عوام الناس میں اخوانی نظریات مقبول کیوں؟

اہل الحدیث نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مئی 10, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    موجودہ دور میں‌ دنیا میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اخوان المسلمون سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد کافی ہوتی جا رہی ہے۔ اس تھریڈ میں اس کی چند ایک وجوہات ذکر کی جائیں گی کہ اخوان کے نظریات بھی درست نہیں، طریقہ کار بھی درست نہیں تو کیا وجہ ہے کہ کتاب و سنت کے نام لیوا بھی ان کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    میرے خیال میں اس کی چند بڑی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

    1-ہماری عوام اکثریت بنیادی دینی تعلیمات سے ناواقف ہے۔ جس کی بڑی وجہ ابتدائی دور میں دینی تعلیم حاصل نہ کرنا ہے۔ نصاب میں موثر دینی تعلیم نہ ہونا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ اس وجہ سے وہ دین کو اس طرح سیکھنے سے لاعلم رہتے ہیں، جس طرح سیکھنے کا حق ہے۔ دوسری طرف اخوان یا ان جیسی دوسری تنظیموں میں اکثر ایسے لوگ موجود ہیں، جو باقاعدہ علماء نہیں لیکن مختلف اور متنوع موضوعات کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور چونکہ ان کی ذہنی سطح خود بھی پست ہی ہوتی ہے، اس لیے اپنے سے کم سطح کے لوگوں کو سمجھانا ان کے لیے مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک ایف ایس سی کے طالب علم کے لیے میٹرک کے بچے کو سمجھانا آسان ہوتا ہے بہ نسبت ایک پی ایچ ڈی ، میٹرک کے بچے کو سمجھائے۔

    2- اخوانی نظریات کے حامل مفکرین، عوام کے معیار پر آ کر انہیں سمجھاتے ہیں جب کہ ہمارے اکثر علماء جن کا معیار عوام سے کافی بلند ہوتا ہے، عوام کے معیار پر نہیں آتے، جس کی وجہ سے عوام انہیں سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔

    3- کم علمی کے باعث ہماری عوام دینی امور میں محنت کرنے سے بھاگتی ہے اور پکا پکایا کھانا تلاش کرتی ہے، جو انہیں اخوانی نظریہ کے حامل علماء کی کتب کے ذریعے ملتا ہے جب کہ دوسری جانب صحیح احادیث کا ترجمہ انہیں پڑھنے کو دیا جائے تو انہیں سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ احادیث کی مناسب شرح بھی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے عوام میں‌سمجھ میں‌ وہ باتیں نہیں آتیں۔

    4-اخوانی علماء کی کتب حالات حاضرہ اور سیاست سے متعلقہ ہوتی ہیں، جو عوام کو روزمرہ زندگی میں کافی شعور دیتی ہیں جب کہ شارحین حدیث کی اکثر کتب، اس طرح کی علمی باتوں اور موقف سے خالی ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں عوام کو ان کی سمجھ نہیں آتی۔

    5- ہمارے علماء کا زیادہ تر زور اپنی تقریر و تحریر میں اپنی زبان و بیان کی مہارت ثابت کرنے میں ہوتا ہے جب کہ مخاطب کو سمجھانے پر توجہ کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام انہیں سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔

    6- اخوان کے نظریات میں بہت حد تک انتہا پسندی پائی جاتی ہے، اور ہماری اکثر عوام بھی کم علمی اور معاشرے کی ناانصافیوں کی وجہ سے انتہا پسندانہ سوچ کی طرف مائل ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنی طبیعت کے موافق جو چیز ملتی ہے، اسے لے لیتے ہیں۔

    7- اخوانی نظریات کے حامل سکالرز ، عموماً دنیاوی تعلیم کے اعتبار سے کافی ماہر ہوتے ہیں اور مغرب سے مرعوبیت کے نیتجے میں‌ ہماری عوام بھی اس شخص کی بات بہت غور سے سنتی ہے جو اعلیٰ دنیاوی تعلیم کا حامل ہو، انگریزی زبان کا استعمال اپنی گفتگو اور تحریر میں کافی کرے اور مثالیں بھی ان کی کتابوں سے بیان کرے۔ اس کے برعکس جب کسی عالم دین کی بات سننے کی باری آتی ہے تو یہ کہہ کر انکار کر دیا جاتا ہے کہ یہ کامیاب لوگ نہیں، یہ لوگوں کے چندے پر پلنے والے لوگ ہیں، یہ حلوہ خور مولوی ہیں، انہیں دنیا داری کا کیا علم وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ سے لوگ اخوانی نظریات کے حامل لوگوں کو کافی سنتے ہیں۔ اور اگر کوئی صحیح نظریات کا حامل ، دنیاوی تعلیم کا ماہر مل جائے تو اسے بہت پسند کیا جاتا ہے جیسا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی بات لوگ بہت غور سے سنتے ہیں۔

    8- ماں باپ بچے کو شروع سے ہی پینٹ کوٹ والا بابو، دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سب سے نالائق بچے کو مدرسہ میں بھیج دیتے ہیں اور اگر بچہ تھوڑا ذہین ہو تو کوشش ہوتی ہے کہ یہ مولویوں سے دور ہی رہے۔ اس کے نتیجے میں کس قسم کے لوگ پیدا ہوں گے، یہ آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

    میرے خیال میں یہ چند ایک وجوہات ہیں، آپ کے خیال میں اس کی کوئی اور وجہ ہے؟
     
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    آپ کی بات صحیح هے. کاش عوام میں اثر و رسوخ رکهنے والی جماعتوں می پورا دینی علم رکهنے والے علما بهی آ جا ئیں . جو دین و دنیا کو ساته لے کر چلیں.
     
    • متفق متفق x 1
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    آمین یارب العالمین
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    صرف ایک سبب ہے جہالت ، جہالت اور جہالت۔
    علم اور علماء سے دوری کی وجہ ہماری اپنی سہل پسندی ہے ۔ ہمارے عوام جاہل ہیں صرف دین میں نہیں دنیا میں بھی ، اورہم اس دینی و دنیاوی جہالت سے باہر آنا بھی نہیں چاہتے اسی لیے ہمیں دین و دنیا میں سطحی قسم کے دانشور ، پانی پر کار چلانے والے ڈپلومہ انجینئر پسند ہیں۔ علم والوں کے ساتھ چلیں گے تو عمل کرنا پڑے گا۔،خود کو بدلنا پڑے گا ، اتنی مشقت ہمارے بس کی بات ہی نہیں ۔ ہم فیل ہو نے کی وجہ سے ادھوری رہ جانے والی تعلیم پر فخر کرتے ہیں اورماہرین علم وفن اور تعلیمی اداروں کا مذاق اڑاتےہوئے بالکل نہیں شرماتے۔
    جاہل انسان کی نفسیات ہی ضد اور سر پھٹول ہے، وہ صرف اپنی انا کو پالتا ہے ، اس کو اپنی غلطی کا اعتراف ذلت لگتی ہے ، اسی لیے وہ اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے ۔ کبھی یہ نہیں مانتا کہ وہ اپنی وجہ سے پیچھے رہ گیا ہے ، اسی لیے دنیا کا سب سے آسان کام ہے کہ دوسروں سے نفرت کی جائے ۔
    آپ جہلاء کا تخلیق کردہ ادب دیکھ لیں :
    -خدا کو برا کہنا ، خدا سے نفرت کرنا { یہ ملحدین کی ذیل میں آتے ہیں }
    - حکمرانوں کو ذلیل کرنا ، یا ہر ذمہ دار کی اطاعت سے تکبر کرنا { یہ "اسلامی" انقلابیے ہیں }
    - اپنے والدین ، معاشرے اور رشتہ داروں کو ہر وقت الزام دینا اور معاشرتی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹانے کی بجائے سب کو برا کہہ کر الگ جا بیٹھنا
    اسی لیے سب اسلامی ممالک غیر اسلامی ہیں ، سب مسلم حکمران ایسے ویسے ہیں ، سب اسلامی ممالک کی سرحدیں نامقدس ہیں ، ارے بھئی وہ جیسے تیسے بھی ہیں کم از کم پچ پر کھڑے ہیں ، آپ تو سٹیڈیم سے ہی باہر ہیں ۔
    اور یہ نام نہاد مقبول جماعتیں کیا کر رہی ہیں کہ ہم انہیں حسرت سے دیکھیں؟ جماعت بنتی ہے اس کے امیر سے بغاوت پر نئی جماعت بنتی ہے ، اس کے امیر سے مزید اختلاف پر دو اور نئی جماعتیں بنتی ہیں، ان حضرات امر اءکے ناخلف کارکن " نظم جماعت" کی خلاف ورزی کر کے ایک اور جماعت کے امیر بن جاتے ہیں ۔۔۔ اور ۔۔۔مزے کی بات ہر اتھارٹی کا انکار کرنے والے اپنی جماعت میں" اطاعت امیر" کا "سخت نظم " قائم کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ نتیجہ کیا ہے ہر اسلامی ملک میں درجنوں جماعتیں اسلام قائم کر رہی ہیں ۔ منہ سب کے اپنے تخلیق کردہ قبلوں کی طرف ہیں ۔ لگے رہیں ۔ ان کے لائے ہوئے انقلاب بس ڈھائی سال ہی چل سکیں گے ۔ اس کے بعد وہی سڑکیں ناپنے کا کام ہو گا۔
    یہ دینی جاہل ہیں ، دنیاوی جاہل ڈٹ کر بجلی چوری کرتے ہیں، اور لوڈشیڈنگ ہونے پر احتجاج کرنا بھی اپنا حق سمجھتے ہیں ، عید کے عید ، میلاد کے میلاد روحانیت کا حصہ بھی نکال لیتے ہیں ۔ اتنی صدیوں میں دنیا علم کی بنیاد پر کہاں جا پہنچی مجال ہے جو ہماری ڈگر بدلی ہو۔
     
  5. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    بالکل جہالت ایک سبب ہے جس کا مختصراً میں نے ذکر بھی کیا تھا لیکن اصل بات ہے کہ مدارس و جامعات کے طالب علم بھی ایسے مفکرین سے متاثر ہو کر رہتے ہیں یا ان کے نظریات میں ویسا ہی تشدد پسندانہ رجحان پایا جاتا ہے جیسا کہ ان مفکرین یا ان کے پیروکاروں میں‌پایا جاتا ہے۔ اور جن طلبہ میں نہیں پایا جاتا، ان کی اکثریت اپنے کنویں سے باہر نکل کر دیکھتی ہی نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ عصر حاضر میں سلفی فکر کو اس سے باہر کیسے نکالا جائے؟
    عوامی نقطہ نظر سے اور مدارس کے طلاب العلم کے نقطہ نظر سے؟
    عوام نے تو اپنا حال کھول دیا کہ انہیں کچھ نہیں آتا، اور نہ ہی وہ سیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ اہل علم کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان کے پسندیدہ انداز میں صحیح منہج ان تک پہنچائیں؟
    اگر ہاں تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    پہلی بات: ہمیں یہ کہنے کے لیے مستند اعداد وشمار چاہئیں کہ مذہبی سیاسی جماعتیں عوام میں اثر رکھتی ہیں ۔ میرا خیال ہے اتنا نہیں رکھتیں ۔
    دوسری بات: دینی سیاسی جماعتوں پر عہدوں کے حریص لوگوں کا قبضہ ہے جنہوں نے جینوئن علماء کرام کو دھکے دے کر ان جماعتوں سے نکالا۔ اسی وجہ سے اللہ والے خاموشی سے ایک جانب علمی کام کر رہے ہیں اور سیاست میں ہاو ہو باقی ہے ۔ ایک زمانے میں میرے ذہن میں یہ سوال بار بار آتا تھا کہ آزادی سے پہلے کل ہند سیاست میں ہمیں بڑے بڑےدینی علماء نظر آتے ہیں جو آزادی اور پاکستان ہجرت کے بعد منظر سے غائب ہو جاتے ہیں، وجہ کیا ہے ؟ میرا تاثر یہ ہے کہ ہمارے حصے میں جو علاقہ آیا یہ تہذیبی اور علمی اعتبار سے پسماندہ تھا ، یہ مسلم اکثریتی علاقہ ضرور تھا لیکن علم و تمدن میں پسماندہ تھا۔صد افسوس یہاں علم کی قدر کا رجحان اب بھی کم ہے ۔ اسی رجحان کے زیر اثر یہاں آکر وہ لوگ رل گئے جو ہندوستانی سیاست کے افق پر چمکتے تھے ۔ بنگلہ دیش کی علحدگی کیا صرف دشمن کی سازش تھی ؟ ان کوایک شکوہ یہ تھا کہ ہمارے لوگ انسان کی قدر صرف جائیدادوں اور اقتدار کے سبب کرتے ہیں ۔ میرے مطالعے کے مطابق یہ اس خطے کے مزاج کے بارے میں حقیقت ہے ۔ دینی جماعتوں میں بھی رفتہ رفتہ یہی رویہ جڑ پکڑ گیا ، علمائے کرام اور علم دین کی اسی ناقدری کی وجہ سے یہ جماعتیں اہل بصیرت سے خالی ہیں۔ کیوں نہیں ان کے بڑے بڑے رہنما مل کر طالبان کا مسئلہ سلجھا سکے ؟ اس لیے کہ یہ لوگ وہ علمی و فکری بصیرت ہی نہیں رکھتے جو اس مسئلے کو سلجھا سکے لیکن اصلی علماءئے کرام کی مجلس میں جائیں تو وہاں القاعدہ و طالبان سے لے کر عالمی سیاست تک کوئی ابہام نہیں ملے گا۔ مسئلہ یہ کہ اصلی عالم کا لباس سادہ ، بیان سادہ، بات سیدھی ہوتی ہے ، ہمارے لوگ پیچ دار نمائشی شخصیتوں کے دلدادہ ہیں ۔ تو پھر قوم پر وہی مسلط ہوں گے جو ہیں ۔
    تیسری بات: مغرب کی نقالی نے دینی سیاست کو متاثر کیا ہے اور بہت بری طرح کیا ہے چاہے یہ جتنا کہیں کہ جمہوریت ہماری مجبوری ہے ، یہ لوگ بھی رائے عامہ کی تشکیل کے بجائے عوامی مقبولیت کی تلاش میں ہیں ۔ ان کے نئے دھڑے بننے میں نظریاتی اختلاف کی بجائے کرسی کا اختلاف زیادہ ہوتا ہے ۔ اگر یہ لوگ نظریاتی اعتبار سے مخلص ہوتے تو کسی نہ کسی صورت مل بیٹھتے ۔
    جب تک ہمارا ہر فرد تعلیم یافتہ نہیں ہوگا تب تک ہماری سیاست ، معیشت، تمدن ہر چیز بگڑی رہے گی۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بھیا اگر اس سے مراد سنجیدہ اور باشعور لوگ ہیں جو سلف سے نسبت کی ہیبت سے واقف ہیں تو
    الحمدللہ میرے خیال میں وہی تکفیری نظریات کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ، صرف یہاں نہیں پوری دنیا میں ، اور اس کی بھاری قیمت بھی چکا رہے ہیں ۔ اللہ ان کی حفاظت کرے ۔ اگر سلفی سے مراد ہیں مدارس سے فیل ہو کر بھاگنے والے جو سلفی کا لاحقہ لگا کر فضولیات کرتے پھر رہے ہیں تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔
    تکفیری نظریات والوں سے عام لوگ اس لیے ہمدردی محسوس کرتے ہیں کہ وہ دینی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، کچھ حلیہ مذہبی ہوتا ہے ،عوام تحقیق میں نہیں پڑتے کہ یہ ہے کون۔ تعلیم کیا ہے ؟ اساتذہ کون ہیں ؟ بس داڑھی ہو تو وہ جذباتی ہو جاتے ہیں ۔ ان دینی سیاسی جماعتوں کو اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے پھر بھی سن لیا جاتا تھا، حال ہی میں اخوان اور جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے باشعور لوگوں نے کئی مسائل پر نئے زاویے سے سوچا ہو گا ۔ مثلا: نیٹو سپلائی جو کفر واسلام کا مسئلہ تھی ، وہ جماعت اسلامی کے زمانہ اقتدار میں جاری و سار ی ہے ۔اسرائیل سے معاہدے اخوان کی حکومت کو بھی جاری رکھنے پڑے ۔ پاک فوج کے شہدا ء خلاف بیانات دے کر منور حسن صاحب نے تو ہم جیسوں سے لحاظ اور مروت کا رشتہ بھی ختم کر دیا ہے ۔ اس لیے مجھے اس تجزئیے سے اتفاق نہیں کہ ان کی فکر مقبول ہے ، ہاں جذباتی لوگ کھوکھلے نعروں کے پیچھے ہمیشہ بھاگتے رہتے ہیں ان کے مزاج کو آپ بدل نہیں سکتے ۔ البتہ انہیں تصویر کا دوسرا رخ اسی تواتر سے دکھایا جائے جس تواتر سے جذباتی نعرے سنتے ہیں تو شاید تناسب میں فرق پڑے گا۔ لیکن یہ کام کرے گا کون؟ اور اب تک ہوا کیوں نہیں ؟ وجہ یہ ہے کہ ہمارے معزز اہل حق کم گوئی و کم آمیزی کو ایمان کی علامت سمجھتے ہیں : ) پختہ علم کی کمی کی ایک اور عمدہ مثال : )
    مدارس و جامعات کے طلبہ ہوں یا سکول ، یونیورسٹی کے ، ان کو گہرا مطالعہ سطحی جذباتیت سے بچا سکتا ہے ، تعلیم شعور دیتی ہے ، ہم میں سے کتنے لوگ اتنے باشعور ہیں کہ اپنے ملک کی سیاسی پارٹیوں کی تاریخ اور منشور سے واقف ہوں ؟ عالمی تحریکوں کی باری بعد میں آتی ہے۔ طلبہ علم کو تاریخ اور جغرافیہ ازبر ہو گا تو سیاست خود بخود سمجھ آئے گی ۔ مطالعے کا شوق ہو گا تو وہ ہر تحریک کے حامیوں اور ناقدین کا آزاد مطالعہ کرکے مناسب فیصلہ کر سکیں گے ۔ ورنہ جاہل صرف تقلید یا نقالی کر سکتا ہے ۔ خود عالم اسلام کی دینی سیاسی جماعتیں جمہوری جماعتوں کا ناکام چربہ ہیں ۔
     
  8. ابن عادل

    ابن عادل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 17, 2008
    پیغامات:
    79
    اس تصور کو حقیقت مان کر بات کا آغاز کیا گیا کہ اخوانی فکر اول تا آخر غلط اور گمراہی پر مبنی ہے ۔ اور مجھے یوں محسوس ہورہا ہے کہ ان کو قادینیت کی طرح یا بریلویت کی طرح تصور کرکے ان کے ہر حامی کو جاہل ، اجڈ ، مدرسے سے بھاگے ہوئے اور دین سے دور قرار دیا گیا ہے ۔ بحث کا جو انجام ہونا تھا وہ ہوگیا ۔ کیا مزید بحث کی کوئی گنجائش باقی ہے ۔ اتنی گفتگو کی بھی کیا ضرورت تھی ۔ اخوان پر دوحرف بھیج دیے جاتے اور لاحول پڑھ لیا جاتا ۔
    اللھم ارنا الحق حقا۔وارنا الباطل باطلا
     
    • مفید مفید x 1
  9. طاہر اسلام

    طاہر اسلام نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 8, 2012
    پیغامات:
    16
    میرے خیال میں اخوانی فکر ایک مجمل سا لفظ ہے،اس کی وضاحت ہو جائے تو بحث و تجزیہ میں آسانی رہے گی۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 1, 2014
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہاں کوئی ایک سطر ایسی دکھائیں جس میں وہ کہا گیا ہو جو آپ نے اخذ فرما لیا۔ ہمارے اسلامی انقلابی برادران و خواہران ایسی ہی زود حسی کی وجہ سے اپنی سیاست سے اختلاف کرنے والے ہر انسان کو طاغوت کا حامی بنا دیتے ہیں ۔ ایسے کئی لوگ جو جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتوں سے دین کی خاطر مروت کا رشتہ رکھتے ہیں وہ اسی جارحانہ رویے کی وجہ سے بے زار ہو چکے ہیں ۔
    اخوانی فکر اول تا آخر غلط نہیں لیکن اس میں کئی بنیادی غلطیاں ہیں جس کی اصل وجہ علم دین کی کمی ہی تھی ، بنیاد ٹیڑھی ہو تو عمارت کج ہونا بالکل ممکن ہے۔
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اخوانی فکر عوام الناس میں مقبول ہے ـ لیکن یہ بھی انصاف نہیں کہ کوئی سلفی یا اہل حدیث اس فکر سے متاثر ہوجائے تو اس کا سارا الزام اخوان المسلمین کو دے دیا جائے ـ جبکہ اس میں قصور خود سلفیوں اور ان کے بعض علماء کا ہو ـ ماضی میں اردو مجلس پر اس فکر کے حامل لوگوں کے درمیان کئی مباحث ہوتے رہے ـ طرفین کا یہی دعوی ہوتا تھا کہ وہ اہل حدیث ہیں ـ کسی نے نہیں کہا وہ اخوانی ہے ـ لیکن ان میں سے بعض کی فکر اخوانی ہی تھی ـ اور دونوں طرف دلائل بھی اہل حدیث علماء کے ہی دیے گئے ـ اور یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایک ہی عالم کے ایک ہی موضوع پر کئی اقوال سامنے آئے ـ اس وقت موجود سلفی صم بکم بنے رہے ـکتمان حق کی وجہ صرف یہ تھی کہ ایسی صورت میں بعض سلفی علماء کےنام آسکتے تھے جن کے وہ مقلد تھے ـ لہذا سلفیوں کو چاہے کہ بجائے حنفیوں اور اخوانیوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے اپنے علماء کی اصلاح کریں جو اپنے نوجوانوں میں اخوانی فکر کی ترویج کررہے ہیں ـ ایسی صورت میں بہتری کی امید ہے ورنہ نہیں ـ
     
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں