غزوے بنوالمصطلق میں منافقین کا کردار۔

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏دسمبر 12, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    غزوہ بنو المصطلق میں منافقین کا کردار:
    جب غزوہ بنی المصطلق پیش آیااورمنافقین بھی اس میں شریک ہوئےتوانہوں نے ٹھیک وہی کیا جو اﷲ نے اس آیت میں فرمایا:
    [font="al_mushaf"]لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ

    ترجمہ:اگر وہ تمہارے اندر نکلتے تو تمہیں مزید فساد ہی سے دو چارکرتے اور فتنے کی تلاش میں تمہارے اندر تگ و دو کرتے۔
    چنانچہ اس غزوے میں انہیں بھڑاس نکالنے کے دو مواقع ہاتھ آئےجس سےفائدہ اٹھا کر انہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں خوب اضطراب وانتشار مچایا،اور رسول اﷲ ﷺ کے خلاف بد ترین پرپیگنڈہ کیا۔ان دونوں مواقع کی کس قدر تفصیلات یہ ہیں:
    1:مدینہ سے ذلیل ترین آدمی کو نکالنے کی بات:
    رسول اﷲ ﷺ غزوہ بنی المصطلق سے فارغ ہو کر ابھی چشمہ مریسیع پر قیام فرماہی تھے کہ کچھ لوگ پانی لینے گئے ۔ان ہی میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ایک مزدور بھی تھا جس کا نام جہجاہ غفاری تھا۔پانی پر ایک اور شخص سنان بن دبر جہنی سے اس کی دھکم دھکا ہوگئی اوردونوں لڑ پڑے ۔پھر جہنی نے پکارا:یا معشر الانصار(انصار کے لوگو!مدد کو پہنچو)اور جہجاہ نے آواز دی :یا معشر المہاجرین :(مہاجرین !مدد کو پہنچو)رسول اﷲ ﷺ نے(خبر پاتے ہی وہاں تشریف لے گئے اور ) فرمایا: میں تمہارے اندر موجود ہوں اور جاہلیت کی پکار پکاری جارہی ہے۔اسے چھوڑ دو یہ بدبودار ہے۔اس واقعے کی خبر عبداﷲ بن ابی ابن سلول کوہوئی تو غصے سے بھڑک اٹھا اور بولا: کیا ان لوگوں نے ایسی حرکت کی ہے ؟یہ ہمارے علاقے میں آکر اب ہمارے ہی مد مقابل اور ہمارے ہی حریف ہو گئے ہیں خدا کی قسم ہماری اور ان کی حالت پر تو وہی مثل صادق آتی ہے۔کہ اپنے کتے کوپال پوس کے موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تم ہی کو کاٹ کھائے۔سنو!خدا کی قسم!اگر ہم مدینہ واپس ہوئے تو ہم میں معزز ترین آدمی ذلیل ترین آدمی کو نکال باہر کرے گا،پھر حاضرین کی طرف متوجہ ہو کر بولا:"یہ مصیبت تم نے خود مول لی ہے ۔تم نے انہیں اپنےشہر میں اتاراوراپنے اموال بانٹ کر دئیے۔دیکھو!تمہارے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اگر تم دینا بند کر دو تو یہ تمہارا شہر چھوڑ کر کہیں اور چلتے بنیں گے"۔اس وقت مجلس میں ایک اور نوجوان صحابی زید بن ارقم ؓ بھی موجود تھے ۔انہوں نے آکر پور ی بات اپنے چچا کو بتائی ،ان کے چچا نے رسول اﷲ ﷺ کو اطلاع دی ۔اس وقت حضرت عمرؓ بھی موجود تھے بولے :حضور !عباد بن بشر سے کہئے اسے قتل کر دیں ۔آپ ﷺنے فرمایا :عمرؓ !یہ کیسے مناسب رہے گا لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺاپنے ساتھیوں کا قتل کر رہا ہے،نہیں بلکہ تم کوچ کا اعلان کردو یہ ایسا وقت تھا جس میں آپﷺ کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے۔لوگ چل پڑے تو حضرت اسید بن حضیرؓ حاضر ہوئے اور سلا م کر کے عرض کیا کہ آج آپ ﷺ نے بے وقت کوچ فرمایا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے صاحب (ابن ابی) نے کچھ کہا ہے اس کی تمہیں خبر نہیں ہوئی؟انہوں نے دریافت کیا کس اس نے کیا کہا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا خیال ہے کہ اگر وہ میدنہ واپس ہوا تو معزز ترین آدمی ذلیل ترین آدمی کو مدینہ سے باہر نکال کر ے گا۔انہوں نے کہا یارسول اﷲﷺ اگر آپ چاہیں تو اسے مدینے سے نکال باہر کریں ۔خدا کی قسم وہ ذلیل ہے اور آپ ﷺ باعزت ہیں۔اس کے بعد انہوں نے کہا اے اﷲ کے رسول ﷺ اس کے ساتھ نرمی برتئے کیونکہ بخدا ،اﷲ تعالیٰ آپ کو ہمارے پاس اس وقت لے آیا جب اس کی قوم اس کی تاجپوشی کیلئے مونگوں کا ہار تیا رکررہی تھی اسلئے اب وہ سمجھتاہے کہ آپ نے اس سے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔
    پھر آپ ﷺ شام تک پورا دن اور صبح تک پوری رات چلتے رہے بلکہ اگلے دن کے ابتدائی اوقات میں اتنی دیر تک سفر جاری رکھا کہ کہ دھوپ سے تکلیف ہونے لگی ۔اسکے بعد اتر کر پڑاؤ ڈالا گیا تو لوگ زمین پر جسم رکھتے ہی بے خبر ہوگئے،آپ ﷺ کا مقصد بھی ہی تھا کہ لوگوں کو سکون سے بیٹھ کر گپ لڑانے کا موقع نہ ملے۔ادھر عبد اﷲ ابن ابی کو جب پتہ چلا کہ زید بن ارقم ؓ نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے تو رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اﷲ کی قسم کھا کرکہنے لگا کہ اس نے جو بات آپ کو بتائی ہے وہ بات میں نے نہیں کہی ہے اور نہ اسے زبان پر لایا ہوں۔اس وقت وہاں انصار کے جو لوگ موجود تھے انہوں نے بھی کہا: یا رسول اﷲ ﷺ ابھی وہ لڑکا ہے ممکن ہے اس سے وہم ہو گیا ہو اور اس شخص نے جو کچھ کہا ہے اسے ٹھیک سے یاد نہ رکھ سکا ہو۔اس لئے آپ ﷺ نے ابن ابی کی بات سچ مان لی ۔حضرت زیدکا بیان ہے کہ اس پر مجھے ایسا غم لاحق کہ ویسے غم سے کبھی دوچار نہ ہوا تھا۔میں اس صدمے سے اپنے گھر میں بیٹھا رہا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے سورۃا لمنافقون نازل فرمائی جس میں دونوں باتیں مذکور تھیں:
    [font="al_mushaf"]هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا [/font]
    ترجمہ:"یہ منافقین وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اﷲ ﷺ کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ چلتے بنیں"۔
    [font="al_mushaf"]يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ[/font]
    ترجمہ:"یہ منافقین کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس ہوئے تو اس سے عزت والا ذلت والے کو باہر نکال کریگا"۔
    حضر ت زید ؓ کہتے ہیں کہ(اسکے بعد) رسول اﷲ ﷺ نے مجھے بلایا اور یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں ،پھر فرمایا اﷲ نے تمہاری تصدیق کر دی ہے۔(صحیح بخاری : 499/1 229.228.227/2 ابن ہشام 292.291.290/2)
    اس منافق کے صاحبزادے جن کا نام عبد اﷲ ؓ ہی تھا ،اس کے بالکل برعکس نہایت نیک طینت اور خیار صحابہ میں سے تھے ،انہوں نے اپنے باپ سے برأت اختیار کرلی اور مدینہ کے دروازے پر تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے جب ان کا باپ عبد اﷲ بن ابی وہاں پہنچا تو اس سے بولے :خدا کی قسم آپ یہاں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یہاں تک کہ رسول اﷲ ﷺ اجازت دے دیں،کیونکہ رسول اﷲ ﷺ عزیز ہیں اور آپ ذلیل ہیں اس کے بعد جب رسول اﷲ ﷺ وہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اس کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دی تب صاحبزادے نے باپ کا راستہ چھوڑاعبد اﷲ بن ابی کے انہی صاحبزادے حضرت عبد اﷲ نے آ پﷺ سے یہ بھی عرض کی تھی کہ اے اﷲ کے رسول ﷺ آپ اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مجھے فرمائیے خدا کی قسم میں اس کا سر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا۔
    (ابن ہشام مختصرللشیخ عبد اﷲ صفحہ نمبر 277)
    [/font]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں