میرے پیارے نبی ﷺ کی بتائی دو عیدیں ہی کافی ہیں

عائشہ نے 'ماہِ ربیع الاوّل' میں ‏جنوری 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    مجھےمیرے پیارے نبی ﷺ کی بتائی ہوئی دو عیدیں ہی کافی ہیں ۔
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]

    [​IMG] [​IMG]
     
    Last edited: ‏دسمبر 8, 2016
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا سسٹر

    آج ابھی کچھ دیر پہلے ٹی وی ون پر ایک پروگرام دیکھ رہا تھا جہاں تقریبا پانچ یا چھ علماءکرام بیٹھے تھے جو کہ سب کے سب قادری تھے ، جن کا کہنا تھا کہ یہ خوشی منانا جائز ہے ، مزید انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا موت ایک لمحے کے لیئے آئی تھی پھر اُن کو حیات کر دیا اور وہ اپنے مزار مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں زندہ ہیں جیسے ہمارے برے غوث اعظم اور فلاں زندہ ہیں ، مزید جہالت میں ڈوبی ایک اور بات کہی انہوں نے کہ موت کا سوگ تین دن کا ہے تو ہم کیسے سوگ منا سکتے ہیں اس لیے ہم خوشی ہی مناتے ہیں۔

    مزید انہوں نے کہا کہ ایک دن کسی صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پیر کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں کہ میں اس دن پیدا ہوا تھا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    جزاک اللہ
    ھمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی گئی دوعیدیں ھی کافی ھیں ۔ الحمد للہ ۔ ابولہب کی تیسیری میلادیوں کو مبارک ھو ۔
     
    • متفق متفق x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    یہی تو تضاد ہے بھائ۔ یہ ہر کام سنت کے خلاف کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی پیدائش کے دن روزہ رکھنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عید منانے کا موقع نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    اللہ ان کو هدایت دے اور ان کو کوئ بتاے کہ خود هی کہہ رهے هیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سونوار کو روزه رکهتے تهے اس لیئے کہ ان کی پیدائش کا دن تها . اگر تهوڑی سی بهی عقل هو تو سمجه لیں کہ پهر عید والے روزہ رکهنے سے منع فرمایا هے .تو یہ لوگ بهی عید نہ منایئں روزہ رکهیں وہ سونوار کا 12 ربیع الاول کا نہیں .
    جزاک اللہ خیرا عین سسٹر
    همیں الحمدللہ دو عیدیں هی کافی هیں جس کا حکم همیں همارےنبی صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نےدیا هے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پیر کے دن روزہ رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ اللہ کے حضوربندوں کے اعمال پیراورمنگل کوپیش کئے جاتے ہیں اوربریلوی حضرات نے اس حدیث کومیلادکے معنی میں لے لیاہے جبکہ کسی بھی محدث نے اس حدیث کی یہ تشریح کی ہی نہیں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    بس بابر بھائی اللہ تعالی ہی ایسے لوگوں کو ہدایت دے جو علم کو حاصل تو کر لیتے ہیں مگر اُسے چلاتے اپنے طریقوں سے ہیں، ایسی ایسی باتیں فیس بُک پر پڑھنے اور دیکھنے کو ملی کہ شرم کے مارے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟

    بس ایسے جہالت میں ڈوبے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم میلاد کروا کہ پیر اور منگل کو پیش کیئے جانے اعمالوں میں ہمارا نام سب سے آگے ہو :00010:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    وایاک۔ ہمیں ہر غیر اسلامی تہوار کے بجائے دو عیدیں ہی کافی ہیں کیوں کہ یہ ہمارے اللہ عزوجل نے ہمیں عطا کی ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. حسیب رزاق

    حسیب رزاق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 8, 2013
    پیغامات:
    103
    پیر اور منگل؟؟؟؟؟؟؟
    یا
    پیر اور جمعرات؟؟؟؟؟؟؟
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    جزاک اللہ خیرا
    پیر اور جمعرات ہی ہے ۔'' منگل'' شاید غلطی سے لکھا گیا ہے اس لیے درگزر کریں‌۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    آج هی کوئ بتا رها تها کہ کیو ٹی وی پر بتایا هے کہ سونوار جمعرات اور جمعہ تین دن همارا نامہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کیا جاتا هے اس وجہ سے تین دن همیں روزہ رکهنا چاهیئے ... اللہ هدایت دے جو دین میں هے اتنا تو کرنا هی نہیں کم یا زیادہ تو ضرور کرنا هے .جمعہ کہاں سے لیا اور کہاں سے بتا رهے هیں اللہ هم سب کو هدایت دےدے آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    سبحان اللہ یہاں عید میں روزے نکل آئے ہیں : )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاکم اللہ خیرا
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    اس کا کوئی حوالہ؟
     
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جی اس حدیث میں ایک نہیں دو سبب ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  17. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    درست فرمایا سسٹر۔ یعنی ایک سبب یہ بھی تھا ۔ ساجد تاج نے مکمل حدیث بیان نہیں کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    وایاکم۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    اہل بدعت کے لیے ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کی سنت تازہ کرنا مشکل ہے، لیکن وہ سالانہ چراغاں پر فضول خرچی کر کے شیطان کو خوش ضرور کر سکتے ہیں۔ جب کہ قرآن کہتا ہے فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔
     
    • متفق متفق x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں