واقعہ افک۔

نصر اللہ نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏دسمبر 17, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    واقعہ افک:
    اس غزوے کا دوسرا اہم واقعہ افک کا واقعہ ہے اس واقع کا ماحصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ سفر میں جاتے ہوئے ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے تھے جس کا قرعہ نکل آتا اسے ہمراہ لے جاتے۔اس غزوہ میں قرعہ حضرت عائشہ رض کے نام نکلا اور آپ ﷺ انہیں ساتھ لےگئے غزوے سے واپسی میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا۔حضر ت عائشہ اپنی حاجت کےلئےگئیں اور اپنی بہن کا ہار جسے عاریتاً لےگئی تھیں کھو بیٹھیں،احساس ہوتے ہی فوراً اس جگہ واپس گئیں جہاں ہار غائب ہوا تھا اسی دوران وہ لوگ آئے جو آپ کا ہودج اونٹ پر لادا کرتے تھے، انہوں نے سمجھا کہ آپ ہودج کے اندر تشریف فرماہیں ۔اس لئے اسے اونٹ پر لاد دیا اور ہودج کےہلکے پن پر نہ چونکے۔کیونکہ عائشہ رض ابھی نو عمر تھیں۔بدن موٹااور بوجھل نہ تھا نیز چونکہ کئی آدمیوں نے مل کر ہودج اٹھایا تھااسلئے بھی ہلکے پن پر تعجب نہ ہوا۔اگر صرف ایک آدمی یا دو آدمی اٹھاتے تو انہیں ضرور محسوس ہوجاتا۔
    بہرحال حضرت عائشہ رض ہار ڈھونڈھ کر قیام گاہ پہنچیں تو پورا لشکرجاچکا تھا،اور میدان بالکل خالی پڑا تھا نہ کوئی پکارنے والا اور نہ جواب دینے والا،وہ اس خیال سے وہیں بیٹھ گئیں کہ اگرلوگ انہیں نہ پائیں گےتو پلٹ کر واپس اسی جگہ تلاش کرنے آئیں گے۔لیکن اللہ اپنے امر پر غالب ہے وہ بالائے عرش سے جو تدبیر چاہتا ہے کرتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رض کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئیں پھر صفوان بن معطل رض کی یہ آواز سن کر بیدار ہوئیں کہ "انا للہ وانا الیہ راجعون" رسول اللہ ﷺ کی بیوی ۔۔۔۔۔۔؟ وہ پچھلی رات کو چلا آرہا تھا۔صبح کو اس جگہ پہنچا جہاں آپ موجود تھیں۔انہوں نے جب حضرت عائشہ رض کو دیکھا تو پہچان لیا ،کیونکہ وہ پردے کا حکم نازل ہونے پہلے بھی انہیں دیکھ چکےتھے۔انہوں نے انا للہ پڑھی اور اپنی سوار ی بٹھا کر حضرت عائشہ رض کے قریب کر دی۔ حضرت عائشہ رض اس پر سوار ہو گئیں ۔حضرت صفوان نے انا للہ کے سوا زبان سے ایک لفظ نہ نکالا چپ چاپ سواری کی نکیل تھامی اور پیدل چلتے ہوئے لشکر میں آگئے ۔یہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا اور لشکر پڑاؤ ڈال چکاتھا۔انہیں اسی کیفیت میں آتاد دیکھ کر مختلف لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کیا اور اللہ کے دشمن خبیث عبد اللہ بن ابی کو بھڑاس نکالنے کا ایک موقع مل گیا ۔چنانچہ اس کے پہلو میں نفاق اور حسد کی جو چنگاری سلگ رہی تھی اس نے اس کے کرب پنہاں کو عیاں اور نمایاں کیا،یعنی بدکاری کی تہمت تراش کر واقعات کے تانے بانے بننا ،تہمت کے خاک میں رنگ بھرنا ،اور اسے پھیلانابڑھانا ادھیڑنا اور بننا شروع کیا ۔اس کے ساتھی اسی بات کو بنیاد بنا کر اس کا تقرب حاصل کرنے لگے۔اور جب مدینہ آئے تو ان تہمت تراشوں نے خوب جم کرپرپیگنڈہ کیا۔ادھر رسو ل اللہ ﷺ خاموش تھے کچھ بول نہیں رہے تھے،لیکن جب لمبے عرصے تک وحی نہ آئی تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رض سے علیحدگی کے متعلق اپنے خاص صحابہ سے مشورہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صراحت کیئے بغیر اشاروں اشاروں میں مشورہ دیا کہ آپ ان سے علیحدگی اختیار کرکے کسی اور سے شادی کر لیں،لیکن حضرت اسامہ وغیرہ نے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ انہیں اپنی زوجیت سے میں برقرار رکھیں،اور دشمنوں کی بات پر کان نہ دھریں۔اس کے بعد آپ ﷺ نے منر پر کھڑے ہوکر عبد اللہ بنن ابی کی ایذارسانیوں سے نجات دلانے کی طرف توجہ دلائی،اس پر حضرت سعد بن معاذ اور اسیدبن حضیررضی اللہ عنھما نے اسکے قتل کی اجازت چاہی لیکن حضرت سعد بن عبادہ پر جو عبدا للہ بن ابی کے قبیلہ خزرج کے سردار تھے قبائلی حمیت غالب آگئی،اور دونوں حضرات میں ترش کلامی ہو گئی،جس کے نتیجے میں دونوں قبیلے بھڑک اٹھے ،رسول اللہ ﷺ نے خاصی مشکل سے انہیں خاموش کیا ،پھر خود بھی خاموش ہوگئے۔ادھر حضرت عائشہ رض کا حال یہ تھا کہ وہ غزوے سے واپس آتے ہی بیمارپڑگئی تھیں اور ایک مہینےتک مسلسل بیمار رہیں انہیں اس تہمت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا ،البتہ انہیں یہ بات کھٹکتی رہتی تھی کہ بیماری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جو لطف و عنایت ہو ا کرتی تھی اب وہ نظر نہیں آرہی تھی۔بیماری ختم ہوئی تو وہ ایک رات ام مسطح کے ہمراہ قضائے حاجت کےلئے میدان میں گئیں،اتفاق سے ام مسطح اپنی چادر میں پھنس کر پھسل گئیں اور اس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو بد دعا دی ۔حضرت عائشہ رض نے اس حرکت پر انہیں ٹوکا تو انہوں نے حضرت عائشہ رض کو یہ بتلانے کےلئے کہ میرا بیٹا بھی پرو پیگنڈے کے جرم میں شریک ہے تہمت کا واقعہ کہہ سنایا۔حضرت عائشہ رض نے واپس آکر اس خبر کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگانےکی غرض سے رسول اللہ ﷺسے والدیں کے پاس جانے کی اجازت چاہی پھر اجاز ت پا کر والدین کے پاس تشریف لے گئیں اور صورت حال کا یقینی طورپ علم ہو گیا تو بے اختیار رونے لگیں۔اورپھر دو راتیں اور ایک دن روتے روتے گذر گیا۔اس دوران نہ نیند کا سرمہ لگایا نہ آنسوکی جھڑی رکی ۔وہ محسوس کرتی تھیں کہ روتے روتے کلیجہ شق ہو جائے گا۔اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے کلمہ شہادت پر مشتمل خطبہ پڑھااور اما بعد کہہ کر فرمایا: اے عائشہ مجھے تمہارے متعلق ایسی اور ایسی بات کا پتہ چلا ہے ،اگر تم اس سے بری ہو تو اللہ تعالی عنقریب تمہاری برات نازل فرما دیں گے ۔اور اگر خدا نخواستہ تم سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے تو تم اللہ سےمغفرت مانگو اور توبہ کر کیونکہ بندہ جب کوئی گناہ کا اقرار کرےکے اللہ کے حضورتوبہ کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں۔
    اس وقت حضرت عائشہ رض کے آنسو ایک دم تھم گئے اور اب انہیں آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ آپﷺ کو جواب دیں لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔اس کے بعد حضرت عاشہ رض نے خو ہی کہا: "واللہ میں جانتی ہوں کہ یہ بات سنتے سنتے آپ لوگوں کے دلوں میان چھی طرح بیٹھ گئ ہے اور آپ لوگوں نے اسے بالکل سچ مان لیا ہے اسلئے اب اگر میں یہ کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بری ہوں۔تو آُ لوگ میری بات سچ نہیں سمجھیں گئے اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کر لوں ۔۔۔حالانکہ اللہ خوب جانتا کہ میں سے بری ہوں۔۔۔تو آپ لوگ صحیح مان لیں گے۔ایسی صورت میں واللہ میرے لئے اور آپ لوگوں کے لئے وہی مثل ہے جسے حضرت یوسف ؑ کے والد نے کہا تھا کہ":
    فصبر جمیل واللہ المستعان علیٰ ما تصفون۔
    صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم لوگ کہتے ہو اس پر اللہ کی مدد مطلوب ہے۔
    اس کے بعد حضرت عائشہ رض دوسری طرف جا کر لیٹ گئیں اور اسی وقت رسول اللہ ﷺ پروحی کا نزول شروع ہو گیا۔جب آپ ﷺ پر نزول وحی کی شدت و کیفیت ختم ہوئی تو آپ مسکرارہےتھےاور آپ ﷺ نے پہلی بات جو فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ:اے عائشہ رض اللہ نے تمہیں بری کر دیا۔اس پر (خوشی سے) ان کی ماں بولیں (عائشہ ) حضور کی جانب اٹھوا(شکریہ ادا کرو) انہوں نے اپنے دامن کی براءت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت پر اعتمادووثوق کے سبب قدرے ناز کے انداز سے کہا : "واللہ میں تو ان کی طرف نہ اٹھوں گی اور صرف اللہ حمد کروں گی" اس موقع پر واقعہ افک سے متعلق جو آیات اللہ نے نازل فرمائی وہ سورہ نور کی دس آیات ہیں جو:
    ان الذین جاء وک بالا فک عصبۃ منکم" سے شروع ہوتی ہیں۔
    اسکے بعد تہمت کے جرم میں مسطح بن اثاثہ ،حسان بن ثابت اور حمنہ بن جحش کو 80 80 کوڑے مارے گئے ۔(اسلامی قانون یہ ہی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کی تہمت لگائے اور ثبوت نہ پیش کرے اسے (یعنی اس تہمت لگانے والے کو)اسی (80)کوڑے مارے جائیں۔)
    البتہ خبیث عبداللہ بن ابی کی پیٹھ اس سزا سے بچ گئی حالانکہ تہمت تراشوں میں وہی سر فہرست تھا اور اسی نے اس معاملے میں سب سے اہم رول ادا کیا تھا اسے سزا نہ دینے کی وجہ یا تو یہ تھی کہ جن لوگوں پرحدود قائم کردی جاتی ہیں وہ ان کے لئے خروی عذاب کی تخفیف اور گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔اور عبد اللہ بن ابی کو اللہ نے آکرت میں عذاب عظیم دینے کا اعلان فرما دیا تھا۔یا پھر وہی مصلحت کار فرما گی جسکی وجہ سے اس کی اسلام دشمنی کے باوجوداسے قتل نہیں کیا گیاتھا۔(صحیح بخاری396/1 2/۔697۔698۔696زاد المعاد۔2/113۔114۔115 اب ہشام 2/297تا 308)
    حافظ ابن حجر نے امام حاکم کی ایک روایت نقل کی ہے کہ عبد اللہ بن ابی کو بھی حدلگائی گئی تھی۔اسی طرح ایک مہینے کے بعد مدینہ کی فضا شک و شبہ اور قلق و اضطراب کے بادلوں سے پاک ہو گئی تھی۔اور عبد اللہ بن ابی اس طرح رسوا ہوا کہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکا ۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب وہ کوئی گڑ بڑ کرتا تو خوداس کی قوم کے لوگ اسے عتاب کرتے، اس کی گرفت کرتے اور اسے سخت سست کہتے۔اس کیفیت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمررض سے کہا: اے عمر۔۔!کیا خیال ہے دیکھو واللہ اگر تم نےاس شخص کو اس دن قتل کردیا ہوتا جس دن تم نے مجھ سے اس کے قتل کی بات کی تھی تواس کے بہت سے ہمدرد اٹھ کھڑے ہوتے لیکن آج اگر اسی کے ہمدردوں کو اسکے قتل کا حکم دیا جائے تو وہ اسے قتل کردیں گے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ میری سمجھ میں خوب آ گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معاملہ میرے معاملے سے زیادہ بابرکت ہے۔(ابن ہشام 2/293)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    جزاک اللہ خیرا۔ شائد یہ آپ کی اپنی تحریر ہے؟
     
  3. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    نہیں بھائی الرحیق المختوم سے اقتباس ہے۔اس کتاب کی یونیکوڈنگ جاری ہے۔
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,750
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں