یہود کے پہلے اور دوسرے فساد کا صحیح مفہوم

ابوعکاشہ نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏جنوری 2, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,897
    یہود کے پہلے اور دوسرے فساد کا صحیح مفہوم

    تحریروتحقیق/سید سعید حسن عابدی(جدہ)
    سورة الإسراء کی آیت نمبر (4) کی تفسیر میں تقریبا تمام ہی مفسرین اور مؤرخین اس طرف گئے ہیں کہ اس میں بنی اسرائیل کے زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا ذکر آیا ہے وہ اسلام کی آمد سے قبل وقوع پذیر ہو چکا ہے اور ان کو سزا بھی مل چکی ہے لیکن یہ رائے اس آیت مبارکہ کے سیاق وسباق اور امرواقعہ کے بلکل خلاف ہے اور اس کےپیچھے کوئی نقلی دلیل بھی نہیں ـ
    وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْ‌ضِ مَرَّ‌تَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرً‌ا(4)''اور ہم نے ''الکتاب''میں بنواسرائیل کو اپنے حتمی فیصلے سے آگاہ کردیا تھا کہ یقننا تم زمین میں دوبارہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے ''

    عام طور پر مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ بنواسرائیل کے پہلے فساد کے موقع پر ان پر جالوت کو مسلط کیا گیا اور دوسرے فساد کے موقعے پر بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور یہودیوں کا قتل عام کر کے ان کا نام و نشان مٹا دیا ـ تفسیر کی بعض کتابوں میں آیات 5 اور 7 کی تفسیر کے ضمن میں بعض روایات بھی نقل کی گئی ہیں جن میں سے کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے ـ بلکہ سب من گھڑت اور نبی کریم ﷺکے نام پر جھوٹ ہیں ـ ذیل میں ایک طویل روایت کا ترجمہ درج کرریا ہوں
    ''جب بنی اسرائیل نے جارحانہ روش اختیار کی ، سرکشی کرکے اورانبیاء کو قتل کیا تواللہ نے ان پر شاہ فارس بخت نصر کو مسلط کردیا ـ اللہ نے اس کو سات سو سال تک اقتدار بخشا تھا ـ بخت نصر نے بنو اسرائیل کا رخ کیا ، یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں داخل ہو گیا ، اس کی ناکہ بندی کی اور اس کو فتح کر لیا ـ زکریا علیہ السلام کے خون کے بدلے اس نے سترہزار یہودیوں کو قتل کیا ـ ان کے اہل خانہ اورانبیاء کی اولاد کو گرفتار کرلیا ـ اس نے بیت المقدس کے زیورات لوٹ لیے اور اس کے خزانوں سے ایک لاکھ سترہزار زیورات نکال کر ان کو بابل منتقل کیا ـ حذیفہؓ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا: ائے اللہ کے رسول ! کیا بیت المقدس اللہ کے نزدیک بڑا درجہ رکھا ہے ؟ فرمایا ـ ہاں !! سلیمان بن داؤد نے بیت المقدس کی تعمیرسونے ، موتیوں ، یاقوت اور زبرجد سے کی تھی ـ اس کا فرش سونے اور چاندی کا تھا اور اس کے ستون بھی سونے کے تھے ـ جنہیں اللہ تعالی نے ان کوعطا کیا ـ شیاطین کو ان کے تابع کردیا تھا جو پلک چھپکتے ان کے پاس یہ چیزیں حاضر کردیتے تھے ـ یہ تمام چیزیں بخت نصر لے کر بابل چلا گیا اور بنواسرائیل نے سو سال تک اس کی غلامی کی ـ جنہیں مجوسی اور ان کی اولاد تغدیب رہتی رہی ـ ان میں انبیاء اور ان کی اولاد بھی تھی ـ اس کے بعد اللہ نے ان پر رحم فرمایا اور فارس کے ایک بادشاہ کو جس کا نام ''کورس'' تھا اور جو مؤمن تھا یہ وحی کی کہ تم بنو اسرائیل میں سے زندہ بچ جانے والوں کے پاس جاؤ اور ان کو بچاؤ ـ یہ حکم پا کر کورس بنو اسرائیل کو لے کر بیت المقدس گیا اور اسکے زیورات بھی وہاں واپس پہنچائے ـ اس کے بعد بنواسرائیل سوسال تک اللہ کے مطیع فرمانبردار رہے ، لیکن اس کے بعد دوبارہ معاصی میں مبتلا ہو گئے ـ اس کی پاداش میں اللہ نے ان پر ''ربطیان حوس '' کو مسلک کردیا ـ جس نے بخت نصر کے ساتھ ملکر ان پر لشکرکشی کی ـ بیت المقدس میں ان کے پاس گیا اور ان کو اور ان کے اہل خانہ کو قیدی بنایا ـ بیت المقدس کو نذر آتش کردی اور بنواسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ائے بنو اسرائیل ! جب تم معاصی کا ارتکاب کرو گے تب تب ہم تو کوقیدی بناتے رہیں گے ـ اس کے بعد دوبارہ معاصی کا ارتکاب کرنے لگے ـ اس پر اللہ نے روم کے بادشاہ قاقس بن رسپاپوس کو ان پر مسلط کیا جس نے سمندر اور خشکی سے ان پر لشکرکشی کی ـ بنو اسرائیل کو قیدی بنایا ـ بیت المقدس کے زیورات لوٹے اور بیت المقدس میں آگ لگا دی ـ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :بیت المقدس کے یہ زیورات مہدی واپس لوٹائیں گے جو ایک ہزار سات سو کشتیوں سے عبارت ہونگے ـ ان کو ''یافا'' کی بندرگاہ پر لنگرانداز کیا جائے گا اور یہاں سے زیورات کو بیت المقدس منتقل کیا جائے گا ـ جہاں اللہ اگلوں اور پچھلوں کوجمع کرےگا''
    یہ روایت موضوع ہےـ محدث محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اس کی تخریج امام طبری نے کی ہے اور اس کی صحت وسقم کے بارے میں سکوت فرمایا ہے ــ لیکن ابن کثیر نے اس روات کو نقل کرنے کی وجہ سے اس کی نکیر کی ہے اور لکھا ہے کہ بلاشبہ یہ روایت موضوع ہے ـ جس کو علم حدیث کی معمولی معرفت حاصل ہو گی ـ وہ اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے میں کوئی شک نہیں کرے گا ـ تعجب ہے کہ امام طبری کی جلالت شان اور امامت کے باوجود ان کے نزدیک یہ کیونکر رواج پاگئی ـ ہمارے شیخ حافظ علامہ ابوالحجاج مزی رحمہ اللہ نے اس کو موضوع اور جھوٹ قرار دیا ہے(سلسلہ الاحادیث الضعیفہ : ص 123-124 ، ج 14 ـ ح 6551)اس طرح کی نہ جانے کتنی جھوٹی روایتیں تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ـ
    اولاً: اگرسورة الإسراء کی آیت نمبر 4 کےفقرہ:لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْ‌ضِ مَرَّ‌تَيْنِ ''یقننا تم زمین میں دو بار فساد برپا کو گے ''کو قبل ازاسلام کا واقعہ قرار دیا جائے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ بنواسرائیل نے اسلام کی آمد سے قبل صرف دو بارزمین میں فساد برپا کیا اور یہ خلاف قرآن اور خود قرآن پاک کی تصریحات کے خلاف ہے ـ کیونکہ قرآن پاک میں ان کی جو سرگزشت بیان ہوئی ہےاسکے تتبع سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے متعدد بار زمین پر فساد برپا کیے اورمتعدد بار ان کو سزائیں دی گئیں ـ مثال کے طورپرانہوں نے اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں متعدد انبیاء کو قتل کیا ، اللہ کی کتاب مں مسلسل تحریفات کیں ـ عیسی اور ان کی پاکباز والدہ مریم علیہا السلام پر بہتان لگایا ، دوسرے بہت سے رسولوں اور نبیوں کی کردار کشی کی ، رشوت اور سودی کاروبار کی ترویج کی ـ جادوگری سیکھنے اور سکھانے کا ارتکاب کیا ، سبت کا قانون توڑا ، اللہ تعالی پر بخل کا الزام لگیا ـ جبریل علیہ السلام کو اپنا دشمن قرار دیا اور فریضہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر سے کلی طور پر کنارہ کش ہو گئے ـ ان تمام برائیوں کا ارتکاب صرف ان کے عوام نے نہ کیا بلکہ خود قران پاک کی تصریحات کے مطابق ان کےعلماء اورمذہبی پیشوا ان برائیوں میں ملوث ہوئے ـ ایسی صورت میں قبل ازاسلام ان کے صرف دوبارہ فساد برپا کرنے کی بات خلاف واقعہ نہیں تو اور کیا ہے ؟

    دوم: اللہ تعالی نے بنواسرائیل کے دوسری بات فساد کرنے کے لیے''الآخرہ'' کا لفظ استعمال کیا ہےـارشادِ الہی ہے:فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَ‌ةِ "اور جب آخری وعدے کا وقت آئے گا '' اس کا ترجمہ عام طور پر مترجمین نے''دوسرے وعدے کا وقت'' کیا ہے جو صحیح نہیں ـ الْآخِرَ‌ةِ الاخری سے مختلف چیزہے جو ناقابل تکرارہے ـ اسی وجہ اس کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کے دن کا نا ''الْآخِرَ‌ةِ ''یوم آخرت ہے ـ جس کے بعد کوئی اور دن نہیں ـ اس وضاحت کی روشنی میں اگربنواسرائیل کوان کے دوسرے فساد کی سزا قبل اسلام مل چکی ہے تو پھر اس دنیا میں ان کو کوئی اورسزا نہیں ملنی چاہیے ـ جبکہ صحیح متواتر احادیث یہ صراحت کرتی ہیں کہ ان کی شرانگیزیوں اور ان کے فتنہ و فساد کی آخری سزا ان کو عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کے اور مسلمانوں کے ہاتھوں ملنی والی ہے ـ
    سوم: پہلی بار بنواسرائیل کے فتنہ وفساد پھیلانے اور سرکشی کرنے کی پاداش میں اللہ تعالی نےان پرجن لوگوں کو مسلط فرمایا ان کے لیے''عِبَادًا لَّنَا'' کی تعبیراختیارفرمائی ہے : فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ‌ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا(الاسراء :5) ''پس جب ان میں سے پہلے فساد کا وقت موعود آئے گا تو ہم تمہارے خلاف اپنے ایسے بندے اٹھائیں گے جو بڑے زور آور ہونگے "
    اور قرآن میں دو مقامات کے سوا بقیہ تمام جگہوں پر عبد یا عباد کے الفاظ سے اللہ تعالٰی کے مومن بندوں کو مراد لیا گیا ہے ـ خصوصیت کے ساتھ جہاں جہاں اللہ تعالی نے عبد یا عباد کی اپنی طرف اضافت فرمائی ہے وہاں ان سے اس کے مومن بندے ہی مراد ہیں ـ چاہے وہ اس کے رسول ہوں یا عام مومن بندے ـ البتہ ''عبید'' کا لفظ عام ہے ـ جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں ـ جبکہ مفسرین کے مطابق جن لوگوں کے ذریعہ اللہ تعالٰی نے بنو اسرائیل کو دونوں بارسزا دی اور ان کی بیخ کنی کی وہ کافر اورمشرک تھے ـ چنانچہ شیخ عبدالرحمن آل سعدی لکھتے ہیں :''اصحاب تفسیر کا بنو اسرائیل پر مسلط کی جانے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے ـ البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ کافر قوم تھی "(تیسیر الرحمن فی تفسیر کلام المنان : ص 528)
    اور جن دو مقامات پر ''عباد '' کا اطلاق کافروں پر کیا گیا ہے ، ان میں سے پہلا وہ مقام ہے جب قیامت کے دن عیسی علیہ السلام اللہ تعالی سے ان لوگوں کے حق میں جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کومعبود قرار دے ڈالا ہے عرض کریں گے :
    إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ‌ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ''(المائدة : 118)اگرآپ ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں ''

    اور دوسرے مقام وہ ہے جب اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے سوا اور دوسرے بنائے جانے والے معبودوں سے پوچھے گا :
    وَيَوْمَ يَحْشُرُ‌هُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ'' (الفرقان :17)کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی صحیح راہ سے بھٹک گئے تھے ''

    اور ان دومقامات کا تعلق دنیا سے نہیں بلکہ یوم آخرت سے ہے ـ جہاں تمام کفار ان پر ایمان لے آئیں گے مگر ان کےایمان کا اعتبار نہ ہوگا ـ
    چہارم:بنواسرائیل کے پہلے فساد اور سرکشی کے ذکر کے موقع پر دوریا قریب کہیں سے بھی بیت المقدس اور مسجداقصی کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے ـ بلکہ صرف ''الدیار'' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ـ جو ''الدار'' کی جمع ہے ـ اس کا اطلاق گھر،آبادی اور شہرپرہوتا ہےـ معلوم نہیں مفسرین نےاس لفظ '' الدیار'' سے بیت المقدس اور مسجداقصی کا مفہوم کہاں سے نکالا؟!
    اوپر کی وضاحتوں کے تناظر میں بنو اسرائیل کے دوبار فساد مچانے اور سرکشی کرنے اور ان کی سزا پانے کے جن واقعات کا ذکرسورة الإسراء کی آیات 4،5 اور7 میں آیا ہے ان کا تعلق اسلام کی آمد کے بعد کے زمانے سے ہے ـ جن میں سے ایک وعدہ پورا ہو چکا ہے اور دوسرا باقی ہے ـ

    یہود کا پہلا فساد[اس کے بعد مضمون نگارحفظ اللہ نے یہودیوں کے خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدعہدی اورمسلمانوں کو مدینہ میں ہر موقعہ پر نقصان پہنچانے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ـ یہ تمام واقعات سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں میں پڑھے جاسکتے ہیں ـ طوالت کے پیش نظر انہیں چھوڑ دیا گیا ہے (عکاشہ )]
    اس کے بعد لکھتے ہیں
    ان وضاحتوں کی روشنی میں سورة الإسراء کی پانچویں آیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ـ
    فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ‌ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا (الاسراء :5)''پس جب ان میں سے پہلے فساد اور سرکشی کا وقت موعود آئے گا تو ہم تمہارے خلاف اپنے ایسے بندے اٹھائیں گے جو نہایت زور آور ہونگے اور تمہارے گھروں اور شہروں میں پھیل جائیں گے ـ یہ ایسا وعدہ ہے جسے پورا ہو کرنا رہنا ہے''

    اس آیت مبارکہ کی واقعاتی تفسیر یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد غیر مسلم برادری کے طور پر یہودیوں کے ساتھ جو امن معاہدہ کیا تھا اور جس کے بموجب ان کو تمام شہری حقوق دیے تھے انہوں نے اس معاہدے کو توڑ دیا ـ اس معاہدے کو توڑنے میں ان کے جس قبیلے نے پہل کی وہ بنو قینقاع تھا جو مدینہ کے اندر ایک محلے میں آباد تھا ـ یہ قبیلہ لوہاری ، سوناری ، اور ظروف سازی کا کام کرتا تھا ـ یہ یہودی اس قدر دلیر اور جری ہو گئے تھے کہ اپنے بازار میں آنے والے مسلمان پر دست درازی کرتے اور مسلم خواتین کو چھیڑتے ـ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک مسلمان عورت کو سرعام برہنہ کردیا ـ جس پر ان کے اور مسلمانوں کے مابین سخت جھگڑا ہوگیا ـ جس میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گیا (سیرت ابن ہشام :ص 47 ،ج2)ـ 2 ہجری میں ہونے والے غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح کے بعد انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے گستاخیاں شروع کردیں اوریہ کہنا شروع کردیا کہ قریشن لڑنا نہیں جانتے تھے اس لیےتم ان پر غالب آگئے اگر ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہو جائے گا مرد کیسے ہوتے ہیں (سنن ابی داؤد: ح 3001) گویا اس طرح انہوں نے اعلان جنگ کردیا ـ لٰہذا رسول اکرم ﷺ نےان کومدینہ سے جلاوطن کردیا (صحیح بخاری : ح 4028-صحیح مسلم:ح 1766) ـ بنونضیر نےنبی اکرمﷺ کوشہید کرنےکی کوشش کی ـ لٰہذا انہیں بھی مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا ـ رہے بنو قریظہ تو غزوہ خندق تک انہوں نے نبی اکرمﷺ کے معاہدہ کا پاس کیا لیکن عین اس وقت جب مشرکین کا لشکر جرارمدینہ پرحملہ آورہوا تو وہ یہ معاہدہ توڑ کرحملہ آور دشمن سے مل گئے ـ لٰہذا اس غزوہ کے اختتام پران غداروں کو یہ سزا دی گئی کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا گیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا ـ اہل خیبر کوتوصلح حدیبیہ کے ان سرداروں کوقتل کردیا گیا جو وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے تھے ـ انہوں نے ہی قریش مکہ اور دوسرے عرب قبائل کو مدینہ پرچڑھائی کے لیے اکسایا تھا ـ
    ان تفصیلات کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ مذکورہ آیت مبارکہ میں یہودیوں کے پہلے فساد فی الارض اور سرکشی سے مراد ان کی مذکورہ بدعہدیاں ، دسیسہ کاریاں ، غداریاں اور خیانتیں ہیں ـ اور آیت مبارکہ ''عبادالنا'' سے مراد نبی مکرم ﷺاور مسلمانوں ہیں جو مدینہ میں اللہ تعالٰی کے فضل و توفیق سے زور آور ہو چکے تھے ـ ان کو اللہ کے دشمنوں پر غلبہ و اقتدار حاصل ہو چکا تھا ـ اور ''عبادلنا'' کی اس قرآنی تعبیر میں اللہ تعالی اور اس کے صالح بندوں کے درمیان پائے جانے والے جس تعلق اور جس اپنائیت کا اظہار ہوتا ہے اس کو اہل زبان محسوس کر سکتے ہیں ''لام اضافت ــــــــــ ''لنا" کے اظہار نے اس تعلق اور اپنائیت کو مزید واضح کر کے اللہ تعالٰی کے لیے ان کی صفت ''عبدیت '' کو نمایاں کردیا ہے ـ اس وضاحت کے تناظر می بخت نصر اور اس کی مفسد فوج پر ''عبادالنا '' کا اطلاق کسے قدر خلاف واقعہ ہے ؟
    فجاسو خلل الدیار سے نبی اکرم ﷺ اورآپ کے جانثارصحابہ کے ان اعمال کی کھلی وضاحت ہوتی ہے جو انہوں نے مدینہ کے صالح اور پرامن معاشرے کو یہودی مفسدین ، تخریب کاروں اور غداروں سے پاک کرنے کے لیے انجام دیں ـ جاس ، یجوس جوسا کے معنی ہیں ـادھرادھر پھیل جانا ـ تتبع کرنا ، ٹوہ لگانا اور لوگوں میں گھس جاناـ آیت مبارکہ کے مذکورہ فقرے کا مطلب ہے اللہ کے بندے گھروں،محلوں اور شہروں میں گھس گھس کر یہودیوں کا تتبع اور تعاقب کر کے ان میں سے کچھ کو قتل ، کچھ قید اور کچھ کو جلاء وطن کریں گئے ـ یہ فقرہ بعثنا علیکم عبادالنا ـــــــ پرعطف ہے ـ جو ''فاذا جاء وعد اولھما '' کا دوسرا جواب ہے ـ اور''اذا ''جب فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے، تواس کے مستقبل کے معنی میں تبدیل کردیتا ہے ـ اس طرح جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی اس یہ ایک وعدہ تھا جو دعوت اسلامی کے مدنی عہد میں پورا ہوا ـ اور جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے کہ اس آیت مبارکہ میں قریب یا دور سے بھی رسول اکرم ﷺ کے کسی ارشاد میں یہ صراحت نہیں ملتی ہے کہ ''الدیار'' سے مراد بیت المقدس ہے ـ
    اسی طرح مذکورہ آیت میں''مسجد اقصی''میں''اللہ کے بندوں'' کے داخلے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے ـ مفسرین نے آیت نمبر 7 کے فقرے ''كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ '' زبردستی یہ مفہوم نکالنے کی کوشش کی ہے ـ حالانکہ اللہ تعالٰی نے ''مسجداقصی '' میں اپنے بندوں کے آخری داخلے کو پہلے داخلے سے تشبیہ دی ہے ـ اور پہلا داخلہ عمرؓ کے عہد خلافت میں ہوا جو اپنی اسلامی فوج ساتھ وہاں داخل ہوئے اور یہ داخلہ فاتحانہ توضرور تھا مگر مفسدانہ اور تخریب کارانہ نہ تھا ـ بلکہ مسلمانوں نے اپنی طویل فتوحات کے دور میں کسی بھی آبادی اور شہر میں فساد نہیں مچایا اور نہ کوئی تخریب کاری کی ـ جس کے معترف غیرمسلم مؤرخین بھی ہیں ـ

    جس وقت عمرؓ بیت المقدس میں داخل ہوئے اس وقت اس پر یہود کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا قبضہ تھا ـ یہودیوں نے بیت المقدس اور مسجد اقصی پر 5 جو 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا ہے اور اس وقت سے اب تک یہ انہی کے قبضے میں ہیں ـ جب اللہ کے بندے آخری بار بیت المقدس میں داخل ہونگے اس وقت بھی یہودیوں کے قبضے میں ہوگا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہی ان کاوہاں سے خاتمہ ہو گا ـ
    آخری بار ''اللہ کے بندوں'' کے بیت المقدس میں داخل ہونے سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور پھر داخل ہوگے ـ کیونکہ کسی جگہ دوبارہ داخل ہونا اس جگہ نکلنے کا متقاضی ہے ـ یہاں یہ واضح رہے کہ آیات نمبر 5 اور 7 میں فجاسو ، لیسوءا ، لیدخلوا ، دخلوا اور لیتبروا کی فاعل ضمیروں کا مرجع''عبادالنا '' ہی ہے جس پر سیاق دلالت کرتا ہے ـ چھٹی آیات
    ثُمَّ رَ‌دَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّ‌ةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ‌ نَفِيرً‌ا(الإسراء:: 6)''پھر ہم تمہاری باری ان پر لٹا دیں گےاورمال واولاد سے تمہاری مدد کریں گے اور تمہیں زیادہ تعداد والے بنادیں گے''

    کے مخاطب یہود ہیں اور جن پر ان کی باری لوٹا دینے کا وعدہ فرمایا یا ہے وہ ''عبادالنا'' ہیں ـ جن کا ذکر پانچویں آیت میں آیا ہے اور باری لوٹا دینے سے مراد غلبہ دینا ہےـ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں کو ان پر غلبہ اور برتری حاصل ہوجائے گی ـ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ''عبادالنا''سے مراد مخصوص صفات سے متصف لوگ ہی ہیں نہ کہ ہرحملہ کرنے والا ـ اور یہ صفات سورہ الفرقان کی آیت 63تا 74 میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں ـ جن کو اگر کسی ایک صفت میں جمع کیا جا سکتا ہے تو وہ صفت ایمان ہے ـ جس سے متصف بندوں کے لیے اللہ تعالی نے غلبہ اور سربلندی کا وعدہ فرمایا ہے :
    وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ''اور نہ تم دل شکستہ ہو اور نہ غم کرو ـ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مؤمن ہو(سورة آل عمران,39)

    مطلب یہ ہے کہ جب تک تم صفت ایمان سے متصف رہو گے اس وقت غلبہ اور سربلندی سے بہرہ مند رہو گے ـ لہذا معلوم ہوا کہ جس وقت یہودیوں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہو گا اس وقت ان کےاندرایمان کی روح مطلوبہ شکل میں باقی نہ ہوگی ـ اس بات کو رسول اکرم ﷺ نے اپنے ایک ارشاد میں پوری طرح واضح فرمایا دیا ہے ـ ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :
    " يُوشِكُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمُ الأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا ، قُلْنَا : مِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : لا ، أَنْتُم يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ ، يَنْزَعُ اللَّهُ الْمَهَابَةَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ وَيَجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ ، قِيلَ : وَمَا الْوَهَنُ ؟ قَالَ : حُبُّ الْحَيَاةِ وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ " . (سنن أبو داود : ح 4297)

    ترجمہ :''جس طرح کھانے والے ایک دوسرے کو اپنے دسترخواں کی طرف دعوت دیتے ہیں اسی طرح عنقریب ایسا ہو گا کہ قومیں تم پر ہلہ بول دیں گی ـ ایک شخص نے سوال کی-کیا ایسا ہماری قلت تعداد کی وجہ سے ہو گا ؟ فرمایا:نہیں ـ بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت زیادہ ہوگے ، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی مانند ہو گے ـ اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت اور رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ''وہن ''(کمزوری اور بزدلی ) ڈال دے گا ـ سوال کرنے والے نے پوچھا:ائے اللہ کے رسول ! وہن کیا ہے؟فرمایا:دنیا کی محبت اور موت سے نفرت"
    یہ حدیث پاک ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ذلت و پستی اور ضعف وشکست خوردگی کو دیکھا جا سکتا ہے ـ جس سے مسلمان تقریبا پچھلی ایک صدی سے دوچار ہیں ـ اور غیر مسلموں میں ان کی کوئی وقعت اور کوئی اعتبار نہیں رہا ہے ـ حالانکہ وہ اللہ تعالی کی تمام دنیوی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ـ اسی طرح یہ حدیث مسلمانوں کے دشمنوں کی بھی حقیقی تصویر پیش کررہی ہےجواپنے تمام مذہبی اور نسلی اختلافات کو بھلا کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متفق ہوچکے ہیں ـ اور مسلمانوں کو اپنے اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح نچا رہے ہیں-
    حدیث پاک میں دنیا کی جس محبت کو مسلمانوں کی کمزوری اوربزدلی کا سبب قراردیا گیا ہے وہ دنیا پرستی ہےـاس دنیا اور دنیاوی اسباب سے استفادہ کرنا مراد نہیں ہے ـ اسلام نے اس دنیا سے متعلق مومن کو جو تعلیمات دی ہیں وہ یہ کہ اس دنیا کو آخرت کے لیے ایک گزرگاہ سمجھے ـ اس میں غرق ہونے کی بجائے دنیوی متاع کو اس طرح استعمال کرے جس طرح ایک مسافر کسی شہر اور ملک سے گزرتے ہوئے وہاں کی چیزوں کو استعمال کرتا ہے ـ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :

    (كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ)

    ''دنیا میں ایک اجنبی یا مسافر کی طرح رہو ''(صحیح بخاری )
    جب تک مسلمان اسلامی تعلیمات پرعمل پیرارہیں گے،ایمان اور عمل صالح سے متصف،اتحادواتفاق پر قائم اور دنیا میں غلبہ واقتدا کے اسباب پرعمل کرتے رہے،اللہ تعالی نےانکوانکے دشمنوں پ غالب رکھا کیونکہ اس کا یہ وعدہ ہےـ فرمایا

    وعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْ‌تَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِ‌كُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ‌ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿النور-55﴾

    "میں سے ان لوگوں سے جو ایمان ﻻئے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ کا وعده فرما چکا ہےکہ انہیں ضرورزمین میں خلیفہ بنائےگاجیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اوریقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کومضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں"
    یہ آیت اپنے مفہوم میں اس قدر واضح اور مسلمانوں کے روشن ماضی سے اس کی اس طرح تائید ہوتی ہے کہ مزید کسی توضیح کی محتاج نہیں ہے ـ

    بنواسرائیل کا دوسرا اور آخری فساد- دعوت اسلامی کو ناکام بنانے اوراس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے یہودیوں نے اسی وقت کوشش شروع کردی تھی جب ابھی اس کا آغاز ہوا تھا ـ مگر یہ دعوت برگ وبارلاتی گئی- یہاں تک کہ اس کی آواز مدینہ تک پہنچ گئی ـ اور جب رسول اکرم ﷺ نے مکہ سے ہجرت فرمائی تو مدینہ کے تینوں یہودی قبیلے رسول اکرم ﷺ اورمسلمانوں کو نیچا دکھانے اور مدینہ کی اسلامی ریاست کو ختم کر دینے کے لیے متحد ہو گئے ـ مگر اپنی سازش کا نتیجہ انہوں نے یہ دیکھا کہ ان کا ایک قبیلہ بنو قینقاع تو بلکل تباہ ہو گیا اور دو قبیلوں کو جلا وطن ہونا پڑا ـ پھر وہ سازشیں کر کے عرب کے بہت سے قبیلوں کو مدینے پر چڑھا لائے ـ لیکن ان کو اور عربوں کو عبرتناک شکست ہوئی تھی ایسی شکت کہ جس کے بعد کفار کو پھر مدینہ پر لشکر کشی کی جرات نہ ہوئی
    غزوہ احزاب کے بعد رسول اکرم ﷺ اور مسلمانوں نے بنو قریظہ کو ان کی بدعہدی اور غداری کا سبق سکھایا اور ان کا خاتمہ کردیا ـ اب صرف خیبر میں یہودی رہ گئے تھے جو دراصل مدینہ سے نکالے جانے کے بعد وہاں جمع ہو گئے تھے ـ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام نے ان کے اس آخری گڑھ پر حملہ کر کے ان کے شرپسند عناصر کا خاتمہ کردیا اور جو یہودی بچ گئے وہ مسلمانوں کے کاشت کاروں کی حیثیت سے وہاں رہنے پر راضی ہو گئے ـ خیبر کی فتح کے بعد وادی القری ، فدک ، تیما اور تبوک وغیرہ میں جو یہودی آباد تھے انہوں نے بھی ہتھیار ڈال دیے ـ اس طرح عرب کے وہ تمام یہودی اس اسلام کی رعایا بند کر رہ گئے جس کے وجود کو برداشت کرنا تو درکرنا جس کا نام تک سننا ان کو گوارا نہ تھا ـ
    اس کے بعد مسلمانوں کی طویل تاریخ میں یہودیوں نےسرنہیں اٹھایا، بلکہ مسلمانوں کی رعایا بن کر زندگی گزارتے رہے ـ ایک ہزارسال سے زیادہ عرصہ پر پھیلا ہوا یہ زمانہ یہودیوں کے لیے سب سے پرامن زمانہ مانا جاتا ہے- جس میں ان کی جان و مال کو وہ تحفظ حاصل رہا ہے جو ان کی تاریخ میں ان کو کبھی بھی حاصل نہ رہا تھا ـ مسلمانوں کے زیر سایہ وہ خوب پھولے ـ مشہور یہودی مؤرخ اور صحافی یوری افنیری لکھتا ہے
    ''----- اسلامی عہد میں یہودیوں پر دین محمد کو تھوپنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ـ اسپین میں مسلمانوں کے زیراقتداء یہودیوں نے جوعروج حاصل کیا ـ یہودیوں کی زندگی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ـ حتی کہ ہمارے زمانے میں بھی ان کو وہ عروج حاصل نہیں ہے ـ ''یہودا ھلیفی''جیسےشعراء عربی زبان میں شعر کہتے تھے ـ اسی طرح حاخام موشیہ بھی میمون بھی عربی میں لکھتا تھا ـ مسلم ملک اندلس میں یہودی وزیروں ، شاعروں اورعالموں کی کثرت تھی ـ ہرصاحب ''استقامت '' یہودی جو اپنی قوم کی تاریخ کا علم رکھتا ہو وہ اسلام کے فضل و احسان کا انکار نہیں کرسکتا ـ جس اسلام نے 50 نسلوں تک یہودیوں کو تحفظ فراہم کیا –یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائی دنیا یہودیوں کا تعاقب کر رہی تھی اور ان کو تلوار کی دھار پر اپنا مذھب بدلنے پرمجبور کررہی تھی ـاورجب کیتھولک عیسائیوں نےاسپین پرقبضہ کر لیا تو وہاں انہوں نے مذہبی دہشت گردی کا جال پھیلادیا ـ یہودی اور مسلمان دونوں کے سامنے دو راستوں کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا ـ یا تو عیسائیت قبول کر لیں یا مرنے یا ملک سے فرار ہونے پر تیار ہو جائیں ـ اور جن لاکھوں یہودیوں نے اپنا مذہب بدلنے سے انکار کیا وہ کہاں گئے ؟؟ ان سب کو ایک ایک کر کے مسلم ملکوں میں پناہ دی گئی ـ اندلس سے بھاگنے والے یہ یہودی مغرب عربی ـ عراق ، ترکی کے زیرحکم بلغاریا اور سوڈان میں آباد ہوئے ـ ان ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر ان کا تعاقب نہیں کیا گیا ـ ان کے ساتھ کوئی نسلی امتیاز نہیں برتا گیا ـ جبکہ بیشت عیسائی ملکوں میں مقدس یسوع مسیح کے نام سے ان کو ذبح کیا جارتا رہا ہے ـ(سعودی روزنامہ ''الوطن '' 29 رمضان 1427 ھ مطابق 21-اکتوبر 2006م)
    لیکن یہودی دراصل ایسی احسان فراموش قوم ہےکہ اس نےاسی ہاتھ کو کاٹا جو اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا اورانہی لوگوں سے غداری کی اورانہی کےدرپہ آزار ہوئی جنہوں نے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا-پچھلی تیرہ چودہ صدیوں میں یہودیوں کو اگر کہیں امن نصیب ہوا تو صرف مسلمان ملکوں میں ہوا ـ اور جویہودی عیسائی ملکوں میں رہے ان کو وہاں ہمیشہ ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ـ مگر ایک وقت ایسا آیا کہ انہی عیسائیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نےفلسطین میں اپنی مذہبی حکومت ''اسرائیل ''قائم کی ـ جہاں ہزارسال سےعرب آباد تھے - 1917ء میں رسوائے زمانہ اعلان فالفورکے بعد سے فلسطین میں دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کولا کربسایا جانے لگا ـ اوراس کےاصل باشندوں کو وہاں سے حیلے بہانوں سے نکالنے اور بے دخل کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے ـ
    نومبر1947ء میں اقوام متحدہ کی جزل اسمبلی نے ایک قرار داد جاری کر کے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں مں تقسیم کردیا ـ اس ظالمانہ بندر بانٹ کے ذریعہ فلسطین 55 فیصد یہودیوں کو اور 45 فیصد رقبہ وہاں کے اصل باشندوں ، عربوں کو دے دیا گیا ـ مگر یہودی اس ظالمانہ تقسیم پر بھی راضی نہ ہوئے ـ بلکہ عربوں کو ماردھاڑ اور قتل و غارت گری کے ذریعہ وہاں سے نکالنا ـ ان کی زمینوں اور گھروں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ـ
    اس کے علاوہ فلسطین میں یہودیوں نے معصوم انسانوں کے خون کی جوہولی کھیلی اور ان کا جس طرح قتل عام کیا وہ ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں پر کیے جانے والے مظالم سےزیادہ روح فرسا تھےـدیریاسین ، بحرالبقر ، رام اللہ اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا ـ جس کا سلسلہ یورپی ملکوں،خاص طور پرامریکہ کے اشاروں اوراس کے آشیرواد سے جاری ہے ـ
    5جون 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے مکمل بیت المقدس،مسجد اقصی اوراردن کے اہم حصوں،شام کے پہاڑی علاقے جولان اور مصر کے صحرائے سینا پرقبضہ کر لا ـ
    اوپر کی وضاحتوں کی روش میں سورہ الاسراء کی ساتویں آیت پر غورکیجیے جس می بنی اسرائیل کے دوسرےاورآخری فساد اوراس کے انجام کی خبر دی گئی ہے ـ ارشادِ الہی ہے :
    فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَ‌ةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ وَلِيُتَبِّرُ‌وا مَا عَلَوْا تَتْبِيرً‌ا ﴿٧﴾''پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وه تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں۔ اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں''

    تشریح : فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَ‌ةِ کے ــــــــــ بعثنا علیکم عبادالنا ـــــــــــ محزوف ہے ـ جس پر سیاق وسباق دلالت کرتا ہے ـ''ما علوا ''کی ضمیرمرفوع کا مرجع بنواسرائیل''ہے ـ کیونکہ چوتھی آیت میں ان کے فساد فی الارض اور سرکشی دوچیزوں کا ذکر ہے ـ لیکن انکی بڑائی،تکبراورسرکشی کے مظاہرخودانکے ہاتھوں وجود میں نہیں آئے ہیں ـ بلکہ ان کےآقاؤں اورحامیوں کے تعاون سے وجود میں آئے ہیں ـانکی قبل ازاسلام کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ وہ کبھی اپنے بل بوتے پرسربلند نہیں ہوئے- اوراگرانکو کبھی امن وسکون حاصل رہا تویا تواللہ کے ذمہ میں ـیعنی یا تو مسلمانوں نےاللہ کےنام پران کو امان دی یا دوسروں کی حمایت میں رہے-لِيُتَبِّرُ‌وا مَا عَلَوْا تَتْبِيرً‌ا کے معنی ہیں'' تباہ کردینا ، مٹا دینا '' مطلب ہے کہ یہودی فلسطین میں اپنے آقاؤں کی مدد سے اپنی سرکشی اور سربلندی کے جو مظاہر قائم کریں گے وہ اللہ کےبندوں کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیے جائیں گے ـ ( سورة آل عمران ـ 112)
    بنو اسرائیل کے پہلے فساد کی پاداش میں ان کی جو تباہی ہوئی اس کو صرف ایک فقرے''فجاسوا خلل الدیار''ـ۔۔۔۔۔۔۔وہ گھروں اور شہروں میں پھی جائیں گے ، میں بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے ـ کیونکہ پہل بار انہوں نے ابھی سر اٹھایا ہی تھا کہ پیس ڈالے گے ـ
    لیکن اپنے آخری فساد کے موقع پر چونکہ ان کو بڑا عروج حاصل ہو جائے گا ـ سیاسی ، اقتصادی اور فوجی اعتبار سے وہ اپنے ہمسایہ ملکوں پر بے پناہ برتری حاصل کر لیں گے اس لیے ان کی تباہی اور بربادی اسی کے شایان شان ہوگی ـ
    اس آیت کو سمجھنے کے لیے اسی سورت کی آیت نمبر 104 کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ـ

    وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْ‌ضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَ‌ةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا

    ''اورکہا ہم نےاس کےبعد بنو اسرائیل سےکہ بس جاؤ زمین میں پس جب آئے گاآخری فساد کا وقت موعود لائیں گے ہم تم کو اکٹھا کرکے ''
    یعنی اللہ نے موسی علیہ السلام کے بعد بنو اسرائیل سے یہ بات فرمائی ـ عام طور پر مفسرین نے یہاں ''الارض '' سے بیت المقدس کو مراد لیا ہے ـ حالانکہ اس کے ساتھ کوئی ایسی صفت نہیں آئی ہے جو بیت المقدس پر دلالت کرتی ہو ـ جبکہ قرآن کریم میں اس کے مواقع پر جب کسی خطہ زمین کو مراد لیا گیا ہے تو اس کے ساتھ اس کی صفت بھی لائی گئی ہے-جیسے'' الارض المقدسہ''لیکن یہاں مطلق''الارض'' کا ذکر آیاہے ـ لٰہذا کوئی خاص خطہ زمین مراد لینے کی کوئی وجہ نہیں ـ اسی طرح مفسرین نے ''وعدہ الاخرہ '' سے آخرت کا وعدہ مراد لیا ہے ـ یعنی اس دنیا کے بعد والی زندگی جو دو وجوہات کی وجہ سے صحیح نہیں ـ
    1ـــــ وعدہ الاخرہ کی تعبیر قرآن پاک میں صرف دو بار آئی ہے اور دونوں بار اس کا تعلق صرف بنو اسرائیل سے ہے ـ پہلی بار ان کے آخری فساد کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے یہ تعبیر آئی ہے اور دوسری بات یہاں یہ بیان کرنے کے لیے یہ تعبیر استعمال کی گئی ہے کہ جب ان کے آخری'' فساد فی الارض اور سرکشی '' کا وقت آئے گا تو اللہ تعالی ان کو زمین کے ہر حصے سے سمیٹ کر یہاں ارض فلسطین میں لے آئے گا ـ اور واقعتا ایسا ہو بھی رہا ہے کہ دنیا کے ہر حصے سے یہودیوں کو لا لا کر یہاں بسایا جارہا ہے
    2ـ وعدہ الاخرہ ـــــ کی تعبیر قرآن پاک میں''یوم آخرت''کے لیے کہیں بھی استعمال نہیں ہوئی ہے ـ مزید یہ کہ اس موقع و محل میں بنو اسرائیل کویوم آخرت میں اکٹھا کرنے کی بات بلکل غیر منطقی سی ہے ـ اور پھر ان کے لیے اس تخصیص کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے کیونکہ آخرت کے روز تو تمام بنی نوع انسان کو ان کی قبروں سے نکال میدان حشر میں جمع کیا جائے گا ـ
    مزید یہ کہ دورفتن سے متعلقہ متواتر صحیح احادیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان آخری اور فیصلہ کن معرکہ ارض فلسطین میں ہو گا ـ جس مسیح موعود کے انتظار میں انہوں نے عیسی علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا ہے اور اپنے زعم باطل میں انہوں نے ان کو سولی دے دی وہی مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں نازل ہو کران کے چھوٹے مسیح،مسیح دجال سے اس سرزمین کو پاک کریں گے ـ انتہی

    کمپوزنگ و پروف ریڈنگ /
    عکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں