عامہ' میں ‏اگست 26, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    آج کل مختلف نشانوں اور علامتوں کے استعمال یا عدم استعمال کی بحث چل رہی ہے ۔ سوالات اٹھ رہے ہیں جوابات ڈھونڈے جا رہے ہیں ۔
    تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو مختلف قسم کے نشانوں اور علامات کا استعمال اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان۔ انسان نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے جہاں آواز اور الفاظ کا استعمال سیکھا وہیں اپنی بدن بولی سمیت مختلف علامات کا استعمال بھی کیا ۔
    نشان ، علامت یا شعار کو پیغام رسانی کا تیز ترین طریقہ سمجھا جا سکتا ہے ۔ کسی مخصوص نشان کو کسی نظریے یا واقعے کا استعارہ بنا دیا جاتا ہے اور جب بھی وہ علامت سامنے آتی ہے ذہن میں نظریہ یا واقعہ تازہ ہوجاتا ہے ۔

    نشان، علامتیں اور استعارے کئی اقسام کے ہوسکتے ہیں ۔لفظ سے لے کر انسان کی بدن بولی یا باڈی لینگوئج بھی ان علامتوں میں شامل ہے ۔
    تلمیح ، استعارہ، رکوع سجدے سے لے کر موجودہ دور میں ویب سائٹس اور اداروں کے لوگوز وغیرہ بھی اسی کی مثالیں ہیں ۔ مذاہب عالم میں اس کا استعمال عام ہے، سائنس ، اور ادب میں اس کا ایک الگ استعمال ہوا، قدیم جنگوں سے لے کر جدید ذرائع ابلاغ تک میں اس کا استعمال ایک ہتھیار کی طرح ہو رہا ہے۔اس ہتھیار سے صرف تعمیر ہی کا نہیں تخریب کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ اس لیے ذہنی تعلق
    (مینٹل ایسوسی ایشن ) بنانے اور برباد کرنے کے لیے بھی اس کا موثر استعمال ہوتا ہے ۔
    جو لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی علامت یا نشان کی تاریخ سے قطع نظر وہ اس کا اپنا استعمال کریں گے یہ ان کی بھول ہے ۔
    جس طرح ایک لفظ کا استعمال اپنی تاریخ ، اپنا معنی رکھتا ہے بالکل اسی طرح ایک نشان بھی اپنی تاریخ اور اپنے معنی سے الگ کر کے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
    جس طرح الفاظ اپنا مذہبی ، ثقافتی اور جغرافیائی رنگ رکھتے ہیں بالکل اسی طرح نشان بھی مخصوص مذہب ، ثقافت، تاریخی دور یا جغرافیے کو بیان کرتے ہیں ۔
    ایک مسلمان کو ایسے ہاتھ کی تصویر دکھائیے جس کی مٹھی بند ہو اور انگشت شہادت آسمان کی جانب اٹھی ہو، اس کا ذہن فورا اس کی تعبیرشہادتِ توحید سے کرے گا ۔ مساجد کےمینار مسلمانوں کی انگشت شہادت ہی کی مانند توحید کی علامت بن چکے ہیں۔
    لفظوں کی طرح ، نشانوں کی تاریخ سے بھی لڑا نہیں جا سکتا ۔ آپ کو انہیں اسی تاریخی سیاق میں قبول کرنا پڑے گا جس میں وہ مقبول ہوئے ۔
    مثلا لفظ رام کا استعمال کرنے والا چاہے اس سے عموما خدا مراد لے سامعین پہلی بار میں اس کو ہندو خدا ہی سمجھیں گے ۔ کہنے والے کو وضاحت کرنا پڑے گی کہ رام سے مراد کوئی بھی خدا ہے اس کے باوجود سامعین کو یہ معنی ہضم کرنے میں کچھ دیر لگے گی اور ان کے ذہن کشمکش کا شکار ضرور ہوں گے ۔
    ہندوستان میں رہنے والا مذہبی مسلمان اپنے لیے مصافحہ اور ماتھے تک ہاتھ لے جا کر آداب کے طریقے پسند کرتا ہے ، جب کہ ایک ہندو ہمشہ ہاتھ جوڑ کر ماتھے تک لے جا کر پرنام کرتا ہے ۔ اگر کوئی ہاتھ ملا کر پرنام کرنے کی تحریک شروع کرے تو لوگ ہنس پڑیں گے، یہ ایک علامت کی تاریخ سے بے فائدہ جنگ ہو گی ۔
    ایک ہندو ویب سائٹ اپنے لیے کبھی بھی ہلال پر مشتمل لوگو پسند نہیں کرے گی کیوں کہ ہلال مسلمانوں کا نشان بن چکا ہے ۔ ہمارے قومی شاعر اقبال جب خانقاہوں میں سوئے ہوئے تن بہ تقدیر مسلمان میں جذبہء جہاد جگانا چاہتے ہیں تو فرماتےہیں

    تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
    خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
    جاری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    بہت عمدہ اور معلوماتی تحریر، جزاک اللہ خیرا، اگلی قسط کا انتظار ہے ۔ ۔ ۔ ۔
     
  3. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,486
    بہت عمدہ ۔جزاک اللہ
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    گذشتہ سے پیوستہ
    یہ الفاظ یونہی روا روی میں استعمال نہیں کیے گئے تھے یہ اپنی ملت کی نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کے محافظ دانش ور کا شعوری اقدام تھا جس کے ذریعے اس نے اپنی ملت کو اس کے تاب ناک ماضی کی طرف متوجہ کیا ۔ یہ تاریخ کا وہ دور تھا جب سفید فام قومیں نسلی برتری کا زعم لے کر اٹھیں اور اوطان عالم کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ، اس یلغار سے سب سے زیادہ ملت اسلامیہ متاثر ہوئی تھی جس کا ہر حصہ مفتوح ہوا تھا یا مغلوب ۔ اگر اقبال سطحی دانش ور ہوتے تو اپنے عہد کی کسی فاتح قوم کا نشان مستعار لے کر سستی جذباتیت کی انفعال انگیز فضا قائم کرنا ان جیسے قادرالکلام شخص کے لیے کچھ مشکل نہ تھا ، لیکن انہوں نے ایک ہم درد طبیب کی مانند قدامت کی گرد میں اٹےمسلم تارِیخی ورثے کے از سرِ نو احیاء کا مشکل راستہ چنا۔ وہ ہلال جو دورِ زوال سے دوچار پژمردہ و تن بہ تقدیر مسلمان کے لیے طلوع کے انتظار کی علامت بن چکا تھا اسے اقدام، دفاع اور جد وجہد کی علامت بنا کر دلِ مسلم کو گرما دیا ۔ اپنے تہذیبی ورثے پر ایسا فخر تبھی ممکن ہے جب افراد اپنی تاریخ و ثقافت کا گہرا شعور رکھتے ہوں ، اپنی تہذیب میں گہری جڑیں رکھتے ہوں اور اجنبی تہذیبی عناصر کے خلاف حساسیت اور مدافعت کے جذبے سے مالا مال ہوں۔ مسلم امہ نے انفرادی مثالوں سے قطع نظر ، مجموعی طور پر ہر دور میں اپنے تہذیبی شعور کو ثابت کیا ہے ۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کی مجلس میں نماز باجماعت کے لیے اطلاع کرنے کے طریقوں پر غور ہو رہاہے ۔ تجاویز سامنے آتی رہیں اور رد ہوتی رہیں ، یہود و نصاری کی ماننداطلاعی ناقوس و جرس بجانے کی تجویز محض اس لیے رد ہوئی کہ ان قوموں سے تہذیبی مماثلت مسلم امہ کو کسی ادنی معاملے میں گوارا نہیں تھی ، یہاں تک کہ عبداللہ بن زید انصاری الخزرجی اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم کو الہامی خواب کے ذریعے پاکیزہ کلمات اذان سکھا دئیے گئے اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان خوابوں کی تصدیق ہو گئی تو مسلم امہ کی منفرد اذان کو اختیار کر لیا گیا جو آج تک مشرق و مغرب میں ہماری تہذیبی انفرادیت کی علامت ہے ۔

    یہ صدر اول کی غیرتِ مسلم کی مثال تھی انتہائی پسماندگی کے عالم میں بھی ملت اسلامیہ جس سے تہی دامن نہ ہوئی ۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران بننے والی فلاحی تنظیم ریڈ کراس سوسائٹی کے فلاحی پہلو سے اتفاق کے باوجود مسلم ممالک اس کے امتیازی نشان سرخ صلیب کو اپنانے سے نفور رہے ، بعد ازاں اس صلیب کے متبادل کے طور پر ہلال کو استعمال کر کے تنظیم کو ریڈ کریسنٹ سوسائٹی یعنی انجمن ہلال احمر کا نام دے دیا گیا ۔ یہ محض دو نشانوں کے متعلق لایعنی ضد نہیں تھی ان دو قوموں کا ایک دوسرے سے تہذیبی بُعد تھا جن کے مابین صلیبی جنگوں کی طویل تاریخ حائل ہے ۔

    ایک ایسی دنیا جہاں ہر لمحے فاتح تہذیب مغلوب تہذیب کی شناخت کو نگل جانے کو تیار رہتی ہے مسلم امہ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جب کسی علاقے کی پست ہمت اور مرعوب قیادت نے ثقافتی جنگ میں ہزیمت و نقالی کی سہل راہ اختیار کر لی اوراپنی قوم کو برتر تہذیب کے رنگ میں رنگنے کے چکر میں اپنی چال بھی بھلا دی۔ مصطفی کمال پاشا کے زمانے کا ترکی اس کی بدترین نظیر ہے جہاں اذان اور نماز سے لے کر رسم الخط تک ہر چیز سے مسلم و عرب شناخت کا نشان مٹا دینے کی شعوری کوشش نے ترک مسلمانوں کا امت کے سواد اعظم سے رشتہ کمزور تر کر دیا ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ترکی میں ایسے مسلمان انتہائی حقیر اقلیت ہیں جو قرآن عظیم کو عربی رسم الخط میں دیکھ کر تلاوت کر سکیں ۔ یہ کشتہ ء ستم فرزندان ِ اسلام پہلے لاطینی حروف میں لکھی آیت کو پڑھتے ہیں پھر عربی رسم الخط پر نگاہیں دوڑا کر تلاوت کا ثواب حاصل کرنے کی رسم پوری کرتے ہیں ۔ مصطفی کمال پاشا کی مسلم ورثے کے خلاف حساسیت کا یہ عالم تھا کہ عرب رسم الخط سے کے کر عرب برقعے اورعرب عماموں تک ہر چیز ترکی میں بزور ممنوع قرار پائی ۔ مسلم امہ سے قدم بقدم دور جانے کا یہ عمل برسوں جاری رہا ، آج کا ترکی تنگ مغربی لباس میں ملبوس ، قید ِحلال و حرام سے یکسر آزاد ، یورپی یونین میں شمولیت کے لیے لاطینی رسم الخط میں عاجزی وانکساری کے ہر رنگ سے لکھی درخواست اٹھائے سفید فام قوموں کے آگے سراپا نیاز ہے لیکن عالم یہ ہے کہ

    میرا یہ حال کہ بوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں میں
    ان کا یہ حکم دیکھ میرے فرش پر نہ رینگ

    خلاصہ یہ کہ غالب قوموں کی جانب سے دنیا میں تہذیبی و ثقافتی ادغام یا کلچرل ازملیشن کی تحریک کوئی نئی بات نہیں ، ہر زمانے میں یہ تحریک چلی اور اس کے نتیجے میں مغلوب قوموں میں تین قسم کے طبقات بنے : ۱- مرعوب نقال، ۲ جنہیں ترقی پسند اور روشن خیال سمجھا گیا- مزاحمت کار ، جنہیں انتہا پسند اور قدامت پسند کا لقب عطا ہوا۔ ۳- متردد جو کوئی حتمی فیصلہ نہ کر سکے ۔ ہم بھی ایک ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں جب گلوبلائزیشن کے نام پر ہر ثقافت کو کلچرل ازملیشن کی میلٹنگ پوٹ میں ڈال کر غالب رنگ میں ڈھال لینے کا فلسفہ ثقافتی جنگ میں جیت کا موثر نسخہ بن چکا ہے ۔ اس نظرئیے کے مطابق دنیا ایک پگھلتی ہانڈی کی مانند ہے جس میں موجود تمام ثقافتیں جلد یابدیر ایک پکوان کی مانند یکجا ن ہو کر رہیں گی ۔ پھر اس پکوان کے اجزا پنی مستقل حیثیت کھو بیٹھیں گے اور نیا پکوان سب کی مشترکہ شناخت ہو گا۔ لیکن پیش نظر رہے کہ اس وقت دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی تہذیب و ثقافت بھی مزاحمت کاروں سے خالی نہیں جو قدامت پسندی کا طعنہ سہہ کر بھی اکلچریشن یا ثقافتی ادغام کے جواب میں ثقافتی تنوع یا کچرل ڈائیورسٹی کا فلسفہ لیے ہوئے ہر محاذ پر ثابت قدم ہیں ۔ ان کا نظریہ ہے کہ دنیا سلاد کا ایسا پیالہ ہے جس کے سب اجزا اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہیں اور دنیا کا حسن اسی ثقافتی تنوع میں ہے ۔ سلاد کے تمام اجزا کو اپنی اپنی حد میں رہنا اور دوسروں کی شناخت کو برادشت کرنا ہو گا ۔


    تہذیب و ثقافت کی اس کشمکش میں میرا اراستہ بہت واضح ہے ، مجھے کسی کے برتے ہوئے نشان ، علامتیں ، استعارے ، اور نظرئیے نہیں چاہییں ۔ مجھے ان استعاروں کا ری میک بھی قبول نہیں خواہ وہ کتنے بڑے قائد کی جانب سے دیا گیا ہو ۔ اگر آج مسلم اہل فن و ادب نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اس تخلیقی شان سے نہیں کر پارہے جو چودہ صدیوں سے ہماری روایت ہے تو بھی غیروں کی جدید تراش خراش کی نظریاتی اُترن کی نسبت مجھے اپنے آبا کی چودہ سو سالہ قدیم قبائے توحید عزیز ہے جو انسان کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام اور ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وراثت ہے ۔ دور جدید کے نام پر غیروں کے ساغر کا سستا جام پی جانے سے بہتر مجھے وہ تشنہ کامی ہے جس کا افطار جام ِکوثر سے ہو ۔

    تشنہ لبی ہی اچھی ہے ساغر کی بھیک سے

    تحریر:عائشہ ام نورالعین
     
    Last edited: ‏جنوری 27, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. انور علی

    انور علی -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 29, 2011
    پیغامات:
    144
    واہ جی واہ ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہے اور ایسی گاڑھی اردو کہ گوگل بابا تو کیا ہمارے استاد محتر م بھی اس کا ترجمہ کرنے سے قاصر ہے۔۔

    جسٹ جوکنگ۔۔۔
    :00026:

    مشاء اللہ بہت ہی معلوماتی مضمون ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کو ایف بی وغیرہ پر لے جا سکتا ہوں۔۔
    :00013:
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    بارک اللہ فیک و نفع بک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ضرور
     
  8. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    ماشاء اللہ بارک اللہ فیک بہت ہی عمدہ اور معلوماتی مضمون ہے۔اب علاماتی لوگوز کے بارہ میں سیر حاصل بات با آسانی کی جا سکے گی ان شاء اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    بہت خوب ۔ بہت واضح اور ٹھوس انداز میں اپنا موقف بیان کیا گیا ہے۔ نقالی غیروں کی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوتی۔ چاہے بات ایک چھوٹی سی علامت کی ہی کیوں نہ ہو۔ گلوبلائیزیشن کا نعرہ لگانے والے باقی کلچرز کے لیے تو چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ اپنی بنیاد بھول کر ان میں ضم ہو جائیں لیکن یہی بات اپنے لیے قابل قبول نہیں سمجھتے۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    درست کہا۔ آج کل تو اپنی سرحدیں کھٹاک کھٹاک بند کر رہے ہیں کیوں کہ ان کو اپنی تہذیب خطرے میں لگتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  11. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    ان کی اپنی تہذیب میں کچھ ہے ہی نہیں جس سے خطرہ ہو۔ بلا وجہ کا attitude اور بس ایک امپریشن ڈالنا ہے کہ یہی سب سے پرخلوص لیڈر ہیں ۔ باقی دنیا تو جیسے آنکھیں بند کر کے زندہ ہے ۔ ایک طرح سے ٹھیک بھی ہے۔ اسکی پالیسی سخت ہوں اور مسلمانوں کے علاوہ لوگ بھی متاثر ہونا شروع ہوں تو شاید باقی دنیا کو بھی ہوش آئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    آج ہی اخبار میں بہت سے لوگوں نے اپنے تاثرات بیان کیے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو براہ راست اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان مین وہ لوگ رہے جن کی آدھی فیملی کینیڈا میں ہے اور آدھی امریکہ میں ۔ جس کی وجہ سے امریکہ والے باہر نہیں نکل سکتے اور کینیدا والے امریکہ مٰن داخل نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد طلباء وغیرہ مایوسی کا شکار ہیں کہ ہم نے کانفرنس مین شریک ہونا تھا اور اب نہیں ہو سکیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    118
    ماشاء اللہ۔ پورا مضمون ابھی پڑھا|پڑھی ہے۔

    بہت ہی اچھا موضوع ہے۔ اور پڑھنے کے بعد اقبال کا ایک شعر ذہن میں آرہا ہے(گو کہ مجھے شعر یاد نہیں) جس میں رسول ہاشمی کی ملت کے لوگوں کا دوسرے اقوام سے فرق بتایاگیا ہے۔

    اور اس موضوع پر جس بات پر خبردار اور متنبہ کی گئی ہے اسی بات کا ایک زندہ مثال خود اس خطہ زمین ہیں جس میں اس وقت ہم مقیم ہیں۔
    اللہ سب کو بصیرت دے اور اپنا اور دوسروے تہذیبوں کا فرق جاننے اور غلط سے بچنے کی توفیق دیں۔ آمین

    اگر چھوٹی عمر میں یہ بات بچوں میں ذہن نشین کروائے
    جاتے تو پوری عمر یہ بات ذہن سے مخفی نہ ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں