سب سے پہلا اور سب سے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 26, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    وأولهم نوح عليه السلام ، وآخرهم محمد صلى الله عليه وسلم والدليل على أن أولهم نوح عليه السلام قوله تعالى: (إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ(28) (النساء: 163))
    “اور رسولوں میں سے سب سے پہلے رسول جناب نوح علیہ السلام اور سب سے آخری رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خاتم النبیین ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کے پہلے رسول (نہ کہ پہلے نبی) ہونے کی دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے: “اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے، جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے نبیوں (علیہم السلام) کی طرف بھیجی تھی۔”


    (28) یہاں، شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام تھے اور اپنے بیان کی دلیل، آپ رحمہ اللہ نے اللہ جل شانہ، کے اس فرمان سے لی ہے:

    (إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ(النساء: 163))
    “(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!)ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)کی طرف اسی طرح وحی کی ہے، جیسے نوح اور ان کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف کی تھی۔”

    اور صحیح بخاری کی حدیث شفاعت میں یہ الفاظ ہیں:

    ((إن الناس يأتون إلى نوح فيقولون له أنت أول رسول أرسله الله إلى أهل الأرض))
    “کہ روز محشر کو لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس (شفاعت کے لئے) آئیں گے، اور آپ (علیہ السلام) سے کہیں گے: آپ پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے اہل دنیا کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔”


    تو ثابت آپ پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے اہل دنیا کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔”....تو ثابت یہ ہوا کہ ، حضرت نوح علیہ السلام سے قبل کوئی رسول نہیں تھا اور انہی نصوص کے ذریعے، ہم ان مورخین کی غلطی جان لیتے ہیں، جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے حضرت ادریس علیہ السلام ، اللہ تعالی کے رسول تھے، بلکہ ظاہری بات یہ ہے کہ حضرت اردیس علیہ السلام تو بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ہوگزرے ہیں۔ (والله اعلم بالصواب)
    اور ان انبیاء و رسل علیہم السلام میں سے سب سے آخری نبی اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، جس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

    (مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً(الأحزاب: 40))
    “محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالی کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور خاتم النبین ہیں اور اللہ (تعالی) ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”

    لہذا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد اور کوئی نبی نہیں اور جس نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت و رسالت کے ہوتے ہوئے، نبی یا رسول ہونے کا دعوی کیا تو وہ شخص کافر، جھوٹا اور اسلام سے مرتد (نکل جانے والا) ہے۔”(والعياذ بالله من ذلك)



    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - URDU MAJLIS FORUM
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بارک اللہ فیک
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ یطول عمرک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں