بئر الروحاء: کہانی کیا اور حقیقت کیا

رفی نے 'دیس پردیس' میں ‏ستمبر 26, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

    SDC16499.jpg

    گزشتہ عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران گھر سے تو نکلے تھے مدینہ منورہ کے لئے، لیکن وہاں جا کر منزلیں تبدیل ہونا شروع ہوئیں تو ہم سفروں کا اضافہ بھی ہوتا گیا، ارادہ تو تھا کہ کچھ دوستوں کو وادی جن، وادی البیضاء دکھانے کا لیکن ان کا پروگرام تھا بئر الشفا جانے کا، ہم نے تو یہ نام ہی پہلی بار سنا مزید جاننے پر معلوم ہوا کہ اس کا پانی زم زم سے بھی زیادہ شفاء کا حامل ہے، ہم نے تو یہ سن کر باآواز بلند لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا جو ساتھیوں کو پسند نہیں آیا، بس پھر تاویلات تھیں اور وہ، ایک پیغمبر کی ایڑی سے نکلا پانی شفاء ہو سکتا ہے، ہر غرض کے لئے کفایت کر سکتا ہے اور امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کنویں کا پانی شافی نہیں ہو سکتا؟

    مجھے تو اس کے بارے میں اتنی معلومات بھی نہیں تھیں کہ کچھ کہہ سکتا، اتنا کہا کہ بھائی کوئی حدیث کوئی حوالہ دے دیں جس میں اس کے پانی کا شافی ہونا اور زمزم سے زیادہ موثر ہونا ثابت ہوتا ہو۔ بس جی حدیثیں اور حوالے آپ کو مبارک ہوں، عشق تو یہ ہے کہ بس نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس جگہ کی نسبت ہے، بھائی وہ تو مدینہ کے اطراف میں پھیلے کئی ایک کنوئیں، پہاڑ، باغات ہیں جن کو یہ شرف حاصل ہوا کہ وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چلتے پھرتے تھے اٹھتے بیٹھتے تھے اور کھاتے پیتے تھے۔ پھر یہیں کہیں بیٹھ جائیں اتنا دور جا کر کیا کریں گے۔

    مگرہمارے ایک محترم دوست جو امریکہ سے آئے ہوئے تھے جنہیں سورائسز کی بیماری تھی اور وہی بار بار اس کا ذکر بھی کر رہے تھے کہ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ اس کا پانی کڑوا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ڈول پانی نکلوایا اس سے کلی کی اور پانی واپس کنوئیں میں ڈالنے کا کہا، جب پھر پانی کھینچا گیا تو پانی میٹھا ہو چکا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے تمام امراض کے لئے شفاء قرار دیا۔

    میرے علم کے مطابق تو یہ روایت حدیبیہ کے کنوئیں‌ کی ہے جس کا پانی بہت کم تھا، لیکن آپ شفاء ہونا وہاں بھی مذکور نہیں کیونکہ بخاری شریف میں براء بن عازبؓ سے روایت ہے ،یہ کہتے ہیں کہ ہم چودہ سو افراد حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے ،حدیبیہ میں ایک کنواں تھا اس کا پانی ہم نے سب کھینچ کر استعمال کرلیا ،ایک قطرہ بھی اس میں پانی نہ بچا ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر ہوئی تو اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کے کنارے بیٹھ گئے اور ایک برتن میں پانی منگواکر وضو کرکے پھر کلی کی اور دعا کی اور بچےہوئے پانی کو کنویں میں ڈال کر فرمایا کہ تھوڑی دیر کنویں کو چھوڑدو،چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد اتنا پانی ہوگیا کہ ہمارے لشکر اور لشکر والوں کے مویشی خوب سیر ہوگئے ، بیس دن تک یہاں قیام رہا برابر اس کنویں سے پانی لیتے رہے، جبکہ حضرت جابرؓ کی روایت میں تعداد پندرہ سو تھی ، ، ، ، ، بہرحال سنی سنائی باتوں‌ یقین کرنے والوں‌ کو ہی تو ۔ ۔ ۔ ۔ آہو!

    ان سے پوچھا کہ یہ آب شفاء کہاں ہے، کیونکہ مجھے تو یہاں سولہ سال ہونے والے ہیں اس کا نام تک نہیں سنا۔ کہنے لگے بدر میں ہے، وہاں چلتے ہیں، مشہور و معروف جگہ ہے، پتہ چل ہی جائے گا۔

    خیر تین گاڑیوں اور تین فیمیلیز پر مشتمل ہمارا بــــڑا سا قافلہ بدر پہنچا، وہاں شہدائے بدر کی زیارت کے بعد ادھر ادھر کچھ لوگوں سے بئر الشفاء کے متعلق پوچھا تو کسی کو پتہ ہی نہیں۔ ایک پاکستانی بھائی جو کہ ٹرک ڈرائیور تھے انہوں نے بتایا کہ اصل نام بئر الروحاء ہے، بئر الشفاء تو ہم پاکستانیوں کا دیا ہوا ہے۔ مگر وہ تو مدینہ اور بدر کے درمیان واقع ہے، صحیح لوکیشن کا انہیں بھی اندازہ نہیں تھا۔

    ویسے مطعم بئر الروحاء سے تو میں اچھی طرح واقف تھا کہ اس کی ایک شاخ مکہ میں‌ ہمارے گھر کے پاس ہی ہے، یہ عربی کھانوں کی ایک مشہور چین ہے، جہاں کی دجاج مضغوط ہماری مرغوب ہے اس لئے یہ نام سنتے ہیں ہم نے گوگل میپ پر ٹریس کیا اور جی پی ایس نیویگیٹر کو ایکٹیویٹ کر دیا، کبھی آواز آتی ٹرن لیفٹ تو کبھی ٹرن رائیٹ، واہ کیا ٹیکنالوجی ہے، جنگل میں ایک چھوٹے سے سنگل روڈ پر ایک ایک موڑ کا حساب رکھا ہوا تھا۔ یہ تجربہ بھی اچھا رہا سوائے بدر شہر کے اندر ایک راؤنڈ اباؤٹ اس نے فالتو گھموا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ایک ڈر یہ بھی تھا کہ کہیں یہ ہمیں‌ الروحاء کے کنوئیں‌ کے بجائے مطعم بئر الروحاء کی کسی شاخ پر نہ لے جائے۔

    خیر جب ہم المسیجید نام کے ایک قصبے میں پہنچے تو شک دور کرنے کے لئے میں نے ایک مطعم پر گاڑی روکتے ہوئے بئرالروحا کا پوچھا تو اس نے اسی سمت کا بتایا جہاں ہم جا رہے تھے، خیر یہ یقین ہو گیا کہ مطعم نہیں بلکہ اصلی والا بئر ہی ہے۔

    الروحاء ایک چھوٹا سا گاؤں جہاں پر ایک مسجد چند دکانیں اور چند گھرہیں، لیکن مویشیوں کے لئے وسیع چراگاہیں اور کنوئیں موجود ہیں۔ بئر الروحاء آبادی سے ہٹ کر مدینہ بدر روڈ کے دوسری جانب واقع ہے۔ ہم وہاں پہنچے تو وہاں پر ایک سوڈانی موجود تھا، جس نے وہی کہانی سنائی جو ہمارے امریکی دوست بتا چکے تھے۔ اب سوڈانی کا حوالہ ہمارے لئے تو اتنا باوثوق نہیں تھا لیکن باقی سب عش عش کر اٹھے اور ہمیں دیکھ کر طنزیہ ہنسی ہنسنے لگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیر باقی لوگوں نے تو پانی گیلنوں میں بھرنا شروع کر دیا، امریکہ والے بھائی صاحب وہیں بیٹھ کر نہانے لگ گئے ۔ ۔ ۔

    تھوڑی ہی دیر میں وہاں مزید گاڑیاں آ کر رکیں، لیکن زائرین میں اکثریت پاکستانیوں کی ہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بزرگ تو چلنے پھرنے سے بھی معذور تھے، انہیں وہیل چیئر پر بٹھا کر وہاں پر نہلایا گیا، اور شفاء کے حصول کے لئے گیلنوں میں پانی بھرا گیا جسے بعد میں وہ اپنے ساتھ شاید پاکستان بھی لے گئے ہوں۔

    کنوئیں کا پانی واقعی بہت میٹھا تھا، میں نے بھی یہی پانی گاڑی کے ریڈی ایٹر میں ڈالا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بقول ایک دوست کے شاید اسی کی سزا ملی کہ واپسی پر گاڑی کے ریڈی ایٹر کا ریٹرن پائپ پھٹنے کے باعث گاڑی گرم ہونے سے انجن کے ہیڈ میں پرابلم پیدا ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔:00003:

    ہم نے ان سے کہا اس کا شفاء ہونا تو اسی بات سے غلط ثابت ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔

    خیر چلتے ہیں اصل حقیقت کی طرف کہ بئر الروحاء ہے کیا؟

    الروحاء مدینے اور بدر کے درمیان میں مدینہ مکہ کی تاریخی سڑک کے کنارے واقع ہے۔ وادی الروحاء کا ذکر کئی صحیح احادیث میں ہے لیکن بئر کا ذکر مجھے نہیں ملا بلکہ دو ایسی روایات ملی ہیں جو کہ اس کنویں‌کے پانی کے شافی ہونے کا واضح انکار کر رہی ہیں:

    ایک کا تعلق حضرت حارث ؓ صمہ انصاری کے حالاتِ زندگی سے ہے:

    رمضان المبارک 2 ہجری میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تو حضرت حارثؓ بھی آپؐ کے ہمرکاب تھے۔ راستے میں روحاء نامی ایک مقام پر ان کو چوٹ لگ گئی اور وہ لڑنے کے قابل نہ رہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس مدینہ بھیج دیا، تاہم انہیں بدر کے مالِ غنیمت سے حصہ مرحمت فرمایا، اس لیے ان کا شمار اصحابِ بدر میں ہوتا ہے۔

    دوسری صحیح مسلم کی روایت جو مزید وضاحت کرتی ہے:
    حج کا بیان
    باب احرام والے کے لئے اپنی آنکھوں کا علاج کروانے کے جواز کے بیان میں
    حدیث نمبر 2791
    حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِمَلَلٍ اشْتَکَی عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ فَلَمَّا کُنَّا بِالرَّوْحَائِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَکَی عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ
    ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابوب بن موسی، نبیہ بن وہب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ابان بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور جب روحاء کے مقام پر پہنچے تو شدید درد ہونے لگا تب انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف اس مسئلہ کے بارے میں اپنا قاصد بھیجا چنانچہ ابان نے ان کو جواب بھیجا کہ ایلوے کا لیپ لگالو کیونکہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کی آنکھوں میں تکلیف پڑ گئی اور وہ آدمی احرام کی حالت میں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آنکھوں پر ایلوے کا لیپ کرایا-


    اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ اگر الروحاء کے کنوئیں کے پانی میں شفاء ہوتی تو نہ حضرت حارث کو واپس بھجوایا جاتا اور نہ عمر بن عبیداللہ کی آنکھوں پر ایلوے کا لیپ کرایا جاتا بلکہ یہی پانی پلانے کی تلقین کی جاتی۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    پہلے هم یمبو رهتے تهے همیں همارے ملنے والے همیں مدینہ کے آس پاس کسی کنویں پر کہیں لے کر گیئے تهے اور یہی کہہ کر پانی پلا کر لاے تهے کہ اس میں شفا هے اور اللہ همیں معاف کر دے سمجه نہ هونے کی وجہ هم نے بهی پی لیا ..
    اللہ هم سب مسلمانوں کو صحیح دین کی سمجه عطا فرماے اور ایمان پر همارا خاتمہ هو آمین
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا ، بئر الشفا یعنی بئر الروحاء کی جعلی کرامت والے کنویں کی حقیقت بتانے پرشکریہ ۔ سچی بات یہ ہے کہ باوجود تلاش کے مجھے جعلی شفا کے کنویں کی کوئی اصل نہیں ملی ۔ اگر اس کو زمزم پر سبقت پرہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ضرور ذکرکرتے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کے پانی کو بھی زمین پرگرنے سے پہلے ہی اپنے ہاتھوں پراٹھا لیتے تھے ۔ زمزم کا پانی بابرکت ہے اور بابرکت مقام اور بابرکت شہر میں ہے جبکہ یہ بئر الروحاء کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ اللہ ہدایت دے ۔
     
  4. اسامہ طفیل

    اسامہ طفیل نوآموز

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2013
    پیغامات:
    198
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔رفی بھائی بہت عمدہ معلومات دی شکریہ۔۔۔۔پتا نہیں کیسے دین خالص میں طرح طرح کی چیزیں گھڑ لی جاتی ہے کبھی جننتی دروازہ،کبھی کچھ کبھی کچھ ۔۔۔۔اللہ ہر مسلمان کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔۔۔آمین۔۔۔
     
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    اسی کا نام تو بدعت ہے کہ جس چیز کا نام نشان ہی نہ وہ ہم اُسے اپنے پاس گھڑ لیتے ہیں۔
    سب کچھ واضح ہونے کے بعد بھی لوگ بدعت جیسی چیزوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں ہر طرح کی بدعت سے دور رکھے آمین

    جزاک اللہ خیرا رفی بھائی
    بہت زبردست طریقے آپ نے اس واقعہ کو پیش کیا
     
  6. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    جزاکم اللہ خیرا رفی بھائی بہت عمدہ معلومات ہیں۔یہ تو پھر سعودیہ ہے۔ہمارے مدینۃ اوالیاء میں تو دربارشریف کازنگ آلود پانی بھی ماء الشفاء مانا جاتاہے۔ یہ حال ہیں لوگوں کہ اللہ معاف کریں۔
     
  7. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا بھائی
    پاکستان میں تو لوگ اپنے پیروں کے تھوک کو بھی آب شفا سمجھتے ہیں اللہ تعالی ہمیں ہر طرح کی شرک و بدعت سے دور رکھے آمین
     
  8. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    وعلیکم السلام
    بڑی ناشکری قوم ہے زمزم ٹھنڈا ٹھار کولروں میں ملنے لگا تو شفا ڈھونڈنے صحراؤں میں نکل گئی ہے
    بہت اچھے طریقے سے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا ہے ۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    لوگ اللہ سبحانہ و تعالی کے سامنے جھکنے کی بجائے قبروں اور مزاروں کا طواف کررہے ہیں ،زم زم کی ناقدری تو اس سے چھوٹی چیز ہے ۔ اتنی جہالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ۔
    لوگوں میں مقبول خرافات کے متعلق کچھ کہنا بہت ہمت کی بات ہے ۔اپنی ذاتی پسند نا پسند پر گھنٹوں بے تکان بولنے والے لوگ دین کے معاملے میں خاموش رہتے ہیں کہ کون درست بات کہہ کر برا بنے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو نیکی کی بات کہنے سے نہیں رکتے ۔یہ چھوٹی سی تحریر سوشل میڈیا کے رواج کے مطابق کسی ریستوران کے نئے ذائقے کے متعلق ،یا کسی گاڑی کے نئے ماڈل کی تعریف میں بھی ہو سکتی تھی ، لیکن الحمدللہ یہ اللہ کے دین کے متعلق پھیلائی گئی خرافات کی تردید میں ہے اس لیے اس کی قیمت بڑھ گئی ہے ۔ ان شاءاللہ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں جہالت کی تاریکی کو کم ضرور کریں گی ۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنی صلاحیتیں اس کے دین کی خدمت میں کھپا دیں ۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    آمین ۔ اس رجحان کی ایک وجہ بھی ہے ۔ ہم زم زم کے درست فضائل کے ذکر کا اتنا اہتمام نہیں کرتے اسی وجہ سے لوگ اس سے بے خبر ہیں ۔ جس تیزی سے لوگ توہمات پھیلا رہے ہیں اسی رفتار اور قوت سے ہمیں مستند علم لوگوں تک پہنچانا چاہیے ۔ بعض اوقات ہمیں کوئی نیک خیال آتا ہے لیکن ہم سوچتے ہیں یہ تو سب کو پتہ ہی ہے ۔ لیکن سب کو ہر بات پتہ نہیں ہوتی ۔ ہمیں درست باتیں بار بار کہنی چاہئیں ۔
     
  11. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    753
    رفی بھائی کی جانب سے حسب سابق عمدہ تحریر ہے، خاص طور پر صحیح مسلم کی روایت جو عین نشانے پر جاکر لگتی ہے۔ بہت بہت شکریہ
     
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاک اللہ خیرا شاہ جی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں