ابن انشاٰء

المسافر نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اپریل 20, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    جوگی کا بنا کر بھیس پھرے
    برہن ہے کوئی ، جو دیس پھرے
    سینے میں لیے سینے کی دُکھن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہا
    کچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑا
    پر اس کا چلن وحشی کا چلن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاں
    آوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاں
    لوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہے
    وہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہے
    پربت کہ نگر، صحرا کہ چمن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    رکنے کی نہیں جا، اٹھ بھی چکو
    انشاء جی چلو، ہاں تم بھی چلو
    اور ساتھ چلے دُکھتا ہُوا مَن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
     
  2. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
    وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں، یاد رہے گا

    وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
    وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

    ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں
    وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

    کچھ میر کے ابیات تھے کچھ فیض کے نسخے
    اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا

    جاں بخش سی اس برگ گل تر کی تراوت
    وہ لمس عزیز دو جہاں یاد رہے گا

    ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
    تو، یاد رہے گا، ہاں ہمیں یاد رہے گا

    “ابن انشاء“
     
  3. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    ہم لوگوں نے عشق ایجا کیا

    ہم لوگوں نے عشق ایجا کیا

    جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا !
    کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا

    کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن،رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
    جہان حُسن ملا وہاں بیٹھ گئے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

    شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا، کبھی بیت کہے ، لکھی چاندنگر
    کبھی کوہ سے جاسر پھوڑ مرے، کبھے قیس کو جا استاد کیا

    یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجگ بنا
    جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا، بڑا مَن کے نگر میں فساد کیا

    اب قربت و صحبتِ یار کہاں، اب و عارض و زلف و کنار کہاں
    اب اپنا بھی میر سا عالم ہے، ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

    ابنِ انشاء​
     
  4. پاکستانی

    پاکستانی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 31, 2007
    پیغامات:
    23
    لاجواب ... ابنِ انشاء کی کیا بات ہے.
     
  5. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    بستی میں دیوانے آئے

    بستی میں دیوانے آئے
    چھب اپنی دکھلانے آئے
    دیکھ رے درشن کی لو بھی
    کرکے لاکھ بہانے آئے
    پیت کی ریت نبھانی مشکل
    پیت کی ریت نبھانے آئے
    اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
    سب اپنے بیگانے آئے
    پیر، پروہت، مُلّا، مُکھیا
    بستی کے سب سیانے آئے
    طعنے، مہنے، اینٹیں، پاتھر
    ساتھ لئے نذرانے آئے
    سب تجھ کو سمجھانے والے
    آج انہیں سمجھانے آئے
    اب لوگوں سے کیسی چوری?
    اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
    درشن کی برکھا برسا دے
    ان پیاسوں کی پیاس بُجھا دے
    اور کسی کے دوار نہ جاویں
    یہ جو انشاء جی کہلا دیں
    تجھ کو کھو کر دنیا کھوئے
    ہم سے پوچھو کتنا روئے
    جگ کے ہوں دھتکارے ساجن
    تیرے تو ہیں پیارے ساجن
    گوری روکے لاکھ زمانہ
    ان کو آنکھوں میں بٹھلانا

    بجھتی جوگ جگانے والے
    اینٹیں پاتھر کھانے والے
    اپنے نام کو رسوا کرکے
    تیرا نام چھپانے والے
    سب کچھ بوجھے، سب کچھ جانے ؟
    انجانے بن جانے والے
    تجھ سے جی کی بات کہیں کیا
    اپنے سے شرمانے والے
    کرکے لاکھ بہانے آئے
    جوگی لیکھ جگانے آئے

    دیکھ نہ ٹوٹے پیت کی ڈوری
    اُٹھ اور کھول جھروکا گوری

    ابنِ انشاء​
     
  6. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    بہت عمدہ نصیر بھائی ۔۔ مزید کا انتظار ہے
     
  7. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    انشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کيا

    انشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کيا
    وحشي کو سکوں سےکيا مطلب، جوگي کا نگر ميں ٹھکانا کيا

    اس وقت کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہي سوچو تو سہي
    جس جھولي ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولي کا پھيلانا کيا

    شب بيتي، چاند بھي ڈوب چلا، زنجير پڑي دروازے پہ
    کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجني سے کرو گے بہانا کيا

    پھر ہجر کي لمبي رات مياں، سنجوگ کي تو يہي ايک گھڑي
    جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

    اس حسن کے سچے موتي کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں
    جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا


    جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بَن ميں نہ جا بسرام کرے
    ديوانوں کي سي نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

    ابنِ انشا
     
  8. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دید ہوا

    دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دید ہوا
    ایک ستارا بیٹھے بیٹھے تابش میں خورشید ہوا

    آج تو جانی رستہ تکتے، شام کا چاند پدید ہوا
    تو نے تو انکار کیا تھا، دل کب نا امید ہوا

    آن کے اس بیمار کو دیکھے، تجھ کو بھی توفیق ہوئی؟
    لب پر اس کے نام تھا تیرا، جب بھی درد شدید ہوا

    ہاں اس نے جھلکی دکھلائی، ایک ہی پل کو دریچے میں
    جانو اک بجلی لہرائی، عالم ایک شہید ہوا

    تو نے ہم سے کلام بھی چھوڑا، عرضِ وفا کی سنتے ہیں
    پہلے کون قریب تھا ہم سے، اب تو اور بعید ہوا

    دنیا کے سب کارج چھوڑے، نام پہ تیرے انشاء نے
    اور اسے کیا تھوڑے غم تھے ؟تیرا عشق مزید ہوا

    ابنِ انشاء
     
  9. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    نصیر بھائی آپ انشا جی کے بعد کچھ اور بھی تو پیش کر دیں نا
     
  10. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

    اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
    وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں یاد رہے گا

    وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
    وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

    ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں
    وہ شمعِ فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

    ہاں بزمِ شبانہ میں ہمیں شوق جو اس دن
    ہم تو تری جانب نگراں یاد رہے گا

    کچھ میر کے ابیات تھے، کچھ فیض کے مصرعے
    اک درد کا تھا، جن میں بیاں یاد رہے گا

    جاں بخش سی اس برگِ گُلِ تر کی تراوت
    وہ لمس عزیز دہ جہاں یاد رہے گا

    ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
    تو یاد رہے گا ہمیں، ہاں یاد رہے گا

    ابنِ انشاء​
     
  11. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    کل چودہويں کي رات تھي، شب بھر رہا چرچا تيرا
    کچھ نے کہا يہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تيرا

    ہم بھي وہيں موجود تھے ہم سے بھي سب پوچھا کيے
    ہم ہنس دئيے ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تيرا

    اس شہر ميں کس سے مليں، ہم سے چھوٹيں محفليں
    ہر شخص تيرا نام لے، ہر شخص ديوانہ تيرا

    دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکر ٹک گئے
    الطاف کي بارش تيري، اکرام کا دريا تيرا

    ہم پر يہ سختي کي نظر ہم ہيں فقير رہگزر
    رستہ کبھي روکا تيرا دامن کبھي تھاما تيرا

    ہاں ہاں تري صورت حسين ليکن تو ايسا بھي نہيں
    اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کيا کيا تيرا

    بے درد سنني ہوتو چل کہتا ہے کيا اچھي غزل
    عاشق تيرا، رسوا تيرا، شاعر تيرا، انشا تيرا
     
  12. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں