تقسیم سے قبل ہندو اور مسلمانوں کے تعلقات کا حال

عائشہ نے 'نثری ادب' میں ‏مارچ 23, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    تقسیم سے قبل ہندومسلم تعلقات کا حال

    آواز دوست کے ایک حصے سے جہاں ملا واحدی کی یادیں درج ہیں ایک قتباس :
    ’’ آپ نے دلی تو دیکھی ہو گی ۔ دلی دروازے کے بائیں جانب محلہ در محلہ مسلمانوں کی آبادی تھی ، اور بائیں طرف ہندو آباد تھے ۔ ہندوؤں کے حصے میں صرف تین مسلمان رہتے تھے۔ ایک ممتاز علی رئیس جو نواب اسماعیل کے رشتہ دار تھے ۔ بس ایک کوٹھی فیض بازار کے اس طرف بنا لی تھی ۔ دوسری کوٹھی ڈاکٹر انصاری کی تھی جس میں انجمن ترقی اردو کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ انجمن کو ان دنوں وہاں گھسنے کون دیتا وہ تو مسلمان کا مکان تھا اس لیے ہندو کچھ کہہ نہ سکے۔ تیسرا مسلمان جو وہاں رہتا تھا جوش صاحب تھے ۔ وہ کبھی کبھی میرے یہاں آتے ۔ ان کے ساتھ ہمیشہ آزاد انصاری ہوتے جو خود بھی شاعر تھے ۔ جوش کیسے اس حصے میں آباد ہوئے اور کیا کام کرتے تھے اس کا مجھے علم نہیں ۔ دہلی میں مکان پرانی طرز کے ہوا کرتے تھے اگر چہ بالا خانوں کا رواج تھا مگر جدید طرز کے رہائشی فلیٹ ا بھی استعمال میں نہ آئے تھے۔ ہندوؤں نے اپنے کچھ حصے میں پہلی بار کچھ فلیٹ بنائے جن کے نئے پن کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں نے بھی انہیں کرائے پر لینا چاہا ۔ ان میں میرے بھانجے فرید بھی شامل تھے۔ فرید سرکاری ملازم تھے ۔ ہندوؤں نے انہیں بھی انکار کر دیا ۔ فرید کی حلال خوری یہ عجیب بات ہے کہ فرید کو بچپن ہی سے گوشے اجتناب ہے اور وہ سبزیاں کھاتا ہے ۔۔۔[کچھ متن غائب ہے ]۔۔۔ ہندوؤں کے ان فلیٹوں میں بھی کام کرتی تھی ۔ اس نے مالکوں سے کہا ، آپ فرید کو کیوں آباد نہیں کرتے وہ تو ماس بھی نہیں کھاتے ۔ مالکوں نے جواب دیا : فرید تو ماس نہیں کھائے گا مگر کیا اس کے گھر والے اور اس کے گھر آنے والے بھی نہیں کھائیں گے؟
    یہ ان دنوں دہلی میں ہندو اور مسلمانوں کے تعلقات کا حال تھا۔
    میں نے یہ واقعہ آصف علی [بیرسٹر] کو سنایا اس وقت ان کے گھر پر مفتی کفایت اللہ بھی آئے ہوئے تھے ۔ ۔۔ آصف علی کہنے لگے کہ ارونا [آصف کی ہندو بیوی] نے ایک مسلمان کے لیے شنکر لال کا ایک گھر کرایے پر لینا چاہا ۔۔۔ شنکر لال نے ارونا کے بیچ میں پڑنے کے باوجود مسلمان کو مکان کرایے پر دینے سے انکار کر دیا تو مفتی صاحب کہنے لگے، واحدی صاحب حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ آنے والا زمانہ مسلمانوں کے لیے کتنا خراب اور تکلیف دہ ہو گا ۔ مفتی صاحب نے جو یہ بدلتے اور بگڑتے حالات دیکھے تو جمعیۃ العلمائے ہند سے استعفی دے دیا ۔ مسلم لیگ میں تو شامل نہ ہوئے لیکن سیاست سے کنارہ کش اور کانگرس سے دل برداشتہ ہو گئے ۔ آزادی کے ایک دو برس بعد انتقال کیا۔۔ ۔‘‘
    آواز دوست : مختار مسعود
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں