کتاب و سنت کے ساتھ فہم سلف کی شرط کو نہ ماننا

ابوبکرالسلفی نے 'نقطۂ نظر' میں ‏اکتوبر، 1, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    کتاب و سنت کے ساتھ فہم سلف کی شرط کو نہ ماننا

    فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ المتوفیٰ سن 1420ھ
    (محدث دیارِ شام)
    مصدر :البرھان فی الرد علی فرقۃ لشکر طیبۃ الخارجیۃ بباکستان
    ، ص 330-332، 319-321۔
    پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام
    شیخ عبدالمنان نورپوری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : یا شیخ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم کتاب وسنت سے اعتصام کرتے ہیں اسے مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور اسے ہی سبیل نجات سمجھتے ہیں تو کیا محض کتاب وسنت کہہ دینا کافی ہے یا اس میں فہم سلف صالحین کی شرط بھی لگا دینا ضروری ہے؟ یعنی کیا ہم راسخین فی العلم علماء کےاقوال کا کتاب وسنت کے نصوص کے فہم کے بارے میں اعتبار کرتے ہیں یا محض کتاب وسنت پر ایسے ہی عمل کرتے ہیں؟

    جواب: کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑنا فہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق۔ سلف ہوں یا خلف دین میں حجت نہیں۔ دین میں حجت صرف کتاب وسنت ہے۔

    اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
    (تم لوگ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی پیروی مت کرو)
    (الاعراف:03)

    فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ
    (پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاو، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف)
    (النساء:59)
    اللہ تعالیٰ نے کسی آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول والی السلف (اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول اور سلف کی طرف پھیردو)۔

    سائل نے کہا: لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ:

    علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین من بعدی
    صحیح ترمذی 2676
    (تمہیں چاہیے کہ میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو)
    شیخ نورپوری فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خلفائے راشدین کی سنت نہیں فرمایا بلکہ پہلے فرمایا میری سنت یعنی اگر خلفائے راشدین بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ ہوں تو ان کا قول بھی حجت نہیں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

    "لاتعتمروا فی اشھرالحج
    (حج کے مہینوں میں عمرہ نہ کرو)۔
    اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    لاتعتمروا فی اشھر الحج"
    (حج کے مہینوں میں عمرہ نہ کرو)۔
    حالانکہ دونوں خلفائے راشدین میں سے ہیں کیا ان دونوں کا یہ قول حجت ہے! حدیث میں سنت خلفائے راشدین کہنا ایسا ہی ہے جیسا فرمان الہی ہے کہ:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
    (اے ایمان والو,! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرما نبرداری کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اپنے اولی الامر(حکمرانوں) کی)
    (النساء:59)
    کیا اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اولی الامر کا قول بھی دین میں حجت ہے! حجت صرف کتاب وسنت ہیں:


    اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
    (الاعراف:03)
    سائل: کیا جہاد کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ملک کا حاکم اس کا اعلان کرے؟

    شیخ عبدالمنان نورپوری: ضروری نہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ آیت ہے:

    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ
    (البقرۃ:216)
    (تم پر قتال کرنا فرض کیا گیا ہے)
    یا پھر آیا ہے (جاھدو) (الحج:78 وغیرہ) (جہاد کرو) ایسا کہیں نہیں آیا کہ جب حاکم کہے کہ جہاد کرو تو جہاد کرو۔ قرآن و حدیث میں ایسا کہیں نہیں ہے۔

    سائل : کیا شرعی جہاد کے لیے امیر کا ہونا شرط ہے یا نہیں؟

    شیخ عبدالمنان نورپوری: یہ شرط نہیں۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں نہیں آیا۔ بلکہ جیسے قرآن میں آیا ہے:

    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ
    (البقرۃ:216)
    (تم پر قتال کرنا فرض کیا گیا ہے)
    اسی طرح سے قرآن میں ہے کہ:

    كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ
    (البقرۃ:180)
    (تم پر فرض کردیا گیا کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اچھائی کے ساتھ وصیت کرجائے)
    یہاں بھی کتب کہا وصیت کے بارے میں کسی امیر یا خلافت کی شرط نہیں لگائی۔

    سائل: شیخ علماء اور سلف صالحین امیر کی شرط بیان کرتے ہیں؟

    شیخ عبدالمنان: علماء شرط بیان کرتے ہیں لیکن کلام علماء کے متعلق نہیں۔ آپ کا سوال کلام انبیاء کلام کتاب وسنت سے متعلق ہے، ناکہ علماء کے کلام سے، کہنے دیں علماء کو جو کہتے ہیں۔

    سائل: شیخ صاحب قرآن کی آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کے لیے کہا جائے تو نکلو؟
    شیخ عبدالمنان: قرآن میں ایسا کچھ نہیں کہ جب تم سے امیر کہے تو جہاد کے لیے نکلو، کہاں ہے ایسا قرآن میں؟!
    سائل : شیخ صاحب علمِ معانی بھی ہوتا ہے جس کے مطابق فاعل کو کبھی اس کی تفخیم شان کی وجہ سے محذوف کیا جاتا ہے؟
    شیخ عبدالمنان: کون ہے اس کا فاعل؟

    سائل : امیر المجاہدین اور امیر جہاد(یعنی جب وہ نفیر کرے جہاد کی تو نکلو)۔
    شیخ نورپوری: اس کی کیا دلیل ہے؟

    سائل : یہ تو معروف بات ہے اس آیت سورہ توبہ 38-39 کے تحت تفسیر میں لکھا ہوتا ہے۔
    شیخ نورپوری: آپ کے نزدیک معروف ہوگا کتاب وسنت کے نزدیک معروف نہیں۔

    سائل: یہ بات مفسرین کے نزدیک معروف ہے وہ اسے لکھتے ہیں۔
    شیخ نورپوری: معروف ہوگا مفسرین کے نزدیک معروف ہوگا محدثین کے نزدیک لیکن یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک معروف نہیں۔

    سائل : کیا اس حکم کے اول قائلین خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں؟!
    شیخ نورپوری: ہیں اول قائلین لیکن یہ اس بات پر محصور نہیں ہے کہ قائد امیر ہی ہو، ایسا کچھ کتاب وسنت میں نہیں آیا۔

    سائل: لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود امیر نہیں تھے اور خود لوگوں کو جہاد کی طرف دعوت نہیں دی ؟!
    شیخ نورپوری: لیکن یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ جہاد کے لیے شرط ہے کہ ان پر ایک امیر ہو۔ نہ یہ بات کسی آیت میں ہے نہ ہی سنت میں۔

    سوال: شیخ علماء سلف نے جہاد کے لیے امیر کی شرط بیان کی ہے؟
    شیخ نورپوری: یہاں انبیاء کے کلام، کتاب وسنت کے کلام کی بات ہے، علماء کے کلام کی بات نہیں، علماء کو چھوڑیں جو کہتے رہیں۔

    سائل : بہت سی اشیاء کتاب وسنت میں نہیں آئیں تو ہمیں علماء کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے؟
    شیخ نورپوری: جو کچھ ان میں نہیں آیا اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں!

    فہم سلف کو نہ ماننے سے متعلق اس غلط فہمی کا رد
    شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

    ہماری دعوت کیا ہے؟ ہماری دعوت کتاب وسنت ہے لیکن جو بات حق ہے اور میں اس حق کو ضڑور بیان کروں گا وہ یہ کہ: آج اسلامی دنیا میں ایسی بہت سی جماعتیں ہیں جو سب کی سب اعلان کرتی ہیں کہ ہماری دعوت کتاب وسنت ہے لیکن خصوصا اس زمانےمیں یہ کافی نہیں کہ داعیان کی دعوت ان دو اصولوں میں محصور ہو جو کہ بلاشبہ لازمی اصول ہیں کتاب وسنت ، ان دونوں کا ہونا تو ضروری ہے ہی لیکن لازم ہے کہ ان پر ایک تیسری چیز کا اضافہ کیا جائے۔ اور یہ چیز نہ میری اپنی طرف سے ہے اور نہ کسی سابقہ اہل علم و فضل کی طرف سے ہے بلکہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے جس نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر وحٰ نازل فرمائی کہ:

    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
    (النساء:115)
    (جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور جہنم میں ڈال دیں گے، اور وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے)۔
    پس میں چاہتا ہوں کہ آپ اس آیت پر متنبہ ہو جائیں تاکہ یہ جان لیں کہ یہ آیت دلالت میں صریح ہے کہ ایک اور چیز ہے جس کا اضافہ ان دو اصولوں پر کرنا چاہیے وہ اصول جن کے بارے میں اجماع ہے کہ اسلام انہی پر قائم ہے یعنی کتاب وسنت۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک مشہور صحیح حدیث میں فرمایا:

    انی قد ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما کتاب اللہ وسنتی، ولن یتفرقا حتی یردعلی الحوض
    صحیح الجامع 2937
    (میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جن کے بعد تم ہر گز بھی گمراہ نہ ہوگے 1۔کتاب اللہ، 2۔ اور میری سنت یہ دونوں کبھی جدانہ ہوں گے، یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر لوٹادئے جائیں گے)۔
    ان دو اصولوں کے بارے میں علماء مسلمین کا اتفاق ہے خواہ قدیم علماء ہوں یا موجودہ۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں لازم ہے کہ اس پر ایک تیسرے ضمیمے کا اضافہ کیا جائے کہ جس کے بغیر کتاب وسنت پر قائم نہیں جاسکتا جب تک اس تیسرے ضمیمے کا اضافہ نہ کیا جائے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مستفاد ہےکہ:


    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا

    (النساء:115)
    (جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور جہنم میں ڈال دیں گے، اور وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے)۔
    یہ آیت ہمارے لیے مفہوم مخالف پر بھی دلالت کرنی ہے کہ سبیل المومنین کی اتباع کرنا نعمتوں والی جنت تک پہنچنے کا راستہ ہے اور سبیل المومنین کی مخالفت جہنم تک پہنچادیتی ہے۔ اس لیے ہم پر یعنی جو کتاب وسنت کی طرف دعوت دیتے ہیں واجب ہے کہ ہماری دعوت کتاب وسنت اور اتباع سبیل المومنین تینوں پر مبنی ہو۔

    (شیخ البانی کی کیسٹ بعنوان لماذا نتبع السلف رقم[/630، اس کے علاوہ ہماری ویب سائٹ پر شیخ البانی کا آرٹیکل پڑھیں "شرعی نصوص کی تفسیر کے بارے میں کیا فہم سلف سے نکالا جاسکتا ہے؟")۔



     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    فہم سلف کو کتاب وسنت کے ساتھ نتھی کرنے کی بدعت کب ایجاد ہوئی ؟
    کیا آپ اسکی تاریخ جانتے ہیں ؟؟؟
    کیونکہ جب یہ آیت " ومن یشاقق الرسول .... الخ " نازل ہوئی تھی اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا دور تھا ‘ اگر سبیل المؤمنین سے مراد فہم سلف ہی ہے تو فرمائیے کہ جن لوگوں کی موجود گی میں یہ آیت نازل ہوئی انکے سلف کون تھے ؟؟؟
    ویسے اتفاق سے آپکی ساری تحریر کا رد شیخ نورپوری رحمہ اللہ کی گفتگو میں موجود ہے ‘ اور جو محاکمہ انہوں نے فرمایا ہے اسکا کوئی جواب آپکی تحریر میں نہیں ۔ لہذا ہو سکے تو شیخ البانی رحمہ اللہ یا انکے علاوہ کسی اور یا مولانا طارق علی بروہی صاحب سے ہی شیخ نورپوری رحمہ اللہ کے دلائل کا تجزیہ کروا دیں ۔
    اس تحریر کو پڑھنے والا منصف مزاج تو یہی سمجھتا ہے کہ مزعومہ فہم سلف "حجت نہیں ہے " ۔ کیونکہ وہ وحی ا لہی نہیں ۔
    رہا سبیل المؤمنین تو وہ اجتہاد واستنباط اور رجوع الى الکتاب والسنہ ہے ۔ اور یہی وہ تھا جو ان لوگوں کے دور میں بھی موجود تھا جب یہ آیت نازل ہوئی ۔
    لیکن کیا کریں کہ ہمارے ہاں تو لوگ کبار علماء کو بھی سلفیت کی فہرست سے خارج کرنے کی ہر مذموم کوشش کرتے ہیں اور اپنے سوا ہر کسی کو غیر سلفی ‘ غیر سدید منہج ‘ گمراہ فکر کا حامل قرار دے کر خوش ہوتے ہیں ۔
    ایک ظالم نے تو شیخ نورپوری رحمہ اللہ کو اہل السنہ سے بھی خارج قرار دے دیا ہے ‘ جبکہ وہ خود کو محدث زماں اور فقیہ دوراں سمجھتا ہے ۔ فاللہ المستعان !
    اسکا کہنا ہے کہ جو شخص اجماع کو مستقل حجت ومأخذ شریعت نہیں مانتا وہ اہل السنہ میں سے نہیں ہے ‘ اور چونکہ شیخ نورپوری رحمہ اللہ اجماع کو حجت شرعی تسلیم نہیں فرماتے تھے لہذا وہ اہل السنہ سے نہیں !
    اور لطف کی بات ہے کہ حجیت اجماع پر موصوف وہی آیت پیش کرتے ہیں جو آپ نے حجیت فہم سلف کے لیے پیش فرمائی ہے !یعنی وہ اجماع کو سبیل المؤمنین قرار دیتے ہیں ۔
    حالانکہ آیت جن لوگوں پر نازل ہوئی انہوں نے اجماع کا نام بھی نہیں سنا تھا ا ور نہ ہی وہ اسے حجت جانتے تھے ۔
    اور پھر آیت میں سبیل المؤمنین کا لفظ استعمال ہوا ہے سبیل سلف صالحین کا نہیں !
    پھر باقی مؤمنین کو چھوڑ کو سلف کے فہم پر ہی کیوں زور دیا جاتا ہے ۔
    اگر اس آیت سے فہم ہی مراد لینا ہے تو ہر مؤمن کا فہم کیوں مراد نہیں لیتے ؟؟؟؟
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ سبیل المؤمنین سے نہ اجماع مراد ہے اور نہ ہی فہم سلف ‘ بلکہ اس سے مراد کتاب وسنت کی رجوع اور اجتہاد واستنباط ہے ۔ جیسا کہ پہلے میں واضح کر چکا ہوں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    آپ نے بڑی جرات کے ساتھ اس کو بدعت کہہ دیا ہے اب برائے مہربانی اس کو بدعت ثابت بھی کر دیں۔
    کہ صحابہ کرام کے فہم سے کتاب وسنت کو سمجھنا بدعت ہے یا یہی صحیح اسلام ہے؟
    کیا خوارج، روافضہ، قدریہ، مرجئہ اور دیگر گمراہ فریق کتاب وسنت کی طرف نسبت نہیں‌رکھتے؟ بالکل رکھتے ہیں۔

    پھر وہ کیوں‌گمراہ ہیں؟ اسی وجہ سے کہ وہ کتاب وسنت کو فہم سلف یعنی صحابہ کرام اور ان کے بعد کے ہدایت یافتہ لوگوں‌ کی طرح‌نہیں‌سمجھتے۔

    جب آپ نے اس کو بدعت کہہ ہی دیا ہے تو تاریخ کے ساتھ اس بدعت کا حکم بھی واضح فرما دیں‌تاکہ پھر ہم اس بدعت کو اھل السنۃ والجماعۃ‌ کی کتب سے ثابت کریں‌۔ اور پھر فیصلہ آپ خود کریں کہ سنی کون اور بدعتی کون؟

    جبکہ یہ منہج یعنی کتاب وسنت کو فہم سلف کے ساتھ سمجھنا بدعت ہی سے بچاتا ہے کیا آج کتاب وسنت کا دعویٰ‌کرنے والے بدعت میں‌ملوث نہیں۔ وہ اپنی بدعت پر کتاب وسنت سے دلائل نہیں‌دیتے؟ مگر جب ہم کہہ دیتے ہیں‌کہ کیا صحابہ کرام نے اس دلیل کا ایسے مطلب لیا جیسے آپ نے لیا ہے تو ان کا بھی یہی جواب ہوتا ہے کہ ان کا کرنا یا نہ کرنا ہمارے لئے حجت نہیں۔

    جی ہاں بالکل انہی کا دور تھا مگر اس میں حکم انہی لوگوں‌کو ہے جو صحابہ کرام کے بعد ایمان لا رہے ہیں۔ جس کی وضاحت یوں‌بھی اللہ تعالیٰ نے کی ہے
    [FONT="Al_Mushaf"]والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان۔۔۔




    آپ کو تو اھل سنت کی اس اصطلاح کو بھی بدعت قرار دے دینا چاپیے کیونکہ اس کا ذکر قطعی طور پر کتاب وسنت میں‌نہیں‌۔


    پھر تو حدیث، اثر، حدیث صحیح ، حدیث ضعیف یہ سب اصطلاح‌بےکار ہوجاتی ہیں۔ منہج سلف اور یہ اھل سنت کے عقیدہ میں سے ہے اور اھل سنت عقیدے و منہج میں‌فرق نہیں‌کرتے۔ یہ سبیل المومنین کا ہی نام ہے۔

    کیونکہ یہ کتاب وسنت یعنی وحی سے ثابت ہے۔
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - بنیادی عقائد( مقدمۃ فی العقیدۃ للقیروانی کی شرح کا اردو ترجمہ)

    جی ہاں‌بالکل مومن کا فہم قرار دے لیں، ایک اصطلاح‌ہے اور مومن تو وہی ہے جو کتاب وسنت میں موجود منہج کے مطابق دین پر عمل کرے۔ اور وہ منہج یہی منہج سلف یعنی سبیل المومنین ہے۔



    [/FONT]
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    آپ پہلے شیخ نورپوری رحمہ اللہ کے بارہ میں اپنا " فیصلہ " دوٹوک لفظوں میں بیان کریں، اسکے بعد بات آگے چلاتے ہیں.
     
  5. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    کم از کم آپ سے ہمیں‌ ایسے سوال کی توقع نہ تھی۔ ایسے سوال کر کے ہم کسی نتیجے پر نہیں‌ پہنچ سکتے۔
    لہذا
    ایسے سوالات کرنا محض موضوع سے لوگوں کی توجہ کو منتشر کرنا ہے، جیسا کہ ایک صاحب پہلے ہی کر رہے ہیں اور مستقل اسی غلطی کو دوہرا رہے ہیں۔

    آپ کا شیخ‌ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ کے اس کلام کے دفاع کرنے سے کم از کم میری اس پوسٹ کو دو فوائد پہنچے ہیں۔
    1- کچھ حضرات جب کسی اعتراض‌کا جواب نہیں‌ دے پاتے تو وہ سرے سے اس کا انکار کر دیتے ہیں‌یا اسے جھوٹ کہہ دیتے ہیں‌ وہ بھی بلا دلیل، تو آپ کا اس مناقشے کا دفاع کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ بات حق ہے۔
    2- لوگ اُمت کے 80 فیصد طبقے کے لبوں پر اھل سنت والجماعت کا جملہ سنتے رہتے ہیں‌ وہ ضرور اس جماعت یعنی اھل سنت والجماعت کے صحیح‌منہج کی طرف رجوع کرینگے اور ان شاء اللہ انہیں ضرور یہ فکر لاحق ہوگی کہ وہ اس منہج حقہ کا مطالعہ کریں۔

    میں‌اس سے زیادہ اور مزید کچھ نہیں‌ کہنا چاہتا۔
    آپ سمیت تمام دینی بھائیوں‌سے التماس ہے کہ: سبیل المومنین کیا ہے؟، رسالے کا مطالعہ کریں۔




     
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    مجھے بھی آپ سے یہ توقع نہیں تھی کہ آنجناب انڈین گورنمنٹ کے خرچہ پر لکھی جانے والی دجالی کتاب سے استفادہ فرماتے ہونگے!
    بہر حال جس کتاب کا اقتباس آپ نے پیش کیا ہے اسکے مصنف نے تو شیخ محترم کو خارجی ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے. اسی لیے آپ سے بھی آپکا دوٹوک موقف پوچھا ہے انکے بارہ میں. اور یہ سوال بحث سے توجہ ہٹانے کے لیے نہیں بلکہ بحث کو جلدی سمیٹنے کے لیے ہے.
    آپ کیوں ہچکچا رہے ہیں. کیا اتنی بھی اخلاقی جرأت نہیں کہ اپنے موقف کو دوٹوک لفظوں میں بیان کر سکیں؟؟ ؟
     
  7. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    یہ آپ کا سوء ظن ہے۔

    کہنے کو تو آپ نے بھی اوپر تمام علماء سلف کو بدعتی ثابت کردیا ہے۔ جیسا کہ آپ کی تمام اوپر گفتگو سے ثابت ہے۔ لہذا ہم بھی یہ اعتراض کر سکتے تھے کہ آپ کے نزدیک ایسے علماء کی کیا حیثیت ہے جو فہم سلف کی شرط کو لازم قرار دیتے ہیں۔ مگر ایسا سوال پوچھنے سے قارئین کو کوئی فائدہ‌حاصل نہیں‌ہوسکتا تھا۔
    اسی لئے ہم نے صرف موضوع کے مطابق بات کرتے ہوئے سبیل المومنین کی تفصیل بیان کردی ہے بکلام علماء سلف۔

    یہ تجزیہ درست نہیں‌ کہ موضوع سے ہٹ کر سوال پوچھنے سے موضوع سمٹ جائے گا، بلکہ اس طرح تو اور دوسرے سوال اٹھ جائینگے جن کا تعلق موضوع سے نہیں۔
    1- اوپر ثابت ہو چکا کہ آپ مولانا عبدالمنان نورپوری رحمۃ اللہ، کے اس اقتباس کی تائید کرتے ہیں‌ جو اس کتاب میں‌ موجود ہے۔ لہذا آپ اس پر مصنف کو خائن قرار دے کر کتاب کو کالعدم قرار نہیں‌دے سکتے۔
    2- جبکہ آپ کو تو اس عقیدہ کا اب دفاع ہی نہیں بلکہ اُن علماء قدیم، عصر و جدید کو بدعتی ثابت کرنا ہے، جن کے بارے میں آپ کہہ چکے ہیں‌کہ یہ تو ایک بدعت ہے۔ اور علماء‌ سلف کی اتباع پر موٹی موٹی کتب لکھ چکے ہیں‌ اور تقریبا تمام اھل السنۃ‌ والجماعۃ‌کی کتب میں آپ کو اس کا ذکر ملے گا۔ ان شاء اللہ۔

    آپ
    یہ میری عادت میں‌ سے ہے کہ میں‌جس موضوع پر بات کرتا ہوں اسی پر مستقل قائم رہتا ہوں۔ شروع تا آخر۔ اس کی مثالیں آپ میرے دوسرے ان موضوعات میں‌ ملاحظہ کر سکتے ہیں‌جس میں میں‌نے گمراہ حزبی جماعتوں‌ کے رد پر علماء کا کلام پیش کیا تھا۔ مجھے دنیا کی واہ واہ یا نکیرکی قطعی کوئی پرواہ نہیں۔ میں صرف حق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی مجھے کچھ بھی سمجھے۔۔۔
    لہذا یہ کہنا کہ میں‌ ہچکچا رہا ہوں، خام خیالی ہے۔
    آپ سے گزارش ہے کہ موضوع پر ہی رہتے ہوئے بات کریں۔ جزاکم اللہ۔


     
  8. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    موضوع میں آپ شیخ نورپوری کا نام نہ لیتے تو میں انکے بارہ میں آپکا موقف نہ پوچھتا. لیکن چونکہ آپ نے فرد معین کو ہدف تنقید بنایا ہے لہذا اخلاقی غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر اپنا حکم واضح کریں، کیونکہ آپکے کلام کے سیاق وسباق اور اوپر دیے گئے کتاب کے حوالے سے تو یہی اندازاہ کیا جاتا ہے کہ آپ انہیں خارجی سمجھتے ہیں.
    اگر آپ مطلق بات کرتے تو ہم بھی مطلقا بحث شروع کرتے. میں نے اس عمل کو مطلقا بدعت کہا ہے تو میں اسے بدعت ثابت کروں گا. ان شاء اللہ.
    اب آپ وقت ضائع کرنے کی بجائے شیخ نورپوری کے بارہ میں اپنا موقف واضح کریں اور بھاگنے کی کوشش نہ کریں
     
  9. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    سابقہ سطور میں آپکی طرف سے کی گئی بہت سی باتوں کا جواب بھی ابھی میں نے دینا ہے ‘ لہذا جلدی سے اپنا موقف واضح کردیں ‘ تاکہ یہ بحث زیادہ طویل نہ ہو ۔
     
  10. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    اس کتاب کا تعرف شیخ‌احمد بن یحیی النجمی نے لکھا ہے اب سوالات اٹھ سکتے ہیں کہ:
    1- کیا انہوں‌نے بغیر پڑھے اس کا تعرف لکھ دیا ِ؟
    2- یا پھر وہ بھی اس کتاب سے متفق ہیں؟
    پھر تو سوال ہی سوال ہیں۔

    جناب۔ آپ نے شیخ‌نورپوری رحمہ اللہ کا نہیں‌ بلکہ اپنے نظریہ کا دفاع کرنا ہے۔
    ورنہ آپ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو کافر تک قرار دے چکے ہیں جبکہ علماء ایسے شخص کو اھل حدیث‌تسلیم ہی نہیں‌ کرتے جو آئمہ اربعہ میں‌سے کسی ایک کی تکفیر کرے یا ان کی تنقیص کرے۔مجھے تو حیرت ہے جو نام نہاد علماء‌بنے پھرتے ہیں‌ انہیں‌ اپنے فورم پر ایسے تھریڈ کو جگہ دینی چاہیے تھی کہ نہیں‌ جبکہ وہ دوسروں‌پر سلفی علماء‌ کے رد کا الزام لگاتے ہیں‌ اور خود مصدر سلف کی تنقیص و تکفیر کے لئے اپنی انتظامی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔


    اسی طرح‌آپ کسی ایک پوسٹ میں علماء‌عرب کے عقیدہ کو مرجئی عقیدہ کہہ چکے ہیں‌ تو آپ سے کسی نے کہا تھا کہ آپ علماء میں‌سے ابن باز و ابن عثمین کو مرجئی کہہ رہے ہیں؟ تو آپ نے ایک مثال دی تھی کہ خوارج کی نشانی ہے کہ وہ گنجے ہونگے مگر کیا ہر گنجا خوارج ہوگا؟
    یہ میرے الزامی جوابات ہیں۔ دوبارہ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ موضوع پر ہی بات کریں۔
    بات مطلق ہی ہے، پاکستان میں‌ موجود اس عقیدے کے جو قائل ہیں‌ ان کے کلام کو پیش کر دیا گیا ہے اورپھر اس غلط فہمی کا جواب دیا گیا ہے۔ جبکہ آپ خود اس مذکور عقیدہ سے متفق ہیں۔


    اور یہی گزارش ہماری بھی ہے۔
    یہ بھی گمراہ فرقوں‌کی نشانی ہے کہ وہ سیدھی سی گفتگو کو شخصیت پرستی پر ڈھکیل دیتے ہیں۔

    اگر آپ کا اگلا جواب پھر یہی ہو جیسا کہ دو جواب آچکے ہیں جو آپ کو پہلے اقتباس کے جواب میں یاد نہ آسکا تھا تو پھر برائے مہربانی ایسا جواب دوبارہ نہ لکھیے گا۔ کیونکہ میری طرف سے پھر یہی جواب ہوگا جو میں‌لکھ چکا ہوں۔

    اور اگر اوپر جو دعوے آپ کرچکے ہیں‌ اس کی وضاحت اور اس پر دلیل دینا پسند فرمائیں‌تو ہم یہاں‌موجود ہیں۔

    اللہ تعالیٰ‌ ہمیں‌ علم نافع اور عمل صالح کی توفیق سے نوازے۔ آمین




     
  11. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    ابو حنیفہ صاحب سے متعلق جو میں نے کہا اس میں انہیں مشرک قرار نہیں دیا گیا بلکہ انکا ایک قول پیش کرکے انکا موقف واضح کیا ہے ‘ ان پر حکم نہیں لگایا ۔
    اسی طرح اس عقیدہ کو اہل ارجاء کی طرف منسوب کیا ہے ‘ کسی کومعین طور پر مرجیئہ نہیں کہا ۔
    جبکہ آپ نے شیخ نور پوری کا نام لکھا ہے ۔ اوپر خارجی گروہ کا تذکرہ فرمایا ‘ اور نیچے پھر رد کرکے یہ باور کروایا ہے کہ شیخ نورپوری پر رد ہو رہا ہے انہیں خارجی قرار دے کر !
    لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ انکے بارہ میں اپنا موقف لکھ دیں ۔
    باقی باتیں بعد میں ہونگی ان شاء اللہ
    احمد بن یحیى النجمی کی علمی حیثیت بھی آپکو بتائیں گے ۔ ان شاء اللہ ۔ بے فکر رہیں ۔

     
  12. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    سبحان اللہ۔ سب کچھ کر بھی گئے اور آں جناب فرماتے ہیں‌ کہ کچھ کیا ہی نہیں۔
    ابوحنیفہ غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دے رہے ہیں‌ معاذاللہ، مسلمان رہے یا کافر؟ یہ بات کوئی عامی کہتا تو الگ بات تھی مگر جامعات سے فارغ اور اردو مجلس پر نگران برائے اِسلامی اُمور جب ایسی باتیں‌کریں تو۔۔۔معاف کیجئے گا کہیں‌ مجھ سے پھر سلفی علماء پر رد کرنے کا الزام عائد نہ ہو جائے ایسے علماء‌ جو خود سلفیت سے برات کر رہے ہیں۔

    تو ہم بھی ان پر حکم بیان نہیں‌کر رہے اور نہ ہی اس کتاب میں ان پر ایسے حکم بیان کیا گیا ہے جیسے آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ بلکہ ہمارے نزدیک وہ اس معاملے میں غلطی پر ہیں۔

    سبحان اللہ۔ بات ابھی سلفیت پر ہو رہی ہے اور آپ کہاں‌خارجی گروپ پر چلے گئے، صبر کریں‌ یہ تو ثانوی حصہ ہے اس موضوع کا ابھی تو سلفیت کو جو آپ نے بدعت قرار دیا ہے اس پر جواب دیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جزبات میں‌ اور اپنے استاد کی غلطی کا دفاع کرنے کے لئے یہ بات کہہ دی تھی۔


    آپ بتاتے رہیئے گا۔ اوپر سلفیت کو بدعت کہہ کر آپ نے تمام سلف کی حیثیت بتلا دی ہے۔ احمد بن یحیی تو بعد کے علماء‌میں سے ہیں۔ اورامام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو تو کافر قرار دے ہی چکے ہیں۔ اب بھلے کتنی ہی تاویل کریں۔

     
  13. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    شیخ محترم، ازراہ مہربانی بتا دیں کہ یہ کون سی کتاب ہے ؟ جزاک اللہ!
     
  14. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    چلو خیر ‘ تقیہ فرماتے ہوئے کچھ تو کہا کہ :
    یعنی کتاب وسنت کے ساتھ فہم سلف کا دم چھلہ نہ لگانے والا بھی اگر چہ غلطی پر ہے لیکن وہ آنجناب کے نزدیک بھی خارجی نہیں بلکہ اہل السنہ میں سے ہی ہے اور سلفیت میں داخل و شامل ہے ۔
    اتنی سی بات آپ پہلی پوسٹ پر ہی کر دیتے تو اتنی دیر نہ ہوتی ۔خیر ......
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ غلطی پر کون ہے ؟
    کتاب وسنت کے ساتھ "فہم سلف " کا دم چھلہ لگانے والے ‘ یا اسے اتار کر پھینکنے والے ۔
    سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ "فہم سلف" کا راگ الاپنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ ویسے تو یہ بات اس قسم کا راگ الاپنے والے ہر شخص کی زبان وقلم میں ہے ۔ لیکن ہم یہاں آنجناب ہی کی عبارت نقل کرتے ہیں :
    یعنی اس عبارت سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ گمراہ فرقے صرف اسی وجہ سے گمراہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے کتاب وسنت کو اپنے فہم سے سمجھا ہے فہم سلف سے نہیں سمجھا ۔
    اس دعوى کی حقیقت کیا ہے ‘ یہ بعد میں بیان کریں گے پہلے آنجناب اس بات کی وضاحت کر دیں کہ آیا میں آپکی عبارت سے صحیح مفہوم کشید کر پایا ہوں یا غلطی کا شکار ہوگیا ہوں ۔
    اگر صحیح ہے تو تب بھی واضح کر دیں اور اگر غلط ہے تو پھر اپنی اس عبارت کا صحیح مفہوم سمجھا دیں ۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
  15. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    شرک بھی غلطی ہے بدعت بھی غلطی ہے۔ کون جان بھوج کر شرک و بدعت کرتا ہے کہ آو شرک کرتے ہیں‌یا بدعت کرتے ہیں۔ یہ سب غلطیاں‌ہی تو ہیں۔ اسی طرح‌منہج سلف کو ناماننا غلطی ہے اور یہ گمراہی ہے۔


    جناب آپ میری بات کو نہ سمجھیں۔ میری بات صرف وہیں‌تک ہے جہاں‌ عبدالمنان نورپوری اور علامہ ناصر الدین البانی رحمہم اللہ کے اقتباسات موجود ہیں۔ اور آپ کا کلام وہ ہے جو آپ نے سلفیت کو بدعت کہا ہے۔ اب اس دم چھلے کو بدعت ثابت کریں‌۔ لہذا موضوع کو چوئینگ گم بنا کر نہ کھینچیں۔ شکریہ

    ہمارے نزدیک سلفیت کی کیا حقیقت ہے ہم نے ایک عالم کے کلام سے ہی ثابت کر دی ہے۔ اور ہم اسے کیوں‌ضروری سمجھتے ہیں‌وہ بھی۔ اب آپ تو نہ جانے کہاں‌کہاں‌اجماع وغیرہ پر نکل گئے تھے مگر ہم پھر بھی الحمدللہ اللہ کی توفیق سے موضوع پر ہی رہے مگر آپ ابھی تک مستقل سیر کر رہے ہیں، کبھی خوارج کہہ دینا، کبھی اجماع اور اب ایک نئے سوال پر کھڑے ہیں۔

    لہذا اوپر شروع میں آپ نے جو دعوے کیے ہیں اس پر دلیل دیجئے مجھ سے سوال نہ کریں۔ بلکہ جس چیز کو ہم گمراہی کہہ رہے ہیں اس پر دلائل دے کر اس کا دفاع کریں۔
    جزاکم اللہ
     
  16. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جو بات لشکر طیبہ/جماعۃ الدعوۃ کے خلاف ہو وہ انڈین سازش یا پروپگنڈا ہوا کرتی ہے۔ کیا امیر محترم کا بیان ٹی وی پر نہیں سنتے؟
    لہذا اب شیخ‌صاحب کو جواب دے لینے دیجئے۔ موضوع کہیں اور نہ نکل جائے۔
     
  17. عاصم خان

    عاصم خان -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    396
    مجھے سمجٰھ نہیں آرہا کہ جنھوں نے امت کی باگ دوڑسنبھالنی ہےِ،،،،، وہی آج اختلافات کا شکار ہے۔۔۔۔ اور علماء پر تنقید و تکفیر کے فتوے لگانے سے بھی باز نہیں آتےِ۔۔۔۔۔ آپ کا اختلاف اپنی جگہ پر لیکن خدارا علماء کی تذلیل و توہین سے اپنا دامن بچائیںِ۔،،،، اللہ آپ دونوں کو ہدایت دے،،،، آمین
     
  18. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    یہ کتاب انڈیا کے ایماء پر ایک سعودی نزاد کی تصنیف ہے ۔ جس میں اس نے لشکر طیبہ اور اسکے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام تر علماء کو خارجی قرار دینے کے لیے بہت سے حقائق کو مسخ کرکے اور کچھ میں رنگ بھر کر پیش کیا ہے ۔
     
  19. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    ۱۔ آپ دو ٹوک لفظوں میں کیوں نہیں کہتے کہ یہ لوگ سلفی اور اہل السنہ ہی ہیں یا نہیں ۔
    سامنے آتے بھی نہیں چھپتے بھی نہیں
    والی کیفیت کو چھوڑیے اور دوٹوک لفظوں میں بات کیجئے !
    شرک اور کفر تو ایسی غلطی ہے کہ جس سے بندہ اہل السنہ تو کجا اسلام سے بھی خارج ہو جاتا ہے ۔
    کیا آپ "فہم سلف " کو نہ ماننا ایسی ہی غلطی قرار دیتے ہیں ‘ یا بہر حال آپ اس غلطی والوں کو اجتہادی خطأ کی سہولت دے کر اہل السنہ میں شامل سمجھتے ہیں ؟

    ۲۔ میں نے جو بھی کہا وہ صاف اور دوٹوک کہا ہے کہ کتاب وسنت کو "فہم سلف " سے مشروط کرنا ایک بدعت ہے !
    اور میں اسکا بدعت ہونا ثابت کروں گا ۔ لیکن اس سے قبل آپ اپنا موقف تو واضح کریں ۔
    چلو نہیں تو اتنا ہی بتا دیں کہ کتاب وسنت کو "فہم سلف" سے مشروط کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے ؟
     
  20. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    سب سے پہلے تو آپ پر یہ اھل السنۃ‌ کی اصطلاح‌ کا استعمال کرنا حرام ہے کیونکہ آپ کے نظریہ(جیسا کہ بیان کیا گیا ہے)کے نزدیک یہ تو بدعت ہے جبکہ اھل السنۃ والجماعۃ‌، اھل الحدیث وغیرہ یہ سب تو سلف کی ہی اختراع ہے۔ لہذا آپ یہ کہیں کہ وہ مسلمان ٹھہرے یا نہیں؟ تو ہم کہینگے کہ ہم نے انہیں‌کافر قرار نہیں‌دیا، بلکہ وہ اس معاملے میں کہ کتاب وسنت کو اپنے تئیں‌ سمجھنے کے معاملے میں گمراہ ہیں لہذا ان کی یہ بات نہ مانی جائے۔ یہ ایک بہت سخت غلطی ہے۔ جس پر کتاب وسنت سے ہی دلائل موجود ہیں‌ جس کا شور مچا کر اس سلفیت کا انکار کیا جارہا ہے۔ اس پر ہم نے سلفی منہج پر موجود تمام دلائل اردو مجلس پر ہی پیش کر دیئے ہیں‌ ان کو ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
    سلفی منہج-عقیدۂ ومنہج سیریز - 3- - URDU MAJLIS FORUM


    جی ہاں‌، او رکچھ غلطیاں‌ ایسی ہیں‌ جن کے بعد بندہ اھل حدیثیت یا سلفیت سے ہی خارج ہو جاتا ہے۔ اور سلفیت اھل حدیثیت کی اصطلاح‌میں‌ تو کوئی فرق ہی نہیں۔

    عقیدہ و منہج میں‌ اجتہاد نہیں ہوتا۔ جو کہ واضح‌ہیں۔ یہ تو منہجی مسئلہ ہے۔ گمراہی تو ہوتی ہی اسی میں‌ہے، جب عقیدہ و منہج درست ہو تو فروع میں‌اختلاف کے باوجود ان پر کوئی فرق نہیں‌پڑتا۔

    تو پھر دو ٹوک اس کو بدعت ثابت کر دیں۔ آپ کے نظریہ کے مطابق تو آپ نے اس کو صرف اور صرف وحی سے ہی ثابت کرنا ہے۔ جبکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ صحابہ کے فہم کو تو وحی نے ہی لازم قرار دیا ہے۔


     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں