اسرائیل:یہودی انتہا پسندوں کو دہشت گرد قراردینے کی مخالفت

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏مئی 2, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اسرائیلی پولیس نے امریکا کی جانب سے یہودی انتہا پسندوں کے فلسطینیوں پر حملوں کو عالمی دہشت گردی سے متعلق رپورٹ میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات کو جنگجوؤں کے حملے سے نہیں جوڑا نہیں جاسکتا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی 2013ءکی دہشت گردی سے متعلق رپورٹس میں پہلی مرتبہ فلسطینیوں کے خلاف نسل پرست یہودیوں کے حملوں کو بھی شامل کیا ہے۔یہ رپورٹ بدھ کو شائع کی گئی ہے۔

    اس رپورٹ میں ایک غیر سرکاری تنظیم اور اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں ،ان کی املاک اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان حملوں کے ذمے داروں سے کوئی بازپرس نہیں کی جاتی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں دہشت گردی کے حملوں کا جو خاکہ بیان کیا گیا ہے،غرب اردن میں پیش آنے والے واقعات اس زمرے میں نہیں آتے ہیں اور قومیت پرستی کے محرکات پر مبنی مجرمانہ واقعات اور دہشت گردی کے واقعات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے تین سو ننانوے حملوں کی اطلاع دی ہے جن کے نتیجے میں بیسیوں فلسطینی زخمی ہوگئے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متشدد انتہا پسند یہودی آبادکاروں نے غرب اردن اور مقبوضہ مشرقی القدس میں پانچ مساجد اور تین گرجا گھروں پر حملے کیے اور ان میں گھس کر توڑ پوڑ کی۔

    یہودی آباد کار ایسے حملوں کو بدلے میں قیمت چکانے کا نام دیتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ آبادکاروں کے خلاف پالیسیوں کے ردعمل میں یہ حملے کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران انتہا پسند یہودیوں کے حملوں کا سلسلہ مغربی کنارے سے اسرائیل تک پہنچ چکا ہے اور صہیونی ریاست میں دائمی آباد فلسطینیوں کو بھی ان حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    البتہ اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے ایسے کیسوں میں ملوث افراد کا پیچھا کرنے کے لیے خصوصی یونٹ تشکیل دیے ہیں۔صہیونی حکومت نے ان حملوں کے ذمے دار گروپوں کو غیر قانونی تنظیمیں قرار دے دیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے حکام کو وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں۔

    مسٹر میکی روزنفیلڈ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی تحقیقات جاری ہے اور گذشتہ ماہ شمالی اسرائیل میں ایک مسجد پر حملے کے الزام میں چار یہودی آبادکاروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور انھیں ان کے گھروں میں نظربند کردیا گیا ہے۔


    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2014/05/01/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%DB%8C%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7-%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF-%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA.html
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں