غیر اسلامی شعائر ورسوم کی نقل و تقلید سے احتراز کی ضرورت

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    غیر اسلامی شعائر ورسوم کی نقل و تقلید سے احتراز کی ضرورت


    يا أيها الذين آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكافرين عذاب أليم 104
    ''یہ آیت جس کی ابھی میں نے تلاوت کی ، جس کا سیدھا ترجمہ یہ ہے کہ ''ائے ایمان والو'' راعنا'' نہ کہو '' انظرنا '' کہو اور(دھیان کے ساتھ)سنو!اور کافروں کے لئے دکھ دینے والا ـ''عذاب ہے ''

    ہمیں معلوم ہونا چاہیے اور جس کو معلوم ہو اس کو حافظہ میں تازہ کرلینا چاہیے کہ یہ آیت کس موقع پر نازل ہوئی اور ہم سے کیا مطالبہ کرتی ہے اس میں ہمارے لئے کیا پیغام ہے''راعنا '' عربی کا صحیح اور فصیح لفظ ہے جس کے معنی ہیں ''ذرا ہمارا خیال کیجئے '' ذرا سی (سننے والوں کی )رعایت کی کیجئے اور انظرنا بھی عربی کا صحیح اور فصیح لفظ ہے جس کا مفہوم ہے کہ ذرا سا ہمارا انتظار کیجئے ، ذرا دیکھ لیجئے کہ ہم نے سنا ، یا نہیں ، دونوں عربی کے لفظ ہیں ، دونوں فصیح ہیں ،
    لیکن قصہ کیا ہے کہ ایک سے اللہ تعالی منع فرماتا ہے اور اس کتاب میں جو قیامت تک پڑھی جانے والی ہے،اس ممانعت کو جگہ دی جاتی ہے وہ دوربھی ختم ہوا ،، قرآن شریف بہت سے ایسے ملکوں پڑھا پڑھایا جاتا ہے جہاں عربی زبان نہ بولی جاتی ہے نہ سمجھی جاتی ہے ، پھر اس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی اوراس کو قیامت تک اور ہرملک میں پڑھی جانے والی ،ہرزبان میں ترجمہ کی جانے والی کتاب میں کیوں شامل کیا گیا ، یہ سوچنے کی بات ہے ، اس لفظ کا قصور کیا ہے کہ اس سے منع کیا جاتا ہے اور اسی کے ہم معنی لفظ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے کہ بجائے اس لفظ کے یہ لفظ کہو ـ قصہ یہ ہے کہ جن جماعتوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہمارے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی جاتی رہی ہے ، اوروہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتی ہیں وہ اپنے دل کا بخار باتوں باتوں میں چٹکی لینے میں ، طنزیہ اور ذو معنی الفاظ بولنے میں نکال لیتی اور اپنا دل خوش کرلیتی ہیں ، ہماری اردو میں بھی ایسے الفاظ ہیں جومعصوم اور دیکھنے میں باوقار ہیں ، مگر مذموم معنی میں استعمال ہوتے ہیں مثلا،، جیسے آپ بڑے استاد ہیں ،فلاں ذات شریف ہے '' میں چونکہ لکھنؤ میں رہتا ہوں ، وہاں اس سے سابقہ پڑتا رہتا ہے، یہودیوں کا طریقہ تھا کہ جب دربار نبویﷺمیں آتے تھے اور گفتگو کا سلسلہ جاری ہوتا ، تو کہتے تھے '' راعنا''(ذرا ہماری رعایت کیجئے)وہ اس لفظ کو ذرا دبا کرکہتے تو ''راعینا'' بن جاتا جس کے معنی ہوتے ہیں ، ہمارا چرواہا ' جو صاف ذہن و دل کے لوگ ہیں ، ان کا ذہن بھی ادھر بھی منتقل نہیں ہوتا کہ اس میں چٹکی لی گئی ، یہودیوں کی نظر میں اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کی اولاد کے علاوہ سب دوسرے درجہ کے انسان اور جمادات وحیوانات کی سطح کے لوگ ہیں ، غیر یہودی کے لئے جنٹائل کا لفظ ابھی تک موجود ہے ـ جس کے معنی غیر یہود یا صابی ـ وہ سمجھتے تھے کہ اُمِیین کے ساتھ جس طرح کا معاملہ کیا جائے جائز ہے ـ جھوٹ بولا جائے تو جھوٹ نہیں ، ان کی کوئی چیز دبالی جائے تو چوری نہیں،ان کو دکھ دیا جائے تو گناہ نہیں ،''لیس علینا فی الامین سبیل'' ہم سے امیین کے بارے مں کوئی مواخذہ نہیں ہوگا ''صحابہؓ کا ذہن اس طرف نہیں گیا،مگر اللہ علیم و خبیر ہے،وہ لحن القول کو بھی سمجھتا ہے ، یعنی جوباتیں چبا کر اور ذرا اخفاء واشباع کے ساتھ کہی جاتی ہیں،ان کو بھی جانتا ہے ـ اللہ نے صحابہؓ کو ہدایت کی عربی زبان بہت وسیع ہے،بجائے"راعنا" کے "انظرنا"کہا کرو اس میں کوئی اشتباہ نہیں ـ
    خیال فرمائیے کہ جب ایک لفظ کے بارے میں اللہ احتیاط کی تعلیم دیتا ہے ، تاکہ یہودیوں سے مشابہت نہ ہو،اور ایسا لفظ نہ نکلے جو مقام نبوت کے شایان شان نہیں ، توغیر مسلمموں کے رسوم وشعائر اختیار کرنےکا (جن میں ان عقائد دیومالا ، اور فلسفے کا عکس ہے ) کیاجواز ہو سکتا ہے ـ یہی اس آیت کے مستقبل جزء قرآن ہونے کی حکمت ہے ، آپ نے اس رمضان میں جو تراویح پڑھی اس میں بھی یہ آیت پڑھی ہوگی ، اور چھوٹ جاتی تو قرآن نامکمل رہ جاتا ، اور اس کو آخر میں پڑھنے کی تاکید کی جاتی ، یہاں یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ انصار اور مہاجرین نہ رہے تو اس آیت کے باقی رہنے کی کیا حکمت اور افادیت ہے ـ
    میں اس کا جواب دوں گا کہ یہ اس لیے کیا گیا تاکہ ہمیشہ کے لئے یہ حقیقت ہمارے پیش نظر رہے کہ جب ایک لفظ کا استعمال(جو کہ دوسری قوم کاحربہ ہے) درست نہیں تو دوسری قوں کے مخصوص عادت ، اور ان کے شعائر و رسوم کو اختیار کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے ـ اب یہ منطق کیسے درست کہی جا سکتی ہے کہ بھائی بعض قوموں اور فرقوں کا جلوس نکلتا ہے ، جس سے ان کے قومی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے،ہم بھی جلوس نکالیں ، ان کے یہاں جھنڈا اٹھتا ہے ہم بھی اس کے مقابلہ میں مزارات پر پنکھے لے جائیں ـآنحضرت ﷺنےعمرؓ کی تعریف فرمائی کہ عمرؓ جس راستہ سے چلتے ہیں ،شیطان اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے-ہمیں سبق لینا چاہیے کہ ایسی چیزوں سے ہم احتراز کریں جو ہمیں کسی گمراہی یا غلط فہمی میں مبتلا کردے،توحیدواتباع سنت کے راستہ ہمارے قدم ڈگمگا جائیں اور ہم دوسری سرحد میں جا پڑیں ، جب ایک لفظ کے بارے میں اللہ کی غیر ت کو حرکت ہوئی،اور اس نے یہ پسند نہیں کیا کہ مسلمان راعنا کا لفظ استعمال کریں جو ہزاروں برس سے بولا جارہا تھا ، اور ابھی تک عربی زبان و لغت میں موجود ہےتوغیرمسلموں اور جاہلی اقوام کےشعائر و رسوم کےاختیار کرنے،اور ان کی نقالی اورریس کرنےمیں اللہ تعالی کی غیرت کیوں جوش میں نہ آئے گی،ہندوستان کے غیر مسلم باشندوں نے جب مذہب کی گرفت ڈھیلی ہوگئی یا چھوٹ گئی ،اپنے معاشرہ(سماج) کا اپنے مذہب سے (جس کو وہ دھرم کہتے ہیں ) رابطہ قائم رکھنے کے لئے اس طرح کے جشن ، رونق کی چیزیں ، اور اجتماع کے مواقع ایجاد کیے ، اس لئے کہ اس کے بغیر ان کے دھرم سےان کے سماج کا ربط قائم نہیں رہ سکتا تھا ، وہاں واقعہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی آسمانی دین میں یہ اعلان موجود نہیں کہ اب دین مکمل ہو گیا ، اس خلا کو وہ مذاہب اور ملتیں خود محسوس کرتی تھیں ـ اس لئے کہ روز کوئی نہ کوئی نبوت کا دعویدار کھڑا ہو جاتا تھا ، اور کہتا تھا کہ میں نبی ہوں ، یہودی اور عیسائی مورخین و فضلاء اپنے مضامین میں سرپکڑ کر روتے اور فریاد کرتے نظرآتے ہیں کہ کیا مصیبت ہے کہ روز ایک مدعی نبوت کھڑا ہو جاتا ہے ، اور یہودیوں اور عیسائی معاشرہ میں ایک انتشار اور افتراق پیدا ہوجاتا ، اور ایک مسلمہ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے ، اس نے کہا کہ اتنی بڑی نعمت اللہ تعالی نے آپ کو عطا کی ، جس سے انتشار اور روز روز کا جھگڑ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ، لیکن تعجب ہے کہ جس آیت کے ذریعہ آپ کو یہ انعام ملا ، اور اس کا اعلان ہوا ، آپ اس کا جشن نہیں مناتے ؟ عمرؓ نے اس کا سیدھا سا جواب دیا ، جو دین کا رمزشناس اور درسگاہ نبوت کا اعلی تربیت یافتہ ہی دے سکتا ہے ، فرمایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آیت کب اور کہاں نازل ہوئی ، یہ عرفات میں نویں ذی الحجہ کو نازل ہوئی،عمرؓ نے اتنا مسئلہ اللہ کے سامنے اظہار عبودیت یا بندگی کا نہیں تھا ـ اب کیسے معلوم ہو کہ یہ ہندو ہیں ، اور ان کا بھی ایک دھرم ہے ، اس کے لئے انہوں نے،جلوس وغیرہ نکالے،رام لیلا،دسہرا ،ہولی،دیوالی،بنگال میں درگا پوجا کا تہوار،دکن میں گن پتی کا جلوس سب اسی قبیل کی چیزیں ہیں ـ
    اس کے مقابلہ میں اسلام کی روح ، اس کا طریق فکر ، اس کا اشعار کیا ہے ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیجئے کہ ایک دن ایک یہودی عالم عمرؓ کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے ''یا امیر المؤمنین آیہ تقرؤنھا فی کتابکم لو علینا معشر الیھور نزلت لا تخذنا ذلک الیوم عیدا''امیر المؤمنین ایک آیت ہے،جو آپ اپنی کتاب میں(بےتکلف)پڑھتےہیں کہیں اگرہم یہودی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کا ایک جشن اور تہوارمناتے،عمرؓ نے فرمایا:کون سی آیت؟ یہودی عالم نےکہا''الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی''یہودی عالم کو معلوم تھا کہ یہودی شریعت اور مذہب کی تاریخ میں اس قسم کا کوئی اعلان نہیں کہ نبوت فلاں اسرائیل نبی پر ختم ہوگئی ، یہ ہی کہا ـ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وہ پہلے سے ایک تاریخی اوریادگار دن ہے ، جس میں مسلمان جمع ہوتے اور عبادت کرتے ہیں ـ دوسرے یہ بھی مفہوم نکلتا ہے کہ وہ کس دن نازل ہوئی ، لیکن ہم اس دن کو اس کا تہوار نہیں بنائیں گے ، اس لئے کہ آنحضرتﷺ نے ہی عیدیں مانی ہیں ، اور امت کو عطا کی ہیں ، ایک عیدالفطر اور ایک عید الاضحی ، آپ نے فرمایا کہ اللہ نے ہمیں غیر مسلموں کے تہواروں کے مقابلہ میں دو تہوار دئیے ہیں،ایک عیدالفطرکا ،ایک عید الاضحی کا،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں ان کے علاوہ کوئی مستند اور مشروع تہوارنہیں ـ یہ بھی خیال رہے کہ غیر مسلموں کے تہوار کھل کھیلنے ، دھوم مچانے اور رنگ رلیاں منانے کے لئے ہیں ـجن میں آدمی خدا کو بھول جاتا ہے ، اور اپنے آپ کو بھی ، اور بعض اوقات تہذیب و اخلاف کو بھی اس کے برخلاف اسلامی تہواروں عیدین کی شان یہ ہے کہ چاشت کی نماز ، فرض و واجب تو کیا ، سنت مؤکدہ بھی نہیں تھی ـ لیکن دونوں دنوں میں اسی چاشت کے وقت میں ایک نئی نماز دوگانہ عید کا اضافہ کیا گیا ، اور اس کو سنت مؤکدہ قرار دیا گیا ، ہر نماز میں دو تکبیریں ، ایک تکبیرتحریمہ اور ایک تکبیر رکوع ہوتی ہے ـ دوگانہ عید میں اور ان دو تکبیروں کے علاوہ تین تکبیریں اور بڑھا دی گئیں ـ یہ اچھا تہوار ہوا ، نماز بھی بڑھا دی ، اور نماز میں تکبیروں کی تعداد بھی بڑھا دی ، اور ایک خطبہ کا بھی اضافہ ہوا ، یہ ہے اسلامی تہواروں کی خصوصیت ـ
    حضرات ! آپ ایک دینی درسگاہ اور ایک جامعہ کے استاد وطالب علم ہیں ـ آپ کا فرض ہے کہ اس بات کی چوکسی اور چوکیداری کریں کہ مسلمان راعنا تو نہیں کر رہے ، راعنا کہنے سے اور راعنا کرنا اور بھی برا ہے ، مسلمانوں کی یہ ذہنیت تو نہیں ہوگئی کہ صاحب فلاں قوم فلاں فرقہ فلاں چیز کا جلوس نکالتا ہے ، ہم اس کے مقابلے میں فلاں چیز کا جلوس نکالیں ـ یہ طرز عمل راعنا کہنے سے بھی بدتر ہے ـ اس لئے کہ راعنا تو ایک لفظ تھا ، جو ہوا میں اڑ کر رہ جاتا ہے ، لیکن جو چیز غیر مسلموں کی نقل میں کی جائے گی وہ عملی راعنا ہے اور اس کا اثر عقائد و اعمال ، اور تمدن و معاشرت پر پڑے گا ، علماء کا فرض ہے کہ جس وقت بھی کوئی ایسی بدعت ، کوئی منکر اور غیر مسلموں کی تقلیدکی دعوت سامنے آئے تو صاف کہ دیں کہ اسلام کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ، یہ اسلام کی روح اور تعلیمات کے منافی ہے ، آج درگاہوں اور مزاروں پر جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ زیادہ تر غیر مسلموں کی نقل ہے ، ان اعمال و رسوم و بدعات کی تاریخ موجود ہے ، جن سے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کب اور کہاں سے شروع ہوئیں اور ان کے کیا محرکات تھے ـ دین کی روح عبادت ہے دین کی روح انابت الی اللہ ہے ، دین کی روح توحید ہے ، دین کی روح سادگی ہے ، دین کی روح وہ ہے جس سے کرنےوالے کو بھی فائدہ پہنچے ، دوسروں کو بھی ـ عیدالاضحی میں نماز تو نماز قربانی بھی رکھ دی کہ محلہ اور گاؤں میں بہت سے لوگ ایسے ہونگے جو گوشت کو بھی ترستے ہیں ـ مہینوں گذر جاتے ہیں ، ان کو گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا ـ آج پیٹ بھر کر گوشت کھا لیں اور ابراہیم و اسماعیل اور آنحضرتؓ کی سنت بھی ادا ہو جائے گی ـ
    خاص کرعلماء کا فرض ہے کہ اس پر کڑی نظر رکھیں کہ اسلامی معاشرے میں کوئی راعنا د بے پاؤں تو نہیں چلا آرہا ہے ؟ جہاں آئے وہیں اس کو روک دیں آپﷺ نے امت کو وصیت کرتے ہوئے صاف فرمایا '' وقال -صلى الله عليه وسلم-: عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي عضوا عليها بالنواجذ .(روایت عرباض بن ساریہ ، مشکواتہ شریف ) ـ میری اور خلفائے راشدین کی سنت کی -پیروی کرو جو ہدایت یافتہ تھے اس کو مضبوط ہاتھوں سے تھام لو اور دانتوں سے دباؤ ـ ہمارے مدارس کا فائدہ اصلی غرض و غایت یہی ہے کہ وہ دین کے چوکیدار ، راتوں کو پہرہ دینے والے پیدا کریں ، اگر وہ بھی ہرکہ درکان نمک رفت نمک شد"کا مصداق بن جائیں اور ہر شرعی اورغیر شرعی کام میں عوام کا ساتھ دینے لگیں بلکہ قیادت کرنے لگیں تو پھر بقول شاعر –
    چوکفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی
    اگرعربی زبان پڑھی اور اس سے نوکری مل گئی تو پھر انگریزی اور عربی میں کیا فرق ہوا ،علماء کو ورثة الانبیاء کہا گیا ہے اور انبیاءدین کے پاسبان ، اور اس کے بارے میں سخت غیور اور ذکی الحس ہوتے ہیں ،" موسی علیہ السلام سے یہودیوں نے فرمائش کی کہ ''اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ـ ''ہمارے لئے بھی کوئی ایسا رونق اور جشن والا محسوس و مرئی معبود تجویز کردیجئے جیسے ان قبطیوں اور مصریوں کا ہے ، تو انہوں جلال میں آکر کہاکہ ''إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿١٣٨﴾ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ‌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٣٩﴾ ''(سورہ اعراف )تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو ، یہ لوگ جس شغل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ برباد ہونے والا ہے ـ اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بے ہودہ ہیں "ـ بعینہ اسی طرح کا واقعہ اور اسی جاہلی و تقلیدی ذہنیت کا ظہور ایک سفر میں عہد رسالت میں بھی ہوا ، عرب کے بعض قبائل کو ایک بڑے اور سرسبز درخت سے جس کا نام ذات انواط تھا ، خاص عقیدت تھی ، وہ اس میں اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ، اور اس کے نیچے قربانیاں کرتے تھے ، ایک دن وہاں قیام کرتے تھے ، غزوہ حنین کے موقع پر بعض ایسے مسلمانوں کے (جن کو اسلام لائے ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے )اس کو دیکھ کر منہ می پانی بھر آیا اور بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا ـ''یارسول اللہ ﷺ ہمارے لئے بھی ایک ایسا ہی مرکز عقیدت تجویز فرما دیجئے ، جیساکہ ان قبائل کے پاس ہے ، آنحضرت ﷺ کو یہ سن کر بڑاجلال آیا اور فرمایا کہ یہ تو موسی علیہ السلام کی قوم کا سا قصہ ہوا ، بے شک تم اپنی پیش روقوموں کی ایک بات اور طریقہ کی پیروی کرو گے(سیرت ابن ہشام ،ج 2 ص 442 اصل روایت صحاح میں بھی ہے ) ''
    علماء میں ایسا دینی جلال ،اور توحید و سنت کے بارے میں غیرت اور حمیت ہونی چاہیے ـ اور ہمارے مدارس عربیہ و دینیہ یہی عنصر اور جنس پیدا کرنے کےلئے قائم ہوئے تھے، اور ان کو اپنی یہ خصوصیت ہمیشہ برقرار رکھنی چاہیے ـ

    واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ـ

    طباعت /
    عُكاشة
    تحریر /ابوالحسن ندوی
    بشکریہ ، تعمیر حیات لکھنؤ
    25 اپریل 1996
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں