تیسرا مرتبہ: “احسان اور اس کی تعریف”

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 11, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    المرتبة الثالثة: الإحسان، ركن واحد وهو " أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك" والدليل قوله تعالى: )إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ) (النحل:128) ، وقوله : )وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ * الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ * وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ * إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) (الشعراء:217 - 220) . وقوله : )وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوداً إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ)(يونس:الآية61)
    تیسرا درجہ 'احسان ہے' اور احسان کا ایک ہی رکن ہے کہ آپ اللہ عزو جل کی عبادت ( اس غایت درجے کے خشوع و خضوع اور انابت و رجوع سے) کریں کہ گویا آپ اسے بچشم خود دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ ( دوران عبادت) اس درجہ کو نہیں پا سکتے کہ آپ ( اس معبود بر حق کو) دیکھ رہے ہیں) تو کم ازکم یہ عالم تو ضرور ہی ہونا چاہیۓ کہ وہ (اللہ تعالی) آپ کو دیکھ رہا ہے۔


    اس ذکرکردہ 'احسان' کے دلائل قرآن حکیم کی یہ آیات مبارکہ ہیں:

    ا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ": بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقوی (پرہیزگاری) سے کام لیتے ہیں اور وہ جو عبادات کو اچھے انداز سے ادا کرتے ہیں۔

    ب ایک اور مقام پر فرمان الہی ہے:" اور اس زبردست اور انتہائ مہربان ذات پر بھروسہ رکھیۓ جو آپ کو اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے، جب آپ اٹھتے ہیں اور سجدہ گزار لوگوں میں آپ کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔"

    ج- مزید یہ ارشاد ربانی ہے :" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ جس حال میں بھی ہوتے ہوں اور قرآن میں سے جو کچھ سناتے ہوں اور لوگو! تم بھی جو کچھ عمل کرتے ہو، ان سب (حالات) کے دوران ہم تم کو دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔آخر تک:

    کلمہ احسان، اساءة (کسی سے برا رویہ رکھنا) کا متضاد ہے، اور 'احسان' یہ ہے کر انسان نیکی و بھلائ کے فروغ کے لیۓ اور دوسروں سے تکالیف و مصائب کو روکنے کے لیۓ (اپنی توانائیاں) خرچ کردے، نیز اللہ کے بندوں کی خاطر، اپنا مال، اپنا جاہ (اثر و رسوخ) اپنا علم اور اپنی جسمانی صلاحیتیں سب کچھ (نیکی اور خیر خواہی کے جذبے سے سرشار ہو) کر بہا دے۔"
    اللہ کے بندوں کی خاطر مال کی قربانی کی صورت یہ ہے کہ وہ بطور 'احسان' لوگوں پر مال خرچ کرے، صدقہ دے، اور زکوة ادا کرے اور مال کے ساتھ "احسان" کی سب سے افضل قسم، زکوة' کی باقاعدہ ادائيگي ہے اس لیۓ کہ زکوة "ارکان اسلام" میں سے ایک رکن اور اسلام کی بڑی عمارتوں سے ایک عمارت بھی ہے، جس کے بغیر آدمی کا اسلام ہی پورا نہیں ہوتا، نیز خرچ کی مدات میں سے اللہ تعالی عزوجل کے ہاں سب سے محبوب زکوة کی رقم کا خرچ کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ نفقات ہیں، جو انسان پر حقوق العباد کے ضمن میں عائد ہوتے ہیں، جیسا کہ انسان پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اسی طرح دیگر حقداروں پر بھی، جیسے اس کی ماں ہے، اس کا باپ ہے، اس کی اولاد ہے، اس کے بہن بھائ ہیں، اس کے بھتیجے اور بھانجے ہیں، اس کے چچے اور ماموں ہیں اور پھر اس کی پھوپھیاں اور خالائیں ہیں۔۔۔۔ آخر تک، پھر ان کے علاوہ اس کے صدقہ کے، مساکین وغیرہ اور وہ طالب علم بھی، جو صدقہ لینے کے مستحق ہیں، حقدار ٹھرتے ہیں۔

    اور اپنی جاہ ( ذاتی اثرو رسوخ) کو بطور 'احسان' خرچ کرنے کی صورت یہ ہے، کہ لوگوں کے ذات کے اعتبار سے مختلف مقام اور مرتبے ہوتے ہیں ( اور ہر انسان کی جس معاشرے میں وہ رہتا ہے اپنی ایک حیثیت ہوتی ہے) اس میں بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو حاکم وقت اور سلطان کے مصاحبوں کے ہاں اپنا خاص اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تو ایسا انسان اپنی ذاتی حیثیت کو نیکی اور بھلائ کے لیۓ اس طرح استعمال میں لا سکتا ہے کہ مثلا: اس کے پاس کوئ ایسا ضرورت مند آدمی آجاتا ہے جو اس سے سلطان کے کسی قریبی آدمی کی سفارش کا طلب گار ہوتا ہے اور یہ سفارش (عام حالات میں) یا تو کسی تکلیف یا دکھ کے مداوے کے لیۓ ہوتی ہے اور یا پھر کسی قسم کی بھلائ یا فائدے کے حصول کی خاطر۔"۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (تو ایسے انسان کو چاہیۓ کہ ازروۓ 'احسان' کے وہ اپنی ذاتی حیثیت اور مرتبے کو اس بھائ کی خاطر کھپاۓ)

    اور علم کے ذریعے کسی پر 'احسان' کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کی رشد و ھدایت کے لیۓ اپنے علم کو خرچ کرے ، عام اور خاص ہر قسم کے عوامی حلقوں اور مجلسوں میں تعلیم و تدریس کے سلسلہ جاری رکھے، یہاں تک کہ آپ کسی قہوہ خانہ کی مجلس میں بیٹھے ہوں تو تب بھی یہ بھلائ اور 'احسان' میں سے ہے کہ آپ وہاں بیٹھے لوگوں کو بھی دینی تعلیم سے روشناس کرائیں، مگر ایسی مجالس میں حکمت و مصلحت کو ضرور استعمال میں لائیں کہ کہیں آپ لوگوں پر ایک بوجھ اور کراہت کا باعث نہ بن جائیں کہ جہاں کہیں بھی آپ چند لوگوں میں بیٹھیں ان کو وعظ و نصیحت کرنا اور ان سے اسی موضوع پر گفتگو کرنا شروع کردیں، اس لیۓ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نصیحت کرتے وقت ان کی بہتری و بھلائ کا خوب لحاظ رکھتے تھے، مگر آپ کی یہ نصیحت نہایت مبنی بر حکمت ہوتی ، نہ بہت زیادہ اور نہ بہت طویل، کیونکہ انسانی نفوس (دل) کسی چیز سے جلدی ملول کھا جاتے اور اکتا جاتے ہیں اور جب وہ پر ملول ہو جائیں تو جلدی تھک جاتے اور پھر کمزور ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات کسی معلم یا داعی کے کثرت سے وعظ و نصیحت اور گفتگو کے باعث وہ نیکی اور بھلائ کو بھی نا پسند کرنا شروع کردیتے ہیں۔

    اور لوگوں پر اپنے جسم و جان کے ذریعے 'احسان' کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :"۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ تو آدمی کی، اس کی سواری کے سلسلے میں اعانت (مدد) کرے اور اس کو اس کی سواری پر بٹھاۓ، یا اس کے سامان کو اس پر لاد لے تو یہ بھی صدقہ (اور نیکی) ہے۔" (58)

    تو یہ آدمی جس کی تو مدد کرے گا، اس کو اس کے سامان سمیت اٹھاۓ گا یا اس کی صحیح راہ کی طرف رہنمائ کرے گا یا اسی طرح کا کوئ اور تعاون و اعانت کرے گا، تو یہ سب صورتیں، احسان' میں سے ہیں اور احسان کی یہ جملہ (مذکورہ) صورتیں بندوں کے ، اللہ کے بندوں پر 'احسان' کرنے کی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔اور جہاں تک اللہ جل جلالہ کی عبادت و ریاضت' میں 'احسان' کا تعلق ہے تو اس کی صورت یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت اس خشوع، خضوع، اور انابت و رجوع اور عاجزی و انکساری سے کریں کہ گویا آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (أن تعبد الله كأنك تراه( " کہ آپ اللہ تعالی کی اس طرح عبادت کریں کہ گویا آپ اسے بچشم خود دیکھ رہے ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔ اور عبادت، یعنی انسان کی اپنے پروردگار کی اس انداز سے عبادت کرنا کہ گویا وہ اسے بچشم خود دیکھ رہا ہے " شوق و طلب اور رغبت کو عبادت ہے" جس میں انسان اپنے آپ کو اس عبادت پر ابھارتے ہوۓ اور اپنے 'نفس' کو اس میں رغبت اور شوق رکھتے ہوۓ پاتا ہے، اس لیۓ کہ اس د وران وہ وہ چیز طلب کر رہا ہوتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے، تو اس طرح سے وہ اس (محبوب) کی عبادت کرتا ہے کہ گویا وہ اسے اپنے سامنے (اپنی آنکھوں سے) دیکھ رہا ہے، لہذا وہ اس کا قصد (ارادہ) کرتا، اسی کی طرف رجوع کرتا اور اسی ذات سبحانہ و تعالی کا تقرب حاصل کرتا ہے۔۔۔۔۔

    اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد " فإن لم تكن تراه فإنه يراك" اور اگر آپ دوران عبادت اس درجہ میں نہیں کہ آپ دیکھ رہے ہیں، تو یہ (کم ازکم) کیفیت ضرور ہونی چاہیۓ کہ وہ (اللہ تعالی) آپ کو (عبادت کرتے) دیکھ رہا ہے" اور اس عبادت کو ھرب اور خوف (یعنی راہ فرار اختیار کرنے اور خوف کھا جانے) کی عبادت کہا گیا ہے اور اسی لیۓ 'احسان' میں اس عبادت کا دوسرا درجہ ہے۔

    جب اللہ عزوجل کے عبادت اس جذبے اور کیفیت سے نہ کریں کہ آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی طلب میں منہمک ہیں اور نہ ہی 'نفس' اپ کو اس ذات (معبود) برحق کی جانب وصال (ملاقات) پر انگیخت دلاتا ہے تو (کم ازکم) اس جذبے اور کیفیت سے سرشار ہو کر اس کی عبادت کریں کے گویا وہ ذات برحق آپ کو دیکھ رہی ہے، تو ایسی حالت میں آپ اس معبود حقیقی کی بارگاہ میں کھڑے عبادت کریں گے تو یہ عبادت لرزہ بر اندام کردینے والی ہوگي کہ وہ ذات آپ پر مسلسل نگاہ رکھے ہوۓ ہے اور آپ اس کی کبریائ و جلالت سے خائف، اس کے تیار کردہ عذاب و عقاب سے بھاگ رہے ہیں۔ اور آپ پر دوران عبادت کپکپی طاری ہے، تو یہ عبادت کا درجہ ' ارباب سلوک، (مشائخ طریقت) کے نزدیک پہلے درجے سے کم تر درجہ ہے۔"

    اور اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کی تعریف امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنے (سلسلہ اشعار) 'قصیدہ نونیہ میں یوں فرمائ ہے۔

    وعبادة الرحمن غاية حبه --------- مع ذل عابده هما ركنان

    "کہ عبادت الرحمن ان دو ارکان پر مبنی ہے : ایک عبادت گزار بندے کی، اپنے معبود بر حق سے انتہاء درجے کی محبت اور دوسرے اس (عبادت گزار بندے) کی اپنے معبود برحق کے حضور انتہاء درجے کی عاجزی و انکساری۔"​

    تو معلوم ہوا کہ عبادت انہی دو امور پر مشتمل ہے، ایک انتہاء درجے کی معبود کے ساتھ محبت ہو، اور دوسرے انتہاء درجے کی محبوب کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کا اظہار ہو، اس محبت کے ورے 'طلب' یعنی محبوب مطلوب ہوتا ہے، جبکہ عاجزی و انکساری اور ذلت میں محبوب سے خوف اور اس سے بھاگ کر بچنے کا تصور کار فرما ہوتا ہے، تو اللہ عزوجل کی عبادت میں یہی 'احسان' ہے۔

    اگر انسان اللہ عزوجل کی اس جذبے اور کیفیت سے عبادت کرے تو وہ شتاب اللہ جل شانہ کے لیۓ مخلص ہو کر اس کی عبادت کرے گا اور اس عبادت سے سے کا مقصود نہ دکھلاوا ہوگا اور نہ شہرت اور نہ لوگوں کے ہاں اپنی خوشامد خواہ لوگ اس کے احوال پر مطلع ہوں یا نہ ہوں، سب اس کے ہاں برابر متصور ہوں گے، وہ ہر حال میں اپنی عبادت میں 'احسان' پر عمل پیرا ہے بلکہ یہ بات 'کمال اخلاص' میں سے ہے کہ انسان اس بات کا حریص ہو کہ لوگ اسے عبادت کرتے ہوۓ نہ دیکھ پائیں اور اس کی عبادت میں اس کے پروردگار اور اس کے درمیان ایک بھید ہو، سواۓ اس کے کہ اس کے اظہار اور تشہیر میں اسلام اور اہل اسلام کی مطلحت ہو، مثال کے طور پر ایک آدمی معاشرے میں امام اور مقتداء ہو اور وہ اس بات کو پسند کرے کہ وہ عامتہ الناس کے لیۓ اپنے طریقہ عبادت کو واضح طور بیان کرے، تاکہ لوگ اپنی عبادت کی ادائیگی میں اسے مشعل راہ بنا کر اس پر عمل پیرا ہوسکیں، یا وہ اسے علی الاعلان ادا کرنا اس لیۓ پسند کرتا ہو، تاکہ اس کے دوست، احباب اور ساتھی اس کی پیروی کر سکیں تو سراسر خیر اور بھلائ ہے، بلکہ اس جیسی مصلحت، جسے وہ پیش نظر رکھتے ہوۓ عبادت کو کھلے عام ادا کرتا ہے، بسا اوقات اسے مخفی اور چھپ کر ادا کرنے کی مصلحت سے زیادہ افضل و اعلی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیۓ تو اللہ عزوجل نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے، جو اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں پوشیدہ اور علانیہ ہر دو طرح سے خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔ تو جب یہ عمل پوشیدہ اور مخفی رکھنا قلبی اصلاح کے لیۓ زیادہ درست اور نفع بخش ہو، نیز اللہ جل جلالہ کی طرف رجوع کرنے کے اعتبار کی اعلان اور اظہار میں اسلام کی کوئ مصلحت پنہاں ہو، اور عام مسلمان ان کے طریقہ عبادت کی پیروی کرتے ہوں، تو پھر وہ اسے کھلے عام ادا کرتے ہیں اور ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ وعمل کی جانب دیکھتا ہے کہ کون سا عمل کسی طرح کی ادائیگی سے زیادہ درست اور صحیع ہے؟ تو عبادات میں جونسا طریقہ بھی زیادہ درست اور زیادہ منفعت بخش ہوگا، وہی عمل زیادہ کامل اور افضل ہوگا
    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - URDU MAJLIS FORUM
     
  2. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    [​IMG]
     
  3. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    769
    جزاك الله خيرا
     
  4. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جزاک الله خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں