غزوہ بنو المصطلق یا غزوہ مریسیع۔(5/6ہجری)

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏دسمبر 10, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    غزوہ بنی المصطلق یا غزوہ مریسیع (سن 5 یا 6 ہجری)
    یہ غزوہ جنگی نقطہ نظر سے کوئی بھاری بھرکم غزوہ نہیں ہے مگر اس حیثیت سے اس کی بڑی اہمیت ہے کہ اس میں چند واقعات ایسے رونما ہوئے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اضطراب اور ہلچل مچ گئی اور جس کے نتیجے میں ایک طرف منافقین کا پردہ فاش ہوا تو دوسری طرف ایسے تعزیری قوانین نازل ہوئے جن سے اسلامی معاشرے کو شرف و عظمت اور پاکیزگی نفس کی ایک خاص شکل عطاء ہوئی۔ہم پہلے غزوے کا ذکر کریں گے اور بعد میں اس میں ہونے والے واقعات کی تفصیل درج کریں گے۔
    یہ غزوہ اہل سیر کے بقول شعبان سن 5 ہجری یا 6 ہجری میں پیش آیا۔
    (حاشیہ:1۔ اس کی دلیل یہ دی جاتی ہےکہ اسی غزوہ سے واپسی پر واقعہ افک پیش آیا اور معلوم یہ ہے کہ حضر ت زینب سے رسول اللہ ﷺ کی شادی اور مسلمان عورتوں پر پردہ کے حکم نازل ہو چکنے کے بعد پیش آیا تھا۔چونکہ حضرت زینب رضی اللہ عنھا سے آپ ﷺ کی شادی سن 5 ہجری کے بالکل اخیر میں ہوئی ہے۔اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ غزوہ شعبان ہی کہ مہینےمیں پیش آیا تھا۔اسلئے یہ 5 ہجری کا شعبان نہیں بلکہ 6 ہجری کا شعبان ہی ہو سکتا ہے۔دوسری طرف جو لوگ اس غزوہ کا زمانہ 5 ہجری بتاتے ہیں ان کی دلیل یہ ہےکہ حدیث افک کے اند ر اصحاب افک کے سلسلے میں حضرت سعدبن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنھما کے درمیان سخت کلامی کا ذکر موجود ہے۔ اور معلوم ہے کہ سعدبن معاذرضی اللہ عنہ 5 ہجری کے اخیر میں غزوہ بنو قریظہ کے بعد انتقال کر گئے۔اس لئے واقعہ افک میں انکی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سن 5 ہجری میں ہی پیش آیا ہے۔اس کا جواب فریق اول نے یہ دیاکہ حدیث افک میں حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کا ذکر راوی کا وہم ہے کیونکہ یہی حدیث حضر ت عائشہ رض سے ابن اسحاق نے با سند زہری عن عبد اللہ بن عتبہ عن عائشۃ رض روایت کی ہے تو اس میں سعد بن معاذ کی بجاے اسید بن حضیر رض کا ذکر کیاہے۔چنانچہ امام محمد بن ابو حزم فرماتےہیں کہ بلاشبہ یہی صحیح ہے اور سعد بن معاذ کا ذکر وہم ہے۔(زاد المعاد 2/15)راقم عرض پرداز ہے کہ گو فریق اول کا استدلال خاصا وزن رکھتا ہے اور اسی لئے ابتداء میں ہمیں اس بات سے اتفاق بھی تھا۔لیکن غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس استدلال کا مرکزی نقطہ یہ کہ :رسول اللہ ﷺ سے حضرت زینب رض کی شادی 5 ہجری کے اخیر میں ہوئی تھی۔در آنحالیکہ اس پر بعض قرائن کے سوا کوئی ٹھو س شہادت موجو د نہیں ہے۔جب کہ واقعہ افک میں اور اس کے بعد حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ موجودگی متعدد درست روایات سے ثابت ہے۔جنہیں وہم قرار دینا مشکل ہے۔اسلئے ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنھا کی شادی 5 ھجری کے اوائل میں ہوئی ہو۔اور واقعہ افک اور غزوہ بنی مصطلق ۔۔۔شعبان 5 ہجری میں پیش آیا ہو۔)
    اس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ بنو المصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار آپ ﷺ سے جنگ کےلئے اپنے قبیلے اور کچھ دوسرے عربوں کو ساتھ لے کر آرہا ہے۔آپ ﷺ بریدہ بن حصیب رض کو تحقیق کےلئے بھیجا ۔انہوں نے اس قبیلے میں جاکر حارث بن ابی ضرار سے ملاقات اور بات چیت کی اور واپس آکر رسول اللہ ﷺ کو حالات سے باخبر کیا۔
    جب آپ ﷺکو اس خبر کی صحت کے متعلق اچھی طرح یقین آگیا تو آپ ﷺ صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا اور بہت جلد روانہ ہوگئے۔روانگی 6 شعبان کو ہوئی ۔اس غزوے میں آپﷺ کے ہمراہ منافقین کی ایک جماعت بھی تھی جو اس سے پہلے کسی غزوے میں نہیں گئی تھی۔ آپﷺ نے مدینہ کا انتظام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (کہا جاتا ہے کہ ابوزر رضی اللہ عنہ کو اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نمیلہ بن عبد اللہ الیثی رضی اللہ عنہ)کو دیاتھا۔حارث بن ابی ضرار نے اسلامی لشکر کی خبر لانے کو ایک جاسوس بھیجا تھا۔لیکن مسلمانوں نےاسے گرفتار کر کے قتل کر دیا تھا۔جب حارث بن ابی ضرار اور اسکے رفقاء کو رسول اللہ ﷺ کی روانگی اور پانے جاسوس کے قتل کئے جانے کا علم ہو اتو وہ سخت خوفزدہ ہوئےاور جو عرب ان کے ساتھ تھے وہ سب بکھر گئے ۔رسول اللہ ﷺ چشمہ مریسیع
    (ح:2۔مریسیع ۔م پر پیش اور را پر زبر۔ قدید کے اطراف میں ساحل سمندر کے قریب بنو مصطلق کے ایک چشمے کا نام تھا)
    تک پہنچےتو بنو مصطلق آمادہ جنگ ہو گئے ۔رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے بھی صف بندی کرلی۔پورے اسلامی لشکر کے علمبردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور خاص انصار کا پھریراحضرت سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔ کچھ دیر فریقین میں تیروں کاتبادلہ ہوا،اس کے بعدرسول اللہ ﷺ کے حکم سے صحابہ کرام نے یکبار گی حملہ کیا، اور فتح یاب ہو گئے۔مشرکین نے شکست کھائی کچھ مارے گئے ،عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا گیا،مویشی اور بکریاں بھی ہاتھ آئیں مسلمانوں کا صرف ایک آدمی مارا گیا جسے ایک انصاری نے دشمن کا آدمی سمجھ کر مار دیا تھا۔اس غزوے کے متعلق اہل سیر کا بیان یہی ہے لیکن علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ یہ وہم ہے۔کیونکہ اس غزوے میں لڑائی نہیں ہوئی تھی،بلکہ آپ نے چشمے کے پاس ان پر چھاپ مار کر عورتوں بچوں اور مال مویشی پر قبضہ کرلیا تھا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو المصطلق پر چھاپ مار ا اور وہ غافل تھے ،الی آخر الحدیث(صحیح بخاری کتاب العتق 1/345فتح الباری7/431)
    قیدیوں میں حضرت جویریہ رض بھی تھیں جو بنو المصطلق کے سردارحارث بن ابی ضڑار کی بیٹی تھیں۔یہ وہ ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں ،ثابت نے انہیں مکاتب بنالیا (مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے ایک مقررہ رقم طے کر کے آزاد ہوجائے)پھر رسول اللہ ﷺنےان کی طرف سے رقم ادا کر کے ان سے چادی کرلی۔اس شادی کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو المصطلق ایک سو گھرانوں کو جو مسلمان ہو چکےتھے آزاد کر دیا۔ کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺکے سسرال کےلوگ ہیں (زاد المعاد2/112.113)
    یہ ہے اس غزوے کی روداد ۔باقی رہے وہ واقعات جس اس غزوے میں پیش آئے تو چونکہ ان کی بنیا د عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے رفقاء تھے اس لئے بیجا نہ ہو گا کہ پہلے اسلامی معاشرے کے اندر ان کی کے کردار اور رویے کی ایک جھلک پیش کر دی جائے۔اور بعد میں واقعات کی تفصیل دی جائے۔
    غزوہ بنی المصطلق سے پہلے منافقین کا رویہ:
    ہم کئی بار ذکر کر چکے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی منافق کو اسلام اور مسلمانوں سے عموماً اور رسول اللہ ﷺخصوصاًبڑی کد تھی چونکہ اوس و خزرج اس کی قیادت پر متفق ہو چکے تھے اور اس کی تاجپوشی کےلئے مونگوں کا تاج بنایا جارہاتھا کہ اتنے میں مدینہ میں اسلام کی شعاعیں پہنچ گئیں۔اور لوگوں کے توجہ ابن ابی سے ہٹ گئیں،اس لے اسے احساس تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔ اس کی یہ کد اور جلن ابتدائے ہجرت ہی سے واضح تھی جبکہ ابھی اس نے اسلام کا اظہا ر بھی نہیں کیا تھا ۔پھر جب اسلام کا اظہار کرنے کے بعد اس کی یہی روش رہی،چنانچہ اس کے اظہار اسلام سے پہلے ایک بار رسول اللہ ﷺگدھے پر سوار ہو کر حضرت سعد بن عبادہ رض کی عیادت کےلئے تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں ایک مجلس سے گذر ہوا،جس میں عبد اللہ بن ابی تھا۔اس نے اپنی ناک ڈھک کی اور بولا ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔پھر جب رسول اللہ ﷺ نے اہل مجلس پر قرآن کی تلاوت فرمائی تو کہنے لگا،آپ اپنے گھر میں بیٹھئے ہماری مجلس میں قرآن سنا سنا کر ہمیں تنگ نہ کریں۔(ابن ہشام1/584.587 صحیح بخاری 2.924 صحیح مسلم 2/109)
    یہ اظہار اسلام سے پہلے کی بات ہے لیکن جنگ بدر کے بعد جب اس نے ہوا کا رخ دیکھ کر اسلام کا اظہار کیا تب بھی وہ اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان کا دشمن ہی رہا اور اسلامی معاشرے میں انتشار برپا کرنے اور اسلا م کی آواز کمزور کرنے کی مسلسل تدبیر یں سوچتارہا۔اور اعدائے اسلام سے بڑا مخلصانہ ربط رکھتا تھا،چنانچہ بنو قینقاع کےمعاملے میں بڑے ہی نامعقول اندا ز میں دخل انداز ہو اتھا(جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں آچکا ہے)اسی طرح اس نے غزوہ احد میں بھی شر،بدعہدی مسلمانوں میں تفریق اور ان کی صفوں میں بے چینی و انتشار اور کھلبلی پیدا کرنے کی کو ششیں کی تھیں۔
    اس منافق کے مکر وفریب کا عالم یہ تھا یہ اپنے اظہار اسلام کے بعد ہر جمعہ کو جب رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کےلئے تشریف لاتے تو پہلے خود کھڑا ہو جاتااور کہتا :لوگو یہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول ہیں اللہ نے ان کے ذریعہ تمہیں عزت و احترام بخشاہے ،لہذا ان کی مدد کرو،انہیں قوت پہنچاؤاورا ن کی بات سنو اور مانو۔اس کے بعد بیٹھ جاتا اور رسول اللہ ﷺ اٹھ کر خطبہ دیتے۔پھر اس کی ڈھٹائی اور بے حیائی انتہا کو پہنچ گئی جب جنگ احد کے بعد پہلا جمعہ آیا کیونکہ
    یہ شخص اپنی بد ترین بد عہدی کے باوجود پھر کھڑا ہوگیا اور وہی باتیں دہرانا شروع کردیں جو وہ پہلے دہراتا تھا،لیکن اب کی بار مسلمانوں نے اس کے مختلف اطراف سے کپڑوں کو پکڑکر کہا: او اللہ کے دشمن بیٹھ جا تونے جو جو حرکتیں کی ہیں اس کے بعد اب تو اس لائق نہیں رہ گیا ہے۔اس پر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہو ااور بڑبڑاتاہوا باہر نکل گیاکہ میں ان صاحب کی تائید کے لئے اٹھاتو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کوئی مجرمانہ بات کہہ دی اتفاق سے دروازے پر ایک انصاری سے ملاقات ہو گئی انہوں نے کہا : تری بربادی ہو واپس چل رسول اللہ ﷺتیرے لئے دعائے مغفرت کر دیں گے اس نے کہا خدا کی قسم میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں۔(ابن ہشام 6/105)
    علاوہ ازیں ابن ابی نے بنو نضیر سے بھی رابطہ قائم رکھا تھا۔اور ان سے مل کر مسلمانوں کے خلاف در پردر ہ سازشیں کیا کرتا تھا۔اسی طرح ابن ابی اور اس کے رفقاء جنگ خندق کے اندر مسلمانوں میں کھلبلی اور اضطراب مچانے اور انہیں مرعوب و دہشت زدہ کرنے کےلئے طرح طرح کے جتن کئے تھے جس کا ذکر اللہ نے سورۃ احزاب کی حسب ذل آیت میں کیاہے:
    [qh] وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا ﴿١٤﴾ وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْئُولًا ﴿١٥﴾قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُمْ مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٦﴾ قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنَ اللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿١٧﴾ ۞ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٨﴾ أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَ‌ٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا ﴿١٩﴾ يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا ۖ وَإِنْ يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُمْ بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنْبَائِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا فِيكُمْ مَا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢٠﴾[/qh]
    ترجمہ: اور جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ ہم سے اللہ اور اسکے رسولﷺ نے جو وعدہ کیا تھا وہ محض فریب تھا،اور جب ان میں سے ایک گروہ کہہ رہا تھا کہ ایے یثرب والو۔۔!اب تمہارئے لئے ٹھرنے کی گنجائش نہیں ہے لہذا پلٹ چلو،اور ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی سے اجازت طلب کر رہاتھا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں (یعنی ا ن کی حفاظت کا انتظام نہیں )حالانکہ وہ کھلے پڑے نہ تھے،یہ لوگ محض بھاگنا چاہتے تھے اور اگر شہر کے اطراف سے ان پر دھاوا بول دیا گیا ہوتا اور ان سے فتنے میں (شرکت) کا سوال کیا گیا ہوتاتو یہ اس میں جا پڑتے اور بمشکل ہی کچھ رکتے :انھوں نے اس سے پہلے بھی اللہ سے بدعہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کئے گئے وعدے کی باز پر س ہو کر رہنی ہے ۔آپﷺ کہہ دیں کہ تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھگڈر تمہیں نفع نہ دے گی اور ایسی صورت میں تمتع کا تھوڑا ہی نفع دیا جائے گا ۔آپ ﷺ کہہ دیں کہ کون ہے جو تمہن اللہ بچا سکتاہے اگر وہ تمہارے لئے برا ارادہ کرے یا تم پر مہرابنی کرنا چاہے اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو حامی و مددگار نہیں پائیں گے ،اللہ تم میں سے ان لوگوں کو اچھی طرح جانتاہے جو روڑے اٹکاتے ہیں۔اوراپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آؤ اور جو لڑائی میں محض تھوڑا سا حصہ لیتے ہیں جو تمہارا ساتھ دینے میں انتہائی بخیل ہیں جب خطرہ آن پڑے تو آپ دیکھیں گےکہ آپ کی طرف اس طرح دیدے پھرا پھرا کر دیکھتے ہیں جیسے مرنے والے پر موت طاری ہو رہی ہو۔اور جب خطرہ ٹل جائے تو مال و دولت کی حرص میں تمہارا استقبال تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی زبانوںسے کرتے ہیں ۔یہ لوگ درحقیقت ایمان ہی نہیں لائے اسلئے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے ہیں اور اللہ پر یہ بات آسان ہے ۔یہ سمجھتے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں،اور اگر وہ پھر (پلٹ کر) آجائیں تو یہ چاہیں گے کہ بددوں کے درمیان بیٹے تمہاری خبر پوچھتے رہیں اور اگریہ تمہارے درمیان رہیں بھی توکم ہی لڑائی میں حصہ لیں گے۔
    ان آیات میں موقع کی مناسبت سے منافقین کے انداز فکر ،طرز عمل ،نفسیات اور خود غرضی و موقع پرستی کا ایک جامع نقشہ کھینچ دیا گیاہے۔
    ان سب کے با وجود یہود منافقین اور مشرکین غرض سارے ہی اعدائے اسلام کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اسلام کے غلبے کا سبب مادی تفوق یعنی اسلحے لشکر کی تعداد کی کثرت نہیں ہے بلکہ اس کا سبب وہ خدا پرستی اور اخلاقی قدریں جن سے پورا اسلامی معاشرہ اور دین اسلام سے تعلق رکھنے والا ہر فردسرفراز و بہر ہ مند ہے۔ان اعدائے اسلام کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس فیض کا سر چشمہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے جو ان اخلاقی قدروں کا معجزے کی حدت سب سے بلند نمونہ ہے ۔اسی طرح یہ اعدائے اسلام چار یا پانچ سال تک بر سر پیکار رہ کریہ سمجھ چکے تھے کہ اس دین اور اس کے حاملین کو ہتھیار روں کے بل پر نیست و نابود کرنا ممکن نہیں اسلئے انہوں نے غالباًیہ طے کیا کہ اخلاقی پہلو کو بنیاد بنا کر اس دین کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈے کی جنگ چھیڑ دی جائے اور کا پہلا نشانہ خاص رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کو بنایا جائے چونکہ منافقین مسلمانوں کی صف میں پانشواں کالم تھے اور میدنہ ہی کے اندر رہتے تھے مسلمانوں سے بلا تردد چل سکتے تھے اور ان کے احساسات کو کسی بھی مناسب موقع پر با اسانی بھڑکا سکتے تھے اسلئے اس پروپیگندے کی ذمہ داری ان منافقین نے اپنے سر لی یا ان کے سر ڈالی دی گئ اور عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین نے اسکی قیادت کا بیڑا اٹھایا۔
    ان کا یہ پروگرام اس وقت ذرا زیادہ کھل کر سامنے آیا جب حضرت زید بن حارثہ رض نے حضرت زینب رض کو طلاق دی اور نبی ﷺ نے ان سے شادی کی چونکہ عرب کا دستور یہ چلا آ رہا تھا کہ وہ متبنی (منہ بولے بیٹے)کو اپنے حقیقی لڑکے کا درجہ دیتے تھے اور اس کی بیوی کو حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام سمجھتے تھے اس لئے جب نبی ﷺ نے حضرت زینب رض سے شادی کی تو منافقین کونبیﷺ کے خلاف شور و شغب پربا کرنے کےلئے اپنی دانست میں دو کمزور پہلو ہاتھ آئے۔
    ایک یہ کہ حضرت زینب رض آپ کی پانچویں بیوی تھیں جبکہ قرآن مجید نے چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں دی۔اس لئے یہ شادی کیونکر درست ہو سکتی ہے؟
    دوسرے یہ کہ زینب آپ کے بیتے یعنی منہ بولے بیٹے کی بیوی تھیں اسلئے عرب کی دستور کے مطابق ان سے شادی کرنا انتہائی سنگین جرم اور زبردست گناہ تھا۔چنانچہ اس سلسلے میں خوپرپیگنڈہ کیا گیا اور طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے کہنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ محمد ﷺ نے زینب کو اچانک دیکھا اور ان کے حسن سے اس قدر متاثر ہوئے کہہ نقد دل بیٹھے ،اور جب ان کے صاحبزادے زید کو یہ معلوم ہو ا تو انہوں نے زینب کا راستہ محمد ﷺ کے لئے خالی کر دیا۔منافقین نے اس افسانے کا اتنی قوت سے پرپیگنڈہ کیا کہ اس کے اثرات کتب حدیث و تفاسیر میں اب تک چلے آ رہے ہیں۔اس وقت یہ سارا پرپیگنڈہ کمزور اور سادہ لوح مسلمانوں کے اندر اتنا مؤثر ثابت ہو ا کہ بالآخر قرآن مجید میں اس کی بابت واضح آیات نازل ہوئیں جن کے اندر شکوک پنہاں کی بیماری کا پورا پورا علاج تھا ۔اس پروپیگنڈے کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ سورۃ احزاب کا آغاز ہی اس آیت سے ہوا:
    [qh]َياأَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١﴾[/qh]
    اے نبی اللہ ڈرو اور کافرین ومنافقین سے نہ دبو بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
    یہ منافقین کی حرکتوں اور کاروائیوں کی طرف ایک طائرانہ اشارہ اور ان کا ایک مختصر سا خاکہ ہے۔ رسول اللہ ﷺیہ ساری حرکتیں صبر،نرمی اور تلطف سے برداشت کر رہےت تھے اور عام مسلمان بی ان کے شر سے دامن بچا کر صبر و برداشت کے ساتھ رہ رہے تھے کیونکہ انہیں تجربہ تھا کہ منافقین قدرت کی طرف سے رہ رہ کر رسوا کیئے جاتے رہیں گے۔چنانچہ ارشاد ہوا:
    [qh]أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ(التوبہ 126)[/qh]
    وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں ہر سال ایک بار یا دو بارفنتے میں ڈالا جاتاہے،پھر وہ نہ تو توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,687
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں